Baaghi TV

Author: +9251

  • سرگودھا جشن عید میلادالنبی کی تیاریاں

    سرگودھا (ادریس نواز سے) کے نواحی گاٶں چک نمبر 54 شمالی میں جشن عید میلادالنبی کی تیاریاں عروج پر۔ لوگوں نے گلی کوچوں اور گھروں کو لاٸٹنگ سے سجا لیا۔ اھل علاقہ کا یہ کہنا ھے کہ وہ ھر بار جشن عید میلادالنبی کی تیاریاں پر زور طریقے سے کرتے ھیں۔ خاص کر نور احمد اور محمد نواز بھٹی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سرگودھا کے علاوہ دور دراز کے علاقوں میں بھی یہی سماں ھیں۔ ھر طرف یہی گونج ھے ۔سوھنا آیا تے سج گٸے نے گلیاں بازار۔ یہ چیزیں ھمیں اپنے پیارے نبی ﷺ سے محبت اور چاھت کا ثبوت دیتی ھیں۔

  • پاک روس انتالیس سالہ تجارتی مسئلہ کیا تھا ؟ باغی سپیشل رپورٹ

    پی ٹی آئی حکومت نے پاک روس تجارتی تنازعہ حل کیا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی

    تفصیلات کے مطابق پاک روس تعلقان سرد جنگ سے سرد مہری کا شکار رہے ، اگرچہ سوویت یونین کے زوال کے بعد خطے کی جغرافیائی صورت حال مسلسل اس بات کے لیے موضع نہیں تھی کہ روس پاک تجارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کیے جاسکیں..سوویت یونین کے زوال اور افغان جنگ میں پاکستان چونکہ امریکی بلاک میں تھا اور روس کا سب سے بڑا دافع تھا اس لیے تزویراتی طور پر یہ سرد مہری عشروں تک محیط رہی . اب جب کہ بھارت روس کے کیمپ سے نکل کر امریکا کے بلاک میں چلا گیا ہے اور روس و چین مل کر دنیا میں ایک طاقت کےطور پر سامنے آرہی ہے.پاکستان کی لائن بھی روس کے ساتھ سیدھی ہوئی ہے، یوں جوں جوں ترجیحات اور مفادات کا تعین ہونے لگا وقت نے ایک بار پھر وہ کچھ دکھایا جو کہ ہونا تھا. پاکستان اور روس کے تعلقات میں حائل برف پگھلنے لگی اور تعلقات کی گرمجوشی عیاں ہونے لگی .
    اس دیر اور تاخیر کا آخر کار روسی صدر پیوٹن نے گلہ بھی کر دیا جب وزیراعظم عمران خان کی صدر پیوٹن سے ملاقات ہوئی ، پیوٹن نے کہا کہ آپ کی طرح پہلے بھی کوئی پاکستان کا حکمران روس کے قریب آنے کا انیشی ایٹو لیتا تو اب حالات مزید بہتر ہوتے .
    اب خبر یہ ہے .روس کی جانب سےپاکستان میں8ارب کی سرمایہ کاری کی راہ ہموارہوگئی. اس اقدام سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا . اور روس جیسا ایک اتحادی اس کے ساتھ کھڑا ہو گا جس کے اس ملک کے اندر مفادات ہوں گے . یوں پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت اور اجاگر ہوجائے گی .
    پاکستان کی روس میں کثیر ملکی فوجی مشقوں میں شرکت ،ڈی جی آئی ایس پی آر
    آخرکار اسلام آباد نے ماسکو کے ساتھ 39 سال پرانے برآمد کنندگان کے دعوؤں کا معاملہ سوویت یونین کے منتقلی کے بعد سے نمٹنے کے لئے معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جس سے روس کو پاکستان میں 8 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔

    پاکستانی حکومت نے روس میں اپنے سفیر کو معاہدے پر دستخط کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ معاہدے کے تحت ، پاکستانی حکومت چھ اکتوبر ، اور دسمبر 27 ، 2017 کو طے پانے والے معاہدے کے مطابق ، دستخط کرنے اور زیر التوا برآمد برآمد کنندگان کے دعووں کے 90 دن کے اندر 93.5 ملین ڈالر روس کو واپس کردے گی۔
    روس کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کی کوششوں کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی سابقہ ​​حکومت نے شروع کیا تھا اور آنے والی حکومت نے اس پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    روسی بینک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کردی ،عمران خان نے سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کرلیا

    ماسکو نے اسلام آباد کو آگاہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے توانائی کے شعبے اور پاکستان اسٹیل ملز میں 8 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ لیکن روسی قانون کے مطابق ، وہ ان ممالک میں سرمایہ کاری نہیں کرسکتا جن کے ساتھ تنازعات ہیں۔

    اس معاہدے سے روس پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکے گا۔

    کامرس ڈویژن کے مطابق ، 1980 کی دہائی میں اس وقت کی یو ایس ایس آر اور اس کی کمپنیاں پاکستانی کمپنیوں سے ٹیکسٹائل اور دیگر مواد خریدتی تھیں۔ بارٹر ٹریڈ کو با آسانی چلانے کے لئے ، سابقہ ​​یو ایس ایس آر نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) میں دو بینک اکاؤنٹ کھولے۔

    ان کھاتوں میں فنڈز اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ذریعہ اکنامک افیئرس ڈویژن (ای اے ڈی) نے جمع کروائے تھے۔ سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر ، کچھ برآمد کنندگان کو بلا معاوضہ مل گیا۔ اس کے علاوہ ، پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے غیر خریداری شدہ سامان کے دعوے بھی کیے گئے تھے کیونکہ انہوں نے سمندری فریٹ چارجز ادا کیے تھے۔

    پاکستان اور روس کی مشترکہ ملٹری مشاورت

  • دھرنے کے علاقے میں چوری کی وارداتیں بڑھ گئیں‌، فواد چوہدری

    اسلام آباد: مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے دھرنے والے علاقے میں چوری کی وارداتوں کے بڑھ جانے سے سوالیہ نشان اٹھناشروع ہوگئے ہیں ، اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب سے دھرنا شروع ہوا ہے دھرنے کے ارد گرد کے علاقوں میں چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    جب سے دھرنا شروع ہوا ، اطراف کے علاقوں میں چوریاں بڑھ گئیں، فواد چوہدری

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے لکھا کہ خواجہ آصف صاحب کی اس بات سے اختلاف مشکل ہے کہ جب سے دھرنا شروع ہوا ہے دھرنے کے ارد گرد کے علاقوں میں چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    خون سفید ہوگئے یا قانون بے اثر، والدین ہی بیٹی کے اغوا میں ملوث نکلے، قتل کرنا…

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ مولاناصاحب کب جارہےہیں؟ جس پر فواد چوہدری نے مزاحیہ انداز میں جواب دیتےہوئے کہا کہ پیامن بھائےگاتومولاناصاحب چلےجائیں گے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اسلام آبادمیں دھوپ ختم اور بارش کاموسم ہے، موسم اچھاہےاسی لیےمارچ والےبیٹھےہیں۔

    اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں، بھارت میں پاکستان کے جھنڈے لہرا دیئے…

  • اخوت کے زیراہتمام ای کریڈٹ سکیم کے تحت 500کاشتکاروں میں 3کروڑ روپے کے بلاسود قرضہ جات کے چیکس تقسیم

    فیصل آباد (محمد اویس)اخوت کے زیراہتمام ای کریڈٹ سکیم کے تحت 500کاشتکاروں میں 3کروڑ روپے کے بلاسود قرضہ جات کے چیکس تقسیم کئے گئے اس سلسلے میں ایک تقریب کمشنر کمپلیکس کی جامع مسجد میں منعقد ہوئی۔ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ڈائریکٹر زراعت چوہدری عبدالحمید،ریجنل مینجر اخوت خالد محمود،اسلم جاوید،ویلفیئر آفیسر تعلیمی بورڈ سردار بابر ڈوگر،چوہدری نذیر،چوہدری تنویر،خالد محمود شوق،احسان الہی،ڈاکٹر یاسین رندھاوا اور دیگر عہدیداران وکاشتکار بھی موجود تھے۔ڈویژنل کمشنر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت اور معاشی بھلائی کے لئے اخوت بڑاادارہ ہے جسے اپنے فلاحی منصوبوں کے باعث دنیا بھر میں خصوصی مقام حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ تجربہ اور زمین کے حامل کاشتکاروں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے جن کی فراہمی کے لئے اخوت نے قابل قدر بیڑااٹھایا ہے جس کی بدولت کسان اپنی فصلوں کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے قابل ہونگے۔انہوں نے کہا کہ وسائل سے محروم خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے چھوٹی سطح پربلاسود قرضوں کی فراہمی کا بڑا پروگرام شفافیت اور نیکی کے جذبے کے باعث کامیاب اور چراغ سے چراغ جلنے کا یہ سلسلہ جاری اورہمیشہ روشن رہنا چاہیے۔ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ فلاحی اورمہذب معاشرے کا تقاضا ہے کہ معاشی طور پر کمزور اور مستحق افراد کا ہاتھ تھاما جائے جس کے لئے سماجی تنظیم اخوت نے اپنے فلاحی منصوبوں سے معاشرے میں عظیم انقلاب برپا کیا ہے۔انہوں نے قرضہ حاصل کرنے والے کاشتکاروں سے کہا کہ وہ انتہائی نیک نیتی اور دیانتداری سے محنت کرکے اپنے روزگار میں اضافہ کریں اورایمانداری سے قرض واپس کریں تاکہ دیگر بھی اس مائیکرو فنانس سکیم سے فائدہ اٹھا کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔انہوں نے خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر خدمات انجام دینے والی اخوت کی پوری ٹیم کو مبارکباددی اور کہا کہ ڈویژنل انتظامیہ اس کارخیر میں ان کے شانہ بشانہ شریک رہے گی۔ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق قرضہ جات کی فراہمی سے کاشتکاروں کو معاشی ریلیف ملے گا۔انہوں نے کاشتکاروں سے کہا کہ وہ اخوت کی طرف سے قرضہ کی فراہمی کو احسن انداز میں بروئے کار لائیں۔ریجنل مینجر خالد محمود نے بتایا کہ 10ہزارروپے کے قرض حسنہ کی ادائیگی سے شروع ہونے والا سلسلہ اب 96،ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس سے ملک بھر کے 37لاکھ خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے 350شہروں میں اخوت کی 817برانچز کام کررہی ہیں اور ریکوری سو فیصد ہے۔انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد ڈویژن میں 3لاکھ 4ہزارخاندانوں سے مواخات کا رشتہ قائم ہے جن میں 8،ارب روپے بلا سود تقسیم کئے جاچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اخوت کے زیراہتمام ایجوکیشن پروگرام،تعلم بالغان،زرعی قرضہ جات،ٹیوٹا،خواجہ سراء سپورٹ پروگرام،اخوت کلاتھ بینک،اخوت فوڈ بینک،ہیلتھ اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دی جاری ہیں جبکہ سرگودھا،فاروق آباد اورلاہور میں تین فاؤنٹین ہاؤس بھی کام کررہے ہیں جہاں ذہنی امراض کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اخوت کا یہ انقلابی فلاحی سفر جاری رہے گا۔تقریب کے دوران سردار بابر ڈوگر،ڈاکٹر عبدالجبار،چوہدری نذیر احمد ودیگر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اخوت کے اقدامات کی بدولت غربت میں کمی اور سود کے خلاف جہاد میں کامیابی حاصل ہوگی۔انہوں نے اخوت کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قرض حسنہ لینے والوں کی کامیابی اوربرکت کے لئے دعا بھی کی۔اس موقع پر ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے کاشتکاروں کے قریب جا کر انہیں قرض حسنہ کے چیکس دئیے۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • خون سفید ہوگئے یا قانون بے اثر، والدین ہی بیٹی کے اغوا میں ملوث نکلے، قتل کرنا چاہتے تھے

    قصور : خون سفید ہوگئے یا قانون بے اثر ، اطلاعات کے مطابق قصور میں آٹھ سالہ بچی کے اغوا کا ڈرامہ پکڑا گیا، مغویہ کے والدین ہی واردات میں ملوث نکلے، بچی کو قتل کرنے کا ارادہ تھا، مخالفین کو مقدمے میں پھنسانے کے لئے ڈرامہ رچایا گیا، پولیس نے والد سمیت چار ملزمان گرفتار کرلیے۔

    بہت اچھا! یہ حرکتیں‌ تمہیں‌ زیب دیتی ہیں ، باربارکرو،آصف غفور کا ہندووں‌ کے نام پیغام

    قصور پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق گزشتہ روز مبینہ اغواء ہونے والی 8سال کی طیبہ کا ڈراپ سین ہوگیا، پولیس کا کہنا ہے کہ طیبہ بدھ کو علی پارک کے قریب سے لاپتہ ہوئی تھی۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ان کے لیے ٹیسٹ کیس تھا جسے کامیابی سے ہمکنارہوئے

    اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں، بھارت میں پاکستان کے جھنڈے لہرا دیئے گئے

    قصور میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کے پیش نظر پولیس نے اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا اور ہر پہلو سے تفتیش کی گئی۔پولیس کے مطابق سفاک والدین نے مخالفین کو پھنسانے کیلئے اپنی ہی بیٹی کے اغواء اور قتل کا منصوبہ بنایا، سفاک والدین نے آج اپنی ہی بچی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا تھا۔

    اسلام آباد میں‌ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ قائم ، دباو یا حکمت عملی

    پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فیصل آباد میں اس کے ماموں کے گھر سے آٹھ سال کی طیبہ کو بازیاب کرالیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ والد سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سیف سٹی کیمروں اورجدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کی گئی جس نے سارا پول کھول دیا۔

  • فیصل آباد ڈویژنل پبلک سکول وکالج میں آل پاکستان سکولز ایجوکیشنل اولمپیڈ مقابلوں کی تقریب اختتام پزیر

    فیصل آباد (محمد اویس)ڈویژنل پبلک سکول وکالج میں آل پاکستان سکولز ایجوکیشنل اولمپیڈ مقابلے جاری ہیں اس سلسلے میں مختلف تعلیمی اداروں کے طالب علموں کے مابین حسن قرات،نعت خوانی،نظم ونثر،شطرنج اوردیگر مقابلے ہوئے۔ریٹائرڈ ٹیچر ڈی پی ایس /ریڈیو صدا کار میڈم نگار نے پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کئے۔پروفیسر محمدنواز،قاری ظہیر بٹ،میاں محمود احمد ودیگر میں بھی طالب علموں میں انعامات وشیلڈز تقسیم کیں۔نثرونظم میں پی اے ایف کالج سرگودھا کے سید حسیب حیدر نے پہلی،بلوچستان ریذیڈنشل کالج لورالائی کے حافظ محمد قاسم نے دوسری،دانش بوائز سکول حاصل پور کے طلحہ حفیظ نے تیسری اور لاہور گرائمرسکول(بوائز)کے محمد موسی نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔اسی طرح شطرنج کے مقابلہ میں ڈی ایم سی کے محمد عریض پہلے،پی ایچ ایف کالج سرگودھا کے مومن علی دوسرے،ڈی ایم سی کے حنان اسلم تیسرے اور ڈی پی ایس اینڈ کالج کے روہید چوتھے نمبر پر رہے۔نعت خوانی میں دانش بوائز سکول حاصل پور کے ضمیر عمر نے اول،ڈویژنل ماڈل کالج کے بخاری نے دوسری،پی اے ایف کالج سرگودھا کے زبیر سعید نے تیسری،کیڈٹ کالج سرگودھا کے کیڈٹ ذیشان اور ساندل کالج کے محمد قاسم نے مشترکہ طور پر چوتھی پوزیشن حاصل کی۔میڈم نگار نے پوزیشن ہولڈرز طالب علموں کومبارکباد دی۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں، بھارت میں پاکستان کے جھنڈے لہرا دیئے گئے

    جالندھر :اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں، بھارتی پنجاب میں پاکستان کے جھنڈے ، ہندوستان میں‌ پہلے بھی ایک منی پاکستان ہے لیکن حقیقی پاکستان اس وقت بنتا ہوا نظر آرہا ہے جب وزیراعظم عمران خان کی کامیاب سفارتکاری نے بھارت میں نہ صرف پاکستانی فتح کے جھنڈے گاڈ دیئے بلکہ لہرا دیئے

    باغی ٹی وی کے مطابق کرتارپورراہداری کے بعد بھارتی پنجاب میں خصوصا اور پورے بھارت میں عموما اس وقت پاکستان زندہ باد اور پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے نظر آرہے ہیں، بھارتی پنجاب سے بآغی ٹی وی کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک بھارتی سکھ جالندھر کے علاقے وائٹ ڈائمڈا ، کیرو مولا کے ساتھ ملحقہ وجے کالونی میں پاکستانی پرچموں کے لہرائے جانے کے بارے میں بتابھی رہا ہے اور دکھابھی رہا ہے

    فوجی ہمارے اورخدمات آئی ایس آئی کے لیے ، بھارتی فوجی حکام پریشان

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی اس ویڈیومیں سکھ شہری یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کررہا ہےکہ لو جی بھارت کے اندر ایک اور پاکستان بن گیا ہے اور ہربھارت کے اس علاقے میں ہر طرف پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے نظر آرہے ہیں، ویڈو میں بتایا جارہاہےکہ جس محلے میں وہ سکھ کھڑا منظر کشی کررہا ہے وہاں بھی 8 سے 10 پاکستانی پرچم لہرائے جارہے ہیں

  • پاکستان کو کبڈی ورلڈ کپ کی میزبانی بھی مل گئی

    پاکستان کو کبڈی ورلڈ کپ کی میزبانی بھی مل گئی

    کبڈی ورلڈ کپ آئيندہ سال 12سے18 جنوری تک پاکستان میں کھیلا جائے گا . ٹورنامنٹ کے میچز لاہور فیصل آباد کرتار پور اور ننکانہ صاحب میں ہوں گے۔

    نيشنل ہاکي سٹيڈيم ميں پريس کانفرنس کرتے ہوئے فيڈريشن کے صدر چودھري شافع حسين نے بتائئِ انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے ليے ايک کروڑ روپے کي انعامي رقم رکھي گئي ہے رنراپ کو پچھتر لاکھ اور تيسر پوزيشن حاصل کرنے والي ٹيم کو پچاس لاکھ روپے دئيے جاہيں گے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ روايتي کبڈي ، سرکل سٹائل ميں ہوگا جس ميں نو ٹيموں نے شرکت کي تصديق کردي ہے۔ بھارت نے زبانی طور پر ایونٹ میں شرکت کا کہا ہے امید ہے تحریری طور پر بھی جواب آجائے گا۔ ليکن اس کي شرکت اس وقت کے حالات پر منصر ہوگي۔ جبکہ ٹورنامنٹ ميں پاکستان اور آزدبائیجان کی ويمن ٹيموں کا نمائشي ميچ بھي رکھا گيا ہے۔

  • ایں چہ بوالعجبی است ….از سید زید زمان حامد

    ایں چہ بوالعجبی است

    تحریر: سید زید زمان حامد

    کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب اور ظالم ہوسکتا ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ ہجرت فرمانا چاہیں اور وہ سیدیﷺ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے، اور لوگوں کو سیدیﷺ کے ساتھ ہجرت سے روکے اور یہ کہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں کو مکے میں ہی اکٹھے رہنا چاہیے؟

    کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب، گستاخ اور کافر ہوسکتا ہے کہ جو غزوئہ بدر کے موقع پر ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو اور سیدی رسول اللہﷺ کے لشکر اور مدینہ منورہ کی ریاست کے خلاف جنگ کرے؟

    اب ذرا دل تھام کر سنیں۔۔۔

    اوپر بیان کردہ دونوں ظلم عظیم اور گنائہ کبیرہ ہندوستان میں حسین احمد مدنی اور دارالعلوم دیوبند نے کیے اور کررہے ہیں۔ جب سیدی رسول اللہﷺ نے یہ فیصلہ فرمالیا کہ مدینہءثانی پاکستان نے قائم ہونا ہے اور مسلمانوں کو اس کی جانب ہجرت کرنی ہے تو سیدی رسول اللہﷺ کے حکم کو جاننے کے باوجو د حسین احمد مدنی اور دیوبند نے مشرکوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، مسلمانوں کو ہجرت سے روکا، اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مشرکوں کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہیں،اور پھر اس دن لیکر آج تک مدینہءثانی پاکستان کے خلاف تلواریں نکال کر جنگ آزما ہیں۔

    ذرا ایک لمحے کیلئے رک کر سوچیں کوئی تو وجہ تھی کہ درویش وقت اور موذن امت حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے حسین احمد مدنی اور دیوبند کو ”ابو لہب“ کہا تھا۔

    عجم ہنوز نداد رموزِِ دیں ورنہ
    ز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بو العجبی است
    سرود برسر منبر کہ ملت از وطن است
    چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
    بمصطفیٰ برساں خویش راہ کہ دیں ہمہ اوست
    اگر بہ او نرسیدی، تمام بو لہبی است

    ایک اور مقام پر علامہ اقبالؒ نے بہت واضح طور پر فرمایا کہ اپنی اسلام دشمنی میں دیوبند وہی کردار ادا کررہے ہیں کہ جو قادیانی امت رسولﷺ کے خلاف ادا کررہے ہیں۔

    ”قادیان اور دیوبند اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن دونوں کا سرچشمہ ایک ہے، اور دونوں اس تحریک کی پیدوار ہیں جسے عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے“۔ علامہ اقبال۔ ( کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

    جب بھی ہم دیوبند کی پاکستان دشمنی اور مشرک دوستی کی بات کرتے ہیں تو فوراً ہی اندھے گونگے اور بہرے ہم پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگانے لگتے ہیں۔ کچھ باتیں ذرا اچھی طرح سمجھ لیں۔

    -1 دیوبند اور بریلی ہندوستان میں قائم دو مدرسوں کے نام ہیں۔

    -2 دیوبند کسی مسلک یا فرقے کا نام نہیں بلکہ سنی حنفی مسلک کے ایک مدرسے کا نام ہے۔

    -3 بریلوی بھی مسلک کے اعتبار سے سنی حنفی ہیں۔ بلکہ پاکستان کی زیادہ تر اکثریت سنی اور حنفی ہے۔

    -4 ہم صرف دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسیوں کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ان کے مسلک سنی حنفی یا عقیدے کے خلاف کبھی بات نہیں کی۔

    -5 دیوبندیوں کے سیاسی جرائم کو بیان کرنے کو فرقہ واریت کہنا ایسی ہی جہالت اور بے شرمی ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے جرائم کو بیان کرنے کو لسانیت کہا جائے۔

    -6 جب ہم مدرسہءدیوبند کی اسلام دشمنی بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کی طرف سے فوراً ہی یہ اعتراض بھی ہوتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی ، علامہ شبیر احمد عثمانی بھی تو دیوبندی تھے اور انہوں نے قائداعظم کا ساتھ دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی نے مدرسہءدیوبند سے مکمل طور پر استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو الگ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں حضرات کو حسین احمد مدنی اور دیوبند کی جانب سے شدید مزاحمت اور ذلت و رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    علامہ شبیر احمد عثمانی نے دیوبند کی سیاسی تنظیم ”جمعیت علمائے ہند“ کے مقابلے میں اپنی ایک نئی مذہبی سیاسی جماعت ”جمعیت علمائے اسلام“ بنائی، اور پھر اس نئی جماعت کے ساتھ قائداعظم کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی کو دیوبندی کہنا اتنا ہی شرمناک بات ہے کہ جیسے کوئی قائداعظم کو کانگریسی کہے، کہ قائداعظم تقریباً سولہ برس تک کانگریس کے رکن بھی رہے تھے۔ لہذا یہ بالکل واضح کرلیں کہ جب پاکستان کے معاملے پر دیوبند میں اختلاف ہوا تو مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی دونوں ہی دیوبند سے الگ ہو کر تحریک پاکستان میں شامل ہوگئے تھے۔ دیوبند اس وقت بھی پاکستان کا مخالف تھا اور آج بھی مخالف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد علامہ شبیر احمد عثمانی کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو مفتی محمود جیسے کانگریسی مولویوں نے اغواءکرلیا تھا۔ اور آج تک یہی صورتحال ہے۔

    مفتی محمود پہلے جمعیت علمائے ہند کے کارکن تھے اور پھر انہوں نے جمعیت علمائے اسلام پر قبضہ کرلیا۔ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے ساتھ ملکر تحریک پاکستان کے خلاف زور لگایا۔ سرحد ریفرنڈم میں بھی اس شخص نے پاکستان کے خلاف جدوجہد کی۔ لیکن جب خان عبدالقیوم خان سرحد کے وزیراعلی بنےٰ تو مفتی محمود سرحد سے بھاگ کر ملتان آگئے۔ ان کے اس معروف فتوے سے آپ ان کی نیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں جو انہوں نے 1944 ءمیں دیا تھا: ”دنیا کی تمام قوموں سے رشتے ناطے جائز ہیں، لیکن کسی مسلم لیگی کو لڑکی دینا ناجائز ہے“۔ (اخبار آزاد، 5 اگست 1944)۔

    اسی مفتی محمود نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ”شکر ہے کہ ہم پاکستان کے بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے“۔ آج علامہ شبیر احمد عثمانی کی جمعیت علمائے اسلام کانگریسی ملاﺅں کے قبضے میں ہے کہ جس کی سربراہی آج مفتی محمود کا بیٹا فضل الرحمن کررہا ہے۔ پاکستان کے دیوبندیوں کی سیاسی قیادت، کہ جو آج پاکستان دشمن ہے، انہی ناپاک وجودوں کے ہاتھ میں ہے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے طالب علم آنے والے وقتوں میں سیاست سے کنارہ کش ہو کر صرف دینی کاموں میں ہی مشغول ہوگئے۔ لہذا اب یہ بات بالکل واضح ہوجانی چاہیے کہ دیوبند کا پاکستان بنانے میں کردار تو دور کی بات، یہ تو بابا اقبالؒ کی زبان کے وقت کے ”ابولہب“ ہیں۔

    ”انگریز دشمنی سے یہ کہاں لازم ہے آتا ہے کہ ہم اسلام دشمنی اختیار کرلیں۔ یہ کیا انگریز دشمنی ہے جس سے اسلام کو ضعف پہنچے۔ ارباب دیوبند کو سمجھنا چاہیے کہ اس دشمنی میں وہ نادانستہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو انگریزوں کا تجویز کردہ ہے۔“ علامہ اقبال ۔(کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

    -7 دیوبندی حضرات یہ بات بھی کرتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ہم نے پاکستان بننے کی مخالفت کی کہ اس بات پر اختلاف ہوسکتا ہے کہ مسجد بنائی جائے یا نہیں، لیکن اگر ایک دفعہ مسجد بن جائے تو پھر اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور پھر سب ملکر اس میں نماز پڑھتے ہیں۔ دیوبندی علماءکا یہ اعتراض بھی صرف جھوٹ اور خرافات پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو مشرکوں کی طرح دیوبند نے بھی آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا، ہندو مشرکوں کے ساتھ ملکر پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے باقاعدہ جنگ کررہے ہیں، اور ان کی بدنصیبی کہ آج کے دور کے خوارج بھی انہی کی صفوں سے برآمدہوئے ہیں۔

    دیوبند کی پاکستان میں نمائندگی جمعیت علمائے اسلام اور فضل الرحمن کرتا ہے۔ یہی دیوبند کے اصل نمائندہ ہیں اور انہی کا عمل دیوبند کی نیتوں اور اعمال پر حجت سمجھا جائے گا۔ فضل الرحمن کا پاکستان کو تباہ کرنے میں جو کردار ہے اور جہاد کشمیر کو فروخت کرنے میں جو اس کا ہاتھ ہے، اس کا بڑا تعلق اس کی اپنی ذلالت سے بھی ہے مگر اس کی اصل وجہ وہ حسین احمد مدنی کی ”ابولہبی“ سوچ ہے کہ جس سے متاثر ہو کر فضل الرحمن کے باپ نے یہ کہا تھا کہ شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔

    -8 آج پاکستان کی ریاست کے خلاف جو سب سے خوفناک مذہبی جنگ لڑی جارہی ہے وہ دیوبندی سوچ اور اس کے خوارج کی جانب سے ہے۔ نہ اس بات سے انکار ممکن ہے نہ مزید کسی ثبوت کی ضرورت، صرف جہالت، بے شرمی اور ڈھٹائی چاہیے اس حقیقت سے انکار کرنے کیلئے۔

    -9 برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں، تحریک پاکستان میں، اور اب پاکستان کو نقصان پہنچانے میں دارالعلوم دیوبند اور حسین احمد مدنی کی سوچ کا وہی کردار ہے کہ جو کسی ایسے بدنصیب بے غیرت کا ہو کہ جو سیدی رسول اللہﷺ کو ہجرت سے روکے اور غزوئہ بدر میں ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو۔ اگر دارالعلوم دیوبند پاکستان کی مخالفت نہ کرتا تو مزید لاکھوں مسلمانوں ہجرت کرکے پاکستان کی محفوظ پناہ میں پہنچ جاتے۔

    آج ہندوستان میں پندرہ کروڑ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کی روزانہ کی آمدنی 20 روپے روز سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں حال کا دلتوں اور شودروں سے زیادہ ذلیل ہوچکا ہے۔ بالکل کیڑے مکوڑوں کی طرح غلاظتوں کے ڈھیروں میں مسلمان اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس لیے ہورہا ہے کہ حسین احمد مدنی نے عین ہجرت کے موقع پر، عین میدان جنگ میں، امت رسولﷺ کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ تاریخ اب اس کا نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ نفرت کے ساتھ لیتی رہے گی۔

    یہ بات کتابوں سے ثابت شدہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کو سیدی رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی اور اس کے بعد ہی علامہ عثمانی دیوبند سے مستعفی ہو کر قائد کے خادم بن گئے تھے۔ یہ بات بھی تاریخ سے ثابت شدہ ہے کہ حسین احمد مدنی کو روحانی طور پر یہ بات بتا دی گئی تھی کہ پاکستان کے قیام کا فیصلہ سیدی رسول اللہﷺ فرماچکے ہیں، مگر اس کے باوجود بھی اس بدنصیب و بدبخت نے سیدی رسول اللہﷺ کے فیصلے کے خلاف کھڑے ہو کر جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ”حسین احمد مدنی نے قیام پاکستان سے قبل ایک رات دو بجے مولانا رشید احمد صدیقی اور انسپکٹر مدارس چوہدری محمد مصطفی کو طلب فرمایا۔ دونوں فوراً حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ بھائی اصحاب باطنی نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ہے اور پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کردیا گیا ہے۔ ان دونوں نے سن کر کہا کہ ہم جو تقسیم کے مخالف ہیں اب کیا کریں۔ اس پر حضرت مدنی نے فرمایا کہ یہ فیصلہ تقدیر کا ہے جب کہ ہم جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس کی تدبیر میں لگے رہیں گے۔“( کتاب: سیرت النبی بعد از وصال النبی،از عبدالمجید صدیقی، حصہ چہارم، صفحہ 298-299 )

    یہ ایسا گناہ ہے کہ جس کا کوئی کفارہ نہیں ہے، کوئی توبہ نہیں ہے، کوئی امید نہیں ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی سفارش نصیب ہوسکے۔ عین میدان جنگ میں کہ جب امت رسول ﷺ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑ کر، سب سے زیادہ قربانیاں دے کر، مدینہءثانی کو قائم کررہی تھی، عین اس وقت دیوبند اور اس کے بڑوں نے امت رسولﷺ کی پشت میں خنجر گھونپ کر مشرکین کا ساتھ دیا۔ اب یہ جتنی مرضی توبہ کرنے کا دعویٰ کرتے رہیں، توبہ کے دروازے ان پر بند ہیں۔

    ان کی بدنصیبی تو یہ ہے کہ آج مدینہءثانی پاکستان بننے کے ستر سال بعد بھی یہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کسی بھی جماعت یا مسلک کی نمائندگی ان کے علماءکرتے ہیں اور دیوبند کی جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان دشمنی میں، بھارت کی حمایت میں، اور خوارج کی پشت پناہی میں کیا کردار ہے اور اس کو اب مزید بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

    آخر میں پاکستان میں ان مسلمان نوجونوں کو ایک اہم نصیحت کرتے چلیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ دیوبند اور بریلوی دونوں ہی سنی حنفی مدارس ہیں، دونوں ہی ایک جیسی کتابیں پڑھاتے ہیں۔ دیوبندی یا بریلوی مدرسے میں سنی حنفی مکتبہءفکر کی تعلیم حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسی کو بھی اختیار کرلیں۔ پاکستان میں آج کسی بھی دینی طالب علم میں نہ دیوبند دیکھا ہے نہ بریلی۔ اپنے آپ کو دیوبندی اور بریلوی کہنا اتنا ہی احمقانہ ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے پاکستان میں پیدا ہوئے لڑکے اپنے آپ کو مہاجر کہلائیں۔ مہاجر وہ ہوتا ہے کہ جس نے ہجرت کی ہو۔ اصل میں دیوبندی وہ ہوگا کہ جو دیوبند میں پڑھا ہوگا اور اسکے سیاسی و عسکری نظریات سے متفق ہوگا۔

    پاکستان میں پڑھنے والے تمام طالب علم سنی اور حنفی ہیں اور ان کو ہر حال میں دیوبند کی سیاسی اور عسکری دہشت گردی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا، ورنہ وہ اسی صف میں کھڑے ہونگے کہ جہاں حسین احمد مدنی جیسے علمائے سُو کھڑے ہیں، دنیا میں بھی جن کا نام کانگریسی مولوی اور آخرت میں بھی یہ نہرو اور گاندھی کے ساتھ ہی اٹھائے جائیں گے۔

    اللہ ہمیں ایسے دردناک انجام سے محفوظ رکھے۔ اللہ پاک سرزمین کی حفاظت فرمائے، اللہ پاکستان کو فتنہءخوارج سے بچائے، اللہ ہمیں غزوئہ ہند کا مجاہد بنائے، اللہ پاک فوج کی حفاظت فرمائے اور سبز ہلالی پرچم کی آبرو محفوظ رکھے۔

    لبیک یا سیدی یا رسول اللہ
    لبیک غزﺅہ ہند

    ایں چہ بوالعجبی است ….از سید زید زمان حامد

  • چھتسویں نیشنل جونیئر ہاکی چیمپینشپ کے انعقاد کی تاریخ آگئی

    چھتسویں نیشنل جونیئر ہاکی چیمپینشپ کے انعقاد کی تاریخ آگئی

    چھتسویں نیشنل جونیئر ہاکی چیمپینشپ کے انعقاد کی تاریخ آگئی

    چھتسویں نیشنل جونیئر ہاکی چیمپینشپ 28 نومبرسے 8 دسمبر 2019 تک نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہورمیں منعقد ہورہی ہے۔
    اس چیمپین شپ میں تمام صوبائی اور ڈیپاڑٹمنٹل ٹیمیں حصہ لیں گی۔

    اس چیمپین شپ میں یکم جنوری 1999 کو یا اس کے بعد پیدا ہونے والے کھلاڑی حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ پی ایچ ایف نے کھلاڑیوں کی عمر کی تصدیق اور جانچ پڑتال کے لئے “ایج کریڈینشل چیک کمیٹی” اور مقامی نادرا کے عملے کا تقرر کیا ہے بون ٹیسٹ اورچہرے کی جانچ پڑتال بھی کریں گے ، جس کے بعد زیادہ عمر کے کھلاڑیوں کو نااہل یا اہل کرنے کافیصلہ کیا جاے گا۔

    کمیٹی مندرجہ ذیل ممبروں پر مشتمل ہے،جناب منظور حسین جونیئر.خواجہ محمد جنید.لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد آصف ناز کھوکھر

    ڈاکٹر سید اسد عباسچیمپین شپ ایف آئی ایچ کے جاری کردہ / ٹورنامنٹ ریگولیشن کے مطابق کھیلی جائے گی جو پی ایچ ایف کے قواعد کے تحت نافذ کیے جاتے ہے