Baaghi TV

Author: +9251

  • پنجاب کے سکولوں میں کون سی مہم شروع ہونی والی ہے،سیکرٹری ایجوکیشن نے بتاددیا

    لاہور :یونیورسٹیوں ، کالجوں اورسکولوں کی سطح پر طالب علموں کے نشے کے استعمال کی خبروں نے ارباب اختیارکو سخت فیصلے کرنے پر مجبورکردیا ، تعلیمی اداروں سے اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب ارم بخاری نے اعلان کردیا ہے ، سیکرٹری سکول کا کہنا ہےکہ نئی نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانا ہماری اولین ذمہ داری ہے،

    دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات…از…, بنت طاہر قریشی

    محکمہ سکول ایجوکیشن نے صوبہ بھر کے سرکاری ونجی سکولوں میں انسداد منشیات مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا، فیصلہ سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب ارم بخاری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، اس موقع پر پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر مرزا کاشف علی اور دیگر افسران و این جی او کے نمائندے بھی موجود تھے۔

    پاک فوج کی سپورٹ جمہوری حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، میجر جنرل آصف غفور

    سیکٹری تعلیم پنجاب ارم بخاری کا کہنا تھا کہ نئی نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانا ہماری ذمہ داری ہے، منشیات کی روک تھام اور بچوں میں منشیات سے متعلق آگاہی کیلئے باقاعدہ مہم کا آغاز چند روز میں کر دیا جائے گا۔اس سلسلے میں سکولوں میں جلد انسداد منشیات مہم کا آغاز کر دیا جائے گا۔

    ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

  • آرہی ہے سردی اگرآگئی بارش،لاہورمیں بونداباندی کی پشین گوئی

    لاہور:ایک طرف لاہور اور ملک کے دیگر حصوں میں‌سموگ کی آمد آمد ہے تو دوسری طرف محکمہ موسمیات نے خوشخبری سنادی ہےکہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کےدوران موسم جزوی طور پر ابرآلودرہےگا، ماہرین کاکہناہےکہ بارش نہ ہونے تک سموگ کا خدشہ برقراررہےگا، شہریوں کوسموگ سےبچاؤکیلئےاحتیاطی تدابیر اپنانےکی بھی ہدایت کردی۔

    آئندہ 24 گھنٹوں کےدوران شہرکاموسم جزوی طور پر ابرآلود رہنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق آج شہر کا درجہ حرارت زیادہ سے 28 اور کم سے کم 18 ڈگری سنٹی گریڈ رہےگا جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 58 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے سے سموگ کا امکان ہے جبکہ بارش نہ ہونے تک فضا میں سموگ برقرار رہے گی۔محکمہ موسمیات کےمطابق اتوار کے روز شہر کے مختلف علاقوں میں بوندا باندی کا بھی امکان ہے۔

  • مظفرگڑھ میں ٹڈی دل کے وار!

    مظفرگڑھ کے مختلف علاقوں میں چولستان سے آنے والی ٹڈی دل نے حملہ کردیا،محکمہ زراعت نے شہریوں کو ڈھول بجاکر ٹڈی دل کو اپنے کھیتوں سے بھگانے کا مشورہ دیا ہے.محکمہ زراعت کیمطابق مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی اور تحصیل علی پور کے علاقوں میں ٹڈی دل نے حملہ کیا ہے.محکمہ زراعت کیمطابق تاحال کپاس کی فصل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا.علی پور اور جتوئی پر حملہ آور ہونے والی ٹڈی دل چولستان سے ہجرت کرکے پہنچی ہے.محکمہ زراعت کیمطابق ٹڈی دل کا اگلا پڑاؤ ڈیرہ غازیخان ہوگا،کاشتکاروں کو روایتی طریقے کیمطابق ڈھول بجاکر ٹڈی دل کو اپنے کھیتوں سے بھگانے کا مشورہ دیا گیا ہے.

  • ماہ ربیع الاول کے حوالہ سے امن کمیٹی کی میٹنگ

    کمالیہ : ماہ ربیع الاؤل کے حوالہ سے امن کمیٹی کی میٹنگ اے سی آفس میں منعقد ہوئی جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام ومرکزی انجمن تاجران کے صدر وممبران امن کمیٹی و دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کمالیہ نوشین اسرار نے کہا ھےکہ امن وامان کے قیام اور مذہبی رواداری کہ فروغ میں آپ معززین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ربیع الاول کہ ماہ مبارک میں آپ کا تعاون ہر قسم کے شر پسند عناصر کو روکنے میں معاون ثابت ہوگا جس پر ممبران امن کمیٹی نے انتظامیہ سے ہر طرح کے تعاون کی مکمل یقین دہانی کروائی اسسٹنٹ کمشنر نوشین اسرار نے کہا کہ ربیع الاول کے بابرکت مہینہ میں انتظامیہ کی طرف سے تمام جلسوں کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی نہ خوشگوار وقوع پیش نہ آسکے اور آخر میں سانحہ رحیم یار خاں میں جاں بحق ہونے والے کے لیے مغفرت کی اور ملک پاکستان کی سلامتی اور کشمیر کی آزادی کے لئے دعا کی گئی۔

  • پاک فوج کی سپورٹ جمہوری حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، میجر جنرل آصف غفور

    راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاک فوج ایک غیرجانبدارادارہ ہے، الیکشن میں آئینی ذمہ داری پوری کی، ہماری سپورٹ جمہوری اور منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے۔

    افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں وہ بتا دیں کہ کس ادارے کی بات کررہے ہیں، ہماری سپورٹ جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، فوج نے الیکشن میں آئینی اورقانونی ذمہ داری پوری کی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سال گزر گیا اب بھی اپوزیشن اپنے تحفظات لے کر متعلقہ اداروں میں جاسکتی ہے، سڑکوں پر آکرالزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 20 سال میں بہت مشکل وقت گزارا ہے، پاکستانی قوم اور افواج نے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جان ومال کی قربانی دے کر ملک میں امن قائم کیا گیا، کے پی کے عوام نے بھی دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا، کےپی کے عوام کو اب فلاح وبہبود کی ضرورت ہے۔

    میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے جارحیت کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا گیا، ایل او سی پر بھی معصوم کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے، مشرقی اور مغربی سرحد پر فوج مصروف عمل ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی بربریت اورظلم جاری ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کسی بھی قسم کا انتشار ملک کے مفاد میں نہیں، جمہوری مسائل جمہوری طور پر ہی حل ہونے چاہئیں۔ حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیاں بہتر کوآرڈی نیشن کے ساتھ چل رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امید کرتے ہیں کہ معاملات بہتر انداز میں آگے چلیں، کسی کو بھی کسی صورت ملکی استحکام خراب کرنے کی یا ملکی امن کو نقصان پہنچانے اجازت نہیں دیں گے۔

    دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا ہےکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود ہی بیان دیا کہ مولانا کی مراد کون سا ادارہ ہوسکتا ہے، ، فوج اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھیں ، مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ عمران خان کی حکومت کو سپورٹ کرنا جمہوریت کی دنیا میں شاید اس کو پزیرائی نہ مل سکے

  • دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات…از…, بنت طاہر قریشی

    دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات

    علماءکرام امت مسلمہ کے لئے اللہ رب العزت کا نہایت ہی عظیم انعام ہیں۔
    ہر دور میں یہی رجال عظیم تھے جنہوں نے امت مسلمہ کی راہنمائی اور انکو راہ راست پر رکھنے کا مقدس فریضہ انجام دیا اور اب اس دور پر فتن اور پرآشوب میں بھی تمام مخالفتوں، تمام دشنام طرازیوں اور باطل فرقوں کی مسلسل سازشوں کے باوجود بھی اپنے اس مقدس فریضے کی انجام دہی میں صرف رضائے الہی کے خاطر ہمہ تن مشغول ہیں۔
    حضورﷺ کے بعد دین کی ترویج اور دین اسلام کے تمام احکامات کو اصل حالت میں برقرار رکھنے اور اس امانت کو ہم تک بالکل صحیح صحیح پہنچانے کا سبب بھی یہی علمائے کرام ہیں۔
    تصور تو کیجئے ۔۔۔!
    اگر ہمارے علمائے کرام بھی بنی اسرائیل کے اکثر علماءکی طرح دولت کے لالچ میں گرفتار ہوجاتے اور اللہ رب العزت کے صریح احکامات میں اپنی من پسند تحریفات کرتے تو کیا آج ہمارے پاس اتنا کامل اور مکمل دین ہوتا؟ یقینا آپکا جواب “نہیں”ہوگا اور ہونا بھی چاہئیے۔
    امت محمدیہ ﷺ پر اس امت کے علماء حق کا احسان عظیم ہے کہ انہوں نے اپنی گردنیں تو کٹادیں، قیدوبند کی صعوبتیں تو برداشت کرلیں مگر دین اسلام کے کسی صریح حکم میں کوئی تبدیلی یا تحریف نہ ہونے دی۔
    امام احمد بن حنبل ؒ کی مثال لیجئے “عقیدہ خلق قرآن” جیسے کتنے بڑے اور عظیم فتنے کے سامنے تن تنہا سینہ سپر ہوگئے، اذیت ناک قید کاٹی، سرعام کوڑے لگائے جاتے، کمر سے خون کے فوارے جاری ہوجاتے، مگر حق سے ایک انچ سرکنے پر آمادہ نہ ہوئے آپکی اسی لازوال قربانی کی وجہ سے امت مسلمہ ایک عظیم فتنے سے محفوظ ہوئی۔
    زیادہ دور نہ جائیں، وطن عزیز کے علمائے کرام کی ہی مثال لیجئے، تخم برطانیہ کے ناجائز خودکاشت پودے ” قادیانیوں”نے وطن عزیز میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنی چاہی، بڑی ہی مکاری اور چالاکی سے خود کو مسلمان ثابت کرنا چاہا مگر علمائے کرام نے انکے مذموم اور ناپاک عزائم کو کامیاب نا ہونے دیا، ملک گیر تحریکیں چلائی گئیں، قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو پارلیمنٹ میں ہونے والے مناظرے میں عبرتناک شکست دی اور بالآخر کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد قادیانیوں کو نا صرف غیر مسلم قرار دلوایا بلکہ پاکستان میں انکی تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگاکر انکی اہم عہدوں اور اداروں میں تعیناتی ختم کردی گئی۔
    اگر اس وقت علماء کرام یہ عظیم کام سرانجام نہ دیتے تو میں حلفیہ کہتی ہوں کہ میرا پاکستان آج ان ناپاک قادیانیوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہوتا۔
    تو میرے عزیزو! علماء کی قدر کیجیے، ان کو طنزو تشنیع کا نشانہ نہ بنائیے، اپنے دل سے علماء کرام کا بغض ختم کیجئے۔
    اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے:
    “جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی اور بازاروں کی عمارتوں کو بلند اور غالب کرنے لگے گی تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان پر چار قسم کے عذاب مسلط فرمادیں گے۔
    ①قحط سالی ہوگی
    ②حاکم وقت کی طرف سے مظالم ہوں گے۔
    ③حکام خیانت کرنے لگیں گے۔
    ④دشمنوں کے پےدرپے حملے ہوں گے (حاکم) “
    غور کیجئے ان میں کونسا ایسا عذاب ہے جو آج امت مسلمہ پر مسلط نہیں ہے؟
    لیکن اسکے باوجود ہم اُن افعال پر تائب نہیں ہورہے، جو ان عذابات کا موجب ہیں۔
    ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے:
    “جس نے کسی عالم کو ایذاء دی اس نے اللہ کے نبیﷺ کو ایذاء دی”
    اسلئے خدارا!
    علماء سے نفرت و عداوت ختم کیجئے، ان سے عقیدت و محبت کا تعلق استوار کیجئے، یہ محبت اور تعلق دنیا میں تو سود مند ہوگا ہی، ان شاءاللہ آخرت میں بھی “ألمرء مع أحب”کے مصداق علماء کرام کی ہم نشینی کے شرف عظیم کے حصول کا باعث بن جائے گا۔
    از قلم:
    عائشہ طاہر

  • ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

    ریڑھ کی ہڈی
    باد سحر کے ٹھنڈے جھونکے اس کے دل میں مرجھائے سکون کے گلوں کو تازہ دم کرنے کی سعی میں تھے۔۔۔
    مگر حیدر کے دل پہ چھائی بے چینی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔
    "کیا! میری بات اثر کرے گی یا وہ ویسا ہی رہے گا۔۔۔اگر وہ نہ سمجھا تو” پریشانی و اداسی نے اس کے وجود پہ مکمل طور پہ قبضہ جما لیا تھا۔۔
    چند دن پہلے سوچ کے جو پنچھی خیالات کی شاخوں پہ اٹکھیلیاں کررہے تھے اب سہمے بیٹھے تھے۔۔۔
    "خیال” اسے اپنے ساتھ پھر اسی جگہ لے گیا جہاں سے بے چینی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔
    صفوان سے حیدر کی ملاقات کل یونیورسٹی سے واپس آتے ہوئے بس میں ہوئی تھی۔۔
    حیدر کے ساتھ بیٹھتے ہی اس نے ایسے سلام کیا جیسے وہ بہت عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔۔۔
    حیدر نے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے ایک سرسری سی نظر اس کے چہرے پہ ڈالی جہاں اطمینان کے بادل سایہ فگن تھے وہ اپنی توجہ ہٹانا چاہتا تھا پر نظریں اس کے چہرے پہ رک گئیں۔۔
    صفوان بیگ جھولی میں رکھ کہ اب موبائل پہ مشغول ہوگیا تھا۔۔۔
    اس کی انگلیاں بڑی تیزی سے موبائل کی پیڈ پہ رقص کناں تھیں اور چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ پھیل رہی تھی۔۔۔
    "کیا کرتے ہیں آپ!” صفوان نے ایک نظر حیدر پہ ڈالتے ہوئے پوچھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    "میں ماسٹرز کررہا ہوں” واااہ پھر تو ہم دونوں کی ایک ہی منزل ہے صفوان نے کہا اور پھر موبائل کی طرف متوجہ ہوگیاا۔۔۔
    کافی دیر دیکھنے کے بعد حیدر نے حیرت سے اسے پوچھا "کیا لکھ رہے ہیں آپ؟”
    "میں تحریر لکھ رہا ہوں” صفوان نے جواب دیا۔۔
    اچھا تو آپ ماشاءاللہ لکھاری ہیں۔۔
    جی میں سوشل میڈیا کی دنیا کا ایک اچھا لکھاری ہوں۔۔
    "واااااہ کیا ہم آپ کی تحریر سے مستفید ہوسکتے ہیں”۔
    "جی کیوں نہیں! صفوان نے اپنا موبائل حیدر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
    "آپ واقعی ہی اچھے قلمکار ہیں اور خوب لکھتے ہیں پر مجھے آپکی یہ تحریر پسند نہیں آئی” حیدر نے کچھ دیر پڑھنے کے بعد کہا۔۔
    صفوان کے چہرے سے اطمینان اچانک سے غائب ہوگیا۔۔
    اچھا تو اپ کو اس میں کیا کمی لگی۔
    "چلیں بتائیں تو میری تحریر کی کون سی بات آپکو پسند نہیں آئی”۔۔
    صفوان نے بڑے تحمل سے پوچھا۔۔
    بھائی اصل میں بات یہ ہے کہ جو ہمارے محافظ ہیں ہمیں ان کا پشت بان بننا چاہیے نا کہ کسی کی باتوں میں آکہ ان کی پشت میں چھرا گھوپنا چاہیے۔۔
    حیدر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
    "میں آپ کی بات سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں”۔۔
    آپ کی تحریر میں بجائے دشمن عناصر کو نشانہ بنانے کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔۔
    صفوان نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تو پھر اس میں کوئی جھوٹ تو نہیں ہے اور تخلیق کار سچ ہی لکھتا ہے اور اسے لکھنے میں بالکل نہیں گھبراتا۔۔
    تو آپ سچ لکھیں نا لوگوں کی باتوں میں آ کہ اپنے قلم و قرطاس کو بے مقصد نہ بنائیں۔۔
    حیدر کی باتوں سے اس کے ماتھے پہ سلوٹیں ابھر آئی تھیں” تو آپ کہنا کیا چاہتے ہیں”
    "گرمیوں کی تپتی دوپہر اور سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں سرحد پہ کھڑا محافظ ہمہ تن ہماری حفاظت پہ مامور ہے اور ہم انہی کے ہی دشمن بنے ہوئے ہیں آپ ایک اچھے تخلیق کار ہیں اور تب تک ہی اچھے ہیں جب آپ اچھائی اور بُرائی کی تمیز کرتے ہوئے لکھیں گے”
    حیدر کی باتیں اس کے دل میں کچھ روشنی پھیلا رہی تھی۔۔
    "آپ اپنے قلم کا سہی استعمال کریں”
    حیدر نے چہرے پہ مسکان سجائے اسے بڑے پیار سے کہا۔۔
    صفوان ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی اس نے فون کان کے ساتھ لگایا اور حیدر کو کچھ اشارہ کرنے لگا حیدر نے اسے اپنا موبائل تھمایا جس پہ اس نے نمبر لکھا اور حیدر کو واپس پکڑا دیا۔۔۔
    صفوان اب اترنے کی تیاری کر رہا تھا شاید اس کا سٹاپ آگیا تھا حیدر کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔۔
    حیدر کی نظریں اسی کے پیچھے تھی اور دیکھتے دیکھتے وہ منظر سے غائب ہوگیا۔۔
    حیدر نے موبائل پہ لکھا ہوا نمبر سیو کیا اور اسے میسج کردیا "آپ کے جواب کا انتظار رہے گا”۔۔
    گھر پہنچنے کے بعد بھی وہ اس کے رپلائی کا انتظار کرتا رہا پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔۔
    وہ اب بھی صبح سے صحن میں بیٹھے بے چینی کا شکار تھا کہ اچانک موبائل کی ٹیون بجی اس نے جیسے ہی دیکھا ساری کی ساری بے چینی کافور ہوگئی اس کے خیالات کے سہمے پنچھی پھر سے اٹکھیلیاں کرنے لگے۔۔۔۔
    اسے پڑھ کہ خوشی ہوئی کہ ایک قلمکار کی اصلاح ہوئی۔۔
    "میں ریڑھ کی ہڈی بنوں گا نہ کہ کسی کے ہاتھوں کا کھلونا”

    ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

  • آئی ایس پی آر بھی نیلم منیر کی حمایت میں میدان میں آگئے

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کے ہدایت کاری میں کام کنگنا کے لئے نیلم منیر کی نمائش کرنے والے آئٹم سانگ کا دفاع کیا۔

    کھبون مین کے نام سے گانا ساحر علی بیگگا نے کمپوز کیا تھا جبکہ آئیما بیگ نے اپنی آواز پیش کی تھی۔ یہ فوری طور پر وائرل ہوگیا اور سوشل میڈیا پر اسے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    اس ردعمل کے بعد نیلم نے اپنے دفاع کے لئے سوشل میڈیا پر بات کی اور کہا کہ انہوں نے یہ گانا صرف اس لئے کیا کیونکہ یہ فلم آئی ایس پی آر کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "شاید یہ میری زندگی کا پہلا اور آخری آئٹم سانگ ہے۔ لیکن آپ سب جانتے ہیں کہ میں جو بھی کرتا ہوں ، میں اس کا مالک ہوں اور میں فخر سے کرتا ہوں۔ پاکستان کی اہم بات میری جان حمیشہ ہیز ارے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر بھی آئٹم سانگ کے دفاع کے لئے ٹویٹر پر گئے۔ کاف کنگنا کو آئی ایس پی آر کے اشتراک سے بنایا گیا ہے۔

    اپنے نجی ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے انہوں نے کہا کہ "آئٹم سانگ ایک فلم میں ایک بھارتی لڑکی کے کردار کے مطابق ہے۔” اسی ٹویٹ میں، جنرل آصف غفور نے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں آئی ایس پی آر میں حمیرا ارشد کے کنسرٹ کے تنازعہ پر بھی توجہ دی۔