Baaghi TV

Author: +9251

  • بھارت کے ظلم سے کشمیریوں کو نجات دلانے کے لیے ہر فورم استعمال کریں گے، شاہ محمود قریشی

    بھارت کے ظلم سے کشمیریوں کو نجات دلانے کے لیے ہر فورم استعمال کریں گے، شاہ محمود قریشی

    بھارت کے ظلم سے کشمیریوں کو نجات دلانے کے لیے ہر فورم استعمال کریں گے، شاہ محمود قریشی
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آواز کو دنیا بھر میں پہنچانے کیلئے پر عزم ہے۔وزارت خارجہ میں بین الوزارتی اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت 5 آگست سے مسلسل کرفیو کے ذریعے 80 لاکھ نہتے کشمیریوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مواصلاتی بلیک آؤٹ اور دیگر پابندیوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبا جارہا ہے۔

    وزیرخارجہ نے کہا کہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سمیت دنیا کے ہر بڑے فورم تک پہنچانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج بین الاقوامی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو سامنے لا رہا ہے اور عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو دعوت فکر دے رہا ہے۔

  • بلاول نے دی حکومت میں شمولیت  کی پیشکش ،  ایم کیو ایم نے غور شروع کردیا

    بلاول نے دی حکومت میں شمولیت کی پیشکش ، ایم کیو ایم نے غور شروع کردیا

    بلاول نے دی حکومت میں شمولیت کی پیشکش ، ایم کیو ایم نے غور شروع کردیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی سے سیاسی ہاتھ ملانے اور صوبائی حکومت میں شامل ہونے کے لیے متعدد تجاویز پر غور و خوص شروع کردیا ہے۔

    اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر پی پی پی کے ساتھ سندھ کی حکومت میں شراکت داری کی جائے تو اس کے سیاسی و سماجی اثرات کیا ہوں گے؟ عوام الناس کا ردعمل کیا ہوگا؟ اوریہ کہ پی پی کے ساتھ کن شرائط پر سیاسی اتحاد کیا جائے؟

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پی پی پی کے ساتھ صوبائی حکومت میں شراکت داری کے لیے شرائط عائد کرسکتی ہے کہ صوبائی حکومت قانون سازی کے ذریعے موجودہ بلدیاتی نظام میں تبدیلی لائے اور میئر کراچی سے واپس لیے گئے تمام اختیارات و محکمے واپس کیے جائیں۔
    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ملک کی معاشی صورتحال بہت خطرناک ہے، سخت سردی میں لوگوں کو بے دخل کرنا ظلم ہے، وفاق کی گیس پالیسی کی مذمت کرتے ہیں، وفاق اس گیس پالیسی سے مستحکم نہیں ہوگا، ملک کے عوام مسائل میں گھرے ہیں، گیس معاملے پر بیان بازی کرنے والے وزرا استعفیٰ دیں۔

    اس سے قبل بلاول بھٹوزرداری نے کراچی کے 4 منصوبوں کا افتتاح کیا جو ایک ارب 74 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیے گئے۔ کورنگی ڈھائی نمبر پر 33 کروڑ روپے لاگت سے پل تعمیر کیا گیا، کورنگی 5 نمبر پر 33 کروڑ 40 لاکھ کی لاگت سے ایک پل بنایا گیا۔ اسی طرح حیدر علی انڈر پاس کی تعمیر پر 66 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ کینٹ سٹیشن کے اطراف سڑکوں کی تعمیرات پر 42 کروڑ خرچ ہوئے۔

  • نیب کی اولین ترجیح کیا، بتایا چیئرمین نیب نے

    نیب کی اولین ترجیح کیا، بتایا چیئرمین نیب نے

    نیب کی اولین ترجیح کیا بتایا چیئرمین نیب نے

    نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ قانون کے راستے میں کوئی مصلحت رکاوٹ نہیں بنے گی۔ کرپشن کرنے والوں کو ہر صورت جواب دہ ہونا پڑے گا۔

    چیئرمین نیب جاوید اقبال کا شاندار کارکردگی دکھانے والے افسران کو سرٹیفکیٹس دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سفارش، دھمکی اور دباؤ نیب کے باہر ختم ہو جاتا ہے۔ نیب ‘’فیس’’ نہیں کیس دیکھتا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ کوئی چاہے جتنا بھی طاقتور ہو، جو کرے گا وہ بھرے گا۔ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب کا تعلق کسی گروہ یا سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ پاکستان سے ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ نیب کی کسی سے ذاتی رنجش نہیں ہے۔ نیب کو کسی کیخلاف غلط کیس بنانے کی ضرورت نہیں، ضمانت دینا متعلقہ عدالتوں کا اختیار ہے۔ ضمانت سے کیس ختم نہیں ہوتا عبوری ریلیف ملتا ہے۔
    قبل ازیں تین روز قبل بھی نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی ، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس آرٹیکل 25 کےخلاف ہے، آرڈیننس وزرا،سرکاری افسران کی کرپشن کو تحفظ دینے کی کوشش ہے، آرٹیکل 25 کےمطابق تمام شہری قانون کی نظرمیں برابرہیں،

    درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب ترمیمی آرڈیننس فوری معطل کرنے کاحکم دے،درخواست میں وفاق ،چیئرمین نیب،وزارت قانون اوردیگرکو فریق بنایا گیا ہے.

    سہولتیں کون سی ہیں جو لے لیں گے، آصف زرداری کا شکوہ

    سابق صدر آصف زرداری کے آٹھ بے نامی جائیدادیں ضبط

    بچوں کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں تو یہ کام لازمی کریں، وزیراعظم کا قوم کو پیغام

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیب آرڈیننس پر دستخط کردیے جس کے بعد اب نیا قانون نافذ العمل ہوگیا۔ صدر مملکت نے وفاقی حکومت کی سفارش پر نیب کے نئے قوانین پر دستخط کیے، آرڈیننس کے تحت اب قومی احتساب بیورو کو 50 کروڑ سے زائد کرپشن اور اسکینڈل پر ہی کارروائی کی اجازت ہوگی۔

  • وزیراعظم عمران خان کے دورہ فیصل آباد کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے کمشنر عشرت علی کا ٹیم کیساتھ دورہ

    وزیراعظم عمران خان کے دورہ فیصل آباد کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے کمشنر عشرت علی کا ٹیم کیساتھ دورہ

    فیصل آباد (محمد اویس) وزیراعظم عمران خان کے دورہ فیصل آباد کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے کمشنر عشرت علی، ڈپٹی کمشنر محمد علی، ریجنل پولیس آفیسر راجہ رفعت مختار اور سٹی پولیس آفیسر کپٹن (ر) سہیل چوھدری نے گزشتہ روز فیڈمک کا دورہ کیا۔ انہوں نے چیئرمین فیڈمک میاں کاشف اشفاق سے ملاقات کر کے وزیراعظم کی آمد پر سیکورٹی پلان اور افتتاحی تقریب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر فیڈمک کے چیف آپریٹنگ آفیسر میاں عامر سلیمی اور مینجر ایڈمن میاں زبیر اظہر و دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے سی پیک کے تحت قائم کئے جانے والے ترجیحی اکنامک زون "علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی” میں جاری ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان تین جنوری کو فیصل آباد آئیں گے اور اس حوالے سے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ فیڈمک بورڈ نے اس اکنامک زون کی چار دیواری اور مرکزی گیٹ کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں بجلی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے گرڈ اسٹیشن کی بھی منظوری ہو چکی جو کہ جلد مکمل ہوجائے گا۔

  • وزیرا عظم نے خواجہ سراؤں کو اہم سہولت سے بہرہ ور کر دیا

    وزیرا عظم نے خواجہ سراؤں کو اہم سہولت سے بہرہ ور کر دیا

    وزیرا عظم نے خواجہ سراؤں کو اہم سہولت سے بہرہ ور کر دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خواجہ سراؤں کا طبقہ بہت مشکلات کا شکار ہے، حکومت نے ان کی ذمہ داری لینے اور انہیں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خواجہ سراؤں میں صحت کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے خواجہ سراؤں کے لیے کام نہیں کیا، اس طبقے کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ غریب لوگوں کے لیے اپنا علاج کرانا بہت مشکل ہے، صحت کارڈ کے ذریعے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 2019 کے دوران معاشی حالات بہت خراب تھے البتہ 2020 ترقی کا سال ہے، پوری کوشش ہے کہ نئے سال میں نوکریاں پیدا کی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ غریب گھرانوں کے لیے راشن کارڈ بھی شروع کریں گے، مزید لنگر خانے بھی کھولیں گے۔عمران خان نے کمزور طبقوں کو اوپر اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت احساس پروگرام کو پورے ملک میں پھیلائے گی، نوجوان طبقے کے لیے مزید قرضے دیں گے۔
    واضح‌رہے کہ اس سے پہلے صحت انصاف کارڈ ملک بھر یں لاکھوں افراد میں تقسیم کیے جاچکے ہیں. اس کارڈ سے ابتدائی طور پر 3 لاکھ روپے تک تمام امراض کا علاج کروایا جاسکتا ہے تاہم کسی بڑے مرض کی صورت میں صحت انصاف کارڈ کو 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج کروایا جاسکے گا۔ وزیراعظم کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ یہ صحت کے شعبے میں بڑی تبدیلی رونما کرے گا.

  • 2019 ء  پاکستان کی برآمدات میں اہم مد میں ریکارڈ اضافہ ہوا

    2019 ء پاکستان کی برآمدات میں اہم مد میں ریکارڈ اضافہ ہوا

    2019 ء پاکستان کی برآمدات میں اہم مد میں ریکارڈ اضافہ ہوا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے افرادی قوت سے مالا مال کیا ہے . پوری دنیا میں پاکستان کے لوگ اپنی خدمات پیش کر کے اپنے ملک میں دولت بھیج رہے ہیں جس ملکی معیشت میں‌ بیش بہا اضافہ ہو رہا ہے . سال 2019 میں پاکستان کی افرادی قوت کی برآمدگی میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، رواں سال پانچ لاکھ سے زائد افراد ملازمت کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔

    وزارت برائے سمندر پار پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی جانب سے افرادی قوت کی برآمدگی پالیسی کے تحت اس سال پانچ لاکھ سے زائد ہنرمند افراد بشمول ٹیکنیشنز اور ڈرائیورز کو بیروں ممالک بھیجا گیا جن میں خلیجی ممالک سر فہرست ہیں۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں سال پانچ لاکھ تریسٹھ ہزار اٹھارہ ہنرمند افراد کو کام کے لیے بیرون ممالک بھیجا گیا جن کی تعداد پچھلے سال تین لاکھ بیاسی ہزار چار سو انتالیس تھی۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق بیرون ممالک جانے والے ان افراد میں ہنرمند مزدوروں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی دو لاکھ چودہ ہزار ہے۔ ہنرمند مزدورں میں ایک لاکھ تیس ہزار ڈرائیورز بھی شامل ہیں۔پاکستانی حکام کے مطابق سب سے زیادہ پاکستانیوں نے متحدہ عرب امارات کا رخ کیا ہے

  • یہ بھارت ہے ، شیلٹر ہومز سے لوگ کمبل اور بستر چرانے لگے

    یہ بھارت ہے ، شیلٹر ہومز سے لوگ کمبل اور بستر چرانے لگے

    یہ بھارت ہے ، شیلٹر ہومز سے لوگ کمبل اور بستر چرانے لگے.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارت میں عوام کی کسمپرسی اور دیوالیہ پن کی یہ حالت ہے کہ شیلٹر ہومز سے لوگ کمبل اوربستر چرانے لگے.
    لکھنو پولیس نے ان لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرلئے ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے شیلٹر ہومز میں مقیم بے سہارا لوگوں سے کمبل چھین لیا تھا۔

    بھارتی روزنامہ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، یوگی آدتیہ ناتھ جمعرات ، دسمبر کو 27 ، کمبل تقسیم مہم کے لئے سرکاری اسپتالوں اور بے گھر پناہ گاہوں کا دورہ کیا تھا۔ تاہم ، وزیراعلیٰ کے جانے کے فورا بعد ہی ، ان بٹیروں کو ان تمام لوگوں سے واپس لے لیا گیا جن کو اس مہم سے فائدہ ہوا۔ انتظامیہ نے اب اس معاملے پر توجہ دی ہے اور مجرموں کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا یقین دلایا ہے۔

    بتایا جاتا ہے کہ یوپی کے وزیر اعلی نے لکشمن میلہ گراؤنڈ ، ڈولی گنج اور کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے اندر واقع پناہ گاہوں کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران ، انہوں نے بے گھر لوگوں سے بھی بات چیت کی اور ان پناہ گاہوں میں رہنے والے لوگوں کو یقین دہانی کرائی سہولیات کا ایک بڑا حصہ لیا۔

  • سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔  (تحریر سجاد ظہیر )

    سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔ (تحریر سجاد ظہیر )

    سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔ (تحریر سجاد ظہیر )

    اسلامی تاریخ کے الم ناک برسوں میں سے ایک زوال غرناطہ کا سال 1492 ہے ۔ساڑھے سات سو سال حکومت کرنے کے بعد، پورے اندلس میں صرف غرناطہ وہ شہر تھا جہاں مسلمانوں کی حکومت باقی بچی رہی تھی ۔شمال کی عیسائی ریاستیں رفتہ رفتہ جنوب میں، مسلمانوں کے ایک ایک علاقے پر قبضہ کرتی رہیں، سب سے پہلا شہر جو مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا وہ طلیطلہ Toledo تھا اور دو سو سال بعد جو آخری شہر مسلمانوں کے ہاتھ سے گیا وہ غرناطہ تھا ۔
    اس کے بعد غرناطہ کے مسلمانوں پر جس طرح عرصہ حیات تنگ کیا گیا، وہ مسیحی تاریخ کا تاریک ترین باب ہے۔جب مسلمانوں نے اندلس فتح کیا تھا تو یہاں کی عیسائی اور یہودی ابادیوں کے ساتھ جو انتہائی روادارانہ برتاو کیا وہ مسلم تاریخ کا درخشاں باب ہے ۔جس پر سیک مسلمان آج بھی فخر کر سکتا ہے ۔
    سقوط غرناطہ کے بعد عیسائ بادشاہ فرڈینینڈ اور اس کی بیوی ازابیلا نے ابتدا یہ کوشش کی کہ مسلمان خود ہی عیسائیت اختیار کر لیں ،لیکن جب مسلمانوں نے ترک مذہب کو رد کر دیا تو مختلف مواقع پر مختلف قوانین شہریت بنا کر مسلمانوں کو اسپین سے مٹا دیا گیا ۔
    1499 میں پہلا شاہی فرمان یہ آیا کہ جو مسلمان، عیسائیت قبول نہیں کرتا اسے اسپین سے نکل جانا ہو گا ۔لہذا مسلمانوں کی جمعیت کی جمعیتیں شمالی افریقہ کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئیں ۔۔۔یہ پر امن ہجرت نہیں تھی ۔۔۔طول طویل راستوں میں مہاجرین کے یہ قافلے لوٹ لئے جاتے ۔۔۔۔۔مزاحمت کی صورت میں قتل عام ہو جاتا ۔ جو لوگ لوٹ مار اور قتل و غارتگری سے بچ جاتے، وہ موسم کے شدائد،بھوک پیاس اور بیماریوں سے مر جاتے ۔
    اسپین سے صرف مسلمانوں کو ہی بے دخل نہیں کیا گیا بلکہ یہ حکم یہودیوں کے لئے بھی تھا ۔یہودی چونکہ اندلس کے معاشرے کا سب سے متمول طبقہ تھے لہذا انہوں نے تجارتی کشتیوں پر اجتماعی نقل مکانی کی اور یورپی ممالک کی طرف چلے گئے ۔اس زمانے میں مشرقی یورپ کے بیشتر ممالک سلطنت عثمانیہ کے زیر تسلط تھے لہذا یہ مسلمان عثمانی خلیفہ کی اجازت سے ترکی اور مشرقی یورپ میں آباد ہو گئے ۔
    1524 کے لگ بھگ غرناطہ میں "مذہبی تفتیشی عدالتیں "قائم کی گئیں ۔ ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں کو ان عدالتوں میں پیش کیا جاتا، اگر وہ جج کے سامنے عیسائیت قبول کر لیتے تو ان کے پورے خاندان کو بپتسمہ دے دیا جاتا دوسری صورت میں انہیں آگ کے الاو میں پھینک دیا جاتا ۔ان عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق ایک دو نہیں ہزاروں مسلمانوں کو باب الرہلہ کے چوک پر اسی غرض سے بھڑکائے جانے والے الاو میں پھینک دیا جاتا اور وہ بھسم ہو جاتے ۔یہ واقعات مسلمان مورخین ہی نے نہیں بلکہ اسکاٹ اور گستاولیبان سمیت متعدد عیسائ مغربی مورخین نے بھی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں ۔
    جب ہزاروں مسلمان جلا دئے اور قتل کر دیئے گئے تو حکومت خود پریشان ہو گئ کہ آخر کتنوں کو قتل کیا جائے تو انہوں نے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ وہ اپنے مذھب پر قائم رہ سکتے ہیں مگر انہیں مذہبی ٹیکس ادا کرناپڑے گا ۔سالانہ بنیادوں پر لگایا جانے والا یہ بہت بھاری ٹیکس تھا جسے طبقہ امرا ہی برداشت کر سکتا تھا ۔
    وہ اسپینی مسلمان جنہوں نے ہجرت نہیں کی، مذہبی عدالتوں کے قتل عام سے بچنے کیلئے عیسائیت تو قبول کر لی لیکن در پردہ مسلمان ہی رہے ۔۔۔وہ گھر میں احمد،عبداللہ، محمد، عائشہ اور فاطمہ ہوتے تو گھر سے باہر ڈیوڈ، جون، مائیکل، میری اور مارگریٹ ہوتے ۔ گھر میں عربی بولتے باہر اسپینی، گھر میں نماز پڑھتے، اتوار کو چرچ کے ماس میں شرکت کرتے ۔اپنے بچوں کو گھر میں قرآن پڑھاتے جب یہ بچے اسکول جاتے تو ان کے گلے میں صلیب لٹکا دیتے ۔
    پھر 1566 میں ایک اور قانون آ گیا کہ کوئی باشندہ عربی نہیں بول سکتا، نہ ہی عربی لباس پہن سکتا ہے، جو اس کا ارتکاب کرتا اس پر "فرضہ ” یعنی ایک بھاری ٹیکس لگ جاتا ۔عورتوں کا پردہ تو پہلے ہی ممنوع تھا اب یہ حکم بھی ملا کہ جمعہ کے دن سارے مسلمان اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھیں گے ۔اصل میں مسلمان چوری چھپے جمعہ کی جماعت گھروں میں قائم کرنے لگے تھے، اس لئے یہ قانوں بن گیا ۔
    عربی پر پابندی لگی تو ہر گھر کی تلاشی کے بعد ہزاروں عربی کتابیں جمع کر کے باب الرہلہ کے چوک میں سپرد آتش کر دی گئیں،یورپی مورخین کا اندازہ ہے کہ شاہ شیمنس کے حکم سے صرف غرناطہ میں سپرد آتش کی جانے والی عربی کتابوں کی تعداد اسی ہزار 80000 تھی۔ اس میں قرآن کے وہ نسخے بھی تھے جو مسلمان چھپا کر رکھتے اور اپنے بچوں کو پڑھاتے تھے ۔اس کے علاوہ تاریخ، ادب،فقہ،حدیث، تفسیر فلسفہ،کلام،طب،طبعیعات، فلکیات وغیرہ وغیرہ کی کتب، جو آٹھ سو سال میں مشرق و مغرب سے لا کر خمع کی گئ تھیں گھروں اور لائبریریوں سے نکال کر جلا دی گئیں ۔
    1604 میں مسلمانوں کے حوالےسے آخری قانون شہریت یہ آیا کہ مسلمان سرزمین اندلس کو بالکل خالی کر دیں ۔ چنانچہ دو سال کے عرصے میں تقریبا پانچ لاکھ مسلمانوں نے اندلس کو خیر باد کہہ دیا، زیادہ تر افریقہ میں یا جہاں انہیں پناہ ملی ،چلے گئے ۔ان میں سے ایک تہائی لوگ راستے ہی میں یا قتل کر دیئے گے یا خود مر گئے ۔اور 1606 کے بعد اسپین میں ایک مسلمان بھی باقی نہ رہا ۔😪

  • مقتدی الصدر نے واشنگٹن اور تہران  کو کس بات پر  خبردار کر دیا

    مقتدی الصدر نے واشنگٹن اور تہران کو کس بات پر خبردار کر دیا

    مقتدی الصدر نے واشنگٹن اور تہران کو کس بات پر خبردار کر دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق عراق میں الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بھڑکنے اور اس جنگ میں عراق کو گھسیٹے جانے کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ الصدر کا یہ موقف پیر کے روز ایک ٹویٹ میں سامنے آیا۔

    شیعہ رہ نما کی ٹویٹ عراق کے مغرب میں واقع ضلع القائم میں الحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی بم باری کے بعد سامنے آئی ہے۔ الصدر کے مطابق جو کوئی بھی اس جنگ میں عراق کو گھسیٹے گا وہ عراقی عوام کا دشمن ہو گا۔

    عراقی رہ نما نے اپنی ٹویٹ میں واضح کیا کہ میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے بھڑکنے کے ساتھ نہیں ہوں اور نہ میں اس جنگ میں عراق کو گھسیٹے جانے کے حق میں ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں قوم کے بڑوں کے ایک سنجیدہ موقف کی ضرورت ہے تا کہ ہم عراق کو اس گھمسان کی لڑائی سے دور رکھ سیں جو ہر خشک و تر چیز کو کھا جائے گی … ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ عراقی عوام اس جنگ کی اور اس میں عراق کو جھونکنے کی مذمت میں آواز اٹھائیں۔

    واضح رہے کہ بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کے خلاف جاری رہا جس میں احتجاج میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں،اطلاعات کے مطابق عراق میں 2 ماہ سے جاری پرتشدد احتجاج میں 400 سے زائد ہلاکتوں کے بعد بالآخر عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کو استعفیٰ دینا پڑا.لیکن اب رپورٹ یہ ہے کہ یہ ہلاکتیں اس سے بھی زیادہ ہے.

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں  مثبت رحجان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رحجان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رحجان
    باغی ٹی وی رپورٹ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز مثبت رحجان سے کاروبار کا آغا ہوا ہے۔

    کاروبار کے آغاز پر انڈیکس 40 ہزار 848 پر تھا اور ابتدائی 90 منٹ میں 300 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔مارکیٹ سے آخری خبر آنے تک انڈیکس 41ہزار154پرٹریڈ کر رہا تھا۔ہفتے کے اختتام پر انڈیکس 40 ہزار 848 پوائنٹس پر بند ہوا۔ گزشتہ ہفتے انڈیکس کی بلند ترین سطح 41 ہزار 289 پوائنٹس تھی جبکہ کم ترین سطح 39 ہزار 454 پوائنٹس رہی۔

    گزشتہ کاروباری ہفتے میں 91 کروڑ 97 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے اور 23 سے 27 دسمبر کے دوران مارکیٹ کپیٹلائزیشن 24 ارب روپے کمی کے بعد 7 ہزار 281 ارب روپے رہی۔

    واضح‌رہے کہ پاکستان کی مسلسل سٹآک مارکیٹ میں بھی بہتر ہو رہی ہے اور پچھلے دنوں اسٹاک مارکیٹ نے چھ سال کا ایک ماہ کا ریکارڈ توڑا ہے.خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا