Baaghi TV

Author: +9251

  • ڈالر کے مقابلے روپیہ ہوا معملولی  سا کمزور

    ڈالر کے مقابلے روپیہ ہوا معملولی سا کمزور

    ڈالر کے مقابلے روپیہ ہوا معملولی سا کمزور

    باغی ٹی وی :جمعے کے روز انٹر بینک میں ڈالر 154.87 سے بڑھ کر 154.94 روپے پر ٹریڈ فروخت ہو رہا ہے۔یاد رہے گزشتہ دن اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 10 پیسے کا اضافہ ہوا، صبح کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی صورتحال بہتر ہوئی تاہم بعد ازاں ڈالر کی طلب کے باعث اس کی قدر بڑھ گئی۔

    جمعرات کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مزید دس پیسے کم گئی تھی تاہم مارکیٹ کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 155.00 روپے سے بڑھ کر 155.10 روپے ہو گئی۔
    31 دسمبر کو روپیہ 154.70 روپے میں خریدا گیا اور 155 روپے میں فروخت ہوا۔
    واضح رہےگزشتہ سال کے آخری چار ماہ کے دوران 155.50 روپے ڈالر کی نچلی ترین سطح ہے۔2019 میں بھی ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
    اپریل 2019 میں ڈالر چھلانگ لگا کر 141 روپے 50پیسے پر آگیا۔ مئی میں 151 روپے اور جون میں تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا. اب تسلسل کے ساتھ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے

  • 2019ء کے خوفناک اسرائیلی منصوبے، الخلیل میں‌ 50 یہودی کالونیاں ہزاروں مکانات تعمیر کئے

    2019ء کے خوفناک اسرائیلی منصوبے، الخلیل میں‌ 50 یہودی کالونیاں ہزاروں مکانات تعمیر کئے

    الخلیل :2019ء کے خوفناک اسرائیلی منصوبے، الخلیل میں‌ 50 یہودی کالونیاں ہزاروں مکانات تعمیر کئے گئے لیکن اس کے باوجود اسرائیل کی شدت کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے،

    فلسطین کے حوالے سے گذشتہ سال امریکا کی طرف سے جو اہم اعلانات کیے ان میں ایک اہم ترین اعلان فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق تھا۔

    گذشتہ برس کے آخر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی سے متعلق منصوبوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے فلسطین میں یہودی بستیوں کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے۔

    اب امریکا فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو غیرقانونی نہیں سمجھتا۔ مائیک پومپیو کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع نفتالی بینیٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے وسط میں الجملہ بازار میں ایک یہودی کالونی کے قیام کا اعلان کیا جس کا مقصد یہودی آباد کاری کو فلسطین کے اس تاریخی شہر کے اندر تک لانا تھا۔

    الخلیل میں یہودی کالونی کے قیام کا مقصد اس تاریخی شہر میں یہودی آباد کاری کی راہ ہموار کرنا اور پہلے سے قائم یہودی کالونیوں کو تحفظ اور دوام فراہم کرنا تھا۔ اس وقت الخلیل شہر میں صہیونی ریاست نے 50 کالونیاں قائم کر رکھی ہیں جن کی آڑ میں فلسطینیوں کی قیمتی اراضی غصب کی گئی ہے۔ الخلیل میں نہ صرف یہودی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں بلکہ ان میں دنیا بھر سے جمع کرکے فلسطین لائے گئے 3 ہزار یہودی بھی بسائے گئے ہیں۔

    الخلیل شہر میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسند کی تاریخ سنہ 1967ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ کے دوران فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست کے ناجائز فوجی قبضے سے شروع کوتی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے سنہ 1967ء میں الخلیل شہر قبضہ کیا مگر یہاں پر قبضے میں لی گئی عمارتوں کو یہودیوں آباد کاروں کے حوالے کرنے کا سلسلہ کچھ عرصے بعد ہوا۔ پہلے مرحلے میں 73 یہودی آباد کاروں کو الخلیل میں لا کر بسایا گیا۔

    10 مئی 1968ء کو دریائے خالد ہوٹل میں یہودیوں کو بسایا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے مسجد ابراہیمی کے علاقے تک توسیع کرنا شروع کردی اور متعدد تاریخی عمارتوں اور غاروں کو قبضے میں لے لیا۔

    سنہ 1968ء کو اسرائیل نے الخلیل شہر میں ایک مذہبی اسکول قائم کیا تاکہ یہاں پر یہودیوں کو لانے اور انہیں بسانے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے مسجد ابراہیمی کا ایک حصہ بھی یہودی آباد کاروں کی عبادت کے لیے مختص کردیا۔

    ستمبر 1968ء کو اسرائیلی حکام نے یہودی آباد کاروں کو مسجد ابراہیمی کے سامنے یہودی آباد کاروں کو ایک کنیسہ قائم کرنے کی اجازت دی۔ اس کے علاوہ مسجد ابراہیمی تک رسائی کے لیے ایک نیا راستہ بنایا گیا اور جگہ جگہ پر اسرائیلی فوج کی چوکیاں قائم کی گئیں۔

    سنہ 197( کو اسرائیل نے پرانے الخلیل شہر کے قریب کریات اربع نامی ایک یہودی کالونی قائم کی جس کا مقصد الخلیل میں فلسطینی آبادی کے توازن کو بگاڑنا تھا۔ اس کالونی میں آٹھ ہزار یہودیوں کو منتقل کیا گیا اور یہاں پر ‘کاخ’ نامی ایک انتہا پسند یہودی تنظیم کو اپنے مراکز قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔

    سنہ 1978ء میں یہودی آبادکاروں کے ایک گروپ نے’الدبویا’ نامی عمارت پرقبضہ کیا۔ یہ ایک تاریخی عمارت تھی جس کا شمار الخلیل شہر کے اہم مقامات میں ہوتا تھا۔ یہودی آباد کاروں نے اس بلڈنگ کو’بیت ھداسا’ کا نام دیا۔

    سنہ 1983ء میں یہودی آباد کاروں نے الدبویا کے قریب ایک اور یہودی کالونی قائم کی جس کا نام ‘بیت رومانو’ رکھا گیا۔ یہودی آباد کاروں نے یہاں پرموجود اسامیہ بن المنقذ اسکول اور اس کی اراضی پرقبضہ کرلیا اور یہ دعویٰ کیا یہ اسکول یہودیوں کی متروکہ املاک میں شامل ہے۔

    سنہ 1994ء کو اسرائیل نھے الخلیل شہر میں ‘ابراہام افینو’ نامی ایک نئی یہودی کالونی قائم کی۔ یہ کالونی الخلیل کے وسط میں تل الرمیدہ کے مقام پر قائم کی گئی۔ اس کے بعد بیت حسنوم اور بیت شنر سن نامی یہودی کالونیاں قائم کی گئیں۔

    سنہ 2019ء میں الخلیل شہر میں یہودی بستیوں کی تعداد بڑھ کر 50 ہوگئی ہے۔ یہودی آباد کاروں نے الخلیل کی آخری عمارت جس پرغاصبانہ قبضہ کیا’ الرجبی خاندان کی عمارت ہے جس میں 600 یہودی آباد کاروں کو بسایا گیا ہے۔

    ان میں زیادہ تر انتہا پسند یہودی ہیں۔ اس عمارت کی سیکیورٹی کے لیے 21 چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔ یہ چوکیاں اور یہودی آبادکاروں کے لیے قائم کردہ کالونیاں فلسطینی آبادی کے لیے عذاب سے کم نہیں۔

    الخلیل شہر اور اس کے اطراف میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کے نام کچھ یوں ہیں "كريات أربع” ،”خارصينا” ،”منوح” ،”حجاي” ،”رمات يشاي” ،”الدبويا/بيت هداسا” ،”بيت رومانو” ،”ابرهام افينو” ،”تل جعبرة” و”جفعات هئفوت” ،”جفعات جال” ہیں۔

    اس کے علاوہ الخلیل گورنری میں اسرائیلی ریاست کی طرف سے قائم کردہ کالونیوں میں "شمعون، وأصفر” ،”بني حيفر،”كرمئيل”، "سوسيا”، متساد يهودا، ،ماعون” ،”عتنئيل، ،شاني لفنا”،”شمعة، ،اشتموع، طنا عمريم” ،”اشكيلوت، سنسانا A سنسانا B،”نحال نجهوت، جفعات هبوستان”، "تيلم، وادورا” ترقوميا، "كرمي زور” شامل ہیں۔

  • اسرائیلی ریاستی دہشت گردی جاری ، 2019ء میں 149 فلسطینی شہید،ہزاروں زخمی

    اسرائیلی ریاستی دہشت گردی جاری ، 2019ء میں 149 فلسطینی شہید،ہزاروں زخمی

    غزہ :اسرائیلی ریاستی دہشت گردی، 2019ء میں 149 فلسطینی ہوگئے اورہزاروں کی تعداد میں زخمی بھی ہوئے ،لیکن اس کے باوجود اسرائیلی مظالم میں کمی دیکھنے میں نہیں آرہی

    شہیدفلسطین میں شہداء و اسیران سوسائٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2019ء کے دوران اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 149 فلسطینی شہید ہوئے۔ شہداء میں 74 فی صد غزہ کی پٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

    فلسطینی سماجی کارکن محمد صبیحات نے بتایا کہ گذشتہ برس اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والوں میں 33 بچے ہیں جو کل شہداء کا 23 فی صد ہیں جب کہ 2018ء کی نسبت شہید ہونے والے بچوں کی تعداد میں 5 فی صد اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ پانچ سال کےدوران ہر سال اوسطا 161 فلسطینی شہید کیے گئے۔

    گذشتہ برس اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 149 فلسیطنی شہید ہوئے۔ شہداء میں 112 کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے۔ 69 فی صد فلسطینی اسرائیلی ریاست کی وحشیانہ بمباری میں شہید ہوئے۔ غرب اردن میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 تھی جو کہ کل شہداء کا 26 فی صد ہیں۔ شہدا میں 33 بچے، 12 خواتین اور 137 مرد تھے۔

  • قابض صہیونی فوج کے طوباس پر حملے میں فلسطینی نوجوان زخمی

    قابض صہیونی فوج کے طوباس پر حملے میں فلسطینی نوجوان زخمی

    طوبوس :مغربی کنارے کے شمال میں طوباس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان زخمی ہو گیا۔اس سے پہلے بھی آج ہی دیگر دومقامات پراسرائیلی فوجوں کیطرف سے فلسطینیوں پرشدید فائرنگ کی گئی

    فلسطینی طبی ذرائع نے کہا کہ فلسطینی نوجوان کو اسکی ران میں گولی لگی اور اسے طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    مقامی رہائشیوں نےکہا کہ جب صہیونی فوج نے طوباس پر ہلہ بولا تو مقامی نوجوانوں اور قابض صہیونی فوج کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔اسرائیلی فوج نے نوجوانوں پربراہ راست گولیاں برسائیں اوراشک آور گیس کے گولے پھینکے جس سے ایک نوجوان زخمی ہوگیا۔

  • جوہری اسلحہ سازی پرخود ساختہ پابندی ختم کر دی ہے :شمالی کوریا کا اعلان

    جوہری اسلحہ سازی پرخود ساختہ پابندی ختم کر دی ہے :شمالی کوریا کا اعلان

    نیویارک :جوہری اسلحہ سازی پر خود ساختہ پابندی ختم کر دی ہے ،شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ اُن نے جوہری اسلحہ سازی اور بیلسٹک میزائل تیار کرنے پر خود سے عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے۔

    شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق، جلد ہی دنیا اسٹریٹیجک ہتھیاروں کا مشاہدہ کرے گی۔انہوں نے نئے ہتھیار تیار کرنے اور اُن کے تجربات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    یہ پابندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد شمالی کوریائی لیڈر نے خود سے عائد کی تھی۔
    اس پابندی کے خاتمے کے اعلان پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کم جونگ اُن سے کہا ہے کہ وہ پابندی ختم کرنے کے بجائے کوئی متبادل راستہ اختیار کریں

  • پولیس میں بھرتیوں پرعائد پابندی ختم، بےروزگار نوجوانوں  کی بجائےریٹائرڈ کونوازنے کا منصوبہ

    پولیس میں بھرتیوں پرعائد پابندی ختم، بےروزگار نوجوانوں کی بجائےریٹائرڈ کونوازنے کا منصوبہ

    لاہور : پولیس میں بھرتیوں پرعائد پابندی ختم، بے روزگارنوجوانوں کی بجائے ریٹائرڈ افراد کونوازنے کا منصوبہ،اطلاعات کےمطابق پنجاب حکومت نے محکمہ پولیس میں بھرتیوں پر پابندی ختم کردی،

    پنجاب پولیس ذرائع کے مطابق مزید310نئی بھرتیوں کیلئے منظوری بھی دے دی گئی، ریٹائرڈ جوانوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ بات بھی قابل غورہے کہ ملک میں‌جہاں‌ایک طرف بہت زیادہ بے روزگاری ہےاور بڑے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگارپھر رہےہیں ایسے میں پہلے ریٹائرڈ ، پینشن اوردیگرمراعات لینے والے ریٹائرڈ افراد کی بھرتی کے فیصلے پرحیرانی ہورہی ہے

    اس کے علاوہ محکمہ پولیس میں310نئی بھرتیوں کیلئے منظوری دے دی گئی۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایلیٹ پولیس ٹریننگ اسکول کیلئے ریٹائرڈ جوانوں کی بھرتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ نے محکمہ داخلہ کی سمری منظور کرلی، ریٹائرڈ جوان ایلیٹ پولیس ٹریننگ اسکول کی سیکیورٹی دیکھیں گے، اس کے علاوہ اسپیشل برانچ میں ٹیکنکل کیڈر کی277آسامیوں پر بھرتی کی بھی منظوری دی گئی۔

  • نان رجسٹرڈ گاڑیوں کا چالان نہیں ہوگا، ٹریفک پولیس کا اعلان

    نان رجسٹرڈ گاڑیوں کا چالان نہیں ہوگا، ٹریفک پولیس کا اعلان

    ابوظبی: نان رجسٹرڈ گاڑیوں کا چالان نہیں ہوگا، ٹریفک پولیس کا اعلان،اطلاعات کےمطابق محکمہ میونسپلٹی اور ٹرانسپورٹ (ڈی ایم ٹی) نے اعلان کیا ہے کہ دو جنوری سے نان رجسٹرڈ گاڑیوں کو بڑا ریلیف دیا جائے گا۔

    ذرائع کےمطابق عرب امارات حکومت کی طرف سے یہ رعایت دی گئی ہے، ادھر ابوظبی کے ٹول پلازہ کے دروازے پر نصب ٹریفک سسٹم نان رجسٹرڈ گاڑیوں کا چالان کرتا تھا البتہ محکمے نے اب خوش خبری سنائی کہ ایسا نہیں ہوگا اور یہ چھوٹ تین مہینے تک رہے گی۔

    محکمے کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’دو جنوری سے نان رجسٹرڈ گاڑیوں کا ٹول گیٹ پر کسی قسم کا کوئی جرمانے کے چالان نہیں کاٹے جائیں گے‘۔

    حکومت کی جانب سے یہ چھوٹ اس لیے دی گئی تاکہ مالکان اپنی گاڑیوں کو رجسٹرڈ کروائیں ، مقررہ تاریخ گزر جانے کے بعد ڈرائیورز پر نہ صرف بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے بلکہ اُن کی گاڑیاں بھی ضبط کی جائیں گی۔

  • آرمی چیف کی توسیع پرآئینی بحران آج اپوزیشن حل کردے گی

    آرمی چیف کی توسیع پرآئینی بحران آج اپوزیشن حل کردے گی

    اسلام آباد:آرمی چیف کی توسیع، بل آج پارلیمنٹ میں پیش ہوگا،اپوزیشن حمایت کرےگی،اطلاعات کےمطابق حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی برائے قانون سازی نے آرمی ایکٹ میں ترامیم کو اتفاق رائے سے منظور کرنے پر اتفاق کرلیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔

    اسلام آباد میں وزیردفاع پرویز خٹک کی زیر صدارت 33 رکنی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس ہوا جس میں حکومتی اراکین سمیت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے قانون سازی کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔اجلاس میں طے کیا گیا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل پہلے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ،جس کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل کو منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

  • پاکستان میں‌ کرکٹ پچزکا معیاربہتربنانے کیلئے عالمی  شہرت یافتہ کیوریٹر کی آمد

    پاکستان میں‌ کرکٹ پچزکا معیاربہتربنانے کیلئے عالمی شہرت یافتہ کیوریٹر کی آمد

    کراچی :پاکستان میں‌ کرکٹ پچزکا معیاربہتر بنانے کیلئےعالمی شہرت یافتہ کیوریٹر کی آمد، اطلاعات کےمطابق ملک میں کرکٹ پچز کو معیاری بنانے کیلئے غیر ملکی ماہر اور شہرت یافتہ کیوریٹراینڈی اٹکنسن کو پاکستان بلالیا گیا ہے،

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کےمطابق کراچی، ملتان، پنڈی اورلاہور سینٹرز کا دورہ کریں گے اورموجودہ پچز کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو تفصیلی رپورٹ دیں گے کہ ان کی کوالٹی میں کس طرح بہتری لائی جاسکتی ہے۔

    وہ مقامی کیوریٹرز کے ساتھ اپنے تجربات بھی شیئر کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ اگلے سیزن میں ملک کے بڑے سینٹرز کی وکٹیں اسپورٹنگ ہوں گی جس پر بولرز کو بھی مدد ملے گی۔

    دنیا کے صف اول کے پچ ماہر اور آئی سی سی کے پچ کنسلٹنٹ اینڈی اٹکنسن جمعے اور ہفتے کی درمیان شب کراچی پہنچ رہے ہیں۔اینڈی اٹکنسن دو دن کراچی، ایک ایک دن ملتان اور پنڈی اور تین دن پی سی بی ہیڈ کوارٹر لاہور میں گزاریں گے۔

    10 جنوری کو اینڈی لاہور سے جنوبی افریقا روانہ ہوں گے جہاں وہ آئی سی سی انڈر19ورلڈ کپ کی پچز تیار کریں گے۔

    اینڈی اٹکنسن ایک ہفتے کے دورہ پاکستان میں کسی ورکشاپ کا انعقاد نہیں کریں گے بلکہ ملک کے چاروں ٹیسٹ سینٹرز کی پچوں، مٹی کی کوالٹی اور سہولتوں کا جائزہ لے کر پاکستان کرکٹ بورڈ کو تفصیلی رپورٹ دیں گے۔

  • عراق سے امریکی فوجوں کونکلنا ہوگا، عراقی عوام ڈٹ گئی

    عراق سے امریکی فوجوں کونکلنا ہوگا، عراقی عوام ڈٹ گئی

    بغداد:عراق سے امریکی فوجوں کونکلنا ہوگا، عراقی عوام ڈٹ گئی ،اطلاعات کےمطابق عراق کی عوامی مزاحمتی تنظیموں نے اپنے ملک سے امریکی فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

    بغداد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق حزب اللہ عراق نے ایک بیان جاری کرکے اپنی پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک سے امریکی افواج کے انخلا کا بل پاس کرنے کے لئے ضروری سرگرمیاں شروع کردی جائیں ۔

    حزب اللہ عراق نے بغداد میں امریکی سفارتخانے کو جاسوسی کا اڈہ اور شرانگیزی کا مرکز قرار دیا ہے۔ اس تنظیم نے اسی طرح امریکا کے خلاف دلیرانہ اور غیرتمند موقف اختیار کرنے پر عراقی عوام کی قدردانی کی ہے۔

    حزب اللہ عراق نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے خلاف احتجاجی دھرنے کی جگہ اس شرط پر تبدیل کی گئی ہے کہ ملک سے امریکی افواج کو باہر نکالا جائے ۔

    یاد رہے کہ عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی نےایک بیان جاری کرکے عوام سے درخواست کی تھی کہ ملک کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف اور کارگزار وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی اپیل کے احترام میں بغداد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے دھرنا ختم کردیا جائے ۔

    مغربی عراق کے صوبہ الانبار کے شہر القائم میں عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے مراکز پر امریکا کے فضائی حملے پر پورے عراق میں عوام میں کافی غم و غصہ پایاجاتا ہے۔

    امریکا کی اس کھلی جارحیت کے خلاف عراق کے مختلف شہروں میں عوام نے مظاہرے کرکے امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا ۔اس کے ساتھ ہی منگل اور بدھ کو بغداد میں عراقی عوام نے امریکی سفارتخانے کے سامنے وسیع مظاہرہ کیا۔

    مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کی دیواروں پر نصب امریکی پرچم اتار کے عوامی رضا کار فورس الحشد الشعبی کے پرچم نصب کردیئے تھے۔ بغداد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کرنے والوں نے ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ہی امریکی سفارتخانہ بند کئے جانے کا بھی مطالبہ کیا ۔