فیصل آباد (محمد اویس) ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو مستقل بنیاد پر پورا کرنے کیلئے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کی گنجائش موجود ہے، محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق گندم کی بہتر پیداوار میں زمین کی تیاری، اچھے بیج و قسم کا انتخاب، متوازن کھاد اور بروقت کاشت کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کی تلفی اہم ہے،جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کے بغیر گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کا حصول ناممکن ہے،جڑی بوٹیاں فصل کے ساتھ خوراک پانی اور ہوا میں حصہ،ٴْ بن کے گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی کا باعث بنتی ہیں،ایک اندازہ کے مطابق جڑی بوٹیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں 50فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے،گندم میں جڑی بوٹیوں کے بیجوں کی ملاوٹ کے باعث پیداوار کی کوالٹی خراب ہونے سے ریٹ کم ملتا ہے،گندم کی فصل میں عام طور پر دو قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں، پہلی قسم چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی ہے جن میں کرنڈ،باتھو، لیہہ، لیبلی، ریواڑی،سینجی، مینا، گاجر بوٹی، شاہترہ، بلی بوٹی، گیلیم مڑی اور جنگلی پالک قابل ذکر ہیں،دوسری قسم میں گھاس نمانو کیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں شامل ہیں جن میں جنگلی جئی، دمبی سٹی اور پومڑی گھاس قابل ذکر ہیں، جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے بہترین وقت وہ ہے جب جڑی بوٹیوں نے 2سے 3پتے نکالے ہوں،گندم کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے پہلے پانی کے بعد وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلائی جائے اور اگر کاشتکاروں کے پاس افرادی قوت موجود نہ ہو تو جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ جڑی بوٹی مار زہروں سے بھی کی جاسکتی ہے،چوڑے پتوں اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کے لیے مخصوص زہریں استعمال کریں،چوڑے پتوں جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے عام طور پر گندم کی پہلی آبپاشی کے بعد وتر حالت میں سپرے کیا جاتا ہے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے دوسری آبپاشی کے بعد سپرے کیا جاتا ہے، سپرے کے لیے مخصوصی نوزل فلیٹ فین یا ٹی جیٹ استعمال کریں اور پانی کی فی ایکڑ مقدار 100تا 120 لیٹر رکھیں،گندم کی فصل سے جڑی بوٹیوں کو بروقت تلف کر کے ہم گندم کی فی ایکڑ اچھی پیداوار حاصل کر سکتے ہیں جس سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضرورت کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنا کر فوڈ سکورٹی کا حصول ممکن ہے۔
Author: +9251
-
انسداد پولیو کی مہم کے سلسلے میں عوامی آگاہی کے لئے ضلعی محکمہ ٹرانسپورٹ کے زیر اہتمام جنرل بس سٹینڈ میں واک
فیصل آباد (محمد اویس)ڈپٹی کمشنر محمد علی کی ہدایت پر انسداد پولیو کی آئندہ مہم کے سلسلے میں عوامی آگاہی کے لئے ضلعی محکمہ ٹرانسپورٹ کے زیر اہتمام جنرل بس سٹینڈ میں واک منعقد ہوئی جس کی قیادت سیکرٹری آر ٹی اے ضمیر حسین نے کی۔ اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر جنرل بس سٹینڈ رانا حبیب اللہ‘ سٹم اینالسٹ عاصم الیاس کے علاوہ ٹرانسپورٹرز اور مسافر بھی شریک تھے۔سیکرٹری آر ٹی اے نے اس موقع پر مسافر بسوں سمیت ویٹنگ ایریاز میں موجود شہریوں میں 16۔دسمبر سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے متعلق پمفلٹس بھی تقسیم کئے اور والدین سے اپیل کی کہ وہ مہم کے دوران اپنے پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کوحفاظتی قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے بس سٹینڈ کی انتظامیہ سے کہا کہ پولیو ٹیموں سے مکمل تعاون کویقینی بنایا جائے اور ان کی کلیئرنس کے بغیر کوئی بس / ویگن روانہ نہیں ہونی چاہئے۔
-

پولیو کا یکسر خاتمہ حکومتی ترجیحات میں سر فہرست ھے۔ ڈویژنل کمشنر عشرت علی
فیصل آبا(محمد اویس)ڈویژنل کمشنر عشرت علی نے کہا ہے کہ پولیو کا یکسر خاتمہ حکومتی ترجیحات میں سر فہرست ہے اس سلسلے میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو تقویت دینے کے لئے بھرپور آگاہی مہم بھی جاری ہے تاہم معاشرے کے تمام طبقات کو ملکر اس عزم کا اعادہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کو پولیو فری بنانے کے لئے حکومتی کاوشوں میں معاونت کریں گے۔انہوں نے یہ بات انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور سپیشل ایجوکیشن کے اشتراک سے آرٹس کونسل کے نصرت فتح علی خان آڈیٹوریم میں منعقدہ”اینڈ پولیو“(End Polio)سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ڈپٹی کمشنر محمد علی،سی ای اوایجوکیشن علی احمد سیان،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق سپرا،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز عفیفہ شاجیہ،ڈی او سپیشل ایجوکیشن چوہدری عبدالحمید کے علاوہ دیگر محکموں کے افسران،اساتذہ،خصوصی تعلیمی اداروں کے طالب علم بڑی تعداد میں موجود تھے۔ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ خصوصی بچوں نے پولیو کے دو قطرے ہر بچہ ہر بار کا پیغام واضح انداز میں اجاگر کیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت سمیت تمام محکمے اور سول سوسائٹی کے افراد مہم کوکامیاب بنانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کریں تاکہ آئندہ نسل کی صحت کا تحفظ یقینی ہو۔انہو ں نے طالب علموں سے کہا کہ وہ انسداد پولیو کا پیغام گھر گھر پہنچائیں تاکہ کسی گھر کا کوئی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ انسداد پولیو مہم میں رضا کارانہ خدمات انجام دینے والے طالب علموں کو انتظامیہ کی طرف سے تعریفی سر ٹیفکیٹس بھی دئیے جائیں گے۔انہوں نے اینڈ پولیو سیمینار کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اور سپیشل بچوں کی متاثرکن پروفارمنس پر ان کی اوراداروں کی انتظامیہ کی تعریف کی۔ڈپٹی کمشنر محمد علی نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان اور ضلع فیصل آبادہمارا مشن ہے جس کے لئے جذبوں میں کمی نہیں آنے دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے انسداد پولیو مہم کی کامیابی کے لئے سماجی سطح پر بھرپور آگاہی مہم شروع کررکھی ہے اور سپورٹس کے لیجنڈز سنوکر چیمپئن محمد آصف اور کرکٹر سعید اجمل کو سفیر مقرر کیاگیا ہے جبکہ طالب علم بھی مہم کے دوران معاونت کریں تاکہ مطلوبہ اہداف کا حصول یقینی ہو۔سی ای او ایجوکیشن،سی ای اوہیلتھ،ڈی او سپیشل ایجوکیشن ودیگر نے کہا کہ پولیو کے خاتمہ کے لئے والدین کے جاندار کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لہذا وہ مہم کے دوران محکمہ صحت کی ٹیموں سے تعاون کریں۔سیمینار کے دوران خصوصی تعلیمی اداروں کے طالب علموں نے انسداد پولیو مہم سے متعلق والدین اورمعاشرے کو تعاون کرنے سمیت احساس برقرار رکھنے پر مبنی ٹیبلوز پیش کئے۔
-

16دسمبر،سقوط ڈھاکہ بھارت کی سازشیں اپنوں کی غلطیاں،مگرتکلیف دہ مناظر
16دسمبر اس بار بھی متحدہ پاکستان کے دو لخت ہونے کی تلخ یادیں کریدتا ہوا گزر رہا ہے اور ہمارے اخبارات اور میڈیا اس سانحہ کا زیادہ تر وہی رخ دکھا رہے ہیں جو وہ پچھلے پانچ عشروں سے دکھاتے چلے آرہے ہیں۔ جادو نگار قلمکاروں نے اس سانحے پر ایسی یکطرفہ حاشیہ آرائی کی ہے کہ حقائق کئی پردوں تلے چھپ گئے ہیں۔سارا زور نئی نسلوں کو یہ باور کرانے میں لگایا جاتا ہے کہ یہ بس بھارت کی سازش تھی ہاں اس میںکوئی شک نہیں کہ بھارت نے قیام پاکستان کےدن سے ہی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا ،

بھارتی سازشوں کوکوئی مانےیانہ مانے بھارتی وزیراعظم مودی اس کا برملا اظہارکرچکے اب یہ بحث اسی نقطے پرمرکوز ہونی چاہیے کہ مشرقی پاکستان کی متحدہ پاکستان سے علیحدگی میں بھارت کےساتھ اس وقت کی دونوں عالمی قوتیں روس اورامریکہ بھی شامل تھیں


جہاں تک تعلق ہے کہ دشمن کی سازشوں کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کچھ اپنوں کی غلطیاں بھی تھیں تو اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتا ،مختصر یہ کہ اس غلطی میں سب سے زیادہ کردارشیخ مجیب ملوث تھا جو اس وقت بھارتیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے ،
اس کے ساتھ ساتھ اس وقت کے پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل یحییٰ کی نااہلیت بھی شامل تھی، اور ان کے ساتھیوں کی سیاہ کاریوں کا نتیجہ تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سانحے کا ایک کردار ذوالفقار علی بھٹو بھی تھا۔جس کی ضد نے مجیب الرحمن کو ضدی بنادیا،یہ بحث تو ہوتی رہے گی مگراب چلتے ہیں ان مناظر کی طرف جوکبھی بھی ناقابل نظراندازیابھولنے کے قابل نہیں ہیں بھارتی فوج کی ایسٹرن کمانڈ کا یہودی چیف آف اسٹاف میجر جنرل جیکب 16 / دسمبر 1971ء کو دوپہر کے وقت ڈھاکا پہنچا۔ اس کا استقبال اس کے پاکستانی مدمقابل بریگیڈیئر باقر صدیقی نے کیا۔ یہودی جنرل اپنے ساتھ ایک دستاویز لایا تھا جسے سقوط کی دستاویز (Instrument of Surrender) کہا جاتا ہے۔ جنرل نیازی اسے جنگ بندی کا مسودہ کہنا پسند کرتے تھے۔

جیکب نے یہ کاغذات پاکستانی حکام کے حوالے کیے۔ جنرل فرمان نے کہا۔ ’’یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ کمان کیا چیز ہے، ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ جنرل جیکب نے کہا۔ ’’مجھے اس میں ردوبدل کا اختیار نہیں۔‘‘ انڈین ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل کھیرا نے‘ جو پاس ہی کھڑے تھے‘ لقمہ دیا ’’یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے‘ جہاں تک آپ کا تعلق ہے آپ صرف ہندوستانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔‘‘ جنرل فرمان نے کاغذات جنرل نیازی کے آگے سرکا دیے۔ جنرل نیازی جو ساری گفتگو سن رہے تھے خاموش رہے‘ اس خاموشی کو ان کی مکمل رضا سمجھا گیا۔

تھوڑی دیر بعد نیازی‘ بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر‘ لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کو لینے ڈھاکا ائیرپورٹ گئے‘ بھارتی کمانڈر اپنی فتح کی خوشی میں اپنی بیوی کو بھی ساتھ لایا تھا۔ جونہی یہ میاں بیوی ہیلی کاپٹر سے اترے‘ بنگالی مردوں اور عورتوں نے اپنے اس نجات دہندہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کو پھولوں کے ہار پہنائے‘ گلے لگایا ‘ بوسے دیے اور تشکر بھرے جذبات سے انہیں خوش آمدید کہا۔ جنرل نیازی نے بڑھ کر فوجی انداز میں سلیوٹ کیا، پھر ہاتھ ملایا۔ یہ نہایت دلدوز منظر تھا۔ فاتح اور مفتوح ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔

جنرل نیازی اور جنرل اروڑا‘ وہاں سے سیدھے رمنا ریس کورس گرائونڈ پہنچے‘ جہاں سرعام جنرل نیازی سے ہتھیار ڈلوانے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ تقریب کا نظارہ کرنے کے لیے ہزاروں بنگالی موجود تھے۔ جنہیں بھارتی سپاہیوں نے روک رکھا تھا۔ تقریب کے لیے تھوڑی سی جگہ باقی تھی جہاں ایک چھوٹی سی میز پر بیٹھ کر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا اور جنرل نیازی نے سقوط مشرقی پاکستان کی دستاویز پر دستخط کردئیے۔ اس کے بعد نیازی نے اپنا ریوالور نکال کر اروڑہ کو پیش کردیا اور یوں ’’سقوط ڈھاکا‘‘ پر آخری مہر ثبت کردی۔ اس موقع پر جنرل اروڑہ نے پاکستانی سپاہیوں کی ایک گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا جو اس بات کی علامت تھا کہ اب وہی گارڈ ہیں اور وہی آنر کے مستحق…!‘‘

افسوس کا مقام تو یہ ہےکہ دشمن نے اتنا بڑا زخم لگایا لیکن ہم آج تک اس زخم کو مندمل کرنے کی بجائے اس پرنمک پاشی کررہےہیںاورپھرجن لوگوں نے اس وقت اپنی قلم اورزبان سے بھارتیوں کی زبان بولی آج ان کی اولاد یہ کردار اداکرہی ہے، کسی نے سچ کہا کہ میر جعفراورمیرصادق اگرچہ نہیں رہے مگر میروں کی شکل میں غدارضرور پیداہوتے رہیں گے -

میری قوم کے ننھے شہیدوں کوسلام،آج اے پی ایس کے شہدا کی پانچویں برسی ہے
پشاور:پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبرکا دن پہلے سقوط ڈھاکہ کے طورپرمنایا جاتا تھا اورمورخین مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب بیان کرتے نہیں تھکتے تھے ،مگر16 دسمبرکا یہ دن ایک غم ، دکھ اورسانحہ کے ساتھ پھر اس قوم کے حصے میں آیا ہے،یہ دن آرمی پبلک سکول میں ننھے طالعلموں اوراساتذہ کرام کی عظیم شہادت کا سبب بنا،
تفصیلات کے مطابق سانحہ اے پی ایس پشاور کو پانچ سال بیت گئے مگر اپنے خون سے علم کے دیے جلانے والے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔سانحہ اے پی ایس کا دلخراش واقعہ 16 دسمبر 2014 کو پیش آیا جب صبح طلباء علم کے حصول کے لیے گھر سے اسکول گئے تھے، وہ ابھی اسکول میں علم کی شمع سے روشناس ہورہے تھے کہ 10 بجے کے درمیان 7 دہشت گرد اسکول کے اندر داخل ہوئے اور معصوم طلباء سمیت پرنسپل اور دیگر افراد کو بے رحمی سے شہید کیا۔
یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے سنگ طلوع ہوا مگر غروب 132 معصوم و بے قصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا تاہم یہ وہ سانحہ تھا جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو دلگیر و اشکبار کیا۔
شہریوں نے آرمی پبلک اسکول کے شہداوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بناکر عوام اور سیکیورٹی اداروں کا حوصلہ توڑ نا چاہتے تھے لیکن اس سانحہ کے بعد ہم سب ایک ہیں۔
16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس پشاور لہو لہو ہوا تو ملت پاکستان نے بھی رب ذوالجلال کو گواہ بنا کر یہ عہد کر لیا کہ جب تک عرض پاک سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہ ہو جائے حق و باطل اور بقا و فنا کی یہ جنگ جاری رہے گی۔
سانحہ اے پی ایس کی یاد میں پاکستان ایمرجنسی رسپانس اور ایڈونچر اسکاوٹس کی جانب سے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ معصوم طلبا اور اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے نجی اسکول میں تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔سانحہ اے پی ایس شہداوں کی یاد میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی افسردہ نجی سکول کے ننھے منے بچوں نے شاعری کرتے ہوئے اپنے معصومانہ انداز میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ کراچی کے علاقے جوہر موڑ پر شہدا کی یاد میں موم بتیاں جلائی گئیں جس میں شہریوں نے شرکت کی۔
-

ڈی جی آئی ایس پی آرکی پنڈی کرکٹ سٹیڈیم آمد،مہمان بھی خوش، میزبان بھی خوش اورشائقین بھی خوش
راولپنڈی :ڈی جی آئی ایس پی آر کی پنڈی کرکٹ سٹیڈیم آمد،مہمان بھی خوش،میزبان بھی خوش اورشائقین بھی خوش،اطلاعات کے مطابق آج پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کو دیکھنے کے لیے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سٹیڈیم پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور پاک سری لنکا ٹیسٹ میچ دیکھنے پنڈی کرکٹ سٹیڈیم پہنچے تو شائقین کرکٹ میں گھل مل گئے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ میجر جنرل آصف غفور ایک گھنٹے تک انکلوژر میں موجود رہے اور وہاں موجود شائقین اور نوجوان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو اپنے درمیان دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔
اس موقع پر شائقین کرکٹ کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جرنل آصف غفور کا نعروں سے استقبال کیا جبکہ شہریوں کی ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔یاد رہے کہ راولپنڈی میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے آخری روز کا کھیل جاری ہے جسے دیکھنے کے لئے طالبعلموں سمیت بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ سٹیڈیم میں موجود ہیں ۔
-

تھانہ آئی نائن کی حدود میں واقع نائنتھ ایوینیو میں ٹریفک حادثہ.غلطی طاقتورکی پکڑا عام شہری گیا
اسلام آباد:تھانہ آئی نائن کی حدود میں واقع نائنتھ ایوینیو میں ٹریفک حادثہ.غلطی طاقتورکی پکڑا عام شہری گیا .،اطلاعات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھکر محسن حیات کی گاڑی نےسپین سے آنے والے پاکستانی شہری کی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دی.
بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر
تھانہ آئی نائن پولیس نے متاثرہ شہری کی گاڑی تھانے میں بند کر کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھکر محسن حیات کی گاڑی چھوڑ دی.متاثرہ شہری نے پولیس کو درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی.
جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا
یہ پہلا واقعہ نہیں کہ طاقتور کے لیے قانون اور غریب کے لیے قانون اور ، یہی وجہ ہے کہ چند دن قبل جب پاکستان کے سابق وزیراعظم میاںنواز شریف کو کچھ طاقتوں نے حکومت کو مجبورکرتے ہوئے باہربجھوایا تھا تو اس وقت ملک کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ اس ملک میں غریب کے ہے قانون اوراورطاقت ور کےلیے قانون اور تو پھر اس بات کا طاقتوروں نے برابھی منایا تھا
میں نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…
-

ایرانی لیور ٹرانسپلانٹ ٹیم کا پہلا فری میڈیکل کیمپ 17 اور 18 دسمبر کو لاہور میں ہو گا۔
لاہور: پاکستان میں پہلی بار یورپین سٹینڈرڈ کی حامل ایرانی لیور ٹرانسپلانٹ ٹیکنالوجی متعارف۔ ایرانی لیورٹرانسپلانٹ ٹیم کا پہلا فری میڈیکل کیمپ 17 اور 18 دسمبر کو لاہورمیں ہوگا جس میں ملک بھر سے آئے مریضوں کا فری چیک اپ ہوگا۔
بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر
تفصیلات کے مطابق لیور ٹرانسپلانٹ کے حوالہ سے تہران (ایران) کے سب سے بڑے ”امام خمینیؒ ہسپتال“ کے ہیڈ آف لیور ٹرانسپلانٹ ڈیپارٹمنٹ ’’ڈاکٹر علی جعفریان‘‘ کی سربراہی میں ڈاکٹرز کی ٹیم 17 اور 18 دسمبر کو لاہور کے علاقہ 33-K شاہ جمال میں پاک ہیلتھ کیئر میں منعقدہ فری میڈیکل کیمپ میں شرکت کرے گی
جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا
اس میڈیکل کیمپ میں پاکستان بھر سے آئے لیور ٹرانسپلانٹ اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا معائنہ کیا جائے گا اس حوالہ سے کیمپ کے منتظم ڈاکٹر میاں عزیزالرحمٰن نے بتایا کہ پاکستان میں لیور ٹرانسپلانٹ کے مریض انڈین ویزہ نہ ملنے اور دیگر مشکلات کے سبب گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے مشکلات کا شکار تھے اور اب تک کئی مریض علاج نہ ہونے کے سبب زندگی کی بازی بھی ہارجاتے ہیں
میں نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے برادر اسلامی ملک ایران سے خصوصی درخواست کی جس پر وہاں کے محکمہ صحت نے تہران کے سب سے بڑے لیور ٹرانسپلانٹ ہسپتال کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر علی جعفریان کو اپنی ٹیم فوری پاکستان بھیجنے کی ہدایت کی یہ ٹیم 17 اور 18 دسمبر کو پاکستان میں لیور ٹرانسپلانٹ اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا معائنہ کرے گی
جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر
انہوں نے بتایا کہ انڈیا کی نسبت ایران کا لیور ٹرانسپلانٹ نسبتاً سستا اور وہاں کامیابی کا تناسب 98 فیصد ہے جبکہ انڈیا میں یہ تناسب 94 تھا۔ ایرانی ہسپتالوں کا معیار یورپین ہسپتالوں کے برابر ہے ہماری اس کاوش سے پاکستان کے لیور ٹرانسپلانٹ مریضوں کے لئے انقلاب برپا ہوجائے گا اور ایران کا ویزہ ایک دن میں ملے گا۔
جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر
تہران سے لاہور کی براہ راست ہفتہ وار 2 پروازیں چلتی ہیں جن سے پاکستانی مریض مستفید ہو سکیں گے جبکہ ایران جانے والے مریض اور ان کے لواحقین پورے ملک میں جہاں چاہیں جا سکیں گے ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوگی جبکہ اس کے برعکس انڈیا میں صرف ایک شہر کا ویزہ دیا جاتا تھا۔ڈاکٹر میاں عزیز الرحمٰن کا مزید کہنا تھاکہ لیور ٹرانسپلانٹ کے حوالہ سے پاکستان کے لئے یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے اور اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے پاکستانی وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور ایرانی حکام سے مسلسل رابطہ میں ہیں۔
Address: 33-K Shah Jamal, Lahore, Pakistan
Contact: 03041115551
info@phcclahore.com
-

ایغور مسلمانوں کے حراستی کیمپس کی تفصیلات حذف کرنے کا انکشاف
بیجنگ :چین کی جانب سے ایغور مسلمانوں کی بڑی تعداد کو حراستی کیمپس میں رکھنے سے متعلق اعداد و شمار کو حذف کرنے اور دستاویزات کو تباہ کرنے کے علاوہ کلاسفائیڈ دستاویزات کے افشا سے متعلق اطلاعات پر سخت کنٹرول کیا جارہا ہے۔
بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر
ذرائع کے مطابق زنگ جنگ کی صوبائی حکومت کی جانب سے اوروگی میںجو چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ہیڈکوارٹر ہے جہاں منعقدہ ایک اجلاس میں اس پر غور و خوض کرنے کی اطلاع ہے کہ کس طرح کاغذات کے افشا پر ردعمل کا اظہار کیا جائے ایسے چار افراد جو سرکاری ملازمین کے رابطہ میں ہیں انہوں نے یہ دعوی کیا ہے۔
جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا
گذشتہ ماہ نیویارک ٹائمز میں چین کے صدر زنگ جن پنگ کے بشمول اعلی قائدین کی گئی اندرونی تقاریر کی اشاعت کے چند دن بعد یہ اجلاس منعقد ہورہا ہے ۔ چین کی حکومت 11 ملین ایغور آبادی کے ساتھ طویل عرصہ سے نبرد آزما ہے جو زنگ جنگ کی نسلی اقلیت ہے۔
میں نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…
ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق چین نے حالیہ برسوں میں ایک ملین یا اس سے زیادہ ایغور اور دیگر اقلیتوں کو ان کیمپس میں محروس رکھا ہے۔ سرکاری عہدیداروں اور چین کی وزارت خارجہ نے راست طور پر ان دستاویزات کے اصل ہونے سے انکار بھی نہیں کیا ہے۔
-

کشمیر: الیکشن کارڈز کی عدم فراہمی سے عوام کو مشکلات
سرینگر:وادی کشمیر بالخصوص سرینگر میں لوگوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کارڈوں کی عدم فراہمی سے انہیں مشکلات درپیش ہیں اور ان کے کئی اہم امورعرصہ دراز سے مسلسل التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔
میں نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…
الیکشن کارڈز کی عدم فراہمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سرینگر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے ایک گروپ نے کہاکہ ‘ہمیں نئے الیکشن کارڈ نہیں مل رہے ہیں، روزانہ بنیادوں پر متعلقہ محکموں کی خاک چھاننا پڑتی ہے’۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق شہریوں کے اس گروپ کے مطابق متعلقہ محکمے نے ٹھیکے داروں کی واجب الادا رقومات ادا نہیں کی ہیں جس کی وجہ سے الیکشن کارڈ بھی فراہم نہیں کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کارڈ نہ ملنے کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر چیف الیکٹورل افسر شیلندر کمار سے اس معاملے پر بات کی تو انہوں نے ضلع مجسٹریٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر
ایک شہری نے کہا کہ الیکشن کارڈ فراہم نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا: ‘الیکشن کارڑ فراہم نہیں کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے کئی اہم امور التوا میں پڑے ہوئے ہیں، مجھے کسی اہم کام کے لئے الیکشن کارڈ کی اشد ضرورت ہے لیکن متعلقہ محکمہ کی سرد مہری سے میرا کام بھی سرد خانے میں پڑا ہوا ہے’۔
بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر
موصوف شہری نے کہا کہ متعلقہ حکام کبھی انٹرنیٹ کی معطلی کا بہانہ تو کھبی پرنٹنگ مٹیریل کی عدم دستیابی کا بہانہ بناتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا کہ دو برس قبل الیکشن کارڈ کے لئے فارم بھرنے والے بھی ابھی تک کارڈزسے محروم ہیں۔