Baaghi TV

Author: +9251

  • خسراجسم کے دفاعی نظام کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے،ماہرین طب کی تحقیق

    ہالینڈ: خسرا جان لیوابیماری ، یہ ان چند موذی بیماریوں میں سے ایک ہے جس کا علاج پاکستان میں پیدائش سے شروع ہوجاتا ہے، اس بیماری پر اچھی طرح قابو پایا جاچکا تھا تاہم دو تین سال سے یہ پھر دنیا میں نئے جوش کےساتھ پیدا ہورہی ہے، خسرے کے دوبارہ سر اٹھانے پر ماہرین طب نے اس پر تحقیقات شروع کردی ہیں،

    جوبھی کشمیریوں‌کی حمایت کرے،اس کی چھٹی کروا دی جائے، بھارت

    تٍفصیلات کےمطابق ہالینڈ میں کئے گئے دو اہم مطالعات سے معلوم ہوا ہےکہ بچوں میں خسرہ کی بیماری ان پر طویل اثرات مرتب کرتی ہے یہاں تک کہ ان کا فطری امنیاتی نظام کمزور ہوکر دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

    یہ ایک پریشان کن خبر ہے کیونکہ یورپ اور افریقہ میں 2006 کے بعد سے خسرے کے واقعات میں کئ گنا بڑھے ہیں۔ صرف 2017 میں ہی پوری دنیا میں خسرے کے 70 لاکھ مزید کیس سامنے آئے ہیں۔ لیکن 2018میں ان کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے ۔

    جوکشمیریوں‌ کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس کی وجہ ویکسین سے بیزاری کی اس حالیہ لہر کو قرار دیا ہے جو ایشیا سے لے کر یورپ تک جاری ہے۔ تاہم غریب ممالک میں ویکسین کی رسائی اور نقل و حمل کے اپنے مسائل بھی موجود ہیں۔

    2015 میں ایک سائنسداں ڈاکٹر مائیکل مینا نے نے ایک سروے کےبعد کہا تھا کہ جو بچے خسرے کے شکار ہوتے ہیں وہ آگے چل کر دیگر کئی امراض کے شکار ہوتے ہیں اوران میں سے نصف تعداد کسی اور بیماری کے انفیکشن کی شکار ہوکر مرجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017 میں ایک لاکھ بچوں کی اموات خسرے یا اس کے بعد کسی اور مرض میں مبتلا ہونے سے واقع ہوئی ہیں۔ لیکن ماہرین کے خیال میں اس کی شرح بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ خسرے بچے کے جسم میں ان خلیات کو ختم کردیتے ہیں جو مختلف امراض کے جراثیم کے ردِ عمل میں ان سے لڑنے کی اینٹی باڈیز بناتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا ۔

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    پروفیسر مائیکل نے ہالینڈ میں 77 بچوں کو منتخب کیا جنہوں نے خسرے کے خلاف ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔ کئی ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ یہ بچے اپنے جسم میں خسرے سے قبل کئی امراض کے خلاف اینٹی باڈیز بنارہے تھے لیکن خسرے میں مبتلا ہونے کے بعد ان میں اینٹی باڈیز کا کوٹہ ختم ہوگیا جس کی شرح 11 سے 74 فیصد تھی یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسمانی دفاعی نظام 74 فیصد کمزور ہوچکا تھا۔

    ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ ان بچوں کو دوبارہ خسرے کی ویکسین دی جائے تاکہ امنیاتی نظام پیدا ہوسکے۔یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم کے ایک اور سائنسداں پروفیسر کولِن رسل نے ایسی ہی کیفیت میں مبتلا 20 بچوں کے ڈی این اے کا جائزہ لیا۔ ان کے جسم میں امنیاتی خلیات بے حس اور بے کار بیٹھے تھے اور کسی بھی بیماری سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔اس اہم تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خسرہ جیسا مرض بچوں کو کئی امراض کا شکار کرسکتا ہے اسی لیے اس مرض کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

  • تیونس کے ٹی وی چینل کا مالک کس جرم میں گرفتار …

    تیونس میں ایک ٹی وی چینل "الحوار التونسی” کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے جس پر حکومت کی جانب سے الزامات ہیں کہ انہوں نے سرکاری عہدے کو ذاتی مفادات کےلیے استعمال کیا ہے اور اس کے علاوہ ملکی قوانین کی کی خلاف ورزی کی ہے .ساتھ ساتھ منی ، لانڈرنگ اور بد عنوانی کے الزمات بھی ہیں.
    تیونس میں سرکاری استغاثہ نے منگل کی شب "الحوار التونسی” ٹی وی چینل کے مالک سامی الفہری کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کر دیے۔ الفہری پر بدعنوانی، منی لانڈرنگ، سرکاری ملازم سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہونے کا شُبہ ہے۔

    تیونس میں Financial Judicial Pole کے ترجمان سفیان السلیطی کے مطابق چینل مالک سامی الفہری کو تحقیقات کے لیے پانچ روزہ ریمانڈ پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل تیونس کے حکام نے سامی الفہری اور ان کی اہلیہ اسماء الفہری کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔

    واضح رہے کہ سامی الفہری نے 2011 میں "التونسيۃ” کے نام سے ایک چینل قائم کیا تھا۔ بعد ازاں چینل کا نام بدل کر "الحوار التونسی” کر دیا گیا۔ الفہری ماضی میں بلحسن الطرابلسی کے شراکت دار رہ چکے ہیں جو تیونس کے مرحوم سابق صدر زین العابدین بن علی کے داماد ہیں۔ الطرابلسی اس وقت فرانس میں موجود ہیں.، سامی الفہری پر اس سے پہلے بھی اس جیسے الزامات کے سلسلے میں جیل میں رہ چکے ہیں ..تیونس کے سابق صدر بن علی کے دور میں جرائم کا ارتکاب کیا تھا.

  • بابا گرونانک یونیورسٹی اعلان سے قیام تک،علوم سے فنون تک،سکھوں کےجنون تک

    لاہور:بابا گرونانک یونیورسٹی کا قیام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ جس کی تعمیر پر 6 ارب روپے لاگت آئے گی اور اسے 3 فیز میں مکمل کیا جائے گا۔ نیز ننکانہ صاحب میں 7 ارب سے زائد کے 21 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    بابا گرونانک یونیورسٹی کا قیام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ جس کی تعمیر پر 6 ارب روپے لاگت آئے گی اور اسے 3 فیز میں مکمل کیا جائے گا۔ نیز ننکانہ صاحب میں 7 ارب سے زائد کے 21 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ سالوں کے دوران یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم یا کسی دیگر اعلیٰ عہدیدار نے بابا گرونانک کے نام سے ننکانہ صاحب میں یونیورسٹی کے قیام کی بات کی ہو بلکہ ایک بار تو پنجاب حکومت یونیورسٹی کی منظوری دیتے ہوئے اس کے لیے اراضی بھی مختص کر چکی ہے۔

    گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے شعبہ پنجابی میں تدریسی فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر کلیان سنگھ کا تعلق ننکانہ صاحب سے ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران انہوں نے کئی حکومتی اعلیٰ عہدیداروں کو یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اور اراضی منظور کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اس بار زیادہ پرُجوش دکھائی نہیں دیتے۔

    کلیان سنگھ کے مطابق بابا گرونانک یونیورسٹی کے قیام کا اعلان اب تک پاکستان کے چھ وزرائے اعظم جبکہ تین وزرائے اعلیٰ کر چکے ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’گرونانک یونیورسٹی کے قیام کا اعلان سب سے پہلے 2006 میں اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے لاہور کے پی سی ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا تھا۔

    ان سے قبل مشرف دور کے پہلے وزیراعظم ظفراللہ خان جمالی کے بعد عبوری وزیراعظم بننے والے چوہدری شجاعت حسین بھی یونیورسٹی کے قیام کی بات کرچکے تھے۔‘مشرف دور میں پنجاب کی حکمرانی گجرات کے چوہدریوں کی مسلم لیگ (ق) کے پاس تھی۔ کلیان سنگھ کے بقول 2008 میں حکومت کے خاتمے سے قبل اس وقت کے وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ نے بھی یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کر دیا۔ جس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ الیکشن میں ننکانہ صاحب سے اپنے امیدوار کی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے تھے۔

    ڈاکٹر کلیان سنگھ کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی کا دور شروع ہوا تو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گرونانک یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا تاہم بات اعلان سے آگے نہ بڑھ سکی۔‘ننکانہ صاحب میں گذشتہ تین دہائیوں سے صحافت کر رہے افضل حق کاکہنا ہے کہ ’2014 میں نواز شریف ننکانہ صاحب آئے تو انہوں نے اعلان کیا کہ سکھوں سے کیا گیا یونیورسٹی کا وعدہ وہ پورا کریں گے۔ ان کے بعد اس وقت کے وزیراعلی پنجاب نے بھی یونیورسٹی کے قیام کے لیے فنڈر دینے کا اعلان کیا اور نواز شریف کی جگہ وزیراعظم بننے والے شاہد خاقان عباسی نے بھی یہی بات کی مگر عملدرآمد نہ ہوسکا۔‘

    2016 میں پنجاب حکومت کی جانب سے بابا گرو نانک انٹرنیشنل یونیورسٹی بنانے کی منظوری دیتے ہوئے اس کا سنگِ بنیاد رکھنے کااعلان کیا گیا اور اس کے لیے ننکانہ صاحب میں مانانوالہ روڈ پر ایک سو مربع رقبہ بھی مختص کیا گیا تاہم یونیورسٹی کے لیے مختص کی گئی جگہ پرکاشتکاری کرنے والے مزارعین نے انہیں متبادل جگہ فراہم کیے بغیرسنگ بنیاد رکھنے پرشدید احتجاج کیا جس کے بعد یونیورسٹی کے قیام کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

    بالآخریہ اعزاز بھی تحریک انصاف کی حکومت کے حصے میں‌آیا اور وزیراعظم عمران‌ خان نے اس یونیورسٹی کا افتتاح کرکے ایک سفارتی جنگ بھی جیت لی اور سکھوں‌کا اعتماد بھی بحال کردیا، ویسے بھی یہ یونیورسٹی صرف سکھوں کے لیے مخصوص نہیں‌بلکہ اس میں تمام پاکستانی تعلیم حاصل کریں گے ، عمران خان کے دلیرانہ فیصلے کے بہت مثبت اثرات مرتب ہورہےہیں اور یہی وجہ ہے کہ عین اس وقت جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت کشیدگی ہے اور جنگی کیفیت برپا ہے ، عمران خان کی کامیاب سفارتی کی وجہ سے اب بھارت میں وزیراعظم عمران خان زندہ باد کے نعرے گونچ رہے ہیں‌ جس نے دہلی کے درودیوار ہلا کررکھ دیئے ہیں‌

    یونیورسٹی میں بہت سے علوم کی تعلیم دی جائے گی تفصیلات کے مطابق ’اس یونیورسٹی میں طالب علموں کو دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ خالصہ اور پنجابی بھی پڑھائی جائے گی۔‘

    سکھوں کے علاوہ کوئی بھی باہر سے آکر یہاں اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر سکے گا اور یہاں باہر سے آنے والوں کے لیے ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے شہر سے باہر آنے والے طالب علموں کے ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ وہ یہاں آ کر رہ سکیں۔

    یونیورسٹی میں پانچ شعبہ جات قائم کیے جائیں گے۔ ان میں مذہب و عقائد، لبرل آرٹس اور سائنس، فنِ تعمیر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جنوبی ایشیائی علوم شامل ہیں۔ پنجابی اور خالصہ زبانیں سکول آف لبرل آرٹس اور سائنسز میں پڑھائی جائیں گی۔

    ’سکول آف تھیالوجی میں صوفی ازم، روحانیت اور بابا گرو نانک کی تعلیمات کے حوالے سے پڑھایا جائے گا اور دنیا بھر میں یہ یونیورسٹی روحانیت کی تعلیم کے حوالے سے جانی جائے گی۔‘ دوسرے ممالک میں سکھ کمیونٹی کے لوگوں نے اس پراجیکٹ میں فنڈنگ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں 10 ہزار طالب علم تعلیم حاصل کر سکیں گے۔جبکہ یونیورسٹی کے ہر شعبہ تعلیم کے لیے ہم دنیا بھر کے ماہرین کو مدعو کریں گے تاکہ وہ اپنی ماہرانہ رائے دے سکیں۔

    ’اس یونیورسٹی کے قیام سے علاقے کے لوگوں کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ دنیا بھر کے لوگ، خصوصاً سکھ برادری، اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے ننکانہ صاحب آئیں گے۔‘بابا گرو نانک یونیورسٹی کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے جس کے لیے انھیں پنجاب حکومت کی جانب سے دو ارب روپے کی پہلی قسط مل چکی ہے۔

    یونیورسٹی کی باہر کی دیوار تعمیرہوچکی ہے جبکہ اس یونیورسٹی کی تعمیر و تکمیل مکمل ہونے میں تین سال کا عرصہ درکار ہے۔‘’یونیورسٹی کا نقشہ سکھوں کے طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔‘ تعمیر کے بعد ہی پڑھنے کی خواہش رکھنے والے طالب علم یہاں داخلہ لے سکیں گے۔

  • جوبھی کشمیریوں‌کی حمایت کرے،اس کی چھٹی کروا دی جائے، بھارت کا اپنے ہی افسران پرجبری وار

    نئی دہلی:جوبھی کشمیریوں‌کی حمایت کرے،اس کی چھٹی کروا دی جائے، بھارت کا اپنے ہی افسران پرجبری وارکرنے شروع کردیئے ہیں‌، اطلاعات کے مطابق بھارتی سول سروس (آئی اے ایس)کے ایک سابق افسر کنن گوپناتھن نے بدھ کے روز دعوی کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اظہار رائے کی آزادی سے انکار پر نوکری چھوڑنے کے دو ماہ بعد ان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔

    سڑک حادثے میں پانچ افراد ہلاک

    گوپناتھن نے ایک ٹویٹ میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو رد کیا اور ساتھ ہی چارج شیٹ کے ذریعہ وزارت داخلہ کوانہیں نشانہ بنانے پر بھی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر وزیر داخلہ امیت شاہ کو اصلیت بتاسکیں۔

    جوکشمیریوں‌ کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا

    بھارتی سول سروس (آئی اے ایس)کے ایک سابق افسر کنن گوپناتھن نے کہا ہے کہ ، "وزارت داخلہ نے نے مجھے چارج شیٹ ای میل کی۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ہونا ہی تھاکیونکہ آپ اپنی ناک کے نیچے وکلا اور پولیس کے مابین ہونے والے معاملات کو سنبھالنے سے قاصر ہیں۔”

    کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین سے اضافی رقم لی جانے لگی

  • یمن کے امن معاہدے کو اقوام متحدہ کس نظر سے دیکھتی ہے

    اقوام متحدہ نے بھی یمن کے امن معاہدے پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض معاہدہ کو خوش آئند کہا ہے . یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان منگل کے روز ریاض معاہدے پر دستخط ،،، یمن میں تنازع کے پُر امن تصفیے تک پہنچنے کی کوششوں کے حوالے سے ایک اہم اقدام ہے۔

    گریفتھس یہ بات ایک بیان میں کہی جس کی کاپی العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی موصول ہوئی۔ گریفتھس نے اس سمجھوتے کے طے پانے کے لیے کامیاب وساطت پر سعودی عرب کے لیے ممنونیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کو مبارک باد پیش کی۔
    یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان معاہدہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کروایا ہے ان کا کہنا تھا کہ "ریاض معاہدہ” یمن کے سیاسی حل کی جانب قدم بڑھے گا، محمد بن سلمان نے کہا کہ معاہدے سے یمن میں استحکام کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

  • جوکشمیریوں‌ کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا

    لندن:جوکشمیریوں‌ کا حامی ہو اسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا ، اطلاعات کے مطابق 12 دسمبر کو برطانیہ میں ہونے والے انتخابات سے پہلے ، بی جے پی کابیرون ملک ایک حامی گروپ ،بھارتی باشندوں کو لیبر پارٹی کو کو ووٹ نہ دینے اورقدامت پسندوں کی حمایت کرنے پر مجبور کررہا ہے۔

    کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم…

    اوورسیز فرینڈز آف بی جے پی کے صدر کلدیپ سنگھ شیخوات نے سردیوں کے انتخابات میں "لیبر پارٹی کو ووٹ نہ ڈالنے” کے لئے مندروں ، گرودواروں اور کمیونٹی تنظیموں کے توسط سے ہندوستانی باشندوں کو متحرک کرنے کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔القمرآن لائن کے مطابق لیبر پارٹی نے 25 ستمبر اپنی پارٹی کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں "کشمیر میں بین الاقوامی مداخلت اور اقوام متحدہ کے زیرقیادت رائے شماری کے مطالبے کی حمایت کی گئی تھی۔”

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    ذرائع کے مطابق وریندر شرما اور بیری گارڈنر جیسے لیبر ارکان اسمبلی نے ان کی پارٹی کے اس اقدام پر "مایوسی” کا اظہار کیا۔ ہندوستانی لیبر ارکان پارلیمنٹ اور ہندوستانی باشندوں نے اس معاملے پر "تشویش” کا اظہار کیا ہے۔شیخوات نے کہا کہ اب ہم کنزرویٹو کی حمایت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہے ۔ برمنگھم میں مقیم تحریک کشمیر یوکے کے صدرراجہ فہیم کیانی نے کہا کہ ان کے نزدیک ، "مسئلہ کشمیر یہاں انتخابات کا فیصلہ کن عنصر ہے۔”

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

  • سڑک حادثے میں پانچ افراد ہلاک

    جموں:مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع رام بن میں جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ایک حادثے میں دو خواتین سمیت پانچ مسافر موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق کے قومی شاہراہ ایک نجی کار Swift dzire شام قریب ساڑھے سات بجے جموں سے سرینگر کی طرف جارہی تھی کہ پیٹھال کے مقام پر دوسری گاڑی سے اوور ٹیک کرتے ہی سڑک سے پھسل کر گہرے نالے میں جاگری۔

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    جس کے نتیجہ میں دو خواتین سمیت پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق حادثے کی خبر ملتے ہی پولیس اور مقامی رضاکاروں نے بچاو مہم شروع کر کے لاشوں کو ضلع ہسپتال رامبن منتقل کیا۔رامبن پولیس نے معاملہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

    کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم…

    حادثے میں مرنے والوں کی شناخت وکرم سنگھ (29) ولد دھرم سنگھ ساکنہ کٹھوعہ، سنسار سنگھ (33) ولد اوتم سنگھ ساکنہ ہرہ نگر کٹھوعہ،سنیل کمار (29) ولد وجے کمار ساکنہ سامبہ، اوتار سنگھ (25)ولد رام سنگھ ساکنہ جموں کے طور ہوئی جبکہ ایک لاش کی شناخت نہیں ہو سکی۔

    کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین سے اضافی رقم لی جانے لگی

  • عراق میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر امریکا نے کیا کہہ دیا

    عراق میں جاری خون ریز احتجاج پر اس وقت عالمی دنیا کی توجہ بھی مبذول ہو چکی ہے. بغداد میں امریکی سفارت خانے نے عراقی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں احتجاج کرنے والوں اور مظاہرین کی ہلاکت اور اغوا کی شدید مذمت کی ہے۔

    ہفتوں سےجاری احتجاج اور مظاہروں نے عراق کے بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اور یہ احتجاج اب خون ریز ہو چکا ہے. اس حتجاج میں عراقی سکیورٹی ایلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے قتل اور غوا کا معاملہ اب کافی زیر بحث ہے . بدھ کے روز جاری ایک بیان میں سفارت خانے نے کہا "ہم نہتے احتجاج کنندگان کے قتل، اغوا، آزادی رائے کو درپیش خطرے اور تشدد کی موجودہ لہر کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ عراقی عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کے حوالے سے فیصلے کے سلسلے میں آزاد ہونا چاہیے”۔

    امریکی سفارت خانے نے زور دیا کہ عراقی حکومت اور سیاسی قیادت پر لازم ہے کہ وہ اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے عراقی شہریوں کے ساتھ جلد اور سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کو یقینی بنائیں۔ بیان میں باور کرایا گیا کہ "عوام کے ارادے کو کچلنے سے عراق کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا

    عراق میں‌ ہمسایہ ملک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم زور پگڑ گئی

    عراق، فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 100تک جا پہنچ

  • کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین سے اضافی رقم لی جانے لگی

    سری نگر:کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین کسے اضافی رقم لی جانے لگی ، اطلاعات کے مطابق بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل)کے صارفین نے الزام لگایا ہے کہ ‘انہیں لینڈ لائن کنکشن نصب کرانے کے لیے نہ صرف بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے بلکہ ہفتوں تک انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔’

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    یہ بات بھی قابل غور ہےکہ وادی میں پانچ اگست کو مواصلاتی ذرائع پر پابندی عائد ہونے کے قریب ایک ماہ بعد لینڈ لائن سروس کو بحال کیا گیا تھا جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے بی ایس این ایل کے دفاتر میں لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے درخواستیں جمع کی تھیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق بی ایس این ایل کے صارفین کے ایک گروپ نے کہا کہ متعلقہ کمپنی کے لائن مین، لینڈ لائن نصب کرنے کے لیے بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔

    ساؤتھ ایشین وائرسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے تمام واجبات ادا کئے ہیں ۔ لائن مین، لینڈ لائن نصب کرنے کے لیے ایک ہزار سے دس ہزار روپے تک کا مطالبہ کرتے ہیں اور رقم ادا کرنے کے بعد بھی دو دن کا کام پندرہ دن گزر جانے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہوپا رہا ہے۔’

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    ایک صارف غلام نبی نے کہا کہ ‘بی ایس این ایل کا فیلڈ عملہ لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے میں کوئی پس وپیش نہیں کررہا ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘جب لینڈ لائن سروس بحال ہوئی تو لوگ لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے بے تاب ہوگئے جس کا فیلڈ عملے نے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، وہ لوگوں سے کنکشن کے لیے منہ مانگی رقم وصول کررہے ہیں’۔

    ایک صارف غلام رسول شاہ نے کہا کہ ‘لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے لوگوں کی بھیڑ میں ہورہے۔ اضافے کو دیکھ کر متعلقہ دفاتر کے باہر ‘ایجنٹ’ بھی نمودار ہوئے۔’انہوں نے کہا کہ ‘جوں ہی لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے لوگوں کی بھیڑ میں اضافہ ہونے لگا تو متعلقہ دفاتر کے باہر ایجنٹ نمودار ہوئے جو فارم جمع کرنے میں ایک ہزار سے پندرہ سو روپے وصول کرتے ہیں جبکہ خود فارم جمع کرنے کے صرف پانچ سو روپے لگتے ہیں’

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

    صارف غلام رسول شاہ نے کہا کہ ‘یہ ایجنٹ بی ایس این ایل کے سم کارڑ بھی مقررہ ریٹ سے کافی مہنگے داموں فروخت پر کرتے ہیں۔’ ‘کئی کیسز میں ایسا بھی ہوا کہ حکام نے لینڈ لائن نصب کرانے کے احکامات جاری کیے لیکن موقع پر حالات اس کے برعکس تھے۔۔

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    بی ایس این ایل کے جنرل مینیجر نذیر احمد نے ساؤتھ ایشین وائرسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘وہ ان کی نوٹس میں لائی جانے والی شکایات کو دیکھیں گے۔’قابل ذکر ہے کہ بی ایس این ایل مالی بحران سے دوچار ہے لیکن وادی میں مواصلاتی نظام پر پابندی کے بعد جب لینڈ لائن سروس بحال ہوئی تو ہزاروں لوگوں نے لینڈ لائن کنکشن کی فراہمی کے لیے درخواستیں جمع کیں جس سے کمپنی کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچا۔

    کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم

  • جیل میں سزائے موت کے منتظر قیدی امجد علی کو آج تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

    بھیرہ۔سرگودھا جیل میں سزائے موت کے منتظر قیدی امجد علی کو آج تختہ دار پر لٹکا دیا گیا میڈیکل بورڈ کے ڈاکڑ نے موت کی تصدیق کے بعد میت ورثاء کے حوالہ کر دی امجد علی کو تحصیل بھیرہ کے نواحی گاؤں کیسپور آہلی میں سپردخاک کیا جائے گا یاد رہے تحصیل بھیرہ کے قصبہ کیسو پور آہلی میں چودہ سال پہلے 15اپریل 2005 کو امجد علی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسجد کے قریب سرعام فائرنگ کر کے محمد اسلم کو قتل کردیااور انتقام کی آگ نہ بجھنے پر مقتول کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اس کے بھائی محمد رمضان اور اسکی بہن کوثرپروین کو بھی فائرنگ کرکےموت کے گھاٹ اتار دیا وقوعہ میں قتل ھونے والوں کی ایک بہن بشیراں بی بی بھی مضروب ھوئی تھی تھانہ بھیرہ میں تہرے قتل کے مقدمہ میں دہشتگردی،قتل،اقدام قتل،109 ت پ سمیت مختلف دفعات کے تحت 9 افراد کے خلاف مقدمہ جرج ھوا اس مقدمہ کی تفتیش کے دوران چھ ملزمان بے گناہ قرار دیئے گیئے اور تین ملزمان کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا . انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج گل شاد حسین علوی نے ملزم امجد علی کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ جس کے خلاف عدالت عدلیہ اور عدالت عظمی سے اپیلیں خارج ھونے پر صدر مملکت کے پاس رحم کی اپیل دائر کی گئی جسے مسترد کردیا گیا تھا