Baaghi TV

Author: +9251

  • 103 دن کے کرفیو کے باوجود بھارت کشمیریوں کے عزم اور استقامت کو شکست دینے میں ناکام ہو چکا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

    آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ 103 دن کے کرفیو کے باوجود بھارت کشمیریوں کے عزم اور استقامت کو شکست دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔قومی قیادت متحد ہو گی تو آواز میں طاقت پیدا ہو گی اور دنیا آپ کی بات سنے گی۔
    مودی ہٹلر کے نقش قدم پر خطرناک ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے نہتے کشمیری عوام کو جنوبی ایشیاء کے ہٹلر مودی سے بچایا جائے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی ہے۔500 ہندوستانی پروپیگنڈے کی ویب سائیٹس سامنے آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان کا تمام تر پروپیگنڈہ ناکام ہورہا ہے۔بین الاقوامی میڈیا نے ہندوستان کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے۔اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان بھارت کے جارحانہ عزائم کو روکنے کیلیے کافی ہے۔میڈیا مسئلہ کشمیر اور قومی یکجہتی کیلیے اپنا اہم کردار ادا کرے۔ وزیر اعظم آزادکشمیرنے بین الاقوامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کو جیل بنا دیا ہے جہاں کرفیو کو 103 دن ہو چکے ہیں جو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے ایک نئے المیے نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو بھیانک تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے جبکہ دوسری جانب کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے نہتے شہریوں اور بچوں کو نشانہ بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے سفاکانہ حملوں اور بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے سکول بند کرنے پڑ گئے ہیں جن سے بچوں کو تعلیم میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء کا نامکمل ایجینڈا ہے جس کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے حق کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں اور یہ حق انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کر رکھا ہے اور اسکا قبضہ سراسر جابرانہ اور غاصبانہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں میڈیا سے خاص طور پر کہنا چاہوں گا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں پہنچانے کیلیے اپنا ایکٹو رول ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم مودی نے پہلے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور اب وہ اسی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا سامنا سفاک مودی سے ہے جس کا ایجینڈا آر ایس ایس کا تشدد پسند راستہ ہے جو اقلیتوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کر دیا ہے جو بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ 103 روز سے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے جہاں اسی لاکھ سے زیادہ آبادی اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت سے اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا وعدہ خود بھارت کے وزیراعظم نہرو نے کیا تھا اور کشمیریوں کو یہ حق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی دے رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا جارحانہ رویہ جنوبی ایشیاء کو عدم۔استحکام کی جانب دھکیل رہا ہے کیونکہ دونوں ملک ایٹمی طاقت بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھارت کے اشتعال انگیز بیان کا نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے مظالم نے ہٹلر اور نازیوں کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت عالمی۔طاقتوں کو چاہیے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرانے کیلیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں اور بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا پابند بنائیں.

  • ہاورڈ یونیورسٹی:اسرائیلی سفیرخطاب کے لیے اسٹیج پرآئے توطلباء‌احتجاجا باہرچلے گئے

    لندن:اسرائیل کی طرف سےفلسطینیوں‌پرمظالم سے اب کون واقف نہیں‌، اطلاعات کے مطابق ہاورڈ یونیورسٹی میں اسرائیل کے سفیر کو اس وقت منہ کی کھانی پڑی جب اسرائیلی سفیرمقبوضہ وادی میں اسرائیلی کے لیے رہائشی کالونیوں‌کے جواز سے متعلق اپنے گفتگوکرناچاہتے تھے

    ذرائع کے مطابق ہاورڈ یونیورسٹی میں‌ بدھ کےروز ایک ایک مباحثے میں‌ اپناموقف پیش کرنے کے لیے جب اسرائیلی سفیرکو دعوت دی گئی کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں کس جواز پرزمینیں اپنے قبضے میں لے رہے ہیں تو اس دوران اسرائیلی سفیرکوسخت نعروں کا سامنا کرنا پڑا

    ذرائع کے مطابق جب اسرائیلی سفیرنے گفتگوشروع کی تو یونیورسٹی کے طلباء بائیکاٹ کرتے ہوئے اس ہال سے احتجاجا اٹھ کرچلے گئے اوراسرائیلی سفیر کی کسی قسم کی گفتگوکوسننے سے انکارکردیا،یونیورسٹی طلباء کے واک آوٹ کرنےسے ہال خالی ہوگیا اوراسرائیلی سفیراکیلے ہی رہ گئے جس پرانتظامیہ نے یہ تقریب ختم کرنے کا اعلان کردیا

  • وہاڑی : تشدد سے زخمی دم توڑ گیا

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) کے نواحی علاقے مترو میں وحشیانہ تشدد سے شدید زخمی ہونے والہ محمد شہزاد ڈنگ نشتر ہسپتال میں دم توڑ گیا.
    محمد شہزاد کی نعش مترو پہنچی تو کہرام بج گیا ورثا کا لاش مین چوک مترو میں رکھ کر احتجاج ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دیا مترو پولیس نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشدد کے ملزمان محمد اقبال ممرا ،محمد امیر ممرا اور محمد عامر ممرا وغیرہ کو گرفتار نہیں کیا.
    تاہم مترو پولیس نے نعش پوسٹ مارٹم کے لیے آر ۔ایچ سی۔ گڑھاموڑ بھجوا دی ہے اور مقدہ میں قتل کی دقعہ 302ت پ شامل کر لی ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں.

  • عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ

    باغی ٹی وی : عالمی مارکیٹ میں سونا 4ڈالرکے اضافے سے 1469ڈالرفی اونس کا ہوگیا۔بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باوجودمقامی سطح پر فی تولہ سونا 86450،دس گرام 74117روپے پر مستحکم رہا جبکہ چاندی کی فی تولہ قیمت1000 روپے کی سطح پر برقراررہی۔
    دوسری طرف ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے.

  • ڈالر کی قیمت میں  کمی

    ڈالر کی قیمت میں کمی

    ڈالر کی قیمت میں کمی

    باغی ٹی وی : مقامی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان برقرار ہے ۔گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 4جبکہ اوپن مارکیٹ میں 10 پیسے مزید سستاہوگیا۔ادھر سونا 86450روپے پر مستحکم رہا۔ فاریکس ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کوانٹربینک میں ڈالر 4پیسے کی کمی سے 155.48روپے جب کہ اوپن مارکیٹ میں 10پیسے کی کمی سے 155.40 روپے پر آگیا۔ یوروکی قدر میں30پیسے جب کہ برطانوی پاؤنڈمیں20پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں یورو 171.50روپے اوربرطانوی پاؤنڈ 200.30روپے کاہوگیا.

    واضح رہےگزشتہ چار ماہ کے دوران 155.50 روپے ڈالر کی نچلی ترین سطح ہے۔2019 میں بھی ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
    اپریل 2019 میں ڈالر چھلانگ لگا کر 141 روپے 50پیسے پر آگیا۔ مئی میں 151 روپے اور جون میں تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا. اب تسلسل کے ساتھ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے.

  • ایران میں تیل مہنگا ہوا تو عوام نے کیا رد عمل کیا

    ایران میں تیل مہنگا ہوا تو عوام نے کیا رد عمل کیا

    ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ نافذ العمل ہونے پر احتجاج شروع ہو گیا . جس کے بعد حکومت کو پیٹرول پمپوں کے نزدیک اضافی سیکیورٹی کا بندوبست کرنا پڑا.

    ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ نافذ العمل ہونے کے بعد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب متعدد شہروں میں عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اس موقع پر سڑکوں پر شہریوں کی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جنہوں نے نئے نرخوں پر ایندھن بھروانے سے انکار کر دیا۔ شہریوں نے حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایران میں حکام کے نئے فیصلے کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت 3 ہزار ایرانی تومان (تقریبا 36 سینٹ) ہو گئی ہے۔ پٹرول کی سابقہ قیمت 1 ہزار ایرانی تومان (تقریبا 12 سینٹ) تھی۔

    ایران میں سوشل میڈیا پر کئی تصاویر اور وڈیو کلپ وائرل ہو رہے ہیں جن میں اصفہان، الاہواز اور ارومیہ میں سیکڑوں شہریوں کو پٹرول اسٹیشنوں پر طویل قطاروں میں کھایا گیا ہے۔ اسٹیشنوں کے نزدیک سیکورٹی فورسز اور ہنگامہ آرائی کے انسداد کی فورسز کے اہل کار بڑی تعداد میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔

  • مصر نے ترکی کے شام آپریشن پر کیا کہہ دیا

    مصر نے ترکی کے شام کے اندر آپریشن کے بعد ہونے والے اثرات پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا یہ ایک توسیعی پالیسیوں‌ کا تسلسل ہے

    مصر نے ترکی کی اُن کوششوں کے نتائج سے خبردار کیا ہے جن کا مقصد شمالی شام میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے یہ منصوبہ انقرہ کی توسیعی پالیسیوں کا تسلسل ہے.

    شام میں کتنے امریکی فوجی موجود ؟

    واشنگٹن میں شام کے حوالے سے چھوٹے مجموعے کے وزارتی سطح کے اجلاس میں مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے شامی بحران کے سلسلے میں مصری موقف کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے جنیوا میں کچھ عرصہ قبل شام کی آئین ساز کمیٹی کے کام شروع کرنے کا بھی خیر مقدم کیا۔ شکری نے شام کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ کمیٹی کے آئندہ ادوار کے دوران قومی مفاد کو غالب رکھیں۔

    واضح رہے کہ ترکی نے شام میں حالیہ دنوں فوجی کاروائی کی ہے جو کہ کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف تھی، امریکا اور یورپ نے اس پر کافی تنقید کی ہے اور اس وجہ سے ترکی پر پابندیاں لگانے بھی جا رہاہے

  • بلاول نے گندم کی قمیمت میں اضافے کو کیوں مسترد کیا

    بلاول نے گندم کی قمیمت میں اضافے کو کیوں مسترد کیا

    بلاول نے گندم کی قمیمت میں اضافے کو کیوں مسترد کیا

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گندم کی کم از کم سرکاری قیمت 1600 روپے فی من مقرر کی جائے،عالمی منڈی میں گندم کی قیمت 1575 روپے ہے ۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے کسان کو 1350 روپے پر ٹالا جا رہا ہے، دنیا بھر میں حکومتیں کسانوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں ، پاکستان میں حکومت ہی کسان کی دشمن بنی ہوئی ہے،

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نےاپنے دور میں گندم کی قیمت 450 سے بڑھا کر 1250 روپے من مقرر کی،پی پی پی حکومت نے ملک کو گندم درآمد کرنے والے ملک سے گندم برآمد کرنے والا ملک بنادیا تھا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یوریا، ڈی اے پی ، زرعی ادویات اور دیگر مداخل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں، حکومت کی کسان دشمن پالیسی کی وجہ سے زرعی شعبہ تباہ اور کاشتکار برباد ہو رہا یے، فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے پیداوار تشویشناک حد تک کم ہو گئی ہے
    واضح رہے ک کہ کل معاشی کمیٹی نے گندم کی امدادی قیمت میں 50روپے من اضافے کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں گندم کی امدادی قیمت 1350 روپے فی من مقرر کردی گئی ،فیصلہ عالمی منڈی میں قیمت کے تناظر میں کیا گیا، کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ امدادی قیمت میں اضافے سے کسانوں کی مشکلات دور ہوں گی۔ فیصلہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمت کے تناظر میں کیا گیا۔

  • فن لینڈ کتنے سال بعد اپنا سفارت خانہ عراق میں کھولنے جا رہا

    یورپی ملک فن لینڈ عشروں بعد اپنا سفیر بغداد بھیجنے پر تیار ہوا ہے

    تصیلات کے مطابق : فن لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق میں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولے گا اور تقریبا 30 برس کے بعد اپنا سفیر بغداد بھیجے گا۔ اس اقدام کا مقصد دو طرفہ تعلقات کی از سر نو تاسیس، عراق کی تعمیر نو میں مدد اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو مضبوط بنانا ہے۔

    فن لینڈ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں عراقیوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد ان افراد کی واپسی اور بے دخلی ابھی تک دونوں ملکوں کے بیچ پُرخار معاملے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ 2015 میں تقریبا 20 ہزار عراقی شہری فن لینڈ پہنچے تھے۔

    فن لینڈ کے سفیر ویسا ہیکینن نے سرکاری طور پر اپنا نیا منصب سنبھالنے سے ایک روز قبل جمعرات کو امریکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں واضح کیا کہ اُن کا ملک جو یورپی یونین کا رکن ہے ،،، اس نے جنوری 1991 میں خلیج کی جنگ کے فوری بعد عراق میں اپنا سفارتی وجود ختم کر دیا تھا۔

  • لیسکو نے اپنے صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری لر لی

    لیسکو نے اپنے صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری لر لی

    لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے بیالیس لاکھ سے زائد صارفین فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں اضافی بل ادا کریں گے۔وفاقی حکومت کی جانب سے بلوں میں مسلسل اضافے سے صارفین کو ماہانہ اربوں روپے کے زائد بل ادا کرنے ہوں گے۔

    لیسکو ذرائع کا کہنا ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ رواں ماہ کے بلوں میں وصول کی جائے گی اور یہ کہ صارفین اس مد میں ساڑھے تین ارب روپے اضافی اداکریں گے.وفاقی حکومت نے رواں سال جون اور جولائی میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ماہ اگست میں یونٹس پر بھی ایک روپیہ چھیاسٹھ پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا جو کہ ماہ نومبر کے بلوں میں وصول کیا گیا ہے۔دوسری جانب بجلی صارفین پر 17 ارب روپے کا نیا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق درخواست سماعت کیلئے مقرر کر لیا گیا ہے، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر نیپرا 20 نومبر کو سماعت کرے گی۔اس سے قبل وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے رعایتی نرخوں کا پیکج لارہے ہیں.رعایتی نرخ اضافی یونٹ استعمال کرنیوالوں پر لاگو ہوں گے،رعایتی بجلی 11.97 روپے فی یونٹ چارج کی جائے گی ،بجلی صارفین کے لیے بجٹ میں 226 ارب روپےکی سبسڈی رکھی .300یونٹ سےکم استعمال کرنیوالےزرعی صارفین کوسبسڈی دی ہے

    بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا جا رہا ہے۔