Baaghi TV

Author: +9251

  • کشمیریوں کو حق استصواب رائے دلانا، اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، شاہ محمود قریشی

    کشمیریوں کو حق استصواب رائے دلانا، اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، شاہ محمود قریشی

    کشمیریوں کو حق استصواب رائے دلانا، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے، شاہ محمود قریشی
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام عالم کے کشمیریوں کے ساتھ کئے وعدے کو آج 71 سال ہو گئے ہیں لیکن افسوس مقبوضہ وادی کے باسیوں کو ان کا حق آج تک نہیں مل سکا۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیریوں کے خود ارادیت کے حق میں اقوام متحدہ کی قرار داد کے 71 ویں سال کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہےکہ اقوام متحدہ نے تنازعہ جموں وکشمیر حل، کشمیریوں کو حق استصواب رائے دینا تھا، جو تمام بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کا سرچشمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں بدترین مصائب، ظلم اور جبرواستبداد کا شکار ہیں، سات دہائیاں بعد بھی روزانہ کشمیریوں کی بنیادی انسانی عزت و وقار پامال ہورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو حق استصواب رائے دلانا، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے، 5 اگست 2019ء کو بھارت نے یکطرفہ غیرقانونی، غیرآئینی اقدامات کیے۔
    وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی غاصبانہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور کشمیریوں کے جائز حق خودارادیت کو نقصان پہنچانا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دنیا مذموم ارادوں پر مبنی بھارتی غیرقانونی اقدامات مسترد کر چکی، مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر بلاروک ٹوک جاری ہے اور روز نئی حدیں چھو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے لاک ڈاؤن اور محاصرے کو 153 روز ہوچکے ہیں، کرفیو کلاک پر ایک بھی اضافی لمحہ دنیا کے اجتماعی ضمیر پر بوجھ ہے۔وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ بھارت اقوام متحدہ فوجی مبصر گروپ کو زیرقبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے
    وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں متنازع قانون مسلمانوں کے خلاف تعصب کی بدترین مثال ہے، قانون کو بھارت کی 11 ریاستوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، ہندوستان کےعوام متنازع قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ملتان میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے مظلوموں کے حقوق دلانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے

  • امریکی صدر نے ایران کو ایک اور بڑی دھمکی دے دی

    امریکی صدر نے ایران کو ایک اور بڑی دھمکی دے دی

    امریکی صدر نے ایران کو ایک اور دھمکی دے دی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک اور دھمکی دیتےہوئے کہا کہ اگر ایران نے امریکا کی کسی تنصیب پر حملہ کیا تو اسکا سختی سے جواب دیا جائے گا، ہم اب بھی ایران کو باز رہنے کی تلقین کرے ہیں کئی سال پہلے بھی ایران کے 52 اہم مکامات کو نشانہ بنایا تھا، انہوں مزید کہا ایران جنرل نے ہزاروں امریکیوں اور عراقیوں کو قتل کیا بے شمار کوزخمی کیا.ایران صرف پرابلم ہے .ایران پہلے بھی کتنے ہی امریکیوں کو یرغمال بنا چکا ہے اور ہم نے انہیں بازیاب کرایا تھا . امریکا مزید دھمکی اور خطرے کو برداشت نہیں‌کرسکتا.سمریکی صدر کا کہنا ہے کہ یہ 52 اہداف پہلے ہی نشانے پر لیے جا چکے ہیں، انھوں نے کہا کہ کئی برسوں سے ایران ایک مسئلے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ امریکی صدر نے جنرل سلیمانی کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا اور وہ دیگر کئی مقامات پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے
    واضح رہےکہ ایران امریکا کواپنے جنرل سلیمانی کے قتل کے سنگین بدلے کی دھمکی دے رہا ہے .بغداد ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہو گئے تھے، فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے، عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیگر ہلاک شدگان میں ایران نواز ملیشیا الحشد الشعبی کا رہنما بھی شامل ہے۔

    بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے

    امریکی حملے میں ایران کے قاسم سلیمانی،عراقی ملیشیا کے کمانڈر جاں بحق، ایران نے دیا امریکہ کو سخت ردعمل

    قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کی ہدایت پر مارا گیا، پینٹا گون، ٹرمپ نے کیا کہا؟

    ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

    جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

    امریکا کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے میں ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ کے حالات کشیدہ ہیں، ایران نے انتقام لینے کی دھمکی دی ہے، امریکی صدر ٹرمپ بھی دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب سے رابطہ کیا ہے، چین ،پاکستان نے دونوں ممالک کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے،اسرائیل بھی ہائی الرٹ ہے، امریکا نے چوبیس گھنٹے میں بغداد پر دوسرا حملہ بھی کیا ہے.،

  • کیسا رہےگا موسم کا حال

    کیسا رہےگا موسم کا حال

    کیسا رہےگا موسم کا حال
    باغی ٹی وی رپورٹ کےمطابق :موسم تھوڑا سا نارمل ہونے کے بعد ایکبار پھر سرد ہونے جا رہا .آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔

    اتوار کے روز زیریں خیبر پختونخوا، بلوچستان، جنوبی/وسطی پنجاب میں اکثرمقامات پرجبکہ بالائی خیبر پختونخوا، بالائی سندھ اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔

    ملک کے دیگر علاقوں میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی علاقوں میں شدید سرد رہے گا۔

    گذشتہ روز پنجاب اور بالائی سند ھ کے میدانی علاقوں میں چند مقامات پر دھند چھائی رہی۔ کالام، دیر ،پٹن، میر کھنی ، بالاکوٹ ،مالم جبہ ، چترال، دروش، سیدوشریف، کوئٹہ ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر بارش ہوئی۔
    

  • رحیم یار خان ڈسٹرکٹ پریس کلب رجسٹرڈ کے انتخابات جرنلسٹ پینل کے عشائیہ

    رحیم یار خان ڈسٹرکٹ پریس کلب رجسٹرڈ کے انتخابات جرنلسٹ پینل کے عشائیہ

    رحیم یار خان ڈسٹرکٹ پریس کلب رجسٹرڈ کے انتخابات جرنلسٹ پینل کے عشائیہ میں ممبران پریس کلب کی بھرپور شرکت، ممبران کی جانب سے بھرپورحمایت کااعلان،

  • رحیم یار خان() حبیب کالونی کی سڑکیں 3 ماہ سے خستہ حالی کا شکار کوئی والی وارث نہیں

    رحیم یار خان() حبیب کالونی کی سڑکیں 3 ماہ سے خستہ حالی کا شکار کوئی والی وارث نہیں

    حبیب کالونی گلی نمبر 5 رحیم یار خان کا یہ حال پچھلے تین ماہ سے ہے…
    ڈی سی صاحب سے گزارش ہے کہ عوامی مفاد میں اس مسئلہ کا نوٹس لیں

  • بغداد کے بعد موصل میں امریکی افواج پر حملہ،ہیلی کاپٹر پر فائرنگ

    بغداد کے بعد موصل میں امریکی افواج پر حملہ،ہیلی کاپٹر پر فائرنگ،امریکہ کی طرف سے جوابی کارروائی کا خدشہ،اطلاعات کے مطابق ابھی ابھی عراق سے آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ موصل میں امریکی افواج پر حملہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق موصل میں امریکی جنگی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی ہے،اطلاعات کے مطابق اس فائرنگ کی آواز یں دور دور تک سنی گئی ہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق موصل میں امریکی جنگی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی تصدیق امریکی حکام نے کردی ہے

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے ایران کو جواب دینے کے کا فیصلہ کر لیا ہے،ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے اپنی افواج کو محتاط رہنے کی ہدایت کردی ہے

  • بھارت کی پوری ٹیم 44 پرآؤٹ، تاریخی ریکارڈ قائم

    بھارت کی پوری ٹیم 44 پرآؤٹ، تاریخی ریکارڈ قائم

    نئی دہلی:بھارت کی پوری ٹیم 44 پرآؤٹ، تاریخی ریکارڈ قائم کرکے بھارت نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ، اطلاعات کے مطابق بھارت میں رانجی ٹرافی کے ٹیسٹ میچ میں پوری ٹیم پہلی اننگز میں 44 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    ذرائع کےمطابق بلے بازوں کی انتہائی ناقص کارکردگی نے بھارتی بیٹنگ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔نئی دہلی کے ایئرفورس کمپلیکس میں کھیلے جارہے میچ میں مہاراشٹرا کے کپتان نے سروسز کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو بلے بازوں کی ناکامی کے باعث غلط ثابت ہوا۔

    بھارتی میڈیا کےمطابق پہلے ہی اوورز میں اوپنرز پویلین لوٹ گئے، ابتدا سے وکٹیں گرنے کا شروع ہوا جو بے قابو ہوگیا اور پوری ٹیم 44 کے مجموعے پر ڈھیر ہوگئی، صرف دو بیٹسمین ڈبل فیگرز میں داخل ہو سکے۔سروسز ٹیم کے پیسر پی ایس پونیا نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے دس اوورز میں صرف 11 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ پانڈے 3 وکٹیں حاصل کر کے نمایاں رہے۔

  • سندھ بھرکی طرح گلشن معمار میں کھلی کچہری،موقع پراحکامات جاری، عوام مطمئن

    سندھ بھرکی طرح گلشن معمار میں کھلی کچہری،موقع پراحکامات جاری، عوام مطمئن

    کراچی: ڈسٹرک ویسٹ کے علاقے گلشن معمار میں عوام النساس اور عوامی شکایات کے حل کے لیے پاکستان پیلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زارداری اور چیف منسٹر سندھ مراد علی شاہ کی خصوصی ہدایات پر کھلی کچہری کا انقعاد کیا گیا جس میں عوامی مسائل کو سنا گیا اور فوری حل کے لیے افسران کو ایکشن لیے کی ہدایات بھی جاری کی گئی

    کھلی کچہری میں منسٹر پرائس کنٹرول محمّد اسماعیل راہو، ایم این اے ڈاکٹر شاہدہ رحمانی ، ڈپیٹی کمنشر فیاض الحسسن سولنگی ،ایس ایس پی ویسٹ ، ایس پی منگھو پیر ، ڈی ایس پی گڈاپ ، ڈی ایم سی کمنشر اشفاق، اسسٹ کمنشرز اور دیگر اہم اداروں کے افسران نے شرکت کی واضع رہے کہ ڈسٹرک ویسٹ کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ویسٹ کے علاقے گلشن معمار میں ایک عوام دوست اقدات اٹھایا گیا اور کھلی کچہری منقد کی گئی ہے

    ذرائع کےمطابق عوام نے باآسانی سے اپنے شکایات کے امبار ڈی سی ویسٹ ، ایس ایس پی ویسٹ اور منسٹرز کے سامنے رکھی اور فوری حل کے لیے منسڑز، ڈی سی ویسٹ اور دیگر ذمداران نے ایکشن لیا ہے جبکہ دوسری جانب گلشن معمار کے رہائشوں کے اپنی شکایات میں کہنا تھا کہ گلشن معمار سوسائٹی پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کرتی پمپ لگنےپر مسلح گارڈز کے ساتھ جرمانے کی پرچی ارسال کرتے ہیں جو کہ آئن اور قانون سے بالاتر ہے

    ذرائع کے مطابق اس شکایت پر منسٹر محمّد اسماعیل نے غیر ضروور جرمانے نہ لگانے ہدایات جاری اور ڈپیٹی کمنشر ویسٹ نے اپنے آفس میں معمار انتظامیہ ہو طلب کر لیا عوام نے پیپلز پارٹی کے اس اقدامات خوش آئنی کر دے دیا اور کہنا تھا کہ اس طرح کھلی کچہری ہر ماہ منقد کرنی چاہیے تاکہ عوامی مسائل کو حل کیا جاسکے ۔

  • عوامی مسائل انکی دہلیز پرحل کریں گے ۔وزیر بلدیات سندھ  سید ناصر حسین شاہ کا عزم

    عوامی مسائل انکی دہلیز پرحل کریں گے ۔وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کا عزم

    کراچی :وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ عوام کی مسائل ان کے دہلیز پر حل کرنے کہ لئے کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔چئیر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے احکامات پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے تمام وزیروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پورے صوبے میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کریں

    باغی ٹی وی کےمطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج سچل گوٹھ یوسی 30 ضلع ایسٹ سچل گوٹھ میں بے نظیر بھٹو شہید پبلک لائبریری میں کھلی کچہری کہ انعقاد کہ موقع پر کیا ۔کھلی کچہری لگانے کا مقصد عوامی شکائیت کو سن کر ان کی دہلیز پر ہی حل کرنا ہے ۔

    کھلی کچہری میں وزیر اعلی سندھ کہ کوآرڈینیٹر شہزاد میمن، ڈپٹی کمشنر ایسٹ احمد علی صدیقی , چیئرمین ڈی ایم سی ایسٹ معید انور, ایڈیشنل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کھیمپیو , ایم سی کے ایم سی و ڈی جی کے ڈی اے ڈاکٹر سید سیف الرحمان ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان سمیت صلعی انتظامیہ،بلدیاتی اداروں کے افسران پولیس افسران کے الیکٹرک سوئ گیس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے جب کہ مسائل کے حل کے لئے آنے والے درخواست گزاروں کی ایک بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی

    ان کھلی کچہریوں میں عوام کا ٹھاٹے مارتا سمندر اپنے علاقے میں ہردلعزیز وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ صاحب کو اپنے درمیان پاکر علاقے کے مسائل کے انبار لگا دئے. وزیر بلدیات جیسے ہی پنڈال میں تشریف لائے تمام شرکاء نے اپنی نشست سے کھڑے ہوکر تالیاں بجاکر ان کا ویلکم کیا پھولوں کی پتیاں نچھاور کی ۔

    ذرائع کے مطابق پورا پنڈال جئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھا ۔علی نواز ڈاہری نے قرآن پاک کی تلاوت سے کھلی کچہری کا آغاز کیا لوگوں نے کھل کر سچل گوٹھ سمیت صلع شرقی کے مختلف مقامات کے مسائل کو بیان کیا.اس موقع پر لوگوں نے Kالیکٹرک ، وا ٹر اینڈ سیوریج بورڈ ، صحت وصفائ ،تعلیم ،اسپورٹس ،علاقے کی لیز ،منشیات فروشی ، پولیس کے رویہ ، گیس کی عدم فراہمی سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے اپنی شکائیت کا اظہار کیا وزیر بلدیات نےکہا کے کھلی کچہری لگانے کا مقصد علاقے کے مسائل کا حل کرنا ہے ۔

    انھوں نے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے حوالے سے شکائیت کا جواب دیتے ہوئے کہا کے میں آپ لوگوں کو یعقین دلاتا ہوں کہ واٹر اینڈ سیوریج بورٰڈ کا مسلہء فوری حل کیا جائے گا انھوں نے اسی وقت متعلقہ ڈپارٹمنٹ کہ افسران کو فوری شکائیت کے ازالہ کا حکم صادر کیا صوبائ وزیر نے کہا کہ ہم یہاں مسائل سننے کے ساتھ ساتھ اسکی فوری حل کے لئے آیا ہوں ۔اور انشاء اللہ تمام مسائل کو فوری حل کیا جائے گا ۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور اور نظریہ ہر جگہ بالا تفریق کام کرنا ہے ہماری سیاست بے لوث اور بلا تفریق ہے یہ کبھی نہیں سوچا کہ یہاں سے وو ٹ نہیں ملا تو وہاں کام نہ کیا جائے بالکہ تمام علاقوں میں بلا تفریق کام کرنا ہے ۔تمام مسائل جو حل طلب ہیں وہ لازمی حل ہونگے ۔یہ ضروری ہے کہ کچھ مسائل فوری حل ہو نگے اور کچھ کے لئے تھوڑا ٹائم لگے گا ۔ہم یہاں پر فوٹو سیشن کے لئے نہیں آئے تمام مسائل کا خاطر خواہ حل ضرور نکلے گا

  • والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام  کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ کا درجہ رکهتی ہے –

    بچے ، جن سے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کا مستقبل جڑا ہوتا ہے ان کی تربیت اس انداز سے کرنا پڑتی ہے کہ وہ اچهے شہری کہلایئں -ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ ماں کی تربیت نے ان کو ایسا انسان بنایا جنہوں نے ملک اور اپنے خاندان کا نام روشن کیا ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بڑے بڑے سرجن ، سائنسدان ، قانون دان اور انجنیئر ہیں -ان کی کامیابی کے پیچھے ان کی ماں کی تربیت ہے مگر میں سمجهتا ہوں کہ وہ بچے، جن کو سائنسدان، انجنیئر یا ڈاکٹر بننا تها وہ ڈاکو بن گئے -عورتوں کے پرس چهیننے لگے، اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں، بے دریغ قتل و غارت میں ملوث ہیں. پڑے لکهے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کے علاوہ اچهی فیملی کے بچے یہ سب کام کر رہے ہیں –

    ایسا کیوں ہو رہا ہے، کیا ان کی تربیت میں کمی رہ گئی ہے ؟
    کیا اب والدین کے پاس اپنے بچوں کی تربیت کے لئے وقت نہیں رہا؟ کیا یہ میڈیا کے برے اثرات ہیں؟
    یہ حقیقت ہے کہ وقت کی تیز رفتاری نے انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے روزمرہ کی ضرورت زندگی کی چیزیں فیملی کو مہیا کرنا اب فرد واحد کے بس کی بات نہیں –

    آج کے والدین بچوں کی تربیت کرنے میں اس لیئے بهی ناکام ہیں کہ آج گهر گهر کیبل اور انٹرنیٹ ہے اور آج کے بچے ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے کمپیوٹر اور ریموٹ کنٹرول بچے ہیں کیونکہ پلک جهپکتے ہی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے ان بچوں کی تربیت کے لئے آج کی ماں کو ان سے کہیں زیادہ علم و شعور ہونا چاہئے ان پڑھ ماں کبهی بهی آج کے بچے کے مسائل نہیں سمجھ سکتی -آج کا بچہ گهریلو ، سیدھا سادہ اور معصوم بچہ نہیں ہے بلکہ وہ شعور اور آگہی سے مکمل ہے -پرانی چیزوں کی طرف دیکهنا بهی پسند نہیں کرتا بلکہ نت نئی اچهی سے اچهی ایجادات اور حیران کر دینے والی چیزوں کو پسند کرتا ہے آج کے بچے کے معیارات بدل چکے ہیں اس کے مطالبات پہلے زمانے کے بچوں سے کہیں مختلف ہیں -ایسے میں اس کی تربیت کے لئے سکول اور گهر کا ماحول ایک جیسا ہونا ضروری ہے –

    ہمارے آج کے والدین اس لیئے بهی شاید ناکام ہیں کہ وہ اپنے گهروں میں بچوں کو کچھ سکهاتے ہیں جبکہ سکولوں میں جا کر بچے کو سیکهنے کو کچھ اور ملتا ہے یہ شاید ہمارے دوہرے معیار کا ہی قصور ہے –

    آج کی ماں کو خود بهی سمجھ نہیں آرہی کہ اسے بچے کو کیسے ایک سمت پر لانا ہے آج کے والدین اگر بچوں کی اچهی تربیت چاہ رہے ہیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچے کے لئے تعین کیئے گئے دوہرے معیار کو ختم کر دیں –

    بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک سے پرہیز کریں کیونکہ بلا وجہ کی ڈانٹ ڈپٹ بهی رویوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس سے بچہ متاثر ہوتا ہے اور پهر وہ اپنے والدین کو اچ کرنے کے لئے بهی وہ کام جان بوجھ کر کرتا ہے جس سے اسے منع کیا جاتا ہے –

    ہمارے ہاں ویسے بھی دو قسم کے والدین موجود ہیں ایک والدین وہ جو بچوں سے حد سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو بہت ذیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں ایسے والدین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جن کے بچوں کے رویوں میں توازن موجود ہے -آج کے والدین کو چاہیئے کہ وہ اچهی طرح سوچیں کہ بچے کیسے اور کس طرح تربیت کرنی چاہیے پهر ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجهتے ہوئے بہترین تربیت کر سکیں –

    کہا جاتا ہے کہ آپ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور ادا کیا ہوا ہر عمل آپ کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے -صرف تعلیم حاصل کر کے ہی کوئی ذی روح باشعور نہیں بن سکتا بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بهی اتنی ہی اہم ہے یعنی تعلیم و تربیت لازم و ملزوم ہے. جب تک علم و آگاہی کے ساتھ آپ کے پاس زندگی گزارنے کے اصول ، ضابطے اور آداب نہیں ہونگے ، صرف آگاہی کچھ نہیں کر سکتی بلکہ اس آگاہی اور علم کا زندگی پر اطلاق ہی اصل تربیت ہے اور یہ ماں کا کام ہے کہ بچپن سے ہی بچوں میں ایسے اطوار پیدا کرے کہ عملی زندگی میں ان کے کردار کی پختگی معاشرے میں ان کا وقار قائم کر سکے –

    بغیر تربیت کے علم کی مثال ایسی ہے جیسے کسی جسم سے روح نکال لی جائے تو پیچھے ڈهانچہ رہ جاتا ہے -ہم کسی بهی دور کی عظیم شخصیات مثلاً محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی اور مولانا محمد علی جوہر وغیرہ وغیرہ پر نظر ڈالیں تو ان کے پیچھے ان کی والدہ کی تربیت کا ہاتھ نظر آئے گا –

    تاریخ واضح کرتی ہے کہ جب محمد بن قاسم ہندوستان کے علاقے فتح کرنے کے لیے نکلا تو اس کی ماں کے الفاظ تهے ” میں نے تجهے پیدا ہی اس لئے کیا تها کہ تو اسلام کی راہ میں جہاد کرے اور ان علاقوں کو فتح کرے "- بلا شبہ اتنی کم عمری میں اس کی بلند پایہ فتوحات میں ماں کی تربیت کا بہت بڑا ہاتھ تها -لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کی ماں بچوں کی ویسی ہی تربیت کر رہی ہے اگر نہیں تو اس ناکامی کی کیا وجوہات ہیں ؟

    یہ درست ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانے کی اقدار بدل گئی ہیں لیکن انسان تو وہی ہے زمانہ بہت تیز ہو گیا ہے وقت کی کمی کے باعث زندگی مصروف ترین ہو گئی ہے ماووں کی تربیت میں بنیادی وجہ جاب کرنے والی والی ماوں کے پاس وقت کی کمی ہے. نٹ کلچر نے بچوں کو ماوں سے دور کر دیا ہے اب بچہ جو سیکهتا ہے ٹی وی اور میڈیا سے ہی سیکهتا ہے بچوں کے پروگرام کارٹون نیٹ ورک پر چلنے والی کہانیوں نے بچوں کو بہت ایڈوانس کر دیا ہے اب بچوں کو داستان الف لیلیٰ کے زمانے گزر گئے ہیں اور اگر کہا جائے کہ سمجهداری کے معاملے میں بچے پری میچور ہو گئے ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ بچے کیبل پروف کارٹون نیٹ ورک ہی نہیں دیکهتے بلکہ انگلش اور انڈین موویز دیکهنے کی بهی کمی نہیں -بہت کم ہیں جو اسلامک چینل ، قرآن پاک اور معلوماتی چینلز دیکهتے ہیں ان الیکٹرانک چینلز سے ہر قسم کی معلومات اور تفریح پیش کی جاتی ہے وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ بچوں نے دیکهنا ہے اور یہ بڑوں نے، بلکہ یہ ماووں کا کام ہے کہ وہ بچوں کے لیئے اچهے برے کی تمیز پیدا کریں لیکن ماووں کے پاس تو وقت ہی نہیں !

    جب ماں کی گود کی جگہ ٹی وی چینلز لے لیں تو ماں کا تربیت میں کیا کردار

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟
    تحریر: سدیس آفریدی