Baaghi TV

Author: +9251

  • ایران کے جوابی حملوں میں امریکی نقصان کیوں نہ ہوسکا ، اہم رپورٹ

    ایران کے جوابی حملوں میں امریکی نقصان کیوں نہ ہوسکا ، اہم رپورٹ

    ایران کے جوابی حملوں میں امریکی نقصان کیوں نہ ہوسکا ، اہم رپورٹ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مغربی ذرائع ابلاغ اور سفارتی ذرائع کے مطابق عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں میں ایران نے دانستہ طورپر امریکی فوج کو نقصان پہنچانے گریز کیا ہے۔

    خیال رہے کہ منگل کی شب ایران کی طرف سے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر ایک درجن سے زاید میزائل برسائے گئے تھے۔ ایران کی طرف سے گذشتہ جمعہ کو عراق میں امریکی حملے میں مارے جانے والے پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر کمانڈروں کی ہلاکت پر جوابی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

    مغربی انٹیلی ذرائع،امریکی اور یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے گذشتہ روز امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے حملوں میں امریکی فوج کو کم سے کم جانی نقصان پہنچانے کی پالیسی اپنائی تھی۔

    ایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کے روز ایرانیوں نے جان بوجھ کر امریکی افواج پر حملہ کیا تاکہ ایران کے عزم کے پیغام کے ساتھ اس بحران کو بے قابو ہونے سے روکا جا سکے۔

    واشنگٹن کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی اشارے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ دیگر امریکی عہدیداروں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

    امریکی حملے میں ایران کے قاسم سلیمانی،عراقی ملیشیا کے کمانڈر جاں بحق، ایران نے دیا امریکہ کو سخت ردعمل

    قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کی ہدایت پر مارا گیا، پینٹا گون، ٹرمپ نے کیا کہا؟

    ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

    جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

    واضح رہے کہ بغداد ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہو گئے، فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے، عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیگر ہلاک شدگان میں ایران نواز ملیشیا الحشد الشعبی کا رہنما بھی شامل ہے۔جس کے جواب میں ایران نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد ایران کی جانب سے بغداد میں عین الاسد اور اربیل امریکی ہوائی اڈوں پر میزائل حملے کیے گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے آپریشنز ہیڈ کوارٹر آکر کارروائی کی سربراہی کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی ایئربیس پر 30 میزائل داغے گئے۔

    پنٹاگون نے عراق میں امریکی فوج کے اڈے پر حملے کی تصدیق کر دی۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 5 بجے ایران سے کیا گیا

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک دن مندی کے بعد آج زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی :اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس 41 ہزار 357 کی سطح پر اور پہلے گھنٹے میں 711 پوائنٹ کا اضافہ دیکھا گیامارکیٹ سے آخری خبریں آنے انڈیکس 42,069.17 تھا اور52,045,090 جن کی مالیت 2,441,375,617 پاکستانی روپے رہی۔امریکہ ایران کشیدگی کے سبب گزشتہ روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی رہی اور کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں 546 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا تاہم دو گھنٹے کے دوران معمولی اضافہ بھی دیکھا گیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 41 ہزار 904 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدائی دو گھنٹے کے دوران کاروبار میں ملا جُلا رجحان رہا۔

    واضح‌رہے کہ پاکستان کی مسلسل سٹآک مارکیٹ میں بھی بہتر ہو رہی ہے اور پچھلے دنوں اسٹاک مارکیٹ نے چھ سال کا ایک ماہ کا ریکارڈ توڑا ہے.خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا

  • ڈالر سستا ہو گیا

    ڈالر سستا ہو گیا

    ڈالر سستا ہو گیا
    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹر بینک میں ڈالر 22 پیسے سستا ہوگیا ہے۔

    فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 155.07 سے کم ہوکر 154.85 روپے پرفروخت ہورہا ہے۔گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 50 پیسے کا واضح اضافہ ہوا تھا۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں آج ڈالر کی قیمت 155.80 روپے رہی جو کہ گزشتہ روز 155.30 روپے تھیاسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 155.10 میں فروخت ہوا۔
    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔اب ایران امریکا کشیدگی کی وجہ سے ڈالر بھی چندپیسے اوپر جارہا ہے.

  • فیصل آباد نجی ٹرانسپورٹ کمپنی مالکان کی جانب سے نان کسٹم گاڑیاں استعمال کرنے کا انکشاف

    فیصل آباد نجی ٹرانسپورٹ کمپنی مالکان کی جانب سے نان کسٹم گاڑیاں استعمال کرنے کا انکشاف

    فیصل آباد (محمد اویس) نجی ٹرانسپورٹ کمپنی مالکان کی جانب سے نان کسٹم گاڑیاں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے، مالکان بااثر اور سیاسی پشت پناہی رکھتے ہیں جس کی وجہ سے غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔
    پولیس ذرائع کے مطابق پولیس تھانہ پیپلز کالونی کو ایک نجی بس اسٹینڈ پر ایک ہی نمبر کی دو گاڑیوں کی موجودگی کی اطلاع ملی ہے، اطلاع خفیہ اداروں کی جانب سے دی گئی ، جس میں بتایا گیا ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں رجسٹرڈ نہیں ہیں اور بوگس نمبر پیلٹ کے ذریعے کام چلایا جا رہا ہے۔

    اطلاع پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی قبضے میں لے لی مزید گاڑیوں کی موجودگی کے امکانات کے باعث مکمل تفتیش کی جائے گی

  • فیصل آباد اور ملتان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال تاحال جاری

    فیصل آباد اور ملتان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال تاحال جاری

    فیصل آباد (محمد اویس) فیصل آباد اور ملتان میں گڈز ٹرانسپوٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری   رہی  جس کی وجہ سے برآمدی اور درآمدی سامان کی ترسیل معطل ہے ۔گڈز ٹرانسپوٹرز نے ملتان میں بھی موٹروے پر جرمانوں میں اضافے اور ٹول ٹیکس میں اضافے کے خلاف ہڑتال کر رکھی ہے ہڑتال کے باعث کنٹینرز اور ٹرکوں کے ذریعے تمام قسم کے سامان کی ترسیل مکمل طور پر بند ہے جس سے کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کنٹینرز ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر زاہد رفیق کا دعویٰ ہے کہ 3 روز کے دوران اب تک ڈیڑھ ہزار کنٹینرز کی فیصل آباد سے روانگی نہیں ہوسکی ۔انہوں نے کہا کہ ایکسل لوڈ کنٹرول پر عملدرآمد ، روٹ پرمٹ اور ٹوکن فیس میں اضافہ واپس لینے سمیت 10 نکاتی مطالبات تسلیم ہونے تک ان کی ہڑتال جاری رہے گی۔

  • سرگودھا۔ مسلم ٹاون سرگودھا میں چور سرگرم۔۔ اہل محلہ نے چوری کرتے ہووے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

    سرگودھا۔ مسلم ٹاون سرگودھا میں چور سرگرم۔۔ اہل محلہ نے چوری کرتے ہووے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

    سرگودھا۔
    مسلم ٹاون سرگودھا میں چور سرگرم۔۔ اہل محلہ نے چوری کرتے ہووے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ پکڑے جانے والا چور حیدرعلی جوھر ٹاون سرگودھا کا رہائشی ہے چور نے مزید بتایا کہ ہمارے گروہ کے ٹوٹل پندرہ ارکان ہیں جنمیں تین ارکان کا تعلق ملتان سے ہے۔ چوری شدہ مال مائی دارو جو کہ فیضان مدینہ سرگودھا کی رہائشی ہے اور منشیات فروخت کرتی ہے کو چوری شدہ مال دے کر پوڈر وصول کرتے تھے۔۔۔ مزید چور نے انکشاف کیا کہ کئی ماہ سے ہم سرگودھا میں چوریاں کرتے آرہے ہیں۔ آج صبح تقریباً 8 بجے حفیظ الرحمن ولد عبدالرحمن گلی نمبر 4 نزد سوئی گیس آفس قوم آرائیں کے گھر چوری کرتے ہووے پکڑا گیا۔ اہل محلہ کا احتجاج ۔

  • ڈ کیتی کے دوران مزاحمت کی کوشش پر ڈاکوؤں نے شہری کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا

    ڈ کیتی کے دوران مزاحمت کی کوشش پر ڈاکوؤں نے شہری کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا

    بھیرہ پیر بھمبہ نزد دھوری روڈ ڈیرہ ملک انور کنوال کےگھر پر تقریبا 2:30 سے 03:00 بجے نامعلوم افراد نے رات کی تاریکی میں گھر میں گھس کر ڈکیتی کی کوشش کی مزاحمت پر ساجد والد ملک انور کنوال کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا اور ڈاکو موقع سے فائرنگ کرتے ہوئے فرار۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ایس ایچ او تھانہ بھیرہ فواد حسین شیرازی اور ڈی ایس پی بھلوال موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی شروع کردی ۔ اور زخمی ساجد کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بھیرہ میں ابتدائی طبی امداد کے بعد سرگودھا ریفل کر دیا۔پولیس مزید مصروف تفشیش.

  • ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ–از– انشال راؤ

    ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ–از– انشال راؤ

    شہنشاہ نقوی نے پریس کانفرنس کرکے پاکستان کو دھمکی اور امریکہ کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ عالم اسلام کے خلاف جو کردار فرانس نے ادا کیا وہ کبھی یہود نے بھی نہ کیا لیکن امام خمینی فرانس کی سرزمین پر بیٹھ کر ایران میں اسلامی انقلاب لے آتے ہیں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایران میں خمینی انقلاب کے بعد سے مشرق وسطیٰ متعدد بار شورش، عدم استحکام اور جنگوں کا سامنا کرچکا ہے جبکہ اسرائیل کو عربوں کی مزاحمت و جنگوں سے مکمل چھٹکارا مل گیا ہے،

    ایرانی انقلاب کے فوراً بعد ایک طرف تو ایران امریکہ تنازعہ پیدا ہوگیا اور Hostage Crisis کے نام دنیائے تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا تو دوسری طرف ایران عراق جنگ کی صورت خطے میں بدامنی کی لہر نے جنم لے لیا، اس کے بعد گلف وار اور پھر عرب اسپرنگ کے نام پر پورا خطہ شورش، بدامنی و عدم استحکام کا شکار ہوگیا، ایرانی انقلاب کے بعد اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود رہے بلکہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آکر فرقہ ورانہ فسادات کا شکار رہا،

    سعودی عرب میں اوائل اگست 1987 کے حج کے موقع پر ایرانی انقلابیوں نے جو خون خرابہ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، محمد میاں سومرو و توفیق احمد چنیوٹی جیسے بزنس مین سمیت دنیا بھر کے حاجی اس سانحے کے عینی شاہد ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایرانی انقلاب کے بعد بظاہر امریکہ ایران تعلقات ناخوشگوار ہی رہے ہیں لیکن خفیہ طور پر متعدد بار امریکہ ایران تعاون بھی دیکھنے میں آیا ہے نومبر 1986 میں دنیا بھر میں اس انکشاف کی دھوم رہی اور واشنگٹن پوسٹ نے خبر شایع کی کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ریگن انتظامیہ نے ایران کو اسلحہ فراہم کیا،

    اس کے علاوہ عراق و شام میں ایران امریکی تعاون سے مخالف گروہوں کے خلاف کاروائی کرتا رہا اور مختلف اسلامی ممالک میں خفیہ تنظیمیں متحرک و منظم کرتا رہا ہے اور ان تنظیموں نے بہت سے عرب ممالک کے امن کو مفلوج کرکے رکھدیا، بلاشبہ ایران ان مسلح تنظیموں کی پشت پناہی و سرپرستی کررہا ہے جن کے زریعے سے خطے میں اجارہ داری قائم کرکے عظیم فارسی سلطنت و تہذیب کو قائم کرنا چاہتا ہے جس کا سابق ایرانی صدور محمد خاتمی، محمد احمد نژاد و دیگر مذہبی عسکری و سیاسی رہنما اپنے خطابات و بیانات میں اظہار کرتے آرہے ہیں کہ ہماری قدیم ایرانی تہذیب ہے، ہماری عظیم فارس سلطنت تھی ہم قدیم تہذیب رکھتے ہیں، ہم اپنی قدیم تہذیب و سلطنت کو بحال کرینگے وغیرہ وغیرہ،

    امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں مختلف مفادات جڑے ہیں اور امریکہ کسی اور کی چودھراہٹ کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا، اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکی پالیسی میں نیشنلزم، تہذیب، یا کسی مذہبی نظریہ پہ قائم ملک و ملت کے استحکام کی کوئی گنجائش نہیں، یہی وجہ ہے کہ اب آکر امریکہ نے واضح طور پر ایران کو پیغام دیدیا ہے کہ اب وہ مڈل ایسٹ میں اپنے پھیلائے ہوے پنجوں کو واپس کھینچ لے ورنہ دو میں سے ایک ہی قوت رہیگی یا امریکہ یا ایران، ایرانی بضد ہیں کہ وہ کسی طور بھی اپنی پالیسی سے دستبردار نہیں ہونگے

    جیسا کہ R.N Haass نے کہا کہ "ایران امریکہ جنگ ہوئی تو یہ ایران عراق تک ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں لڑی جائیگی” بعینہ ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای نے کہا ہے کہ "ہمارے رضا کار امریکہ میں بھی لڑینگے جو بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں” مزید ایرانی انتظامیہ نے حملے کی صورت میں UAE و دیگر عرب ممالک کو نشانہ بنانے کی بھی دھمکی دی ہے،

    ایران کی جانب سے امریکی ملٹری بیسز پر حملے کے بعد جنگ کے بڑھنے میں کوئی کسر باقی تو نہیں رہی ہے البتہ پوری دنیا کوشش میں ہے کہ کسی طرح اس بلا کو ٹال دیا جائے تاکہ دنیا پر منڈلاتے عالمی جنگ کے سائے چھٹ جائیں لیکن بظاہر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آرہا امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے CNN پر انٹرویو دیتے ہوے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کی صورت میں ہم ایران کو پیغام دے چکے ہیں کہ اب خطے میں ایرانی مداخلت اور اپنا انقلابی نظریہ ایکسپورٹ کرنے کے لیے کوئی گنجائش نہیں لہٰذا اب ایران سمجھ جائے کہ Game is Change ورنہ دونوں میں سے ایک رہیگا”

    اس سے پہلے کبھی امریکہ کو اتنے جارحانہ انداز میں نہیں دیکھا گیا اور اب ایران کے حملوں کے بعد صورتحال ہاتھوں سے نکل چکی ہے جو شاید ایک ہولناک جنگ کی صورت میں ہی سامنے آئیگی، نتیجتاً عرب ممالک بالخصوص اور پاک افغان بالعموم اس سے شدید متاثر ہونگے، امریکی حملے کی صورت میں شیعہ گروہ اسلامی ممالک میں قائم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائینگے جس سے حالات بگڑتے ہی چلے جائینگے جبکہ ایرانی انتظامیہ تو پہلے ہی براہ راست عرب ممالک پر حملے کی دھمکی دے چکی ہے،

    اس نازک صورتحال میں پاکستان کا کردار کیا ہوگا؟ پاکستان ایران کے بعد سب سے زیادہ شیعہ آبادی کا ملک ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ طرز کی پراکسی پاکستان میں بھی موجود ہے جس کا علی شیر حیدری و دیگر بہت سے لوگ بارہا انکشاف کرچکے ہیں اور پاکستان سے غیرمعمولی تعداد میں شیعہ افراد کی عراق و شام میں بطور سپاہی لڑنے کے ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں اور شہنشاہ نقوی کی دھمکی آمیز پریس کانفرنس سے بڑھ کر اس کا کوئی ثبوت نہیں، شہنشاہ نقوی کا اشارہ پاکستان میں ایرانی ٹرینڈ شیعہ عسکری ونگز کے زریعے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی طرف ہے جس سے گلگت بلتستان، کشمیر یا جزوی حد تک کراچی متاثر ہوسکتے ہیں،

    اس کے علاوہ مشرقی بارڈر اور بھارت کے ناپاک عزائم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اس نازک صورتحال کا دنیا کو پہلے سے ہی علم تھا لیکن اگر نہیں تھا تو کچھ پاکستانی میڈیا پرسنز و کچھ سیاستدانوں کو نہیں تھا جو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش اور اسے جمہوریت پہ شب خون مارنے کے مترادف تک قرار دیتے رہے جبکہ عدلیہ نے اسے آئین کے منافی قرار دیتے ہوے آرمی قوانین میں ترمیم کرنے پہ مجبور کردیا

    پھر دنیا نے دیکھا کہ تمام سیاستدان حیران کن طور پر ایک پیج پر بھی آگئے بقول حسن نثار "ایک پیج پر نہیں ایک سیخ میں پرودئیے گئے ہیں” حالانکہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کوئی انوکھی بات نہیں، 1943 میں وقتی صورتحال کو دیکھتے ہوے امریکی صدر روزویلٹ نے امریکی چیف اسٹاف Marshal کی ایکسٹینشن بغیر کسی ترمیم کے کرچکے ہیں جس پر امریکی پریس یا اپوزیشن نے کوئی سوال تک نہ کیا، جنرل ڈوگلس کی صلاحیت و ریاست کے استحکام کے پیش نظر امریکی انتظامیہ نے انہیں بھی ایکسٹینشن دی،

    بھارتی حکومت نے جنرل بپن راوت کو ریٹائرمنٹ کیساتھ ہی چیف آف ڈیفینس اسٹاف بناکر مزید ایکسٹینشن دے دی لیکن کسی نے حرف تک نہ کہا جبکہ پاکستان جو باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت مختلف اندرونی و بیرونی بحرانوں سے باہر نکلتا آرہا ہے اور اس ماہر جنرل کی موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر اشد ضرورت تھی جسے بالآخر آرمی ایکٹ ترمیم کے زریعے پورا کردیا گیا جو انشاءاللہ پاکستان و پاکستانیوں کے لیے کارگر ثابت ہوگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر حکومت و عسکری قیادت پہلے ہی نیوٹرل رہنے کا اعلان کرچکی ہیں جوکہ سعودی عرب و UAE کو قابل قبول نہیں ہوگا اور امریکہ بھی اسے قبول نہیں کریگا، لہٰذا پاکستان کو نیوٹرل رہتے ہوے ایک بار پھر وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو گلف وار کے دوران کیا تھا۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ

  • اقلیتوں پرمظالم کے بعد بھی ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ؟خواتین کاشہریت قانون کے خلاف مظاہرہ

    اقلیتوں پرمظالم کے بعد بھی ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ؟خواتین کاشہریت قانون کے خلاف مظاہرہ

    دہلی:اقلیتوں پرمظالم کے بعد بھی ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ؟ پرانی دہلی کی خواتین نے کیا شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ!!اطلاعات کےمطابق پرانی دہلی کی خوایتن نے شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف آج ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور پرامن انداز میں ایک مارچ نکالا جو کہ پرانی دہلی واقع ہمدرد دواخانہ اور چاؤڑی بازار ہوتے ہوئے جامع مسجد تک پہنچا۔

    نئی دہلی سے ذرائع کےمطابق اس مارچ میں خواتین کی بڑی تعداد نے حصہ لیا جب کہ سوشل میڈیا پر شیئر ویڈیو میں کچھ مرد حضرات بھی اس بھیڑ کا حصہ نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں کچھ خواتین اپنے ہاتھوں میں بینر لیے اور کچھ موم بتی روشن کیے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک ویڈیو میں خواتین ’سارے جہاں سے اچھا؟ نغمہ گاتی ہوئی جامع مسجد کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہیں،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ یہ نغمہ سوالیہ انداز میں پڑھاجارہا تھا کہ ایک طرف کہا جارہا ہےکہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا مگریہاں توانسانیت کی تذلیل ہورہی ہے ، مسلمانوں کوبے وطن کرکے مارا جارہا ہے، پھرکس بات پرکہا جاتا ہےکہ”سارے جہاں سے اچھا؟ ہندوستان ہمارا

  • عراق:امریکی سفارتخانے پرراکٹ حملے ، سفارتخانہ اورعملہ محفوظ رہے

    عراق:امریکی سفارتخانے پرراکٹ حملے ، سفارتخانہ اورعملہ محفوظ رہے

    بغداد: عراق:امریکی سفارتخانے پرراکٹ حملے ، سفارتخانہ اورعملہ محفوظ رہے،اطلاعات کے مطابق عراق میں رات کو مزید دو راکٹ حملے ہوئے ہیں، عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ راکٹ بغداد کے گرین زون میں گرے۔

    تفصیلات کے مطابق عراق کے شہر بغداد کے گرین زون میں راکٹ حملے جاری ہیں، گزشتہ رات کو مزید دو راکٹ گرین زون میں گرے ہیں، عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق گرین زون میں غیر ملکی مشنز اور سرکاری عمارتیں موجود ہیں، امریکی فوجی اڈہ بھی گرین زون میں امریکی سفارت خانے کے قریب واقع ہے۔

    یاد رہے کہ اتوار کو بھی شمالی بغداد میں امریکی فوجی اڈے پر 2 راکٹ حملے ہوئے تھے، یہ راکٹ امریکی ایئر بیس کے اندر گرے تھے، جس سے خبر ایجنسی کے مطابق 5 افراد زخمی ہوئے۔ جس کے بعد علاقے میں امریکی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں شروع ہو گئی تھیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ راکٹ حملے امریکی فوجیوں پر کیے گئے تھے، راکٹ حملے کے بعد امریکی سفارت خانے کے داخلی راستے بند کر دیے گئے تھے۔

    خیال رہے کہ دو دن قبل ایران نے امریکی فوجی عین الاسد اور دیگر پر راکٹوں کی بارش کر دی تھی، ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں 80 افراد ہلاک ہوئے، تاہم گزشتہ روز امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان حملوں میں امریکی بیس کو نقصان پہنچا لیکن کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔