Baaghi TV

Author: +9251

  • ملکہ حسن 2019 کا تاج بنگلادیشی طالبہ کے نام

    ڈھاکہ:اس دفعہ مس یونیورس کا اعزاز بنگالی لڑکی کے حصے میں آیا ، اطلاعات کے مطابق مس یونیورس کے مقابلے میں پہلی بار حصہ لینے والی بنگلادیشی طالبہ نے ملکہ حسن 2019 کا تاج اپنے سرپر سجالیا۔غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلادیشی دارالحکومت ڈھاکا میں گزشتہ ہفتے انٹرنیشنل کنونشن سٹی بسندھار میں مقابلۂ حسن کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔

    باپ نے بیٹی کو زندہ دفنا کر مار ڈالا

    رپورٹ کے مطابق شیرین اختر شیلا کو فائنل میں جیوری کی جانب سے 68ویں مس یونیورس کے اعزاز سے نوازا گیا اور ان کی تاج پوشی بھی کی گئی۔ شیرین اختر شیلا نے کسی بھی مقابلۂ حسن میں پہلی بار حصہ لیا اور کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔مس یونیورس منتخب ہونے والی خاتون فزکس تھرڈ ایئر کی طالبہ ہیں۔

    حلوہ بھی کھلادو،بات بھی بنادو،ساتھی چھوڑ گئے ہیں، رابطہ کرادو،مولانا چوہدری شجاعت…

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق ملکہ حسن کا کہنا تھا کہ ’’مجھے اس اہم موقع کا حصہ بننے پر بہت خوشی ہے، آج ہم نے تاریخ رقم کی اور آپ جانتے ہیں کیوں؟ آج پہلی بار بنگلادیش کی نمائندگی ہوئی اور یہ اعزاز اُن کو ہی ملا‘مقابلہ حسن میں نیپال، بھارت اور سرلنکا نے حصہ لیا جبکہ پاکستان نے مس یونیورس کے مقابلے میں شرکت نہیں کی۔

    حکومت سنتی نہیں‌،اپوزیشن ساتھ چلتی نہیں‌، مولانا

  • سن لیں !مولانا صاحب جلدی جانے والے ہیں، فیصل واوڈا کا دعویٰ

    اسلام آباد:پشین گوئیاں طاقت پکڑنے لگیں ، دوسری طرف وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ مولانا صاحب جلدی جانے والے ہیں ان کا جانا اچھی چیز ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے پروگرام ’پاور پلے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مارچ نے پی ٹی آئی کو مضبوط کردیا ہے، 20 سے 25 ہزار لوگ 22 کروڑ عوام کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔

    حلوہ بھی کھلادو،بات بھی بنادو،ساتھی چھوڑ گئے ہیں، رابطہ کرادو،مولانا چوہدری شجاعت…

    پاکیستان تحریک انصاف کے سنیئر رہنما اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی ف کی سوچ میں فرق ہے، چاہتے ہیں مسائل مذاکرات کی میز پر حل کیے جائیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفے اور ری الیکشن پر نہیں جارہے ہیں، خواہش ہر انسان کی ہوتی ہے، خواہشات پر ملک کو نہیں چلایا جاسکتا ہے۔

    حکومت سنتی نہیں‌،اپوزیشن ساتھ چلتی نہیں‌، مولانا

    ذرائع کے مطابق فیصل واڈا نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا، ملک دیوالیہ ہورہا تھا عمران خان نے بحران سے نکالا ہے۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں اجاگر کیا ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ میں حکومتی رٹ چیلنج ہوئی تو حکومت بھی ڈی میں جاکر گول کرے گی، مولانا صاحب کو جن جماعتوں پر اعتبار تھا انہوں نے انہیں دھوکا دیا ہے۔

    باپ نے بیٹی کو زندہ دفنا کر مار ڈالا

    یاد رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا کو ڈی چوک جانے کا نعرہ لگانے سے روکتے ہوئے کہا تھا کہ جب ڈی چوک جانے کی پالیسی نہیں بنتی تو کارکن ایسا نہ کہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ مولانا کو موسم کی خرابی کا پہلے ہی علم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے مولانا نے موقع غنیمت جانتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین کے گھر جانے کا فیصلہ کرلیا

  • سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم

    سانحہ تیز گام ایکسپریس پاکستان کی تاریخ کا ایک رقت انگیز واقعہ ہے۔ اس واقعے کا تعلق کراچی سے چلنے والی تیز گام ایکسپریس سے ہے۔ سچی بات ہے اس تحریر کا مقصد کراچی کے نشیب و فراز کو بیان کرنا نہیں بلکہ سو چا ذکر آیا ہے توکچھ نہ کچھ لکھتا جاؤں۔ شہر کراچی جوکہ کبھی پاکستان کے دارالخلافہ کے طور پرہی نہیں بلکہ کاروباری عروج کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھا ۔مزید یہ کہ اسے روشنیوں کے شہر کے طورپر بھی جانا جاتا تھا۔ روزگار کے حصول کے لیے پاکستان کے طول و عرض سے لوگوں کی اکثریت اس شہر کی طرف سفر کرتی تھی ۔ مگر اب اس شہر کے حالات پہلے کی نسبت قدرے مختلف ہیں ۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، بدبودار گندا پانی اگلتے گٹر، ٹوٹ پھوٹ کی شکار سڑکیں ،سفر کے لیے ہچکولے لیتی جان لیوا پرانی بسیں جن سےشہریوں کی زندگیاں اجیرن ہی نہیں بلکہ اس شہر کا حسن بھی ماند پڑگیا ہے۔ شاعر کے الفاظ میں

    بس میں لٹک رہا تھا کوئی ہار کی طرح
    کوئی پڑا تھا سایۂ دیوار کی طرح
    سہما ہوا تھا کوئی گناہ گار کی طرح
    کوئی پھنسا تھا مرغ گرفتار کی طرح

    اس شہر کے مکین پینے کے لیے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے بھی مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں جو کہ حکومت سندھ کی حسن کارکردگی پر ایک سیا ہ دھبہ ہے۔کہنے کے لیے بہت کچھ ہے خیر اس پر پھر کبھی تفصیلی بات کریں گے اور اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ افسوسناک سانحہ تیز گام ایکسپریس اس وقت رو پذیر ہوا جب پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی ہے ۔اقتدار کی کرسیوں پر جلوہ افروز حکمران اورحکومت مخالف تمام سیاسی ومذہبی پارٹیاں ایک دوسرے پر بھرپور تنقید کررہی ہیں۔ مگر اس واقعے نے تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے باہمی اختلافات کو بھلا کر ہر ذی شعور کو انسانی ہمدردی میں یکجا ہی نہیں بلکہ ہر آنکھ کو اشکبار بھی کر دیا ہے۔ ہاں ہاں ہر طرف سے سانحہ تیز گام ایکسپریس کی لپیٹ میں آنے والوں کے لیے غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    معاملہ کچھ یُوں ہے کہ فلسفہ زندگی ایک ہی جگہ سکونت پذیر اختیار کرنے کا نام نہیں ہےبلکہ معاملات زندگی کو نمٹانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کا نام ہے۔ یہ معاملات زندگی نوعیت کے اعتبار سے مختلف اشکال میں ملتے ہیں جن میں عبادات، کاروباری لین دین ، رشتہ داروں سے میل جول یا گھریلو مصروفیات وغیر ہ سر فہرست ہیں۔ اسی فلسفہ زندگی کے تحت کچھ لوگ کراچی سے تیز گام ایکسپریس پر سوار ہوئے جن میں تبلغی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی بھی اکثریت تھی

    یہ اسلام پسند لوگ جو کہ محمد عربیﷺ کے مشن پر چلتے ہوئے پروردرگار کے ہاں سجدہ ریز ہونے نکلے تھے بس ذہن میں ایک ہی خیال سمیٹے ہوئے تھے کہ رب کبریا سے گناہوں کی بخشش کروا لیں گے، رسول خدا کی حدیث سے سینے منوّر کرلیں گے۔ اسی خوبصور ت آرزو کے پیش نظر کعبہ کے رب کی خوشنودی کےلیے نہ مہنگائی سے بڑھتے ہوئے کرایوں کو دیکھا نہ گزرتے ہوئے وقت کو بتانے والی گھڑی کی ٹک ٹک پر کان دھرےاور نہ ہی اس بات کو سوچا کہ خود کی غیر موجودگی سے کاروبار اور دیگر معاملات زندگی متاثر ہوسکتےہیں۔ بس الرزّاق اور المھیمن کو ہی بڑا مانتے ہوئے اپنے بوری بسترے کو گول کیا اور کچھ استعمال کی چیزوں کو ہمراہ لیا۔ جن میں بدلتے ہوئے موسم کے پیش نظر رضائیاں ، گدے، رومال ،خشک راشن، کھانا پکانے کےلیے دیگچیاں اور سیلنڈر شامل تھے۔

    تیزگام ریل گاڑی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوئی تویہ بھلے مانس مسافر نہیں جانتے تھے کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آج آخری سفر ثابت ہوگا۔ بہرحال ریل گاڑی چلتے چلتے جب ساہیوال کے قریب پہنچی تو اس میں خطرناک قسم کی آگ بھڑک اُٹھی جس نے مختصر وقت میں ریل گاڑی کی کم وبیش تین بوگیوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی کے باعث اس کی شدّت و حدّت میں آضافہ ہوتا چلا گیا۔ہنستی مسکراتی زندگیاں تڑپنے لگیں، دم گھٹنے لگے ،اور دیکھتے ہی دیکھتے لقمہ اجل بن گئے۔ یقین جانیے یہ سماں کس قدر ہیبت ناک ہو گا ؟ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

    ہائے زندگی تو ہر کسی کو محبوب ہوتی ہے جس کے پیش نظر کچھ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زندگی بچانے کے لیے چلتی ریل گاڑی سے چھلانگیں لگانا شروع کردیں کچھ کے بازوؤں کی ہڈیاں چُور چُور ہو گئیں، کچھ کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور طرح طرح کے زخم آئے ۔ جو لوگ خود کو آگ کے نکلتے ہوئے دہکتے شعلوں سے بچانے میں ناکام رہے ان کے جسم مکمل طور پر جھلس گئے جو کہ پہچان کے قابل بھی نہیں ہیں ۔ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پر نظردوڑائی جائے تو تقریباً پچھتر لوگ جان سے گئےاور ساٹھ کے لگ بھگ شدید زخمی حالت میں ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں زیر علاج ہیں۔

    پاک فوج کے ساتھ ساتھ دیگر فلاحی تنظیموں نے اس کام میں بھرپور حصہ لیا۔ اور حکومت وقت نے جاں بحق ہونے والے کے لواحقین کے لیے 15،15 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ فی کس دینے کا اعلان کیاہے۔ جو کہ مالی معاونت تو ثابت ہوسکتی ہے مگر لوگوں کے اصل زخم نہیں بھرے جا سکتےہیں۔

    بہرحال اس درد بھرے سانحے سے کئی گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے ۔ ابو ابو پکارنے والےبچے یتیم ہو گئے، عورتیں بیوہ ہوگئیں، ماں باپ کی آنکھوں کے تارے ٹوٹ گئےاور لوگ اپنے پیاروں کی راہیں تکتے رہ گئے۔ مگر ریل گاڑی کے یہ سوار ہمیشہ کے لیے دنیا فانی سے رخصت ہوگئےاور اس کے ساتھ ہی رب کبریا کے پیغام کی ترجمانی بھی کرتے چلے گئے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہے۔

    جو کوئی زمین پر ہے فنا ہوجانے والا ہے۔ اور آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے (سورہ الرحمان آیت 26-27)

    اس سانحےنے دنیا فانی کے مال و دولت سےخود کو آراستہ کرنے کی لالچ میں لوٹ مار کا بازار گرم رکھنے والوں کے لیے ، لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے لیے،نفرت کو ہوا دینے والوں کے لیے، ایک دوسرے کو بے جا اذیت کا نشانہ بنانے والوں کے لیے بھی ایک سبق چھوڑا ہے ۔شاعر کے الفاظ میں

    زندگی سے اتنا پیار نہ کر
    چلے تجھ کو بھی جانا ہے زمین کے اندر

    ساتھ ہی ساتھ اس درد ناک واقعے نے سیاستدانوں کے لیےبھی کئی سوالات ہی پیدا نہیں کیے بلکہ ایک امتحان میں بھی ڈال دیا ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ سلینڈر پھٹنے سے ہوا ہے ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی دیگر ویڈیوز کے مطابق عینی شاہدین کا یہ کہنا ہے کہ یہ واقعہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہواہے۔ اگر سلینڈر پھٹنے سے دھماکہ ہوتا تو زور دار آواز سنائی دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا

    بہرحال عینی شاہدین اور وزیر ریلوے کے بیانات میں خوب تضاد پایا جاتا ہے۔ دونوں اعتبار سے ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے جس پر عام عوام ایک دوسرے سے سوال کرتے نظر آتے ہیں۔ گیس سے بھرے سلینڈر ریل گاڑی میں کیوں لے جانے دیے گئے؟۔اگرشارٹ سرکٹ سے ہوا تو عوام کے خون پسینے کا پیسہ کس جگہ خرچ ہورہاہے؟ حکمران عوام سے سنجیدہ کیوں نہیں ہیں؟

    رہی بات اس سانحے کی شفاف تحقیقا ت کی تو اس حوالے سےوزیر اعظم عمران خان کے ماضی کے بیانات ملتے ہیں جو کہ ریلوے حادثے پر ڈنکے کی چوٹ کہا کرتے تھے کہ یہ تحقیقات اتنی دیر تک شفاف نہیں ہوسکتیں جب تک ریلوے کا وزیر اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہو۔ شیخ رشید صاحب کی وزارت میں متعدد بار ریلوے حادثات ہو چکےہیں مگر کوئی استعفی عمران خان صاحب نے نہیں مانگا اور نہ ہی وزیر ریلوے نے اس بارے میں کچھ سوچا۔معاف کرنا انسان ہوں سوچ سوچی جا سکتی ہے فی الحال اب بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ اقبال نے اسی لیے کہا تھا۔

    اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا یہ غازی توبنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا

    سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم

  • ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

    سکول میں پڑھایا جاتا ہے، یوم پاکستان ہو یا آزادی یہ شعر گائے جاتے ہیں اور خصوصا یوم دفاع و شہداء پر ملک کے کونے کونے پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔
    ” شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”

    ایک جگہ لفظ شہید پر بات ہو رہی تھی ایک صاحب سوال کرنے لگے کہ جیسے ہم لوگ اس کو شہید کہتے ہیں جو رب کی رضا میں جان دینے والے کو کہتے ہیں پوچھنے لگا کہ دنیا کے ہر ملک میں شہیدوں کے نام پر یادگاریں ہیں، سڑکیں ہیں، پارک ہیں، ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے، ان کا بھی احترام کیا جاتا ہوگا راقم نے یوں جواب دیا انکا احترام دنیا کے ہر مذہب و ثقافت ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے مقدس صحیفوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ شہید کے متبادل دنیا کی ہر زبان، ہر مذہب اور ہر تہذیب میں موجود ہوں گے کیونکہ ہر قوم کو اپنی بقا کے لیے اور ہر تحریک کو اپنی نمود کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں، یقینی موت کے طرف لپکیں اور اپنی زندگی دے کر قوموں کو اور تحریکوں کی نظریات کو دوام بخشیں۔

    اسی اثناء میں پاکستان کے شہیدوں کا تذکرہ شروع ہوا اے پی ایس ہو یا پولیس کے جوانوں کا یا پھر فوج اور ہزاروں گمنام شہیدوں کے تذکرے ہو رہے تطے اچانک بلوچستان کے والے عظیم بیٹے کی سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ہو گیا انکی شجاعت اور بہادری کی باتیں چل رہیں تھیں کہ اتنے میں خبر ملی کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا پاکستان کا ایک اور بیٹا سید غوث اللہ آغا جس کو پی ٹی ایم اور این ڈی ایس کی غنڈہ گردی، دہشت آلود درندوں نے آزادی کے دن 14 اگست کو اغوا کیا اور نا جانے کتنے ظلم و جبر کے پہاڑ تھوڑے ہوں گے انکی درندگی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلا گیا اور اج افغان سرحد کے قریب قلعہ عبداللہ سے اس غیور بیٹے کا جسد خاکی ملا اور معلوم ہوا پاک دھرتی کی حفاظت کرنے والوں میں اسے ایک نام شہر خاموشاں میں داخل ہوگیا اور بیٹا اس ملک پر جان قربان کر گیا۔

    سوچ رہا تھا اس کا جرم کیا ہوگا معلوم ہوا سوشل میڈیا نامی ایک بلا ہے جہاں وہ اپنے قلم سے اپنے موبائل سے پی ٹی ایم، بلوچ لبریشن آرمی سمیت ان تمام ملک دشمنوں کے خلاف برسرپیکار تھا پاکستان کا سرفروش مجاہد بن کر اور سچا بیٹا بن کر اپنی دھرتی ماں سے بے پناہ محبت کا سبق سکھاتا تھا آزاد بلوچستان کی بجائے پاکستان کا نعرہ بلند کرتا تھا بھارت کے ٹکڑوں پے پلنے والے ملک دشمنوں کی تراغیب کو رد کر نوجوانوں میں پاکستان زندہ باد پاکستان آرمی زندہ باد کے جذبے جگاتا تھا شہید غوث اللہ وہ مرد مجاہد تھا جو سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کے رستے پر چلتے ہوئے بلوچستان میں بدترین حالات میں بھی پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھا۔

    غوث اللہ شہید ففتھ جینریشن وار کا سچا اور محب وطن سرفروش سپاہی تھا۔ یہی اس کا جرم تھا وہ ہماری طرح بلوچستان میں جاری بھارتی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھا نوجوانوں اور بچوں کو آگاہ کرتا تھا اس لئے بھارت سے شدید نفرت رکھتا تھا۔ جس کا برملا اظہار کرتا تھا ہاں نفرت کی اظہار کی وجہ سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کہ بھارتی ترنگے کا جوتا بنا کر پہنتا تھا۔

    اپنی زندگی کی قیمت لگا کر ان تمام لوگوں کو پیغام دے گیا جو یہ کہتے ہے سوشل میڈیا بیکار ہے جو بوٹ پالشیت کا طعنہ دیتے ہیں جو وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے ہیں سبز ہلالی پرچم کو لہراتے لہراتے آنے والی نسلوں کی خاطر قربانیوں کا ذکر چھوڑ گیا دشمنوں کے خلاف اتحاد کا سبق دے کر، حب الوطنی کا درس دے کر، سبز ہلالی پرچم کو لہرانے کا انداز سکھا کر،نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھا کر اسکی بنیاد کو سمجھاتے ہوئے ریاست سے غداری کرنے ،لوٹنے اور عیاشی کرنے والوں کو بتا گیا کہ وطنیت کیا ہے؟ شہادت پر غم نہ کرنے کا درس دے گیا اور پیسے کی لالچ کو پست کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہوئے پاکستان سے عشق تا دم آخر پہچان بنا کر بالآخر اسی سبز ہلالی پرچم کو اوڑھ کر ابدی نیند تو سو گیا اور یہ پیغام دے گیا

    چادر میں نہیں ھم کوجھنڈے میں اُتارو
    مٹی کے عشق میں ہم، جوانی میں مَرے ہیں
    حرف آخر یہ
    مسافران راہ وفا کو شہید منزل دکھا گئے
    کٹا کے غیور اپنے سر کو غرور کا سر جھکا گئے ہیں
    اگر میرے بس میں ہوتا تو سید غوث اللہ آغا سمیت تمام شہداء کو نشانِ حیدر سے سرفراز کرتا جس سے اس عالی مرتبت تمغے کی شان دوبالا ہو جاتی کہ وہ شہیدِ وفائے پاکستان تھا”
    کیونکہ شہید سراج رئیسانی ہو یا غوث اللہ اپنے بلوچ جانبازوں کے ساتھ پاکستان کے لئے میدان جنگ میں لڑ رہا تھا۔وہ شہید وطن اپنی جان سے گذر گئے اور یہ پیغام دے گیا
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    سوچ رہا ہوں

    اج پھر شہید وطن سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کی طرح غوث اللہ کا جسد خاکی بھی گواہی دے رہا تھا اور دھرتی گواہ بن گئی ہے کہ

    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
    شہادت نے ان کی شخصیت کو نظریئے میں بدل دیا ہے پاکستان سے محبت کا نظریہ’ سرفروشی کی لازوال داستان بنادیا ہے۔
    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

  • حلوہ بھی کھلادو،بات بھی بنادو،ساتھی چھوڑ گئے ہیں، رابطہ کرادو،مولانا چوہدری شجاعت کے گھر پہنچ گئے

    اسلام آباد:فضل الرحمان چوہدری شجاعت کے گھر پہنچ گئے ، کوئی راستہ نکالیں پر بات ہوگی ، اطلاعات کےمطابق مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت سے ملاقات کیلئے ان کے گھر پہنچ گئے۔ چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات جاری ہے جس میں آزادی مارچ سے متعلق معاملات زیر غور آئیں گے۔

    اس موقع پر مختصر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’آج میں چوہدری صاحب کے گھر حلوہ کھانے آیا ہوں، اللہ کرے چوہدری صاحب نے شوگر فری حلوہ بنایا ہو‘۔چوہدری شجاعت اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی خصوصی طیارے پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے تھے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی لیکن اس ملاقات میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا تھا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف گھیرا بہت تنگ ہوگیا ہے، جبکہ ساتھی ساتھ چھوڑ رہےہیں

  • باپ نے بیٹی کو زندہ دفنا کر مار ڈالا

    چنائی: قبل از اسلام کی جاہلیت کی تاریخ پھر دہرائی جانے لگی ، جس طرح اسلام سے قبل بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتاتھا اب بھی زندہ ہی درگور کیا جاتا ہے، اطلاعات کےمطابق بھارتی ریاست تامل ناڈو کے درندہ صفت باپ نے لڑکی پیدا ہونے پر کمسن بچی کو زندہ دفن کر کے قتل کردیا۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق چنائی سے 200 کلومیٹر مسافت پر واقع گاؤں ویلوپورم کے شہری ورادراجن لڑکے کی پیدائش کا خواہش مند تھا البتہ اُس کے گھر بیٹی کی پیدائش ہوئی تو اُس نے غصے میں بچی کو زندہ دفن کر کے مار ڈالا۔

    حکومت سنتی نہیں‌،اپوزیشن ساتھ چلتی نہیں‌، مولانا نے ڈی چوک کا خیال بھی ذہن سے نکال…

    تامل ناڈو سے پولیس حکام کے مطابق ملزم ورادراجن اور سونداریا کی شادی اگست 2018 میں ہوئی اور اُن کے ہاں 20 اگست کو بیٹی کی پیدائش ہوئی، درندہ صفت شخص نے بیٹی کو ورداماروتھر کے علاقے میں زندہ دفن کیا۔ پولیس حکام کے مطابق کمسن بچی دم گھٹنے کی وجہ سے انتقال کرگئی، ملزم کو گرفتارکر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔

    فائرنگ سے بچوں سمیت 9 امریکی شہری ہلاک، ہنگامی حالت کا نٍفاذ

    پولیس حکام کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ لڑکی کی پیدائش پر خوش نہیں تھا، اس لیے اُس نے بچی کے قتل کا فیصلہ کیا اور رات کے وقت جیسے ہی ماں سوئی تو اُسے اپنے گھر کے قریب کر دریا کنارے زندہ دفن کر کے آگیا۔

    "وزیراعظم عمران خان "بھارت میں نعرے لگ گئے،اسے کہتے ہیں تبدیلی ،

    ورادراجن نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ لڑکے کا خواہش مند ہے مگر جب لڑکی کی پیدائش ہوئی تو اُسے غصہ آگیا اور پھر اُس نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ پولیس حکام کے مطابق پیر کی رات ایک بجے جب ماں کی آنکھ کھلی تو اُس نے دیکھا بچی اپنے بستر پر موجود نہیں تھی جس پر سونداریانے رونا شروع کردیا اور اپنے پڑوسی کو جاکر واقعے سے آگاہ کیا،

    ڈبل سواری پرپابندی ، اطلاق رات بارہ بجے سے شروع

    صبح ہوتے ہی لڑکی کے رشتے دار بھی گھر پہنچے اور جب تلاش شروع ہوئی تو انہیں دریا کنارے قبر نظر آئی جسے کھولا تو اُس میں سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ملزم ورادراجن ایک اسکول میں دیہاڑی پر کام کرتا ہے اور وہ کم آمدنی کی وجہ سے گھر میں بیٹے کی پیدائش کا خواہش مند تھا۔

    Comments

  • اشیاء کی مصنوعی قلت،چور بازاری اور ملاوٹ کرنے والوں کا سختی سے محاسبہ کی ہدایت

    فیصل آباد(محمد اویس)ڈپٹی کمشنر محمد علی نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ہدایت کی ہے کہ ضلع میں اشیائے ضروریہ کی بے جا مہنگائی اور گرانفروشی پر قابو پانے کے لئے جارحانہ اقدامات کئے جائیں اس سلسلے میں دکانداروں کو مقررہ نرخوں کی وصولی کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ اشیاء کی مصنوعی قلت،چور بازاری اور ملاوٹ کرنے والوں کا سختی سے محاسبہ کریں۔انہوں نے یہ ہدایت ضلع کے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی میٹنگ کے دوران ان کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے جاری کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل میاں آفتاب احمد ودیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومتی ہدایات کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے تاکہ صارفین کو مہنگائی مافیا سے بچایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں میں فروخت کے ساتھ ساتھ ان کے معیاراوروزن پر بھی گہری نظر رکھیں۔انہوں نے غلہ منڈی اورسبزی منڈیوں کے آڑھتیوں وتاجروں سے قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ سبزیوں،پھلوں اور کریانہ کی اشیاء کی طلب کے مطابق سپلائی میں تعطل نہیں آنا چاہیے اور کسی شے کی کمیابی کی صورت میں سپلائی کا فوری بندوبست ہونا چاہیے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قیمتوں کی جانچ پڑتال کے ایسے باقاعدہ اورمنظم طریقہ کار پر عمل ہونا چاہئے کہ عام دکاندار ازخود اشیائے ضروریہ کے مقررہ نرخ وصول کریں جبکہ باربار خلاف ورزی کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لئے ناجائز منافع خوروں سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے اس ضمن میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی روزانہ کی کارکردگی کاباقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور ناقص کارکردگی کے حامل افسران کے خلاف محکمانہ ایکشن ہوگا۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • پنجاب پولیس کا جوان رشوت لیتے گرفتار

    فیصل آباد(محمد اویس )ڈائریکٹر اینٹی کرپشن عمران رضا عباسی کی ہدایت پر اینٹی کرپشن ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے ایلیٹ کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو جڑانوالہ کی رہائشی نازیہ بی بی نے درخواست گزاری تھی کہ پنجاب پولیس کا ایلیٹ سرمد سعید اسے پنجاب پولیس میں بھرتی کرانے کے عوض 10 ہزار روپے رشوت طلب کر رہا ہے جس پرسرکل آفیسرشیخ ناصر عباس نے چھاپہ مار کر ایلیٹ کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا اور اس کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر37/19 درج کرادیا۔

  • ٹریکٹرتورجسٹر ہوتا ہے ٹرالی کیسے؟ کابلی پلاو اورکابلی گاڑیوں کےتذکرے ، سندھ اسمبلی میں قہقے ہی قہقے

    کراچی : ٹریکٹرتورجسٹر ہوتا ہے ٹرالی کیسے ؟ کابلی پلاو اورکابلی گاڑیوں کے تذکرے ، سندھ اسمبلی میں قہقے ہی قہقے، اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی میں آج بھی عوامی مسائل سے زیادہ ارکان کے دلچسپ سوالات اور ان پر اٹھنے والے قہقہوں کے طوفان کی گونج سنائی دی۔کابلی گاڑیوں کے معاملے پر اسپیکرآغا سراج درانی نے کہا کابلی پلاؤ کا سنا تھا۔ کابلی گاڑیاں بھی آگئیں ۔ ٹریکٹر ٹرالی کی رجسٹریشن کا سوال ہوا تو ارکان کی ہنسی چھوٹ گئی۔

    فائرنگ سے بچوں سمیت 9 امریکی شہری ہلاک، ہنگامی حالت کا نٍفاذ

    ذرائع کےمطابق آج سیاسی مخالفین ایک دوسرے پر برسنے کے بجائے جملے کس کر ہنستے ہنساتے رہے ۔ وقفہ سوالا ت کے دوران اراکین کے سوالات کے دلچسپ جوابات آئے۔پی ٹی آئی کے سعید آفریدی نے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ سے سوال کیا کہ کابلی گاڑیوں کی انکوائری کا کیا بنا؟ اس پر اسپیکر بولے کابلی پلاؤ کا تو سنا تھا کیا گاڑیاں بھی کابلی ہوگئیں ہیں ؟

    فائرنگ سے بچوں سمیت 9 امریکی شہری ہلاک، ہنگامی حالت کا نٍفاذ

    ایوان میں ٹریکٹر ٹرالی کا ذکر بھی چھڑ گیا، پیپلز پارٹی کی ندا کھوڑو نے پوچھا کہ ٹریکٹر رجسٹرڈ ہوتا ہے یا ٹرالی ۔ اس پر ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔تحریک انصاف کے خرم شیر زمان نے مسکرا کر سوال پوچھا تو اسپیکر سندھ اسمبلی نے لقمہ دیا کہ آج کا دن اچھا ہے، خرم شیر زمان بھی مسکرا کر سوال پوچھ رہے ہیں ۔

    اسحاق ڈار کوانٹرپول بےگناہ قرار نہیں دے سکتا: نیب کا رد عمل

  • اشیائے ضروریہ کی سرکاری طور پر مقررہ قیمتوں پر فروخت کویقینی بنایا جائے۔ صوبائی وزیر حافظ ممتاز

    فیصل آباد (محمد اویس ) صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکیشن حافظ ممتاز احمد نے کہا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی سرکاری طور پر مقررہ قیمتوں پر فروخت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور مہنگائی مافیا کو من مانی کے ذریعے عوام کا استحصال نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے یہ بات وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر مختلف بازاروں اور سٹورز پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں چیک کرتے ہوئے کہی۔ ڈپٹی کمشنر محمد علی بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سٹی زوہا شاکر اور مارکیٹ کمیٹی کا سٹاف بھی موجود تھا۔ صوبائی وزیر اور ڈپٹی کمشنر ماڈل بازار جھنگ روڈ‘ ایس بی سٹور جھنگ روڈ اور دیگر علاقوں میں بازاروں و سٹورز پر گئے اور پھل‘ سبزیوں‘ دالوں‘ چاول‘ بیسن‘ آٹا‘چینی و دیگر اشیائے خورد و نوش کی مقرر کردہ قیمتوں کے مطابق فروخت کو چیک کیا۔ انہوں نے دکانداروں سے بعض پھلوں و سبزیوں کے ریٹس دریافت کرتے ہوئے تاکید کی کہ نرخناموں کے مطابق ہی اشیاء فروخت ہونی چاہیں بصورت دیگر جرمانوں اور دیگر سزاؤں سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ایس بی سٹور میں کچھ اشیاء پر نرخناموں کی عدم موجودگی پر وارننگ دی اور اپنی نگرانی میں دالوں و دیگر اشیاء کا وزن بھی چیک کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے بعض اشیاء کی قیمتوں پر سو فیصد عملدرآمد کرانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں اس سلسلے میں وہ ضلع بھر میں مارکیٹوں‘ بازاروں‘ سٹوروں پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو چیک کر رہے ہیں جس کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رہیگا۔ انہوں نے صارفین سے اشیاء کی قیمتوں اور کوالٹی کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے کہا کہ غریب عوام کو ریلیف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبائی وزیر نے ضلعی انتظامیہ کے افسران سے کہا کہ وہ مارکیٹوں‘ بازاروں کے باقاعدگی سے دورے کرکے قیمتوں کو چیک کریں اور اوورچارجنگ کرنے والوں کو پکڑ کر جیل بھجوائیں تاکہ کسی کو زائد قیمت وصول کرنے کی جرات نہ ہو۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع بھر کے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو اوورچارجنگ کی روک تھام کے لئے متحرک کر رکھا ہے جبکہ ان کی کارکردگی کو بھی تسلسل کے ساتھ چیک کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صبح سویرے پھل و سبزی منڈی کا دورہ کرکے پیاز‘ آلو‘ ٹماٹر و دیگر اشیاء کی نیلامیوں کے عمل کا بھی جائزہ لیاجارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام ماڈل بازار جھنگ روڈ میں صارفین کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لئے اشیائے ضروریہ عام بازاروں سے رعایتی نرخوں پر فروخت کی جارہی ہیں جس سے بڑی آبادی مستفید ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق صارفین کو کنٹرول قیمتوں پر اشیاء ضروریہ کی دستیابی یقینی بنائے جائے گی۔
    ۔۔۔///۔۔۔