Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان کھیل کےمیدان میں بھی ترقی کرنےلگا،کرکٹ کےبعداب ہاکی کا سپرلیگ ٹورنا منٹ ہوگا،آصف باوجوہ

    پاکستان کھیل کےمیدان میں بھی ترقی کرنےلگا،کرکٹ کےبعداب ہاکی کا سپرلیگ ٹورنا منٹ ہوگا،آصف باوجوہ

    کراچی :کرکٹ کے بعد اب ہاکی کا سپرلیگ ٹورنا منٹ ،پاکستان کھیل کے میدان میں بھی ترقی کرنے لگا،اطلاعات کےمطابق سیکرٹری پي ايچ ايف ، آصف باجوہ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن اس سال سپر ہاکی لیگ کرانے کا اعلان کرديا جبکہ اس سال ہاکی ٹیم کو نئے پواہنٹس سسٹم کے تحت چاليس سے زائد انٹرنیشنل میچزز بھي کھلائے جاہيں گے۔

    نيشنل ہاکي اسٹيڈيم ميں چيف سليکٹر منظور جونئير کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ موجودہ سال ہاکی کی بہتری کا سال ہے، رینکنگ سسٹم بدل گیا، پوائنٹس میچزز کی بنیاد پر ملتے ہیں کوشش ہے اس سال چالیس سے زائد میچزز کھیلیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ہاکی ٹیم سترہ نمبر پر نہیں بلکہ اوپر آئے گی۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن اپنی سرگرمیاں بڑھا رہی یے۔ ڈومیسٹک لیول پر جونیئر اور سینئرز ہاکی ٹورنامنٹس کرانے کا پلان کیا گیا ہے۔ پاکستان ہاکی لیگ بھی اس سال ہر صورت ہوگی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن بہت جلد مکمل پلان اور شیڈول سے آگاہ کرے گی۔ ہم نے ہاکی ایونٹس کروائے اور آنے والے دنوں میں ویمن کے بھی ہاکی ایونٹس کروانے جارہےہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نیک نیتی سے کام کررہی ہے۔

  • کرکٹ میں بہتری کےلئےسکول اورکلب کی سطح پرزیادہ مقابلےہونے چاہئیں،عمراکمل کاعمدہ ترین مشورہ

    کرکٹ میں بہتری کےلئےسکول اورکلب کی سطح پرزیادہ مقابلےہونے چاہئیں،عمراکمل کاعمدہ ترین مشورہ

    لاہور:پاکستان میں کرکٹ کی بہتری کے لئے سکول اور کلب کی سطح پر زیادہ مقابلے ہونے چاہئیں۔ جتنا زیادہ نچلے درجے پراس کھیل کوفروغ ملے گا اس قدر نئے ستارے ابھرکرسامنے آئیں‌گے ، سٹار بلے باز کاکہناہے کارکردگی کی بنیاد پر قومی ٹیممیں واپس آؤں گا۔

    باغی ٹی وی کےمطابق ان خیالات کا اظہار پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپراور سٹاربلے باز عمر اکمل نے لاہورمیں ایک میچ میں شاندار کامیابی کے بعد کیا ،قائد اعظم ٹرافی فائنل میں شاندار ڈبل سنچری سکور کرکے سینٹرل پنجاب کو کامیابی دلانے والے عمر اکمل لاہور پہنچتے ہی کلب کرکٹ کھیلنے کے لئے میدان میں پہنچ گئے ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سٹار بلے باز نے لاہور چیلنج کپ میں مغل پورہ سپورٹس کلب کے خلاف میچ میں اپنی کلب کی ٹیم کی قیادت کی ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی بہتری کے لئے سکول اور کلب کرکٹ پر زیادہ توجہ دینے کي ضرورت ہے

    عمر اکمل نے پی ایس ایل کے تمام میچز کے پاکستان میں انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور پی سی بی حکام کو مبارک باد دی اور کہا کہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی بہت بڑی کامیابی ہے ۔

    عمر اکمل نے اپنی بہترین کارکردگی کا کریڈٹ سینٹرل پنجاب کے ہیڈ کوچ اعجاز جونئیر کو دیتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کارکردگی کی بنیاد پر جلد ٹیم میں واپس آؤں۔

  • جونئیرايشياء کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے ليئے55کھلاڑیوں کا اعلان کرديا گيا۔

    جونئیرايشياء کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے ليئے55کھلاڑیوں کا اعلان کرديا گيا۔

    لاہور: جونئیرايشياء کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے ليئے55کھلاڑیوں کا اعلان کرديا گيا۔اطلاعات کےمطابق ايشاء کپ ہاکی ٹورنامنٹ چار سے چودہ جون تک بنگلہ ديش ميں کھيلا جاے گا ٹورنامنٹ کی تياری کی کے ليے دو ہفتے کا ٹریننگ کمپ 12 جنوری سے نيشنل ہاکی اسٹيڈيم لاہورميں شروع ہوگا ۔

    پي ايچ ايف نے ايشياء کپ کے ليے جونئير ہاکی ٹيم کے کھلاڑيوں اور منجمينٹ کا اعلان بھی کرديا ہے دانش کليم کو ہيڈ کوچ محمد عمران ،مدثر علی خان اور رانا ظہیر کو معاون کوچ مقرر کيا گيا ہے جبکہ عابد امين فزيکل ٹرئينر ہوں گے۔

    تربيتی کيمپ ميں طلب کيے جانے والے کھلاڑيوں ميں چھ گول کیپرز وقار یونس۔ واپڈا عبد اللہ اشتیاق ، عبدالرحمن، علی رضا ،احمد ،شیخ عبد اللہ ،بارہ فل بیکس ميں ایم یاسر، وقاص بٹ، زوہیب سرور ، سلیمان بٹ، ارباز ، بلال رضا ، سميع اللہ خان ، سفیان ، ریحان بٹ ، حارث نصیر ،عثمان بشیر۔ ، محمدعثمان ، بارہ ہاف بیکس ميں دانش شاہ۔ مہران احمد ، مہران رسول ،عثمان ، عقیل احمد شامل کیے گئے ہیں

    ذرائع کے مطابق دیگر کھلاڑیوں میں عبدالباسط ، معين شکیل، رضوان علی ،غضنفر علی ، عطا اللہ ، آصف حنیف ، عمربلال اور پچيس فارورڈز ميں رومان خان ، رانا واحید ، حماد انجم ، وہاب ، علی حمزہ، حنان شاہد۔ عامر سہیل، بشارت علی، ارشد لیاقت ، افراز ، وقار علی ، شعیب خان ،محسن ، شہباز ،رانا وليد،احسان الٰہی،زین اعجاز ، علی عزیز ،حسن سلام ،حماد ایاز ،ارباز ایاز ،عدیل لطیف ،بلاول ،مرتضیٰ یعقوب اور فہد شامل ہيں۔

  • پنجاب بھر کی طرح گجرات میں بھی پیہ جام ہڑتال برقرار۔۔۔۔

    پنجاب بھر کی طرح گجرات میں بھی پیہ جام ہڑتال برقرار۔۔۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)گجرات لاری اڈہ میں ٹریفک کی طرف سے جرمانوں کے حلاف ٹرانسپورٹ کی پیہہ جام ہڑتال دو جنوری کی نے مسافر عوام کا سفر کرنا ایک عذاب بن گیا ہے یہ لاری اڈہ میں گاڑیاں تو موجود ہے مگر اس پر بیٹھا نے والا کو ہی نہیں ہے اس ہڑتال نے لاری اڈہ میں سارا دن مسافر سفر کرنے کے لیے انتظار ہی کرتے رہیں مگر گاڑیوں میں بیٹھنے والا کوئی نہیں تھا اس یہ 2020کا نیا سال موجودہ حکومت کی ناکامی اور بے مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی مگر دن بدن مہنگائی آئے روز ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے مگر حکومت کو غریب عوام پر بلکل ترس نہیں آرہا ہے یہ نیا سال عوام کے لیے شروع ہوتے ہی مہنگا پڑھ گیا ہے ہر چیز پر ٹیکس نے غریب عوام کا جینا محال کر دیا ہے

  • بھٹوکی نگری میں‌ کتےکےکاٹنےسےنئےسال میں جان چلی گئی

    بھٹوکی نگری میں‌ کتےکےکاٹنےسےنئےسال میں جان چلی گئی

    کراچی : بھٹوکی نگری میں‌ کتےکےکاٹنےسےنئےسال میں پہلی ہلاکت ،اطلاعات کےمطابق پاگل کتےکےکاٹنےاوراینٹی ریبیزویکسین نہ ملنےکےسبب شکارپورکا 20 سالہ نوجوان کراچی کے جناح اسپتال میں آج دم توڑ گیا۔

    جناح اسپتال کراچی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق گزشتہ روز شکارپور سے بیس سالہ نوجوان شاہد اقبال کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا جس کے معائنے کے بعد انکشاف ہوا کہ مریض مہلک ترین بیماری ریبیز کا شکار ہو چکا تھا۔ڈاکٹرسیمی جمالی کے مطابق شاہد اقبال میں ہائیڈرو فوبیا یعنی پانی سے ڈرنے اور شدید بےچینی کی علامات پائی گئیں۔

    جناح اسپتال کی ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کےمطابق شاہداقبال کو گزشتہ روز شکار پور سے جناح اسپتال لایا گیا تھا اور جناح اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں مریض کی اذیت کم کرنے کے لئے اسے سکون آور ادویات دی جارہی تھی۔تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا ۔واضح رہےکہ رواں سال2020 میں سندھ میں ریبیزکے باعث ایک جبکہ گزشتہ سال کتے کے کاٹنے کے باعث 25 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • پاکستان نہیں دنیا بھر میں مہنگائی ،گوگل کےورکرزکاکم اجرت ملنےپراحتجاج

    پاکستان نہیں دنیا بھر میں مہنگائی ،گوگل کےورکرزکاکم اجرت ملنےپراحتجاج

    نیویارک:پاکستان نہیں دنیا بھر میں مہنگائی ،گوگل کےورکرزکاکم اجرت ملنےپراحتجاج،اطلاعات کےمطابق گوگل کی جانب سےیونین سازی اورایسےاقدامات کوروکنےکوششوں کےباوجودسان فرانسسکومیں ملازمین کوکھانافراہم کرنےوالےتقریبا 2 ہزارسےزائدکیفےٹیریاملازمین زیادہ اجرت اورکم معاوضے دیے جانےپراپنی ایک الگ یونین بنا لی ہے اس معاملے کو لے کرآگے بڑھے گی

    ملازمین نےدعویٰ کیاہےکہ انہیں زیادہ کام اورکم معاوضہ دیاجاتاہے۔ان ملازمین کا یہ بھی کہنا ہےکہ مہنگائی بڑھ گئی ہے ہرچیز پہنچ سے دورہوگئی ہے جبکہ ادارہ تنخواہیں نہیں بڑھا رہا، ادھر احتجاجی ملازمین میں شیف ،ویٹرزاوورسپورٹنگ اسٹاف شامل ہےجوگوگل کےہیڈکوارٹرسمیت تمام ملازمین کو تینوں وقت کاکھانا فراہم کرتےہیں ۔

    ملازمین کاکہناہےکہ ہم تنگ آچکےہیں اورتبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ دنیاکی سب سےامیر کمپنیوں میں سے ایک پرہم کام کررہےہیں اورافسوس کہ ہم سےزیادہ کام لیاجاتاہےلیکن تنخواہ کم دی جارہی ہے۔ان کامزیدکہناتھا کہ انتظامیہ کی جانب سےعدم احترام ہمارے زخموں میں مزیدنمک چھڑک رہاہے۔

    گوگل، کمپاس گروپ نامی کمپنی کےذریعےمزدوروں سےمعاہدہ کرتاہے۔ اس کےتحت کمپنی کےتمام ملازمین کو یہ فیصلہ کرنےکاحق ہے کہ وہ مزدورتنظیم کی نمائندگی کرےیانہیں۔گوگل کےترجمان کاکہناہےکہ گوگل مستقبل میں بھی کمپاس نامی کمپنی کےساتھ کام کرتارہےگا۔

    کمپنی ترجمان کامزیدکہناتھاکہ ہم بہت سےشراکت داروں کےساتھ کام کرتےہیں،جن میں کچھ مزدوروں کی یونین ہوتی ہیں اور کچھ میں نہیں۔گوگل نےگزشتہ ماہ کمپنی میں مزدوروں کےحقوق کےبارےمیں براؤزرپاپ اپ بھیجنےپرایک اورکیتھرین نامی خاتون ملازم کوبرخاست کردیاتھا۔

  • لیبیا: جنرل خلیفہ حفتر کی افواج کی پیش قدمی جاری

    لیبیا: جنرل خلیفہ حفتر کی افواج کی پیش قدمی جاری

    لیبیا: جنرل خلیفہ حفتر کی افواج کی پیش قدمی جاری
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق لیبیا میں سرکاری فوج وفاق کی مدد کےلیے جنگجو گروپوں کو پسپا کرنے کا سفرجاری رکھے ہوئے ہے. جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں ابو سلیم کے علاقے کی جانب پیش قدمی کی۔
    ذرائع کے مطابق لیبیا کی فوج کی فضائیہ نے طرابلس کے جنوب میں ہوائی اڈے کے راستے پر وفاق کی حکومت کے ٹھکانوں پر بم باری کی۔
    اس سے قبل زمینی ذرائع نے بتایا تھا کہ طرابلس کے جنوب میں الہضبہ کے علاقے میں ایک بار پھر شدید جھڑپیں ہوئیں۔

    واضح رہے کہ لیبیا میں خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے طرابلس ہوائی اڈے کے راستے اور دارالحکومت میں النقلیہ کے تزویراتی کیمپ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق لیبیا کی قومی فوج کے سینئر عہدے دار میجر جنرل خالد المحجوب نے بتایا کہ ان کی فورسز دارالحکومت طرابلس کے قلب سے 4 کلو میٹر سے بھی کم مسافت پر ہے۔ فوج نے کئی اطراف سے شہر کا محاصرہ کر لیا ہے۔ اس دوران وفاق کی حکومتی ملیشیا کے متعدد ارکان کو ہلاک کر دیا گیا۔
    لیبیا میں 2011ء میں عرب سپرنگ کے بعد لیبیا کے حالات مسلسل خانہ جنگی کا شکار ہیں،

  • دادو کے مزدود کا بیٹا، سترہ سالہ اسپنر عامر علی عزم و ہمت کی مثال ، جنوبی پنجاب کے لوگ انتہائی خوش

    دادو کے مزدود کا بیٹا، سترہ سالہ اسپنر عامر علی عزم و ہمت کی مثال ، جنوبی پنجاب کے لوگ انتہائی خوش

    لاہور:دادو سے تعلق رکھنے والے اسپنر عامرعلی آئی سی سی انڈر 19کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔آئندہ سال 17 جنوری سے جنوبی افریقہ میں شروع ہونے والے ایونٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا عزم رکھنے والےنوجوان کرکٹر کے کیرئیر کا سفر آسان نہیں تھا۔ سہولیات کے فقدان کے باوجود گرین شرٹ زیب تن کرنے کا خواب اس کٹھن سفر میں17سالہ کرکٹر کے لیے مشعل راہ بنا رہا۔

    2015 میں پی سی بی پیپسی انڈر16دو روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ سے اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغازکرنے والے اسپنر عامر علی نے پہلے ہی ایونٹ میں 3 میچوں میں 19وکٹیں حاصل کرکے حریف کھلاڑیوں پر اپنی دھاک بٹھادی۔ دادو کے ایک مزدود کے بیٹے عامر علی نے برادرز کرکٹ کلب سے اپنے شوق کا آغاز کیا۔شہر میں گراؤنڈز کی کمی کے باعث عامر علی کو شوق کی تکمیل کے لیے گردونواح میں جا کرکرکٹ کھیلنا پڑتی تھی۔

    گھریلو حالات کے باعث اہلِ خانہ عامر علی کو بھائی کے ساتھ درزی کا کام سیکھنے کے لیے گھر سے بھیجتے تو وہ دوستوں کے ہمراہ کرکٹ کھیلنے کے لیے میدان کا رخ کرلیتے تھے۔ نوجوان اسپنر عامر علی کاکہنا ہےکہ نامساعد حالات کے باعث والد مزدوری اور بھائی درزی کا کام کرتے ہیں مگر والد نے جلد ہی ان کی کھیل سے لگن کو بھانپتے ہوئے انہیں مکمل توجہ کرکٹ پر دینی کی ہدایت کردی تھی۔

    عامر علی نے پی سی بی پیپسی انڈر 16دو روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ2016 کے 4میچوں میں 19 وکٹیں حاصل کیں۔ 17سالہ اسپنر نےرواں سال قومی انڈر 19 تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے 4 میچوں میں 12.86کی اوسط سے 28 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ ایونٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلرز میں تیسرے نمبر پر تھے۔

    حالیہ سیزن میں قومی انڈر 19 ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے 4میچوں میں 7وکٹیں حاصل کرنے والے عامر علی اس سے قبل دورہ جنوبی افریقہ میں قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلر قرار پائے تھے۔ انہوں نے سیریز میں شامل 7میچوں میں 13وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ 2019میں عامر علی نے3میچوں میں 4وکٹیں حاصل کیں۔

    سترہ سالہ اسپنر عامر علی کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہےجہاں کھیل کی سہولیات محدود ہیں تاہم انہوں نے حالات سے ہار ماننے کی بجائے ہمیشہ مشکلات سے لڑنا سیکھا ہے۔ انہوں نےکہا کہ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے مگر ان کی خواہش دادو کا پہلاکرکٹر بن کر پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنا ہے۔

    عامر علی نے کہا کہ ان کے آئیڈیل کرکٹر سری لنکا کے سابق اسپنر رنگنا ہیراتھ ہیں اور انہوں نے اسپن باؤلنگ کا یہ ہنر بین الاقوامی میچوں مین ان کی ویڈیوز دیکھ کر سیکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئی سی سی انڈر 19 ورلڈکپ، قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کی ایک سیڑھی ہے اور وہ اس ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔نوجوان اسپنر نے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی سے قومی انڈر 19کرکٹ ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    اسکواڈ(یکم ستمبر 2000 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جاسکتا تھا):

    اوپنرز: عبدالواحد بنگلزئی (کوئٹہ)، حیدر علی (راولپنڈی) اور محمد شہزاد (ملتان)۔

    مڈل آرڈرز: محمد حارث (پشاور)،محمد حریرہ (سیالکوٹ) اور محمد عرفان خان (لاہور)۔

    وکٹ کیپر: روحیل نذیر(کپتان)۔

    آلراؤنڈرز: عباس آفریدی( پشاور)، فہد منیر (لاہور)، قاسم اکرم (لاہور)۔

    اسپنرز: عامر علی (لاڑکانہ) اور آرش علی خان (کراچی)۔

    فاسٹ باؤلرز: عامر خان (پشاور)، محمد وسیم جونیئر (شمالی وزیرستان) اور طاہر حسین (ملتان)۔

    ٹیم منیجمنٹ:

    اعجاز احمد ( ہیڈ کوچ کم منیجر)، راؤ افتخار انجم (باؤلنگ کوچ)، عبدالمجید(اسسٹنٹ کوچ)، حافظ نعیم الرسول (فزیو تھراپسٹ)، صبور احمد (ٹرینر) ، عثمان ہاشمی( اینالسٹ) ،عماد حمید (میڈیا منیجر) اورکرنل (ر)عثمان رفعت انصاری( سیکورٹی منیجر) ۔

    شیڈول:

    19جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ اسکاٹ لینڈ
    22جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ زمباوے
    24جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش
    9فروری 2020: فائنل

  • کیا بھارت جنگ کی تیاری کررہا ہے ؟پاکستانی سرحد کے ساتھ  88 نئے ٹرانس میٹرزکی تنصیب،خدشات بڑھ گئے

    کیا بھارت جنگ کی تیاری کررہا ہے ؟پاکستانی سرحد کے ساتھ 88 نئے ٹرانس میٹرزکی تنصیب،خدشات بڑھ گئے

    نئی دہلی :کیا بھارت جنگ کی تیاری کررہا ہے ؟پاکستانی سرحد کے ساتھ 88 نئے ٹرانس میٹرز کی تنصیب،اخدشات بڑھ گئے،اطلاعات کےمطابق بھارت پاکستانی سرحد کے ساتھ اسٹراٹیجک اہمیت کی حامل لوکیشنز پر88 نئے ٹرانس میٹرز لگانے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے۔

    دہلی، بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دبانے کے لئے آل انڈیا ریڈیو کے انفراسٹراکچر کو تیزی سے بڑھاتا اور ترقی دیتا جارہا ہے۔ جس کا اندازہ ان اعدادوشمار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 2017-18 میں آل انڈیا ریڈیو نے ملک میں 52 نئے ٹرانس میٹرز لگائے۔

    2016-17 کے دوران 49 نئے اسٹیشنز قائم کئے۔2018-19میں مزید 11سٹیشنز کا اضافہ ہوا۔ جبکہ وہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ نئے اور جدید طاقتور ٹرانس میٹرز کی تنصیب بھی کر رہا ہے۔27 مارچ 2012 کوڈھاکہ کے بنگا بندھو انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں دنیا بھر سے ان شخصیات، ممالک اور اداروں کے نمائندوں کو اکٹھا کیا گیاتھا۔ جنہوں نے پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تقریب میں آل انڈیا ریڈیو کو پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے شراکت دار ہونے کے اعتراف میں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے سرکاری ایوارڈ دیا گیا۔

    اس وقت پاکستان سے ملحقہ بھارت کی تین ریاستوں پنجاب، راجستھان، گجرات اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں آل انڈیا ریڈیو کے 83 اسٹیشنز اور 105 ٹرانس میٹرز کام کر رہے ہیں۔یہ تعداد آل انڈیا ریڈیو کے تمام اسٹیشنز کا 17.3 اور تمام ٹرانس میٹرز کا 15.4 فیصد ہے۔ سب سے توجہ طلب پہلو یہ ہے بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دبانے ، آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر پاکستانی علاقوں میں اپنا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنے سرکاری ریڈیو کے نیٹ ورک میں اضافہ اور اسے مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔

    اس وقت مقبوضہ علاقے میں آل انڈیا ریڈیو کے 27 اسٹیشنز اور 57 ٹرانس میٹرز کام کر رہے ہیں۔ بھارت نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے مقبوضہ جموں میں جدید DRM ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانس میٹرنصب کیا ہے جبکہ سری نگر میں بھی 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو کاٹرانس میٹرموجود ہے ۔ اسی طرح کارگل میں 200 کلوواٹ پاور کا میڈیم ویو ٹرانس میٹرکام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ 10 کلو واٹ کے6 ٹرانس میٹرز بھی سرگرم عمل ہیں۔جبکہ مقبوضہ جموں کشمیر میں مختلف مقامات پر نئے ایف ایم ٹرانس میٹرز کی تنصیب کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ۔

    پتنی ٹاپ کے مقام پر 10 کلوواٹ کا ایف ایم ٹرانس میٹرنصب کیا گیا۔ اسکے علاوہ نوشہرہ کے مقام پر 10 کلوواٹ کے نئے ایف ایم ٹرانس میٹرکی بھی تنصیب کی گئی ۔ اودھم پورکے مقام پر بھی 10 کلوواٹ کا نیاایف ایم ٹرانس میٹرلگایا گیا ہے جو 21جنوری سے کام کررہا ہے۔ اس وقت بھارتی پنجاب میں آل انڈیا ریڈیو کے 18 اسٹیشنز اور11 ٹرانسمیٹرزموجود ہیں۔ جن میں میڈیم ویو کے 2 اورایف ایم کے9 ٹرانس میٹرز ہیں۔ پنجاب میںمیڈیم ویوز کے سب سے طاقت ور ٹرانس میٹرز جالندھر میں نصب ہیں۔ جہاں جدید DRM ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا اور میڈیم ویو 200 کلوواٹ کا ٹرانسمیٹرلگایا گیا ہے۔ راجھستان میں 25 اسٹیشنز اور میڈیم ویو ز کے 8 ،شارٹ ویو کا ایک اور ایف ایم کے 23 ٹرانس میٹرز یعنی مجموعی طور پر 32 ٹرانس میٹرز ہیں۔

    اجمیر میں 200 کلوواٹ کا DRM ٹیکنالوجی کا حامل میڈیم ویو ٹرانس میٹراور سورت گڑھ میں بھی اس ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا ٹرانس میٹرنصب گیاہے۔ جبکہ جودھ پور میں 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانس میٹرکا م کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست گجرات میں سرکاری ریڈیو کے 16 اسٹیشنز اور 21 ٹرانس میٹرز کام کر رہے ہیں جن میں 6 میڈیم ویوز اور 15 ایف ایم کے ٹرانس میٹرز ہیں۔گجرات میں راج کوٹ کے مقام پر انڈیا نے سب سے طاقتور1000 کلوواٹ کا DRM ٹیکنالوجی کا حامل میڈیم ویو ٹرانس میٹرکے ساتھ ساتھ اسی ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا ایک اور ٹرانس میٹر بھی نصب کر رکھا ہے۔ یوںان انڈین ریڈیو اسٹیشنز کی ایک نمایاں تعداد کو پاکستانی علاقوں میں واضح طورپر سنا جاسکتاہے۔بھارتی پنجاب میں پاکستانی بارڈر کے ساتھ بھی آل انڈیا ریڈیو کے نئے ٹرانس میٹرز لگانے کا کام جاری ہے۔

    اس تناظرمیں امرتسر میں گرنڈہ کے مقام پر 20 کلوواٹ کا نیاایف ایم ٹرانس میٹر ایک ہزار فٹ کی بلندی کے حامل انٹینا کے ساتھ نصب کیا ہے۔جو پاکستان کے علاقوں سیالکوٹ، گجرانوالہ اور لاہور میں سنا جا سکتا ہے۔ اس ٹرانس میٹرنے 24ستمبر 2018سے کام شروع کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان بارڈر پر فزلکاکے مقام پر 20 کلو واٹ کا ایف ایم ٹرانسمیٹربھی نصب کیا گیاہے۔

    جو پاکستان کے علاقوں پاکپتن، حویلی لکھا، بصیر پور، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، کنگن پور، منچن آباد، اللہ آباد، پیال کلاں، چونیاں، پتوکی ، رینالہ خورد اور اوکاڑہ تک پہنچ رکھتا ہے۔ اسی طرح بھارت نے راجھستان میں چوتن ہل کے مقام پر بھی 20 کلو واٹ کا ایف ایم ٹرانس میٹرلگایا ۔آزاد کشمیر میں پاکستان کے4 ٹرانسمیٹرز کے مقابلے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 83ریڈیو اسٹیشن اور105 ٹرانسمیٹر کام کر رہے ہیں۔
    بھارت سرحد کے قریب کے علاقوں میں پاکستانی ایف ایم کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس کا زیادہ ہدف نوجوان پاکستانی ہیں کیونکہ ان کے پاس موبائل سیٹ ہیں اور وہ آ سانی سے پروپیگنڈہ کا شکار ہو سکتے ہیں

  • پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ شرح سود والے ممالک میں شامل ہو چکا ۔ روزبروز مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے اور عالمی سرمایہ کاری کی حقیقت کیا ہے آئیے اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 19.7 فیصد سے 12.63 فیصد کے درمیان ہے ۔

    مجموعی مہنگائی کی شرح 12.63 فیصد ہے لیکن غذائی اجناس کی مد میں شہری علاقوں میں 16.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 19.7 فیصد مہنگائی کی شرح نوٹ کی کی گئی ہے ۔ مہنگائی کی شرح عالمی سطح پر ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے ۔ اس لسٹ میں زمبابوے جنگ زدہ ہیٹی سوڈان اور ایتھوپیا جیسے ممالک شامل ہیں ۔

    مہنگائی کی شرح میں اس تیزی سے اضافے کے باوجود حکومت ہر ماہ بجلی گیس اور دیگر ایشیائی ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے ۔ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ کیوں کر حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے سے کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہی۔
    آئیے اس کی سب سے بڑی وجہ سمجھتے ہیں ۔

    حکومت نے گزشتہ بجٹ میں انٹرسٹ ریٹ 13.25 فیصد تک بڑھا دیا تھا جو کہ عالمی سطح پر بلند ترین شرح سود والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان سے بلند شرح سود والے صرف پانچ سے چھ ممالک ہیں جن میں زمبابوے گھانا ملاوی جیسےممالک شامل ہیں۔

    دوسری جانب مغربی ممالک اور بہت سے ترقی پذیر ممالک بھی شرح سود کم کر رہے ہیں حتی کہ جاپان سمیت کئی ممالک میں شرح سود صفر کردیا گیا ہے۔اب ہو یہ رہا ہے کہ مقامی اور عالمی ساہو کار ۔ امیر افراد اور کمپنیاں جنہیں تیزی سے منافع چاہئے وہ اپنا پیسہ پاکستانی بینکوں میں رکھ رہی ہیں۔

    آپ نے بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری میں اضافے کی خبریں پڑھی ہوں گی لیکن دراصل یہ سب کسی صنعتی ۔کاروباری یا معاشی سرگرمی کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ رکھا جارہا ہے اور اس کے لیے حکومت نے اب تک کی سب سے بڑی ایمنسٹی سکیم اور سرمایہ کاری میں آسانی کی پالیسی متعارف کرائی ہے ۔

    ملک میں پیسہ تو آ رہا ہے یا مقامی سرمایہ کار جمع کرا رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کوئی بڑا منصوبہ نہیں شروع کیا گیا یا کارخانے نہیں لگ رہے فیکٹری نہیں لگائی جارہیں روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہو رہے بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ منتقل کرکے بلند شرح سود کے ذریعے منافع کمایا جارہا ہے۔ اب اسی بلند ترین شرح سود کے مطابق منافع دینے کے لیے حکومت ہر ماہ تیل اور گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ جن بیرونی سرمایہ کاروں نے بینک میں پیسہ رکھا ہے انھیں ہر ماہ اپنا منافع چاہیے۔

    بدقسمتی سے اس سرمایہ کاری سے کوئی بھی مثبت معاشی سرگرمی جنم نہیں لے رہی ۔کیونکہ اگر تو بیرونی سرمایہ کاری سے بڑے منصوبے لگیں فیکٹریاں اور دیگر معاشی سرگرمیاں جنم لیں لوگوں کو روزگار ملے مارکیٹ کے حجم میں اضافہ ہو تو اس سے ملک میں معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا

    ۔ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کے سرمایہ کار کاروباری و صنعتی سرگرمیوں کی بجائے بینکوں میں رقم رکھ کر اتنا منافع کما رہے ہیں جو کہ انہیں اصل مارکیٹ میں تجارت و صنعتت سے بھی حاصل نہیں ہوگا۔ دوسری جانب یہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں ہے یہ سرمایہ کار جب چاہیں گے اپنی رقم نکال کر بیرون ملک لے جائیں گے جس سے مزید معاشی نقصان ہوگا۔ کیونکہ یہ کاروبار کے لیے نہیں آئے ان کی کوئی فیکٹری کارخانہ پراجیکٹ زمین پر موجود ہی نہیں ہے کہ جس کو سنبھالنا ان کے لیے مسئلہ بنے ۔ بس ایک بنک کی ٹرانزیکشن سے وہ اپنا سرمایہ واپس لے لیں گے ۔

    دنیابھر کے ممالک شرح سود کو کنٹرول کرتے ہیں بینک کا منافع کبھی بھی اتنا نہیں بڑھنے دیتے جس سے صنعت و تجارت متاثر ہو اور سرمایہ کار یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ مارکیٹ میں پیسہ لگانے کی بجائے صرف بینک میں رکھ کر بڑا منافع کما سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہی ہو رہا ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے شرائط میں کہیں بھی صنعت و تجارت کے شعبے میں پیسہ لگانے کی ترویج نہیں کی گئی کوئی شرط نہیں لگائی گئی جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا پیسہ بینکوں میں رکھ رہے ہیں اور دنیا کے بلند ترین شرح سود کے منافع سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے شعبہ جات مختص کیے جاتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو مخصوص شعبہ جات میں ہی سرمایہ کاری کی اجازت دی جاتی ہے۔

    معاشی حوالے سے یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے کیونکہ بلند ترین شرح سود کے منافع کی ادائیگی کے لیے یے مہنگائی کی شرح میں میں روزانہ کی بنیاد پر پر اضافہ کرنا پڑتا ہے ہے غریب عوام سے سے بجلی و گیس کے بلوں پیٹرول و ادویات اشیائے خوردونوش کی مدت میں پیسہ اکٹھا کرکے سرمایہ کاروں کو منافع دیا جا رہا ہے۔

    حکومت کو اپنی پالیسی بدلنی ہوگی شرح سود کو کم کرنا ہوگا اور سرمایہ کاروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ صنعت و تجارت کے میدان میں سرمایہ کاری کریں صرف یہی صورت ہے جس سے ہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور عوام کو تھوڑا بہت روزگار و ریلیف مل سکتا ہے۔معیشت کو سود کی ترویج کےلئے استعمال کرنے کی بجائے سود سے بچنا بہترین ہیں کیونکہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ جنگ ہے اور یہ کبھی بھی مفید نہیں ہو سکتا ۔

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز ۔ مہنگائی کی اصل وجہ اور سرمایہ کاری کی حقیقت ….محمد عاصم حفیظ

    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ )