اسلام آباد :باؤجی مرغ پلاو میں مردہ ہوئی مرغیوں کا گوشت استعمال ہونے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر ضلعی انتظامیہ کا باؤجی مرغ پلاو کے خلاف فوری ایکشن ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر کورال اسد اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ موقع پر پہنچ گے اسسٹنٹ کمشنر کورال نے باؤ جی مرغ پلاو کھنہ برانچ سے گوشت کے نمونے اکھٹے کرتے ہوئے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجوا دئیے گئے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اسد اللہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باؤ جی مرغ پلاوکے خلاف سوشل میڈیا پر مردہ مرغیوں کا گوشت استعمال کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جسکے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی خصوصی ہدایت پر کاروائی کی گئی مرغی کے گوشت کے نمونے لیبارٹری بھیج دئیے گئے ہیں جنکی حتمی رپورٹ آنے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا جبکہ باؤ جی مرغ پلاو کے سٹاف اور مالکان سے تفتیش کی جارہی ہے اورانکا تمام تر ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے جسکی مدد سے سپلائر تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں بہت جلد حقائق منظر عام پر آ جائیں گے دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر کورال کی طرف سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ابتدائی پیش کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے اسسٹنٹ کمشنر کورال نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ دوران انسپکشن باؤجی مرغ پلاوکے سلاٹر ہاؤس کو چیک کیا گیا جو ویڈیو میں دکھائے جانے والے سلاٹر ہاؤس سے مختلف تھا اسسٹنٹ کمشنر کورال نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بتایا کہ یہ کچیٹ ایریا میں کچھ فیڈ فیکٹری ہے ہم ان سے بھی جانچ پڑتال کررہے ہیں جو اطلاع کے مطابق پنڈی سے ہے جسکے لیے ہم نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ بھی رابطہ کرلیا ہے شبہ ظاہر ہو رہا ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر باؤ جی مرغ پلاو کا نام استعمال کرتے ہوئے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے.باؤجی مرغ پلاؤ کے ایم ڈی فہیم رضا بٹ نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ یہ ہمارے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے ہمارے اپنے سلاٹر ہاؤس ہیں جہاں ہم خود صاف ستھرا گوشت بنا کر تیار کرتے ہیں. ہم نے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائر ل کرنے والے ذمہ دار کیخلاف سائبر کرائم میں بھی جانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور بہت جلد سب ذمہ داران قانون کے کٹہرے میں ہونگے.
Author: +9251
-
کشمیر، بابری مسجد اور ہندو راشٹر، بھارتی پالیسی ،تحریر: انشال راؤ
کشمیر، بابری مسجد اور ہندو راشٹر، بھارتی پالیسی
تحریر: انشال راؤ
اسرائیل کے ناجائز قیام کے بعد اسرائیلی عدالتوں نے انصاف کے اصولوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھدیں، یہودیوں نے مظلوم فلسطینیوں کی املاک پر قبضے کرلیے عدالتوں میں بطور ثبوت دلیل پیش کی جاتی کہ دو ہزار سال پہلے یہ جائیداد میرے دادا کے نانا کے فلاں فلاں کی تھی اور سہیونی کورٹیں اسے حق بجانب قرار دے دیتیں بالکل اسی طرح بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوتوائی دہشتگردوں کے بےبنیاد دعوے پر تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ دے دیا، مسلمانان برصغیر کو 1947 کے فسادات کے بعد پے در پے سانحات سے گزرنا پڑا لیکن ان میں کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ اور شہید بابری مسجد کا سانحہ عظیم ترین ہے جس بنا پر بالخصوص مسلمانان ہند ایک دوراہے پر کھڑے نظر آتے ہیں کیونکہ مسلم قیادت بھی بےبسی و اضطراب میں مبتلا ہے، نئی نسل کو جہاں اسلام کی تاریخ میں دلچسپی نہیں وہیں بابری مسجد کی تاریخ و شہادت سے نابلد ہے، ہندوتوا دہشتگردوں کے پروپیگنڈے کے مطابق بابری مسجد کو رام مندر کی جگہ تعمیر کیا گیا جوکہ سراسر بےبنیاد اور من گھڑت داستان سے زیادہ کچھ نہیں، بابری مسجد کی تاریخی حیثیت اس کے کتبے پر کندہ اشعار سے ثابت ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ "شاہ بابر کے حکم سے اس کے ایک امیر باقی نے اس مسجد کو بنوانے کی سعادت حاصل کی، جو اب فرشتوں کے اترنے کی جگہ ہے خدا کرے یہ کار خیر باقی رہے” اس سے ظاہر ہے کہ بابری مسجد کو شاہ بابر کے ایک امیر باقی نے بنوایا ہے اور بابر کے کہنے یا اس کی خواہش پر یا اس کے زمانے میں بنی، اس کے علاوہ بھی کچھ کتبات پر شعر و تحریریں کندہ ہیں جن میں حمد و ثناء یا دعائیہ کلمات رقم ہیں، ان کتبات کی سند کو کسی اعتبار سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، الزام لگایا جاتا ہے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی کو مسمار کرکے بنائی گئی، اگر ایسا ہوتا تو بابر اور اس کے امیر اپنے فاتحانہ غرور میں یہ ضرور لکھتے کہ شرک و کفر کی جگہ کو منہدم کرکے یہ مسجد بنائی گئی، بابر کی مذہبی رواداری کا اندازہ اس کی اپنے بیٹے کے نام وصیت سے لگایا جاسکتا ہے کہ "اے فرزند! ہندوستان کی سرزمین مختلف مذاہب سے بھری پڑی ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس کی بادشاہت عطا کی، تم پر لازم ہے کہ اپنے لوح دل سے مذہبی تعصبات کو مٹادو اور ہر مذہب کے طریقے سے انصاف کرو، کسی کی عبادت گاہوں و مندروں کو منہدم نہ کرنا، عدل و انصاف اس طرح سے کرو کہ بادشاہ رعایا اور رعایا بادشاہ سے خوش رہے” یہ تحریر اسی سال کی ہے جس سال بابری مسجد کو تعمیر کیا گیا تھا اس وصیت نامہ کو ڈاکٹر راجندر پرشاد نے اپنی کتاب India Divided میں درج کیا ہے، تزک بابری میں بابر نے مندروں کی عمارتوں کا ذکر لطف لے لے کر کیا ہے جیسا کہ گوالیار کے بت خانے کا ذکر ہے اگر بابر مندروں کے خلاف ہوتا تو گوالیار کے عالیشان مندر و بت خانے کو کبھی نہ چھوڑتا، اس کے علاوہ پروفیسر سری رام شرما اپنی کتاب Mughal Empire of India میں لکھتے ہیں کہ "ہمیں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ بابر نے کسی مندر کو منہدم کیا یا کسی ہندو کی ایذا رسانی کی محض اس بنیاد پر کہ وہ ہندو ہے” ہندو دھرم کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس قدیم مذہب میں ہزاروں پنڈت، وشنو، سوامی آئے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کو بھی رام جنم بھومی کا پتہ نہ چلا اور انیسویں صدی میں آکر جنگ آزادی 1857 کے بعد انگریزوں نے یہ سوانگ رچا کہ بابری مسجد کو رام مندر منہدم کرکے تعمیر کیا گیا، انگریز نے جان لیڈن کی "میمورائز آف ظہیرالدین بابر” کے حوالے سے یہ ڈرامہ رچا جبکہ جان لیڈن کی کتاب میں ایسا کہیں بھی زکر نہیں کہ بابر نے ایودھیا میں کوئی مندر مسمار کیا سوائے اس کے کہ 1528 میں بابر ایودھیا سے گزرا، مگر پھر بھی انگریز نے لیڈن کو اپنے مقاصد کی بیساکھی بنایا، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہندووں کی کتب یا لٹریچر میں اس دعوے کا سرے سے وجود نہیں، اگر ایسی کوئی جنم بھومی یا جنم استھان ہوتا تو لازم ہے کہ کوئی نہ کوئی روایت ضرور ہوتی اور بہت سے تاکیدی نصوص بھی ہوتے، ہندوتوا دہشتگرد کسی بھی طور پر یہ ثابت نہیں کرپائے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تھا لیکن اس کے باوجود بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھدی ہیں اور یہ اشارہ دیدیا ہے کہ اب یہ ہندوتوا کورٹ ہے نہ کہ بھارتی سپریم کورٹ، اس کی وجہ یہ ہے کہ 1989 کے جنرل الیکشن میں BJP کی الیکشن مہم تین نکات پر چلائی گئی تھی ایک یہ کہ کشمیر کو بھارت میں شامل کیا جائیگا، دوسرا یہ کہ بابری مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ رام مندر تعمیر کیا جائیگا، تیسرا یہ کہ بھارت کو سیکیولر ریاست کی بجائے ہندو راشٹریہ بنایا جائیگا جوکہ BJP نے اپنی پالیسی کے طور پر پیش کیے تھے اور یہی سٙنگھ پریوار کی آئیڈیولوجی بھی ہے، اسی کے بعد سے بھارت میں سناتن ہندوتوا پالیسیوں کا زور دکھائی دیتا آرہا ہے جتنے بھی کالے قوانین کشمیر میں نافذ کیے گئے وہ 1990 یا اس کے بعد کیے گئے جیسا کہ اسپیشل پاور ایکٹ جن کے تحت کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کو لائسینس ٹو کِل دے دیا گیا اور ہر جرم کی اجازت دی گئی، اس کے علاوہ بھارتی پارلیمنٹ 15 نومبر 1991 کے بل برائے قانونی حیثیت و تحفظ مذہبی عمارات کے پاس ہونے کے باوجود ہندوتوا دہشتگردوں نے سرکاری سرپرستی میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کردیا جسے اب بھارتی سپریم کورٹ نے بھی جرم قرار دیا ہے لیکن آج تک کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی، مودی کی قیادت میں BJP سرکار نے آکر 1989 کے ہی تینوں نکات پر عمل کیا ہے سب سے پہلے کشمیر کو عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوے غاصبانہ قبضہ جمالیا ہے اور اب بابری مسجد کیس کو بھی عدالت کے زریعے ہندوتوا دہشتگردوں کی منشاء و مرضی کے مطابق نمٹادیا ہے، تیسرے نکتہ کا بھی نریندر مودی بھارتی یوم آزادی کے موقع پر اعلان کرچکے ہیں کہ اس کا مقصد بھارت کو ایک قوم یعنی ہندو راشٹر بنانا ہے جس کا عکس BJP کے مختلف دہشتگرد رہنماوں کے بیانات سے بھی صاف نظر آتا ہے جوکہ اعلانیہ کہتے آرہے ہیں کہ بھارت سے مسلمانوں و دیگر غیر ہندو مذہب کے ماننے والوں کو نکال باہر کرنا ان کا پرائم ٹارگٹ ہے، ہندوتوا دہشتگرد اب گیان واپی مسجد و متھرا کی عید گاہ سمیت دیگر 150 سے زائد تاریخی مساجد پر نظر جمائے ہوے ہیں جو بھارتی حکومت کی ایماء پر عرصے سے بند ہیں بظاہر تو یہ سرکاری تحویل میں ہیں مگر حقیقتاً یہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی و حق تلفی و مذہبی آزادی نہ دیے جانے کی پالیسی کا اظہار اور ہندو راشٹر کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے جو خطے میں ایک نئے خطرناک محاذ کی طرف اشارہ ہے اور مسلمانوں سے ناروا سلوک ریاستی پالیسی ہے، ہندوتوا کا خواب ہے کہ وہ تاریخ کا پہیہ پیچھے کی جانب گھمانا چاہتے ہیں تو یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ مسلمان بھی اپنی تاریخ دہرانا جانتے ہیں اگرچہ میدان سیاست کے کھلاڑی ہندوتوائی سازشوں سے دانستہ یا غیردانستہ غافل ہیں لیکن مسلمانوں میں آج بھی ٹیپو، ابن قاسم، غزنوی، غوری کی سی صلاحیت زندہ ہے اور اپنے حق و خطے کے امن کے لیے ہندوتوا دہشتگردوں کو سبق سکھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہونگے۔

-
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب میں قابل تشویش تبدیلی ، ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے.
مطالعہ پاکستان اور انگلش کی کتب میں قابل تشویش تبدیلی ، ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے.
باغی ٹی وی رپورٹ . پنجاب ٹیکست بک بورڑ کی جماعت نہم کے مطالعہ پاکستان اور جماعت ہفتم کی انگلش کی کتاب کے جدید ایڈیشن میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے عقیدہ ختم نبوت اور کشمیر کے قومی موقف کے خلاف سازش نظر آتی ہے.ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہیے.
کلاس نہم کی مطالعہ پاکستان کی کتاب کے صفحہ نمبر 5 عقائد اور عبادات کے تحت یہ جملہ ہے کہ عقیدہ رسالت کا مطلب ہےکہ تمام رسولوں پرایمان لانا،عقیدہ رسالت کا یہ تقاضا ہےکہ تمام رسولوں پر ایمان لایا جائے .اور حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کاآخری نبی ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی جزو ہے.2018اور2019 میں تمام سرکاری سکولوں میں نویں جماعت کی کتاب میں یہ جملہ شامل ہے لیکن پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی وہ کتاب جو ملک کے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے اس میں یہ جملہ "حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کاآخری نبی ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی جزو ہے” حذف کر دیا گیا ہے اور اسی صفحہ اور اسی پیچ میں اس جملے کی جگہ لکھا ہے کہ قرآن اور اسوہ رسول کو سرچشمہ ہدایت ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی تقاضا ہے.وہی پبلشر ہے اور لیکن پرائیوٹ سکولوں کے لیے جاری کی گئی کتاب میں عقیدہ ختم نبوت پر نقب زنی کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کوئی مسلمان کبھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا.عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے یہ ایک سازش ہے ، جس پر اہل اقتدار کو کاروائی کرنی چاہیے.اسی طرح ساتویں کلاس کی انگلش کی کتاب میں صفحہ نبر 164 پر بچوں کوEarthquake کے تحت بتایا گیا کہ یہ زلزلہ 2005ء میں آزاد کشمیر ، خبیبر پختونخواہ اور مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں آیا ، یعنی بچوںکو یہ پڑھایا جارہا تھا کہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے اوریہ مقبوضہ علاقہ ہے، لیکن 2018،2019 کے ایڈیشن میں لفظ "مقبوضہ کشمیر”کو بھارت کے زیر” انتظام علاقہ :کے الفاظ سے تبدیل کر دیا گیا ہے.. جس کا مطلب ہےکہ بھارت کا اس پر غاصبانہ قبضہ نہیں ہے.
لیکن ایسا سب کچھ ہو رہا ہے .اور حکومت کو اس پر کوئی خبر نہیںہے یا خبر ہے تو اس پر خاموش ہے. ان افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جانی چاہییے جنہوں نے ایسا کچھ کیا ہے اور ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے.


-

وزیراعظم کا نوجوانوں سے متعلق پالیسی مزید موثر بنانے کا فیصلہ.، کیا کیا ہوئی پیش رفت، اہم خبر
وزیراعظم کا نوجوانوں سے متعلق حکومتی پالیسی مزید موثر بنانے کا فیصلہ.، کیا کیا ہوئی پیش رفت، اہم خبر
باغی ٹی وی : وزیراعظم کا نوجوانوں سے متعلق حکومتی پالیسی مزید موثر بنانے کا فیصلہ.کیا ہے.وزیراعظم نے کامیاب جوان پروگرام کیلئے13رکنی اسٹیرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے جس کے وزیراعظم عمران خان خود بطور چیئرمین کمیٹی کے سربراہ ہوں گے اس کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ..معاون خصوصی امورنوجوانان عثمان ڈار سمیت اہم وفاقی وزراکمیٹی میں شامل ہوں گے.مشیر خزانہ،مشیر تجارت اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی کمیٹی ارکان نامزد کیے گئےہیں.وفاقی وزیر تعلیم،وزیر اقتصادی امور اور آئی ٹی بورڈ کے سربراہ بھی کمیٹی میں شامل ہیں.خصوصی کمیٹی کامیاب جوان پروگرام کے تحت منصوبوں میں معاونت کرے گی.وزیراعظم نے کمیٹی کو اسٹریٹجی پلاننگ اور پروگرام کی مانیٹرنگ کا اختیار دے دیا.کمیٹی وزیراعظم کونوجوانوں کیلئےنئےحکومتی منصوبوں کی تجاویزپیش کرے گی،
-
دارلحکومت میں ٹیلی نار، زونگ اور یوفون کی ناقص سروسز، دن میں کئی دفعہ سگنل غائب، صارفین سر پکڑ کر بیٹھ گئے
مظفرآباد (نمائندہ باغی ٹی وی) آزاد کشمیر بھر میں موبائل کمپنیوں کی ناقص سروسز سے اہل کشمیر بدترین اذیت سے دوچار، دن میں کئی دفعہ نیٹ ورک غائب ہو جاتا ہے۔ ٹیلی نار، زونگ اور یوفون کی سروسز میں صارفین کو مشکلات کا سامنا۔
تفصیلات کے مطابق مظفرآباد اور گردونواح میں بھی ہر آدھے گھنٹے بعد سروس نہیں آتی، اکاؤنٹ میں موجود بیلنس اچانک کٹ جاتا ہے بار بار شکایت کرنے کے باوجود کوئی بھی کمپنی اس کو حل کرنے سے گریزاں ہے، صارفین کی شکایات عوامی حلقوں کا پی ٹی اے سے بروقت کاروائی کرنے اور سروسز کو بہتر کروانے کا مطالبہ -
گرین شرٹ نے وہی کر دیا جس کا اندیشہ تھا
گرین شرٹ نے وہی کر دیکھایا جس کا اندیشہ تھا
پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے وہی کر دکھایا جس کے لیے پہچانی جاتی ہے اور جس کا قوم کو اندیشہ تھا .دو میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو ایک اننگز اور پانچ رنز سے عبرت ناک شکست دے دی ہے۔ چوتھے روز کے کھیل کا آغاز ہوا تو شان مسعود 27 اور بابراعظم 20 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے، شان مسعود زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور اپنے گزشتہ روز کے اسکور میں 15 رنز کے اضافے کے بعد 42 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
نئے آنے والے بلے باز افتخار احمد بھی صرف 4 گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور بغیر کوئی رن بنائے واپس لوٹ گئے۔
دو میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو ایک اننگز اور پانچ رنز سے عبرت ناک شکست دے دی ہے۔گابا کے میدان میں کھیلے جانے والے میچ میں آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں 580 رنز بنا کر پاکستان پر 340 رنز کی برتری حاصل تھی۔جس کے جواب میں قومی ٹیم کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا، کپتان اور اوپنر بلے باز اظہر علی 5 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
گرین شرٹس کی دوسری وکٹ بھی جلد گر گئی جب حارث سہیل 8 رنز بنا کر اسٹارک کا شکار ہوئے۔ قومی ٹیم کے6 کھلاڑی ڈبل فگرز میں داخل نہ ہوسکے۔شاہین آفریدی 10،حارث سہیل 8اورنسیم شاہ 7 ، اسد شفیق اورافتخار احمد بغیرکوئی رنز بنائے آوَٹ ہوئے۔ -
نقب زنی کی بڑی واردات
کمالیہ چیچہ وطنی مین روڈ پر نقب زنی کی بڑی واردات نامعلوم چور حیدر علی کھدر ہاؤس دوکان کی چھت اکھاڑ کر لاکھوں روپے کا کھدر اور نقدی چوری کرکے لے گئے۔
-
امریکی فوج کی جاپان میں موجودگی پر روس کو کیوں تحفظات
امریکی فوج کی جاپانی میں موجودگی پر روس کو کیوں تحفظات
تفصیلات کے مطابق روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ جاپانی سرزمین پر امریکی فوج کی موجودگی روس اور جاپان کے مابین قریبی تعلقات کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ماسکو جاپان میں امریکی فوج کی موجودگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
امریکی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں دونوں ممالک کے مابین باہمی سلامتی کے معاہدے کے تحت تقریبا 54 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔
لاوروف نے وسطی جاپان کے ناگویا میں’جی 20 ‘کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر کہا کہ امریکی فوج جاپان ۔ روس تعلقات کے تعلقات کے معیار کو بہتر بنانے کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔
ٹوکیو اور ماسکو کے درمیان تعلقات چار متنازعہ کوریل جزیروں کی وجہ سے بھی کشیدہ ہیں۔ ان جزیریوں پر دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر سوویت یونین نے قبضہ کرلیا تھا جب کہ جاپان نے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ جا پان امریکا کا نان ناٹو اتحادی ہے. امریکا کے ٹوکیو جاپان کے ساتھ ،عسکری ، معاشی اور اقتصادی تعلقات ہیں. -
مہنگے ٹماٹروں کا حل وزیر اطلاعات خیبر پی کے نے بتا دیا
مہنگے ٹماٹروں کا حل وزیر اطلاعات خیبر پی کے نے بتا دیا
تفصیلات کے مطابق اتوار بازاروں میں حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فروخت جاری ہے جبکہ عام مارکیٹس نے حکومتی نرخ مسترد کر دئیے ہیں۔
اتوار بازار میں آلو کا ریٹ 52 سے 57 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ عام دکانوں پر 60 سے 70 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں ٹماٹر460 روپے کلو کےحساب سے فروخت ہونے لگااس کےعلاوہ پیاز کا ریٹ 66 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے جبکہ عام بازاروں میں 90 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔لاہور کے اتوار بازاروں میں ٹماٹر کی قیمت 190 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے جو کہ عام مارکیٹ میں 230 سے 300 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔بازاروں میں ادرک 340 سے 400 روپے اور دیسی لہسن 300 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
ادھر وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسف زئی نے عوام کو مہنگے ٹماٹروں کےبدلےدہی استعمال کرنے کا مشورہ دے دیا .انہوں نے کہا کہ عرصہ ہوادہی استعمال کرتاہوں ٹماٹر کی قیمت کا پتہ نہیں .عوام ٹماٹر سے جان چھڑالیں ، قیمتیں معمول پر آجائیں گی،مالاکنڈ کے ٹماٹر مارکیٹ میں آنے پر قیمتیں گر جائیں گی
-
ایران اندرونی طور پر شدید مشکلات کا شکار
ایران اندرونی طور پر شدید مشکلات کا شکار
ایران انٹرنیشنل – عربی” چینل کی ویب سائٹ کے مطابق ایرانی حکومت کے ترجمان علی الربیعی نے اعتراف کیا کہ ملک اپنے مشکل ترین دور سے گذر رہا ہے۔
الربیعی نے مزید کہا کہ امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ محض تزویراتی غلطی کے مترادف ہیں۔قبل ازیں ایران کی خبر گان کونسل نے مظاہرین کو "تخریب کار ، قومی سلامتی کے دشمن اور موقع پرست قرار دے کران کے خلاف سخت قانونی کارروائی پر زور دیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکا ، اسرائیل اور مجاھدین خلق تنظیم ایران میں مظاہروں اور تشدد کو ہوا دینے میں ملوث ہیں۔
جوایران نے بویا اب وہی کاٹ رہا ہے، ایرانی پالیسیوں کا خمیازہ ایرانی عوام کو بھگتنا پڑا، شاہ سلمان