Baaghi TV

Author: +9251

  • حماس کی جانب سے نئے میزائلوں کا تجربہ ، اسرائیل پرخوف کےسائے

    حماس کی جانب سے نئے میزائلوں کا تجربہ ، اسرائیل پرخوف کےسائے

    مقبوضہ بیت المقدس:حماس کی جانب سے نئے میزائلوں کا تجربے نے اسرائیل پرخوف کےسائے قائم کردیئے ، فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اپنی دفاعی طاقت میں اضافہ کرنے کے لئے غزہ میں کئی میزائلوں کا تجربہ کیا ہے

    غزہ سے ذرائع کےمطابق تجرباتی طور پر ان میزائلوں کو سمندر میں فائر کیا گیا ان میزائلی تجربات کا مقصد صیہونی حکومت کے ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنا اور حماس کی دفاعی طاقت میں اضافہ کرنا ہے –

    صیہونی حکومت نے گذشتہ برسوں کے دوران بارہا مختلف بہانوں سےغزہ کےالگ الگ علاقوں پر حملے کئے ہیں البتہ فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے صیہونی حکومت کو منہ توڑ جواب دیا ہے –

    ذرائع کےمطابق صیہونی حکومت نے دوہزار چھے سے غزہ کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ کررکھا ہے اورغزہ کے باشندوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے

  • کوچین میں مسلم مخالف شہریتی قانون کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج

    کوچین میں مسلم مخالف شہریتی قانون کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج

    کیرالا: کوچین میں مسلم مخالف شہریتی قانون کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج ،اطلاعات کےمطابق ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں اور علاقوں میں عوام کے احتجاجی مظاہرے اور جلسے جاری ہیں –

    ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالا کے شہر کوچین میں لاکھوں لوگوں نے ایک ریلی میں شرکت کرکے شہریت ترمیمی ایکٹ ، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کی پرزورالفاظ میں مخالفت کی اور اس بات کا اعلان کیا کہ وہ آئین کی روح سے کسی کو بھی کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے –

    کوچین میں مختلف ملی اور مذہبی تنظیموں کے متحدہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیرالا مسلم لیگ کے صدر سید حیدر علی شہاب نے کہا کہ ہندوستان کسی ایک کا نہیں بلکہ جو یہاں پیدا ہوا ہے اس ملک میں اس کی موت اور زندگی کے لئے بنیادی حقوق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی قانون کی آڑ میں کسی کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

    لاکھوں کے جم غفیر کو خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے مفتی اعلی شیخ ابوبکر احمد نے بھی کہا ہم پرامن طور پر قانون کے دائرے میں رہ کر جمہوری طریقے سے اس ایکٹ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ آئین کی بنیادی روح سے کھلواڑکو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا

    انہوں نے کہا کہ آج لوگوں سے ان کا امن وسکون چھین لیا گیا اسی لئے پورا ملک سڑکوں پر اترا ہے ۔مفتی اعلی شیخ ابو بکر احمد نے کہا کہ یہ ملک کسی پارٹی دھرم ، مذہب یا ذات کا نہیں بلکہ یہاں بسنے والے ہر شہری ہندو، مسلم، سکھ ، عیسائی سب کا ہے اس موقع پر مظاہرین اپنے ہاتھوں میں مہاتما گاندھی ، بھیم راؤ امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد کی تصویریں اور ہندوستان کا قومی پرچم اٹھائے ہوئےتھے۔ ادھر قومی دارالحکومت دہلی کے مختلف علاقوں منجملہ کالندی کنج، متھرا روڈ ، شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہرعوام اور طلبا کے مظاہرے جاری ہیں –

    اس کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں خاص طور پر آسام میں سی اےاے کے خلاف طلبا اور عوام کے احتجاجی مظاہرے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں – مظاہروں میں شریک لوگ مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ سی اے اے واپس لیا جائے کیونکہ یہ ملک کے آئین پر حملہ ہے – مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرلئے جاتے اس وقت تک یہ احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے –

    دوسری جانب ریاست کرناٹک میں اپنے ایک خطاب میں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے سی اے اے کی مخالفت میں مظاہرے کرنے پر اپوزیشن جماعتوں پر شدید حملہ کیا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں در حقیقت پارلیمنٹ کے خلاف مظاہرے کررہی ہیں – اس درمیان وزیراعظم کے اس بیان کے جواب میں کانگریس نے بھی جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی یہ تحریک اور مظاہرے پارلیمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ملک کو بانٹنے والے آپ کے اقدامات کے خلاف ہیں اور ہم آپ کو ملک توڑنے نہیں دیں گے –

  • ایرانی گیس درجنوں ملکوں کی ضرورت پوری کررہی ہے، ایران کا دعویٰ‌

    ایرانی گیس درجنوں ملکوں کی ضرورت پوری کررہی ہے، ایران کا دعویٰ‌

    تہران :ایرانی گیس درجنوں ملکوں کی ضرورت پوری کررہی ہے،ایران کا دعویٰ‌، اطلاعات کےمطابق ایران کی نیشنل گیس کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملکوں کو روزانہ پچاس ملین میٹر مکعب گیس برآمد کی جاتی ہے

    ایران کی نیشنل گیس کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر حسن منتظر تربتی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ایران میں روزانہ نو سوملین میٹر مکعب گیس کی پیداوار کی گنجائش پائی جاتی ہے

    ایرانی حکام نے کہاکہ ایران کی گیس عراق، ترکی ، آرمینیا ، اور خود مختار جمہوریہ نخجوان کو برآمد کی جاتی ہے – انہوں نے گیس نیٹ ورک اور پائپ لائنوں کی توسیع کے پروجیکٹوں کے سلسلے میں ایران کے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجانے کا ذکرکرتےہوئے کہا کہ پابندیوں کا ایران کے گیس پروجیکٹوں کی توسیع پر کوئی اثر نہیں ہوا

    ایران کی گیس کی برآمدات روزانہ سترملین تک بھی ہوسکتی ہے ۔ایران کی نیشنل گیس کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ ایران کا پرائیویٹ سیکٹر بھی ترکمنستان سے گیس خریدکر دیگر ملکوں کو برآمد کررہا ہے

  • ایران پرامریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں‌، جرمنی

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں‌، جرمنی

    برلن :ایران پرامریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں‌،اطلاعات کےمطابق جرمنی کے سابق چانسلر اور نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائن پروجکٹ کی مینیجنگ کمیٹی کے سربراہ نے اس پروجکٹ کے خلاف امریکی پابندیوں پر سخت اعتراض کیا ہے۔

    معیشت بہترہونے لگی ، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح بڑھ گئی 

    جرمنی کے سابق چانسلر گرہارڈ شروڈر نے ایک انٹرویو میں نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائن پروجکٹ کے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے کہ جرمنی کس ملک سے تجارت کرے اور کس سے نہ کرے ۔

     

    ارکان اسمبلی اپنے اثاثے ظاہرکرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے، 563 ارکان کی فہرست…

    انھوں نے جرمن حکومت سے کہا کہ امریکا کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ بر لن پر اپنے فیصلے مسلط کرے ۔امریکی حکام کا دعوی ہے کہ روس اور جرمنی کے درمیان نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائن بچھانے کے پروجکٹ سے یورپ پوری طرح روسی گیس سے وابستہ ہوجائے گا۔

     

    نیند کی کمی یا زیادتی سےخطرناک بیماری لاحق ہوسکتی ہے، طبی ماہرین

    امریکا کا کہنا ہے کہ روس اس پروجکٹ کی تکمیل کے بعد اس سے یورپ پر دباؤ کے ایک حربے کے طور پر کام لے گا۔امریکا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پروجکٹ کو روکنے کے لئے ، اس میں شرکت کرنے والی کمپنیوں پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

     

    میں اپنا پیشہ نہیں چھوڑسکتا،فروغ نسیم نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیس دسمبر کو اس فوجی بجٹ پر دستخط کردیئے ہیں جس میں نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائن پروجکٹ کے خلاف پابندی کا التزام پایا جاتا ہے۔واشنگٹن کے اس فیصلے کے بعد امریکی اور جرمن حکام کے درمیان لفظی جنگ میں شدت آگئی ہے۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائن پروجکٹ جرمنی کی ضرورت ہے اور اس سے یورپ کی گیس کی ضرورت پوری ہوگی ۔

  • بھارتی پولیس مسلم دشمنی میں اندھی ہوگئی، 6 سال قبل وفات پانےوالےکے وارنٹ جاری کردیئے

    بھارتی پولیس مسلم دشمنی میں اندھی ہوگئی، 6 سال قبل وفات پانےوالےکے وارنٹ جاری کردیئے

    نئی دہلی :بھارتی پولیس مسلم دشمنی میں اندھی ہوگئی، 6 سال قبل وفات پانےوالےکے وارنٹ جاری کردیئے ، بھارت سے آمدہ اطلاعات کےمطابق یو پی پولس کے ذریعہ دو ایسے اشخاص کے خلاف بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے جن میں‌ایک 6 سال قبل وفات پاچکے ہیں ،

    ذرائع کے مطابق دوسرے جس شخٰص کے وارنٹ جاری کیئے ہیں‌ اس کی عمر 90 سال سے زائد ہے اور وہ ایک پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ مقامی افراد ریاستی پولس کے اس قدم سے حیران و ششدر ہیں۔

    اتر پردیش میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے پرتشدد مظاہروں پر پولس کی کارروائی لگاتار جاری ہے اور اب تک کئی لوگوں کے گھروں پر نوٹس بھیجی جا چکی ہے۔ اس درمیان کئی معاملوں میں یو پی پولس کی لاپروائی تو سامنے آ ہی رہی ہے،

    ذرائع کےمطابق اتر پردیش کے فیروز آباد پولس کا سامنے آیا ہے جس نے پولس محکمہ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ دراصل فیروز آباد پولس نے شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ سے ماحول خراب ہونے کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے 200 لوگوں کی شناخت کر انھیں نوٹس جاری کیا ہے۔ حیرت میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ پولس نے فیروز آباد کے ایک 6 سال قبل وفات پانے والے شخص کے خلاف بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق بنّے خان کا انتقال 6 سال قبل ہو چکا ہے اور فیروز آباد پولس نے ان کے نام سے نوٹس جاری کیا ہے جس کے بعد لوگ پولس محکمہ کا مذاق بنا رہے ہیں۔

    پولس کی جانب سے بنّے خان کے نام جاری نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ انھیں سٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اس نوٹس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ بنّے خان کو 10 لاکھ روپے کا مچلکہ دے کر ضمانت لینی ہے۔ اس نوٹس کو دیکھ کر بنّے خان کے اہل خانہ میں ہنگامہ کی صورت پیدا ہو گئی اور وہ حیران و پریشان ہو گئے۔

    قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 20 دسمبر کو شہریت قانون کے خلاف اتر پردیش میں ہو رہے مظاہروں کے دوران تشدد برپا ہو گیا تھا جس کے بعد ایسے 200 لوگوں کی شناخت کی گئی تھی جن سے فیروز آباد کے امن کو خطرہ محسوس کیا گیا۔ انہی 200 لوگوں میں بنّے خان کا نام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ایسے نام اس فہرست میں شامل ہیں جس نے لوگوں کو حیرانی میں ڈال رکھا ہے۔

    بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ فہرست میں شامل دو ایسے اشخاص کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کی عمر 90 سال سے زائد ہے۔ ایک شخص کا نام صوفی انصار حسین ہے اور ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ تقریباً 58 سال سے جامع مسجد میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    اس عمر میں ان کے ذریعہ کسی تشدد کی امید نہیں کی جا سکتی اور پولس کے ذریعہ ان کے نام نوٹس جاری کیے جانے پر لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح 93 سالہ فصاحت میر خان کا نام بھی اس فہرست میں دیکھ کر سبھی ششدر ہیں۔

    فصاحت خان کے بارے میں تو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ سماجی کارکن ہیں اور سابق صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبدالکلام سے بھی ان کی ملاقات ہو چکی ہے۔

    فصاحت خان کے بیٹے نے اپنے والد کے خلاف نوٹس جاری کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’سماجی کارکن کی حیثیت سے فصاحت میر خان کا نام پورے شہر میں مشہور ہے۔ میرے والد کو صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام سے راشٹرپتی بھون میں ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہے اور انھیں پولس نے جس طرح پابند کیا ہے وہ سمجھ سے پرے ہے۔‘‘

  • 1857 سے اب تک ہرمحاذ پرمسلمانوں نےقربانیاں دی ہیں اورکتنی قربانیاں دینی ہوں گی: پپو یادو

    1857 سے اب تک ہرمحاذ پرمسلمانوں نےقربانیاں دی ہیں اورکتنی قربانیاں دینی ہوں گی: پپو یادو

    نئی دہلی:1857 سے اب تک ہرمحاذ پرمسلمانوں نےقربانیاں دی ہیں اورکتنی قربانیاں دینی ہوں گی: پپو یادو،اطلاعات کےمطابق شہریت ترمیمی قانون، قومی آبادی رجسٹر اور این آر سی کے خلاف قومی دارالحکومت دہلی کے شاہین باغ میں خواتین نے بھرپوراحتجاجی مظاہرے کیے ہیں‌،

    ذرائع کے مطابق خواتین مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جن ادھیکار پارٹی کے صدر اور سابق رکن پارلیمان راجیش رنجن عرف پپو یادو نے کہا کہ ‘سنہ 1857 سے اب تک ہر محاذ پر مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں اور مسلمانوں کو مزید کتنی قربانیاں دینی ہوں گی’۔

    پپو یادو نے کہا کہ ملک کو جب جب ضرورت پڑی ہے مسلمانوں نے قربانی پیش کی ہے، انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ آخر کب تک مسلمانوں سے قربانی لی جائے گی؟انہوں نے مزید کہا کہ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی، این پی آر صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ بڑی تعداد میں ہندو بھی اس کی زد میں آئیں گے۔

    پپو یادو کے مطابق ‘ایس سی، ایس ٹی، بنجارہ سمیت ملک کے مختلس پسماندہ طبقات کے پاس کوئی دستاویز نہیں ہیں آخر وہ کہاں سے دستاویزات لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ قانون صرف مذہبی تقریق پر ہی مبنی نہیں بلکہ آئین مخالف بھی ہے اس لیے اس کی ہر سطح پر مخالفت کی جانی چاہیے اور ملک کا ہر طبقہ اس کی مخالفت بھی کر رہا ہے۔

    پپو یادو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘شاہین باغ کی خواتین نے مظاہروں کی تاریخ میں اپنا نام درج کروالیا ہے اور پورے ملک کی خواتین کو اس سے حوصلہ ملے گا کہ شاہین باغ کی خواتین نے آزادی کے حق نعرے لگائے۔ م ابق رکن سیدہ سیدین حمید وغیرہ شامل ہیں۔

  • مسلم مخالف قانون کےخلاف احتجاج کا 22 واں دن،محمدعلی جوہرمارگ پرآرٹسٹوں کی پینٹنگ

    مسلم مخالف قانون کےخلاف احتجاج کا 22 واں دن،محمدعلی جوہرمارگ پرآرٹسٹوں کی پینٹنگ

    نئی دہلی:مسلم مخالف قانون کےخلاف احتجاج کا 22 واں دن،مولانا محمد علی جوہر مارگ پر آرٹسٹوں نے پینٹنگ،بھارت سے آمدہ اطلاعات کےمابق شہریت ترمیمی ایکٹ، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے احتجاج 22 ویں‌دن داخل ہوگیا ہے،

    معیشت بہترہونے لگی ، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح بڑھ گئی 

    طلبہ نت نئے طریقوں سے اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ کل جہاں پورا ملک نئے سال کی آمد پر جشن منارہا تھا وہیں جامعہ کے شاہین انقلاب زندہ باد کے نعرے لگا کر ملک کے سیکولر تانے بانے کی برقراری کا عہد کررہے تھے ۔ آج جامعہ کے طلبہ نے فاشسٹ حکومت کی مخالفت میں سڑکوں پر تصویریں بناکر اپنا احتجاج درج کرایا۔

     

    ارکان اسمبلی اپنے اثاثے ظاہرکرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے، 563 ارکان کی فہرست…

    جامعہ کیمپس میں آرٹسٹ وفنکاراپنے فن اورہنرکے ذریعہ شہریت قانون کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں آرٹسٹوں نے اپنے فن کا نمونہ پیش کرتے ہوئے انوکھا احتجاج درج کرایا۔کئی فنکاروں نے شیطان کی تصویر بنائی ہے جس میں وہ دستور کودانتوں سےکتررہا ہے،توکچھ فنکاروں نے پتھرکی لکیرکو دکھانے کے لئے ایک پتھربنایاہے ،

     

     

    ٹرانسپورٹرزکامیاب ، جرمانوں میں اضافہ معطل توہڑتال بھی ختم

    جبکہ ساتھ ہی معماردستور بھیم راؤامبیڈکرکے ہاتھ میں ایک ہتھوڑہ بنایا گیاہے جس کے ذریعےوہ اس پتھر کی لکیر یعنی پتھرکوتوڑ رہے ہیں۔اسی طرح سے لوگوں کے احتجاج کو دکھانے کے لئے یہ پینٹنگز بنائی گئی ہیں ساتھ ہی این آر سی کولے کر چل رہے تنازعے میں کچھ اس طرح کی پینٹنگز بھی بنائی گئی ہیں جن میں وقت دستاویزات اور کاغذات کو کھارہا ہے۔

     

    عیاش مصری شوہر نے سوشل میڈیا پر’بیوی کے تبادلےکی گھٹیا پیشکش کردی

    پینٹنگ بنانے والے آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ وہ شہریت قانون کے خلاف اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ادھر طلبہ جامعہ نے اپنے احتجاج انوکھا بناتے ہوئے روڈ سائیڈ اسکول فار روولیوشن کے نام سے مہم شروع کی ہے یہ مہم اسکول نہ جانے والے بچوں کےلیے شروع کی گئی ہے خاص بات یہ ہے کہ یہ اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر موقع احتجاج پر چلایا جارہا ہے،

     

     

    کوئٹہ میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے بعد وادی کا منظر دل کش ہوگیا

    ذرائع کےمطابق اس انوکھے احتجاج میں‌ بچوں کو پڑھنا سکھایاجارہا ہے، یہ اپنے آپ میں ایک نیا تجربہ ہے اور آنے جانے والے احتجاجیوں کے لیے یہ موضوع بحث اور توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہیں دہلی پولس کی لائبریری میں کارروائی اور توڑ پھوڑ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری کے باہر طلبہ کی جانب سے مخالفت درج کرانے کےلیے ایک لائبریری چلائی جارہی ہے جسے روڈ فار روولیوشن کا نام دیاگیا ہے۔

  • ہائے !وہ میرا سپین —از…ثناء صدیق

    ہائے !وہ میرا سپین —از…ثناء صدیق

    سپین کو ایک لڑکی کی عزت کی خاطر فتح کرنے والے طارق بن زیاد جنہوں نے ساحل پر پہنچتے کشتیاں جلا دی ےتھیں ان کو کیا علم تھا کہ آٹھ سو سال کے بعد مسلمان ذلت سے سپین سے واپس لوٹیں گے ۔

    اگر ہم سپین کے عروج کا منظر دیکھیں تو اس کا آغاز آٹھ سو سال قبل جبل طارق پر جب طارق بن زیاد نے عیسائی بادشاہ راڈرک کو عبرتناک شکست دی موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد نے جلد ہی سپین کو فتح کر لیا اور عیسائی حکومت کا خاتمہ کر دیا

    اس وقت امویوں کی حکومت تھی دمشق ان کا پایہ تخت تھا تو سپین دمشق کی خلافت کے زیر نگین آ گیا امویوں کے زوال کے بعد خلافت بنو عباس مین منتقل ہو گئی تو اسلامی ریاست کا پایہ تخت بغداد بن گیا ، اندلس کا حکمران اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل بن گیا وقت گزرتا گیا حکومتیں بدلتی رہیں اندلس کے مسلمان آہستہ آہستہ مضبوط سے مضبوط ہوتے گئے ۔

    اندلس عالم اسلام کے لیے علم و ہنر کا مرکز بن گیا اس نے اپنے تعلیمی دور عروج میں الفارابی ، ابن رشد ، ابو القاسم الزہراوی اور ابن حزم جیسے علماء اور فضلاء پیدا کئے ۔

    پھر وقت پلٹا مسلمانوں کے عروج کو زوال آنے پھر قدرت نے یوسف بن تاشفین کی صورت میں اہل اندلس کو سنبھلنے کا بہترین موقع دیا مگر مسلمانوں کے اپنے کردار کی وجہ سے زوال ان کا مقدر بن گیا تھا اموی شہزادے کی بہترین ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہو گئی اور کئی ریاستیں وجود میں آنے لگیں۔

    سر قسطہ قشطالیہ الشبیلہ اور غرناطہ جیسے عظیم علاقے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہو گئے اراغون اور قسطلہ کی مضبوط عیسائی ریاستیں وجود میں آ گئیں اراغون کی مشہور حکمران ملکہ ازابیلہ تھی جو تاریخ میں ملکہ ازابیلہ کے نام سے مشہور ہوئی دوسری طرف قسطلہ کا شاہ فرماں فرنڈیڈ تھا جو ایک متعصب عیسائی تھا یہ دونوں حکمران انتہا پسند اور مسلمانوں کے دشمن تھے یہ دونوں سپین میں مسلمانوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے۔

    ان دونوں نے 1469 میں اپنی ریاستوں کو باہم ملا کر آپس میں شادی کر لی 1469 میں اندلس کے مسلمان غرناطہ تک محدود ہو کر رہ گئے تھے اور مسلمان یہیں سے اپنی بقاء کی لڑائی میں مصروف تھے غرناطہ کا حکمران ابو الحسن تھا جو ایک نڈر اور لائق حکمران تھا اندلس کے مسلمانوں کو ایک لمبے عرصے بعد ایسا قابل شخص نصیب ہوا تھا اس کا بھائی محمد بن سعد الزاغل مالقہ کے علاقے کا حکمران تھا

    جب اس نے محسوس کیا کہ عیسائی ان دونوں بھائیوں میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں تو اس نے غرناطہ آکر اپنے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں ابو الحسن طاقتور ہو گیا جب فرنڈیڈ نے ابو الحسن سے خراج مانگا تو اس نے تاریخی الفاظ کہے

    "غرناطہ کے تکسال میں عیسائیوں کو دینے کے لیے سکوں کی بجائے اب فولاد کی وہ تلوریں تیار ہونی ہیں جو ان کی گردنیں اتار سکیں”

    یہ جواب سن کر فرنڈیڈ مبہوت سا رہ گیا اس وقت اس کے زیر قبضہ علاقہ سو لاکھ مربع میل کے قریب تھا جبکہ غرناطہ کی ریاست سمٹ کر چار ہزار مربع میل رہ گئی تھی یہ مختصر سا رقبہ بھی عسائیوں کے لیے تکلیف کا باعث تھا

    وہ مسلمانوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے اور انہوں نے ابو الحسن سے فیصلہ کن جنگ کا اردہ کیا آخرکار غرناطہ کے سرحدی مقام پر ابو الحسن اور فرنڈیڈ کا ٹکراو ہوا اہل غرناطہ قوت اور تعداد کے اعتبار سے عیسائیوں سے کمزور تھے مسلمانوں نے اندلس کے دفاع کے لیے سر تک کی بازی لگا دی، طارق بن زیاد کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرنڈیڈ کو شکست فاش کر دیا ابھی ابو الحسن وہیں موجود تھا کہ اس کے ولی عہد ابو عبداللہ نے بغاوت کر دی اور غرناطہ کے تخت کا مالک بن بیٹھا

    یہ جہاد میں مشغول مسلمانوں کے لیے بری خبر تھی اہل اندلس ابو الحسن کی قیادت میں سپین کے لیے نشاط ثانیہ کا خواب دیکھ رہے تھے ادھر ابو الحسن کو مجبور مالقہ میں پناہ لینا پڑی مسلمان اس نازک وقت میں غرناطہ کا دفاع کر رہے تھے اور ابو عبداللہ کی اقتدار کی ہوس نے غرناطہ کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا

    دوسری طرف عیسائیوں کو مسلمانوں کی اس حالت میں مزید حوصلہ مل گیا ابو عبداللہ نے بےغیرتی کی انتہا کرتے ہو ابو الحسن پر پشت سے حملہ کر دیا ابو الحسن ایک تجربہ کار حکمران تھا اس نے ایک طرف عیسائیوں سے مقابلہ کیا دوسری طرف ابو عبداللہ کو غرناطہ جانے پر مجبور کر دیا بیٹے کی بغاوت نے ابوالحسن کو بیمار کر دیا اس پر زبردست فالج کا حملہ ہو گیا اس نے غرناطہ کی پشت پناہی چھوڑی اور اپنے بھائی الزاغل کو حکمران بنا کر اسے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا

    الزاغل مسلمانوں کا نجات دہندہ بن جاتا مگر ابو عبداللہ پھر ایک مکروہ کردار لے کر سامنے آتا ہے فرنڈیڈ نے ابو عبداللہ کی خصلت پہچان لی وہ سمجھ گیا ابو عبداللہ مسلمانوں سے زیادہ اپنے اقتدار کا خواہش مند ہے اب فرنڈیڈ نے ابو عبداللہ کو الزاغل اور ابو الحسن کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور اسے یقین دلایا کہ وہ اسے غرناطہ کا وارث تسلیم کرتا ہے اور غرناطہ کا تخت حاصل کرنے کے لیے اس کی مدد کرے گا

    ادھر جب مالقہ کے مسلمانوں نے یہ صورت حال دیکھی تو ابو عبداللہ کے خلاف بغاوت شروع کر دی اس پر فرنڈیڈ نے مالقہ کا محاصرہ کر لیا اہل مالقہ کی حفاظت کے لیے الزاغل مالقہ کی طرف روانہ ہو گیا غرناطہ خالی دیکھ ابو عبداللہ کو موقع مل گیا اور اس نے غرناطہ پر قبضہ کر لیا یہاں سے اہل غرناطہ درد ناک باب شروع ہوتا ہے

    جس کا انجام اہل اندلس کی مکمل بربادی پر ختم ہواآٹھ سو سال پہلے وہ روشنی جو مسلمان لے کر پورے سپین میں پھیل گئے تھے وہ مسلمان راستہ بھول گئے افراد جب راستے بھول جائیں تو گھرانے برباد ہو جاتے ہیں مگر جب قومیں راستہ بھول جائیں تو سلطنتیں تباہ ہو جاتی ہیں غرناطہ پر ابو عبداللہ کا قبضہ مسلمانوں کی تباہی ثابت ہوایہ دیکھتے ہوئے مالقہ والوں نے فرنڈیڈ سے صلح کر لی اور لوشہ اور مالقہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا

    ابو عبداللہ کو بیٹا کہنے والا مسلمانوں کی خیر خواہی کا دم بھرنے والا اپنے اصلی روپ میں آ گیا اور اس نے ابو عبداللہ سے کہا کہ وہ غرناطہ فرنڈیڈ کے حوالے کر دے ابو عبداللہ کو اپنی غداری کا انجام نظر آنے لگا اور اس نے اہل غرناطہ سے مشورہ کیا اہل غرناطہ موسی اور طارق کے فرزند تھے وہ ڈٹ کر لڑے اور فرنڈیڈ کو شکست فاش کر دیا اب فرنڈیڈ اور ازابیلا نے فیصلہ کن معرکہ کی تیاریاں شروع کر دیں1492کا سال آگیا اور اسی سال موسم گرما میں عیسائیوں کی افواج نے غرناطہ کا محاصرہ کر لیا

    غرناطہ کے شمال میں پہاڑی سلسلہ تھے اور محاصرے کے دوران اہل غرناطہ کو مدد ملتی رہی مگر سردیاں شروع ہوتے ہی پہاڑوں پر برف باری شروع ہو گئی اور غرناطہ کو کمک ملنا بند ہو گئی شہر میں اشیاء خورد نوش کی قلت ہو گئی اہل غرناطہ اب بھی عیسائیوں پر فیصلہ کن حملہ کرنے پر آمادہ تھے غرناطہ کا سپہ سالار ’موسیٰ بن ابی غسان‘ افسانوی شہرت کا حامل کردار تھا

    وہ آخری سپاہی تک لڑنا چاہتا تھامگر ابو عبداللہ ذہنی طور پر شکست قبول کرچکا تھا وہ اور اس کے اکثر امرا فرنڈیڈ سے صلح کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اسی طرح وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرسکیں گےامراء سلطنت سازش میں مصروف ہو گئے پس پردہ عیسائیوں سے رابطے قائم کرنے لگے ان سازشی عناصر کا سرغنہ وزیر اعظم غرناطہ ’ابوالقاسم‘ تھا فرنڈیڈنے غرناطہ پر قبضے کی صورت میں اس کوغرناطہ کا اہم عہدہ دینے کا وعدہ کر لیا

    ابو عبداللہ کی ذہنی شکست میں ابو القاسم کا مرکزی کردار تھا بلاآخر ابو عبداللہ نے ابو القاسم کو خفیہ سفارتکاری کی اجازت دے دی صلح کی شرائط طے کرلی گئیں بظاہر ان شرائط میں مسلمانوں کے لیے ہر قسم کا تحفظ یقینی بتایا گیا تھا مگر بعد میں عیسائیوں نے اس پر کتنا عمل کیا وہ ایک حقیقت ہے معاہدے کے تحت ابو عبداللہ کو البشرات کے علاقے میں ایک جاگیر دے دی گئی

    آخر کار وہ تاریخی دن آگیا جسے آج تک تاریخ اسلام کا طالب علم سیاہ دن سے تعبیر کرتے ہیں 2جنوری 1492 کو غرناطہ کی چابیاں ابو عبداللہ نے اپنے ہاتھوں سے فرنڈیڈ اور ازابیلا کو پیش کر دیں پادری اعظم نے قصر الحمراء پر لہراتا صدیوں پرانا پرچم اسلامی اتار کر صلیب کو نصب کروا دیا اس طرح سقوط غرناطہ کے ساتھ ساتھ اندلس میں مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ حکمرانی کا سورج بھی غروب ہو گیا

    سو سال کے اندراندرعیسائیوں کے ظلم و ستم کے باعث لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے مراکش اور شمالی افریقہ میں آباد ہو گئے ان کے قبائل آج بھی وہاں مہاجر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور بیشمار اہل ایمان عیسائی ظلم و ستم کی وجہ سے عیسائی بن گئے یوں ایک غدار اور بزدل حکمران ابوعبداللہ کی وجہ سے اہل اندلس کو یہ دن دیکھنا پڑا

    ثناء صدیق

  • کوئٹہ میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے بعد وادی کا منظر دل کش ہوگیا

    کوئٹہ میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے بعد وادی کا منظر دل کش ہوگیا

    کوئٹہ :ملک بھر میں سردی کی شدید لہر جاری ہے اور بیشتر علاقے سرد ہواؤں کی لپیٹ میں ہیں جب کہ کوئٹہ سمیت شمالی علاقہ جات اور پہاڑی علاقوں میں برفباری سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

    کوئٹہ میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے بعد وادی کا منظر دل کش ہوگیا اور برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لیے سیاحوں نے کوئٹہ کا رخ کرلیا ہے، وادی میں صبح کے وقت کم سےکم درجہ حرارت منفی ایک ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔

    اُدھر پشین کےعلاقے خانوزئی میں برفباری کے بعد ہنگامی حالات سے نمٹنےکے لیے انتظامیہ الرٹ ہوگئی ہے اورخانوزئی اور ملحقہ علاقوں میں سڑکوں سے برف ہٹانے کے لیے مشینری پہنچادی گئی ہے۔

  • عیاش مصری شوہر نے سوشل میڈیا پر’بیوی کے تبادلےکی گھٹیا پیشکش کردی

    عیاش مصری شوہر نے سوشل میڈیا پر’بیوی کے تبادلےکی گھٹیا پیشکش کردی

    قاہرہ :عیاش مصری شوہر نے سوشل میڈیا پر’بیوی کے تبادلےکی گھٹیا پیشکش کردی،تفصیلات کےمطابق مصری شوہر نے سوشل میڈیا پر بیوی کے ساتھ ایسی حرکت کی جس کو سن کر اہلیہ زار و قطار رونے لگی۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈ یا پر ’بیویوں کے تبادلے والے پیج پرایک مصری خاتون کی برہنہ تصاویر شئیر کرنےپر خاتون اس وقت زار و قطار رونے لگی جب پولیس خاتون کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچی جب کے خاتون قصور وار بھی نہیں تھی۔

    یاد رہے کہ ابتدا میں مصری پبلک پراسیکیوشن نے مصری خاتون پر اخلاق سوزحرکت پر فرد جرم عائد کردی تھی تاہم بعد میں کارروئی کی تو اصلی مجرم کی شناخت مکمل ہوئی۔

    خاتون کے رونے کی کیفیت کے حوالے سے لوگوں نے بتایا کہ مصر سے تعلق رکھنے والی خاتون خود کے ساتھ ہونے والے اس سانحہ پر زاروقطار رونے لگی تھی اور اس پر ہسٹریائی کیفیت طاری ہوگئی تھی، جس پر خاتون سے لوگوں نے دکھ اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

    حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تصاویر کسی اور نے نہیں بلکہ مصری خاتون کے خاوند نے خود ہی پیج پرشئیر کی تھی۔مصری خاتون نے حواس پر قابو پانے کے بعد اس معاملے میں خود کو بے قصور کہا اور بتایا کہ وہ نہیں جانتی کے یہ تمام تصاویریں سوشل میڈیا پر کب اور کیسے شئیر ہوئی۔

    سوشل میڈ یا پر ’بیویوں کے تبادلے‘ والے پیج پر مصری خاتون کی برہنہ تصاویر کے معاملے کی تفتیش ہوئی تو معلوم ہوا کے یہ حرکت کرنے والا کوئی اور شخص نہیں بلکہ مصری خاتون کا خاوند ہی ہے۔

    واضح رہے خاوند نے اپنی بیوی کی لاعلمی میں بے لباس حالت میں تصویر اُتاری تھی اور سوشل میڈیا پیج پر شئیر کر دی تھی لیکن اب اس کے خاوند کو گرفتار کرلیا گیا ہے اوراس کے خلاف کارروئی بھی کی جا رہی ہے۔