Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان کے بعد بھارت کا نیپال کے ساتھ سرحدی نقشے کا تنازعہ

    پاکستان کے بعد بھارت کا نیپال کے ساتھ سرحدی نقشے کا تنازعہ

    سرینگر: جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکزی خطوں کی تشکیل کے بعد بھارت کے نئے نقشے جاری کرنے کے تنازعہ نے پھر سر اٹھا لیا ہے۔4 نومبر کو جاری کیے گئے نئے نقشے میں نہ صرف پاکستان مقبوضہ کشمیر کو جموں و کشمیر یو ٹی میں اور لداخ UT میں گلگت بلتستان کو شامل کیا گیا بلکہ اس میں ہندوستان نے نیپال کے ساتھ متنازعہ کالپانی اور لیپولیخ کو بھی اپنا علاقہ ظاہر کیا۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…

    اس نقشے کا نیپال کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا کیونکہ ان کا مقصد سابقہ جموں و کشمیر سے بنائے گئے دونوں UTs کی نئی حدود کو ظاہر کرنا تھا ، لیکن نیپال کی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تعلقات کمیٹی نے اب حکومت سے ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کرنے کو کہا ہے جس میں کلاپانی اورلیپولیخ نیپالی علاقے کے اندرشامل دکھایاگیا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق اس سے قبل ، نیپالی پارلیمنٹ کی ریاستی امور کمیٹی نے حکومت سے نیپال کا سیاسی نقشہ اپ ڈیٹ کرنے کو کہا تھا۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹریوں کو ذمہ داری تفویض کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ تکنیکی ماہرین سے مشاورت سے سرحد سے متعلق بقیہ امور کو حل کریں۔بیان میں مزید کہا گیا ، "نیپال حکومت اپنی بین الاقوامی سرحد کی حفاظت کے لئے پرعزم ہے اور دونوں دوست ممالک سے متعلق کسی بھی سرحدی معاملے کو تاریخی دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر سفارتی چینل کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔”
    ۔

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

  • مقبوضہ کشمیرمیں‌ سخت سردی اوربرفباری: فضائی ٹریفک 8 دن بعد بحال، اہم شاہراہیں بند

    مقبوضہ کشمیرمیں‌ سخت سردی اوربرفباری: فضائی ٹریفک 8 دن بعد بحال، اہم شاہراہیں بند

    سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں‌ سخت سردی اوربرفباری: فضائی ٹریفک 8 دن بعد بحال، اہم شاہراہیں بند ،اطلاعات کے مطابق وادی کشمیر میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق ہفتہ کے روز موسم خشک رہا اور شدید دھند سے لوگوں کو نجات نصیب ہوئی وہیں فضائی ٹریفک بھی آٹھ دن بیت جانے کے بعد، بعد از دوپہر سپائس جٹ کی پرواز کی آمد کے ساتھ ہی بحال ہوا۔

    کشمیر کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والی سری نگر۔جموں قومی شاہراہ ہفتہ کے روز بھی ٹریفک کی نقل وحمل کے لیے بند رہی جبکہ سری نگر۔لیہہ شاہراہ، تاریخی مغل روڑ کے علاوہ شمالی کشمیر کے دورافتادہ علاقوں کی کئی رابطہ سڑکیں زیر برف ہونے کے باعث ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے بند ہیں۔

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ذرائع نے بتایا کہ سرینگر۔جموں قومی شاہراہ پر ہفتہ کے روز بھی رام بن کے نزدیک بارشیں ہورہی تھیں اور کئی مقامات پر برف اور مٹی کے تودوں کا ملبہ بھی جمع ہی ہے جس کے باعث شاہراہ ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ قابل عبور ہوتے ہی پہلے گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔

    وادی میں ہفتہ کے روز بارہمولہ تا اننت ناگ ریل سروس جاری رہی تاہم اننت ناگ سے بانہال ریل سروس پٹری پر برف جمع ہونے کی وجہ سے معطل ہی رہی۔کشمیر میں تعینات شمالی ریلوے کے چیف ایئریا منیجر وپن پروہت نے بتایا کہ بارہمولہ تا اننت ناگ ریل سروس بحال کی گئی ہے اور اننت ناگ تا بانہال پٹری پر جمع برف کو ہٹایا جارہا ہے۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…

    محکمہ موسمیات نے وادی میں اگلے ایک ہفتے تک موسم مجموعی طور پرخشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ کے علاقائی ناظم سونم لوٹس نے گزشتہ روز کہا کہ وادی میں 15 دسمبر سے موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی توقع ہے۔وادی میں ہفتہ کے روز مطلع ابرآلود رہنے کی وجہ سے سردی کی شدت میں بھی قدرے کمی محسوس کی گئی۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام جہاں فی الوقت سیاحوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    سرحدی ضلع کپواڑہ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ کوکرناگ میں منفی 1.4 سینٹی گریڈ اور قاضی گنڈ میں منفی 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا۔لداخ کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.1 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 11.0 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • ہندوستان بدترین معاشی انحطاط سے دوچارہے اورپاکستان معاشی قوت بن کرابھررہا ہے: اروند سبرامنیم

    ہندوستان بدترین معاشی انحطاط سے دوچارہے اورپاکستان معاشی قوت بن کرابھررہا ہے: اروند سبرامنیم

    نئی دہلی:ہندوستان بدترین معاشی انحطاط سے دوچارہے اورپاکستان اوپراٹھ رہا ہےنئی دہلی سے ذرائع کے مطابق بھارت کے سابق معاشی مشیر اعلی (سی اے ای)اروند سبرامنیم کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی معاشی صورتحال کے تعلق سے واضح طور پر دیکھاجاسکتا ہے کہ یہ کوئی عام انحطاط نہیں ہے۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…

    یہ انڈیا کا بدترین انحطاط ہے، جہاں معیشت آئی سی یومیں جاتی معلوم ہورہی ہے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق اروند نے کہا ہارورڈ یونیورسٹی کے سنٹر فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے مسودہ دستاویز میں بیان کیا کہ معیشت کی بدحالی شدید نوعیت کی ہے۔ یہ معاشی انحطاط 1991 کی صورتحال سے قریب تر معلوم ہوتی ہے۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    بھارت کے سابق معاشی مشیر اعلی (سی اے ای)اروند سبرامنیم کہتے ہیں‌کہ ایک طرف بھارت معاشی طورپرتباہ ہورہا ہے تو دوسری طرف پاکستان معاشی طوربڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے، انہوں‌نے مزید کہا کہ یہ قیادت کا فرق ہے بھارت کو مودی جیسا نکما وزیراعظم ملا ہے اورپاکستان کوایک مخلص وزیراعظم کی قیادت نصیب ہے

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

  • مودی، شاہ کی جوڑی اقتدار کے لئے ملک اور سماج کو توڑرہی ہے: کانگریس

    مودی، شاہ کی جوڑی اقتدار کے لئے ملک اور سماج کو توڑرہی ہے: کانگریس

    نئی دہلی :کانگریس نے ہفتے کو وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر زوردار حملہ کرتے ہوئے ملک اور سماج کو توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مودی۔شاہ کی جوڑی اقتدار کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اس لئے قوم اور آئین بچانے کی خاطر لوگوں کو آگے آنا چاہئے۔

    کانگریس کی صدرسونیا گاندھی، سابق صدر راہل گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے ہفتے کورام لیلا میدان میں ‘بھارت بچاو ریلی’ سے خطاب کرتے ہوئے یہ اپیل کی۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ریلی سے راجستھان کے وزیراعلی اشوک گہلوت، مدھیہ پردیش کے و زیراعلی کملناتھ، چھتیس گڑھ کے وزیراعلی بھوپیش بگھیل، ہریانہ کے سابق وزیراعلی بھوپندر سنگھ ہڈا، مسٹر جیوترآدتیہ سندھیا، مسٹر سچن پائلٹ اور دیگر پارٹی لیڈروں نے خطاب کیا۔

    مودی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے محترمہ سونیا گاندھی نے کہاکہ یہ حکومت اصل امور کو چھپانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے آئین کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں صدر راج لگاتے ہیں اور جب چاہتے ہیں ہٹا دیتے ہیں۔ اب ان میں شہریت کا نیا شوق چڑھ گیا ہے۔ شہریت ترمیی بل لاکر ملک کی روح پر حملہ کیا جارہا ہے۔ یہ قانون ملک کو تباہ کردے گا۔ اس کی وجہ سے شمال مشرق کی ریاستیں جل رہی ہیں۔ ہمار ا ملک ایسے قانون کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ اس حکومت نے اپنے اناج پیدا کرنے والوں کی فکر چھوڑ دی ہے۔ ملک کا کسان سرکاری پالیسیوں سے بہت پریشان ہے۔ ان کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ انہیں کھاد اور بیج نہیں مل رہے ہیں۔ پانی بجلی کی سہولت نہیں مل رہی ہے اور نہ ہی انہیں فصل کی قیمت مل رہی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کسان سے ان کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا.

  • آسام : احتجاج میں شامل17 سالہ لڑکے کوپولیس نے منہ میں گولی مارجان سے ماردیا

    آسام : احتجاج میں شامل17 سالہ لڑکے کوپولیس نے منہ میں گولی مارجان سے ماردیا

    گوہاٹی: شہریت (ترمیمی)بل اور نئے قانون شہریت کے خلاف آسام میں جاری احتجاج کے دوران 17 سالہ لڑکا آسام پولیس کی فائرنگ میں گولی لگنے سے مارا گیا۔ اس کے ہم جماعت عبدل نے کہا کہ لگ بھگ 500 احتجاجی جمع تھے اور وہ اور اس کے دوست صرف نعرے بازی کررہے تھے۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق عبدل نے بتایا کہ یکایک سڑکوں کی لائٹس گل ہوگئیں اور پولیس نے فائرنگ شروع کردی۔ سام اپنی زندگی بچانے بھاگنے لگا، وہ دہشت پیدا کرنے والا ماحول تھا۔ عبادل نے کہا کہ سام کے منہ سے گولی نکل گئی اور شہریت کیلئے جاری احتجاج میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…

    باغی ٹی وی کے مطابق اس وقت آسام میدان جنگ بنا ہوا ہے اور ہر طرف بھارت کےخلاف نعرے اٹھ رہے ہیں، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ پولیس کے کئی اہلکاروں نے تشدد کرنے سے انکارکرتےہوئے نوکریاں چھوڑ دی ہیں اور احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں‌

    جماعت اسلامی ہند عادل آباد کی شہریت بل کے خلاف احتجاج کی کال 17 دسمبرکوہوگا دما دم…

  • آلودہ جھیل ڈل کی صفائی مہم میں سرکاری سطح پر کوئی مدد فراہم نہیں کی جارہی

    آلودہ جھیل ڈل کی صفائی مہم میں سرکاری سطح پر کوئی مدد فراہم نہیں کی جارہی

    سرینگر:جھیل ڈل کی صفائی مہم میں سرکاری سطح پر کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی ہے جس وجہ سے اس شاہکار جھیل کو اس اعتبار سے آلودگی سے پاک نہیں کیا گیا ہے۔ ان باتوں کا اظہار جھیل ڈل کی صفائی مہم سے منسل کمسن جنت نے ایک بات چیت کے دوران کیا۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    انہوں نے کہا کہ جو مہم شروع کی گئی تھی اس کا سرکار اور خاص کر لیکس اینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ساتھ نہیں دیا۔ جنت کا کہنا تھا کہ ڈل جھیل کو گندگی سے صاف و پاک رکھنے کے لئے انہوں نے کئی بیداری پروگرام بھی ڈل کے آس پاس چلائے۔ جھیل میں رہنے والے لوگوں کو اپنے ہاوس بوٹوں اور گھروں سے نکلنے والی گندگی اور کوڑا کرکٹ کو ڈل میں نہ ڈالنے کے حوالے سے بھی کئی پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔

    جماعت اسلامی ہند عادل آباد کی شہریت بل کے خلاف احتجاج کی کال 17 دسمبرکوہوگا دما دم…

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق اس بچی کا کہنا تھا کہ سیاحوں کی پہلی پسند کہلائے جانے والے ڈل جھیل کو انفرادی، اجتماعی اور سرکاری سطح پر گھاس پھوس اور دیگر قسم کی گندگی سے پاک کرنے کی ضرورت ہے تب جاکر اس کے پانی کو آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے۔جنت کاکہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اگرچہ گزشتہ سال من کی بات پروگرام میں ان کا ذکر بھی کیا تاہم خواہش کے باوجود بھی انہیں وزیراعظم سے ملنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…

    تاہم انہوں نے پھر سے نریندری مودی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاکہ وہ ان سے مل کرجھیل ڈل کو آلودگی سے پاک کروانے کے لیے اپنی سوچ کے حساب سے اپنی تجاویز پیش کرتیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جنت کے والد طارق احمد پتلو جو کہ ڈل کی صفائی مہم سے خود بھی منسلک ہیں کا کہنا ہے کہ یہاں سرکاری سطح پر کاغذی گھوڑے ہی دوڑائے جارہے ہیں، مگر عملی طور صفائی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔ بلکہ ڈل میں رہنے والے مخصوص طبقے کو ہی نشانہ بناکر احکامات اور ہدایات جاری کئے جا رہے ہیں۔

    مکاری، فنکاری اورشوبازیوں کا دورگزرچکا،نیک نیتی سے محنت کررہے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی جانب سے مہیا کی جانے والی رقومات کا بے تحاشا استعمال بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی جھیل کی ہیئت ویسی کی ویسی ہی ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق طارق نے حکومت وقت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جھیل ڈل کی صفائی کے حوالے سے انتظامیہ کو اس طرف خاص دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قدرت کے اس انمول تحفے ‘ڈل جھیل’ کو آلودگی سے پاک و صاف رکھا جاسکے۔

  • مقبوضہ کشمیرکے گجر بکروال قبیلے کی تاریخ اور ان کے پیچیدہ مسائل

    مقبوضہ کشمیرکے گجر بکروال قبیلے کی تاریخ اور ان کے پیچیدہ مسائل

    مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ میں مختلف نسلوں اور قبائل کے لوگ رہتے ہیں، جن میں سب سے بڑی آبادی گجر اور بکروال قبیلہ کی ہے۔ عام طور پر اونچے پہاڑوں، جنگلاتی علاقوں اور چراگاہوں میں رہنے والی یہ آبادی، سخت جاں ہے اور ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ حکومتیں انکی فلاح و بہبود کا تذکرہ تو کرتی ہیں لیکن عملی طور اس پسماندہ آبادی کی زبوں حالی کی تصویر بدلتی نظر نہیں آتی۔


    جموں و کشمیر اور لداخ میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302 ہے، اس میں سے قبائلی لوگوں کی آبادی 11 اعشاریہ 9 فیصد یعنی 14 لاکھ 93 ہزار 299 ہے۔پورے بھارت میں 702 قبیلے موجود ہیں۔ تقریبا سبھی قبائل کا ماننا ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی حفاظت نیز ان کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل نکالنے میں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں و کشمیر میں کل 12 قبائل آباد ہیں، جن میں گجر، بکروال، بلتی، بیڈا، بوٹو، بروکپا، چنگپا، گررہ، مون، پورگپا، گدی اور سیپی شامل ہیں۔ ان سب قبیلوں میں گجر بکروال قبیلہ جموں وکشمیر میں سب سے بڑا قبیلہ ہے۔


    کشمیر میں 12 قبائل آباد ہیںاورپورے بھارت میں 702 قبیلے موجود ہیں۔ تقریبا سبھی قبائل کا ماننا ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی حفاظت نیز ان کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل نکالنے میں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ گجر و بکروال قبیلہ تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہے۔موجودہ وقت میں جموں و کشمیر میں کل شرح خواندگی 71 فیصد ہے، گجروں کا لیٹریسی ریٹ محض 32 فیصد اور بکروال کا لیٹریسی ریٹ 23 فیصد ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں یہ قبیلہ بہت پیچھے ہے۔

    قبیلے کو تعلیمی میدان میں آگے لے جانے کے لیے 1970 میں اس وقت کے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی شیخ محمد عبداللہ کی طرف سے 263 موبائل اسکولوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ان موبائل اسکولز کا مقصد تھا کے گجر و بکرال کا وہ طبقہ جو اپنے مال مویشی کے ساتھ موسمی ہجرت کرتا ہے ان کو تعلیم فراہم کروائی جائے، اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ موبائل اسکولز اس قبیلہ کے ساتھ رہیں گے، اور قبیلہ کے بچوں کو تعلیم دیں گے۔

    اس دوران 263 موبائل اسکولز میں سے 175 موبائل اسکولز شروع کئے گئے۔ پھر بعد میں کچھ اسکولز کو بند کر کے ریگولر اسکولز میں تبدیل کر دیا گیا، اور باقی 88 موبائل اسکولز رہ گئے۔آج یہ 88 موبائل اسکولز کاغذی ریکارڈ پر تو ہیں لیکن زمینی سطح پر کہیں نظر نہیں آرہے ہیں، قبیلہ میں تعلیم کو اور بڑھاوا دینے کے لیے 2011 میں جموں و کشمیر حکومت نے 100 دیگر موبائل اسکولز کا اعلان کیا، جو ابھی تک شروع نہیں کیے گئے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں یونیورسٹی کی شعبہ لائف لرنینگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کویتہ سوری کے مطابق فی الوقت جموں و کشمیر کے سبھی اضلاع میں سے صرف راجوری ضلع میں بعض موبائل اسکولز کام کررہے ہیں۔

    گجر بکروال قبیلہ کی تاریخ پر ایک نظر

    گجر بکروال قبیلے کی ابتدا تاریخ داں وی اے سمتھ کی کتاب ‘ہندوستان کی ابتدائی تاریخ’ کے مطابق 465 قبل مسیح میں ہوئی۔ ان کی اس کتاب میں راجستھان میں گجر مملکت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ‘جیوگرافی آف جموں و کشمیر’ کے مصنف اے این رینہ لکھتے ہیں کہ ‘گوجر جارجیہ کے باشندے تھے۔ جس کے بعد وہ وسطی ایشیا، عراق، ایران، اور افغانستان کے راستے برصغیر ہند و پاک پہنچے۔ گجروں کے نام سے ہی آج کا گجرات جانا جاتا ہے۔ گجر اسکالر ڈاکٹر جاوید راہی نے اس قبیلے کی جینیاتی اساس وسطی ایشیا میں تلاش کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گوجر اصل میں ترکی النسل ہیں۔ متعدد گجر مورخین کا ماننا ہے کہ گجر سن ڈائنسٹی سے منسلک تھے اور ہندو بھگوان رام کے پیروکار تھے جن کی اکثریت بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئی۔

    بھارت میں گجروں کی آباد ی جموں و کشمیر کے دونوں منقسم خطوں کے علاوہ دہلی، اترپردیش، پنجاب، راجستھان، گجرات، ہماچل پردیش، بہار اور ہریانہ میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں بھی گجر بستے ہیں۔ گجر قبائل سے وابستہ لوگ مسلمان، ہندو، اور سِکھ مذاہب کے پیروکار ہیں۔

    2011 کی مردم شماری کے مطابق گجر قبیلہ کی کل آبادی 980654 ہے جبکہ بکروالوں کی آبادی 113198 ہے۔ گجر اور بکروال طبقہ کو 1991 میں انڈین شیڈول ٹرائب کے اندر لایا گیا۔ گجر بکروال طبقے کی معیشت مال مویشی، بھیڑ بکریاں، کھیتی باڑی اور دودھ بیچنے پر منحصر ہے۔ یہ طبقہ 12 مہینے خانہ بدوشی کی وجہ سے 6 ماہ کشمیر میں اور چھ مہینے جموں میں گزارتا ہے۔ بکروال اور گوجر طبقوں میں بعض بنیادی تبدیلیاں انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق بکروال مجموعی طور پر خانہ بدوش ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، "بکروال” میں ‘بکر’ کا معنی بکرا ہے اور ‘وال’ کا مطلب رکھوالا، بکروال بھیڑ بکریوں کے رکھوالے ہوتے ہیں۔

    بکروال برادری مذہب اسلام سے تعلق رکھتی ہے، اور بکروالوں کی آبادی جموں و کشمیر کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کے متعدد علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔قبیلہ کی تہزیب و تمدن اور ثقافت پر ایک نظر تہذیب و تمدن اور ثقافت کے اعتبار سے یہ قبیلہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے، اس قبیلہ میں خواتین شلوار قمیض اور سر پر گوجری ٹوپی کے ساتھ منفرد طرح کے زیورات پہنتی ہیں۔ اور مرد شلوار قمیض کے ساتھ گوجری پگڑی پہنتے ہیں۔ گجر مرد اپنی خوبصورت لمبی داڑھی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ گوجری زبان اردو رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ خوبصورت گیت اور بیت اس زبان کی منفرد پہچان ہیں۔

    ریاست جموں وکشمیر میں تخلیق ہونے والا گوجری ادب مقامی لہجوں کا مرکزی روپ ہے گوجری زبان کا اپنا ایک حلقہ ہے ،اپنا ایک ادب ہے، اپنے خالص الفاظ کا ذخیرہ ہے اور اپنی ایک الگ پہچان ہے یہ کہہ دینا کہ گوجری پنجاب یا کسی دوسری زبان کی ذیلی بولی ہے قطعا درست نہیں بلکہ گوجری زبان کی اپنی ذیلی شاخیں ہیں۔ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق گوجری زبان میں محاورے، ضرب المثل، پہلیاں، لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک بار غیر ہ وہ سب مواد موجود ہے جس کے بل بوتے پر اس کو زبان کا درجہ دیا جا سکتا ہے گوجری اپنی قدامت اور وسعت کے لحاظ سے برصغیر کی اہم زبان ہے شروع شروع میں گجرات(بھارت)اور دکن میں اس کو اردو کا نام دیا گیا کیونکہ دراصل اس زبان کے خدوخال سے ہی بعد میں اردو نے نشو و نما پائی چوہدری اشرف گوجر ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب اردو کی خالق، گوجری زبان میں بڑے خوبصورت طریقے سے یہ بات ثابت کی ہے۔

    گوجری فوک میں نغمے، بلاڈ اور فولک کہانیاں جنہیں داستان کہا جاتا ہے بہت دستیاب ہیں۔ گوجری زبان کے سیکڑوں گانوں میں نوروو، تاجو، نئرا، بیگوما، شوپیا، کونجھڑی اور ماریاں مشہورہیں۔ گوجری زبان میں اب لکھنے کا رواج بھی عام ہوچلا ہے۔ مشہور لکھاریوں میں سین قادر بخش، نون پونچی اور دیگر شامل ہیں۔ دوسرے لکھاریوں میں میاں نظام الدین، خدا بخش، زابائی راجوری، شمس الدین مہجور پونچی، میاں بشیر احمد، جاوید راہی، رفیق انجم، ملکی رام کوشن، سروری کاسانا، نسیم پونچی اورموجودہ دور میں منیر احمد زاہدجیسے لوگوں نے نام کمایا ہے اور اپنی شاعری، نثر اور تنقیدوں کے ذریعے گوجری زبان کی خدمت کی ہے۔

    قبیلہ کی تہذیب و تمدن اور ثقافت آج پورے بھارت میں جہاں لوگ ترقی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، وہیں گجر بکروال قبیلہ اپنے بنیادی مسائل کے لیے پریشان ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • کشمیر کے پردیسی پرندے،کشمیریوں کی تلاش میں کبھی ادھر کبھی ادھر

    کشمیر کے پردیسی پرندے،کشمیریوں کی تلاش میں کبھی ادھر کبھی ادھر

    سرینگر:کشمیر کے پردیسی پرندے،کشمیریوں کی تلاش میں کبھی ادھر کبھی ادھر، اطلاعات کے مطابق کشمیر کا رخ کرنے والے رنگ برنگے پرندے سرینگر کے مضافات کے علاوہ گاندربل کے شالہ بگ، پانپور کے منی بگ اور کھینسو آبی پناہ گاہوں میں اپنا ڈیرہ جماتے ہیں۔

    احساس انڈرگریجوایٹ سکالرشپ داخلوں کی تاریخ میں 24 دسمبرتک توسیع کردی گئی

    وادی کشمیر میں سرما کیآغاز سے ہی ہزاروں لوگ نقل مکانی کرکے گرم ریاستوں کا رخ کرتے ہیں، تاہم شدید سردی کے باعث وادی میں انوکھے مہمانوں کی آمد ہوتی ہے جس سے یہاں کے ماحول میں رونق بڑھ جاتی اور ان کو عام سخن میں مہمان پرندے کہا جاتا ہے۔روس کے سرد ترین علاقہ سابئیریا اور شمالی یورپ سے ہر برس موسم سرما میں کشمیر کی آب گاہوں میں لاکھوں کی تعداد میں یہ مہمان پرندے یہاں کی خوبصورتی کو دوبالاکرنے کے ساتھ ساتھ ماحول کا توازن بھی برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں

    دہلی دہل گیا،ہرطرف آگ اورخون کی ندیاں،املاک جل رہی ہیں ہندوستان خاکسترہورہا ہے،…

    ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق یہ مہمان پرندے وادی کی مختلف آب گاہوں میں ستمبر کے مہینے سے ہی آنا شروع کرتے ہیں اور ماہ اپریل میں واپس اپنے مقامات چلے جاتے ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ان مہینوں کے دوران یہ مہمان پرندے آب گاہوں میں قدرتی اناج پر اپنا گزارا کرتے ہیں اور شدید ٹھنڈ کے دوران محکمہ وائلڈ لایف ان کو دھان کا اناج کھلاتاہے۔ سرینگر کے مضافات ہوکر سرآب گاہ کے علاوہ یہ مہمان پرندے گاندبل کے شالہ بگ، پامپور کے منی بگ اور کرپنھچو آبی پناہ گاہوں میں اپنا ڈیرہ جماتے ہیں۔

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    کشمیر کی آبی گاہوں کی وائلڈ لائف وارڈن افشاں دیوا نے بتایا کہ موسم سرما کے آغاز سے ہی کشمیر کی آب گاہوں میں 21 اقسام کے پرندے آتے ہیں جن میں خاص کر بطخ اور گیز شامل ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا موجودہ موسم سرما میں ایک نئی قسم بار ہیڈیڈ پرندے جن کی تعداد بتائی جا رہی ہے، پہلی بار جنوبی کشمیر کے پانپور علاقہ کے منی بگ آبگاہ میں دیکھے گئے ہیں۔

    جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا ہے،

    ان کا کہنا ہے کہ پرندوں کو وادی کی آبگاہوں میں موزوں ماحول ملتا ہے جس کی وجہ سے یہ کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ گرچہ یہ مہمان پرندے کشمیر کا حسن دوبالا کرتے ہیں لیکن ان مہمان پرندوں کو شکاریوں کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما

    ماحولیاتی کارکنان کی جانب سے اکثر شکایتیں کی جاتی ہیں کہ محکمہ وائلڈ لایف ان پرندوں کو شکار ہونے سے بچانے میں ٹھوس اقدمات کرنے میں کوتاہی برت رہی ہے۔تاہم افشان دیوا نے بتایا کہ ان پرندوں کو بچانے کے لیے محکمہ نے آبگاہوں میں انٹی پوچنگ اسکواڈ تعنیات کیے ہیں

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

  • مقبوضہ کشمیرمیں بے روزگاری عروج پر، 22 اسامیوں کے لیے 70 ہزارامیدوار

    مقبوضہ کشمیرمیں بے روزگاری عروج پر، 22 اسامیوں کے لیے 70 ہزارامیدوار

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرمیں بے روزگاری عروج پر، 22 اسامیوں کے لیے 70 ہزارامیدوار،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بے روزگاری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے حال ہی میں مشتہر کئے گئے محض 22 اسامیوں کے لیے 70 ہزار سے زائد اعلی تعلیم یافتہ امیدواروں نے فارم جمع کروائے ہیں۔

    احساس انڈرگریجوایٹ سکالرشپ داخلوں کی تاریخ میں 24 دسمبرتک توسیع کردی گئی

    ذرائع کے مطابق کثیر تعداد میں امیدواروں کی طرف سے فارم جمع کرنے سے یونیورسٹی کے بنک اکائونٹ میں تقریباً 4 کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق کشمیر یونیورسٹی نے سال رواں کے ماہ اکتوبر کے اواخر میں اسسٹنٹ رجسٹرار اور اسسٹنٹ کنٹرولر آف ایگزامنیشنز کی 7 اسامیوں اور جونیئر اسسٹنٹ کی 15 اسامیوں کے لئے خواہشمند امیدواروں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔

    دہلی دہل گیا،ہرطرف آگ اورخون کی ندیاں،املاک جل رہی ہیں ہندوستان خاکسترہورہا ہے،…

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق اسسٹنٹ رجسٹرار پوسٹ کے لئے تعلیمی قابلیت 55 فیصد نمبرز کے ساتھ کسی بھی مضمون میں پوسٹ گریجویشن مقرر تھی جبکہ جونیئر اسسٹنٹ پوسٹ کے لئے تعلیمی قابلیت 50 فیصد نمبرزکے ساتھ گریجویشن کے علاوہ چھ ماہ کا کمپیوٹر کورس کا ہونا لازمی تھا جس کے لئے 70 ہزار سے زائد امیدواروں نے فارم جمع کروائے۔

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    ذرائع نے کہا کہ وادی میں انٹرنیٹ پر جاری پابندی کے باعث صرف 20 فیصد امیدوار ہی آن لائن فارم جمع کرسکے جبکہ 80 فیصد امیدواروں کو لمبی لمبی قطاروں میں گھنٹوں تک کھڑا رہنے کے بعد فارم جمع کروانا پڑے تھے۔

    جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا ہے،

    کشمیر یونیورسٹی نے متذکرہ اسامیوں کے لیے اس وقت درخواستیں طلب کی تھیں جب وادی میں تمام طرح کی انٹرنیٹ سہولیات پر پابندی کے علاوہ ہڑتالوں کا ایک طویل سلسلہ جاری تھا۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق یونیورسٹی کی طرف سے مشتہر شدہ اسامیوں کے لیے درخواستیں جمع کرنے والے امیدواروں کے ایک گروپ نے کہا کہ متعدد امیدواروں کو میلوں کی مسافت پیدل طے کرکے فارم جمع کرنے کے لئے یونیورسٹی پہنچنا پڑا تھا۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما

    انہوں نے کہا: ‘یونیورسٹی نے اس وقت متذکرہ اسامیوں کے لئے درخواستیں طلب کیں جب وادی میں ایک طرف تمام طرح کی انٹرنیٹ خدمات معطل تھیں اور دوسری طرف ہڑتالوں کا ایک طویل سلسلہ جاری تھا جس کی وجہ سے متعدد امیدواروں کو میلوں کی مسافت پیدل طے کرکے یونیورسٹی پہنچنا پڑا’۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    ایک امیدوار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے مشتہر اسامیوں کے لئے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھاری تعداد میں فارم جمع کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وادی میں بے روزگاری نقطہ عروج پر ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار پوسٹ اور اسسٹنٹ کنٹرول آف ایگزامنیشنز کے لئے پی ایچ ڈی، پوسٹ ڈاکٹریٹ، جے آر ایف، نیٹ وغیرہ ڈگریوں کے حامل امیدواروں نے درخواستیں جمع کیں۔

    ایک اور امیدوار نے کہا کہ دوردارز علاقوں سے وابستہ امیدواروں کو یونیورسٹی پہنچ کر کر فارم جمع کرنے میں دو دن لگ گئے اور مقررہ فیس کے علاوہ آنے جانے اوررہائش کے لئے بھی اچھی خاصی رقم خرچ کرنا پڑی۔انہوں نے کہا کہ ا میدواروں کی طرف سے اسامیوں کے لئے فیس کی صورت میں جو رقم یونیورسٹی کو مل گئی ہے اس سے منتخب امیدواروں کی تنخواہیں کئی ماہ تک فراہم کی جاسکتی ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے باہر فارم بیچنے والے دکانداروں نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاکر اچھی خاصی کمائی کی۔

  • بھارتی حکومت امدادی کیمپوں میں مکینوں کو ہراساں کررہی ہے،پنڈت کمیونٹی چیخ‌اٹھی

    بھارتی حکومت امدادی کیمپوں میں مکینوں کو ہراساں کررہی ہے،پنڈت کمیونٹی چیخ‌اٹھی

    سرینگر: بھارتی حکومت امدادی کیمپوں میں مکینوں کو ہراساں کررہی ہے،پنڈت کمیونٹی نے بھارت کی کالی کرتوتوں کا پردہ چاک کردیا ، اطلاعات کےمطابق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ، مقبوضہ جموں کے کیمپوں میں مقیم ہزاروں کشمیری ہندو خاندانوں نے تصدیق کے نام پر حکومت کی طرف سے ‘دھمکیوں’ اور ‘ہراساں کرنے’ کا الزام لگایا ہے ۔

    احساس انڈرگریجوایٹ سکالرشپ داخلوں کی تاریخ میں 24 دسمبرتک توسیع کردی گئی

    بحالی پیکیج کے تحت تعمیر کیے گئے دو کمروں کی رہائش گاہوں میں تقریبا 10000پنڈت خاندانوں کی رہائش ، جگتی ، موٹھی ، نگروٹا اور پورھو میں رہائش پزیر رہائش پذیر افراد کا الزام ہے کہ اگر متعلقہ کیمپ کے کمانڈنٹ کسی خاندان کے کسی فرد کی شناخت پریڈ نہیں کرپاتے تو ان کے دروازے پر نوٹس لگا دیئے جاتے ہیں۔

    دہلی دہل گیا،ہرطرف آگ اورخون کی ندیاں،املاک جل رہی ہیں ہندوستان خاکسترہورہا ہے،…

    بہت سے خاندان پنے رشتہ داروں یا ان کے بچوں کو ریاست سے باہر تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کرنے سے بھی خوفزدہ ہیں۔”میرے دو بچے جموں سے باہر کام کر رہے ہیں اور میں اپنے بیٹے سے ملنے گیا تھا اور وہاں دو مہینے قیام کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن کچھ ہی دن میں ، کیمپ کمانڈنٹ افسران ہماری عمارت کا دورہ کیا اور میری غیر حاضری پر نوٹس جاری کردیا ۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جگتی کے ایک کیمپ کے رہائشی جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے نے کہا ، "مجھے اپنے سٹیٹس کی وضاحت کرنے کے لئے جلدی سے واپس جانا پڑا۔”

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    بہت سے کنبے جن کے بچے روزگار پیکیج کے تحت برسرروزگارہیں اور کشمیر کے مختلف اضلاع میں تعینات ہیں ، کو بھی بخشا نہیں گیا۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کچھ دن پہلے بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا۔ ایک خاندان کیمپ کے اندر رہائش پذیر تھا لیکن سروے کے دوران اس پر تالا لگا دیا گیا تھا ، جگتی میں رہنے والے اشوک بھٹ نے بتایا۔ 1990 کی دہائی میں جبری طور پر انخلا کے بعد ، متعدد منزلہ عمارتوں والے کیمپوں کو کشمیر سے آنے والے خاندانوں ، خاص طور پر ہندوں کو الاٹ کیا گیا تھا۔

    جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا ہے،

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ایک سماجی کارکن سنیل کمار پنڈتا ، نے کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے ہم کسی جیل میں رہ رہے ہوں۔ ہم نے کسی ایسے بانڈ پر دستخط نہیں کیے ہیں جس سے ہم اس کیمپ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ زیادہ تر بچے روزگار کے لئے جموں سے باہر چلے گئے ہیں۔ یہ ذہنی ایذا رسانی ہے ریلیف کمشنر (تارکین وطن)ٹی کے بھٹ اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے کے لئے دستیاب نہیں تھے۔ ایک کیمپ کے زونل عہدیدار نے دعوی کیا کہ یہ توثیق کے عمل کا ایک حصہ ہے۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما