ایران کے لیے کیا اہم ہے بین الاقوامی ادارے نے بتایا.
بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز ‘آئی آئی ایس ایس’ نے جمعرات کے روز ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے بارے میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں پاسداران انقلاب کے ذریعہ قائم کردہ ملیشیا ایران کے لیے اس کے بیلسٹک میزائلوں اور جوہری پروگرام سے زیادہ اہم ہیں۔
لندن میں قائم بین الاقوامی تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران اور امریکا اور خطے کے دوسرے ممالک کی ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی کی وجہ سے تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری پروگرام سب سے اہم ترین امور ہیں۔ مگر تیسرا ایرانی تزویراتی اہمیت کا حامل معاملہ ایرانی ملیشیائوں کا ہے جو ایران کے لیے اس کے جوہری اور میزائل پروگرام سے بھی زیادہ اہم ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کے محکمہ خزانہ نے ان پر یہ پابندیاں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے چالیس سال مکمل ہونے پرعاید کی ہیں۔اس نے اپنی ویب سائٹ پر ان پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ان کی زد میں آنے والوں میں ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف بھی شامل ہیں۔
لاہور: نامور بالی ووڈ اداکار وسیاستدان سنی دیول اور نوجوت سنگھ سدھو کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر کل پاکستان آئیں گے۔ اداکار سنی دیول کی پاکستان آمد کی تصدیق بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے گزشتہ روز کی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کرتارپور راہداری افتتاح کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے وفد میں سنی دیول بھی شامل ہوں گے۔ واضح رہے کہ اداکار و سیاستدان سنی دیول کا تعلق بھارتی پنجاب کے ضلع گورداس پور سے ہے اور سنی دیول نے بی جے پی کے پلیٹ فارم سے ضلع گوردار پور سے ہی بھارتی الیکشن میں حصہ لیاتھا۔
سنی دیول (Sunny Deol) پیدائشی نام اجے سنگھ دیول (Ajay Singh Deol) ایک بھارتی فلم اداکار، فلمی ہدایت کار پروڈیوسر اور سیاست دان ہیں۔ وہ گورداس پور لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمان ہیں۔ بالی وڈ کے ساتھ ان کا 35 سال کا رشتہ ہے جہاں انہوں نے 100 سے زیادہ فلموں میں کام کیا ہے۔ انہیں دو مرتبہ قومی فلم اعزازات (بھارت) سے نوازا گیا اور دو مرتبہ فلم فیئر اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ان کی پہلی فلم امریتا سنگھ کے ساتھ 1982ء میں بیتاب آئی۔ یہ امریتا کی بھی پہلی فلم تھی۔ وہ اس فلم کے لیے فلم فیئر اعزاز برائے بہترین اداکار کے نامزد ہوئے۔ اس کے بعد جیسے ان کی زندگی بہار آگئی اور 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں انہوں نے ایک کے بعد ایک بہترین فلمیں دیں۔
معتبر ذرائع کے مطابق سنی دیول جہاں کرتارپورراہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے آرہے ہیں وہاں وہ اپنے دیگرہم وطن بھارتیوں کی مانیٹرنگ کی بھی کوشش کریں گے ، سنی دیول نے 100 سے زائد فلموں میں کام کیا ہے ان میں 6 فلمیں خصوصی طورپر پاکستان مخالف بنائی گئیں ہیںجبکہ ایک درجن سے زائد فلموں میں جزوی طور پر پاکستان مخالف کردار بھی اداکیے
بھارت میں سنی دیول کی مقبولیت کا راز بھی پاکستان مخالف انتہاپسندانہ سوچ ہے ، اپنے حلقہ انتخاب میںسنی دیول نے پاکستان مخالف الیکشن کیمپین بھی چلائی تھی ، دوسری طرف بعض مبصرین کا کہنا ہےکہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا سنی دیول پر بھی کامیاب وار ہوسکتا ہے ، یہ بھی ممکن ہےکہ سنی دیول بھی نوجوت سدھو کی طرح پاکستان کا صاف شفاف چہرہ لے کر بھارت واپس جائیں تو پھر ایک نئی تحریک پیدا کردیں جسے بھارت سالوں سے دبانے کی کوشش کررہا ہے،
جہاںتک سنی دیول کی پاکستان مخالف فلوں کاتعلق ہے تووہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، بالی وڈ سے لیکر ہالی وڈ تک ہرکوئی جانتا ہے کہ سنی دیول کےدل میں پاکستان دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور اسی پاکستان دشمنی کی بنیاد پر اس نے انتہاپسند ہندووں سے ووٹ لیا ہے، بہر کیف فی الحال کرتاپورراہداری کے افتتاح کے موقع پر سنی کا آنا کن مقاصد کی تکمیل کا حصول ہے ، اس پر قبل از وقت بات کرنا مناسب نہیں، یہاںیہ بات ضرور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس اداکار کی وہ کون کون سی چند پاکستان مخالف فلمیں ہیں جن کی وجہ سے پورے بھارت میں پاکستان مخالف زہر پھیلانے میںاہم کردار ادا کیا ، ان فلموں میں سے 6 مشہورفلموں کا مختصرسا ذکر کرنا ضروری ہے
پاکستان کا دورہ کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور معروف بالی وڈ اداکار سنی دیول پاکستان کو ایک نہیں چھ۔ چھ مرتبہ پردے کی سکرین پرپاکستان پر حملہ آور ہوچکے ہیں، اوریہی ان کی شہرت کا راز بھی ہے،
بالی ووڈ اداکار سنی دیول اب لیڈر بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر چرچا ہے کہ اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں اور بی جے پی حکومت آئی تو سنی کو سیدھا وزیردفاع بنا دیا جائے گا۔ ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ فلمی پردے پر سنی دیول نے اکثر پاکستان کو دھول چٹائی ہے اور ان فلموں کو دیکھ کر آج بھی منھ سے نکل جاتا ہے۔۔ جے ہند۔۔۔
سنی دیول نے سب سے پہلے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی۔ 1997 میں آئی پی دتہ کی سپر ہٹ فلم بارڈر سے۔ اس فلم میں وہ میجر کلدیپ سنگھ چاندپوری کے کردار میں تھے اور فلم کے کلائمیکس میں جس طرح وہ اکیلے پاکستانی فوج کے ٹینکس کو ختم کرتے ہیں وہ مناظر آج بھی جوش جگا دیتے ہیں۔
سنی اور پاکستان کا دوسری مرتبہ آمنا سامنا ہوا انل شرما کی سپرہٹ فلم’غدار’سے۔ اس فلم میں اپنی معشوقہ کو واپس لانے کیلئے اکیلے پاکستان جاکر ہینڈ پمپ اکھاڑنے والے سنی سیول کو ہندستان میں محب وطن کا نام کا عنوان مل گیا تھا اور لوگوں نے اس فلم کے ڈائیلاگ رٹ لئے تھے،
سال 2002 میں آئی فلم ‘ماں تجھے سلام’ جب رلیز ہوئی تو ہندستان اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ تھے۔ اس فلم کا ڈائیلاگ ‘دودھ مانگوگے تو کھیر دیں گے، کشمیر مانگو گے تو چیر دیں گے’ ہر دیوار پر لکھا نظر آتا تھا۔
https://www.youtube.com/watch?v=LOl9OfirP-g
سنی نے 2007 میں قافلہ نام کی فلم سے ایک مرتبہ پھر پاکستان اینگل کو بھنانے کی کوشش کی۔ اس مرتبی وہ بری طرح ناکام رہے اور قافلہ سنی کی سب بڑی فلاپ فلموں میں سے ایک رہی۔
https://www.youtube.com/watch?v=xqdg-PNh2NM
اس فلم میں سنی دیول ایک گیسٹ ہاؤس کے کردار میں تھے۔ ونگ کمانڈر ابھینندن کی طرح وہ اس فلم میں ایک وار ہیرو کی طرح موجود تھے اور اپنے بھائی بابی دیول کی شہادت کے بعد اکیلے رہتے تھے۔
اس فلم میں سلمان خان ، سہیل خان ، سنی دیول ، بابی دیول جیسے نا، ہونے کے بعد بھی ناظرن نے اس فلم کو پسند نہیں کیا تھا۔
پاکستان مخالف بی جے پی لیڈر بالی وڈ اداکار کی پاکستان مخالف فلموں کے تذکرے بہت مشہور رہے ہیں ،پاکستان کے معروف صحافی حامد میر بھی اپنے پروگرام میں سنی دیول کی پاکستان مخالف فلموں پر اپنی ہمدردیاں سنی دیول کے پلڑے میں ڈال چکے ہیں
اب جزا و سزا کا نظام وضع ہونے جا رہا ، کس مقصد کے لیے
ایوان وزیراعلی میں صوبائی وزیر صنعت و تجارت کی زیرصدارت ٹاسک فورس برائے پرائس کنٹرول کا اہم اجلاس ہوا جس میںفیصلہ کیاگیا کہ پنجاب میں مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے جزاوسزا کا نظام وضع کیا جارہا ہے.گرانفروشی پرمتعلقہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر جوابدہ ہوگا
اچھی کارکردگی پر 5بہترین اضلاع کو تعریفی اسناد ملیں گی. ماڈل اور اتوار بازاروں میں کسانوں کو براہ راست رسائی دینے کا فیصلہ
کسانوں کیلئےرینٹ،فیس بھی ختم دیگر سہولتیں بھی ملیں گی
آن لائن ہوم ڈلیوری پروگرام کا آغاز لاہور،گوجرانوالہ،فیصل آباد،راولپنڈی اور ملتان سے ہوگا. صارفین کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنائیں گے۔ پرائس کنٹرول میکانزم پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے آخری حد تک جائیں گے.
بابا گورو نانک یونیورسٹی کے تعمیر کے منصوبے پر کتنی لاگت آئے گی.
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ننکانہ صاحب میں بننے والی بابا گورو نانک یونیورسٹی کے ماڈل کا معائنہ کیا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر بابا گورو نانک یونیورسٹی کا ماڈل کل کرتار پور راہداری منصوبے کی افتتاحی تقریب میں رکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کو یونیورسٹی کے منصوبے کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ بابا گورو نانک یونیورسٹی کا منصوبہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
بابا گورو نانک یونیورسٹی کے تعمیر کے منصوبے پر 6 ارب روپے لاگت آئے گی۔اس منصوبے کی تکمیل سے ننکانہ صاحب اور گرد و نواح کے طلبا و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کیلئے لاہور اور دیگر شہروں میں نہیں جانا پڑے گا۔ سکھ برادری کے نوجوان بھی بابا گورو نانک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کریں گے۔ہماری حکومت وہ کام کر رہی ہے جو کسی سابق حکومت نے اب تک نہیں کیا۔ بابا گورو نانک یونیورسٹی کے منصوبے کے بعد کرتار پور راہداری کا افتتاح تاریخ ساز اقدام ہے۔
اینٹی کرپشن پنجاب نے کتنی ریکوری کرلی ، رپورٹ جاری
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے ماہ اکتوبر کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی .اکتوبر2019 میں 8 ارب 72کروڑ 50 لاکھ روپے کی تاریخی ریکوری کی. تقریبا 8ارب59 کروڑ60لاکھ روپے کی اراضی واگزار کرائی گئی. اینٹی کرپشن پنجاب کو ایک ماہ میں1891 شکایات موصول ہوئیں
اینٹی کرپشن نے سابقہ شکایات سمیت 1829 شکایات کوایک ماہ میں حل کیا.ایک ماہ میں 648انکوائریاں لگائیں اور 522جاری انکوائریوں کو مکمل کیاگیا.اینٹی کرپشن میں مکمل چھان بین کے بعد 212 کیس رجسٹرڈ ہوئے اور 147جاری کیسز کا فیصلہ ہوا. اینٹی کرپشن نے162املزنان اور46اشتہاریوں کو گرفتار کیا:رپور
موجودہ حکومت کے دور میںقرضوںکی تعداد کتنی ہو گئی، سٹیٹ بینک نے بتادیا
تفصیل کے مطبق اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت کے قرضے پہلی بار 33 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگئے۔.ستمبر 2019 کے اختتام تک ملکی قرضے 33 ہزار 247 ارب روپے کی سطح پر آگئے جو کہ گزشتہ سال اسی ماہ 25 ہزار ارب روپے کی سطح پر تھے۔اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران ملکی قرضوں میں آٹھ ہزار ارب روپے سے سے زائد کا اضافہ ہوا۔موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے اب تک ملکی قرضوں نو ہزار ارب روپے تک کا اضافہ ہوچکا ہے
واضح رہے کہ جب سے عمران خان اور ان کی حکومت اقتدار میں آئے ہیں ، پاکستان کی معیشت کی اس حالت کا الزام سابقہ حکومتوں پر لگاتے رہے ہیں.اس رپورٹ کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ موجودہ حکومت بھی اسی طرح قرضے لے رہے ہیں.جبکہ حکومت کی جانب سے معیشت کی بہتری کے اشاریے بھی پیش کیے جا رہے ہیں. اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس کی بہتری سے معیشت کی بہتری کا اندازہ لگانا کافی نہیں ہے ، ابھی چند روز پہلے عمران خان کی طرف سے اقتصادی کمیٹی کی صدارت کی گئی جس میں وزراء نے اس بات کی یقین دھانی کرائی کہ ملکی زرمبادلہ میں بہتری آئی ہے
لاہور :وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کامیاب سفارتکاری اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سمجھ داری کے تذکرے بھارت کے لیے بہت بھاری بن کر ابھررہے ہیں، سابق بھارت کرکٹرنوجوت سنگھ سدھونے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں بھارت میں پیدا ہونے والی تازہ ترین صورت حال کا خوبصورت انداز میں پرچار کیا ہے،
باغی ٹی وی کی مطابق سابق بھارتی کرکٹر نے پنجابی زبان میں ایک زبردست ٹویٹ کی جس نے بھارتیوں کی بے قراری کی ساری حقیقت کھول کررکھ دی ہے، نوجوت سدھو کہتے ہیں کہ عمران خان نے کرتاپورراہداری کے دروازے بھارتی سکھوں کے لیے کھول کر سارے خالصتانیوں کے دل لوٹ لیے ہیں ، نوجوت سدھو نے وزیراعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہےکہ جو کیفیت اس وقت بھارت پر طاری ہے اس سے عمران خان کی کامیاب سفارتکاری کا احساس ہوتا ہے،
اپنے ٹویٹ میں وہ افواج پاکستان کے سپہ سالار کا بھی بڑی گرم جوشی سے ذکر کرتے ہیں، نوجوت اپنے سابقہ دورہ پاکستان کے دوران آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے گلے ملنے کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں وہ کہتے ہیں”تے باجوہ صاحب دی جپھی نے انڈین دا چین قرارلٹ لیا”وہ اس جپھی کو بھی بہت بڑی سمجھداری سے تعبیر کررہےہیں، اور کہتے ہیںکہ جو بے چینی اس جپھی نے بھارتیوںکے دلوں پر طاری کی ہے اس کا احساس دلی تک محسوس کیا جارہاہے،
نوجوت سدھو اپنے اس پیغام میںآخر میں کہتے ہیں کہ ان دو عظیم شخصیات کی ساجھے داری نے جو مقام اور عزت پاکستان کو دی ہے اورجو پاکستان کو سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے یہ پاکستانیوں کے نصیب کی بات ہے ، پاکستانی بڑے خوش قسمت ہیں کہ ان کو دو سمجھ دار لیڈروں کی قیادت نصیب ہوئی ہے جس نے آج بھارت کے اندر زلزلہ برپا کردیا ہے ،
ڈالر کی گراوٹ اور روپیہ کے استحکام کا سفر آہستگی سے جاری ہے.کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹر بینک میں ڈالر 4 پیسے سستا ہوگیا۔
فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 155.04 سے کم ہوکر 155 روپے کا ہو گیا ہے۔
2019 میں ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
واضح رہےگزشتہ چار ماہ کے دوران 155.50 روپے ڈالر کی نچلی ترین سطح ہے۔2019 میں بھی ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
اپریل 2019 میں ڈالر چھلانگ لگا کر 141 روپے 50پیسے پر آگیا۔ مئی میں 151 روپے اور جون میں تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا. اب تسلسل کے ساتھ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے.
عراق : بغداد اور بصرہ میں 10 مظاہرین ہلاک ، سیکورٹی فورسز کا الزام شرپسند عناصر پر لگا دیا گیا.
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق عراقی سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے بغداد میں کم از کم 6 اور بصرہ میں 4 مظاہرین کو موت کی نیند سلا دیا۔
تاہم عراقی سیکورٹی فورسز نے کا کہنا ہے کہ بصرہ میں عوام دھرنا ختم کرانے کی کوشش کے دوران بعض "گمراہ شرپسند” عناصر نے شہریوں اور سیکورٹی فورسز پر آتشی ہتھیاروں کے ذریعے حملہ کیا۔
عراق میں پرتشدد احتجاج کا نیا اس سلسلہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی جانب سے مظاہرین کو اپنی تحریک معطل کرنے کی درخواست کے ایک روز بعد شروع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مظاہرین کا مقصد حاصل ہوچکا ہے اور اب سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کا معیشت پر اثر پڑ رہا ہے اور ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے سرکاری اور نجی املاک کو مزید نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔
اسلام آباد :وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے گزشتہ روز پہلے ایک تقریب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے خاندان کا کوئی فرد آزادی مارچ میں شریک نہیں. لیکن باغی ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے سب سے چھوٹے بھائی عبیدالرحمان اور بیٹے اسجد محمود کارکنان جمعیت علماء اسلام کے ساتھ دھرنے میں شریک ہیں.بائیں طرف پہلے نمبر پر مولانا فضل الرحمان کے بھائی عبید الرحمن آزادی مارچ شریک ہیں مولانا فضل الرحمان کے بھائی عبید الرحمن کے ساتھ موجود جمعیت علماء اسلام ف کے رہنماء پیر عبدالشکور نقشبندی نے کہا کہ فواد چوہدری آزادی مارچ کے شرکاء کی دلجمعی دیکھ کر خوف میں مبتلا ہیں اور جھوٹے پروپیگنڈے پھیلا رہے ہیں. ہم اپنے قائد مولانا فضل الرحمان کے ہر حکم کے پابند ہیں اور مولانا فضل الرحمان کے خاندان کا ہر فرد جمعیت کا کارکن پے اور وہ مولانا کے ساتھ کھڑا ہے .مولانا فضل الرحمنمولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسجد محمود آزادی مارچ میں شریک کے بڑے صاحبزادے اسد محمود نے آزادی مارچ سے خطاب بھی کیا اور مولانا کے باقی بیٹے اور بھائی بھی موجود ہیں.