Baaghi TV

Author: +9251

  • درسگاہیں بنی رقص گاہیں،یونیورسٹی آف اوکاڑہ جہاں کلاسزتوشروع نہ ہوسکیں ،مگرناچ گانے شروع ہوچکے

    اوکاڑہ:درس گاہیں بن گئیں رقص وسرور کے سینٹر،جہاں تعلیم ملنی چاہیے تھی وہاں سے اب بے حیائی اور ناچ گانے کے درس مل رہے ہیں، جہاں سے طالب علم کی اخلاقی اورروحانی تربیت کی جانی چاہیےتھی وہاں بد اخلاقی سکھائی جارہی ہے،ذرائع کے مطابق یہ نئی نئی بننے والی یونیورسٹی آف اوکاڑہ ہے ۔ جہاں ابھی تک کئی شعبہ جات میں کلاسز بھی شروع نہیں ہو سکیں البتہ ڈانس پارٹیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔

    https://www.youtube.com/watch?v=xFlA6m_wiZ0

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے اندر ہونے والے اس ناچ گانے کے فنکشن نے سننے والوں اور دیکھنوں والوں کو بہت دکھ پہنچایا ہے، یونیورسٹی کے اندر ہونے والے اس فنکشن پر سخت ردعمل پایا جارہاہے،عوامی حلقوں کی طرف سے یونیورسٹی اتنظامیہ کےخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

    https://www.youtube.com/watch?v=cqXfJAu1gxE

    ابھی تو ابتداء ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟؟؟لبرلزم کے نام پر ہمارے تعلیمی اداروں کو کس طرف دھکیلا جا رہا ہے ؟ذرائع کے مطابق یونیورسٹی اوکاڑہ میں‌اسپورٹس فیسٹیول کے نام پہ "کھسرے” اور لڑکیاں بلواکر نچانے پہ وائس چانسلر اسکی انتظامیہ کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس یونیورسٹی انتظامیہ نے ٹھان رکھی ہے کہ تعلیم میں تو مقابلہ مشکل ہے ۔ رقص و میوزک میں نام کمانا ہے ۔ اور اسی مقصد کےلئے یہ محفلیں سرعام سجائی جا رہی ہیں ۔

    https://www.youtube.com/watch?v=hf4tkh6_dNs

    دوسری طرف اوکاڑہ کے تمام طبقات کی طرف سے اس فنکشن کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جارہا ہے، بحیثیت جرنلسٹ اور عوامی حلقوں کی طرف سے یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں اس بے حودہ ڈانس پارٹی کی پرزور مزمت کرتے ہیں اور وی سی آف یونیورسٹی ڈاکٹر ذکریا ذاکر صاحب سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو اس بے حودگی سے پاک رکھیں

  • انسانی جانوں سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، چوہدری راشد

    بلدیہ کوٹلی آزاد کشمیر ان ایکشن، چیف سینٹری انسپکٹر بلدیہ سردار بشارت کا صحافی کی نشاندھی پر گوشت مارکیٹ میں چھاپہ 20 کلو باسی گوشت ضبط،

    گوشت مارکیٹ میں چھاپے کے دوران ریڈرمجسٹریٹ طارق حسین اور سنئیر صحافی سید واجد الراب ہمراہ تھے،باسی گوشت فروخت کرنے پر قصاب کو 5000روپے جرمانہ کیاگیا،

    مجسٹریٹ بلدیہ چوہدری راشد اورویٹرنری ڈاکٹر الطاف حسین کی ہدایت پر گوشت کو تلف کیاگیا،

    کوٹلی: قصاب حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری اور صاف گوشت کی فروخت کو یقینی بنائیں.

    انسانی جانوں سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،ائیندہ جو بھی دونمبری میں ملوث ہوا،بھاری جرمانے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو گا، مجسٹریٹ بلدیہ کوٹلی چوہدری راشد

  • ابرارالحق نے ایسا کیوں کیا۔۔عوام غم و غصے کا شکار

     

    شہباز اکمل جندران۔۔۔۔

    باغی انویسٹی گیشن سیل۔۔۔۔

     

    ابرارالحق نے ایسا کیوں کیا۔۔عوام غم و غصے کا شکار

    ابرار الحق نے قومی پرچم کی توہین کرکے خود کو مشکل میں ڈال لیا۔
    گلوکار اور نارووال سے پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما ابرارالحق ایک تقریب کے دوران سٹیج پر قومی پرچم لہراتے ہوئے جذبات میں بے قابو ہوگئے اور سٹیج کے کنارے لٹکائے جانے والے قومی پرچم پر جاکھڑے ہوئے۔ابرارالحق کی یہ حرکت کیمرے سے چھپی نہ رہ سکی۔ اور جیسے ہی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی،عوام کے اندر گلوکار کے لیے غم و غصہ پایا جانے لگا ہے۔اور عوامی حلقوں میں ابرارالحق کے اس عمل کی بھر پور مذمت کی جانے لگی ہے۔

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ ابرارالحق قومی پرچم پر پاوں رکھنے والے کون ہوتے ہیں۔پاکستانی پرچم ہماری آزادی، سالمیت اور قومی غیرت کی نشانی ہے۔ اور ہماری جان ہے کسی کو بھی قومی پرچم کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔دوسری طرف پاکستانی پرچم کی توقیر کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں قومی پرچم کی توقیر لازم ہے اور تعزیرات پاکستان کے تحت قومی پرچم کی توہین جرم ہے۔تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123بی کے مطابق قومی پرچم کی توہین کرنے والے کو تین سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

    قومی پرچم کی توقیر کا انداز اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں قومی پرچم لہرانے کے حوالے سے سن 2002میں نافذ العمل ہونے والے باقاعدہ قواعد و ضوابط موجود ہیں۔کس عمارت، کس گاڑی، کس گھر اور کس شخص کی ٹیبل پر قومی پرچم لہرایا جاسکتا ہے۔رولز میں سب بیان کیا گیا ہے۔رولز کے مطابق ملک میں رات کے اندھیرے میں قومی پرچم لہرانے کی اجازت نہیں ہے۔پارلیمنٹ ہاوس ملک کی وہ واحد جگہ ہے جہاں رات میں بھی قومی پرچم لہراتا ہے اور اسے اتار ا نہیں جاتا تا ہم پارلیمنٹ ہاوس کی عمارت پر رات میں قومی پرچم کو روشنی میں رکھا جاتا ہے۔


    ملک میں واہگہ بارڈر کی طرح دیگر مقامات پر روزانہ پرچم کشائی اور پرچم اتارنے کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔
    ابرارالحق کی اس حرکت کے خلاف قانون میں حرکت میں آیا تو گلوکار کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • آئی جی خیبرپختونخوا نے بڑے پیمانے پر تبادلوں اور تعیناتیوں کے احکامات جاری کر دئے

    آئی جی خیبرپختونخوا نے گریڈ 16اورگریڈ17کے گیارہ سب ڈویژنل پولیس افسروں اور پشاور کے چھ تھانوں کے ایس ایچ اوز کے تبادلوں وتعیناتیوں کے احکامات جاری کردئیے۔سی پی اوآفس سے جاری ہونیوالے جمعہ کے روز اعلامیہ کے مطابق گریڈ17کے ایس ڈی پی اوسرڈھیری چارسدہ ڈی ایس پی ایازمحمود کو ایس ڈی پی اواکوڑہ نوشہرہ مقررکردیا ہے ،گریڈ16کے قائمقام ایس ڈی پی اواکوڑہ نوشہرہ احسان شاہ کو سی پی اورپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،گریڈ16کے انسپکٹراپریٹنگ ونگ مردان قاضی عصمت اللہ کو قائمقام ایس ڈی پی او کاٹلنگ مردان،گریڈ17کے ایس ڈی پی اوکاٹلنگ مردان ڈی ایس پی گل شیدکوڈی ایس پی انوسٹی گیشن مردان،گریڈ16 کے قائمقام ڈی ایس پی ایف آرپی مردان انسپکٹر عدنان اعظم کوقائمقام ایس ڈی پی او سرڈھیری چارسدہ ، گریڈ16کے انسپکٹرخالدمحمودکو ڈی آئی خان ریجن سے قائمقام ایس ڈی پی رورل ٹانک،گریڈ17کے ایس ڈی پی اورورل ٹانک عمردرازخان کو ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر ٹانک،گریڈ16کے زاہدعالم کو سی سی پی آفس پشاورسے قائمقام ڈی ایس پی سکیورٹی سی سی پی ،گریڈ17کے ڈی ایس پی انکوائری سی پی اوآفس پشاور حکم خان کو ڈی ایس پی پی ٹی ایس کوہاٹ ،گریڈ17کے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر ٹانک مہرعلی کو ڈی ایس پی انکوائری سی پی اوآفس پشاور اورگریڈ16کے انسپکٹر ٹکاخان سی ٹی ڈی ملاکنڈریجن سے قائمقام ڈی ایس پی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا تعینات کردیاگیاہے۔ ایک اور اعلامیہ کے مطابق اے ایس ڈی پی او غفار علی کو ایس ایچ او بڈھ بیرلگادیا گیا جبکہ بڈھ بیر کے ایس ایچ اونثار احمد کو پولیس لائن حاضر کر دیا گیا اسی طرح تھانہ متھرا کے ایڈیشنل ایس ایچ او مرتضی علی کو تھانہ کوتوالی کا نیا ایس ایچ اومقررکردیا گیا جبکہ تحصیل کوتوالی کے ایس ایچ او انسپکٹر نور حیدر خان کو انویسٹی گیشن ونگ میں چارج سنبھالنے کی ہدایت کر دی گئی ایس ایچ او مچنی گیٹ نظیف الرحمن کو پولیس لائن تبدیل کرکے کمپیوٹر کورس کیلئے نامزد کردیاگیاتھانہ تاتارہ پولیس سٹیشن کے انوسٹی گیشن آفیسر سجاد احمد کو تھانہ مچنی گیٹ کا نیا ایس ایچ او تعینات کردیا گیا ایک اور اعلامیہ کے مطابق انسپکٹر ہارون خان اور ملازمت پر بحال ہونے والے سب انسپکٹر نعمان خان کی خدمات بھی شعبہ تفتیش کے سپرد کردی گئی ہیں۔ اسی طرح آئی جی خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم خان نے حال ہی میں انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پانے والے45ا ہلکاروںوں کی تعیناتی کے احکامات جاری کر دئیے۔سی پی او آفس سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق انسپکٹراسماعیل شاہ کوضلع نوشہرہ سے سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا ،انسپکٹرگل شیدکوضلع صوابی سے ملاکنڈ ریجن ،انسپکٹرطارق عمر کوضلع پشاورپی بی آئی سے پی ٹی سی ہنگو،انسپکٹرقاضی اسلم کواے سی ای خیبرپختونخوا سے ڈی آئی خان ریجن ،انسپکٹرولایت خان کوضلع چارسدہ سے سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا ،انسپکٹرزردلی کوضلع نوشہرہ سے بنوں ریجن ،انسپکٹرشاکراللہ کوضلع چارسدہ سے مردان ریجن ،انسپکٹرسائرہ صالح کووومن پولیس سٹیشن پشاورسے سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا ،انسپکٹرفقیرمحمدکوضلع نوشہرہ سے مردان ریجن ،انسپکٹرمحمدصادق شاہ کوضلع بٹگرام سے سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا ،انسپکٹرگوہررحمن کوپولیس لائن ایبٹ آبادسے ہزارہ ریجن ،انسپکٹرمحمد سعید کوا ینٹی کرپشن سے ہزارہ ریجن ،پولیس سٹیشن دبیرکوہستان کے ایس ایچ اوانسپکٹروقارعلی کو ہزار ہ ریجن ،پولیس سٹیشن سرائے صالح ہری پور کے ایس ایچ اوانسپکٹرساجدفاروق کوہزارہ ریجن ،انسپکٹرصالح محمدخان کو ضلع چارسدہ سے مردان ریجن ،انسپکٹرنوران شاہ کو ایف آرپی خیبرپختونخوا ،پولیس سٹیشن کالوخان صوابی کے انسپکٹرسلطان محمودکو مردان ریجن ،انسپکٹرنصراللہ خان کوپولیس لائن کوہاٹ سے کوہاٹ ریجن ،ایس ایچ اوتھانہ کلاچی ڈی آئی خان انسپکٹرمحمدنوازکوڈی آئی خان ریجن ،ایس ایچ اوتھانہ واناجنوبی وزیرستان انسپکٹرسیدمرجان کوڈی آئی خان ریجن ،انسپکٹرغلام کاظم کوپولیس لائن ڈی آئی خان سے ڈی آئی خان ریجن ،انسپکٹرانیس الحسن کوپولیس لائن ڈی آئی خان سے ڈی آئی خان ریجن ،تھانہ شاہی کوٹ اپردیرکے انسپکٹر فضل کریم کوملاکنڈ ریجن ،سب انسپکٹرلیگل دیرلوئرزیورخان کوملاکنڈ ریجن ،انسپکٹرریاض محمدکوضلع لوئردیرسے کوہاٹ ریجن ،انسپکٹرسلطان خان کوضلع چترال سے کوہاٹ ریجن ،انسپکٹرعامربہادرکوضلع چترال سے ملاکنڈ ریجن ،انسپکٹرجمیل الدین کوضلع اپردیرسے ملاکنڈ ریجن ،انسپکٹرنوربازخان کوضلع سوات سے ملاکنڈ ریجن ،انسپکٹرمحمدولی شاہ کوپولیس لائن چترال سے کوہاٹ ریجن ،انسپکٹراقبال الدین کوضلع لوئردیر سے بنوں ریجن ،ایس ایچ اوتھانہ دروش چترال انسپکٹر فیض محمدکوپی ٹی سی ہنگو،انسپکٹرشرین زادہ کوضلع سوات سے ملاکنڈ ریجن ،ایس ایچ اوتھانہ جاگام دیرلوئرانسپکٹرگل زمین کوسی ٹی ڈی خیبرپختونخوا ،ایس ایچ اوتالاش لوئردیر انسپکٹرمحمدتوحیدکوملاکنڈ ریجن ،ایس ایچ اوتھانہ بلامبٹ ضلع لوئردیرانسپکٹرعمران خان کوملاکنڈ ریجن ،ایس ایچ اوتھانہ مٹہ سوات انسپکٹر بخت زادہ کوملاکنڈ ریجن ،تھانہ کروڑہ شانگلہ انسپکٹر حیات علی شاہ کوپی ٹی سی ہنگو،انسپکٹرمیاں سیدجمال کوضلع سوات سے کوہاٹ ریجن ،انسپکٹراخترعلی کوپی ٹی سی سوات سے کوہاٹ ریجن ،انسپکٹرشاہ جبارکوسپیشل برانچ خیبرپختونخوا سے پی ٹی سی ہنگو،انسپکٹرعبدالقیوم کوملاکنڈ ریجن سے مردان ریجن ،انسپکٹرمحمدانورکوہزارہ ریجن سے سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا ،انسپکٹرمحمدجاویدکوہزارہ ریجن سے پی ٹی سی ہنگوجبکہ انسپکٹر عبدالعزیزکوبنوں ریجن سے بنوں ریجن تبدیل کردیاگیاہے ۔

  • نواز شریف سے سوشل تعلق ،چوہدری نثار بیان سے منحرف۔ ۔۔از۔ ۔آصف شاہ

    جھوٹ اور ہماری سیاست کاشائید آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے بڑے سے بڑے پارسائی کے دعویدارسیاست دان بھی بسا اوقات ایساکام کر گزرتے ہیں جن کی ان سے امید نہیں کی جا سکتی قدرت کا اصول شائید اس سے مختلف ہوتاہے بہت کہا سنا اور پڑھا ہے کہ زندگی موت رزق اور عزت زلت رب نے اپنے ہاتھ شائید اس لیے اس دنیاءکا نظام بخوبی چل رہا ہے اور تاقیامت چلتا رہے گاایک سیاسی کارکن اور لیڈر میں کیا فرق ہوتا ہے اس کا اندازہ چند دن قبل ہوا اور ایسا ہوا کہ حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ایک تعزیت کے دوران سابق وفاقی وزیرداخلہ بھی آپہنچے جہاں پر دعا کے بعد ملک میں سیاسی سسٹم کی بات چیت چھیڑ دی گئی،جس پر چوہدری نثار علی خان نے حسب روایات مذہبی حوالوں سمیت اپنے آپ کو پوتر ثابت کرتے ہوئے اس تمام نظام کی تباہ کاری کا زمہ تمام سیاسی پارٹیوں اور لیڈران کو زمہ دار قرار دیا،سیاسی طور پر ماحول گرم ہواور صحافی بھی موجود ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سوال سامنے نہ آئے چوہدری نثار پورے جوش کے ساتھ بات کر رہے تھے کہ اسی دوران سینئر صحافی کالم نگار محترم طارق بٹ نے سوال داغ دیاکہ ماہ ریبع الاول کا بابرکت مہنہ ہے اور آپ کی میاں نواز شریف سے 40 سالہ رفاقت ہے کیا ا ن کی عیادت کے لیے جائیں گے تو عظیم سیاسی لیڈر نے لال سرخ ہو کر جو جواب دیا وہ انتہائی حیران کن تھا کہ میں کیوں جاوں عیادت کو نوازشریف سے میرا کوئی کوئی سوشل تعلق نہیں جس پر دوبارہ سوال ہوا کہ کوئی سوشل تعلق نہ سہی لیکن سیاسی تعلق توہے لیکن چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کوئی تعلق نہیں ہے ایسا سوال تو بنتا ہی نہیں ہے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی بات کرنے کے دعوے کرنے والے اور حلقہ میں کروڑوں کے کام کروانے کے دعوے کرنے والے چوہدری نثار علی خان کیا بتانا پسند کرینگے کہ ان کی کروفر کس کی وجہ سے تھی اور ہے وہ تھی ن لیگ جس کی قیادت نے ہمیشہ چوہدری نثار علی خان کو اپنے سے آگے رکھا اور ان کے منہ سے نکلا ہو ایک ایک لفظ کو وہ اہمیت دیتے رہے لیکن جب ن لیگ کی کشتی میں سوراخ کی ابتداءکی گئی تو اس میں پہلا قطرہ بھی چوہدری نثار علی خان بنے اور انہوں نے بڑے زعم سے کہا کہ مجھے کسی کی کوئی ضرورت نہیں بات اگر سوشل تعلق ہونے یا نہ ہونے کی ہے تو کیا میاں نواز شریف اور ن لیگ کی اتنی بھی حثیت نہ رہی ہے کہ کارکنان کے پاس جانے والے چوہدری نثار نے میاں نواز شریف کی تیماردار ی تک کرنا گوارا نہیں کیا،اس سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب اس خبر کی تردید سامنے آئی کہ چوہدری نثار علی خان نے ایسی کوئی بات کی ہی نہیں ہے راقم عین چوہدری نثار علی خان کے سامنے موجود تھا وہاں پر موجود بیشتر مقامی سیاسی رہنماوںجن کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے سے ایک مودبانہ سا سوال ہے کہ کیا وہ اس بات کا حلف دے کر کہ سکتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے طارق بٹ کے سوال پر یہ جواب نہیں دیا تھا ،یہ ایک اس لیڈر کی کوالٹی تھی کہ جس نے چار دہائیوں سے جس پارٹی کی اینیٹں لگانے کے دعوے کے اس کی اور اگر میاں نواز شریف کی کوئی کوالٹی اور سوشل تعلق نہیں تھا تو عام ورکروووٹرز اور جیپ کے سامنے ناچنے والوں کو اپنی حثیت کا بخوبی اندازہ ہوناچاہیے،اب ایک رخ یوسی کے ایک کارکن اورمقامی لیڈر کاجس نے پارٹی سے وابستگی کو ثابت کیا یوسی غزن آباد سے تعلق رکھنے والے وائس چیئرمین ظفر مغل کاجس نے گزشتہ الیکشنوں میں جب ن لیگ کی سیاسی کشتی وقتی طور پر ڈوب رہی تھی تو اس کے ساتھ موجود چیئرمین نے جیپ کی سواری کو ترجیح دی اور پارٹیاں بدلنے والوں نے اپنی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے صداقت عباسی کو پھولوں کے گلدستے پیش کر کے اپنی وقتی سیاسی رقابت داری کا یقین دلایاکیونکہ اس کی سیاسی شہرت اسی چیز کی حامل ہے کہ وہ وقت بدلنے پر پارٹیاں بھی بدلی کرتے ہیں لیکن اس کڑے وقت میں مرد آہن نے نہ صرف یوسی کی سطح پر ڈٹ کر کھڑا ہوا بلکہ اس نے تمام سیاسی جماعتوں کی سیاست کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنی یوسی میں شاہد خاقان عباسی کی لیڈ کو پونے چار سو میں بدلا یوسی سے جتوایا بلکہ انہوں نے صوبائی سطح پر انہوں اس وقت نیب کے سکنجے میں کسے ہوئے قمراسلام کی بھر پور حمائیت کی اور اوپر اور نیچے کی سیاست کو دفن کر دیا اب بھی اگر ان کی سیاسی بصیرت پر نظر ڈالیں تو وہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی دھڑوں کو سیاسی طور پر مکمل زیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وقت پڑنے پر کسی بھی سیاسی جماعت پر سیاسی بصیرت سے پچھاڑ سکتے ہیں اب میرا اپنے جیسی مسائل کی چکی میں پسی ہوئی عوام سے ایک سوال ہے کہ کون سیاسی حوالہ سے بہتر ہے ایک یوسی کا وہ سیاسی لیڈر جو ہر مشکل میں اپنے لیڈران اور کارکنان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے یا چوہدری نثار علی خان جن کے سامنے چالیس سالہ سیاسی رفاقت کی کوئی حثیت نہ ہے اس کا جواب عام عوام ہی بہتر دے سکتی ہے ہمارا سیاسی نظام اور ہم اتنے ڈوب چکے ہیں اس کا اندازہ تھا لیکن اتنا زیادہ ڈوب چکے اس کا ادراک ااب ہوا ہے

  • عطائی ڈاکٹروں نے جانوروں کو بھی نہیں بخشا

    سرگودھا (عمیر ضیاء) سرگودھا سمیت صوبہ بھر میں 10 ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ‘ نان کوالیفائیڈ‘ مصنوعی افزائش نسل کرنیوالے عطائی معالج جانوروں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بن رہے ہیں جبکہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کے استعمال کے باعث جانوروں کی نسل کشی ہورہی ہے اکثر لوگ زائد دودھ حاصل کرنے کیلئے جانوروں کو مختلف اقسام کے ٹیکے لگاتے ہیں جو وقتی طور پر دودھ زیادہ دینے کا موجب بنتے ہیں مگر مستقبل میں یہ جانور دودھ سے مستقل محروم ہوجاتے ہیں جنہیں قصابوں کے حوالے کردیا جاتا ہے متعلقہ محکمہ لائیو سٹاک اس سلسلہ میں اپنا کردار اد اکرنے میں ناکام نظر آرہا ہے۔

  • حکومت پنجاب نے یوٹیلٹی سٹورز سے خریداری پر بڑا اعلان کر دیا

    سرگودھا (بیورو رپورٹ) حکومت پنجاب نے یکم دسمبر سے ملک بھر کے تمام یوٹیلٹی سٹورز پر 5 اشیاء پر سبسڈی دینے کیلئے اقدامات کو حتمی شکل دینا شروع کردی ہے پیکیج کے تحت چینی 9 روپے‘ آئل اور گھی 30 روپے فی لیٹر چاول 20 روپے فی کلو دالوں پر 15 روپے اور آٹے کے 20 کلو تھیلے پر 132 روپے کی سبسڈی دی جائیگی اس سلسلہ میں حکومت نے یوٹیلٹی سٹور کو 6 ارب روپے کا ریلیف پیکیج فراہم کردیا ہے فنڈز کی منتقلی کیساتھ ہی یکم دسمبر سے یوٹیلٹی سٹورز پر عوام کو 5 اشیاء پر سبسڈی دی جائیگی۔

  • لوگ چکن چھوڑ کر مچھلی کی طرف کیوں متوجہ ہو رہے ہیں، وجہ سامنے آگئی

    سرگودھا (بیورو رپورٹ) قصابوں کی ہڑتال‘ چکن کی مانگ میں اضافہ اور اس کی بڑھتی ہوئی قیمت نے لوگوں کو مچھلی کی طرف متوجہ کردیا ہے شہر بھر میں فارمی مچھلی 200 روپے سے 300 روپے کلو میں فروخت ہورہی ہے جو غذائیت میں بھی برائلر مرغ سے بہتر ہے لوگوں کی بڑی تعداد شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی مچھلی ڈش کو شامل کرنے لگے ہیں چھوٹے اور بڑے گوشت کے قصابوں کی ہڑتال کے باعث شادی کے سیزن کی وجہ سے چکن کی مانگ بڑھی ہے اکثر چکن فروشوں نے پرچون کا کام بند کرکے تھوک میں چکن فروخت کرنا شروع کررکھا ہے جس کی وجہ سے مچھلی کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور مچھلی فروشوں نے بھی قیمتوں میں اضافہ کرنا شروع کردیا ہے۔

  • سرگودھا غریب عوام کی ایم این اے عامر چیمہ اور سیکٹری ایجوکیشن سے اپیل۔

    سرگودھا (ادریس نواز سے) کے نواحی گاٶں چک 54 شمالی غریب عوام کی اپنے ایم این اے عامر سلطان چیمہ اور سیکٹری ایجوکیشن سے گورنمنٹ گرلز کمیونٹی ماڈل سکول کو پراٸمری سے مڈل کا درجہ دینے کی اپیل۔ عوام کا یہ کہنا ھے کہ ہمارے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ ہم اپنی بچیوں کو پڑھنے کیلیے دور بھیج سکیں۔ عوام کا یہ کہنا ھے کہ ایم این اے عامر سلطان چیمہ کی بدولت ہمارا سکول سرگودھا سے پراٸمری سے مڈل کیلیے فزیبل ہو چکا ھے۔اس لیے ھاری اپنے ایم این اے عامر سلطان چیمہ اور سیکٹری ایجوکیشن سے گزارش ھے کہ جلد سے جلد ہمارے گورنمنٹ گرلز کمیونٹی ماڈل سکول کو مڈل کا درجہ دیا جاٸے۔ تاکہ غربت کی وجہ سے جو ھماری بچیاں پراٸمری سے آگے تعلیم حاصل نہیں کر سکیں۔ وہ مڈل تک تعلیم اپنے ہی گاٶں میں حاصل کریں۔اور اھل علاقہ کی اپنے ایم این اے عامر سلطان چیمہ سے یہ گزارش ھے کہ ایک بار ھمارے گاٶں چک 54 شمالی کا وزٹ کریں۔

  • غیر قانونی پارکنگ سٹینڈ تجاوزات کی بڑی وجہ ہیں، حاجی عتیق الرحمان

    سرگودھا (بیورو رپورٹ) غیر قانونی پارکنگ سٹینڈ ختم کرنے میں تاجر انتظامیہ سے بھرپور تعاون کرینگے غیر قانونی پارکنگ سٹینڈ تجاوزات کی بڑی وجہ ہیں اور اس سے ٹریفک کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی پارکنگ سٹینڈ ختم کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انجمن تاجران گول چوک کے راہنما حاجی عتیق الرحمن نے کیا انہوں نے کہا کہ پارکنگ کی وجہ سے شہریوں کیساتھ ساتھ تاجروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے پارکنگ ایریا کیلئے مختص جگہ پر پارکنگ ہونی چاہیئے حاجی عتیق الرحمن نے کہا کہ تاجروں نے ہمیشہ انتظامیہ کے ہر اچھے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے انتظامیہ کو بھی چاہیئے کہ وہ تاجروں کو چھوٹی موٹی باتوں پر ریلیف فراہم کرے۔