اسلام آباد:پانی کے بغیر مچھلی،اقتدار کےبغیر مولانا ،حکومت سنتی نہیں،اپوزیشن ساتھ چلتی نہیں، مولانا نے ڈی چوک کا خیال بھی ذہن سے نکال دیا، اقتدارکتنی آزمائش والی چیز اورنشہ ہے جسے لگ جائے وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتا ، دوسری طرف اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں ایک بارپھر حکومت کو ان کے لیےکچھ کرنےکا اشارہ کردیا ہے ،
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ ف) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا آج چھٹا روز ہے اور شرکاء بدستور ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے اسٹیج پر آتے ہی کارکنوں نے ڈی چوک کے نعرے لگائے تاہم سربراہ جے یو آئی ف نے شرکاء کو ٹوکا اور کہا کہ ایک دو دن سے دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ ڈی چوک کا نعرہ لگاتے ہیں اور ہمارے لوگوں کو بھی اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے حکومت سے کچھ کرنے کے حوالےسے مذاکرت کا کچھ اس طرح اشارہ دیا کہ کئی روز سے آزادی مارچ اسلام آباد میں براجمان ہے، مطالبات کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، ہمیں کہا جاتاہے کہ لوگ اسلام آباد آئیں گے اور کہیں گے حکومت چلی جائے تو یہ روایت بن جائے گی، اِن لوگوں نے 2014 میں ڈی چوک پر دھرنے پر اعتراض کیوں نہیں تھا، اس آزادی مارچ پر کیوں اعتراض کیاجا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عوام کے مطالبے کو ماننا پڑے گا، ہم نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے، پوری قوم آپ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے کہ سیاسی جمود کو توڑا اور دنیا کو بتا دیا کہ احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ مزید نہیں چل سکے گا۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ اعتماد نہیں رکھ سکے ہیں، ایران ہمارے مقابلے میں بھارت کو اہمیت دے رہاہے، چین اور پاکستان کی دوستی سمندر سے گہری ، شہد سے میٹھی ہے لیکن موجودہ حکومت نے چین کی سرمایہ کاری کو غارت کردیا اور آج چین کا اعتماد بھی خراب کردیا گیا ہے، حکومت نے چین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے جس کے بعد چین مزید سرمایہ کاری کا خواہش مند نہیں ہے۔
دھرنے کے خاتمے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کا آج ایک اور دور بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ مذاکرات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس میں رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ اپوزیشن اپنے چاروں مطالبات پر بدستور قائم ہے ۔ حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ کئی امور پر اتفاق ہوگیا ہے ۔ باقی پر دونوں ٹیمیں قیادت سے مشورہ کریں گی۔