Baaghi TV

Author: +9251

  • مسلم مخالف قانون، خفیہ اہلکارمسلمان طالبعلموں پرحملے کرنے لگے، علی گڑھ میں ترنگالہرادیا گیا

    مسلم مخالف قانون، خفیہ اہلکارمسلمان طالبعلموں پرحملے کرنے لگے، علی گڑھ میں ترنگالہرادیا گیا

    علی گڑھ:بھارتی یونیورسٹیوں میں مسلم مخالف قانون کے خلاف مظاہرے،احتجاج کا سلسلہ وسیع ترہوگا،جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں اتوار کی شام ہوئے غنڈوں کے حملے کے بعدپورے ملک کے طلبہ احتجاج کررہے ہیں۔وہیں، اس واقعہ کی آنچ اتر پردیش میں بھی دیکھنے کو ملی۔

    بھارت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق اتوار کی رات جہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علموں نے مظاہرہ کیا۔ وہیں، پیر کو وارانسی کے ودھیاپیٹھ اور بنارس ہندویونیورسٹی اور الہ آباد یونیورسٹی میں بھی واقعہ کو لے کر مظاہرے ہوئے۔اگرچہ، جے این یو تشدد کو لے کر بنارس ہندویونیورسٹی اورالہ آباد سنٹرل یونیورسٹی کو لے کر یوپی پولیس نے الرٹ جاری کیاہے۔ اس میں علی گڑھ، وارانسی اورالہ آباد پولیس کو کسی بھی صورت سے نمٹنے کے لیے الرٹ کیاگیاہے۔ساتھ ہی ضلع انتظامیہ اور پولیس کو یونیورسٹی انتظامیہ سے بات چیت رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    جے این یو کے واقعہ کے خلاف اتوار کی رات اے ایم یو کے طلبا نے باب سرسیدپرموم بتی مارچ نکال کر احتجاج کیا۔اس دوران درجنوں طلبہ ہاتھوں میں پوسٹرلیے اے بی وی پی اور دہلی پولیس مردہ باد کے نعرے لگارہے تھے اور قصورواروں پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔طالب علموں کا الزام ہے کہ دہلی پولیس کے ساتھ اے بی وی پی کے غنڈے تھے جو طالب علموں اور پروفیسر کے ساتھ ہوسٹل کے اندر گھس کر مار پیٹ کر رہے تھے۔طالب علموں اورپروفیسر کوبچانے گئے یوگیندر یادو کے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی ہے۔حالت اتنے خراب ہیں کہ نہ تو طالب علم محفوظ ہے اورنہ ہی عام شہری۔جے این یو تشدد کی مخالفت میں اے ایم یو میں ترنگا یاترا کا اعلان کیا گیا ہے۔طالب علموں نے کہاہے جس طرح سے جے این یو کے اندر 60 سے 70 غنڈوں نے کیمپس کے اندر گھس کر مار پیٹ کی گئی، اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

    حکومت طالب علموں کی آواز کو دبا رہی ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اے بی وی پی کے غنڈوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے۔پیر کو کاشی ہندویونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر ارون کمار چوبے کی قیادت میں طلبا نے مظاہرہ کیا۔طلبہ کمیونزم کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پہنچے، جہاں پولیس نے پہلے سے گیٹ بندکردیاتھا۔گیٹ کھولنے کو لے کر پولیس اور طالب علموں میں دھکا مکی بھی ہوئی۔لیکن پولیس نے گیٹ نہیں کھولا۔مرکزی دروازے پر کمیونزم کا پتلا پھونکا گیا۔

    اسٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹرارون کمار چوبے نے کہاہے کہ معصوم طالب علموں کے اوپر قاتلانہ حملہ کرنا نکسلی تشدد کا ایجنڈاہے۔بائیں کا خود حملہ کرکے تعلیمی اداروں کا ماحول خراب کرنا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حملے کے مجرم طالب علموں کی فوری گرفتاری ہو اور ان سے وصولی کرکے زخمی طالب علموں کو اقتصادی مدددی جائے۔حملہ آوروں کی فوری بے دخلی ہو اورمستقبل میں بھارت کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں ان کی رسائی نہ ہو۔اس پورے معاملے کے پیچھے شامل کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کی فوری گرفتاری ہو۔

    کاشی ودیاپیٹھ کے طالب علموں نے جے این یومیں طالب علموں پر حملے کی مخالفت میں مارچ نکال کر سڑکوں پر مظاہرہ کیا۔شہر میں دفعہ 144 موثر ے۔ باوجود اس کے بائیں بازو کے طالب علم نعرے بازی کرتے ہوئے روڈ پر نکلے۔ طلبا یونین جنرل سکریٹری رشبھ پانڈے نے کہاہے کہ مرکز کی حکومت تماشا دیکھ رہی ہے۔غنڈوں نے گھس کر توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کی۔یونیورسٹی کا ماحول جن لوگو ںنے بگاڑا، انہیں سزادی جائے۔وزیر داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ پولیس تحقیقات کرے گی۔ان تمام واقعے کے پیچھے کون ہے؟ ملک کے ماحول کو خراب کر کے سیاست کرناٹھیک نہیں ہے۔

  • خبردار!اپناموبائل کس کس کوموبائل نہیں دینا ، ایف آئی اے نے ہدایات جاری کردیں

    خبردار!اپناموبائل کس کس کوموبائل نہیں دینا ، ایف آئی اے نے ہدایات جاری کردیں

    خبردار!اپناموبائل کسی کونہ دیں اورکس کس کوموبائل نہیں دینا ، ایف آئی اے نے ہدایات جاری کردیں ،باغی ٹی وی کےمطابق فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی نے خبردارکرتے ہوئےکہا ہےکہ اپنے موبائل کسی دوسرے کودینے سے گریزکریں ورنہ ساری پرائیویسی کے لیک ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے

    اپنے ویڈیوپیغام میں ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹربرائے سائبرکرائم ونگ آصف اقبال چوہدری نے اپنے ویڈیوپیغام میں کہا ہےکہ حریم شاہ کی طرح کے کیس اس وقت رونما ہوتےہیں جب ہم اپنا موبائل کسی کے سپرد کرتے ہیں اور اس میں اہم ڈیٹا موجود ہوتا ہے

     

    آصف اقبال چوہدری نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اکثراوقات جب کبھی کسی صارف کا موبائل وغیرہ خراب ہوجاتا ہے اوروہ اپنے موبائل کوکسی مکینک کے پاس لےکرجاتا ہے تووہ ٹھیک کرتے کرتے تمام ڈیٹا چرالیتا ہے اورپھر اسے اس صارف یا جس سے متعلق وہ ڈیٹا ہوتا ہے اس کو بلیک میل کرنےکےلیے استعمال کرتا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق انہوں نےمزید کہاکہ بعض اوقات موبائل پر ایسے پیغام اورلنکس آتے ہیں جو بظاہر بڑے فائدہ مند اورپرکشش ہوتے ہیں اورساتھ یہ بھی کہا جاتا ہےکہ اس لنک کو کلک کرنے سے سے مطلوبہ فوائد حاصل ہوں گے تو اس لنک کوکلک کرتے ہیں یا تو وہ موبائل کسی وائرس کی وجہ سے خراب ہوجاتا ہے اوراس کو درست کرواتے وقت وہ ڈیٹا نکال لیا جاتا ہےجیسے کہ پہلے ہی بتا دیا گیا ہے

    دوسری صورت میں بعض لنکس ایسے حساس اوراثررکھنے والے ہوتے ہیں کہ اس لنک کو کلک کرتے ہی ڈیٹا اس لنک کوشیئر کرنے والےکے پاس خود بخود پہنچ جاتا ہے. لٰہذا ایسے تمام افعال سے بچنا ہی بہترہے، آصف اقبال چوہدری کہتےہہیں کہ ایف آئی اے کے پاس اس قسم کے کیسز بہت زیادہ آرہےہیں

  • مسلمان طلباکوٹارگٹ کیا جارہا ہے، بھارت دوسرا کشمیر بن گیا ہے: پاپولر فرنٹ آف انڈیا

    مسلمان طلباکوٹارگٹ کیا جارہا ہے، بھارت دوسرا کشمیر بن گیا ہے: پاپولر فرنٹ آف انڈیا

    نئی دہلی:مسلمان طلباکوٹارگٹ کیا جارہا ہے، بھارت دوسرا کشمیر بن گیا ہے،پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے نائب چیئرمین او ایم اے سلام نے جے این یو کے طلبہ و اساتذہ پر اے بی وی پی کے غنڈوں کے ذریعہ وحشیانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بھلے ہی یہ حملہ اے بی وی پی نے کیا ہے، لیکن اس کا ماسٹرمائنڈ آر ایس ایس ہے۔

    پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے نائب چیئرمین او ایم اے سلام نے کہا کہ یہ حملہ ہندوستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا زوال لے کر آیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پہلے کشمیرمیں بھارتی فوج کےمظالم کے پوری دنیا میں چرچے ہیں اب وہی طریقہ کاربھارت کے اندردہرایا جارہا ہےاورمسلمان طلباکوسخت تشدد کا نشانہ بنایا جاررہا ہے،

    پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے نائب چیئرمین او ایم اے سلام نے کہاکہ بھارت میں کسی قسم کی کوئی آزادی نہیں ،بھارت تو اب وہ ریاست بن گیا ہے جہاں مخالفت کی آواز کو بربریّت کے ساتھ دبا دیا جاتا ہے۔ 2014 میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے، جے این یو حکومت کے خاص نشانے پر رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ جے این یو جیسی یونیورسٹیوں کی رگوں میں دوڑنے والی جمہوری ثقافت کو بدنام کرنے اور دبانے کی منصوبہ بند حکمت عملی کا نفاذ ہے۔

    آر ایس ایس کی ماتحت فسطائی طاقتیں ہمیشہ سے ہی فسطائی نظریے کو تنقید کا نشانہ بنانے والے طلبہ، سماجی کارکنان اور تنظیموں کے تئیں عدمِ برداشت کا رویہ رکھتی ہیں۔ آج جے این یو طلبہ پر کئے گئے حملے نے فسطائی طاقتوں کو بے نقاب کر دیا ہے کہ یہ تشدد پر یقین رکھنے والے اور اسے فروغ دینے والے لوگ ہیں۔ ملک فسطائی حملے کے بدترین دور سے گذر رہا ہے۔ خواہ وہ جامعہ اور اے ایم یو میں سی سی اے مخالف مظاہروں پر حملہ ہو یا یوپی، آسام اور کرناٹک میں پولیس کی فائرنگ سے مظاہرین کا ظالمانہ قتل، ہر طرح سے ہندوتوا فسطائیت اور حکمراں جماعت کی پُرتشدّد فطرت جگ ظاہر ہو چکی ہے۔

    پاپولر فرنٹ آف انڈیا جے این یو کے طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ طلبہ برادری کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ طلبہ پر مسلسل دباؤ بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ ہم اس بات پورا یقین رکھتے ہیں کہ تشدّد کی ایسی بزدلانہ حرکتوں سے جمہوری آوازوں کے حوصلے کو توڑا نہیں جا سکتا، بلکہ اس سے جمہوری حقوق کی حفاظت کے لئے جدوجہد کرنے کا ان کا یقین اور مضبوط ہوگا۔

  • پولیس دیکھتی رہی,اسٹریٹ لائٹ بند کردی گئی:ماسک پہنے افراد نے مارمارکرمسلمان طلباکولہولہان کردیا

    پولیس دیکھتی رہی,اسٹریٹ لائٹ بند کردی گئی:ماسک پہنے افراد نے مارمارکرمسلمان طلباکولہولہان کردیا

    نئی دہلی :پولیس دیکھتی رہی, اسٹریٹ لائٹ بند کر دی گئی:اورماسک پہنے افراد نے مارمارکرمسلمان طلباکولہولہان کردیا ،عالمی ذرائع ابلاغ کےمطابق لوہے کی راڈ بڑے بڑے ہتھوڑوں اور بوتلوں سے لیس نقاب پوش گنڈو کے ذریعے دلی کے جواہر لال یونیورسٹی کیمپس میں گھس کرمسلمان طالب علموں اوراساتذہ پرجس طرح بھیانک تشدد کیا اس پرپولیس کی خاموشی پرسوال اٹھ رہےہیں‌

    نئی دہلی سے ذرائع کےمطابق اتنے زبردست حملے کے دوران اسٹریٹ لائٹ بند ہوگئی تھی ہتھیاروں سے لیس لگ بھگ پچاس نقاب پوش حملہ آور نے صرف کیمپس میں گھس گئے بلکہ انہوں نے تین گھنٹے تک کھلے عام تشدد کیا ، نعرے بازی کی ، اوراودھم مچائے رکھا

    سوموار کی صبح دلی پولیس نے اپنے طرز عمل کی تنقیدی گھیراؤ میں رہتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے کیونکہ شکایتیں ملی اور انہوں نے شکایتوں کو کلر ایک ایف آئی آر درج کر لی ہے اس نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کچھ حملہ آوروں کی پہچان کر لی ہے کرائم برانچ کو سعودی جارہی ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری نہیں کی گئی ہے

  • JNUکے طلباءپر حملے نے 26/11ممبئی حملے کی یاد دلا دی :ادھو ٹھاکرے

    JNUکے طلباءپر حملے نے 26/11ممبئی حملے کی یاد دلا دی :ادھو ٹھاکرے

    مہاراشٹر:JNUکے طلباءپر حملے نے 26/11ممبئی حملے کی یاد دلا دی،اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ملک میں طلباءخود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ساتھ ہی انہوں نے اتوارکو JNU کے طلباءپرہوئے حملے کے بارے میں کہا کہ مجھے 26/11کے ممبئی حملے کی یاد آگئی

    مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ نقاب پوش حملہ آور کون تھے اس کی جلد از جلد تفتیش ہونی چاہئے ۔انہوں کہا کہ پورے ملک کے استوڈینٹس میں دڑکا ماحول ہے ہم سبھی کو ایک ساتھ آکر ان میں (اسٹوڈینٹس) خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ساتھ انہوں نے کہا کہ جے این یو میں حملہ کرنے والے نقاب پوش حملہ ور بزدل ہیں انکے پہچان کا خلاصہ ہونا چاہیے اور سخت سے سخت ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔

    یاد رہےکہ دودن قبل جواہرلال نہرویونیورسٹی کے مسلمان طالب علموں پربھارتی پولیس ،خفیہ اداروں اورہندوانتہاپسندوں تشدد کرکے بہت زیادہ زخمی کیا ، کئی طلبااورکئی اساتذہ کے سرپھٹ گئے ، اطلاعات کے مطابق ابھی تک

  • مسلم مخالف شہریتی قانون ، بالی وڈ کے فلمی ستارے بھی مودی ڈاکٹرائن پربرس پڑے

    مسلم مخالف شہریتی قانون ، بالی وڈ کے فلمی ستارے بھی مودی ڈاکٹرائن پربرس پڑے

    مسلم مخالف شہریتی قانون ، بالی وڈ کے فلمی ستارے بھی مودی ڈاکٹرائن پربرس پڑے ،بھارتی فلمی صنعت بالی وڈ عام طور پر سیاسی مسائل و تنازعات پر خاموش ہی رہتی ہے لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر پولیس کے تشدد کے بعد اس نے بھی شہریت سے متعلق نئے قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کر رکھی ہے۔

    مسلم مخالف شہریتی قانون کے خلاف بھارت کے کئی معروف اداکاروں نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر اس قانون کی مخالفت میں بیان جاری کیے ہیں جبکہ بعض نے کھل کر ٹی وی کے بحث و مباحثوں میں حصہ لے کر اس کی مخالفت کی ہے۔ لیکن بعض حکومت کے حامی فنکاروں نے قانون کی حمایت کی اور اس طرح فریقین میں ایک لفظی جنگ چھڑ چکی ہے۔

    قانون کی مخالفت کرنے والوں میں سرفہرست نام اداکارہ سورا بھاسکر کا ہے، جنہوں نے اس قانون کو آئین کے مخالف قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ”شہریت ایکٹ کو مسترد کیجیے، این آر سی کا بائیکاٹ کریں اور فاش ازم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔“ انہوں نے جامعہ اور علی گڑھ کے طلبہ کے خلاف پولیس کی پر تشدد کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور لکھا، ”علی گڑھ کے طلبہ پر تشدد جامعہ سے بھی زیادہ ہوا ہے، جس میں ایک طالب علم اپنا ہاتھ گنوا بیٹھا، ہمیں دونوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔“ سورا بھاسکر گزشتہ چند روز سے اس مسئلے پر پے در پے ٹویٹس کرتی جا رہی ہیں جبکہ حکومت اور بل کے حامی انہیں اس کے لیے ٹرول کر رہے ہیں۔

    اداکارفرحان اخترنے اپنی ایک تازہ ٹویٹ میں حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کی اور اس بل کی تفصیلات کو پوسٹ کیا۔ انہوں نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا، ”یہ جاننے کے لیے کہ یہ احتجاجی مظاہرے کیوں ضروری ہیں، یہاں پر وہ سب ہے جو آپ جاننا چاہتے ہیں۔ انیس تاریخ کو ممبئی کے اگست کرانتی میدان پر ملتے ہیں۔ اب صرف سوشل میڈیا پر احتجاج کرنے کا وقت جا چکا ہے۔“

    مقبول اداکارہ اور شتروگھن سنہا کی بیٹی سوناکشی سنہا بھی پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے اکاونٹ پر بھارتی آئین کے دیباچے کی وہ تصویر پوسٹ کی، جس میں سیکولرازم اور برابری کی بات کہی گئی ہے، ”یہی وہ چیز ہے جو ہم تھے، جو ہم ہیں اور لازما? ہمیں رہنا ہوگا۔“

    اداکار منوج واجپائی نے بھی طلبہ کے خلاف تشدد کی سخت الفاظ مذمت کی اور کہا کہ ایسا وقت تو آسکتا ہے جب ہم بے انصافیوں کو روکنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، لیکن وہ وقت کبھی نہیں آنا چاہیے جب ہم اس کے خلاف احتجاج کرنا بند کر دیں، ”طلبہ کے خلاف ہونے والے تشدد کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔“

    فلم ساز و ہدایت کار انوراگ کشیپ کا کہنا تھا کہ اب بات بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب خاموش نہیں رہا جا سکتا، ”واضح طور پر یہ فاشسٹ حکومت ہے اور یہ دیکھ کر مجھے بہت غصہ آرہا ہے کہ جن آوازوں سے فرق پڑ سکتا ہے وہ پوری طرح خاموش ہیں۔“

    اداکارہ پرینتی چوپڑا نے لکھا کہ جب بھی شہری اپنی رائے کا اظہار کریں گے تو ان کے ساتھ ایسا ہو گا تو پھر شہریت ترمیمی بل کو بھول کر ہم ایک ایسا بل لائیں، جس سے ہم اپنے ملک کو غیر جمہوری بنا سکیں، ”اپنے من کی آواز کے اظہار پر معصوم انسانوں کی پٹائی؟ ظلم ہے ظلم۔“

    فلم ہدایت کار ضویہ اختر نے لکھا کہ یہ طلبہ اس وقت ہمارے لیے لڑ رہے ہیں جب کہ ہمیں ان کے لیے لڑنا چاہیے تھا۔اداکار ایوشمان کھرانہ، راج کمار راو، تاپسی پنو، مہیش بھٹ، سدھیر مشرا، سدھارتھ ملہوترا، انوبھو سنہا، رینوکا سہانے اور سنجے گپتا جیسی بالی کی بہت سی شخصیات نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

    اداکارہ ہما قریشی نے لکھا کہ بھارت ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے اور اظہار رائے کے خلاف اس طرح کا تشدد خوفناک ہے۔ انہوں کہا، ”جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی ایک حکومت، جو اپنے ہی شہریوں کے خلاف قانون بناتی ہے، واضح طور پر جرمنی کے نازیوں کی پیروکار ہے۔ حکومت عوام کی نظر میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔“

    لیکن امیتابھ بچّن جیسی بالی وڈ کی تجربہ کار شخصیات اب بھی اس موضوع پر خاموش ہیں۔ شاہ رخ، عامر خان اور سلمان خان جیسے معروف اداکاروں نے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم اشوک پنڈت جیسے بعض افراد نے بل کے مخالفین اور طلبہ کے حمایتوں پر سخت نکتہ چینی کی۔ مسٹر پنڈت نے جب اداکارہ رچا چڈھا پر تنقید کی تو محترمہ چڈھا نے جوابا کہا کہ ”کہیں وہ ایسا سلوک اس لیے تو نہیں کر رہے کہ انہیں اس بات کے پیسے ملتے ہوں!“
    ہدایت کار ویویک اگنی ہوتری نے سوار بھاسکر پر منافقت کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ وہ لوگوں کو مشتعل کر رہی ہیں اور تقسیم کر رہی ہیں۔ اس پر سوارا نے لکھا کہ کہیں وہ اس طرح کی باتیں نشے اور منشیات کے اثر سے تو نہیں کر رہے؟

  • ہم عراق سے نکل رہے ہیں اورنہ ہی ہمیں‌کوئی مجبورکرسکتا ہے ، امریکہ میدان میں‌آگیا

    ہم عراق سے نکل رہے ہیں اورنہ ہی ہمیں‌کوئی مجبورکرسکتا ہے ، امریکہ میدان میں‌آگیا

    واشنگٹن:ہم عراق سے نکل رہے ہیں اورنہ ہی ہمیں‌کوئی مجبورکرسکتا ہے.ادھرامریکی وزیر دفاع مارک ایسپرنےعراق سے فوجی انخلا کی خبروں کی تردید کردی ہے ۔عراق سےفوجی انخلا کی خبروں کی تردیدکرتےہوئےکہاکہ عراق سےفوج کی واپسی کافیصلہ نہیں ہوا ۔

    امریکی میڈیا کے مطابق وزیردفاع مارک ایسپرکاکہناہےکہ بغداد میں فوجی اڈےمیں موجوداہلکاروں کو ایک اڈے سےدوسرے اڈے منتقل کیا جارہا ہے، امریکی افواج کا عراق سے باہر جانے کا کوئی منصوبہ زیرغورنہیں، ہماری افواج آپریشنزکے لیے موجودرہیں گی۔جبکہ جوائنٹ چیف چئیرمین مارک ویلی نےکہاکہ خط اصلی ہےمگرغلطی سےبھیج دیاگیا،خط کواس وقت بھیجنے کاارادہ نہیں تھا۔ سینٹرل کمانڈ کےسربراہ فرینک مکینزی نےغلطی کی۔

    امریکی فوجوں کی عراق سے واپسی کا مطالبہ اس وقت زورپکڑگیا تھا جب ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کےبعد یہ خط بریگیڈیئر جنرل ولیم سیلی کی جانب سے عراقی فوج کو لکھا گیا تھا، جس میں فوجی انخلا کا اشارہ دیا گیا تھا۔امریکی فوج کےسربراہ بریگیڈئیرجنرل ولیم سلی نےخط میں کہاتھاکہ امریکی فوج عراق سےنکلنےکی تیاری کررہی ہے۔رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاکر ہیلی کاپٹرکےزریعےانخلا کیاجائےگا۔واضح رہے کہ امریکی حملے میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراقی پارلیمنٹ نے اپنے ملک میں موجود غیر ملکی افواج کے فوری انخلاء سے متعلق قرار داد منظور کی تھی۔

  • جواہرلال نہرویونیورسٹی تشدد:معاملے کودبانےکے لیے فورینسک ٹیم کویونیورسٹی بھیج دیا گیا

    جواہرلال نہرویونیورسٹی تشدد:معاملے کودبانےکے لیے فورینسک ٹیم کویونیورسٹی بھیج دیا گیا

    نئی دہلی : جواہرلال نہرویونیورسٹی تشدد:معاملے کودبانےکے لیے فورینسک ٹیم کویونیورسٹی بھیج دیا گیا،اطلاعات کےمطابق جے این یو میں ہوئے تشدد اور طلبا پر حملہ کی جانچ کرنے کے لیے فورنسک ٹیم یونیورسٹی کیمپس میں پہنچ چکی ہے۔

    دہلی سے ذرائع کےمطابق دہلی پولس کی ایک ٹیم بھی وہاں تحقیقات کے لیے پہنچی ہے۔ جانچ کے لیے بنائی گئی ٹیم کی قیادت کرنے والی جوائنٹ کمشنر شالنی سنگھ بھی جے این یو میں موجود ہیں جنھیں رپورٹ مرکزی وزارت داخلہ کو پوری رپورٹ سونپنی ہے۔

    ڈی سی پی دیویندر آریہ نے بتایا کہ جے این یو کا ماحول اس وقت پرسکون ہے اور 5 جنوری کے بعد سے تشدد سے متعلق کوئی بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پولس کی سیکورٹی کیمپس کے چاروں طرف موجود ہے جو کسی بھی طرح کے واقعہ کو قابو میں کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔

  • ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر : ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    موجودہ حالات پر غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک شکل یہ اپنائی ہے کہ جہاں جہاں امریکی آشیرباد سے حکومتیں قائم ہیں ان کی سرپرستی جاری رہیگی اور جن خطوں سے امریکی مفادات کے حصول میں رکاوٹ محسوس ہوگی تو انہیں آگ و خون کی ہولی میں تبدیل کردیا جائیگا، مڈل ایسٹ ممالک میں لگی آگ اسی بات کی غمازی ہے اور جو جب امریکی مفادات کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کریگا اسے راستے سے ہٹادیا جائیگا جس طرح ایرانی جنرل قاسم سلیمانی و ابو مہدی المندس کو ڈرون حملے میں اڑا دیا گیا جس کے بعد سے بظاہر ایران امریکہ کے مابین شدت آگئی ہے اور ماہرین اسے پورے خطے میں جنگ کا پیش خیمہ سے تعبیر کررہے ہیں مزید اگر روس یا چین میں سے کسی بھی طاقت نے امریکی مفادات کے آڑے آنے کی کوشش کی تو یہ جنگ عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائیگی، مشرق وسطیٰ میں سب سے پہلے عراق پر امریکہ نے براہ راست چڑھائی کی تو اس وقت صدر صدام حسین نے کہا تھا کہ "چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں” اور چشم فلک نے دیکھا کہ عراق میں لگی آگ شام، لبنان، یمن و دیگر عرب ممالک سے ہوتے ہوے شمالی افریقہ تک پہنچ کر لیبیا کو بھی لپیٹ میں لے گئی اور ایران نے مڈل ایسٹ کو جنگ کی آگ میں جھونکنے میں اہم کردار ادا کیا، خواہ یمن ہو، عراق و لبنان یا پھر شام یا بحرین ہر جگہ ایرانی پراکسیز نے ہی مشرق وسطیٰ میں خونچکاں صورتحال پیدا کی، ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کی آہ و بکا کو کیا سمجھا جائے جبکہ یہی وہ قاسم سلیمانی تھے جو گذشتہ ایک دہائی سے امریکہ کیساتھ مل کر مختلف کاروائی کرتے آرہے تھے، 2011 میں معروف امریکی اسٹیٹس مین ہینری کسنجر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ "مڈل ایسٹ میں جنگ کے نقارے بج رہے ہیں جنہیں یہ سنائی نہیں دے رہے وہ بہرے ہیں” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ نے بہت سے مسلمانوں کو خرید رکھا ہے جو ان کی توقعات سے اچھا کام کررہے ہیں” اس انٹرویو کے تحت دیکھا جائے تو اچانک سے اٹھنے والی یہ اسپرنگ، پراکسیز و میڈیا کی پروپیگنڈہ کیمپین سب زرخرید ہی معلوم ہوتی ہیں، ہینری کسنجر نے اس عالمی جنگ کا نقطہ آغاز "ایران” کو ہی قرار دیا تھا اور اب شاید وہ وقت آپہنچا ہے جس کی پیشین گوئی چودہ سو سال پہلے حضور قدسؐ نے کی تھی، حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ "تمہاری پشت پہ ایک طاقت کھڑی ہوجائیگی جسے تم رومیوں کے ساتھ مل کر شکست دوگے جس کے بعد ایک شخص کھڑا ہوکر کہیگا کہ یہ صلیب کی فتح ہے جسے ایک مسلمان قتل کردیگا تو اہل صلیب وہاں موجود تمام مسلمانوں کو شہید کردینگے اور یوں یہ مسلمانوں و رومیوں میں جنگ میں تبدیل ہوجائیگی جس کے بعد رومی 80 جھنڈے لیکر حملہ آور ہونگے اور ہر جھنڈے تلے 12000 رومی ہونگے” لازمی نہیں کہ وہ پشت پہ تیار ہونے والی طاقت ایران ہی ہو، ہوسکتا ہے وہ روس ہو اور عین ممکن ہے کہ روس اس جنگ میں کود جائے جس کے مفادات اس خطے سے جڑے ہوے ہیں، مفادات کے ٹکراو سے ہی جنگوں کی آگ بھڑکتی ہے، انیسویں صدی میں برطانوی PM لارڈ پامرسٹن نے کہا تھا جو مشہور زمانہ قول ہی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے انہوں نے کہا تھا کہ "England has no permanent friend, She has permanent interests” کے مصداق امریکہ کی بھی یہی پالیسی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ و دیگر امریکی عہدیدار بارہا یہ بات دہراتے آرہے ہیں کہ امریکی مفادات کے حصول میں انہیں جو کرنا پڑیگا وہ کرینگے، جب تک امریکی مفادات تھے وہ ایران کیساتھ مل کر داعش و دیگر گروہوں کے خلاف کاروائی کرتے رہے لیکن جب ایران امریکی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بننے لگا تو امریکہ نے متعدد بار خبردار کیا، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر ایرانی پراکسیز کے حملے اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ امریکہ کو ایک آنکھ برداشت نہ ہوا، دسمبر 2019 کے اوائل میں مائیک پامپیو نے ریگن نیشنل ڈیفینس فورم سے خطاب کرتے ہوے بتایا کہ امریکہ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی عراق میں امریکہ مخالف کاروائیوں کی سرپرستی کرنے سے باز رہے لیکن جب ایران باز نہ آیا تو امریکہ نے 12000 کلومیٹر دور سے کاروائی کرکے نہ صرف ایران کے خلاف اعلان جنگ کردیا بلکہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی دھاک بھی بٹھادی، صرف اتنا ہی نہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں عندیہ دیدیا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کی صورت میں امریکہ نئے ہتھیار استعمال کرتے ہوے دنیا میں متعارف کروائے گا، یاد رہے 1945 میں جب امریکہ نے جاپانی شہروں پہ ایٹم بم گرائے تو دنیا کو معلوم ہی نہیں تھا کہ امریکہ نے کیا کیا ہے، بالکل اسی طرح ڈیزی کٹر بم ہوں یا ڈرون یا گائیڈڈ میزائل یا پھر B-52 جیسے جدید جنگی طیارے امریکہ نے متعارف کروائے تو دنیا کے سامنے ایک نئے جنگی ہتھیار سامنے آئے اور اب ٹرمپ کا ایران کے نام دھمکی آمیز ٹویٹ یہی اشارہ ہے کہ یقیناً امریکہ نے کوئی مہلک ترین ہتھیار بنا رکھے ہیں جو شاید ایٹم بم سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوں، امریکی تنازعات کا سطحی جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح ہے کہ جہاں امریکہ کو محسوس ہوا کہ اس کے مفادات کو نقصان ہونے کا خدشہ ہے تو وہیں امریکی رویے میں سختی نظر آئی جو شدت ہی اختیار کرتے نظر آئے ہیں، سوویت یونین کو صرف تسلیم کرنے میں امریکہ نے 15 سال لگائے، ویتنام جنگ کے اختتام 1973 کے باوجود امریکہ سرد رویے میں نرمی 1995 میں آکر ہوئی، کیوبا کا معاملہ بھی دنیا کے سامنے ہے، اسی طرح ایران سے امریکی تنازعہ کوئی نیا نہیں ہے لیکن ماضی کے ایران کا ذکر یہاں ضروری نہیں، خمینی کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار امریکہ ایران اس وقت ٹھنی جب ایران نے امریکی سفارتی عملے کو 444 دنوں تک یرغمال بنائے رکھا جواباً امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کرتے ہوے 12 ارب ڈالر کو روک لیا جسے الجزائر کی ثالثی کے بعد حل کیا گیا، اس کے بعد سے امریکہ ایران تنازعہ چلتا ہی آرہا ہے جس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی، سفارتی و سیاسی کارروائیاں ضرور ڈالیں لیکن کبھی فوجی کارروائی نہیں کی لیکن امریکی تاریخ رہی ہے کہ وقت آنے پر وہ اپنے حریف کو تباہ کیے بغیر نہیں رہتا، 1996 میں امریکہ نے Iran Libya Act 96 کے تحت ایران و لیبیا پر سخت پابندیاں عائد کیں اور کچھ عرصے بعد مشروط طور پر لیبیا پر نرمی کردی گئی لیکن اس کے باوجود امریکہ نے لیبیا کو تباہ ضرور کیا، بالکل اسی طرح اب امریکی رویے سے ظاہر ہے کہ ایران پر امریکہ جنگ مسلط کرکے ہی رہے گا آج یا بدیر لیکن کرے گا ضرور اور R.N Haass نے بالکل سہی کہا ہے یہ جنگ پورے خطے میں لڑی جائیگی جس میں نقصان صرف امت مسلمہ کا ہی ہونا ہے۔

  • بینک مینجرکو کیوں موت کی نیند سلا دیا گیا

    بینک مینجرکو کیوں موت کی نیند سلا دیا گیا

    بینک مینجرکو کیوں موت کی نیند سلا دیا گیا
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، ساہیوال کے تھانہ فرید ٹاون کی حدود میں ڈکیتی کی مزاحمت پر بنک منیجر کو قتل کر دیا گیا مزاحمت پر قتل کیے جانے والے ممتاز ڈوگر جے ایس بنک ساہیوال میں منیجر تھے۔ممتاز ڈوگر کو گھر کے باہر ڈاکووں نے فائر مار کر قتل کیا .ممتاز ڈوگر مسلم لیگ ق کے ضلعی صدر حافظ خالد کے چھوٹے بھائی بھی تھے.
    واضح‌رہے کہ جب سے موجودہ حکومت نے عنان اقتدار سمبھالا ہے تب سے پنجاب میں چوری ڈکیٹی کی وارداتیں شدت اختیار کرگئی ہیں.اب دن دہاڑے ڈاکو لوگوں کو معمولی رقم پر گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیتےہیں.یہ وارداتیں ، دیہات ، شہر اور قصبوں سمیت ہر جگہ پائی جاتی ہیں.