Baaghi TV

Author: +9251

  • ایران : احتجاج میں جان گنوانے والوں  کے حق میں مظاہرے

    ایران : احتجاج میں جان گنوانے والوں کے حق میں مظاہرے

    ایران : احتجاج میں جان گنوانے والوں کے حق میں مظاہرے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ایران میں نومبر کی عوامی تحریک میں جان قربان کرنے والے افراد کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے بدھ کی شب ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں کی کال سوشل میڈیا کے ذریعے دی گئی تھی۔

    دارالحکومت تہران کے مغرب میں واقع شہر قلعہ حسن خان میں ایک بڑے مجمع نے احتجاج کیا۔ شوسل میڈٰیا پر وائرل ہونے والے وڈیو کلپوں کے مطابق اس دوران نوجوانوں نے "خامنہ ای مردہ باد” کے نعرے لگائے۔

    ایران کے مغربی شہر کرمان شاہ میں درجنوں افراد نے کاراج اسکوائر کے نزدیک مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے خامنہ ای مردہ باد کے نعرے لگائے جب کہ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر دھاوا بول دیا۔
    واضح رہے کہ ایران نے نومبر کے دوسرے ہفتے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فی صد تک اضافہ کیا تھا جس کے بعد ملک گیر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ایران کے سیکیورٹی اداروں نے پُرتشدد احتجاج میں امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) سے رابطے کے الزام میں بھی کئی افراد کو گرفتار کیا تھا۔

  • ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں استحکام

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں استحکام

    روپے کی قیمت میں استحکام

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اوپن مارکیٹ اور انٹربینک میں روپے کی قیمت میں استحکام دیکھا گیا ہے۔

    فاریکس ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 154.90 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔

    یاد رہے منگل کے روز روپے کی قدر میں بہتری دیکھی گئی اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 20 پیسے کمی کے بعد 154.90 روپے کا ہو گیا۔پیر کے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 155.10 روپے کا فروخت ہوتا رہا تاہم آج پاکستانی روپیہ پھر سے مضبوط ہوا اور ڈالر کی قدر154.90 روپے ہو گی۔

    واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    واضح‌رہے کہ یکم نومبر کو ڈالر کی قیمت 1556.10 تھی اور 30 دسمبر تک 20 پیسے کمی کے ساتھ 155.90 پر آگئی تھی۔واضح رہےگزشتہ چار ماہ کے دوران 155.50 روپے ڈالر کی نچلی ترین سطح ہے۔2019 میں بھی ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
    اپریل 2019 میں ڈالر چھلانگ لگا کر 141 روپے 50پیسے پر آگیا۔ مئی میں 151 روپے اور جون میں تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا. اب تسلسل کے ساتھ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے

  • چین نے جمال خشقجی کیس میں سعودیہ طریق کار کی حمایت کر دی

    چین نے جمال خشقجی کیس میں سعودیہ طریق کار کی حمایت کر دی

    چین نے جمال خشقجی کیس میں سعودیہ طریق کار کی حمایت کر دی

    باغ ٹی وی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جمال خاشقجی کے کیس کے ساتھ نمٹنے میں سعودی عرب کے طریقہ کار کی تائید کرتا ہے۔

    ترجمان کنگ شوانگ کے مطابق "چین نے خاشقجی کیس میں مملکت سعودی عرب کے فیصلے کا بغور جائزہ لیا اور چین قانون کے مطابق اس کیس کو نمٹانے کے حوالے سے مملکت کی حمایت کرتا ہے۔ چین کو اعتماد ہے کہ سعودی عدلیہ کے نظام میں اس کیس کو درست طور سے انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہ کیس سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے.
    واضح‌رہے کہ سعودی عرب میں استغاثہ نے پیر کے روز اعلان میں بتایا تھا کہ عدالت نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے کیس میں 5 ملزمان کو بطور قصاص سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
    جمال خاشقجی قتل کیس کی عدالت میں نو بار سماعت ہوئی،جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا،جمال خاشقجی کو2اکتوبر 2018 کواستنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا

  • ٹرانسپورٹر کیوں پہیہ جام ہڑتال کرنے جارہے

    ٹرانسپورٹر کیوں پہیہ جام ہڑتال کرنے جارہے

    ٹرانسپورٹر کیوں پہیہ جام ہڑتال کرنے جارہے ہیں.

    باغی ٹی وی رپورٹ ٹرانسپورٹرز نے پنجاب کی بجائے ملک بھر میں اپنے مطالبات کے حق میں پہیہ جام ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    واضح رہے اس سے قبل ٹرانسپورٹرز نے دو جنوری کو پنجاب بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تھی۔

    اس ضمن میں چئیرمین پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس عصمت اللہ نیازی نے کہا ہے کہ اب پنجاب ، خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اورسندھ میں بھی پہیہ جام ہڑتال ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ 2 جنوری کو اے سی ، نان اے سی ، چھوٹی بڑی تمام بسیں بند ہوں گی، اس کے علاوہ ٹرک ، منی مزدا ، چھوٹے بڑے تمام ٹرالر بھی ہڑتال پر ہوں گے۔

    عصمت اللہ نیازی نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ موٹروے ، ہائی وے ، رنگ روڈ پر ٹول پلازہ ، جرمانوں میں اضافہ سمیت دیگر اضافی ٹیکس واپس لیے جائیں۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مطالبات نہ مانے تو ہڑتال کو غیر معینہ مدت کیلیے بڑھا دیا جائے گا۔

  • حکومت کےلیےہرروزنیافتنہ، ٹرانسپورٹرزنےہڑتال کااعلان کردیا

    حکومت کےلیےہرروزنیافتنہ، ٹرانسپورٹرزنےہڑتال کااعلان کردیا

    لاہور:حکومت کےلیےہرروزنیافتنہ، ٹرانسپورٹرزنےہڑتال کااعلان کردیاٹرانسپورٹرزکی جانب سےملک بھرمیں اپنے مطالبات کی منظوری کیلئےپہیہ جام ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیاگیا ہے۔

    یہ نہرو، گاندھی کا نہیں مودی کا ہندوستان ہے،اشارہ ملےتوگھنٹےمیں صفایا کردیں گے:

    تفسیلات کے مطابق چئیرمین پبلک اینڈ گڈزٹرانسپورٹ الائنس عصمت اللہ نیازی کاکہناہےکہ اب پنجاب ، خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اورسندھ میں بھی پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔عصمت اللہ نیازی نے بتایا کہ 2 جنوری کو اے سی ، نان اے سی ، چھوٹی بڑی تمام بسیں بند ہوں گی، اس کے علاوہ ٹرک ، منی مزدا ، چھوٹے بڑے تمام ٹرالر بھی ہڑتال پر ہوں گے۔

    دل کے مریضوں کے لیے اکسیرحیات،کم خرچ بالا نشین ، ہرامیرغریب کی پہنچ میں‌

    حکومت مخالف ٹرانسپورٹرتنظیم کے سرغنہ عصمت اللہ نیازی نے حکومت سے مطالبہ کیاہےکہ موٹروے ، ہائی وے ، رنگ روڈ اور ٹول پلازہ پرجرمانوں میں اضافہ سمیت دیگر اضافی ٹیکس واپس لیے جائیں، حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے حکومت کو تنبیہہ کرتے ہوئےکہا کہ اگرمطالبات نہ مانے تو ہڑتال کو غیر معینہ مدت کیلیے بڑھا دیا جائے گا۔

    پہلے یاری پھرمکاری،آشناکوقتل کرنےوالی نے عجیب کہانی سنادی

  • دہشت گردوں نے حملےمیں 31 عورتوں سمیت 35 شہری ماردیئے

    دہشت گردوں نے حملےمیں 31 عورتوں سمیت 35 شہری ماردیئے

    صوم:دہشت گردوں کے حملوں میں 31 عورتوں سمیت 35 عام شہری جاں بحق ۔ ملک میں دو روز کے قومی سوگ کا اعلان۔ حالیہ برسوں میں شدت پسند گروہوں نے برکینا فاسواورشمالی افریقہ کے کئی دوسرے ممالک میں حملے کیے ۔لیکن واضح رہے کہ ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک قبول نہیں کی۔

     

    یہ نہرو، گاندھی کا نہیں مودی کا ہندوستان ہے،اشارہ ملےتوگھنٹےمیں صفایا کردیں گے:

    پچھلے چار برسوں میں دہشتگردوں کے حملوں میں کم از کم 700 افراد ہلاک اور پانچ لاکھ ساٹھ ہزار لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں. یاد رہے کے رواں ماہ کے شروع میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے حملےمیں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    دل کے مریضوں کے لیے اکسیرحیات،کم خرچ بالا نشین ، ہرامیرغریب کی پہنچ میں‌

    کرسمس سے ایک دن قبل منگل کے روز ہونے والے حملے میں درجنوں موٹر سائیکل سوارجنگجوؤں نے حصہ لیا، حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں کا کہنا تھا کہ اگلے کچھ ہفتے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت اہمیت کے حامل ہیں

    پہلے یاری پھرمکاری،آشناکوقتل کرنےوالی نے عجیب کہانی سنادی

    مسلم اکثریت والے ملک برکینا فاسو میں مذہبی ہم آہنگی کی تاریخ بھی موجود ہے۔ لیکن پڑوسی ملک مالی میں شدت پسندوں کے حملے عام ہیں جس کے اثرات سرحد پار بھی پھیلتے نظر آ رہے ہیں۔ اس ملک میں ایسے خاندان موجود ہیں جن میں مسلمان اور مسیحی برادری کے افراد موجود ہیں اور یہ ملک کی آبادی کا 23 فیصد حصہ ہیں۔

    دوریاں ختم اب کویت اورسعودی عرب دوبارہ مشترکہ طورپرتیل پیدا کریں گے

  • بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نئے مستحق کس طرح چنے گئے، بتایا ثانیہ نشتر نے

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نئے مستحق کس طرح چنے گئے، بتایا ثانیہ نشتر نے

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نئے مستحق کس طرح چنے گئے، بتایا ثانیہ نشتر نے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں نئے لوگوں کو ڈیجیٹل سروے کی بنیاد پر شامل کیا جائے گا۔

    ڈاکٹرثانیہ نشترنے بتایا کہ وزیراعظم نے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے حوالے تین باتوں کی منظوری دی ہے۔ 8 لاکھ سے زائد خواتین کو نکال کر ان کی جگہ نئے مستحق افراد کو شامل کیا جائے گا۔

    وظیفے کی حد پانچ ہزار سے بڑھا کر افراط زر کے ساتھ منسلک کی جائے گی اور اس میں پانچ سو روپے کا اضافہ بھی ہوگا۔لائن آف کنٹرول کے قریب رہائش پذیرشناختی کارڈ رکھنے والی تمام خواتین کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔

    معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے بتایا کہ جامع پالیسی کے تحت بی آئی ایس پی پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار 165 خواتین کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

  • آج کے دن :معروف شاعرہ پروین شاکرروڈ حادثےمیں وفات پاگئیں‌

    آج کے دن :معروف شاعرہ پروین شاکرروڈ حادثےمیں وفات پاگئیں‌

    لاہور:آج کے دن :معروف شاعرہ پروین شاکرروڈ حادثےمیں وفات پاگئیں‌،تفصیلات کےمطابق 26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔

     

    یہ نہرو، گاندھی کا نہیں مودی کا ہندوستان ہے،اشارہ ملےتوگھنٹےمیں صفایا کردیں گے:

    پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ ان کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

    دل کے مریضوں کے لیے اکسیرحیات،کم خرچ بالا نشین ، ہرامیرغریب کی پہنچ میں‌

    پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔

    پہلے یاری پھرمکاری،آشناکوقتل کرنےوالی نے عجیب کہانی سنادی

    ہر سال پروین شاکر کی برسی کے موقع پر علم و ادب کے شائق نہ صرف انھیں یاد کرتے ہیں بلکہ ادب دوست حلقے اور مداح خصوصی نشستوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں جس میں پروین شاکر کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور ان کا کلام پڑھا جاتا ہے۔

    دوریاں ختم اب کویت اورسعودی عرب دوبارہ مشترکہ طورپرتیل پیدا کریں گے

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار کندہ ہیں

    انشا اللہ عمران خان دوبارہ اقتدار میں آئیں گے،رحم دل اورنیک حکمران ہے 

    یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے —————- زخمِ ہنر کو حوصلہ لب کشائی دے

    شہر سخن سے روح کو وہ آشنائی دے —————- آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

  • 26 دسمبرمعروف شاعر،ادیب منیر نیازی وفات پاگئے

    26 دسمبرمعروف شاعر،ادیب منیر نیازی وفات پاگئے

    لاہور:تاریخ اپنے آپ کودہراتی ہے ،اورپھروہی ہوا جوتاریخ میں ہوتا ہے،آج کے دن 19 سال قبل 26 دسمبرمعروف شاعر،ادیب منیر نیازی وفات پاگئے26 دسمبر 2006ء کواردو اور پنجابی کے صف اوّل کے شاعر منیر نیازی لاہور میں وفات پاگئے۔

    یہ نہرو، گاندھی کا نہیں مودی کا ہندوستان ہے،اشارہ ملےتوگھنٹےمیں صفایا کردیں گے:

    منیر نیازی 9 اپریل 1923ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اردو کے 13 اور پنجابی کے 3 شعری مجموعے یادگار چھوڑے جن میں اس بے وفا کا شہر‘ تیز ہوا اور تنہا پھول‘ جنگل میں دھنک‘ دشمنوں کے درمیان شام‘ سفید دن کی ہوا‘آغاز زمستاں میں دوبارہ، سیاہ شب کا سمندر‘ ماہ منیر‘ چھ رنگین دروازے‘ ساعت سیار، پہلی بات ہی آخری تھی، ایک دعا جو میں بھول گیا تھا، محبت اب نہیں ہوگی اور ایک تسلسل کے نام شامل ہیں

    دل کے مریضوں کے لیے اکسیرحیات،کم خرچ بالا نشین ، ہرامیرغریب کی پہنچ میں‌

    مورخین کے مطابق منیر نیازی کی پنجابی شاعری کے مجموعے چار چپ چیزاں‘ رستہ دسن والے تارے اور سفردی رات کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔انہوں متعدد فلموں کے نغمات بھی تحریر کئے جو بے حد مقبول ہوئے۔

    پہلے یاری پھرمکاری،آشناکوقتل کرنےوالی نے عجیب کہانی سنادی

    منیر نیازی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے کمال فن ایوارڈ سے نوازا تھا۔وہ لاہور میں قبرستان ماڈل ٹائون کے بلاک میں آسودۂ خاک ہیں،

    دوریاں ختم اب کویت اورسعودی عرب دوبارہ مشترکہ طورپرتیل پیدا کریں گے

  • بجلی مہنگی کر کے  مزید کتنے ارب کا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈالنے کی تیاری

    بجلی مہنگی کر کے مزید کتنے ارب کا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈالنے کی تیاری

    بجلی مہنگی کر کے مزید کتنے ارب کا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈالنے کی تیاری

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی ہے۔نیپرا کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اضافے سے صارفین پر 14 ارب 50 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    نیپرا کا کہنا ہے کہ اضافہ اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے جس میں پانی سے 25.48 فیصد بجلی پیدا کی گئی، مقامی گیس سے 12.17 فیصد، درآمدی ایل این جی سے 25.41 فیصد بجلی پیدا کی گئی جبکہ اکتوبر میں ہائی سپیڈ ڈیزل سے بجلی پیدا نہیں کی گئی۔نیپرا حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنیوں کی نقصانات کے حوالےسے کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔
    واضح‌رہے کہ اس سے قبل موجودہ حکومت گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر چکی ہے.بجلی کی مد میں مزید موجھ عوام پر ڈآلا جارہا ہے