Baaghi TV

Author: +9251

  • سعودی خواتین اب ہوں گی مزید نمایاں و مستحکم، نیا پلان

    سعودی خواتین اب ہوں گی مزید نمایاں و مستحکم، نیا پلان

    سعودی خواتین اب ہوں گی مزید نمایاں و مستحکم، نیا پلان

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق معیشت، ملازمت اور کاروبار میں خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے سعودی عرب کی حالیہ پالیسیاں غیر معمولی حد تک اگے بڑھ رہی ہیں۔ کاروبار اور ملازمت کے میدان میں خواتین کو مالی طور پر سپورٹ کرنے والے ممالک میں عالمی سطح پر سر فہرست ہے۔ سعودی عرب میں ملازم پیشہ خواتین اور ان کے بچوں کی بہبود کے لیے قائم کردہ پروگرامات ‘قرہ’ اور ‘وصول’ ان خواتین اور ان کے بچوں کی ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اخراجات کا 80 فی صد ادا کرتے ہیں۔

    تکامل ہولڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر خالد الیمانی نے اس بارے اپنے پروگرام کا بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت سعودی عرب کی حکومت خواتین کو معاشی میدان میں با اختیار بنانے کے لیے ان کی سب سے زیادہ مالی مدد کر رہی ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کی بے روزگاری کا تناسب 30 فی صد اور مردوں میں 5 فی صد ہے۔
    واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو روزگار مہیا کرنے اور انہیں مردوں‌کے شانہ بشانہ لانے میں اہم کردار کیا جارہاہے .اس سلسلے میں‌ ریاض میں میڈیکل کی ایک طالبہ نے فارغ وقت کو مفید بنانے کی غرض سے شاہراہ کے کنارے چائے کا ڈھابہ لگا لیا ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ عملی زندگی کو قریب سے دیکھنا چاہتی ہوں۔
    مذکورہ طالبہ کی وڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر سبق نیوز نے اس سے ملاقات کی تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ طالبہ کی جانب سے سڑک کے کنارے چائے فروخت کرنے کی اصل کہانی کیا ہے؟
    طالبہ کا کہنا تھا کہ ‘میں زندگی کو قریب سے دیکھ کر مستقبل کے لیے راہ متعین کرنا چاہتی ہوں، پڑھائی کے ساتھ ساتھ میری یہ خواہش ہے کہ اپنے فارغ وقت کو کارآمد بناتے ہوئے تجارت کے اصولوں کو سمجھوں۔

  • عمران خان عالمی لیڈر،سوئٹزرلینڈ میں عالمی مہاجرین فورم سےخطاب ،ملکوں‌ کےسربراہ ملاقات کےمتمنی

    عمران خان عالمی لیڈر،سوئٹزرلینڈ میں عالمی مہاجرین فورم سےخطاب ،ملکوں‌ کےسربراہ ملاقات کےمتمنی

    اسلام آباد:عمران خان عالمی لیڈر،سوئٹزرلینڈ میں عالمی مہاجرین فورم سے وزیراعظم خطاب کریں‌گے ،اطلاعات کےمطابق وزیر اعظم عمران خان سوئٹزر لینڈ میں منعقد ہونے والے عالمی مہاجرین فورم میں شرکت کریں گے۔وزیراعظم کواس فورم میں خصوصی خطاب کی خصوصی دعوت دی گئی ہے

    سانحہ اے پی ایس پانچویں برسی،ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے خصوصی ترانہ جاری

    وزیر اعظم آفس کے ترجمان نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ اور سوئس حکومت کے اشتراک سے 17 اور 18 دسمبر کو عالمی مہاجرین فورم کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے لیے وزیر اعظم عمران خان بھی 17 دسمبر کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ پہنچیں گے۔

    آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    وزیر اعظم سوئٹزر لینڈ میں عالمی مہاجرین فورم کی مشترکہ صدارت کریں گے، ترک صدر طیب اردگان، کوسٹاریکا، ایتھوپیا اور جرمنی کے سربراہان بھی اس فورم کا حصہ ہوں گے۔ فورم میں 40 سال تک افغان مہاجرین کی میزبانی کا ذکر کریں گے، وزیر اعظم فورم کے شرکا کو مہاجرین کے حوالے سے تجربات، اپنی رائے اور حکومتی کاوشوں سے بھی آگاہ کریں گے۔

    16دسمبر،سقوط ڈھاکہ بھارت کی سازشیں اپنوں کی غلطیاں،مگرتکلیف دہ مناظر

    وزیر اعظم جنیوا میں قیام کے دوران عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، پروگرام کے مطابق وزیر اعظم، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ظہرانے میں بھی شرکت کریں گے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عالمی رہنماوں نے اس موقع پر وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کی خواہش کااظہاربھی کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آرکی پنڈی کرکٹ سٹیڈیم آمد،مہمان بھی خوش، میزبان بھی خوش اورشائقین…

  • سانحہ اے پی ایس پانچویں برسی،ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے  خصوصی ترانہ جاری

    سانحہ اے پی ایس پانچویں برسی،ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے خصوصی ترانہ جاری

    راولپنڈی: قوم اپنے ننھے شہداکوکبھی بھی نہیں بھول پائے گی ،ہم اپنے ان ننھے شہداکوخراج تحسین پیش کرتے رہیں گے اور آنے والی نسل کوبتائیں گے کہ اس ملک کی آبیاری میں اس قوم کے فرزندوں کا کتنا حصہ اورکردار ہے، اطلاعات کےمطابق سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کی پانچویں برسی کے موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سےخصوصی ترانہ جاری کر دیا گیا۔

    https://youtu.be/XWmkEFDjnl4

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرسانحہ اے پی ایس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔انہوں نےٹویٹرپرپیغام دیاکہ شہدا اوران کے اہلخانہ کو سلام پیش کرتے ہیں، دہشتگردی کو ناکام بنانے کےلیےہم نے طویل جدوجہد کی ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے دیے گئےپیغام میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں دیرپا امن اور خوشحالی کےلیے متحد ہوکرآگے بڑھنا ہوگا۔واضح رہے کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہدا کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے ۔16دسمبر 2014ء کا دن، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    سانحے میں شہید ہونے والے اپنے پیاروں کی یاد میں والدین اور پوری قوم کی آنکھیں آج بھی پرنم ہیں،اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں خصوصی دعائیہ تقریبات کاانعقاد کیاگیاہے ، شہدا کی روح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ اور قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیاگیاہے۔

    اس دن سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔سانحہ اے پی ایس نے ملک سمیت دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کی آنکھوں کو نم کر دیا، پانچ سال پورے ہونے کے بعد آج بھی بچھڑنے والوں کا غم اسی طرح تروتازہ ہے۔

  • مودی کے ہندوتوا کے خلاف خون آشام مظاہرے ، مزید 16 مظاہرین ہلاک

    مودی کے ہندوتوا کے خلاف خون آشام مظاہرے ، مزید 16 مظاہرین ہلاک

    مودی کے ہندوتوا کے خلاف خون آشام مظاہرے ، مزید 16 مظاہرین ہلاک

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مبابق بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت کے منظورکردہ شہریت کے نئے مگر متنازعہ قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔اتوار کے روز سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور تشدد کے واقعات میں مزید چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    حکام نے امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے کے لیے مختلف مشرقی شہروں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے جبکہ احتجاج کی تشہیر روکنے کے لیے انٹرنیٹ پر بھی پابندی عاید کررکھی ہے۔

    بھارت کی مشرقی ریاست آسام کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی میں صورت حال سخت کشیدہ بتائی جاتی ہے۔اس شہر میں فوجی اپنی گاڑیوں پر گشت کررہے ہیں۔گوہاٹی میں آج قریباً پانچ ہزار افراد نے شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔وہ اس کے خلاف اور آسام کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔کسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات تھے.
    دہلی میں ہونے والے احتجاج ہنگاموں کی شکل اختیارکرگئے ہیں‌،دوسری طرف پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کی کوشش کی اور طاقت کا استعمال کیا ، جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج پرتشدد ہوگیا ، جس کے بعد دہلی میٹرو کے کئی اسٹیشنوں پر آمدورفت روک دی گئی۔ بالخصوص جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حالات زیادہ خراب ہوگئے تھے۔

  • پنجاب یونیورسٹی میں انسداد پولیو مہم کا آغاز اہم صوبائی وزیر نے کیا

    پنجاب یونیورسٹی میں انسداد پولیو مہم کا آغاز اہم صوبائی وزیر نے کیا

    پنجاب یونیورسٹی میں انسداد پولیو مہم کا آغاز اہم صوبائی وزیر نے کیا

    باغی ٹی وی رپورٹ :صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں نے پنجاب یونیورسٹی میں انسداد پولیو مہم کا آغازکیا، وزیر ہائیر ایجوکیشن نے پنجاب یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے

    انسداد پولیو مہم میں وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کی شرکت کی ، اس موقع پر صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں نے کہا کہ پاکستان ان دو ملکوں میں شامل ہے، جہاں آج بھی پولیو موجود ہے، پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ پولیو جیسے مرض کو شکست دیں، ہر پاکستانی سے درخواست ہے کہ بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں،

    ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچائیں، اساتذہ اور طلباء پولیو کے خلاف آگاہی میں اپنا کردار ادا کریں،

  • شہبازشریف کا سانحہ اے پی ایس کی برسی پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت، اہم پیغام دیا

    شہبازشریف کا سانحہ اے پی ایس کی برسی پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت، اہم پیغام دیا

    شہبازشریف کا سانحہ اے پی ایس کی برسی پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت، اہم پیغام دیا

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا سانحہ اے پی ایس کی برسی پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ اس قومی سانحے پر قوم کے دل آج بھی زخمی ہیں
    اپنے معصوم بچوں کے غم میں ذہنی توازن کھو بیٹھنے والی ماوں کو ہم بھلا نہیں سکتے
    سانحہ اے پی ایس کے معصوم بچوں کا پاک خون دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کا بین ثبوت ہے
    یہ دن پوری دنیا کے لئے پیغام ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ دہشت گردی کے خلاف ہے
    رنگ ونسل، مذہب وعقیدہ اور کسی علاقے کی تفریق کے بغیر پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف لہو دیا ہے
    سانحہ اے پی ایس نے دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو ایک بیانیہ دیا
    معصوم بچوں کے پاک لہو نے ہی پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا
    مسلح افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف عظیم قربانیوں پر سلام پیش کرتے ہیں
    ہر شہید ہمارا ہیرو اور اس کے اہلخانہ پاکستان کے حقیقی وارث ہیں
    اللہ تعالی شہداءکے درجات کو بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے

  • آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    اسکول کی گھنٹی جیسے ہی بجی، تمام بچے اسمبلی ہال میں آکر کھڑے ہوگئے۔ دعا کے بعد تمام بچوں نے بہ آوازِ بلند قومی ترانہ پڑھا اور پھر اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ابھی کلاسز میں پڑھائی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ اچانک پورا اسکول فائرنگ سے گونج اٹھا،

    16 دسمبر 2014 کا دن پوری قوم کےلیے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جسے قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے اسکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور بچوں کو چن چن کر قتل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے اسکول پہنچنے تک دہشت گرد خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کچھ ہی دیر میں ان ظالموں نے 132 معصوم جانوں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا۔

    واقعے کے بعد ہر طرف خون اور معصوم بچوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور اگر پیچھے کچھ بچا تھا تو صرف شہید بچوں کے والدین کی آہیں اور سسکیاں تھیں۔ اسکول کے در و دیوار دہشت اور ہولناکی کی دردناک کہانی بیان کررہے تھے، دہشت گردوں نے اسکول میں درندگی کی ایسی مثال قائم کی کہ انسانیت بھی شرما جائے۔

    سلام ان معصوم شہدا کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان شہدا کے لواحقین کو جن کے بچے صبح اسکول تو گئے لیکن واپس گھروں کو نہ آئے۔ سلام ان بہادر اساتذہ کو جنہوں نے بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان قربان کردی، بالخصوص پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کو جنہوں نے فرض شناسی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان قربان کردی لیکن دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ میں دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ہر آنکھ اشک بار تھی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا اس ساںحے کی بربریت کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھی۔ واقعے میں شہید بچوں اور افراد کے لواحقین کے صبر اور عظمت کو سلام۔ لیکن جو اس حملے زخمی ہوئے تھے، ان کے ذہنوں پر اس دردناک سانحے کے انمٹ نقوش آج تک موجود ہیں۔

    اے پی ایس سکول کے ننھے طالبعلموں کوجس طرح چن چن کرشہید کیا گیا یہی توانداز فرعون کا تھا وہ بھی بچوں کادشمن تھا ، انسانیت کے ان ننھے ،پیارے اور والدین کی آنکھوں کے تاروں کو اس طرح مسل دیتاتھا جس طرح آرمی پبلک سکول میں ننھے منھے بچوں‌ کو چن چن کرماراگیا،فرعون بچوں کوتیل کے کڑاہے میں پھینک بھون دیتا تھا وہ اے پی ایس میں گھسنے والے فرعون کے وارث بھی تو ویسے ہی بھون رہے تھے

    اے پی ایس میں بچ جانے والے بچوں میں‌ سے کچھ کا یہ کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد ساتھی طلباکوکھینچ کے سامنے لاتے اورفرعون کی طرح بھون دیتے وہ تیل کے کڑاہے میں بھونتا تھا یہ گولیوں سے بھون رہے تھے

    ویسے بھی افغانیوں کے بارےمیں مورخین کاکہنا ہےکہ اسی اسرائیلی نسل سے چلے آرہے ہیں‌،مورخین کے مطابق فرعون نسلاُ اسرائیلی تھا مگرمگربعد میں مختلف قبائل میں‌ بٹ جانے کی وجہ سے قبیلے کے نام سے مشہورہوگیا

    مورخین لکھتے ہیں‌ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو روکنے کے لیے ہزار ہا بچوں کا قتل عام بھی ان کی بدنامی کا اہم محرک تھا۔ قدرت نے موسیٰ کو فرعون کے گھر میں پروان چڑھا کراس کی تمام آہنی تدبیریں الٹ دیں۔بالکل ویسے ہی اللہ کے فضل سے پاک فوج نے دشمن کی تمام سازشوں کو بری طرح نہ صرف ناکام بنایا بلکہ دشمنان پاکستان کی تمام تدبیریں الٹ گئیں‌ ،

    جس طرح فرعون کوبچوں‌کے قتل کے بعد شکست ہوئی اوروہ آج تک دنیا اس کی شکل دیکھ کراس کے مظالم کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں‌ آج بھی ویسے ہی بنی اسرائیل کی نسل سے تعلق رکھنے والے ان افغانی دہشت گردوں کے انجام کو دیکھ کراس قوم کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ، اب میں بتاتا ہوں کہ جوفرعون کی سنت اے پی ایس میں دہرائی گئی اس سے پہلے یہ سنت کس کس دور میں دہرائی گئی

    ہزاروں سال کے بعد آج کا انسان فرعون کے غیرانسانی طرزعمل اور بچہ کشی کی پالیسی پر دہنگ رہ جاتا ہے۔ مگرمعصوم بچوں کے قتل عام میں فرعون تنہا نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون، ان سے قبل اور آج تک دنیا ایسے فرعونوں سے بھری پڑی ہے جو طاقت کے نشے میں اقتدارکے دوام کے لیے موسیٰ کی پیدائش کو روکنے کی خاطرغلطاں و پیچاں رہے ہیں۔

    فرعون مصر کی راہ پر چلتے ہوئے بچوں کو قتل کرنے والے بادشاہوں میں یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر ‘اِدی امین دادا’ نے سنہ 1971ء تا 1979ء میں اپنے ہی عوام کو اس بے رحمی سے قتل کرایا کہ محض نو سال کے عرصے میں 80 ہزار بچوں سمیت پانچ لاکھ افراد کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ یوگنڈا کا کوئی محلہ، قصبہ اور شہرایسا نہیں بچا جہاں پر امین دادا کے اجرتی قاتلوں نے کم سن بچوں کو سنگینوں میں نہ پرویا ہو۔ خواتین کی کھلے عام عصمت ریزی کے واقعات سن کر انسانی تہذیب کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔

    بچوں کے قتل عام میں بدنام زمانہ بادشاہوں میں "Attila the Hun” کا نام بھی سر فہرست ہے۔ آٹیلا ‘ہیونک ایمپائر'[موجودہ یورپی ممالک پر مشتمل تھی] کا 19 سال تک بادشاہ مطلق بنا رہا۔ اس نے یہ طے کر رکھا تھا کہ اس کی سلطنت میں اولاد نرینہ کم سے کم ہو تاکہ اس کی حکومت کو اندر سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔ پڑوسیوں کو زیر کرنے کے عادی اس بادشاہ نے اپنے فوجیوں کو آس پاس کی ریاستوں میں بھی بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ دریائے دینوب کے آر پار اس کے فوجی اچانک حملے کرتے اور پوری پوری بستیوں کو نیست ونابود کر دیتے۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کو انعام اکرام سے نوازا جاتا۔

    منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان کی انسانیت دشمنی ایک ضرب المثل تھی۔ فتوحات کے شوق میں اس کی فوج جہاں جہاں سے گذرتی انسان، حیوان حتیٰ کہ درختوں اور فصلوں کو بھی تہس نہس کرتی چلی جاتی۔ تاتاریوں کی وحشت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ہم مذہبوں کو بھی معاف نہیں کرتے تھے۔ چنگیز خان کے دور حکومت میں لاکھوں بچوں کو قتل کیا گیا۔

    بیسویں صدی کے سفاک بادشاہوں اور انسانوں کا خون پینے والوں میں ایک نام کمبوڈیا کے وزیراعظم پول پاٹ کا ہے۔ پول پاٹ شکل و صورت کے اعتبار سے گلہری نما انسان تھا مگر معصوم لوگوں کے خون کا اس قدر پیاسا کہ اس کے حکم پر لاکھوں لوگ نہایت بے رحمی سے قتل کیے گیے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کی مائوں سے چھین کر آگ کے الائو میں پھینک دیا جاتا۔ کئی کئی بچوں کو اوپر تلے رکھ کر رسیوں سے باندھنے کے بعد پہاڑوں سے گہری کھائیوں میں پھینک دیا جاتا۔ بچوں کو بھوکا رکھ کرانہیں سسک سسک مرنے پرمجبور کیا جاتا۔ ان سے جبری مشقت کی لی جاتی ۔ بھوکے پیاسے بچے جب نڈھال ہو کر گر پڑتے تو اُنہیں اٹھا کر بادشاہ کے کتوں کے آگے ڈالا جاتا۔ یہ کتےان معصوموں کو بھنببوڑ کر انسانیت کا ماتم کرتے۔

    بچوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے والوں میں روس کے ‘آئیون چہارم’، جرمنی کے اڈولف ایکمن، ایڈوولف ہٹلر، بیلجیم کے لیوپول دوم اور سوویت یونین کے جوزف اسٹالن کے نام بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں فراعنہ کی کوئی کمی نہیں۔ ایک فرعون وقت منظم ریاست کی شکل میں دنیا کے نقشے پرموجود ہے۔ اس فرعون کے ہاتھوں سنہ 1948ء سے آج تک فلسطینی قوم کی کئی نسلیں تہہ تیغ کی جا چکی ہیں۔ فلسطین میں قیام اسرائیل کے بعد سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں کسی فلسطینی بچے کوشہید، زخمی یا گرفتار نہ کیا گیا ہو۔ فلسطین میں باربار مسلط کی گئی جنگوں میں بچوں کو آسان شکار کے طورپر نشانہ بنایا جاتا۔

    2014ء کے وسط میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ میں شہید ہونے والے 22 سو شہریوں میں سے 560 بچے تھے۔ سنہ 1967ء کے بعد 80 ہزار فلسطینی بچوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک 12 ہزار فلسطینی نونہال گرفتار کیے گئے اور 4000 ہزار سے زائد شہید کیے جا چکے ہیں۔ فلسطین میں اکتوبر کے اوائل سے جاری تحریک کے دوران صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینیوں کی عمریں 18 سال یا اس سے بھی کم ہیں۔

    بچوں کے قتل عام میں فرعون بدنام ہوا مگر وہ قصہ پارینہ ہوگیا۔ انسانی شعور کی پختگی کے اس دور میں بھی فلسطین میں صہیونیوں کےہاتھوں ‘اندھیر نگری چوپٹ راج’ ہے۔ جیلوں میں ڈالے گئے بچوں پرڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم فرعونی مظالم سے کسی بھی شکل میں کم نہیں ہیں۔ بچوں کو گولیاں مارنے اور انہیں زخمی کرنے کے بعد سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کسی امدادی کارکن کو مرغ بسمل بنے زخمی کی مدد کی اجازت نہیں دی جاتی۔ صہیونی درندے تڑپتے فلسطینیوں کو جام شہادت نوش کرنے کے عمل سے محظوظ ہوتے ہیں۔

    دنیا پھر بھی فلسطینیوں کو ہی دہشت گرد قرار دیتی اور صہیونی گماشتوں کو دنیا کے امن پسند، جمہوریت کے علمبردار اور مظلوم قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ فرعون کے ایجنٹ بنی اسرائیل کے ہاں کسی بھی بچے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالتے تھے مگر فرعون وقت کا طریقہ واردات کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ آٹھ سے دس سال کے بچوں کو پکڑنے کے بعد کال کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اعتراف جرم کرانے کے لیے ان کے ہاتھوں کے ناخن کھینچے جاتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ الٹا لٹکا کر کوڑوں سے مارا جاتا ہے۔ تشدد کے آحری حربے استعمال کرکے بچوں کو شہید یا تاحیات اپاہج اور معذور کر دیا جاتا ہے۔ مظالم کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ فرعونیت بھی ان کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے۔

  • سرگودھا ضلعی انتظامیہ کی غفلت کی بدولت عوام سراپہ احتجاج۔

    سرگودھا ضلعی انتظامیہ کی غفلت کی بدولت عوام سراپہ احتجاج۔

    سرگودھا (ادریس نواز سے ) کے نواحی گاٶں چک نمبر 54 شمالی میں ضلعی انتظامیہ کی غفلت کی بدولت عوام سراپہ احتجاج۔ اھل علاقہ کی ڈپٹی کمشنر سرگودھا سے فوری طور پر نوٹس لینے کی اپیل۔
    تفصیلات کے مطابق:
    سرگودھا کے نواحی گاٶں چک نمبر 54 میں سیورج کا نظام ٹھیک نہ ھونے کی وجہ سے نالیوں کا گندا پانی تالاب کی صورت اختیار کر گیا۔ اھل علاقہ کا یہ کہنا ھے کہ گاٶں کا سارا گندا پانی سیورج کا نظام ٹھیک نہ ھونے کی وجہ سے ھماری گلیوں اور گھروں میں داخل ھو رھا ھے۔ جسکی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ھو رھے ھیں۔ اور ھمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ اسکے باوجود بھی ضلعی انتظامیہ خواب غفلت کی نیند سو رھی ھے۔ لوگوں کا یہ کہنا ھے کہ اگر ھمارے گاٶں کے اس مسٸلے کو حل کرنے کےلیۓ فوری طور پر اقدامات نہ کیۓ گٸے تو سارا گاٶں گندے پانی کا شکار ھو جاٸے گا۔۔۔ اس لیۓ ھماری ڈپٹی کمشنر سرگودھا سے یہ اپیل ھے کہ ھمارے گاٶں کا فوری طور پر وزٹ کرواٸیں اور سیورج کا نظام بہتر کرنے کیلیۓ فوری اقدامات کریں ۔ تاکہ ھمارے گاٶں کا یہ مسٸلہ جلد از جلد حل ھو سکے۔

  • سٹیزن پورٹل کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سٹیزن پورٹل کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سٹیزن پورٹل کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    باغی ٹی وی رپورٹ:لاہور ہائی کورٹ میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے سٹیزن پورٹل کے قیام کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی گئی۔
    اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور عدالت پیش ہوئے۔ عدالت نے پورٹل کی جانب سے شکایات پر بغیر تصدیق کارروائی روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
    جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے ڈاکٹر رانا فاروق کی درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سٹیزن پورٹل پر آنے والی شکایات پر قانونی تقاضے پورے کرکے کارروائی کی جاتی ہے، درخواست بے بنیاد ہے مسترد کی جائے۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سٹیزن پورٹل پر شکایت موصول ہوتے ہی یک طرفہ کارروائی کی جاتی ہے اور اس سے قبل متعلقہ سرکاری افسر یا ملازم کا مؤقف تک نہیں سنا جاتا۔ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ہرشہری کو شفاف ٹرائل کاحق حاصل ہے۔

    واضح‌ رہے کہ سٹیزن پورٹل پر شکایات درج کروانے کا تیز رسپانس دیکھنے میں‌ آیا ہے، مختلف لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہاں‌ شکایت درج کروانے پر بہت جلد عمل درآمد کیا جاتا ہے.

    وزیرا عظم عمران خان کی جانب سے عوامی شکایات اور تجاویز براہ راست سننے کے لیے ’پاکستان سٹیزن پورٹل‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا تھا۔ اس شعبے کا دفتر وزیرا عظم آفس ہی میں بنایا گیا ہے جس کے ذریعے عوام اپنی شکایات اور تجاویز (مشورے) براہ راست وزیرا عظم آفس کو بھیج سکتے ہیں ،گی اور قابل عمل تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کے لیے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا ہے۔

    اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز کاروبار کا آغاز 40 ہزار 916 کی سطح سے ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 100 انڈیکس میں 97 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
    کاروباری ہفتے کے آخری روز مارکیٹ میں 516 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا ۔ جمعہ کو کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج 10 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    واضح‌رہے کہ پاکستان کی مسلسل سٹآک مارکیٹ میں بھی بہتر ہو رہی ہے اور آج ہی اسٹاک مارکیٹ نے چھ سال کا ایک ماہ کا ریکارڈ توڑا ہے.خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا