Baaghi TV

Author: +9251

  • آزادی مارچ ، راستے میں آنے والے مسافروں کو کچلنے کی بھی آزادی

    گوجرانوالا:آزادی مارچ نے اپنے راستے میں آنے والے افراد کو کچلنے کی آزادی بھی حاصل کررکھی ہے، اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں‌ہونے والا آزادی مارچ جونہی گوجرانوالا کی حدود میں پہنچا تو راستے میں کھڑے مسافروں کو کچل دی اطلاعات یہ ہیں کہ اس واقعہ میں ہلاکتوں کا اندیشہ ہے

    دوسری طرف پولیس حکام کا کہنا ہےکہ مسافروں کو کچلنے والی گاڑیاں قائدین کی تھیں ،جن میں قائدین اسلام آباد کی طرف سفر کررہے تھے اس کی لپیٹ میں آگر یہ تینوں افراد زخمی ہوئے تھے ،پولیس بہت جلد ان مجرموں تک پہنچ چائے گی ،

    ذرائع کے مطابق راستے میں جلوس کے شرکاء آنے والی مسافرگاڑیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتے جارہے ہیں، نوجوان ریڑھی بانوں کو پریشان کرکے گزرتے ہوئے نعرے بازی بھی کرتے رہے تھے ،ان زخمی افراد کو فی الفور ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے

  • لاہور: آزادی مارچ پیپلز پارٹی موجود، ن لیگ غائب ،شہبازشریف مولانا کے ساتھ ہاتھ کرگیا

    لاہورآزادی مارچ لاہور تو پہنچ گیا مگر میزبان نظر نہ آئے ، مہمان دیکھتا ہی رہ گیا ، اطلاعات کے مطابق آج لاہور میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے اسٹیج پر پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین موجود جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما غائب رہے۔مولانا فضل الرحمن کے بعض ساتھیوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے ہمیں‌دھوکہ دیا ہے ،

    مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کے چوتھے روز کا آغاز مینار پاکستان لاہور سے ہوا جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ مارچ کے اسٹیج پر پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین موجود جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما غائب رہے۔ آزادی چوک میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی سرکردہ رہنما اسٹیج پر نظر نہ آیا اور نہ کسی لیگی عہدیدار نے خطاب کیا، البتہ شاہدرہ چوک میں آزادی مارچ کے شرکاء کا استقبال کرنے والوں میں ن لیگی ایم پی اے اور کارکن نظر آئے۔

    ن لیگی رہنماؤں کے اسٹیج سے غائب رہنے پر مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ میں ن لیگ کی شرکت 31 اکتوبر کے جلسے تک محدود ہے۔پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے آزادی مارچ کے اسٹیج سے خطاب میں کہا کہ اِس حکومت کا جانا اب ٹھہر گیا ہے۔ آزادی مارچ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما قمر زمان کائزہ کے علاوہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر اور اویس نورانی نے بھی خطاب کیا۔

  • آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کے نوٹیفکیشن پر دستخط

    آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کے نوٹیفکیشن پر دستخط

    اسلام آباد: آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کے حوالے سے موجود ابہام ختم ہو گیا ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی دوبارہ تقرری کے نوٹیفکیشن پر دستخط کر دیے ہیں۔ایک نجی ٹی وی پر معروف اینکرکاشف عباسی نے پروگرام میں بتایا کہ صدر مملکت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مزید 3 سال کے لیے تقرری کے نوٹیفکیشن پر دستخط کر دیے ہیں۔

    اس پروگرام میں انکشاف کیا گیا کہ آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کی تمام کاغذی کارروائی اگست میں ہو گئی تھی، آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا نوٹیفکیشن بھی اگست میں تیار ہو چکا تھا۔واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے اگست میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لیے پاک فوج کا سالار مقرر کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا، نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔

    بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ملک کی مشرقی سرحد کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر کیا، فیصلہ کرتے ہوئے بدلتی ہوئی علاقائی صورت حال، خصوصاً افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے حالات کے تناظرمیں کیا گیا۔

  • غیر قانونی ہاﺅسنگ کالونیز کو برداشت نہیں کیا جائے

    فیصل آباد (محمد اویس )ڈپٹی کمشنر / ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد علی نے کہا ہے کہ غیر قانونی ہاﺅسنگ کالونیز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے سلسلے میں کسی قسم کی مزاحمت یا قانون شکنی کو قطعا برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایف ڈی اے کے سٹاف کو زد و کوب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی سے گریز نہیں کریں گے اس سلسلے میں سرکاری کام میں مداخلت اور ملازمین کو زخمی کرنے پر ملت روڈ پر غیر قانونی ہاﺅسنگ کالونی ابراھیم وی آئی پی بلاک کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرادیا گیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر / ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے عامر عزیزنے کہا کہ تمام غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کے خلاف جارحانہ اپریشن جاری رہے گا اس ضمن میں اثر و رسوخ یا دھونس کو خاطر میں نہیں لائیں گے اور مزاحمت کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق ملت روڈ پر غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیم ابراھیم وی آئی پی بلاک کے خلاف قانونی کارروائی میں مزاحمت کرنے والے جن ملزمان کے خلاف تھانہ ملت ٹاﺅن میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے ان میں محمد ارشد کمبوہ ڈویلپر سمیت مزید دس ملزمان شامل ہیں جنہوں نے پولیس کی کم نفری کا فائد اٹھا کر نہ صرف ایف ڈی اے سٹاف پر حملہ کرکے انہیں زخمی کیا بلکہ انہیں یرغمال بھی بنائے رکھا ۔ مزید برآں ایف ڈی اے کی تین گاڑیوں سمیت میڈیا کی گاڑی کو بھی تباہ کر دیا۔ تاہم ڈی ایس پی کی سربراہی میں تھانہ ملت ٹاﺅن کی مزید پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی اور تین ملزمان کو موقع پر گرفتار کر لیا ۔ مزید کارروائی جاری ہے ۔

  • مولانا کیلیے بنائے گئے سپیشل حلوے کا اکلوتا ڈبہ چوری

    گوجرانوالہ چوری کی انوکھی واردات
    مولانا کیلیے بنائے گئے سپیشل حلوے کا اکلوتا ڈبہ چوری
    ایم پی اے منہ تکنے لگے

    تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے استقبال کے لیے شیخوپورہ بس سٹاپ پر مسلم لیگ ن کی طرف سے استقبالی کیمپ لگایا گیا ۔ مسلم لیگ ن کے ایم پی اے نے مولانا فضل الرحمان کے لیے سپیشل حلوہ تیار کروایا گیا ، حلوے کا یہ واحد ڈبہ چوری ہو گیا اور لیگی ایم پی اے منہ تکتے رہ گیا۔

  • 31-اکتوبرسقوط ِکشمیر کادن ، بھارت پرخوف کے سائے طاری

    نئی دہلی : اکتيس اکتوبر کو جموں و کشمیر اور لداخ کو بھارتی حکومت کے زیر انتظام دوعلاقوں میں باضابطہ طور تقسیم کیا جارہا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اس مرحلے پر قانون و انتظام کے مسائل دوبارہ پیدا ہوسکتے ہیں ۔ لہٰذا حفاظتی انتظامات سخت کئے جارہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس تقسیم میں وادی جموں اور لداخ کے بارے میں بھارتی حکومت نے اپنے آئین میں جو ترمیم اور تبدیلی کی ہے اس پر اب اگلے مرحلے میں مزید پیش رفت ہورہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تقسیم کے اس پس منظر میں مودی سرکار نے بھارت کے ہوائی اڈوں اورریلوے اسٹیشنز پرہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    سری نگر، امرتسر اور پٹھان کوٹ ،اونتی پورہ ،جموں اور دیگر ایئر بیسز پر اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں دہلی سرکار کے تقریبا 3ماہ قبل کئے گئے اقدامات کے بعد اب اس متنازع خطے کے ایک حصے لداخ میں بھی نئی کشیدگی اور سماجی تنائو پیدا ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اکتيس اکتوبر سے جموں، کشمیر و لداخ میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین نافذ کیے جائیں گے۔جموں و کشمیر کی باضابطہ تقسیم کے موقع پریکم نومبر تک وادی میں دفعہ144 کا نفاذ کیا جارہا ہے چند دنوں کے لیے ایک بار پھر پوسٹ پیڈ موبائل سروس معطل رکھے جانے کے امکانات ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق جموں، کشمیر و لداخ کو مرکزی زیر انتظام علاقے قرار دیے جانے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی جشن کا پروگرام بھی منعقد کررہی ہے۔دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں کے لیے لیفٹنٹ گورنرز کی تقرری کا حکمنامہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں جموں و کشمیر کے لیے گریش چندر مرمو اور لداخ کے لیے آر کے ماتھر کو لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا گیا ہے جبکہ موجودہ گورنر ستیہ پال ملک کو گوا کا نیا گورنر مقرر کیا گیا ہے ۔
    پانچ اگست سے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسند رہنما یا تو حراست میں ہیں یا انہیں گھروں میں ہی نظر بند رکھا گیا ہے۔

    بھارتی اقدام لداخ کے بودھ باشندوں کیلئے بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے کہ ان کے اکثریتی علاقے لیہہ کی منفرد ثقافتی اور سماجی حیثیت بھی اس وقت خطرے میں پڑ جائیگی جس کے بعد ہندو لیہہ میں املاک خریدنے اور وہاں رہائش اختیار کرنے کے حقدار ہوجائینگے۔

  • یورپی ممبران پارلیمنٹ کے نجی دورہ کے ماسٹر مائنڈ کا انکشاف :خصوصی رپورٹ

    لاہور:دورہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرڈوول کی کاوشوں سے ممکن ہوا5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے 27 یورپی یونین کے پارلیمنٹیرینز کے وفد نے منگل کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔

    نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت کویورپی پارلیمنٹیرینز کے وفد کوکشمیر جانے کی اجازت دینے کے اپنے فیصلے پرشدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جس میں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے دفترکی آشیرباد کے ساتھ ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی ہدایت پر 24 دائیں بازو کے یورپی یونین کے پارلیمنٹیرین کے کشمیر کے "نجی” دورے کا منصوبہ بنایا گیا اور بڑی حد تک اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ بی جے پی کے ایک رہنما نے کہا کہ یہ دورہ ، کشمیر کے اس طرح کے مجوزہ دوروں میں واحد اور پہلا واقعہ ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بظاہر اس دورے کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر برطانوی شہری میڈی شرما کے ذریعہ کی گئی جو ایک نجی تنظیم’ ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی'(اقتصادی اور سماجی تھنک ٹینک برائے خواتین )کی بانی ہے۔ اس این جی اوسے ایک اور ہندوستانی تھنک ٹینک ‘انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نان الائنڈسٹڈیز’ کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور تمام اخراجات مہیا کئے گئے ۔ برطانوی سیاستدان کرس ڈیوس کو بھیجے گئے دعوت نامے اسی ادارے کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ حقیقت میں ،

    باغی ٹی وی کو حاصل ہونے والی خصوصی رپورٹ‌کے مطابق اس دورے کی بہت ہی احتیاط اور باریک بینی سے منصوبہ بندی کی گئی جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے گمراہ کرنا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جیشنکر اس منصوبہ بندی سے آگاہ تھے ان کے علاوہ وزارت خارجہ کے تمام بڑے عہدیدار اس سے لاعلم تھے۔ جیشنکر نے رواں سال 30 اگست کو برسلز کے دورے پر یورپی پارلیمنٹ کے ممبروں کو کشمیر کا دورہ کروانے کا خیال پیش کیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق بیرونی دوروں کے تمام انتظامات فارن آفس کو کرنا ہوتے ہیں۔ لیکن ان پروٹوکولز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہندوستانی حکومت نے دفترخارجہ کی بجائے براہ راست میڈی شرما اور ان کی این جی او کو استعمال کرنے کافیصلہ کیا۔اس این جی او نے تمام شرکاء کو دعوت نامے بھیجتے ہوئے یہ بتایا کہ وہ بھارت کے وزیر اعظم کے ساتھ” وی آئی پی میٹنگ "کا اہتمام کررہی ہے ۔ یہ تمام انتظامات براہ راست اجیت دوول کی نگرانی میں ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وفد کا مقصد مودی سرکار کی کشمیر پالیسی کے ناقدین کو خاموش کرنے کے لئے حمایت حاصل کرنا تھا۔

    بی جے پی کے ایک اور رہنما نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس طرح کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہئے۔ ہمیں ان لوگوں کو صحیح نقطہ نظر پیش کرنا ہوگا جو توقعات کے بغیر ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ صرف اجتماعی کوششیں ہی مثبت نتائج کا باعث بنیں گی ۔ دورے کے حوالے سے برطانیہ کے لبرل ڈیموکریٹس کرس ڈیوس کو بھی دعوت دی گئی تھی ۔کرس ڈیوس کے دفتر کے سٹاف نے بتایا کہ وہ ابتدائی طور پر آنے پر راضی ہوچکے تھے ، لیکن جب انھوں نے اصرار کیا کہ ان کے ساتھ آزاد صحافی بھی شامل ہوں گے تو ان کا دعوت نامہ منسوخ کردیا گیا۔

    ذمہ دار ذرائع کے مطابق ڈیوس نے اپنے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ پہلے ہی لمحے مجھے اس دورے کی دعوت سے محسوس ہوا کہ اس سٹنٹ کا مقصد نریندر مودی کو تقویت پہنچانا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ کشمیر میں حکومت ہند کے اقدامات ایک عظیم جمہوریت کے بہترین اصولوں کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں ۔

  • پاسبانِ ناموس رسالت غازی علم دین شہید–از… صالح عبداللہ جتوئی

    میں اپنی بات کا آغاز شاعر رسول صل اللہ علیہ و سلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ کی نعت سے کروں گا جس میں انہوں نے کیا خوب انداز میں آمنہ کے لال کی شان بیان کی ہے اور گستاخان کو سختی سے تنبیہ کی ہے۔ اسکا اردو ترجمہ یہ ہے.

    "نبی کی شان اقدس پہ زبانیں جو نکالیں گے
    خدا کے حکم سے ایسی زبانیں کھینچ ڈالیں گے”
    اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے۔
    "کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنے مال جان اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ جان لے.”

    اس فرمان کے مطابق ہم پہ یہ لازم ہے کہ ہم محسن انسانیت صل اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے پاسبان بنیں اور اسی میں ہماری اخروی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ ہر دور میں گستاخ رسول پیدا ہوۓ ہیں اور ہر دور میں وہ ذلیل وخوار ہو کے عبرت کا نشان بنے ہیں اور میرے آقا صل اللہ علیہ وسلم نے بھی گستاخان کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے گستاخان ملعون ہیں، جہاں بھی پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور بُرے طریقے کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔” اور آیت نمبر 62 میں پھر اسے اللہ کی سنت اور قانون قرار دیا گیا ہے یعنی توہین رسالت کے بارے قانونِ الہٰی یہی ہے کہ ایسے ناپاک ملعون لوگ بُری سزا کے حقدار اور واجب القتل ہیں۔ سورۃ الاحزاب کی آیت 56 سے لے کر آیات 62 تک کا مفہوم ومراد یہی ہے. ”کعب بن اشرف کو اس لئے قتل کیا کہ اس نے نبی کریمﷺ کے عہد کو توڑا۔ آپ ﷺ کی توہین کی اور آپ کو گالی دی اور اس کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپﷺ کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا پھر وہ آپﷺ کے خلاف اہل حرب کا معاون بن گیا۔”

    محمد بن مسلمہ وغیرہ کو جب کعب کے قتل کے لئے روانہ فرمایا تو آپﷺ ان کے ہمراہ بقیع غرقد تک خود تشریف لے گئے اور اللہ کے نام پر اُنہیں روانہ کیا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا چاند پہ تھوکنے کے مترادف ہے اور یہ گٹر کے کیڑے جب گستاخی کرتے ہیں تو خوف کے مارے مسلمانوں سے چھپتے پھرتے ہیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    کیونکہ مسلمان اپنی توہین تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن نبی کی حرمت پہ آنچ نہیں آنے دیتے صحابہ کے بعد قربان ہونیوالی شخصیت غازی علم دین ہیں جنہوں نے ہر کسی کے دل میں گھر کیا غازی علم دین 4 دسمبر 1908 میں پیدا ہوۓ ان کا تعلق ایک غریب ترکھان خاندان سے تھا اور وہ ایک دیہاڑی دار ترکھان تھے جو ہر روز اوزار لے کر کام کے لیے جاتے تھے اس دور میں ایک شخص مہاشے راجپال انڈین نے 1927 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام رنگیلا رسول تھا

    جس سے وہاں کے مسلمان بہت زیادہ مشتعل ہو گئے اور جلسے جلوس کی صورت میں باہر نکل آۓ اور ان کو کنٹرول کرنے کے لیے راج پال کو گرفتار کر لیا گیا لیکن لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج نے راج پال کو قانونی سقم کو بنیاد بنا کر رہا کر دیا اور مسلمانوں میں محشر برپا ہو گیا اور بھاری تعداد میں مسلمان سڑکوں پہ آ گئے اور دفعہ 144 کے باوجود ایک جلسہ عام کیا جس میں اس دور کے بہت بڑے خطیب عطاء اللہ شاہ بخاری نے بہت زبردست خطاب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب شان بیان کی جس نے مسلمانوں کے دل میں جوش و ولولہ پیدا کر دیا ایک دن معمول کے مطابق غازی علم دین 6 ستمبر 1929 جو کام پہ جا رہا تھا تو راستے میں اس نے عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان کی حرمت رسول پہ دل کو گرما دینے والی تقاریر سنی اور سَکتے میں آگئے اور اسی وقت انہوں نے دکان سے ایک چاقو خریدا۔

    وہ جلد سے جلد شاتم رسول کو جہنم کی طرف عازم سفر کرنا چاہتے تھے۔ اتنے میں راج پال دفتر پہنچ گیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھنے ہی لگا کہ غازی علم الدین نے پتلون میں چھپا خنجر نکالا اور پلک جھپکنے سے پہلے علم الدین راج پال پر جھپٹ پڑے اور اسکے سینے پر بیٹھ کر پے درپے اس پر خنجروں کے وار کر دیے۔ اتنا عظیم معرکہ انجام دینے کے بعد علم الدین نے بھاگنے کی بالکل کوشش نہیں کی بلکہ خود کو ملازموں کے حوالے کر دیا اور ملازموں نے پولیس کو بلایا تو پولیس علم الدین کو گرفتار کر کے لے گئی اور اس وقت کئی لوگوں نے اس پہ طرح طرح کی باتیں کیں اور غازی علم دین کو غلط ثابت کرنے کی کوششیں کی گئی کبھی کہا جاتا کہ قانون ہاتھ میں لیا گیا ہے اور کبھی یہ کہا گیا کہ یہ کیسا نبی ہے جس کی حرمت کے تقدس میں اپنے ہاتھ خون آلود کیے جائیں لیکن غازی علم دین کا یہ اقدام اس لیے تھا کیونکہ وہاں پہ ناموس رسالت کا کوئی قانون نہیں تھا

    سو وہ اس جاہلانہ مہم میں ناکام ہو گئے اور اس میں قادیانیوں نے بھرپور حصہ لیا تھا جو اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں. محب رسول میں گرفتار غازی علم دین شہید کو 31 اکتوبر کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دے گئی اور پھانسی کے وقت انہوں نے رسے کو بوسہ دیا اور مسکرا رہے تھے کیونکہ وہ مر کے امر ہونے والے تھے اور جنتوں کے مہمان بننے والے تھے اللہ نے انہیں سرخرو فرمایا اور ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ میں سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں 6 لاکھ افراد نے شرکت کی اور جنازہ کا جلوس پانچ میل لمبا تھا ان کا جنازہ پڑھانے کا شرف قاری شمس الدین کو ہوا جو مسجد وزیر خان کے خطیب تھے علامہ اقبال جیسی مفکر شخصیت بھی ان کی قسمت پہ رشک کر رہے تھے اور خود انہوں نے غازی علم دین کو لحد میں اتارا اور ساتھ یہ کہا
    "آج لوہاروں کا لڑکا ہم جیسے پڑھے لکھے لوگوں سے بازی لے گیا.”

    مناسب قانون کے نہ ہونے سے گٹر کے کیڑے نکلتے رہتے ہیں اور انکا بھرپور جواب دینے کے لئے اللہ نے غازی علم دین جیسے ہیرے بھی پیدا کیے ہیں جو ان شاتموں کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہیں.
    اسی طرح جب ناموس کے قانون سزا دینے سے قاصر ہو گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے شاتم رسول کا کام تمام کرنے کے لیے علم دین کو چن لیا اور اس نے ثابت کر دیا کہ ہر دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے پاسبان موجود ہیں جو کٹ تو سکتے ہیں لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے نبی کی شان میں کوئی گستاخی کرے.
    اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں حرمت رسول صل اللہ علیہ و سلم کا محافظ بناۓ اور انکی سنتوں پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثمہ آمین..
    گستاخ رسول کی سزا
    سر تن سے جدا
    حرمت رسول پہ جان بھی قربان ہے

    پاسبانِ ناموس رسالت غازی علم دین شہید–از… صالح عبداللہ جتوئی

  • کرتارپور سکھوں کے لیے کیوں اہم ؟

    کرتار پور پاکستانی پنجاب کے ضلع نارووال میں شکر گڑھ کے علاقے میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے تھے۔کرتارپور میں واقع دربار صاحب گردوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر کا ہی ہے۔

    یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک دور دراز گاؤں میں ہے۔

    پکی سڑک یعنی شکر گڑھ روڈ سے نیچے اترتے ہی ایک دلفریب منظر آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ سرسبز کھیت آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، پگڈنڈیوں پر بھاگتے دوڑتے بچے اور ریگتی بیل گاڑیاں، دور درختوں کی چھاؤں میں چلتے ٹیوب ویلز اور کھیتوں کے بیچوں بیچ ایک سفید عمارت۔دھان کی فصل اور پرسکون دیہی ماحول میں گردوارے کی سنگِ مرمر کی عمارت دور سے نیلے آسمان تلے لہلاتے کھیتوں میں بیٹھے کسی سفید پرندے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔

    تاریخ میں پہلی بار50 روپے کا یادگاری سکہ جاری ، کس کے نام پر سب حیران

    گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا۔ اسی مناسبت سے اسے ‘سری کُھو صاحب’ کہا جاتا ہےکنویں کے ساتھ ہی ایک بم ٹکڑا بھی شیشے کے شو کیش میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اس پر درج تحریر کے مطابق یہ گولہ انڈین ایئر فورس نے سنہ 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران پھینکا تھا جسے کنویں نے ’اپنی گود میں لے لیا اور دربار تباہ ہونے سے محفوظ رہا۔‘

    برطانیہ نے10 ملین یادگاری سکے ضائع ، پاکستان نے جاری کردیئے

    گردوارے کے داخلی دروازے کے باہر سر ڈھانپنے کے بارے میں ہدایت درج ہے اور ملک کے دیگر گردواروں کی طرح‌ یہاں داخل ہونے کے لیے آپ کی مذہبی شناخت نہیں پوچھی جاتی۔گردوارے کے خدمت گاروں میں سکھ اور مسلمان دونوں شامل ہیں اور ہر آنے والے کے لیے یہاں لنگر کا بھی اہتمام ہے۔مقامی افراد کے مطابق یہاں مسلمان باقاعدگی سے فاتحہ خوانی کے لیے آتے ہیں۔

    بابا گرو نانک کو مقامی مسلمان افراد ایک برگزیدہ ہستی کا درجہ دیتے ہیں جبکہ سکھ انھیں سکھ مذہب کا بانی سمجھتے ہیں۔گردوارے کی مرکزی عمارت کے باہر کشادہ صحن ہے جہاں لنگر خانہ اور یاتریوں کے قیام کے کمرے موجود ہیں۔گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والی سیلاب میں تباہ ہوگئی تھی ۔ موجودہ عمارت سنہ 1920 سے 1929 کے درمیان 1,35,600 روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی۔ سنہ 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس کے دوبارہ مرمت کی تھی۔

    سانپ کا کام ڈسنا!بھارت نے سابق وزرائے اعلیٰ‌کشمیرسے بنگلے بھی چھین لیے

    تقسیم ہند کے وقت یہ گردوارہ پاکستان کے حصے میں آیا لیکن قیامِ پاکستان کے بعد تقریباً 56 سال تک یہ گردوارہ ویران رہا۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں کے کشیدہ تعلقات کے سبب یہ گرودوارہ عرصہ دراز تک یاتریوں کا منتظر رہا۔سرحد کے دوسری جانب سکھ یاتری گرودوارہ دربار صاحب کو دیکھنے کے لیے دوبینوں کا استعمال کرتے ہیں، اس حوالے سے انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے خصوصی طور پر ’درشن ستھل‘ قائم کیے ہیں تاکہ وہ اس جانب واضح طور پر گردوارے کے درشن کر سکیں۔

    کرتار پور-ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں انڈیا اور پاکستان کے حوالے سے مشاورت کی گئی تھی، اب 20 برس بعد دوبارہ یہ خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔دونوں جانب سے امید کی جا رہی ہے کہ اب کی بار ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر سکھوں کے اس دیرینہ مطالبے پر شاید کچھ پیش رفت ہو جائے گی۔

    بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی۔سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہر سال بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر سکھ بھارتی سرحد کے قریب عبادت کرتے ہیں اور بہت سے زائرین دوربین کے ذریعے گردوارے کی زیارت بھی کرتے ہیں۔