فیصل آباد (محمد اویس) مفت آئی ٹی کی تعلیم دینے والی تنظیم گیٹ یوتھ کی جانب سے الفتح سپورٹس کمپلیکس میں واقع ای لائبریری میں ارفہ کریم رندھاوا کے اعزاز میں انگریزی و اُردو تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا مقابلے میں شہر بھر کے نجی و سرکاری سکولز کے میٹرک کے طلباء طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مقابلے میں ڈویژنل پبلک سکول سمیت ڈویژنل ماڈل سکول، دی سمارٹ سکول سمن آباد کیمپس، اسپائر گرائمر سکول، دی میری لینڈ سکول سسٹم،دار ارقم سکول مین کیمپس ،بحریہ گرائمر سکول، دی نیشنل سکول سسٹم،گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول کوتوالی روڈ، دی سٹی سٹار سکول اور گورنمنٹ کمپری ہینسیو سکول و دیگر کے طالبعلم شریک ہوئے طلبہ نے ارفہ کے بعد کوئی اور ارفہ کیوں نہ بن سکا کے موضوع پر تقاریر کیں اس موقع پر پراجیکٹ کوارڈ ینیٹر گیٹ یوتھ اقرا منیر کا کہنا تھا کہ اس مقابلے کا مقصد طالبعلموں کو ملک کا نام دنیا مین روشن کرنے والی ارفہ کے بارے میں بتانا تھا کہ مستقبل کے معمار قومی ہیروز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آئی ٹی کے میدان میں کیے جانے واکے کارناموں سے آگاہ ہو سکیں۔
Author: +9251
-

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کو مسترد کرتے ھیں۔ ضلعی امیر جماعت اسلامی عظیم رندھاوا
فیصل آباد (محمد اویس) جماعت اسلامی کے ضلعی امیرانجینئر عظیم رندھاوا نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساری دنیا میں حکومتیں سال میں ایک بجٹ دیتی ہیں جبکہ پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت روزانہ ایک نئے بجٹ کا اعلان کردیتی ہے ، مہنگائی کا طوفان برپا کر کے حکومت غریب کے جسم سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لینے پر تلی ہوئی ہے ۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو ملک میں بدامنی کی فضا پیدا ہوجائے گی اور پھرلوگ زندہ رہنے کیلئے کچھ بھی کرنے پرتل ہوجائیں گے، حکومت فوری طورپرقیمتوں میں اضافہ واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گیس اور تیل کی قیمتیں خود بڑھاکر بہانہ بناتی ہے کہ یہ اوگرا اور نیپرا کا کام ہے ،حکومت بتائے کہ کیا اوگرااور نیپراوزیر اعظم کے ماتحت ادارے نہیں ۔انہوں نے کہا کہ پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے ،جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے ۔گیس کی قیمتیں بڑھنے سے سی این جی کی قیمت میںبھی اضافہ ہوچکا ہے ۔ حکومت نے غریب کومشکلات میںمبتلا کر رکھا ہے اور امیر وں کو نواز رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران حکومت کو چاہئے تھا کہ اپنے دعوئوں کے مطابق وہ کاروبار کے مواقع پیدا کرتی ،بے روز گاری کا خاتمہ کرتی ،چھوٹی صنعتیں اور کارخانے لگاتی تاکہ لوگ کام کرکے اپنا پیٹ پالتے اور حکومت کو ٹیکس بھی دیتے لیکن حکومت لوگوں کے کاروبار بند کر کے ان سے ٹیکس مانگ رہی ہے جو سراسر ظلم ہے ۔
-

کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹنے سے جواں لڑکی جاں بحق
فیصل آباد ( محمد اویس) کار ڈیوائیڈرڈ سے ٹکرا کر الٹنے سے 18سالہ لڑکی جاں بحق نوجوان زخمی نعش ورثاء کے حوالے،ناگہانی موت پر گھر میں صف ماتم بچھ گئی،تفصیلات کے مطابق مدینہ ٹائون خیابان تھری کا رہائشی 28سالہ اویس ولد عبدالمجید اپنی کار نمبری ایف ڈی 43 ماڈل 2012ء میں 18سالہ لڑکی کے ہمراہ پینسرہ کی طرف جا رہا تھا کہ جھنگ روڈ پر اڈا ٹھیکری والا کے قریب علی الصبح بے قابو کارڈیوائیڈرڈ سے جا ٹکرائی جس کے نتیجہ میں کار الٹنے سے تباہ ہوگئی اور سوار مذکورہ لڑکی موقع پر ہی دم توڑ گئی،جبکہ اویس کو زخمی ہونے پر ریسکیو 1122کی امدادی ٹیم نے طبی امداد فراہم کی تھانہ ٹھیکریوالہ پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کردی
-

مایاوتی نےشہریتی قانون کی حمایت کرنے پر رکن اسمبلی کو معطل کردیا
مدھیہ پردیش :مایاوتی نےشہریتی قانون کی حمایت کرنے پر رکن اسمبلی کو معطل کردیا،اطلاعات کےمطابق بہوجن سماج پارٹی نے مدھیہ پردیش میں پارٹی کے رکن اسمبلی رمابائی پریہار کو شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کرنے کی وجہ سے معطل کر دیا ہے۔
وزیراعظم کا حکم وزیراعلیٰ کی تکمیل،پناہ گاہوں کے باسیوں کوتمام سہولیات کی فراہمی
بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے اتوار کے روز ایک ٹویٹ کے ذریعہ یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا’’بی ایس پی ڈسپلن پارٹی ہے اور اس کو توڑنے پر پارٹی کے ایم پی اور ایم ایل اے وغیرہ کے خلاف بھی فوری طور کارروائی کی جاتی ہے۔
دس سالہ معصوم بچے سے جنسی زیادتی کا مرکزی ملزم قاری شمس الدین گرفتار
مدھیہ پردیش میں پتھیريا سے بی ایس پی ممبر اسمبلی رمابائی پریہار کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کرنے پر ان کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔ ان پر پارٹی پروگرام میں حصہ لینے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے‘‘
مودی کی ریلی میں مشتبہ مظاہرین کی شناخت کیلئے سافٹ ویئر کا استعمال
۔ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ بی ایس پی نے سب سے پہلے اسے تقسیم کرنے والا اور غیر آئینی بتا کر اس کی شدید مخالفت کی۔ پارلیمنٹ میں بھی اس کے خلاف ووٹ دیا اور اسے واپس لینے صدر جمہوریہ کو میمو دیا گیا۔ پھر بھی رکن اسمبلی پریہارنے شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کی۔ پہلے بھی انہیں کئی بار پارٹی لائن پر چلنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
پاپا اورحکومت دونوں کا بیان ایک ہے ،بلاول بھٹو کی سخت سردی میں گرم گرم ٹویٹ
-

خواتین کا مسلم مخالف شہریتی قانون کے خلاف احتجاج کا17واں روز
نئی دہلی:خواتین کا مسلم مخالف شہریتی قانون کے خلاف احتجاج کا17واں روز،اطلاعات کےمطابق شاہین باغ میں پر امن احتجاج 176 ویں دن میں داخل ہونے کو ہے شہریوں نے شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ قومی شہری اندراج (این آر سی )کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا ہے، ہزاروں کی تعداد میں خواتین وہاں موجود ہیں
وزیراعظم کا حکم وزیراعلیٰ کی تکمیل،پناہ گاہوں کے باسیوں کوتمام سہولیات کی فراہمی
ذرائع کےمطابق یہ احتجاج 15دسمبر کو اس وقت شروع ہوا جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس کے اندر دہلی پولیس داخل ہوئی تھی تب سے یہ دھرنا مسلسل جاری وساری ہے ۔مظاہرین کا وہیں پر سونا اور کھانا پینا ہوتا ہے کافی تعدادمیں وہاں پر لوگ ہیں زیادہ عورتیں اور بچے ہیں
دس سالہ معصوم بچے سے جنسی زیادتی کا مرکزی ملزم قاری شمس الدین گرفتار
ذرائع کےمطابق اس تیز سردی میں صرف ایک چادر کے سہارے جو کہ ان کے سروں پر شامیانہ نما ہے ان کا رہنا سہنا ہے جو لوگ وہاںپر احتجاج میں شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم ہندوستان کے آئین کو بچانے کے لئے جمع ہیں اور جو یہ بل یہ پاس ہوا ہے اور یہ بل اب ایکٹ بن چکا ہے ہندوستانی آئین کے خلاف ہے اور ہم اس کے خلاف آخری سانس تک لڑیں گے ۔
مودی کی ریلی میں مشتبہ مظاہرین کی شناخت کیلئے سافٹ ویئر کا استعمال
-

چورنالے چتر، مسلم مخالف قانون کے حمایتی بی جے پی رکن کی پٹائی کردی گئی
اترپردیش:چورنالے چتر، مسلم مخالف قانون کے حمایتی بی جے پی رکن کی پٹائی کردی گئی.اطلاعات کےمطابق اتر پردیش بی جے پی ضلع اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری مرتضیٰ کاظمی جب این آر سی اور شہریت قانون کے بارے میں سمجھانے کے لیے امروہہ کے لکڑا محلہ پہنچے تو ناراض بھیڑ نے انھیں گھیر لیا اور پٹائی شروع کر دی۔
وزیراعظم کا حکم وزیراعلیٰ کی تکمیل،پناہ گاہوں کے باسیوں کوتمام سہولیات کی فراہمی
امروہہ ضلع میں شہریت قانون اور این آر سی کے فائدے بتانے کے دوران بی جے پی کے ایک لیڈر کی مقامی لوگوں نے زبردست پٹائی کر دی۔ مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے بالآخر بی جے پی لیڈر کو وہاں سے راہ فرار اختیار کرنا پڑا۔
دس سالہ معصوم بچے سے جنسی زیادتی کا مرکزی ملزم قاری شمس الدین گرفتار
موصولہ رپورٹ کے مطابق پارٹی کے ضلع اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری مرتضیٰ آغا کاظمی کو جمعہ کے روز امروہہ واقع لکڑا محلہ میں اس وقت گھیر کر پٹائی شروع کر دی گئی جب وہ لوگوں کو شہریت قانون اور این آر سی کے بارے میں بتا رہے تھے۔
مودی کی ریلی میں مشتبہ مظاہرین کی شناخت کیلئے سافٹ ویئر کا استعمال
-

سال -2019 صوبہ پنجاب میں 3 ہزار599 لوگ قتل کردیئے گئے
لاہور:سال -2019 صوبہ پنجاب میں 3 ہزار599 لوگ قتل کردیئے گئے ،اطلاعات کےمطابق صوبہ پنجاب 2019 میں بھی مجرموں کے نرغے میں رہا۔ قتل، اغوا، خواتین سے زیادتی، چور ی، ڈکیتی سمیت دیگر جرائم کے ہزاروں واقعات ہوئے، شہر ہو یا گاؤں ہر شخص عدم تحفظ کا شکار رہا۔
پاپا اورحکومت دونوں کا بیان ایک ہے ،بلاول بھٹو کی سخت سردی میں گرم گرم ٹویٹ
سال 2019 کے آغاز سے ہی وارداتوں کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ سال کے آخر تک چلتا رہا۔پولیس رپورت کے مطابق صوبے بھر میں کہیں چوری اور ڈ کیتی کی واردات ہوئی تو کہیں قتل و غارت اور اغوا کی وارداتیں کم نہ ہوئیں۔جبکہ سال بھر کے دوران متعدد خواتین زیادتی کا شکار ہوئیں تو کسی کی گاڑی چھن گئی اور کوئی موٹر سائیکل سے محروم ہوگیا۔
یومِ شہدائے کشمیر: اب بھارتی کشمیر میں تعطیل نہیں ہوا کرے گی،نئی بھارتی انتظامیہ…
رپورٹ کے مطابق سال کے 365 دنوں میں صوبے بھر میں اقدام قتل کے 9795 واقعات رونما ہوئے، لڑائی جھگڑوں کے 13040 واقعات میں ہزاروں شہری زخمی ہو گئے۔
دس سالہ معصوم بچے سے جنسی زیادتی کا مرکزی ملزم قاری شمس الدین گرفتار
اعداد و شمار کے مطابق اغوا کے 13300واقعات درج کراءے گءے ، جبکہ 76 افراد کو تاوان کیلئے اغوا کیا گیا۔خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات کےا عداد و شمار کے مطابق 3420 خواتین کی عصمت دری کی گئی جبکہ 182 کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیراعظم کا حکم وزیراعلیٰ کی تکمیل،پناہ گاہوں کے باسیوں کوتمام سہولیات کی فراہمی
ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ آبادی اور بے روز گاری جرائم بڑھنے کی وجوہات ہیں۔رپورٹ کے مطابق چوری و ڈکیتی کی 15020 وارداتوں میں ڈاکوؤں نے اودھم مچا ئے رکھا، 22200 وارداتوں میں کسی کو گاڑی تو کسی کو موٹر سائیکل سے محروم کر دیا گیا۔2019 کے دوران لاہور شہر میں خود کش دھماکے سمیت دہشت گردی کے دو واقعات ہوئے، پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔
-

مخالفین کوکوئی معافی نہیں ، ایران میں خاتون سماجی کارکن پر تشدد کا انکشاف
تہران : مخالفین کوکوئی معافی نہیں ، ایران میں خاتون سماجی کارکن پر تشدد کا انکشاف،اطلاعات کےمطابق ایرانی جیل میں قید سماجی کارکن نرجس محمدی پر جیل حکام کے وحشیانہ تشدد کا انکشاف کیا گیا ہے تاہم ایرانی حکام نے نرجس پر تشدد کے الزامات کی تردید کی ہے۔
کراچی میں منشیات فروش حسیناؤں کا نیٹ ورک بے نقاب،بڑے بڑےنام سامنے آرہے ہیں
عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق تہران میں قائم بدنام زمانہ جیل ایفین میں قید نرجس محمدی کا مکتوب خفیہ ذرائع سے لیک ہوا جس میں انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور تشدد کی تفصیلات بیان کیں۔نرجس کا کہنا تھا کہ دوران حراست ایرانی جیلروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور بے دردی کے ساتھ اسے مارا پیٹا گیا تاہم ایرانی حکام کی طرف سے نرجس کے دعوے کو مسترد کردیا گیا۔
یومِ شہدائے کشمیر: اب بھارتی کشمیر میں تعطیل نہیں ہوا کرے گی،نئی بھارتی انتظامیہ…
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مکتوب کے بعد ایرانی حکام نے ایفین جیل میں نرجس محمدی اور کسی دوسرے قیدی پر تشدد کی حسب سابق سختی سے تردید کی گئی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ نرجس محمدی کی ایفین جیل سے زنجان منتقلی کے عمل میں اس کے ساتھ کوئی غیرانسانی سلوک نہیں کیا گیا۔ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کا کہنا تھا کہ نرجس محمدی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔
پاپا اورحکومت دونوں کا بیان ایک ہے ،بلاول بھٹو کی سخت سردی میں گرم گرم ٹویٹ
-

یومِ شہدائے کشمیر: اب بھارتی کشمیر میں تعطیل نہیں ہوا کرے گی،نئی بھارتی انتظامیہ کا فیصلہ
سری نگر: یومِ شہدائے کشمیر: اب بھارتی کشمیر میں تعطیل نہیں ہوا کرے گی،اطلاعات کے مطابق کشمیر کی انتظامیہ نے ایک اور متنازعہ فیصلے کے تحت شہدائے کشمیر کی یاد میں 13 جولائی کو منائی جانے والی سرکاری تعطیل ختم کر دی ہے۔
جموں و کشمیر حکومت نے سال 2020ء کے لیے جو کیلنڈر جاری کیا ہے اُس میں 5 دسمبر کو کشمیری لیڈر شیخ محمد عبد اللہ کے یومِ پیدائش کی چھٹی کو بھی منسوخ کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، 26 اکتوبر کو ‘یومِ الحاق’ کے موقعے پر سرکاری تعطیل منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 1947ء میں اس دن ریاست کے مطلق العنان ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ مشروط الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کے اس فیصلے کی تائید و حمایت کی تھی۔
تاہم، حکومت نے ریاست کے جموں خطے کی مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے اس مطالبے کو نہیں مانا کہ 23 ستمبر کو، جو مہاراجہ ہری سنگھ کا یومِ پیدائش ہے، عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہم خیال تنظیمیں اس مطالبے کی تائید کرتیآئی ہیں۔ ڈوگرہ مہاراجوں کا تعلق جموں سے تھا جموں و کشمیر کے سرمائی صدر مقام جموں میں ‘نیگوشیبل انسٹرومینٹ ایکٹ 1881’ کے تحت کیلنڈر 2020ء کے لیے سرکاری تعطیلات کی جو فہرست جاری کی گئی ہے اس میں سب سے پہلے 13 جولائی کی تعطیل ختم کر دی گئی ہے۔
یومِ شہدائے کشمیر کب اور کیوں منایا جاتا ہے؟13 جولائی 1931ء کو مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج نے سری نگر کی مرکزی جیل کے باہر نہتے کشمیریوں پر گولی چلائی تھی، جس کے نتیجے میں 22 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ یہ لوگ ایک غیر مقامی شخص عبدالقدیر خان پر بغاوت کے الزام میں چلائے جانے والے ‘ان کیمرہ’ مقدمے کے سلسلے میں جیل کے باہر جمع ہوئے تھے۔
عبدالقدیر نے جو کشمیر کی سیاحت پر آئے ہوئے ایک برطانوی شہری کے ساتھ خانساماں کے طور پر سرینگر آیا ہوا تھا شہر کی خانقاہِ معلیٰ میں منعقدہ جمعے کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو مہاراجہ کی حکومت کے “ظلم و جبر” کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کے لیے کہا تھا اور مہاراجہ کے محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی ہر اینٹھ کو اکھاڑ کر اسے زمین بوس کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
سرینگر کی مرکزی جیل کے باہر پیش آنے والے خونریزی کے واقعے کے پس منظر میں 13 جولائی کو یومِ شہدائے کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کشمیر کے دونوں حصوں میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور یہ عام تعطیل کا دن بھی ہے۔ ریاست کے باہر بھی، بالخصوص پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اس دن کو بڑے احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
جموں و کشمیر کو آئینِ ہند کی دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کے خاتمے اور ریاست کو براہِ راست نئی دہلی کے کنٹرول والے علاقے بنانے کے 5 اگست کے فیصلے پر اس سال 31 اکتوبر سے باضابطہ عملدرآمد ہونے سے پہلے ریاست کا اپنا آئین اور پرچم تھے۔ اس پرچم کا رنگ سرخ تھا جو 13 جولائی 1931 کے شہدا کے خون کی عکاسی کرتا تھا۔ تاہم، بعد میں اسے مزدوروں اور محنت کشوں کی ترجمانی کی علامت کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔
13 جولائی کی چھٹی کو منسوخ کرنے کے فیصلے پر کشمیریوں نے شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ان کی تاریخ کو مسخ کرنے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ایک اور دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ سرینگر کے ایک شہری عبد المجید بانڈے نے بتایا “5 اگست کو بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی نیم آئینی خود مختاری کو اس کے عوام کی مرضی کے خلاف ختم کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بنا دیا۔ تازہ فیصلہ اس زخم پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ وہ کشمیری مسلمانوں کو پشت بہ دیوار کر رہے ہیں”۔
سرکردہ مورخ اور مصنف ڈاکٹر عبد الاحد نے کہا “تاریخ کے تمام جائز اور قابلِ قبول اصولوں، نکتہ ہائے نظر اور حقائق کے تحت سرینگر کی مرکزی جیل کے باہر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے وہ لوگ شہدا کے طور پر یاد کیے جانے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک مطلق العنان حکمران اور اس کی جابر و ظالم انتظامیہ کے خلاف اپنی آواز اُٹھائی تھی”
-

پاپا اورحکومت دونوں کا بیان ایک ہے ،بلاول بھٹو کی سخت سردی میں گرم گرم ٹویٹ
کراچی :پاپا اورحکومت دونوں کا بیان ایک ہے ،بلاول بھٹو کی سخت سردی میں گرم گرم ٹویٹ.اطلاعات کےمطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ملک میں نیب کے خلاف بیان بازی میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کچھ ملے جلے ردعمل اظہارکیا ہے
باغی ٹی وی کےمطابق بلاول بھٹوکا کہنا ہےکہ پاپا نے سچ فرمایا کہ نیب اورمعیشت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بلاول بھٹواپنی ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ حالیہ نیب آرڈیننس اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت بھی صدر زرداری کی معیشت اور نیب ساتھ نہ چلنے کی بات سے متفق ہے
Latest NAB ordinance is proof even government agrees with President Zardari, NAB & our economy can’t run together. Instead of clearly biased efforts the government should work with opposition. do your job & legislate. #AbolishNAB, strengthen anti-corruption laws & end this farce.
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) December 29, 2019
بلاول بھٹوزرداری کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو ساتھ نہ ملا کر نیب قوانین میں ترمیم واضح طور پر حکومت کی متعصبانہ اپروچ ہے ،حکومت اپنا کام کرے اور قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرے
اپنی ٹویٹ میں بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہےکہ حکومت نیب قوانین کو مکمل ختم کرکے انسداد بدعنوانی کے قوانین کو مضبوط کرے اور نیب کا یہ ڈھونگ ختم کیا جائے،یاد رہےکہ بلاول بھٹوبھی دیگراپوزیشن جماعتوں کی طرح نیب آرڈینینس پرکھل کرتنقید کررہےہیں
