Baaghi TV

Author: +9251

  • صفائی کے عمل کا معائنہ

    صفائی کے عمل کا معائنہ

    کمالیہ. چیف آفیسر عمیر دلدار محلہ چڑھ پارک و ذیشان کالونی میں گندگی کے ڈھیر اپنی نگرانی میں ختم کروارہے ہیں، اس موقع سینٹری انسپکٹر رب نواز خان و شوکت علی بھی ہمراہ موجود ہیں..
    تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی نوشین اسرار کی ہدایت پر چیف آفیسر عمیر دلدار نے ذیشان کالونی و محلہ چڑھ پارک میں گندگی کے ڈھیر ختم کروانے کے ہمراہ سینٹری انسپکٹر رب نواز خان موقع پر پہنچ گئے اور صفائی کے عمل کا معائنہ کیا. اس موقع پر چیف آفیسر عمیر دلدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صفائی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے شہریوں کا تعاون درکار ہے. شہری کوڑا کرکٹ وغیرہ میونسپل کمیٹی کے مخصوص کردہ پوائنٹس پر پھینکیں عملہ صفائی خود اٹھا لے گا.

  • پہلےمشرف کے ساتھیوں کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ چلایا جائے، فواد چوہدری

    جہلم:پہلےمشرف کے ساتھیوں کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ چلایا جائے، اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نوازشریف کی واپسی کی امیداہل خانہ کونہیں توعوام کوکیاہوگی جب کہ پنجاب میں سیاسی وانتظامی اکھاڑپچھاڑضروری تھی۔

    تفصیلات کے مطابق جہلم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت کامعاملہ حساس تھا جوخوش اسلوبی سےحل ہوگیا، تقرری پرکسی جماعت کواعتراض نہیں جوخوش آئنداقدام ہے،عدالتی فیصلےپرقانون سازی آئندہ6ماہ تک کرلی جائےگی۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نےنوازشریف سےجان چھڑائی ہم قدرکرتےہیں، مشرف پرغداری کامقدمہ آرٹیکل4کےخلاف ہے، غداری کامقدمہ ان افرادپربھی چلایاجائےجوان کےساتھ تھے، پرویزمشرف ہمارےاورتحصیل پنڈدادن خان کےمحسن ہیں۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں قیمتی جڑی بوٹیوں کاخزانہ موجودہے حکومت طب یونانی اور جڑی بوٹیوں کےفروغ کیلئےاقدامات کررہی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جہلم میں دنیاکاجدیدترین سائنس اینڈٹیکنالوجی پارک بنارہےہیں اور پنڈدادن خان میں وزیراعظم عمران خان 13 دسمبرجلسہ کریں گے۔

  • وزیراعظم وفات پاگئے،تاریخ نے وہ دن پھردہرادیا

    کراچی :وزیراعظم وفات پاگئے،تاریخ نے وہ دن پھردہرادیا، تاریخ کے سنہری ابواب کے مطابق یکم دسمبر1980 کو پاکستان کے وزیراعظم وفات پاگئے ، مورخین کے مطابق پاکستان کے سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی 15جولائی 1905ننگل انبیا، تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔

    1928ء میں انڈین آئوٹ اینڈ اکائونٹس سروس میں شامل ہوئے اور تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ قیام پاکستان سے پہلے جب عارضی حکومت میں لیاقت علی خان وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے بطور مشیر اعلیٰ ان کاوہ بجٹ تیار کرنے میں بڑی مدد کی جسے غریبوں کا بجٹ کہا جاتا ہے۔

    قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل اور 1951ء میں وفاقی وزیر خزانہ بنے۔ 1955ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 11 اگست 1955ء سے 12 ستمبر 1956ء تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ ان کے عہد حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کے پہلے آئین کی منظوری تھا۔

    ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد وہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ تاہم محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔انہوں نے تحریک پاکستان کے موضوع پر Emergence of Pakistanکے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس کا ترجمہ ’’ظہور پاکستان‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔

  • وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر کے دورہ افغانستان کو کیسے خفیہ رکھا،تفصیلات آگئیں

    واشنگٹن :امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت جسے سپرپاوربھی کہاجاتا ہےکےطاقت ورصدر بھی اپنی فوج کے مشورے کے بغیرنہ توکوئی سفرکرتے ہیں اورنہ ہی کوئی تقریرکرتے ہیں، اسی طاقت ورامریکہ کے طاقت ورصدرڈونلدٹرمپ اپنی افواج کی مرضی کے بغیر کوئی بیرونی دورہ نہیں کرسکتے ، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو افغانستان کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ جہاں وہ بگرام ایئر بیس پر امریکی فوجیوں سے ملے اور ان سے خطاب کیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ افغانستان کا پہلا دورہ تھا جبکہ اپنے تین سالہ دورہ صدارت میں انہوں نے دوسری بار کسی جنگ زدہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔اس دورے کے دوران انہوں نے تھنکس گیونگ ڈے کا روایتی کھانا فوجیوں کے ہمراہ کھایا جبکہ اس دوران سیلفیاں بھی لیں۔

    خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکہ کے صدر کا یہ غیر متوقع دورہ 33 گھنٹوں پر محیط تھا جس کے بارے میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس دورے کی تیاری کئی ہفتوں سے ہو رہی تھی تاہم انتظامیہ اس دورے کو اس وقت تک خفیہ رکھنے میں کامیاب رہی جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے واپس امریکہ کے لیے روانہ نہ ہوئے۔

    ‘رائٹرز’ کے مطابق مختلف وقتوں میں صدر کے حوالے سے معلومات سامنے آنے اور ان کے ٹوئٹر کے استعمال کی وجہ سے وائٹ میں انتہائی مخصوص حکام کو صدر کے دورے سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔

    منگل کو صدر ٹرمپ نے امریکی ریاست فلوریڈا کا شیڈول کے مطابق دورہ کیا تھا اس دوران صحافیوں کی بڑی تعداد بھی ان کے ہمراہ تھی۔ یہ صحافی جمعرات کو ہونے والی کانفرنس کے منتظر تھے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شریک ہونا تھا اور فوجیوں سے خطاب بھی کرناتھا تاہم ان صحافیوں کو بعد میں علم ہوا کہ وہ تو فوجیوں سے ملنے 13ہزار کلومیٹر دور افغانستان چلے گئے ہیں ۔

    افغانستان کے دورے کو خفیہ رکھنے کی وجوہات بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خطرناک علاقہ ہے اور وہ فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں جانا چاہتے تھے۔صدر ٹرمپ کے افغانستان کے دورے سے چند گھنٹے قبل واشنگٹن میں رپورٹرز کے ایک گروپ کو خفیہ طور پر جمع کیا گیا اور ان کو کہا گیا کہ صدر ٹرمپ خفیہ طور پر ایک نامعلوم مقام کا دورہ کریں گے۔

    روانگی کے مقام پر وائٹ ہاؤس کے عملے سمیت تمام افراد سے ان کے موبائل فون سمیت تمام ایسی اشیاء لے لی گئیں جن سے کسی بھی قسم کے سگنلز یا پیغامات بھیجے جا سکتے ہوں۔ جبکہ یہ آلات افغانستان کے بگرام ایئر بیس سے صدر ٹرمپ کی واپسی کے دو گھنٹے بعد واپس کیے گئے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق 13 گھنٹے کی پرواز کے دوران کسی بھی شخص کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی جبکہ کیبین میں روشنی بھی بند تھی۔ دوران پرواز جہاز کی کھڑکیوں کو بھی بند رکھا گیا تھا۔

    عمومی طور پر صدر ٹرمپ کے کسی بھی دورے کے حوالے سے سیکیورٹی کے بھر پور انتظامات کیے جاتے ہیں جبکہ کسی بھی جنگ زدہ علاقے کے دورے کو بھر پور خفیہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم گزشتہ سال کرسمس پر عراق کے دورے کی خبر پہلے ہی سامنے آ گئی تھی۔صدر ٹرمپ جب عراق جا رہے تھے تو انگلینڈ کے اوپر سے گزرتے ہوئے ان کے طیارے ‘ایئر فورس-ون’ کی تصاویر سامنے آ گئی تھیں۔

    انگلینڈ میں جہازوں کی تصاویر لینے والے ایک شخص نے ایک جہاز کی تصویر لے کر ٹوئٹ کی تو کئی افراد نے نشاندہی کی کہ یہ تو امریکی صدر کا جہاز ہے۔جس کے بعد کئی افراد نے اندازے لگائے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عراق جا رہے ہیں جبکہ اس دن صدر ٹرمپ نے کوئی ٹوئٹ بھی نہیں کی جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی۔

    البتہ اس بار افغانستان کے دورے کے حوالے سے انتظامیہ نے بھر پور انتظام کیا اور جب صدر ٹرمپ طیارے میں تھے اس وقت ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے تھینکس گیونگ ڈے اور فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے ٹوئٹس سامنے آئے۔واضح رہے کہ افغانستان کے دورے میں صدر ٹرمپ نے طالبان سے مذاکرات بحال کرنے کا بھی عندیہ دیا جبکہ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی۔

  • اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے، مہوش حیات نے فرمانِ الہٰی شیئر کردیا

    کراچی: ستارہ امتیاز حاصل کرنے والی پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر قرآنی آیت شیئر کر کے اللہ سے ہدایت کی دعا مانگ لی۔تفصیلات کے مطابق مہوش حیات اپنے اہل خانہ کے ساتھ ان دنوں سعودی عرب میں موجود ہیں، انہوں نے ایک روز قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مداحوں کو عمرہ ادا کرنے کے حوالے سے مطلع کیا تھا۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مہوش حیات نے اپنی والدہ اور بھائی دانش کے ساتھ حرم کے سامنے بنائی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو جمعے کی مبارک باد دی اور بتایا تھا کہ اللہ کی رحمت سے انہوں نے عمرہ ادا کرلیا۔

    انہوں نے لکھا تھا کہ ’فیملی کے ساتھ عمرے کی ادائیگی کے بعد میرے جو جذبات ہیں انہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، یہ ایک اچھا سفر ہے اور میری دعا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو عمرے کی سعادت حاصل ہو‘۔

    مہوش حیات نے پاکستانی وقت کے مطابق شام پانچ بجے ٹویٹر پر سورہ الجرات نمبر 49 کی آیت نمبر گیارہ شیئر کی اور لکھا کہ ’ قرآن مجید میں موجود احکامات کو ہم سب کو قبول کرنا چاہئے۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے (آمین)۔‘

  • سیاچن میں برفانی تودہ گرنے سے 2 بھارتی فوجی ہلاک

    نئی دہلی :بھارت کو ایک بارپھرسیاچن کے محاذپربہت بڑے نقصان کا سامنا ، پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع سرحدی علاقےسیاچن میں برفانی تودہ گرنے سے 2 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی خبرر ساں ادارے کے مطابق شمالی سیاچن گلیشیئر کے علاقے میں 18 ہزار فٹ کی بلندی پر بھارتی فوج کا قافلہ معمول کی گشت پر تھاکہ اچانک برفانی تودا گرنے سے بھارتی فوج کی گاڑی ملبے تلے دب گئی ۔

    نیا جال پرانے شکاری، طلباء مارچ کی اصل کہانی کیا ہے ؟از…شعیب بھٹی

    بھارتی میڈیا کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور تودے کے نیچے دبے اہلکاروں کو باہر نکال کر طبی امداد فراہم کی اور قریبی اسپتال منتقل کیا ،جہاں دوران علاج دواہلکار جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک گر جانے کے باعث دم توڑ گئے۔واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سیاچن میں برفانی تودہ گرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

    کشمیری ٹرک ڈرائیورپرپولیس تشدد کی انکوائری شروع

    اس سے قبل 18 نومبر کو اسی مقام پر ہونے والے حادثے میں چار بھارتی فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ رواں برس کا یہ چوتھا واقعہ ہے مجموعی طور پر ان واقعات میں صرف ایک سال میں ایک درجن سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    سیاچن گلیشیئر ہمالیہ کے مشرقی قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے جسے دنیا کا بلند ترین فوجی علاقہ قرار دیا جاتا ہے اور اس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جھڑپیں بھی ہوچکی ہے۔اس 700 مربع کلومیٹر پر پھیلے گلیشئیر پر برفانی تودے گرنا معمول ہیں اور یہاں درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔

    87 فیصد بھارتی ملکی سلامتی کے بارے میں تحفظات کا شکار ہیں

    اس علاقے میں گولی سے زیادہ ہلاکتیں موسم کی وجہ سے ہوتی ہیں اور دسمبر 2015 میں بھارتی وزیر داخلہ راؤ اندرجیت سنگھ نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ موسم کی وجہ سے بھارتی فوج کے 869 فوجی سیاچن میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

  • پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی کردی

    اسلام آباد:پاکستان میں رات کی تاریکی میں ایک بارپھرپٹرولیم مصنوعات میں کمی کردی گئی ہے ، اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرول کی قیمت 113.99پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جبکہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم دسمبر سے ہوگا۔

    87 فیصد بھارتی ملکی سلامتی کے بارے میں تحفظات کا شکار ہیں

    نئی قیمتوں کے مطابق ہیڈ سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 125.01مقرر جبکہ لائیڈ ڈیزل آئل کی قیمت 82 روپے 43پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔مزید مٹی کے تیل کی قیمت 96روپے 35پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 رپے 40پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔

    گرونانک کے لئے 18500 ایکڑ زمین عطیہ کرنے والے شخص کی اولاد کو بھارت نے ویزہ دینے…

    پیٹرول کی قیمت میں 25پیسے فی لیٹر کمی، لائیٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2روپے 90 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 83پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔

    نیا جال پرانے شکاری، طلباء مارچ کی اصل کہانی کیا ہے ؟از…شعیب بھٹی

    یاد رہے کہ دنیا بھر کے بڑے بڑے ممالک میں جو کہ پٹرولیم مصنوعات میں خود کفیل ہیں وہاں‌بھی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہاہے یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں‌عوام کی طرف سے سخت ردعمل دیکھنے میں آرہاہے، دوسری طرف ان حکومتوں کا کہنا ہےکہ پٹرولیم مصنوعات کی پروسیسنگ کے عمل پر بہت زیادہ اخراجات بڑھ جانے کی وجہ سےاضافے کیے گئے ہیں

  • مریم نواز کی لندن جانے کی تیاریاں شروع،منصوبہ ڈیزائن کرلیاگیا

    لاہور:باپ کے بعد بیٹی اب دہرانے جارہی ہے وہی کھیل جس کے ذریعے نواز شریف کو لندن پہنچایا گیا ، اطلاعات کےمطابق مریم نواز کی لندن جانے کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں‌،برطانوی ڈاکٹروں کے ذریعے یہ جال تیارکیا جائے گا

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کی صف اول کی خاتون اینکرنادیہ مرزا نے اس کھیل سے پردہ ہٹاتے ہوئے انکشاف کیا ہےکہ مریم نوازکونوازشریف کے بون میروٹیسٹ کے میچ کیلئے بطور ڈونربلایا جائے گا، مریم نوازنے عدالت میں پاسپورٹ بحال کرنے کیلئے درخواست بھی دے دی ہے۔

    خاتون اینکرنادیہ مرزا نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سارے کھیل کے تمام کھلاڑی وہی ہیں جنہوں نے نواز شریف کی جعلی میڈیکل ٹیسٹ رپورٹس کمپوٹرلیب سے حاصل کرکے حکومت اور عدلیہ کو دھوکہ دیا ہے

    یاد رہے کہ کرپشن کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھی پاکستان سے باہرلے جانے کے لیے جوطریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ بھی بڑا ہی ایک پلان منصوبہ ثابت ہوا،یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کے جانے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس مافیا نے جعلی رپورٹس کے ذریعے حکومت اورعدلیہ کوگمراہ کرکے پاکستان سے باہربھجوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے

  • لیه – رکشہ نہر میں جا گرا

    لیه – رکشہ نہر میں جا گرا ۔جس سے ڈرائیور زخمی ہو گیا ۔تفصیل کے مطابق لیه کے نواح چک نمبر 75 ٹی ڈی اے کے قریب تیز رفتار رکشہ موڑ کاٹتے فاروق ماینر میں گر گیا ۔جس سے رکشہ ڈرائیور زخمی ہو گیا ۔رکشہ کو ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے باہر نکلا گیا

  • مستقبل کے معماروں کو بیماربنانےکا ایجنڈہ–از–انشال راؤ

    تعلیم و تعلم، معلم و طالب کی اہمیت، فضیلت و عظمت جس انداز میں اسلامی تہذیب میں پائی جاتی ہے اس نظیر نہیں ملتی، تعلیم و تربیت اور درس و تدریس اس کا جزولاینفک ہے، پہلا لفظ جو آقا محمدؐ کے قلب مبارک پر نازل فرمایا گیا وہ اقرا ہے یعنی پڑھ، جس سے علم و قلم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر افسوس کہ ہمارے ہاں حصول علم کے اصولوں سے ماورا اقدامات اپنائے جانے کا رواج ہے نہ درس و تدریس کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے نہ ہی اپنی ذمہ داری کا احساس ہے

    اگر ہمارے معاشرے کا سطحی جائزہ لیا جائے تو وائٹ کالر طبقے نے اپنے مفادات کی خاطر علم جیسے عظیم شعبے کو بھی نہ بخشا اور اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھادیا، کسی بھی قوم تربیت و ترقی اسی شعبے سے وابستہ ہے لیکن جو کھیلواڑ پاکستان میں تعلیم و تعلم کیساتھ کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ "طلبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں” لیکن ہمارے وائٹ کالر طبقے کے مفادات کی نذر ہوکر ہم نے طلبہ کو قوم کے مستقبل کے بیمار بنتے دیکھا اور دیکھ رہے ہیں

    اگر کسی چیز نے سب سے زیادہ قوم کے مستقبل کے معماروں کو نقصان پہنچایا تو وہ سیاست و یونینزم Unionism نے پہنچایا، ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں سیاست کا اکھاڑہ بن کر رہ گئی تھیں جہاں سے قوم کے مستقبل کے معمار کم اور سیاسی پارٹیوں کے کارٹون زیادہ نکلنے لگے، طلبہ یونینز کی منفی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوے ریاست کی طرف سے مجبوراً ان پر پابندی کے اقدامات اٹھانے پڑے جس کے بعد سے تعلیمی اداروں میں تعلیمی زندگی بحال ہوتی جارہی ہیں جو زبردستی کے لیڈروں و دانشوروں سے ہضم نہیں ہورہی اور آجکل آسمان سر پہ اٹھایا ہوا ہے کہ طلبہ یونینز کو بحال کرو،

    اس ضمن میں اچانک سے ملک کے کچھ شہروں میں ڈسکو ٹائپ ریلیاں برآمد ہوئیں جو حلیے سے طلبہ تو بالکل نہیں لگ رہے تھے ان کی حرکتوں سے یہ لوگ طلبہ کم ڈسکو زیادہ لگ رہے تھے اور دلچسپ ترین بات یہ کہ کچھ زبردستی کے دانشور، سیاسی و سماجی رہنما بھی انکے ہم آواز نظر آئے، گردان کی جارہی ہے کہ طلبہ یونین بحال کرو بطور دلیل پیش کی جارہی ہے کہ طلبہ یونین نے ملک کو نظریاتی سیاست اور حقیقی قیادت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

    یہاں تک مبالغہ آرائی کی جارہی ہے کہ ملک کو درخشندہ ستارے فراہم کیے جوکہ انتہائی سفید جھوٹ اور تاریخ کی سب سے بڑی ڈھٹائی ہے اگر اس دعوے کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ ملکی صورتحال ہی کافی ہے کہ کوئی ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جس پر قوم فخر کرسکتی ہے، طلبہ یونین کی بحالی کے حامی کم از کم ایک فرد کو پیش کردیں کہ اس سے قوم کو فائدہ پہنچا ہو، قوم کا تو یہ عالم ہے کہ لیڈر کا نام سنتے ہی کانپ اٹھتی ہے،

    طلبہ یونین کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو اس کے بطن سے سوائے نفرتوں، تعصب، شدت پسندی، لسانیت کے کچھ اور حاصل نہ ہوا، سندھ یونیورسٹی ماضی میں طلبہ یونین و طلبہ سیاست کا گڑھ رہی ہے جہاں کا یہ عالم تھا کہ آئے دن بائیکاٹ، بلیک میلنگ، بھاری تصادم، بھتہ خوری، کاپی کلچر، رعایتی پاس کروانا عام تھا، تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد قتل ہوچکے حتیٰ کہ اساتذہ بھی ان یونیوں کے عتاب سے بچے نہ رہے، اس کے علاوہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی مثال لے لیں انجمن طلبہ اسلام کے نام پہ کارٹونوں نے کیا نہیں کیا جب ان کی بلیک میلنگ و داداگیری کو وائس چانسلر قیصر مشتاق نے چیلنج کیا تو ان کی داداگیری کا یہ عالم تھا کہ قیصر مشتاق صاحب پر حملہ کردیا گیا جسے سیکیورٹی گارڈوں نے بمشکل بچایا،

    قائداعظم یونیورسٹی میں بلوچ پشتون، پنجابی سندھی، پنجابی بلوچ لسانیت کے نام پر تصادم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، خیبرپختونخواہ میں وہ کونسا دن تھا جو تعلیمی اداروں میں امن سے گزرتا ہو، کراچی کا ذکر توکسی تعرف کا محتاج نہیں، میں خود طلبہ ونگز ویونینوں کی انتہائی منفی سرگرمیوں کا عینی شاہد ہوں جن میں بھتہ خوری، ریپ کلچر، نپوٹزم، لسانیت، جھگڑے فساد، نفرتیں و تعلیمی تباہی سرفہرست ہیں،

    مختلف یونیورسٹیز میں ہاسٹلوں پہ ان یونینوں کے قبضے اور اس کا منفی استعمال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، ان یونینوں پہ پابندی کے بعد سے یونیورسٹیاں و دیگر تعلیمی ادارے آہستہ آہستہ تعلیمی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہیں تو اچانک سے طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ نوجوان نسل کو تباہ کرنے کا منصوبہ ہی ہوسکتا ہے، تعجب کی بات ہے کہ طلبہ کو یونین کی بحالی سے کوئی دلچسپی نہیں اور پابندی سے کوئی پریشانی نہیں جبکہ پیٹ میں مروڑ صرف چند سیاسی و لسانی جماعتوں کو ہے جن کی وہ واقعی نرسری تھیں وہاں سے ان جماعتوں کو کارکن مل جاتے تھے

    جو ملک و قوم کے لیے سیاسی کارکن کم سیاسی کارٹون زیادہ ثابت ہوتے تھے طلبہ یونین پر پابندی کے باعث ان سیاسی جماعتوں کو کارکن ملنا کم ہوگئے ہیں جو ان کے لیے انتہائی پریشان کن ہے، قائد اعظم نے ڈھاکہ میں نوجوان طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’میرے نوجوان دوستو! میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار بنیں گے تو یہ آپ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی، یاد رکھیے کہ اب ایک انقلابی تبدیلی رونما ہوچکی ہے یہ ہماری اپنی حکومت ہے ہم ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے مالک ہیں لہٰذا ہمیں آزاد اقوام کے افراد کی طرح اپنے معاملات کا انتظام کرنا چاہیے اب ہم کسی بیرونی طاقت کے غلام نہیں ہیں ہم نے غلامی کی بیڑیاں کاٹ ڈالی ہیں‘‘

    بابائے قوم طلبہ کی سیاسی وابستگی کے سخت مخالف تھے اور ہم طلبہ سیاست کے نقصانات کے تجربے سے گزر بھی چکے ہیں بنگلہ دیش اسی طلبہ سیاست کا نتیجہ تھا اس کے علاوہ سندھ میں سندھو دیش علیحدگی تحریک کے لیے تعلیمی ادارے ہی نرسری بنتے آئے ہیں، الذوالفقار بھی طلبہ یونین کے بطن سے ہی اٹھی، اب جیسا کہ ملک کے تعلیمی ادارے منفی سوچ و سرگرمیوں سے پاک ہوتے جارہے ہیں تو سازشی و سماج دشمن عناصر سے یہ بات کیسے برداشت ہوسکتی ہے، اور اب طلبہ کے نام پر ایک نئی سازش کو متعارف کیا جارہا ہے

    لہذا اب ماضی کے تجربات اور حقیقت کے مطابق بجائے طلبہ یونین بحالی کے حکومت و دانشوروں کو طلبہ کے لیے بہتر سہولیات، مواقع اور آسانیاں مہیا کرنی چاہئیں، طلبہ کو سیاست کی نذر کرنے کی بجائے اساتذہ و تعلیمی اداروں میں ایسا نظام متعارف کیا جائے جس سے طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ہو جیسا کہ امام غزالیؒ طلبہ کے اخلاق و کردار کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ "طلبہ کو چاہئے کہ وہ بُرے اخلاق و عادات سے احتراز کریں، تعلقات مختصر رکھیں، گھر سے دور رہیں تاکہ حصول علم کے مواقع زیادہ ملیں، غرور و تکبر سے بچیں، اساتذہ کے ساتھ حاکمانہ برتاؤ نہ کریں، بلکہ اساتذہ کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح ڈال دیں، جس طرح کے مریض اپنے آپ کو ڈاکٹر کے حوالہ کر دیتا ہے” تب ہی ہم دیگر اقوام کی طرح ترقی و خوشحالی کو یقینی بناسکتے ہیں

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: مستقبل کے معماروں کو بیمار بنانے کا ایجنڈہ