Baaghi TV

Author: +9251

  • ڈالر کی قیمت میں اضافہ

    ڈالر کی قیمت میں اضافہ

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں دس پیسے اضافہ ہوگیا۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں آج ڈالر 155.10 روپے میں فروخت ہوا جو کہ گزشتہ روز 155 روپے میں دستیاب تھا۔اسی طرح اوپن مارکیٹ میں آج بھی ڈالر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور یہ 154.70 روپے میں فروخت ہوا۔

    رواں سال جون سے لیکر اب تک اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں نو روپے 30 پیسے کمی ہوچکی ہے۔
    واضح‌رہے کہ یکم نومبر کو ڈالر کی قیمت 1556.10 تھی اور 30 دسمبر تک 20 پیسے کمی کے ساتھ 155.90 پر آگئی تھی۔واضح رہےگزشتہ چار ماہ کے دوران 155.50 روپے ڈالر کی نچلی ترین سطح ہے۔2019 میں بھی ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
    اپریل 2019 میں ڈالر چھلانگ لگا کر 141 روپے 50پیسے پر آگیا۔ مئی میں 151 روپے اور جون میں تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا. اب تسلسل کے ساتھ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے

  • بڑے لوگوں کے چھوٹے کام،ساحل سمندرپرننھےکچھوے چھوڑنےسےبلاول اوربختاورنےسندھ کی ترقی سمجھ لی

    بڑے لوگوں کے چھوٹے کام،ساحل سمندرپرننھےکچھوے چھوڑنےسےبلاول اوربختاورنےسندھ کی ترقی سمجھ لی

    کراچی:بڑے لوگوں کے چھوٹے کام،ساحل سمندرپرننھے کچھوے چھوڑنے سے بلاول اوربختاورنے سندھ کی ترقی سمجھ لی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے اپنی بہن بختاور بھٹو زرداری کے ہمراہ پیر کو ہاکس بے بیچ پر 300 کے قریب ننھے کچھوؤں کو سمندر کے پانی میں چھوڑ دیا۔

    ساحل سمندرپراپنی اس سیاسی بلوغت کااظہارکرتے ہوئےبلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ، “ہمیں ان کچھوؤں کی حفاظت کرنی چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ واقعی انواع کی پرواہ کرتے ہیں۔لیکن بلاول اس موقع پر یہ کہنا بھول گئے کہ ہمیں کمزور،غریب اور بے بس سندھیوں کا بھی خیال رکھنا چاہیےجونسلوں سے غلامانہ زندگی گزاررہے ہیں‌

    اس موقع پربلاول بھٹواوربختاوربھٹو نے ننھے کچھوؤں کی نرسری کا بھی دورہ کیا اور اس سہولت میں تعینات عملے سے ملاقات کی جو سالانہ ہزاروں ننھے کچھوؤں کو رہا کرتی ہے۔بلاول نے محکمہ سندھ وائلڈ لائف کے عہدیداروں کو بتایا کہ وہ صوبائی حکومت سے محکمہ کو درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لئے کہیں گے

    حکام کا کہنا تھا کہ 34 سال سے سمندری کچھووں کے تحفظ کا کام کیا جا رہا ہے۔ ہرسال اکتوبر سے نومبر کے دوران کچھوے انڈے دینے کے لئے ساحل پر آتے ہیں۔ انڈوں سے بچے نکلنے کے بعد محکمہ جنگلی حیات ان کی دیکھ بھال کرتا ہے جس کے بعد بچوں کو سمندر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

  • بی جے پی کا سابق رکن اسمبلی جنسی زیادتیوں کا عادی مجرم نکلا،درجنوں واقعات کا اعتراف

    بی جے پی کا سابق رکن اسمبلی جنسی زیادتیوں کا عادی مجرم نکلا،درجنوں واقعات کا اعتراف

    نئی دہلی: بی جے پی کا سابق رکن اسمبلی جنسی زیادتی کا عادی مجرم نکلا،درجنوں واقعات کا اعتراف،اطلاعات کےمطابق بھارتی عدالت نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن اسمبلی دلیپ سینگرکو نابالغ لڑکیوں کے اغوا اوران کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم قرار دے دیا۔

    بھارتی اداروں کی اپنی رپورٹ کے مطابق عدالت اس معاملے میں کل سزا کی مدت کا تعین کرے گی، کہا جارہا ہے کہ سینگر کو عمر قید تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔دوران سماعات عدالت نے تسلیم کیا کہ سینگرایک طاقتورآدمی ہےاورمتاثرہ لڑکیاں غریب خاندانوں سے ہوتی ہیں جنہیں یہ زورکے بل بوتے پرزیادتی کا نشانہ بناتا تھا ،

    عدالت نے ایسے ہی ایک کیس میں بی جے پی کے سابق رکن کوسزاسنائی ہے جس میں‌ زیادتی کا شکار ایک دیہاتی لڑکی ہے، وہ کوئی تعلیم یافتہ نہیں ہے جس کی وجہ سے اسے کیس درج کرانے میں تاخیر ہوئی۔متاثرہ لڑکی نے جب اترپردیش کے وزیراعلیٰ ادیتیہ ناتھ یوگی کو شکایتی خط لکھا تو اسے انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے گھر والوں کے خلاف کئی مقدمات درج کیے گئے۔

    بھارتی ریاست اترپردیش کے رکن اسمبلی سینگر نے 2017 میں ایک لڑکی کو ملازمت دینے کے لیے اپنے گھر بلایا تھا جہاں اس کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی۔رپورٹ کے مطابق جب لڑکی اپنے گھر نہیں پہنچی تو گھر والوں نے پولیس کو شکایت درج کرائی جس کے بعد ایک دوسرے شہر سے اسے بازیاب کرایا گیا، لڑکی نے بعد میں بیان درج کرایا کہ اسے اغوا کرکے کانپور لے جایا گیا تھا جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

  • مسلم مخالف شہریت بل،بھارت کےاعلیٰ تعلیمی اداروں کےطلباوطالبات اپنی بقاکےلیےاحتجاج کرتےہوئےنکل پڑے

    مسلم مخالف شہریت بل،بھارت کےاعلیٰ تعلیمی اداروں کےطلباوطالبات اپنی بقاکےلیےاحتجاج کرتےہوئےنکل پڑے

    نئی دہلی :اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت میں غدر مچا ہوا ہے ، ہر طرف گھیراو جلاو اورتورپھوڑ جاری ہے، بھارتی پولیس اورفوج تعلیمی اداروں کے اندر گھس کرطالبات اورطلباپرتشدد کررہے ہیں ،بھار تی حکومت کےمسلم مخالف شہریت بل اور فوج اورپولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلباوطالبات نے اپنی مادرعلمی سے احتجاجی تحریک کا آ غاز کردیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق اس وقت بھار ت کے تمام اعلی تعلیمی اداروں کے طالب علم اورطالبات یونیورسٹیوں،کالجوں اورمدرسوں سے نکل کرسڑکوں پرآچکے ہیں،معتبرذراءع کے حوالے سے یہ معلوم ہواہے کہ دارالعلوم دہلی ،مولانا آزاد میڈیکل کالج، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،علی گڑھ یونیورسٹی ،پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ،دارالعلوم ندوة العلما،پٹنا یونیورسٹی کے طالب علموں نے تدریسی سرگرمیاں معطل کرتے ہوءے احتجاج کارستہ اختیار کیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق حیدرآباد سے مولانا آزاد اردو یونیورسٹی ،عثمانیہ یونیورسٹی ،مدارس یونیورسٹی،جین یونیورسٹی،پندچیری یونیورسٹی،لوءلہ کالج سمیت بڑی تعداد میں یونیورسٹیز اور کالجز کے طلبا بھی اس وقت بھارت کی مکاری کے خلاف علم بغاوت لے کرمیدان میں اترپڑے ہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق اس کے علاوہ بھی سیکڑوں کی تعدادمیں تعلیمی اداروں کے طلباوطالبات اس وقت اپنی تعلیمی سرگرمیاں چھوڑ کے اپنی بقاکی جنگ لڑنے کے لیے سڑکوں پرنکل آئے ہیں، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتی فوج اور پولیس مسلمان طالب علموں کوان کے گھروں سے اٹھا رہی ہے اور نامعلوم مقامات پر لے جاکرتشدد کا نشانہ بنارہی ہے

  • بسوں کوبھارتی پولیس خود جلاکرالزام مسلمانوں پرلگا رہی ہے، دہلی کے نائب وزیراعلیٰ کا انکشاف

    بسوں کوبھارتی پولیس خود جلاکرالزام مسلمانوں پرلگا رہی ہے، دہلی کے نائب وزیراعلیٰ کا انکشاف

    نئی دہلی :بسوں کوبھارتی پولیس خود چلاکرالزام مسلمانوں کو دے رہی ہے ، دہلی کے نائب وزیراعلیٰ کا انکشاف، اطلاعات کےمطابق دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے مظاہرے کے دوران بسوں کو آگ لگانے کے لئے دہلی پولیس کا استعمال کیا۔

    دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شہریت ترمیم ایکٹ کے خلاف جنوبی دہلی میں جاری احتجاج کی آڑ میں بسوں کو نذر آتش کرکے پرتشدد بنا رہي ہے شہریت ترمیم ايکٹ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کا احتجاجی مارچ کے بعد ایسی صورت حال پیدا ہوگئی کہ احتجاج نے تشدد کی شکل اختیار کرلی۔

    اس دوران کئی بسوں کو نذرآتش کردیا گیاجس کا الزام مظاہرین پر عائد کيا گيا ہے جبکہ وزیر اعلی منیش سسودیا نے ایک تصویئر شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ آگ احتجاجیوں نے نہیں بلکہ دہلی پولیس نے لگائی ہے۔ نائب وزیر اعلی نے ہندی میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران پائے جانے والے تشدد کی غیر جانبدارانہ تحقیقات بھي کي جاني چاہئے۔

  • پاکستانی طلباء اور بھارت ،تحریر :محمد عبداللہ گل

    پاکستانی طلباء اور بھارت ،تحریر :محمد عبداللہ گل

    پاکستانی طلباء اور بھارت
    تحریر ازقلم:محمد عبداللہ گل
    پاکستان 14 اگست 1947 کو اس دنیا کے نقشے پر ایک عظیم خودمختار ریاست بن کر ابھرا۔اس ملک کی خاص بات یہ تھی کہ یہ ایک عظیم نظریہ اسلام کے تحت وجود میں آیا تھا۔یہ ہی تو وجہ ہے کہ 1947 سے لےکر اب تلک یہ ہر اسلام دشمن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔اس کو ختم کرنے کے لیےدشمنوں نے بہت سے پروپیگنڈہ کیے۔جیسے پہلے پہل سرحدی چھیڑ چھاڑ اس کے بعد 1965 کی جنگ جو کہ پاکستان کا بدترین دشمن بھارت بری طرح شکست خوردہ ہو گیا۔کیونکہ اس کا مقابلہ اس ملک کی فوج سے ہوا ہے جس کا غزوہ ہند پر اعتماد ہے۔ان سب حربوں اور پروپیگنڈوں کے بعد اس نے 1971 میں ایک ایسا حربہ آزمایا۔پاکستان کے پانچویں بازو بنگال میں طلباء کی ذہن سازی کرنا شروع کر دی۔بھارت نے بڑی ہی چالاکی اور مکاری سے اپنی ایجنسی کے تربیت یافتہ اساتذہ کےبھیس میں بنگال میں داخل کر دئیے جو کی ڈھاکہ یونیورسٹی سے لے کر نچلے تعلیمی ادارے تک بچوں کو پاکستان کے مستقبل کے معماروں کی ذہن سازی کرتے کہ یہ جو مغربی پاکستان والے ہیں یہ تمھارے خلاف ہیں ان کے جذبات کو لسانی بنیادوں پر ابھارا ان کو پاکستان کے ہی خلاف کیا۔اس کے بعد جب بھٹو مجیب اختلافات بڑھ گئے تو انھوں نے یہ احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا بھارتی پروفیسرز کے ذریعے جو کہ اپنے شاگردوں کو احتجاجی مظاہروں میں شرکت پر مجبور کرتے۔اس طرح طلبا یونین کا استعمال کر کے میرے پانچویں بڑے بازو کو 16 دسمبر 1971 کو الگ کر دیا جسے سقوط ڈھاکہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔صد افسوس پھر اسی بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی ڈھاکہ یونیورسٹی میں جاتا ہے وہاں جا کر کہتا ہے کہ "مشرقی پاکستان ہم نے الگ کیا بنگلہ دیش ہم نے بنایا ،رت ہم نے دیا” اور تیرے حکمران خاموش رہے۔قارئین کرام! اس کے بعد 16 دسمبر 2019 آتا ہے بھارت اپنی تمام تر ناکامیوں کا بدلہ اس قوم کے بہادر بچوں سے لیتا ہے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور ہوتا ہے تقریبا 200 کے قریب بچے شہید ہوتے ہیں
    تیری بنیادوں میں ہے لاکھوں شہیدوں کا لہو
    ہم تجھے گنج دو عالم سے گراں پاتے ہیں
    اور ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ گھناؤنی سازش بھارت کی تھی۔اللہ ان شہدا کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔اس کے علاوہ اب دوبارہ حال ہی میں دسمبر میں ہی دشمن نے ایک اور حربہ آزمانے کی کوشش کی اور لال لال تحریک کا آغاز کیا اور اس میں بھی اپنے کارندوں کے ذریعے طلباء کو شامل۔کیا اب اس کی نظریں بلوچستان پر ہے۔قارئین ! اگر ہم نے توجہ نہ دی۔اور پاک فوج کا مکمل طور پر ساتھ نہ دیا تو بلوچستان بھی دشمن کے شکنجے میں چلا جائے گا اس لیے اپنے آپ کو سنبھال لو اور بار بار ناکام ہونے والے دشمن کو دوبارہ ناکام کر دو

  • طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت ! تحریر احمر مرتضی

    طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت ! تحریر احمر مرتضی

    طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت !

    تحریر :احمر مرتضی

    چند دن پہلے اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ہونیوالے افسوس ناک واقعے کو دو گروپوں کے درمیان تصادم قرار دیا جائے یا پھر پر امن طلبا پرغنڈہ عناصر کی طرف سے یک طرفہ حملہ، وجہ جو بھی ہو مگر اس بات کا بطور طالب علم بہت ہی افسوس ہے کہ اس تصادم یا غنڈہ گردی کی یک طرفہ کاروائی میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے خوبرو نوجوان سید طفیل الرحمن شہید ہوگئے، اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ لیکن اب آئیے واقعے کے دوسرے پہلو کی طرف ان دنوں طلبا یونین کی بحالی کی بازگشت طلبا کے مطالبات سےلے کر حکومتی ایوانوں تک سنائی دے رہی ہے قطع نظر اس بات کے کہ اس بحث کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ہم بات کرتے ہے اس چیز پر جسے حکومت کو طلبا یونین کی بحالی کے فیصلہ کے وقت مدنظر رکھنا ضروری ہوگا کہ ماضی میں یونین پر پابندی کی بڑی وجہ غنڈہ گرد طلبا عناصر کی بڑھتی ہوئی انارکی و بدمعاشی اور اس جیسے دیگر مذوم مقاصد تھے جسے طلبا یونین کی اڑ میں سرانجام دیا جارہا تھا سو اب کی بار اگر حکومت وقت ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسلامک یونیورسٹی کے حالیہ واقعے اور ماضی کے تلخ تجربات کو دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے روکنے کےلیے واضح اور دو ٹوک اور سیدھا ٹھوک کی بنیاد پر قوانین ضرور بنائے جس کے تحت ہر نتھو گیرے کو لگام ڈالی جاسکے اور ہر طبقے کو کھل کر اپنی نمائندگی کرنے کا حق فراہم کیا جائے۔
    اب واقعے کے تیسرے پہلو کی طرف وہ یہ کہ جناب سراج الحق سے لے کر ادنی سے جماعتی کارکن تک نے طفیل کی شہادت کا دکھ اپنے دکھ کی طرح محسوس کیا مگر معذرت کے ساتھ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت یا جمیعت کے کسی مرکزی ذمہ دار نے اس واقعے کو اپنے خوفناک ماضی سے جوڑ کر ہی دیکھا ہو یا اسے اپنی “ہولڈ بڑھاؤ، راج کرو” پالیسی کا شاخسانہ قرار دیا ہو کیونکہ جمیت جس کی بنیاد (خالص اسلامی اقدار اور پاکستانیت کی ترویج) پر رکھی گئی تھی اور بڑے بڑے نام اور صد عالی مقام لوگ اس کی تربیت سے پیدا ہوئے اور آج بھی بڑے محترم لوگ اس کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر گزشتہ کئی سالوں سے جمیت کا بدلتا ہوا رویہ اور اس کے خمیر میں چھپی ہوئی شر انگیزی (جو ماضی میں بھی رنگ دکھاتی رہی ہے) بڑی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے جس سے ناصرف کسی دور کی تن تنہا واحد طاقتور طلبا تنظیم کا “تنظیمی ڈھانچہ” بری طرح متاثر ہوا ہے بلکہ عوام الناس میں اس کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی اور ماضی میں جمیعت کے ساتھ جڑ کر اسلام کے رنگ میں رنگنے کا عزم رکھنے والے طلبا آج صرف بدمعاشی، سٹیٹس اور جاہ جلال کے حصول کے لیے اس کی سرپرستی حاصل کرتے نظر آتے ہے اور شنید یہ کہ ذمہ دارانِ جمیت باقاعدہ اس عمل پر طلبا کی حوصلہ افزائی اور شہ فراہم کرتے ہیں اگر اس بات کو سمجھنا ہو تو میں لمبا چوڑا ماضی کنگھالنا نہیں چاہوں گا بلکہ حال ہی کے صرف دو واقعات عرض کرتا ہو جس کا شاہد “راقم الحروف” خود ہے سن دوہزار سترہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں جمیت اور پختون طلبا یونین میں ٹاکرا ہوا وجہ جو بھی تھی مختصر یہ کہ راقم کے کالج (سائنس کالج وحدت روڈ ) سے جمیعت نے تھوک کے حساب سے طلبا کو احتجاج کے نام پر اکھٹا کیا اور “موڑ بھیکیوال” پر جمع ہوکر یہ احتجاج خوف ناک تصادم میں تبدیل ہوگیا اور مخالفین کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس کے جوانوں کو بھی “میدان کارزار “
    میں خوب رگڑا لگایا گیا اور عالی قدر دوسرا واقعہ چند دن پہلے کا ہے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں “کشمیر پروگرام” کے حوالے سے باقاعدہ اجازت کا مشورہ عنایت کرنے پر جمیعت کے جانبازوں نے سٹوڈنٹ افیئرز کے پرنسپل کو ٹھڈوں، مکوں اور دھکوں سے اپنی بادشاہت میں مفت مشورہ دینے کی سزا فراہم کی۔ واقعات تو اور بھی بہت ہیں، مگر میں یہ جاننا چاہتا ہوکہ ان واقعات کی وجہ کیا ہے؟ جو مجھے سمجھ آتی ہے کہ ایسے واقعات جو ملک بھر کی تمام چھوٹی بڑی یونیورسٹیوں میں آئے دن رونما ہوتے رہتے ہے (جن میں ہمیشہ کی طرح دونوں فریق ہی قصور وار ثابت ہوتے ہے ) تن تنہا اور عظیم جمیعت کا ہرتنظیم کو اپنے مقابل جاننا اور اس کے پلیٹ فارم سے منعقدہ کسی بھی پروگرام کو بدہضمی کی شکایت کی نظر سے دیکھنا ہے اور پھر جب یہ شکایت شدید پیٹ درد کی وجہ بنے تو پھر تمام تر میڈیسن سے لیس ہوکرمخالفین پر چڑھ دوڑنا ہے اور نتیجۃ مخالف گروہوں کی جانب سے بھی موقع ملتے طفیل شہید جیسے واقعات رونما کردینا ہے!

    لہذا میری جماعت اسلامی کی محنت کش قیادت سے درمندانہ اپیل ہے کہ مقابل سے مقابلہ کی سوچ کو ترک کرکے برداشت اور طلبا یونین میں ہر طالب علم کو اپنی پسند کی جماعت کو چننے کا پرامن حق فراہم کیا جائے اور اپنے ناظمین کو ہرکسی کی نمائندگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا مخلصانہ مشورہ عنایت کیا جائے بلکہ آپ کو چاہیے کہ اپنے کارکنان کو ان کی شاندار بنیاد (جس پر کام کھڑا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا) پر یہ ہدف دیجیے کہ بھائی آپ طلبا کو احسن انداز سے ہر اس گروہ میں شمولیت سے روکیں جہاں ان کا تعلیمی کئیریر برباد ہو، ملک و قوم کی خدمت کے عزم کو زک پہنچے اور گھر والوں کی امیدوں پر بھی پانی پھرنے کا سبب ہو ،لیکن اگر آپ کا یہی رویہ رہا جو بدستور جاری ہے تو پھر طلبا یونین کی بحالی فقط آپ کی عالی شان ،خود مختار سلطنت کو حمایتِ سلطان کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے زیادہ کچھ نہیں اور گو کہ اس امر سے آپ کی بدمعاشی کو سند فراہم ہوجائے گی اور طلبا اسلام کی نام نہاد رکھوالی جماعت سے سندِ غنڈہ گردی حاصل کرتے رہیں گے اور نتیجہ کے طور پر دیگر جماعتیں نامناسب نمائندگی کا رونا روتی رہیں گی اور ردعمل کے طور پر کتنے ہی جماعتی و دیگر تنظیمی “طفیل” اس معمولی اقتدار کی چاہ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔
    لہذا وقت ہے کہ ان واقعات سے جماعتی کارکنان بالخصوص اور دیگر تنظیمی جیالے سبق حاصل کرکے اپنا قبلہ درست کرلیں اور حکومت وقت بھی ایسے واقعات کی روک تھام کےلیے سخت سے سخت قوانین متعارف کروائے تاکہ نہ تو طلبا کی پڑھائی کا حرج ہو اور اگر وہ تنظیمی لائف کو انجوائے کرنے کےلیے کسی کے ساتھ منسلک ہونا چاہے تو ان کو واضح سوجھ بوجھ ہوکہ وہ جس کا انتخاب کرنے جارہے ہے وہ طلبا کی راہنمائی اور انہیں خالص اسلامی فکر دینے یا خالص پاکستانی بنانے کا ایک پلیٹ فارم ہے یا پھر طلبا تنظیم کی شکل میں لسانی ،صوبائی اور دیگر بنیادوں پر کھڑا ہوا تخریب کار گروہ ہے جس سے وہ کئی مذموم مقاصد میں آلہ کار بن کے رہ جائیں گے۔

  • خونی احتجاج سے مودی سرکار دہل گئی ، شہریت ترمیمی ایکٹ میں‌بھارتی وزير داخلہ نے تبدیلی کا اشارہ دے ديا۔

    خونی احتجاج سے مودی سرکار دہل گئی ، شہریت ترمیمی ایکٹ میں‌بھارتی وزير داخلہ نے تبدیلی کا اشارہ دے ديا۔

    شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے وزير داخلہ نے تبدیلی کا اشارہ دے ديا۔

    شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف بھارت بھر میں جاری مظاہروں کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس قانون میں تبدیلی کا اشارہ دے دیا ہے۔
    شہریت ترمیمی ایکٹ پرملک گیر احتجاج ، پرتشدد مظاہرے اور شمال مشرق ریاستوں کے وزرائے اعلی کی اپیل کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دھنباد میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران کہا کہ اس قانون سے متعلق شمال مشرق ریاستوں کے لوگوں کو اعتراضات ہيں اور اسي وجہ سے میگھالیہ کے وزیراعلی نے مجھ سے ملاقات کی اور اپنے اعتراضات سے آگاہ کيا۔ میں نے انھیں یقین دلایا ہے کہ کرسمس کے بعد اس کا کوئی نہ کوئی مثبت حل نکالا جائے گا اور اس قانوني ترميم سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
    ہندوستان ميں شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 کے خلاف شمال مشرقی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر پرتشدد احتجاج ہوئے تھے اور اس کو بی جے پی سرکار کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا جارہا ہے۔ اس ایکٹ کے تعلق سے شمال مشرق میں بی جے پی کے اہم اتحادیوں نے پہلے اس ایکٹ کی حمایت کی تھی لیکن بعد میں اس قانون کی مخالفت شروع کردی۔
    اے جی پی نے اپنے سینیئر رہنماوں کی ایک میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کيا ہے کہ وہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اپیل داخل کریں گے۔ اس ضمن میں ان کا ایک وفد وزیراعظم اور وزیرداخلہ سے ملاقات بھی کرے گا۔ خیال رہے کہ اے جی پی آسام حکومت کاحصہ ہے اور ریاستی کابینہ میں اس پارٹی کے تین وزیر بھی ہیں۔

  • سعودی عرب اور امارات کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالرز ڈیپازٹ میں توسیع

    سعودی عرب اور امارات کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالرز ڈیپازٹ میں توسیع

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کیلئے جمع کرائے گئے 5 ارب ڈالرز کے ڈیپازٹس میں توسیع کردی۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، پاک سعودیہ دوستی اب مزید مستحکم ہو رہی ہے. اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس دوستی کا ثبوت دے رہے ہیں .سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ بینک میں جمع کروائے گئے پانچ ارب ڈالرز کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی اور اب رواں ہفتے آئی ایم ایف سے قرضے کی دوسری قسط بھی ملنے کی توقع ہے۔
    ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت کے حالیہ دوروں میں ہوئی۔ وزیراعظم نے حال ہی میں سعودی عرب اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یو اے ای کا دورہ کیا ہے۔

    پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کونرم قرضے میں بدلنے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان ممالک سے قرضے پر شرح سود بھی کم سے کم رکھنے کا کہا جائے گا۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کوسہولت دینے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے معاشی بحران سے نکلنے کیلئے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ پاکستان اور سعودی عرب ڈیپازٹس کو نرم قرضے میں بدلنے کا معاہدہ جلد کریں گے۔
    واضح‌رہے کہ پاکستان کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کو اس سلسلے میں کافی تعاون دے رہا ہے . اور عمران خان کے ان ممالک کے دورے سے یہ رشتہ مزید مستحکم ہوا ہے.

  • جوتا چھپائی کي رسم دولہن والوں کومہنگی پڑگئی،سالیوں کی پٹائی پھردس لاکھ کے عوض شادی

    جوتا چھپائی کي رسم دولہن والوں کومہنگی پڑگئی،سالیوں کی پٹائی پھردس لاکھ کے عوض شادی

    اترپردیشن:جوتا چھپائی کي رسم دولہن والوں کو مہنگی پڑگی دولہے نے سالیوں کی پٹائی اورپھردس لاکھ روپے لينےکے بعد شادی کے لئے راضی ہوا۔

    شادی میں دولہے کا جوتا چھپانے کی رسم ایک خاندان کو اس وقت مہنگی پڑ گئی جب ایک دولہے نے غصہ ميں آکر شادی سے انکار کردیا اور دلہن کي رشتہ دار خواتین کو زدو کوب بھی کیا۔ یہ واقعہ اترپردیش کے مظفر نگر ضلع کے سیسولی گاوں میں پیش آیا

    یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب دولہے کی ہونے والے سالیوں نے دولہے سے جوتا چھپائي کي رسم کے ليے رقم کا مطالبہ کيا دولہا جوتا واپس لوٹانے کا مطالبہ کرتا رہا لیکن اس کی ہونے والی سالیوں نے بغیر رقم ادا کئے جوتا دینے سے انکار کردیا۔ اس پر 22سالہ دولہے وویک کمار نے غصہ میں آکر اپنی ہونے والی سالیوں کو مارنا پیٹنا شروع کردیا۔

    دولہا اور دولہن کے رشتہ دار دولہے کو روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن شدید غصہ میں دولہا نے بيچ بچاو کي کوشش کرنے والے دلہن کے ايک عمر رسيدہ رشتہ دار کو تھپڑ رسید کرتے ہوئے شادی سے انکار کردیا۔

    جس پر بارات کو واپس بھیج دیا گیا۔ معاملے کو ٹھنڈا کروانے کیلئے پولیس سے مدد لینا پڑی۔ اسی دوران دلہن والوں نے دس لاکھ روپے نقد رقم بطور جہیز دینے کی پیشکش کرتے ہوئے شادی نہ توڑنے کا کہا ۔ جس کو دولہا اور اس کے رشتہ داروں نے قبول کرلیا۔

    پوليس کا کہنا تھا کہ دولہا و دولہن کے رشتہ داروں نے پولیس اسٹیشن کے باہر ہی معاملہ سلجھالیا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں شادی کی رسومات میں سالیاں دولہے کا جوتا چھپاتی ہیں اور پھر اس رسم کے مطابق وہ دولہے سے کچھ رقم لے کر جوتا واپس کرتی ہیں۔