Baaghi TV

Author: +9251

  • امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کی تباہی سے کتنا ہوا جانی نقصان

    امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کی تباہی سے کتنا ہوا جانی نقصان

    امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کی تباہی سے کتنا ہوا جانی نقصان

    باغی ٹی وی رپورٹ مقامی میڈیا کے مطابق ٹیسٹ فلائٹ کے دوران حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر کا ائیر کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔امریکہ کی ریاست منی سوٹا میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گرنے سے 3 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    حکام کا کہنا تھا کہ واقعہ مقامی وقت دوپہر دو بجے پیش آیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام تین فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا ملبہ کھلے میدان میں گرا اور اس کو تلاش کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگا۔متعلقہ حکام نے حادثے کی وجہ اور ہلاک ہونے والوں کے نام نہیں بتائے تاہم واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    ایئرکنٹرول حکام کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اس کی تلاش شروع کردی گئی تھی۔ ٹریفک سکینر حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کے موبائل فون بھی ٹریس کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ صحیح مقام کا تعین کیا جا سکے۔

    امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق حادثے کے وقت مطلع صاف اور حد نگاہ 10 میل تھی۔کنٹرول ٹاور حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر نے مقامی وقت دوپہر 1:55 پر اڑان بھر i اور 2:15 منٹ پر حادثے کا شکار ہوا تاہم ملبہ تلاش کرنے میں کافی وقت لگا۔
    واضح‌رہے کہ چند دن پہلے افغانستان میں طالبان نے بھی ایک امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا.

  • اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں!سعودیہ پلٹ شہری کے قتل کا معمہ حل

    اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں!سعودیہ پلٹ شہری کے قتل کا معمہ حل

    لاہور:اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں!سعودیہ پلٹ شہری کے قتل کا معمہ حل،اطلاعات کے مطابق لاہور کے نواحی علاقے سندرمیں دوران ڈکیتی سعودیہ پلٹ شہری کے قتل کا معمہ حل، مقتول کی بیوی نے آشنا کے ساتھ ملکر شوہر کو قتل کیا اور ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا، پولیس نے واردات کے تینوں کرداروں کو گرفتار کر لیا۔

    میں دوستوں کی کتابیں چوری کرنے میں مشہور تھا، مراد علی شاہ کے منہ سے سچ نکل گیا

    مانگا پولیس کے مطابق مقتول کی بیوی کے عارف کے کزن فیصل کے ساتھ مراسم تھےاورخاتون نےمبینہ آشنا سے مل کر سعودیہ سے آنے والے شوہر کے قتل کا منصوبہ بنایا جبکہ ملزموں نے چالاکی سے واردات کو ڈکیتی قتل کا رنگ دینے کی کوشش کی۔

    سی ایس ایس امتحانات کیلیےعمر کی حد میں تبدیلی ؟اہم خبرآگئی

    دوران تحقیقات معلوم ہوا کہ فیصل نے طیب اورسلیم کےساتھ ملکرعارف کو گولی ماری اورنقدی اورزیورات لے گئے جبکہ اے ایس پی رائیونڈ کی نگرانی میں پولیس نے شواہد جمع کر کے تینوں ملزموں کو پکڑ لیا اورملزموں نے اعتراف جرم کرلیا، اسلحہ اور مال مسروقہ برآمد کر کے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    جھوٹ کیوں‌ بولا ؟ سی وی بھیجنے والی خاتون کو جیل بھیج دیا گیا

  • لیہ – رضا کاروں کا عالمی دن منایا گیا

    لیہ – رضا کاروں کا عالمی دن منایا گیا

    لیہ (نمائندہ باغی ٹی وی ) ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر سجاد احمد کی سربراہی میں 5دسمبر رضاکاروں کا عالمی دن منایا گیا۔
    5دسمبر رضاکاروں کا عالمی دن پوری دنیا میں منایاجاتاہے۔اس دن کو منانے کا مقصد تربیت یافتہ رضاکاروں کی قدرتی آفات وسانحات میں مصیبت زدہ اور تکلیف میں مبتلامریضوں اورافراد کی مددکرنے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کے نوجوانوں کواس کارِخیر میں حصہ ڈالنے کے لیے ریسکیورضاکاربننے کی ترغیب دینا ہے۔کیونکہ بڑے حادثات وقدرتی آفات میں یہ ریسکیو رضاکار کسی بھی ادارے میں ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتے ہیں اسی عالمی دن کے حوالے سے سنٹرل ریسکیو اسٹیشن لیہ پر سیمینار کا انعقاد کیا جس میں ایمرجنسی آفیسر عنایت اللہ بلوچ، ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ لیہ سےاساتزہ کرام نصراللہ اعجاز قریشی، مرزا اسفند یار بیگ، سید حسیب سلطان، نزیر محمد انجم رانا اور اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسکیو 1122 کے اہل کاروں ریسکیو رضاکاروں طلباء نے شرکت کی۔
    اس موقع پرڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر سجاد احمد نے کہا کہ ریسکیو1122 ضلع لیہ کی تمام تحصیلوں میں بڑی تعدادمیں ریسکیومحافظ رجسٹرڈ کرچکی ہے۔ضلع کی تمام یونین کونسلوں میں کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جوکہ ان علاقوں میں آنے والی کسی بھی آفت سے اپنی مدد آپ کے تحت نمٹنے اور ضرورت کے وقت ریسکیواداروں کی مدد کے لیے دستیاب ہوں گی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122کا مقصدصحت مند ومحفوظ معاشرے کا قیام ہے،جوکہ تربیت یافتہ ریسکیورضاکاروں کے بغیر ممکن نہیں اورعوام سے اپیل کی کہ آئیں ریسکیورضاکاربنیں اور معاشرے کا فعال شہری بنیں۔آگاہی سمینار کے اختتام پر آگاہی واک کی گئی اورریسکیورضاکاروں کی سلامتی اور اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے والوں کے درجات کی سربلندی کے لیے دعا کی گئی۔ اس موقع پر ایمرجنسی آفیسر آپریشنل عنایت اللہ بلوچ، کنٹرول روم انچارج محمدعمران، اسٹیشن کوارڈینٹرمحمد کاشف، میڈیا کوارڈینٹر وسیم حیات بھی موجود تھے۔

  • قصور میں تین کمسن بچوں کی لاشیں جنھیں زیادتی کا ینشانہ بنایا گیا تھا اور انھیں قتل کیا گیا تھا، ایک سال سے بھی کم عمر زینب کے عصمت دری اور قتل کے الزام میں عمران علی کو پھانسی دی گئی تھی۔

    عمران علی نے عوامی پھانسی کے مطالبہ کے باوجود کوٹ لکھپت جیل، لاہور کی دیواروں کے اندر پھانسی دے دی۔ اس کے باوجود اس معاشرے میں عام شائستگی اور اخلاقی تانے بانے پر ایک ناقابل بیان حملے کے ردعمل کے طور پر، قومی گفتگو میں اس کی پھانسی ناگزیر ہے اس معنی میں عوامی تھی۔ بدلہ لینے، پھانسی دینے اور خود پھانسی دینے کی فریاد، تاہم عصمت دری اور قتل کے اگلے دور کے مجرم کو روک نہیں سکی۔

    عمران علی سے پہلے جاوید اقبال تھا، جو سیریل کلر تھا ، جس نے 100 نوجوان لڑکوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔ جج نے، مارچ 2000 میں اسے پھانسی پر پھانسی دیتے ہوئے لکھا، "آپ کے والدین کے سامنے گلا دبا کر قتل کیا جائے گا جس کے بچوں کو آپ نے قتل کیا تھا۔ اس کے بعد آپ کے جسم کو 100 ٹکڑوں میں کاٹ کر تیزاب میں ڈال دیا جائے گا، جس طرح آپ نے بچوں کو مارا تھا۔ "جاوید اقبال بعد میں جیل میں رہتے ہوئے ایک خودکشی میں ہلاک ہوگئے۔

    عمران علی اور جاوید اقبال کے لئے غالب گفتگو کا نکتہ ہمارے بچوں کو اگلے عمران علی یا جاوید اقبال سے بچانے کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ ایک ابتدائی غیر مہذب ناکامی کے عالم میں حکومت اور معاشرے کی حیثیت سے سخت نظر آنے کا تھا۔

    سزائے موت ہمیشہ اس کے بارے میں ہوتی ہے: قتل کی وارداتوں میں ہماری رضامندی اور صلاحیت کا مظاہرہ۔ یہ پیغام آئندہ قاتلوں اور عصمت دری کرنے والوں کو نہیں دیا گیا ہے، بلکہ بڑے پیمانے پر عوام کے لئے ہے۔

    آمرانہ ریاست اور موت کے مابین تعلقات کو فرانسیسی پارلیمنٹ میں ستمبر 1981 میں اپنی تقریر میں فرانسوا کے وزیر انصاف کے تحت فرانس کے وزیر انصاف رابرٹ بیڈینٹر نے واضح طور پر اجاگر کیا تھا۔ "یہ انصاف کے منافی ہے. یہ جذبہ انسانیت پر غالب خوف اور خوف ہے۔”

    زیادہ اہم بات یہ ہے کہ، "آزادی کے ممالک میں خاتمہ تقریبا قاعدہ ہے۔ آمریت میں ہر جگہ سزائے موت استعمال ہوتی ہے۔ دنیا کی اس تقسیم کا نتیجہ محض اتفاق سے نہیں ہوتا ہے۔ یہ ایک ارتباط کو ظاہر کرتا ہے۔ سزائے موت کی اصل سیاسی علامت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں یہ خیال آتا ہے کہ ریاست کو شہری سے فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے ، یہاں تک کہ شہری کی زندگی کو دبانے کا امکان موجود ہو۔

    ایران میں انقلاب کے بعد، ضیاءالحق کی حکومت نے آیت اللہ خمینی کے تحت پھانسی دینے کی خبروں کو عام کرنا شروع کیا۔ فروری 1979 میں رضا شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستانی اخبارات کے آرکائیو میں موت کی سزاؤں کو سرخی کی خبروں کے طور پر اور خمینی کو "درجنوں” کی "نششت” بنا کر بتایا گیا ہے۔

    یہ قدرے عجیب لگ رہا تھا؛ پھر بھی اس کا مقصد جان بوجھ کر ریاست کے زیر اہتمام تشدد کے لئے قبولیت پیدا کرنا اور پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے پھانسی/ قتل، 5 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی منزل قائم کرنا تھا۔

    1983 میں لاہور کے ایک کمسن لڑکے پپو کے قاتل کو سرعام پھانسی دے دی گئی اور قاتل کی لاش کو تماشے کی حیثیت سے سارا دن لٹکا دیا گیا۔ بچوں یا عصمت دری اور قتل کا خاتمہ ملک یا شہر میں نہیں ہوا۔ تاہم ضیاء آمریت کے ذریعہ یہ بات پھر سے سامنے آچکی ہے کہ اس نے تشدد کا تماشا بنانے میں ٹیڑھی خوشی لی۔ کارکنوں اور صحافیوں کی فلاگنگیں اس وقت نمایاں طور پر مزید قابل تقلید ہوجاتی ہیں جب چراغ کے خطوط سے لٹکی لاشیں ملتی ہیں۔

    سزائے موت کے لئے صریح دلیل کو بڑے پیمانے پر بدنام کیا گیا ہے اور بیشتر حکومتیں، بشمول پاکستان، محتاط اور لگ بھگ ناپسندیدہ دلیل کو روکتی ہیں کیونکہ یہ سزائے موت کا مقصد نہیں ہے۔

    آرتھر کویسٹلر نے انگلینڈ میں سزائے موت کے خلاف اپنے مقدمے کے مقدمے میں اس وقت کے بارے میں لکھا تھا جب اٹھاؤ جیسیوں کو سرعام پھانسی دی جاتی تھی، اور دیگر پیکیٹ اپنی قابلیت کو استعمال کرنے کے لئے پھانسی کے مشاہدے کے لئے جمع ہونے والے ہجوم سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ 1886 میں برسٹل جیل میں 167 مردوں میں سے ، جنھیں سرعام پھانسی کی سزا سنائی گئی، 164 نے کم از کم ایک سرعام پھانسی کا مشاہدہ کیا تھا۔

    ہجوم کے لیے قتل کی اذان حتمی خلل ہے۔ زخمی معاشرے میں جوڑ توڑ کا سب سے زیادہ مذموم فعل ہے۔ متاثرین بھیڑ کے حملوں کے سب سے زیادہ متاثرین کی طرح پسماندہ یا غریب ہیں۔

    اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے مجرمانہ انصاف کے نظام کی اصلاح کے لئے سخت جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کو مزید ذمہ دار بنایا جاسکے ، ساختی اور معاشرتی رکاوٹوں سے نمٹنے اور مزید آزاد معاشرے کی تشکیل کی جائے۔ تاہم ، پپو یا عمران علی کو پھانسی دینا بہت زیادہ فوری، ٹھوس، آسان اور بے ایمانی ہے۔

    پھر یہ خبر عمران علی کے بارے میں بنتی ہے، انتقام اور انصاف کیسے پیش کیا گیا، اس حقیقت کی بجائے کہ زینب کو قصور سے اغوا کیا گیا تھا جہاں 2015 سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے 700 سے زیادہ واقعات درج ہیں۔ یہ اس خون کو روشن کرنے والے لمحے کے لئے حقیقت کو واضح کردے گا۔ کہ پاکستان میں روزانہ اوسطا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سات نئے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

    اس دلیل کا اطلاق سزائے موت کے تمام معاملات پر ہوتا ہے جن میں عصمت دری، بچوں کے ساتھ بدسلوکی، دہشت گردی اور روزمرہ کے قتل شامل ہیں۔ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں حکومت نہ تو روکنے کی کوشش کرتی ہے اور نہ ہی انصاف کا حصول۔ یہ صرف مار دیتا ہے کیونکہ یہ کرسکتا ہے۔

  • فاطمہ سہیل کوبدنام کیا جارہا ہے،ویڈیو کسی اورکی ہےجلد ہٹائی جائے، ایف آئی اے کا حکم

    فاطمہ سہیل کوبدنام کیا جارہا ہے،ویڈیو کسی اورکی ہےجلد ہٹائی جائے، ایف آئی اے کا حکم

    لاہور:فاطمہ سہیل کوبدنام کیا جارہا ہے،ویڈیو کسی اورکی ہےجلد ہٹائی جائے، ایف آئی اے کا حکم،اطلاعات کےمطابق فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی نے ایک لیٹرجاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ جوویڈیواس وقت سوشل میڈیا پروائرل ہورہی ہے اور جس کے بارے میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ فاطمہ سہیل کی ہے ، یہ الزام غلط ہے ،

    تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    ایف آئی اے کے حکام کے مطابق انہیں یہ ویڈیو موصول ہوئی ہے اور فاطمہ سہیل نے جمعرات کی صبح اپنے وکیل زین قریشی کے ذریعے ایک بیان ریکارڈ کروایا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اس ویڈیو میں دیکھی جانے والی خاتون میں نہیں ہوں اور میرا نام غلط استعمال کیا جارہا ہے اس لیے اسے فوری طور پر ہٹایا جائے ۔

    جھوٹ کیوں‌ بولا ؟ سی وی بھیجنے والی خاتون کو جیل بھیج دیا گیا

    فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سرفراز چوہدری کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو لکھ دیا گیا ہے اور جلد اس ویڈیو کو ہٹا دیا جائے گا۔

    میں دوستوں کی کتابیں چوری کرنے میں مشہور تھا، مراد علی شاہ کے منہ سے سچ نکل گیا

    سرفراز چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ سائبر کرائم ونگ کی فارنزک ڈیپارٹمنٹ نے اس ویڈیو کا فارینزک ٹیسٹ کیا ہے اور اس ویڈیو مِیں دیکھی جانے والی خاتون فاطمہ سہیل نہیں ہیں بلکہ ان سے ملتی جلتی خاتون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جانچ انہوں نے چہرے کے نقوش کے ذریعے کی ہے جیسے ناک اور بھنوؤں کے درمیاں کا فاصلہ اوردیگرپہلووں سے کی ہے

    سی ایس ایس امتحانات کیلیےعمر کی حد میں تبدیلی ؟اہم خبرآگئی

    ان کا کہنا تھا کہ فاطمہ سہیل نے چند ماہ قبل اپنے سابقہ شوہر محسن عباس حیدر کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی کہ ان کے شوہر ان کے ساتھ لی گئی کچھ ذاتی تصاویر کو سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں لہذا انہیں ہٹایا جائے

  • لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد کرکٹ ٹیم کی حالت پر برس پڑے

    لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد کرکٹ ٹیم کی حالت پر برس پڑے

    لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد کرکٹ ٹیم کی حالت پر برس پڑے،

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ دیکھ لیں کرکٹ ٹیم کا کیا حشر ہو گیا ہے۔

    جاوید میانداد نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں پروفیشنلزم کی کمی ہے جو ڈپارٹمنٹ کرکٹ سے آتی ہے۔

    قومی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جاوید میانداد نے کہا کہ وہ ایک بہترین وکٹ کیپر ہے اور اس کی ٹیم میں جگہ بنتی ہے۔

    سرفراز کو کپتانی سے ہٹانے سے متعلق بات کرتے ہوئے جاوید میانداد نے کہا کہ سرفراز کو کپتانی سے ہٹانا بورڈ کا فیصلہ ہے لیکن انہیں ٹیم سے نکال کر زیادتی کی گئی۔
    واضح‌رہے کہ اس سے پہلے معین خان نے کہاکہ مصباح کا کسی بھی ٹیم کے ڈگ آؤٹ میں ہونا مفادات کا ٹکراؤ ہوگا۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں معین خان نے کہا کہ اگر مصباح الحق کسی بھی ٹیم کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں تو اس کا پاکستانی کھلاڑیوں پر اچھا اثر نہیں پڑے گا، یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اگر دیگر کوچز کو پی ایس ایل میں کام کرنے سے منع کیا ہے تو مصباح کو بھی ایسا نہ کرنے دیں۔اس کے علاوہ انہوں نےکہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مصباح کو اتنے زیادہ عہدے کیوں‌دیے گئے.

  • سرگودھا:ڈی پی او عمارہ اطہر کی ہدایت پر نماز جمعہ کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے

    سرگودھا:ڈی پی او عمارہ اطہر کی ہدایت پر نماز جمعہ کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے

    سرگودھا:ڈی پی او عمارہ اطہر کی ہدایت پر نماز جمعہ کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے
    سرگودھا:ضلع بھرکی تمام مساجد، امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں پرمسلح پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
    : مسجد میں داخل ہونے والے نمازیوں کی چیکنگ بذریعہ میٹل ڈیٹکٹرکی گئی۔
    سرگودھا: کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لیے سادہ لباس میں بھی پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

  • امریکہ اب کتنی فوج مشرق وسطیٰ بھیجے گا، اہم اعلان

    امریکہ اب کتنی فوج مشرق وسطیٰ بھیجے گا، اہم اعلان

    امریکہ اب کتنی فوج مشرق وسطیٰ بھیجے گا، اہم اعلان

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے 5 سے 7 ہزار اضافی فوجی مشرق وسطی بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بات ایک امریکی ذمے دار نے جمعرات کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو شناخت ظاہر نہ کرنے کے درخواست پر بتائی۔

    امریکی ذمے دار نے یہ نہیں بتایا کہ اضافی فوجیوں کو کب اور کہاں تعینات کیا جائے گا .. تاہم انہوں نے حوالہ دیا کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے والی ایک جماعت کے حملوں کے جواب میں ہو گا جس نے حالیہ مہینوں کے دوران امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔

    ادھر کانگرس کے ایک اجلاس میں نائب وزیر دفاع جون روڈ کا کہنا تھا کہ "امریکا نے تشویش کے ساتھ ایران کے رویے پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم خطرے کے سطح کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور ہم اپنی موجودگی کو تیزی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں”۔

    تاہم جون روڈ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطی کے خطے میں 14 ہزار اضافی امریکی فوجیوں کے تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح پینٹاگان کی ترجمان الیسا فرح نے بھی ٹویٹر پر اس تعداد کو مسترد کر دیا تھا۔
    واضح‌رہے کہ اس سے پہلے امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ واشنگٹن ایرانی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرق وسطی میں مزید 14 ہزار فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

    اخبار نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے حکام ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے درجنوں جہازوں کی تعیناتی پر غور کر رہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوج بھیجنے کے منصوبے کا مقصد امریکی پابندیوں پر کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو روکنا ہے۔لیکن اس کی بعد میں تردید کر دی گئی..

  • لیہ – موٹر سائیکل چورگینگ گرفتار

    لیہ – موٹر سائیکل چورگینگ گرفتار

    لیہ (نمائندہ باغی ٹی وی ) ایس ایچ او ماڈل تھانہ سٹی لیہ اشرف ماکلی کی سربراہی میں اے ایس آئی عطاء میراں نے پولیس ٹیم کے ہمراہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موئثر کاروائی کرتے ہوئے موٹر سائیکل چور گینگ کو گرفتارکر لیا جن کے قبضہ سے 06عدد چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی مالیتی رقم 2لاکھ 34ہزارروپے برآمد کر لیے، گینگ کے ملزمان اعجاز حسین کا تعلق لیہ سے جبکہ محمد شاکر کا تعلق مظفر گڑھ سے ہے ،ملزمان کے خلاف مختلف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ برآمدہ رقم موٹر سائیکل مالکان کے حوالے کر دی گئی ،ایس ایچ او اشرف ماکلی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او لیہ عثمان اعجاز باجوہ کی ہدایات کی روشنی میں پولیس افسران معاشرے سے جرائم کی بیخ کنی اور مجرمان کی سر کوبی کےلئے متحرک ہیں،انشاءاللہ مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔

  • تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    چند روز پہلے فیصل آباد کے ایک نجی سکول کی سالانہ پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ میں میرا تربیت اولاد کے عنوان پر سیشن تھا. اس تقریب میں کچھ بچوں اور والدین کو ایوارڈز بھی دیے گئے تھے. ایک دراز قد، بہ ظاہر ان پڑھ خاتون کو "سال کی بہترین ماں” کا ایوارڈ دیا گیا.

    سیشن کے اختتام پر میں نے ایوارڈ حاصل کرنے والی ماں کو ڈھونڈنا شروع کیا. لیکن وہ سکول میں پڑھنے والے تینوں بچوں کو لے کر اپنے گھر واپس جلی گئی تھیں. میں نے پرنسپل صاحب سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر آپ کو اس خاتون کا گھر معلوم ہو تو میں آپ کے ساتھ جا کر کچھ دیر کے لیے اس ماں سے ملنا چاہتا ہوں.

    پرنسپل صاحب مجھے سکول سے بہت دور محلہ غلام آباد لے گئے. وہاں ایک معمولی سا گھر تھا. جو ایک کمرے پر ہی مشتمل تھا. چھوٹا سا برآمدہ اور اتنا ہی صحن تھا. بچے اور ان کی ماں گھر میں موجود تھے . وہاں جا کر معلوم ہوا کہ بچوں کا والد ایک فیکٹری میں مزدوری کرتا ہے. ان کے تین بیٹے ہیں اور بیٹی کوئی نہیں. ماں گھر میں رہ کر سلائی مشین پر لوگوں کے کپڑے سیتی ہے. اپنی محنت کی کمائی سے وہ بچوں کی سکول فیس ادا کرتی ہے. یہ صرف ماں کا ہی شوق تھا کہ بچے شہر کے اچھے سکول میں پڑھ رہے تھے. سکول انتظامیہ نے بچوں کے شوق اور تعلیمی رجحان کو دیکھ کر کچھ فیس کم بھی کر دی تھی.

    میری کھوجی طبیعت کو ایک دل چسپ سٹوری ملنے والی تھی. میں ہمیشہ اپنے ارد گرد بکھری کہانیوں کو ہی فوکس کرتا ہوں. ہمارے ارد گرد ایسے ہزاروں کردار موجود ہیں جنہیں رول ماڈل بنا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے. زندگی ساز اور کردار ساز واقعات کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں، بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والے دل کی کمی ہے.

    میں نے پرنسپل صاحب کی اجازت سے اس خاتون سے پوچھا کہ آپ کو سال کی بہترین ماں کا ایوارڈ ملا ہے. اس ایوارڈ ملنے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ؟ وہ خاتون پر جوش اور پر اعتماد انداز میں بولیں، مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے. پچھلے سال بھی مجھے ہی یہ ایوارڈ ملا تھا. کیوں کہ میرے بچے سکول سے ناغہ نہیں کرتے، صاف ستھرے یونیفارم میں سکول جاتے ہیں. ان کی لکھائی بہت خوب صورت ہے. ان کا ہوم ورک مکمل ہوتا ہے. یاد کرنے کا سبق بھی ٹھیک طرح سے یاد کر کے جاتے ہیں. تینوں بچے ہر سال امتحانات میں فرسٹ پوزیشن بھی لیتے ہیں. خاتون کے بچے بلترتیب چھٹی، پانچویں اور چوتھی جماعتوں میں زیر تعلیم تھے.

    میں نے پوچھا، کیا بچے سکول کے بعد اکیڈمی پڑھنے جاتے ہیں؟، وہ خاتون جھٹ سے بولی. نہیں، میں نے انہیں کبھی بھی کسی اکیڈمی میں نہیں بھیجا. میں ان پڑھ ہوں لیکن میں نے دو اصولوں کو اپنی زندگی کا لازمہ بنا لیا ہے.

    پہلا اصول یہ ہے کہ میں گھر کے تمام ضروری اور بنیادی کام کپڑے دھونا، صفائی وغیرہ، کھانا پکانا، سلائی مشین پر کپڑے سینا اس وقت کرتی ہوں جب بچے سو رہے ہوں یا سکول گئے ہوں یا عصر کے بعد گراؤنڈ میں کھیلنے کے لیے گئے ہوں. میں اس دوران میں ہی سارے کام نمٹا لیتی ہوں . جب میرے بچے گھر آتے ہیں تو میں اپنی پوری توجہ ان کو دیتی ہوں. اس وقت گھر کا کوئی کام نہیں کرتی. میرے بچے ہوتے ہیں یا میں ان کا سایہ بن کر ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہوں.

    میں بڑی توجہ سے سادہ پنجابی لہجے کی اردو میں اس خاتون کی باتیں سن رہا تھا، جب وہ لمحے بھر کو رکیں تو میں نے پوچھا دوسرا اصول بھی بتا دیں . وہ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجاتے ہوئے بولیں، میرا دوسرا اصول یہ جیسے ہی میرے بچے مغرب کی نماز سے فارغ ہوتے ہیں. میں فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتی ہوں اور انہیں کہتی ہوں کہ اپنے اپنے سکول کے بستے لے آؤ. پھر میں ان میں سے ہر ایک سے اس کا سکول میں پڑھا جانے والا سبق سنتی ہوں.

    بچوں کی ماں کہتی ہے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی. لیکن میرے بچے سمجھتے ہیں کہ میں پڑھی لکھی ہوں اور سب کچھ سمجھ رہی ہوں. میں ہر مضمون کا سبق تین بار پڑھنے کا کہتی ہوں. بچے سناتے ہوئے یاد کر لیتے ہیں. روز کا سبق روز یاد کرنے سے بچے امتحانات کے دنوں میں پریشان بھی نہیں ہوتے. انہیں پوری کتاب یاد ہو چکی ہوتی ہے. مغرب سے عشاء تک بچے بلا ناغہ میرے پاس بیٹھ کر پڑھتے ہیں. میں بھی روز کچھ نیا سیکھتی ہوں. اور میرے دل کو تسلی بھی ہو جاتی ہے کہ میرے تینوں بیٹوں نے اپنا سبق دہرا کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا ہے.

    بات ختم ہو چکی تھی. میں وہاں سے واپس آتے ہوئے رستے میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک ان پڑھ ماں اپنے بچوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے کس انداز میں تیار کر رہی تھی. وہ قابل تعریف ماں ہے. یقیناً یہی بچے ہمارے مستقبل کے معمار بنیں گے.

    ایک قابل رشک کہانی… تربیت اولاد کے دو اصول
    (خواجہ مظہر صدیقی)