Baaghi TV

Author: +9251

  • تبدیلی آنے لگی ، ادویات کی قمیتوں  میں کمی کی منظوری

    تبدیلی آنے لگی ، ادویات کی قمیتوں میں کمی کی منظوری

    تبدیلی آنے لگی ، ادویات کی قمیتوں میں کمی کی منظوری

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کی جانب سے 89 ادویات کی قیمتیں پندرہ فی صد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی میٹنگ کے دوران ایجنڈے کے نکات میں سے ایک ادویات کی قیمتیں بھی تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2018 کی ادویات کی پالیسی کے تحت اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فی صد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر ظفر مرز نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دو ماہ کے اندر ادویات کی قیمتوں سے متعلق نئی پالیسی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔واضح‌رہےکہ معیشت میں بہتری کے اشاریے آ رہے ہیں. ان کے اثرات عوام تک پہنچنےمیں کچھ دیر لگے لگی ، فروی تک مزید بہتری کے اشارے ہیں،

  • سٹاک مارکیٹ میں بہتری آنے لگی

    سٹاک مارکیٹ میں بہتری آنے لگی

    سٹآک مارکیٹ بہتری آنے لگی

    باغی ٹی وی پاکستان اسٹاک مارکیٹ 320 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 40 ہزار 328 پوائنٹس کی سطح پر بند ہو گئی۔اسٹاک مارکیٹ کا آغاز 40 ہزار 8 پوائنٹس کی سطح پر ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران ہی انڈیکس میں 103 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 546 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 39 ہزار 462 کی سطح پر آ گیا تھا تاہم کاروبار میں بہتری آنے کے بعد انڈیکس مثبت زون میں ٹریڈ کرنے لگا۔ کاروبار کے دوران 478 پوائنٹس تک کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 40 ہزار 486 کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔
    واضح‌رہے کہ پاکستان کی مسلسل سٹآک مارکیٹ میں بھی بہتر ہو رہی ہے اور پچھلے دنوں اسٹاک مارکیٹ نے چھ سال کا ایک ماہ کا ریکارڈ توڑا ہے.خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا

  • سرگودھا فیصل آباد روڈ پر حادثہ۔ بس اور ھاٸ ایس وین میں تصادم

    سرگودھا فیصل آباد روڈ پر حادثہ۔ بس اور ھاٸ ایس وین میں تصادم

    سرگودھا (ادریس نواز سے) فیصل آباد روڈ پر حادثہ۔ بس اور ھاٸی ایس وین میں ٹکر کی وجہ سے 12 افراد شدید زخمی
    تفصیلات کے مطابق

    سرگودھا فیصل آباد روڈ پر بس اور ھاٸ ایس وین میں ٹکر کی وجہ سے 12 افراد شدید زخمی ھو گۓ۔ ذراٸع کے مطابق بس فیصل آباد سے سرگودھا جا رہی تھی اور ھاٸ ایس وین سرگودھا سے فیصل آباد جا رہی تھی۔ ذراٸع کے مطابق حادثہ روڈ ٹوٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔ زخمیوں کو ابتداعی طبعی امداد کے بعد ڈسٹرکٹ ھیڈ کوارٹر منتقل کر دیا گیا۔

  • قائداعظمؒ کا پاکستان بنانے کیلئے دو قومی نظریہ حقیقت بن گیا: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    قائداعظمؒ کا پاکستان بنانے کیلئے دو قومی نظریہ حقیقت بن گیا: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    قائداعظمؒ کا پاکستان بنانے کیلئے دو قومی نظریہ حقیقت بن گیا: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے موقع پر مزار قائد پر حاضری دی۔


    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بابائے قوم نے پاکستان کو دو قومی نظریے پر بنایا تھا اور آج دو قومی نظریے کا سب اعتراف کر رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے لیے قائد کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔
    انہوں نے کہا کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی ہر پاکستانی متحد رہا ہے اور اقلیتوں نے بھی بلا تفریق مشکلات میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ ہم قائد کے ویژن سے ہمیشہ رہنمائی لیتے رہیں گے.

    سربراہ پاک فوج نے کہا کہ ہم ہمیشہ قائد کے ایمان، اتحاد اور نظم کے اصولوں پر چلتے رہیں گے

  • آج قوم اپنے قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا 143 واں یومِ ولادت آج منارہی ہے

    آج قوم اپنے قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا 143 واں یومِ ولادت آج منارہی ہے

    کراچی: آج قوم 25 دسمبر 2019 کو ملک بھر میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کا 143 واں یومِ پیدائش مِلّی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، پاکستان میں عام تعطیل ہے اور جناح صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

    بابائے قوم قائدِ اعظم محمدعلی جناحؒ 25 دسمبر 1876 کو سندھ کے موجودہ دار الحکومت کراچی میں پیدا ہوئے، انھوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں کیا۔ 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلینڈ روانہ ہوئے جہاں سے انھوں نے 1896 میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس آ گئے۔

    بابائے قوم نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا تاہم 1913 میں محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس دوران انھوں نے خود مختار ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کیے۔

    کراچی میں جناح پونجا کے گھر جنم لینے والے اس بچے نے برصغیر کی نئی تاریخ رقم کی اور مسلمانوں کی ایسی قیادت کی جس کے بل پر پاکستان نے جنم لیا۔ قائدِ اعظم کی قیادت میں برِصغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف برطانیہ سے آزادی حاصل کی، بلکہ تقسیمِ ہند کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔

    قائدِ اعظم محمدعلی جناح کی زندگی جرات، ان تھک محنت، دیانت داری، عزمِ مصمّم ، حق گوئی کا حسین امتزاج تھی، برصغیر کی آزادی کے لیے بابائے قوم کا مؤقف دو ٹوک رہا، نہ کانگریس انھیں اپنی جگہ سے ہلا کسی نہ انگریز سرکار ان کی بولی لگا سکی۔مسلمانوں کے اس عظیم رہنما نے 11 ستمبر، 1948 کو زیارت بلوچستان میں وفات پائی اور کراچی میں دفن ہوئے۔

    مسلمانوں کے حقوق اورعلیحدہ وطن کے حصول کے لیے ان تھک جدوجہد نے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ 1930 میں انھیں تپِ دق جیسا موزی مرض لاحق ہوا جسے انھوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقا کے علاوہ سب سے چھپائے رکھا۔ قیامِ پاکستان کے ایک سال بعد 11 ستمبر 1948 کو محمد علی جناح خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ صورتِ حال میں گزارے، ان کا مرض شدت پر تھا اور آپ کو دی جانے والی دوائیں مرض کی شدت کم کرنے میں نا کام ثابت ہو رہی تھیں۔

    ان کے ذاتی معالج ڈاکٹرکرنل الہٰی بخش اوردیگر معالجین کے مشورے پر وہ 6 جولائی 1948 کو آب و ہوا کی تبدیلی اور آرام کی غرض سے کوئٹہ تشریف لے آئے، جہاں کا موسم نسبتاً ٹھنڈا تھا لیکن یہاں بھی ان کی سرکاری مصروفیات انھیں آرام نہیں کرنے دے رہی تھیں لہٰذا جلد ہی انھیں قدرے بلند مقام زیارت میں واقع ریزیڈنسی میں منتقل کر دیا گیا، جسے اب قائد اعظم ریزیڈنسی کہا جاتا ہے۔

    اپنی زندگی کے آخری ایام قائدِ اعظم نے اسی مقام پر گزارے لیکن ان کی حالت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑتی چلی گئی اور 9 ستمبر کو انھیں نمونیا ہوگیا ان کی حالت کے پیشِ نظر ڈاکٹر بخش اور مقامی معالجین نے انھیں بہترعلاج کے لیے کراچی منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

    گیارہ ستمبر کو انھیں سی وَن تھرٹی طیارے کے ذریعے کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا جہاں ان کی ذاتی گاڑی اور ایمبولینس انھیں لے کر گورنر ہاؤس کراچی کی جانب روانہ ہوئی۔ بد قسمتی کہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی اور آدھے گھنٹے تک دوسری ایمبولینس کا انتظار کیا گیا۔ شدید گرمی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی اور قوم کے محبوب قائد کو دستی پنکھے سے ہوا جھلتی رہیں۔

    کراچی وارد ہونے کے دوگھنٹے بعد جب یہ مختصر قافلہ گورنر ہاؤس کراچی پہنچا تو قائدِ اعظم کی حالت تشویش ناک ہو چکی تھی اور رات دس بج کر بیس منٹ پر وہ اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئے۔

    ان کی رحلت کے موقع پر انڈیا کے آخری وائسرے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا کہنا تھا کہ ’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جناح اتنی جلدی اس دنیا سے کوچ کر جائیں گے تو میں ہندوستان کی تقسیم کا معاملہ کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دیتا، وہ نہیں ہوتے تو پاکستان کا قیام ممکن نہیں ہوتا‘‘۔

    قائد اعظم کے بد ترین مخالف اور ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو نے اس موقع پر انتہائی افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ایک طویل عرصے سے انھیں نا پسند کرتا چلا آیا ہوں لیکن اب جب کہ وہ ہم میں نہیں رہے تو ان کے لیے میرے دل میں کوئی تلخی نہیں، صرف افسردگی ہے کہ انھوں نے جو چاہا وہ حاصل کر لیا لیکن اس کی کتنی بڑی قیمت تھی جو انھوں نے ادا کی‘‘۔

  • بھارتی جہازبھی نشئی نکلے،نیشنل ہائی وے، طیارہ پُل کے نیچے پھنس گیا، ویڈیو وائرل

    بھارتی جہازبھی نشئی نکلے،نیشنل ہائی وے، طیارہ پُل کے نیچے پھنس گیا، ویڈیو وائرل

    نئی دہلی:بھارتی جہازبھی نشئی نکلے،نیشنل ہائی وے، طیارہ پُل کے نیچے پھنس گیا،اطلاعات کے مطابق طیارہ حادثہ درگاہ پور کے علاقے میں پیش آیا جب طیارہ پل کے نیچے سے گزرتے ہوئے پھنس گیا۔اس کی ویڈیواس وقت بہت زیادہ وائرل ہوچکی ہے.رپورٹ کے مطابق طیارہ نیشنل ہائی وے 2 کے مقام پر پل کے نیچے پھنسا۔

     

    طیارہ پاسچم بردھامان ضلع کے درگا پور شہر میں سڑک کے بیچ میں موجود پل کے نیچے پھنسا جس کی وجہ سے دوسری گاڑیوں کی قطاری لگ گئیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیارہ گزشتہ رات سے پھنسا ہوا ہے، پولیس کے مطابق ٹرک کے اوپر طیارے کو رکھ کر لے جایا جارہا تھا اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    دنیا کےمہنگےترین دنبےکی نیلامی،کتنے میں فروخت ہواجان کرہوں گےآپ حیران

    طیارہ کے پل کے نیچے پھنسے ہونے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ 2007 میں شروع کیا گیا تھا اور اسے گزشتہ سال سروس سے واپس لے لیا گیا تھا۔

  • پاکستانی طالبہ ندا علی جمالی نے ریسلنگ میں دوگولڈ میڈل حاصل کرکے نام روشن کردیا

    پاکستانی طالبہ ندا علی جمالی نے ریسلنگ میں دوگولڈ میڈل حاصل کرکے نام روشن کردیا

    کراچی :پاکستانی طالبہ ندا علی جمالی نے ریسلنگ میں دوگولڈ میڈل حاصل کرکے نام روشن کردیاتفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے ضلع بدین سے تعلق رکھنے والی پاکستانی طالبہ ندا علی جمالی نے کیلیفورنیا میں منعقدہ خواتین ریسلنگ مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئےدو طلائی تمغے جیت لیےہیں۔

    ندا علی جمالی کےماموں بابرجمالی کا نے مقامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئےکہنا تھا کہ ندا اس وقت اپنی تعلیم کے لئے امریکہ میں مقیم ہے اور وہیں اسے ریسلنگ میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ندا نے ریسلنگ کے مقابلے کے لیےباضابطہ تربیت حاصل کی اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    ندا نے امریکی حکومت کے یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت اسکالر شپ ٹیسٹ میں 6549 امیدواروں میں سے منتخب ہونے والے77 طلبہ و طالبات میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ندا علی نے 14 اگست 2018 کو وہاں ’میریز ولا ہائی اسکول ‘میں داخلہ لیا تھا اور وہ میزبان والدین کے خاندان کے ساتھ وہیں رہ رہی ہے۔

  • بہت زیادہ خون بہنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟ماہرین نے رہنمائی کردی

    بہت زیادہ خون بہنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟ماہرین نے رہنمائی کردی

    لندن:بہت زیادہ خون بہنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟ماہرین نے رہنمائی کردی ،تفصیلات کے مطابق برطانوی ماہرین طب کا کہنا ہےکہ بہت زیادہ خون بہنے سے جسم میں خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے اور اس کی مقدار بہت زیادہ ہو تو موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

    ایسی صورت میں خون کو فوری طور پرروکنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ کے ارد گرد ایسی صورتحال پیش آئے تو متاثرہ شخص کی مندرجہ ذیل طریقوں سے مدد کریں۔زخم کو چھونے سے پہلے دستانے پہن لیں۔ خالی ہاتھ سے زخم کو مت چھوئیں۔

    خون بہنے والی جگہ سے لباس ہٹا دیں، اس کے بعد کسی صاف کپڑے یا روئی سے زخم کو 10 منٹ تک دبائے رکھیں۔ زخم پر پٹی بھی باندھی جاسکتی ہے۔پٹی کو بہت سخت مت باندھیں اور اسے ڈھیلا رکھیں۔ ایک پٹی باندھنے کے بعد بھی خون بہنا نہ رکے تو ایک اور پٹی باندھ دیں، اسپتال پہنچنے تک آپ پٹی کو تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔

    اگر خون بہت زیادہ بہہ رہا ہو تو مریض کا مشاہدہ کرتے رہیں، مریض کی نبض ہر 10 منٹ بعد چیک کرتے رہیں اور اگر سانس رکتی ہوئی محسوس ہو تو مصنوعی سانس دیں۔خون کو روکنے والا آلہ جسے رگ میں لگایا جاتا ہے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اس آلے کا استعمال تجربے کار ڈاکٹر کی جانب سے کیا جانا ہی بہتر ہے۔

  • میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    جس طرح مودی کے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو حقوق و آزادی کے حصول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بالکل اسی طرح پاکستان نیا ہو یا پرانا بالخصوص سندھ میں میرٹ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، گذشتہ کئی دہائیوں سے میرٹ کی بحالی اور میرٹ کی پامالی کے دعووں کو لیکر حکومتوں و اپوزیشن کے مابین الفاظی جنگ چلی آرہی ہے لیکن ہمیشہ سے پاکستان بالخصوص سندھ میں میرٹ کا جنازہ ہی نکلتا آرہا ہے،

    موجودہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے لیکن حکومت شاید بھول رہی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، اسی بات کا فائدہ اٹھا کر سندھ سرکار نے تو جدید بادشاہت کا نفاذ کر رکھا ہے، اٹھارہویں ترمیم کے فوراً بعد بادشاہ سلامت سندھ نے کراچی کے شہری اختیارات کے علاوہ یونیورسٹیز اور سندھ پبلک سروس کمیشن SPSC کو گورنر کی بجائے وزیراعلیٰ کے ماتحت کرلیا جسکے بعد سندھ کی سرزمین پر دھوم دھام سے میرٹ کا جنازہ نکالا گیا

    اب اسے میرٹ کا قبرستان قرار دیا جاسکتا ہے، اگر اس ابتری کا جائزہ لیا جائے تو اس کا لائسینس ایک طرف تو ریاست کے نظام نے دے رکھا ہے جبکہ دوسرا اسے عدلیہ نے جائز قرار دے رکھا ہے کیونکہ یہ جسٹس صاحبان ہی ہیں جو خائن بیوروکریٹس کے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہیں جسکے نتیجے میں وہ کھل کر اندھیر نگری چوپٹ راج کو شد و مد کے ساتھ جاری رکھتے ہیں،

    کاش اگر سپریم کورٹ کے جسٹس صاحب SPSC کے ان افسران و ممبران کو عبرتناک سزا دے دیتی تو آج ایک بار پھر سے اہل افراد عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے پہ مجبور نہ ہوتے، ہوتے، 2017 میں سپریم کورٹ نے SPSC میں میرٹ کے برخلاف بھرتی ممبرز کو باعزت واپسی کا راستہ دیا اور کمبائن کمپیٹیٹو ایگزام 2013 کو مختلف غیرقانونی و میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی وجوہات کی بنا پر دوبارہ کروانے کا حکم دیا لیکن دلچسپ بات دیکھیں اس پورے کیس میں کسی ممبر یا افسر کو بدعنوانی و خیانت پر سزا نہیں دی گئی

    حتیٰ کہ کنٹرولر SPSC جمعہ خان چانڈیو کو بھی واپس سبجیکٹ اسپیشلسٹ بنادیا جبکہ وہ شخص لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے کھیل چکا تھا، ہزاروں نااہل افراد کو بھرتی کرنے والے SPSC کے ممبران و افسران کو بخش دیا گیا یہ جانتے ہوے بھی کہ ان ہزاروں نااہل بھرتی افراد نے اگلے تیس سال پاکستان کی ایسی تیسی کرنی ہے لیکن اس کے باوجود کسی کو سزا نہیں دی گئی الٹا ان غریب و اہل افراد کو بھینٹ چڑھادیا گیا جو محنت کرکے پاس ہوگئے تھے، ایسے میں جہاں سزا کا تصور ہی نہ ہو تو بھلا کوئی سوچ سکتا ہے کہ بدعنوانی اور خیانت رک پائیگی،

    ایک بار پھر سندھ پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل عام ہونے پہ اہلیت سراپا احتجاج ہے اور اہل افراد انصاف کے حصول و میرٹ کے لیے عدالت کا سہارا لینے پہ مجبور ہیں لیکن ہوگا وہی جو روایت ہے متعدد پیشیاں ہونگی، پاریش راول اور امریش پوری کی طرح جسٹس صاحبان ڈائیلاگ ماریں گے کہ اگر ہم نے فلاں کچھ لکھ دیا تو تہماری نسلیں یاد رکھیں گی، ہم نے لال قلم چلادیا تو یاد رکھوگے، اپنے لیے خود ہی سزا منتخب کرلو اگر ہم نے کی تو تمہیں لگ پتہ جائیگا وغیرہ وغیرہ اور نظام بدستور کھڈے لائن ہی لگا رہے گا،

    زرا سوچئے کہ اگر عدلیہ دو تین بڑے افسران کو جرم ثابت ہونے پہ کڑی سزا دے دے تو پھر کوئی افسر بدعنوانی و خیانت کرے گا؟ کبھی نہیں، زرا سوچئے جب سابق کنٹرولر جمعہ چانڈیو پہ جرم ثابت ہوا اور اس کی بھرتی بھی میرٹ کے خلاف ثابت ہوگئی اس کے اثاثوں میں بھی بغیر کسی زریعے کے لاکھوں گنا اضافہ ثابت ہوگیا تو پھر عدالت کا اسے بخش دینا کیا دوسروں کو خیانت و بدعنوانی کا لائسینس دینا نہیں؟

    اگر اس وقت عدالت کی طرف سے ملوث افراد کو نشان عبرت بنادیا گیا ہوتا تو دوبارہ کسی کو جرات نہ ہوتی کہ وہ میرٹ سے کھیلواڑ کرے، نہ دنیا نیوز کو پروگرام کرنا پڑتا نہ ہی کسی کو عدالت جانا پڑتا، کبھی کبھی تو مجھے ایسا بھی لگنے لگتا ہے کہ ایسا جج صاحبان اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اگر یہ حضرات کیسز کو جلدی جلدی نمٹادینگے اور سخت سزائیں دینے لگیں گے تو پھر لوگ غلط کام کرنا چھوڑ دینگے جب لوگ غلط کام نہیں کرینگے تو پھر ججز کو کون پوچھے گا،

    ان کا گزر پانی کیسے چلے گا، خیر کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میرٹ کے بغیر ممکن نہیں، ہاں بالکل مگر پاکستان کو ترقی نہیں چاہئے کیونکہ گزارا تو IMF یا ADB یا کسی ملک سے قرض لیکر ہی چلانا ہوتا ہے وہ بھی نہیں تو بیچاری عوام تو ہے ہی ٹیکسز بڑھادینگے بجلی مہنگی کردینگے گیس کا ریٹ بڑھادینگے سو یوں گاڑی چل جائیگی اس لیے میرٹ کی کیا ضرورت ہے، میرٹ آگیا تو عوام نے اوطاقوں اور ڈیروں پہ آنا جانا چھوڑ دینا ہے کیونکہ پالیسی ساز اہل افراد آجائینگے تو عوام آزاد ہوتی جائیگی،

    اس کے علاوہ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ DG/ISPR صاحب پریس کانفرنس کررہے ہوتے ہیں کہ ملکی سلامتی کو خطرہ ہے دشمن ففتھ جنریشن وار مسلط کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن مجھے حیرت ہے کہ سالوں سے نیشنل سیکیورٹی کے نام پہ قوم کے پیسے کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے لیکن جنگلیوں کی طرح لڑنے کے سوا آج تک ایک کام بھی ایسا نہیں کیا گیا جس سے نوجوان نسل میں مایوسیاں ختم ہوں، نوجوان نسل وڈیروں و سیاستدانوں کی گرفت سے آزاد ہوں، ان کے ذہنوں میں غلط نظام و ناانصافیوں کی وجہ سے ریاست سے نفرت کا عنصر پیدا نہ ہو،

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس ملک کے تھنک ٹینک و پالیسی ساز چاہتے کیا ہیں، ایک بات تو طے ہے یا تو وہ بدنیت ہیں یا نااہل ہیں جو انہیں یہ تک نہیں پتہ کہ نیشنل سیکیورٹی کے لیے سب سے اہم ترین چیز میرٹ اور قانون کا عملی نفاذ ہے یاد رہے کہ میرٹ کے بغیر نہ تو قانون کا عملی نفاذ ممکن ہے نہ ہی کرپشن و بدعنوانی کا خاتمہ ہوسکتا ہے، اور یہ بات بچے بچے کو پتہ ہے کہ میرٹ کی کتنی اہمیت ہے اگر نہیں پتہ تو بس اسٹیبلشمنٹ کو نہیں پتہ یا پھر وہ بدنیت ہے وہ نہیں چاہتے کہ عوام آزاد ہو،

    حالانکہ میرٹ کا نفاذ کوئی راکٹ سائنس نہیں دو دن میں مکمن ہے ایک دن میں ہوسکتا ہے بس تھوڑا ڈنڈا اٹھانا پڑتا ہے یہ بدعنوان بیوروکریٹ مافیا تو ایسی سیدھی ہو کہ دنیا میں مثال دی جانے لگے گی مگر بات وہی ہے کہ نیت ٹھیک نہ ہو تو ایک صدی تک سسٹم ٹھیک نہیں ہوسکتا اس لیے پاریش راول و امریش پوری والے ڈائیلاگ چلتے رہتے ہیں،

    کپتان صاحب کہتے ہیں کہ میرٹ کا نفاذ انکی اولین ترجیح ہے تو بھائی کب کروگے 16 مہینے گزرنے کے بعد بھی نسٹ یونیورسٹی میں یہ کہنا پڑے تو پھر کیا الفاظ کہوں بس اللہ ہی حافظ، NTS یا دیگر نجی ٹیسٹنگ سروسز ہزاروں افراد کا تحریری ٹیسٹ لیتی ہیں اور چند گھنٹوں بعد حاصل کردہ نمبرز کیساتھ نتیجہ جاری کردیتی ہیں

    لیکن واحد انوکھا ادارہ سندھ پبلک سروس کمیشن ہے جو ایک تو نتیجہ دینے میں مہینے یا سال لگا دیتا ہے اور حاصل کردہ نمبر تو ان کو بھی معلوم نہیں ہوتے جو اپائنٹ ہوتے ہیں یا اپائنٹ کرنے والے ہیں، کپتان صاحب اگر آپکی ترجیح واقعی میرٹ کی بحالی ہے اور آرمی چیف صاحب واقعی آپ سنجیدہ ہیں ملکی سلامتی کے لیے تو خدارا اس طرف دھیان دیجئے سندھ میں لسانیت کارڈ کو ریاست مخالف استعمال کیا جاتا ہے

    خدا کے لیے میرٹ کے نفاذ کو یقینی بنائیے تاکہ یہ لسانیت کارڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور لوگوں کا ریاست پہ اعتماد بحال ہو، سندھ پبلک سروس کمیشن جوکہ میرٹ کا قبرستان ہے اسے آڑے ہاتھوں صحیح کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ میرٹ کا قبرستان نااہل افراد کو بھرتی کر کر کے ملکی اداروں اور معاشرے کو قبرستان بنادیگا جو آگے چل ملک و قوم کا قبرستان بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ

  • قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    امریکی مورخ ’’سٹینلے والرٹ‘‘ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جناح آف پاکستان‘‘ کی ابتداء ان الفاظ سے کرتا ہے ’’بہت کم شخصیات تاریخ کے دھارے کو قابل ذکر انداز سے موڑتی ہیں اس سے کم وہ افراد ہیں جو دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جسے ایک قومی ریاست تخلیق کرنے کا اعزاز حاصل ہو۔

    جناح نے یہ تینوں کام کر دکھائے۔‘‘ایسے تمام افراد جنہوں نے دنیا میں کچھ بڑے کام کیے ہوتے ہیں، ان میں کچھ ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو انہیں باقی لوگوں سے ممتاز رکھتی ہیں ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔ ظاہری طور پر دبلے پتلے اورکمزور، لیکن اصول پسندی، پختہ عزم و یقین، صاف گوئی، انصاف پسندی، خوش مزاجی اور پابندی وقت جیسی عظیم خوبیاں ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔ یہی وہ خوبیاں تھیں کہ جن کا اعتراف دشمن بھیکیا کرتے تھے۔

    یہی وجہ تھی کہ انگریزوں اور ہندوئوں کے بڑے بڑے کردار بھی آپ کے سامنے نظریں جھکا لیا کرتے تھے کہ ایک اصول پسند آدمی کے سامنے خود کو کس طرح بڑا بنا کر پیش کریں کیونکہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کے پاس سلطنت یا پیسہ زیادہ ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہے جو اصول پسند اور وقت کا پابند ہو۔ قائداعظم محمد علی جناح کے اصول ان کی زندگی کی سب سے قابل قدر چیز ہیں۔ ان کی زندگی کے راہنما اصول ہمارے لیے واضح پیغام ہیں۔

    ان کی اصول پسندی کا ہی نتیجہ تھا کہ برٹش انتظامیہ اورکانگرس پارٹی کی راہ میں ایک یہی شخص سب سے بڑی رکاوٹ تھا، جس کا آ ہنی حوصلہ اور صبر و استقلال سب کے لیے باعث حیرت اور باعث تشویش تھا۔قائداعظم محمد علی جناح کی اصول پسند زندگی کے چند ایک واقعات آپ کی خدمت میں گوش گزار ہیں۔23 مارچ 1941ء کی بات ہے کہ قائداعظم کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے والی مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی ۔ جب وہ تشریف لائے تو مرزا عبدالمجید تقریر کر رہے تھے۔

    قائداعظم کو داخل ہوتے دیکھ کر لوگوں نے اگلی صف تک راستہ بنانا شروع کر دیا۔ اتنے میں ایک لیگی کارکن نے کہا :’’سر ادھر سے آگے بڑھیے‘‘ تو قائداعظم نے جواب دیا: ’’میں آخر میں آیا ہوں اس لیے یہاں آخر میں ہی بیٹھوں گا۔‘‘ قائداعظم چاہتے تو آگے بڑھ سکتے تھے لیکن انہوں نے آخر میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔

    اسی طرح ایک بار قائداعظم گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی صحن میں چہل قدمی کر رہے تھے اور نیوی کے اے ڈی سی لیفٹیننٹ ایس ایم حسن تھوڑے فاصلے پر ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ سیر کے دوران وہ خلاف معمول ذرا آگے بڑھ گئے اور گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی گیٹ کے بالکل قریب جا نکلے جہاں ایک ایسا نیا سنتری کھڑا تھا جس نے قائداعظم کو روبرو نہیں دیکھا تھا۔ سنتری نے کہا یہیں رک جائیے جناب! آپ آگے نہیں جا سکتے، اجازت نہیں ہے۔ قائداعظم نے کہا
    ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

    سنتری نے کہا نہیں جناب! یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ کسی شخص کو اس نشان سے آگے جانے کی اجازت نہیں، یہی آرڈر مجھے ملا ہے اور اس کی پابندی کروانا میرا فرض ہے، اس پر قائداعظم نے ہاں میں سرہلا دیا۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کو سالگرہ کے موقع پر بے شمار خطوط موصول ہوئے، ان میں سے ایک خط پنجاب کے ایک پرانے مسلم لیگی خان بہادر کا بھی تھا۔

    سیکرٹری نے یہ خط آپ کو پیش کیا اور کہا کہ جناب یہ خط پنجاب سے خان بہادر نے بھیجا ہے، لکھا ہے آپ میرے مرشد ہیں اور مسلم لیگ میرا مذہب ہے، میں مسلم لیگ کے لیے ہر قربانی دینے لیے تیار ہوں، انہوں نے سالگرہ کا تحفہ بھی بھیجا ہے۔ اتفاق سے اس خط پر ٹکٹ نہیں لگے تھے۔۔ قائداعظم نے خط کے مندرجات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ جواب میں لکھو کہ آپ کے خط پر ٹکٹ نہیں تھا،

    بغیر ٹکٹ کے خط وصول نہیں کیے جاتے، سیکرٹری نے غلطی سے آپ کا خط لے لیا، ہر روز بے شمار بے رنگ خط وصول کیے جائیں تو مسلم لیگ کے پیسے کا ضیاع ہو گا۔1947ء کے اواخر کی بات ہے کہ قائداعظم کے بھائی احمد علی گورنر جنرل ہاؤس میں ان سے ملنے کے لیے آئے اور بڑے فخر سے اپنے ملاقاتی کارڈ پر اپنے نام کے ساتھ قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی کے الفاظ لکھ کر کارڈ قائداعظم کے اے ڈی سی گل حسن کو دیا اور کہا کہ قائداعظم کا بھائی ہوں۔

    بھائی اور قائداعظم کا۔۔۔ اے ڈی سی کو کچھ لحاظ تو کرنا ہی تھا، انہوں نے کارڈ فوراً قائداعظم کو پیش کیا۔۔۔ اس کو توقع تھی کہ قائداعظم دیکھ کر بہت خوش ہوں گے لیکن قائداعظم نے اے ڈی سی سے پوچھا یہ ملاقاتی کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا سر آپ کے بھائی ہیں۔ قائداعظم نے پوچھا کیا انہوں نے وقت لیا تھا؟ جس پر گل حسن نے جواب دیا کہ سر انہوں نے وقت تو نہیں لیا تھا۔

    قائداعظم نے سرخ پنسل سے ’’قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی‘‘ کے الفاظ کاٹنے کے بعد کہا
    ان سے کہوکہ کارڈ پر صرف اپنا نام لکھے۔ انہوں نے یہ کارڈ لے جا کر قائداعظم کے بھائی کو دیا اور کہا کہ یہ الفاظ قائداعظم نے خود کاٹے ہیں، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں صرف اپنا نام لکھیں پھر ممکن ہے قائداعظم سے ملاقات کر لیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک پرجوش مسلم لیگی کارکن عبدالستار خیری کو حکومت نے گرفتار کر لیا۔ دوران قید قائداعظم کو بارہاخط بھی لکھتے رہے۔ جب رہا ہوئے تو قائداعظم کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میری رہائی کے لیے بہت کوششیں کیں، جس پر قائداعظم فرمانے لگے کہ میں اصولاً یہ بات گوارا نہیں کر سکتا کہ بغیر مقدمہ چلائے اور بغیر عدالتی کاروائی کے کسی شخص کی آزادی صلب کرلی جائے۔

    جب کوئی فرد یا قوم اپنے وقت کی صحیح معنوں میں قدر کرنا جان جاتی ہے تو دنیا کی تمام کامیابیاں ان کے قدموں کی خاک بن جاتی ہیں۔ پہلے وہ وقت کو اپنے لیے اہم بناتے ہیں، پھر وقت ان کو لوگوں کے لیے اہم بنا دیتا ہے۔ وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور جو شخص وقت کی اس تیزی سے فائدہ نہیں اٹھاتا وقت اس کو اٹھا کر کامیابیوں سے دور پھینک دیتا ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی سب سے بڑی خوبی جس نے انہیں کامیاب کیا وہ وقت کی پابندی تھی۔ اس بارے میں قائداعظم کے کئی واقعات بہت مشہور ہیں۔ سب سے دلچسپ اور انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بننے کے بعد سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا گیا۔قائداعظم اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وہ ٹھیک وقت پر تشریف لائے لیکن کئی وزراء اور سرکاری افسران اس تقریب میں نہیں پہنچے تھے، جن میں وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔

    اگلی قطار کی کرسیاں جو افسران اور وزراء کرام کے لیے مخصوص تھیں، خالی پڑی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر قائداعظم غصے میں آگئے اور حکم کیا کہ پنڈال سے تمام خالی کرسیاں اٹھا دی جائیں تا کہ جو حضرات بعد میں آئیں، انہیں کھڑا رہنا پڑے۔ اس طرح انہیں احساس ہو گا کہ پابندی وقت کتنا ضروری ہے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ پروگرام شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی جناب وزیر اعظم لیاقت علی خان تشریف لائے تو ان کے ساتھ چند وزرا ء بھی تھے۔

    پنڈال میں موجود کسی شخص کو جرأت نہ ہوئی کہ ان کے لیے کرسی لائے یا پنی نشست پر انہیں بٹھائے۔ تقریب کے دوران لیاقت علی خان اور ان کے ساتھ آنے والے وزرا کھڑے رہے۔ ان کا مارے شرمندگی برا حال تھا۔ اس واقعہ کے بعد کسی اعلیٰ افسر کو جرأت نہ ہوئی کی تقریب میں دیر سے آئے۔دسمبر1941 ء میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ سیشن کے آخری روز مقامی طلبا نے قائداعظم سے ملنے کا وقت لیا اور کسی وجہ سے پندرہ منٹ لیٹ ہو گئے۔

    قائداعظم نے اپنے سیکرٹری سے کہا
    ’’مطلوب الحسن!
    ان سے کہہ دو کہ تم لیٹ ہو گئے ہو۔ اب میں تم سے نہیں مل سکتا، کل وقت لے کر آئو۔‘‘ اگلے روز جب وہ طلبا حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی بہتری کے لیے ایسا کیا، آپ نوجوان ہیں، آپ کو وقت کی قیمت کا احساس ہونا چاہیے۔عزیز طلبا! آج ہم بھی نوجوان ہیں، کیا ہمیں بھی وقت کی قیمت کا احساس ہے؟’’

    آج ہمارے پاس وقت جیسی عظیم نعمت موجود ہے ہم اس کی قدر کر لیں گے تو یہ وقت آنے والے دنوں میں ہمیں عظیم بنا دے گا اور اگر آج وقت کی اہمیت کو نہ جانا تو کل بھی دنیا میں ہمیں کوئی پہچاننے والا نہ ہو گا۔‘‘لیڈر کبھی بھی آسمانوں سے نہیں اترتے بلکہ روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو اپنے اندر خدمت انسانیت کا جذبہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو غنی کر دیتے ہیں اور امت کی آسانی کے لیے ان کی راہیں ہموار کر دیتے ہیں۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کو اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے وہ کس قدر، نڈر، بے باک، بے لوث، سچائی کے پیکر، نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال، مخلص، اصول پسند، محنتی اور عوام دوست تھے۔ جب کسی انسان میں اتنی ساری خوبیاں اکھٹی ہو جائیں تو بلاشبہ وہ انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے پر پہنچا دیتی ہیں۔ اسی لیے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت
    تحریر: عبدالحمید صادق