Baaghi TV

Author: +9251

  • شدیدسردی ہے،بےگھرغریب افرادکوپناہ گاہوں میں لائیں،اچھاکھانادیں،صحت کاخیال رکھیں‌، عمران خان

    شدیدسردی ہے،بےگھرغریب افرادکوپناہ گاہوں میں لائیں،اچھاکھانادیں،صحت کاخیال رکھیں‌، عمران خان

    اسلام آباد:شدید سردی ہے،بےگھرغریب افرادکوپناہ گاہوں میں لائیں،اچھاکھانا دیں اورصحت کا خیال رکھیں‌،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ شدید سردی میں کوئی بھی شخص بغیر شیلٹر کے نہ رہے۔

     

     

     

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شدید سردی میں کوئی بھی شخص بغیر شیلٹر کے نہ رہے، پنجاب، کے پی کے وزرائے اعلیٰ اس بات کو یقینی بنائیں۔

     

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ شدید سردی میں جو افراد پناہ گاہوں میں نہیں انتظامیہ ان کو کھانا،عارضی پناہ گاہیں بھی فراہم کر ے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کوہدایت کی ہےکہ وہ غریب افراد کوتلاش کریں،ان کوپناہ گاہوں میں لائیں ،اچھا کھانا دیں اوریہ بھی ہدایت کی ہےکہ اچھے ڈاکٹرزکے ذریعے ان کی صحت خیال بھی رکھیں‌

     

     

     

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس وقت ملک میں بہت شدید سردی ہے اورکمزور،غریب اوربے سہارا لوگوں کو آسرا دیں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم نے کہا کہ وہ بذات خود ان پناہ گاہوں کو چیک کریں گے

     

     

     

    یاد رہے کہ گزشتہ سال 10 دسمبر کو وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں شیلٹر ہوم پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا تھا ، شیلٹرہومز بے سہارا اور غریب عوام کے لیے بنائے گئے۔اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلےمیں لاہور میں 5 شیلٹر ہوم قائم کیے گئےبعد ازاں وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر بے گھرافراد کے لیے لاہور میں فٹ پاتھوں پربھی عارضی خیمے لگا دیئے گئے تھے۔

     

     

     

    اس کے علا وہ وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں بھی گزشتہ سال غریبوں کے لئے شیلٹرہوم کاافتتاح کیا تھا، ان شیلٹرہوم میں 150 سے 200 مسافر رات گزار تے ہیں۔

     

     

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے شیلٹر ہوم منصوبے کو ایک سال مکمل ہوگیا، منصوبے کو ملک بھرمیں زبردست پذیرائی ملی، لاکھوں افراد منصوبے سے مستفید ہوئے۔کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے والے افراد کومحفوظ پناہ گاہ ملی، بھوکے پیٹ سونے والے مستحق افراد کو 2 وقت کا کھانا دیا گیا۔

  • بھارت میں متنازع قانون کے بعد مسلمانوں پر تشدد کی انتہا، پولیس نے گھروں پر دھاوا بول دیا

    بھارت میں متنازع قانون کے بعد مسلمانوں پر تشدد کی انتہا، پولیس نے گھروں پر دھاوا بول دیا

    نئی دہلی :بھارت میں متنازع قانون کے بعد مسلمانوں پر تشدد کی انتہا، پولیس نے گھروں پر دھاوا بول دیا،اطلاعات کےمطابق بھارت میں مودی سرکار نے پہلے تو متنازع قانون بنایا اوراب مسلمانوں پر تشدد کی انتہا کر دی، مختلف شہروں کے مسلم علاقوں میں بھارتی پولیس درندگی کرتے ہوئے گھروں میں گھس گئی، بچوں اور خواتین پر تشدد، املاک کو نقصان پہنچایا، گاڑیاں توڑ دیں۔

    بھارت کی شمالی ریاستوں میں پولیس نے مسلم علاقوں پر داھاوا بول دیا، گلی محلوں میں بھارتی پولیس نے املاک کو نقصان پہنچایا۔ بھارتی پولیس گھروں میں گھس گئی، بچوں اور خواتین کو تشدد کا نشانا بنایا، پولیس اہلکار خواتین کو ڈراتا دھمکاتا رہا۔

    شہر کانپور میں پولیس کی فائرنگ سے مسلم نوجوان شہید ہو گئے، انتظامیہ نے مسلم علاقوں میں کرفیو لگا کر لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا۔

    بھارت میں ‘شہریت قانون’ کے خلاف مختلف شہروں میں جاری احتجاج کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں پولیس کے زبردستی داخلے اور طلبہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے بعد احتجاج کا دائرہ دیگر یونیورسٹیوں تک پھیل گیا ہے۔

    بھارت میں حال ہی میں نافذ العمل ‘شہریت قانون’ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج جاری ہے جس کے پیشِ نظر دارالحکومت نئی دہلی میں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی ہے۔ حساس علاقوں میں پولیس کا گشت جاری ہے۔

    جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کی اتوار کو ہونے والی چڑھائی اور پھر ہنگامہ آرائی کے بعد مظاہروں میں دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، بنارس ہندو یونیورسٹی، لکھنؤ یونیورسٹی، ندوة العلما لکھنؤ اور جادھو پور یونیورسٹی کولکتہ کے طلبہ بھی احتجاج کر رہے ہیں۔

  • بلاول نے کب حکومت کےجانےکااعلان کررکھا ہے، کائرہ نے بتایا

    بلاول نے کب حکومت کےجانےکااعلان کررکھا ہے، کائرہ نے بتایا

    بلاول نے کب حکومت کےجانےکااعلان کررکھا، کائرہ نے بتایا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹوکی قیادت میں بینظیرکےوژن کولےکرچل رہےہیں.بی بی کی برسی پرراولپنڈی نےاپنافرض اداکردیا.بلاول بھٹوزرداری ملک کےدیگرشہروں میں بھی جائیں گے،بلاول بھٹونے2020میں حکومت کےجانےکااعلان کررکھاہے.پیپلزپارٹی نےہمیشہ چیلنجزکاسامناکیاہے،بلاول بھٹو4اپریل سےپہلےپنجاب کےاضلاع کادورہ کریں گے،پی پی کےراولپنڈی جلسےمیں رکاوٹیں ڈالی گئیں،جلسےکےلیےفل پروف سیکیورٹی دینےپرپولیس کےعمل کوسراہتےہیں،جلسےکےلیےفل پروف سیکیورٹی دینےپرپولیس کوسراہتےہیں،

    کائرہ نے کہا کہ کہاجاتاتھاکہ پیپلزپارٹی پنجاب سےختم ہوگئی،نیب آرڈیننس میں اصلاحات کی بات کی توکہاگیاکہ آین آراومانگ رہےہیں،حکومت نےمالم جبہ اوربی آرٹی میں اپنےلوگوں کوبچانےکےلیےنیب آرڈیننس میں ترمیم کردی،بی آرٹی اورمالم جبہ میں اپوزیشن کےنہیں، پی ٹی آئی کےلوگوں پرالزامات ہیں،وزیراعظم اب نیب ترمیم کوکیاکہیں گے؟

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھاکہ وزیراعظم کومزاحمت نہیں ملامت ہورہی ہے،ہرمعاملہ عدالت میں نہیں لےجاناچاہتے،نیب آرڈیننس پرپارلیمنٹ میں بات کریں گے،پیپلزپارٹی نےصرف نعرےنہیں لگائے،عوام سےکیےگئےوعدوں پرپوراعمل کیا،عمران خان کےجھوٹ بےنقاب ہورہےہیں،

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بتائیں مزاحمت کون کررہاہے؟وزیراعظم کہتےہیں تبدیلی چاہتےہیں لیکن مزاحمت کاسامناہے،جولوگ خان صاحب کےساتھ ہوگئےان کےگناہ دھل گئے،نیب کےذریعے صرف اپوزیشن جماعتوں کااحتساب ہورہاہے.حکومت کی گھبراہٹ نظرآرہی ہے،رہنماپیپلزپارٹی قمرزمان کائرہ

  • مقبوضہ کشمیر:جموں میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن، کشمیری پریشان

    مقبوضہ کشمیر:جموں میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن، کشمیری پریشان

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:جموں میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن،کشمیری پریشان ، بھارتی فورسز نے جموں میں رامبن کے علاقے بٹوٹ مارکیٹ میں ایک کارڈن اور سرچ آپریشن شروع کیا ہے جو آخری اطلاعات آنے تک جاری تھا۔

    بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع جموں میں ہائی وے پر بٹوٹ ڈوڈہ کے علاقے میں ایک گاڑی پر فائرنگ بھی کی۔
    جموں سے ساوتھ ایشین وائر کے نمائندے شبیر حسین کے مطابق فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر کے رمبن ، ڈوڈا اور گاندربل کے علاقوں میں پرتشدد محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کو جاری رکھاہوا

    یاد رہےکہ یہ اس ہفتے میں تیسری بار آپریشن ہورہا ہے جس کی وجہ سے کشمیری بہت زیادہ پریشان ہیں اورسخت سردی میں ان کو گھروں سے نکال کرکھلے میدان میں بڑی بڑی دیر رکھا جاتا ہے

  • سرگودھا:پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والے 17رضاکار برطرف،مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رضاکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔

    سرگودھا:پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والے 17رضاکار برطرف،مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رضاکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔

    سرگودھا:پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والے 17رضاکار برطرف،مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رضاکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ ڈی پی او عمارہ اطہر
    سرگودھا:ڈی پی او عمارہ اطہر نے پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والے رضاروں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے مختلف تھانوں میں تعینات 17 پولیس رضاکاروں کو برطرف کرنے کے احکامات جاری کردیئے،برطرف رضاکاروں سے یونیفارم اور دیگر سامان جمع کرلیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈی پی او سرگودہا نے کہا کہ اگر کوئی رضا کار کسی بھی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائیگی، آئندہ یہ برطرف رضاکار کسی تھانہ میں پائے گئے تو متعلقہ ذمہ دار کے خلاف کاروائی ہو گی۔برطرف ہونے والے رضاکاروں میں ساجد، افضال، سکندر حیات، اعجاز، غلام مرتضی، نعیم، ذوالفقار، مشتاق، ظفر، غلام سجاد، اختر سجاد، لعل حسین، لیاقت، محمد جاوید، راشد حسین، فلک شیر اور احمد علی شامل ہیں جوکہ تھانہ صدر،سلانوالی،بھاگٹانوالہ، جھاوریاں، بھیرہ، میلہ، سائیوال، عطاء شہید،جھال چکیاں، کوٹ مومن،لکسیاں،کڑانہ میں تعینات رہے۔ ڈی پی او سرگودہا نے مزید کہا کہ سرگودھا پولیس میں کل 406قومی رضا کار ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جنکی باقاعدہ ویری فیکیشن کروائی گئی تھی۔ جن میں سے 17پولیس رضا کاروں کے خلاف کرپشن،جرائم پیشہ افراد سے مراسم،بری شہرت، بدنامی پولیس کے الزامات تھے جبکہ قبل ازیں قومی رضاکار یونیفارم میں گرفتار خاتون کو جیل منتقل کردیا گیا ہے اورجعل ساز خاتون کی گرفتاری میں مزید چھان بین کی جارہی ہے۔

  • امریکی تاریخ‌ میں‌ سب سے زیادہ قتل و غارتگری 2019 میں ہوئی

    امریکی تاریخ‌ میں‌ سب سے زیادہ قتل و غارتگری 2019 میں ہوئی

    واشنگٹن : امریکی تاریخ‌ میں‌ سب سے زیادہ قتل و غارتگری 2019 میں ہوئی ،امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے ڈیٹا بیس نے سال 2019 کو امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ قتل وغارت گری کا سال قرار دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں سال 2019 کو سب سے زیادہ قتلِ عام والا سال قراردے دیا گیا ہے، رواں سال قتل عام کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے جن کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔ڈیٹابیس کے مطابق امریکا میں 2019 میں ایسے 41 واقعات میں 211 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے مرتب کردہ ڈیٹابیس کے مطابق دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو امریکہ کی تاریخ میں رواں برس قتلِ عام کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے جن کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔یاد رہے کہ قتلِ عام اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں قاتل کے علاوہ چار یا اس سے زائد افراد ہلاک ہو جائیں۔

    سال 2019 میں پیش آئے سب سے خوفناک واقعے میں ایل پاسو میں اگست کے دورام 22 افراد ہوئے جبکہ اس سے قبل مئی میں ورجینیا بیچ پر 12 افراد کو قتل کیا گیا۔محققین کے مطابق سنہ 2019 کے کل 41 کیسز میں سے 33 میں آتشیں اسلحے کا استعمال کیا گیا۔اعداد و شمار میں قتل و غارت گری میں امریکی ریاست کیلیفورنیا سرِفہرست رہی جس میں قتلِ عام کے آٹھ واقعات پیش آئے۔

    یہ ڈیٹابیس یوں تو سنہ 2006 سے امریکا میں قتلِ عام کے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے مگر 1970 کی دہائی تک کی جانے والی اس تحقیق میں کوئی دوسرا سال ایسا نہیں جس میں اس سے زیادہ واقعات پیش آئے ہوں۔سنہ 2019 کے علاوہ سنہ 2006 وہ سال تھا جس میں قتلِ عام کے 38 واقعات رونما ہوئے تھے۔

  • صحافت کے لئےایک پریشان کن خاموشی ،مقبوضہ کشمیر میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا

    صحافت کے لئےایک پریشان کن خاموشی ،مقبوضہ کشمیر میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا

    سری نگر:صحافت کے لئےایک پریشان کن خاموشی ،مقبوضہ کشمیر میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا،تفصیلات کےمطابق5 اگست کو بی جے پی کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دینے اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد ، موبائل اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ سمیت ٹیلیفون سروسزبالکل معطل ہیں ،

    اس خطے میں مواصلات کا مکمل لاک ڈاؤن کر دیا۔اگرچہ 14 اکتوبر کو دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد پوسٹ پیڈ موبائل نیٹ ورک پر پابندی ختم کردی گئی ، لیکن پری پیڈ فون ، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ سروسز تقریباًپانچ ماہ سے زیادہ عرصے سے بند ہیں۔

    مواصلاتی بلیک آوٹ نے کشمیر میں اطلاعات کی فراہمی اور آزاد صحافت کا گلا گھونٹ دیا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد عائد پابندیوں کے ابتدائی ہفتوں میں ، مقامی اخبارات کی اشاعت کو کئی دنوں تک معطل کرنا پڑا۔

    12 اگست سے کئی دن تک کشمیر میں کوئی انگریزی اور اردو روزنامہ شائع نہیں ہوسکا۔ تمام نمایاں مقامی روزناموں نے بمشکل چار سے آٹھ صفحات کے ساتھ ، کم کاپیاں شائع کرنا شروع کردیں۔

    متاز مقامی انگریزی روزناموں میں شائع مواد سے سینسر شپ اور پریس پر حکومتی دباوکا اندازہ ہوتا ہے۔ کشمیر کے سب سے کثیر الاشاعت روزنامے گریٹر کشمیر نے 5 اگست کے بعد مہینوں تک کشمیر کی صورتحال پر اداریے کی اشاعت سے گریز کیا ۔

    اس کے علاوہ معروف صحافیوں کے مضامین ، کالموں اور اداریوں میں مواصلات کی بندش اور انسانیت سوز بحران پر بالکل بھی کچھ نہیں لکھا گیا۔ القمرآن لائن کے مطابق ہزاروں مقامی نوجوانوں کی گرفتاری ، جنوبی کشمیر میں نوجوانوں پر تشدد اور معذور ہونے کے بارے میں کوئی خبریں شائع نہیں کی گئیں۔

    یک ممتاز مقامی روزنامہ کے ایڈیٹر نے کہا کہ ان مقامی صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے 5 اگست کے بعد کشمیر پر سرکاری موقف اور حکومتی لائن پر چلنے سے انکار کر دیا۔اخبار ٹیلیگراف کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایک سینئر پولیس افسر نے اگست میں کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ایک تصویری مضمون شائع ہونے کے بعد اخبارکے دفتر میں جاکر مدیران کی سخت سرزنش کی جس کے بعد انگریزی کے کسی بھی روزنامے میں ایسا کوئی مضمون شائع نہیں ہوا۔

    5 اگست سے وادی میں انٹرنیٹ سروسز بند ہونے کے بعد زیادہ تر مقامی روزناموں کے آن لائن ایڈیشن تین ماہ سے زیادہ عرصے تک معطل رہے۔ صرف ایک مقامی روزنامے کشمیر مانیٹر نے کشمیر کے باہر سے اپنے ویب ایڈیشن کو اپڈیٹ کیا۔

    بعدازاں ، حکومت نے محکمہ اطلاعات کے ذریعہ سری نگر کے ایک ہوٹل میں قائم ایک عارضی میڈیا سنٹر میں انٹرنیٹ کی محدود سہولت فراہم کی۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اس کے بعد میڈیا سنٹر کو انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے دو چھوٹے کمروں میں منتقل کردیا گیا جہاں سیکڑوں صحافیوں کو چند منٹ کی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ ایک اور مقامی صحافی نے بتایا کہ ان جیسے کتنے ہی لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے اور سٹوریز فائل کرنے کے لئے نئی دہلی جاناپڑتا تھا۔

    پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ نمائندوں کی دن بھر کی تیار کردہ خبروں، تجزیوں، تبصروں اور رپورٹوں کی پہلے ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کی جانب سے باضابطہ طور جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ خبر کس نوعیت کی ہے، اس میں کیا لکھا گیا ہے۔ ویڈیو یا بائٹ کس طرح کی ریکارڈ کی گئی ہے۔القمرآن لائن کے مطابق اس وجہ سے اب جنوبی کشمیر میں کام کر رہے مختلف میڈیا اداروں سے منسلک نمائندگان کو روزانہ اسی طرح کے طرز عمل سے گزر کر ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں حکام ھمکیوں کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق 14 اگست کی رات ، گریٹر کشمیر کے ایک رپورٹر ، عرفان ملک کو پولیس نے جنوبی کشمیر کے ترال ضلع میں اپنے گھر سے اٹھایا اور ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں بند کردیا۔ جنہیں احتجاج کے بعد ، اسے 17 اگست کو رہا کردیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    کشمیر میں 5 اگست سے پہلے ہی میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں شروع کی گئی تھی۔ ساؤتھ ایشین وائر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)نے چند ماہ قبل انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے پرنٹر اور پبلشر رشید مخدومی کو دلی طلب کیا اور ان سے کئی روز تک تفتیش کی۔ اسکے بعد اسی اخبار کے مدیر فیاض کلو کو بھی ایسے ہی مراحل سے گزارا گیا۔

    گریٹر کشمیر کے مدیران کی دہلی طلبی کے بعد ایک اور انگریزی روزنامہ کشمیر ریڈر کے مالک و مدیر حاجی حیات محمد بٹ کو این آئی اے ہیڈکوارٹر طلب کیا گیا۔اردو روزنامہ آفاق کے مدیر غلام جیلانی قادری کو بھی پولیس نے ایک چھاپے میں انکی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ قادری کو تیس برس پرانے کیس میں وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ ایک اور کشمیری صحافی ، آصف سلطان اگست 2018 سے نظربند ہیں۔ انہوں نے عسکریت پسند کمانڈر برہان وانی پر ایک مقامی میگزین کے لئے ایک سٹوری لکھی تھی ۔

    انٹلیجنس ایجنسیوں اور پولیس نے متعدد دیگر صحافیوں کو 5 اگست کے بعد فائل شدہ رپورٹس کے سورسزکے بارے میں طلب کرکے ان سے پوچھ گچھ کی جس سے مقامی رپورٹرز اور ایڈیٹرز میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی ۔

    دو تنظیموں نیٹ ورک آف وومین ان میڈیا ، انڈیا اور فری سپیچ کولیکٹو(ایف ایس سی) نے4 ستمبر "کشمیر کی انفارمیشن ناکہ بندی” کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ان تنظیموں کی دو رکنی ٹیم نے کشمیر میں میڈیا پر مواصلاتی کریک ڈاون کے اثرات کے تعین کے لئے پانچ دن (30 اگست سے 3 ستمبر تک )کشمیر میں گزارے۔ اس ٹیم نے سری نگر اور جنوبی کشمیر میں 70 سے زیادہ صحافیوں ، نمائندوں اور اخبارات اور نیوز ویب سائٹوں کے ایڈیٹرز سے بات کی ، جس میں مقامی انتظامیہ کے ممبران اور شہری بھی شامل تھے۔

    رپورٹ کے مطابق کشمیر میں میڈیا کی ایک مایوس کن اور مایوس کن تصویر سامنے آئی ۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ٹیم نے کی نگرانی ، غیر رسمی تفتیش اور حتیٰ کہ ان صحافیوں کی گرفتاری کا مشاہدہ کیا جو ایسی خبریں شائع کرتے ہیں جو حکومت یا سیکیورٹی فورسز کے لئے منفی سمجھی جاتی ہیں ۔

    اخبار کی اشاعت کے لئے دستیاب سہولیات اور سرکاری اشتہارات کو ختم کر دیاگیا، اسپتالوں سمیت منتخب علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق ، "ایک پریشان کن خاموشی ہے جو اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا کی آزادی کے لئے زہر قاتل ہے۔”

  • سرگودہا: ڈی پی اوعمارہ اظہر  کی  ہدایت پرسماج دشمن عناصر کے خلاف سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری

    سرگودہا: ڈی پی اوعمارہ اظہر کی ہدایت پرسماج دشمن عناصر کے خلاف سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری

    سرگودہا: ڈی پی اوعمارہ اظہر کی ہدایت پرسماج دشمن عناصر کے خلاف سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری
    ایس ڈی پی او بھلوال سرکل ڈی ایس پی محمد شکیل کھوکھرکی زیر نگرانی تھانہ پھلروان کے علاقہ میں سرچ آپریشن کیا گیا
    دوران سرچ آپریشن 20 سے زائد مکانات ، 15 دکانوں کی تلاشی لی گئی جبکہ50 کے قریب افرادفراد کے کوائف کی تصدیق بذریعہ بائیو میٹرک کی گئی ۔
    سر چ آپریشن میں ایس ایچ اوتھانہ پھلروان، سیکیورٹی برانچ، ایلیٹ فورس، سپیشل برانچ ،سول ڈیفنس اورحساس اداروں نے حصہ لیا ۔

  • نیویارک یہوری ربی کے گھر پر حملہ ،کتنا ہوا نقصان

    نیویارک یہوری ربی کے گھر پر حملہ ،کتنا ہوا نقصان

    نیویارک یہوری ربی کے گھر پر حملہ ،کتنا ہوا نقصان

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق امریکا کے شہر نیویارک میں ایک شخص نے یہودی ربی کے گھر پر تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا۔حملے کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ حملہ کرنے والا شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
    زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد دی گئی ہے جن میں سے ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے۔

    یہ واقعہ نیویارک شہر سے 30 میل دور راک لینڈ کاؤنٹی میں پیش آیا ہے۔
    حملے کے وقت ربی (یہودی مذہبی پیشوا) کے گھر میں سالانہ مذہبی تقریب جاری تھی، جس میں درجنوں افراد شریک تھے۔مذکورہ حملہ آور نے مذہبی تقریب میں شریک 5 افراد پر تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا اور انہیں زخمی کر کے فرار ہو گیا، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

  • کشمیر کے روایتی لباس ‘فرن’کو امریکہ پہنچانے والی سعدیہ مفتی کے عزم اورہمت کوسلام

    کشمیر کے روایتی لباس ‘فرن’کو امریکہ پہنچانے والی سعدیہ مفتی کے عزم اورہمت کوسلام

    سرینگر:کشمیر کے روایتی لباس ‘فرن’کو امریکہ پہنچانے والی سعدیہ مفتی کے عزم اورہمت کوسلام،تفصیلات کے مطابق24 سالہ کشمیری فیشن ڈیزائنر سعدیہ مفتی نے روایتی کشمیری لباس ‘فرن ‘ کو عالمی سطح پر شناخت دینے کا ارادہ کیا ہے۔

    فرن کشمیر کی ثقافت کی ایک اہم علامت ہے جس کا زیادہ تر استعمال سردیوں کے موسم میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا لباس ہے جو انسانی بدن کو گردن سے ٹخنوں تک ڈھانپتا ہے۔ القمرآن لائن کے مطابق کشمیر میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں فرن کا استعمال کثریت سے کرتی ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ اول اس کو ایک مہذب اور شرم و حیا کا لباس سمجھا جاتا ہے۔ دوم اس کے پہننے کے بعد عورتوں کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔

    سعدیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک تجربے کے طور پر اپنے ڈیزائن کئے ہوئے روایتی کشمیری فرن کو ای کامرس ویب سائٹ ‘کشمیر باکس ڈاٹ کام’ پر فروخت کے لئے رکھااور انہیں اس وقت بے انتہا مسرت ہوئی جب انہیں باضابطہ طور پر ملک اور بیرون ملک سے آڈرز موصول ہونے لگے۔

    ذرائع کے مطابق سعدیہ کہتی ہیں ‘جب مجھے امریکہ سے روایتی کشمیری فرن کا پہلا آڈر موصول ہوا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔ اور میری خوشی اس وقت دوگناہوگئی جب فرن ملنے پر اسی امریکی خاتون نے مزید دو فرن کے لئے آڈر بک کیا۔

    نوجوان فیشن ڈیزائنر سعدیہ نے ایک سال ایک ماہ قبل سری نگر کے مصروف ترین تجارتی مرکز جہانگیر چوک کے نزدیک واقع شاپنگ کمپلیکس ‘سارا سٹی سنٹر’ میں ‘ہینگرز ۔۔۔دی کلوزیسٹ'(Hangers The Closet)کے نام سے خواتین کے ملبوسات کا ایک اسٹور کھول کر کاروباری زندگی میں قدم رکھا ،ساوتھ ایشین وائرکے مطابق ان کا کہنا ہے ‘میں چاہتی ہوں کہ میرے اسٹور کے بنائے ہوئے کشمیری فرن کو بین الاقوامی سطح پر شناخت ملے ۔

    میرا کشمیری فرن کو دنیا تک پہنچانے کا مقصد محض پیسہ کمانا نہیں ہے ۔ جو فرن میں آن لائن فروخت کرتی ہوں ان میں منافع کی شرح میں نے بہت ہی کم رکھی ہے۔ کشمیری فرن ایک خوبصورت اور دلکش لباس ہے جس کو کشمیری شال کی طرح بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

    سعدیہ کہتی ہیں کہ ان کے اسٹور میں فی الوقت چار افراد سعدیہ کا ہاتھ بٹاتے ہیں، جن میں دو لڑکیاں کڑھائی کے کام کے ساتھ وابستہ ہیں جبکہ ایک مرد درزی ہے۔اپنے ملبوسات کے کولیکشن میں روایتی کشمیری فرن کو شامل کرنے کے تجربے کے بارے میں وہ کہتی ہیں ‘سال 2015 کے اواخر میں سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی میں نے تجربے کے طور پر اپنے اسٹور میں تقریبا 60 کشمیری روایتی فرن رکھے اور میرا تجربہ کامیاب ثابت ہوا۔

    ان میں سے تقریبا 90 فیصد فروخت ہوگئے ۔ یہ سب میں نے خود ڈیزائن کئے تھے۔ اِن پر کڑھائی، دبکہ اور تلہ کا خوبصورت کام ہوا تھا۔اور ان کو میں نے مخصوص کشمیری اور ویسٹرن ٹچ دیا تھا۔فرن کی آن لائن سیل میرا دوسرا تجربہ تھا جس کی کامیابی نے مجھے بے انتہا خوش کردیا۔

    سعدیہ مفتی نے گورنمنٹ وومنز کالج سری نگر سے گریجویشن کی ہے اور فی الوقت اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعے انٹرنیشنل بزنس میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک فیشن ڈیزائنر بننے کے لئے کسی مخصوص ڈگری کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک تخلیقی سوچ انسان کو فیشن ڈیزائنر بناتی ہے۔

    سعدیہ مفتی کہتے ہیں کہ اس نے اپنے ملبوسات کے اسٹور کے نام ‘ہینگرز ۔۔۔دی کلوزیسٹ'(Hangers The Closet) کے بارے میں بتایا کہ میں چاہتی ہوں کہ میرے ڈیزائنز ہر ایک عورت کی الماری میں موجود ہینگرز پر آویزاں رہیں