Baaghi TV

Author: +9251

  • مودی پاکستانی فضائی حدود پار نہیں کرسکتے ،بھارتی درخواست ایک بار پھر مسترد

    اسلام آباد: کشمیریوں کے قاتل ، انسانیت کے دشمن بھارتی وزیراعظم پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کریں ورنہ مار گرایا جائے گا، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد نے نئی دہلی کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

    25 ہزارآنسوگیس شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا کہ بھارتی حکومت نے 28 اکتوبر کو پاکستان سے نریندر مودی کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست دی تھی، بھارتی وزیراعظم نے 29 اکتوبر کو سعودی عرب میں ہونے والے عالمی کاروباری کانفرنس میں شرکت کرنی ہے۔

    10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ‘یہ فیصلہ آج کے یوم سیاہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ہائی کمشنر کو تحریری طور پر اس فیصلے سے آگاہ کیا جارہا ہے۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان بھی 28 اکتوبر کو ریاض میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے جائیں گے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 84 واں دن،کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں‌

    واضح رہے کہ پاکستان نے ستمبر کے مہینے میں بھی نریندر مودی کے جرمنی کے سفر کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھارتی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال، ہندوستان کا رویہ، جو ظلم و بربریت اور وہاں ہونے والی حق تلفیوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہم ہندوستان کے وزیر اعظم کو اجازت نہیں دیں گے’۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی قوانین کے تحت پابند ہے کہ وہ بھارتی وزیراعظم کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے اگر اس کو مسترد کردیا گیا تو بھارت انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن سے اپیل کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑسکتا ہے۔

  • حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخی کیخلاف ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، بڑا قدم اٹھا لیا

    حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخی کیخلاف ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، بڑا قدم اٹھا لیا

    جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخی کے خلاف اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے،

    کشمیر، یوم سیاہ، وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید کی جانب سے جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخ کئے جانے کے خلاف سینیٹ میں باقاعدہ تحریک استحقاق جمع کروا دی گئی ہے اور حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کو پارلیمنٹ کی توہین قرار دیا گیا ہے، مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے تحریک استحقاق جمع کرواتے ہوئے کہا ہے کہ نادرا کی جانب سے حافظ حمداللہ کی پاکستانی شہریت منسوخ کرنا پارلیمنٹ کی توہین کے مترادف ہے، چیئرمین سینیٹ فوری طور پر استحقاق کمیٹی کا اجلاس بلائیں اور نادرا کے خلاف کارروائی کی جائے،

    انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف رہنما حافظ حمد اللہ ممبر سینیٹ اور بلوچستان کے وزیر صحت رہ چکے ہیں، اسمبلی کا رکن ہونا بذات خود پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت ہے، ارکان پارلیمنٹ میں اس اقدام سے شدید تشویش پیدا ہوگئی ہے، تحریک استحقاق کے متن میں کہا گیا ہے کہ سابق رکن سینیٹ کی شہریت کی منسوخی سےشدیدبےچینی پائی جاتی ہے، یاد رہے کہ ایک دن قبل نادرا کی جانب سے حافظ حمد اللہ کی پاکستانی شہریت منسوخ کر دی گئی تھی جس کے بعد پیمرانے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی تھی کہ حافظ حمداللہ کو ٹاک شوز میں بھی مدعو نہ کیا جائے، حکومت کے اس اقدام کے بعد سینیٹر پرویز رشید نے سینیٹ میں تحریک استحقاق جمع کروائی ہے،

  • کلین گرین پاکستان انڈیکس پر عملدرآمد کے لئے 24 رکنی فیصل آباد سٹی ایمپلیمنٹیشن کمیٹی تشکیل

    فیصل آباد( )حکومت پنجاب کی ہدایات پر کلین گرین پاکستان انڈیکس پر عملدرآمد کے لئے 24 رکنی فیصل آباد سٹی ایمپلیمنٹیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے چیئرمین ڈویژنل کمشنر ہونگے جبکہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو فوکل پرسن اور ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو بطور سیکرٹری نامزد کیا گیا ہے اس ضمن میں کمشنر آفس کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کے دیگر ارکان میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ( ریونیو ) ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ، ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے ، مینجمنگ ڈائریکٹر واسا ، اسسٹنٹ کمشنر ( صدر ) ، اسسٹنٹ کمشنر ( سٹی ) ، ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے ، میجنگ ڈائریکٹر فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ، سی ای او ایجوکیشن ، سی ای او ہیلتھ ، ڈائریکٹر انفارمیشن ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ، ڈسٹرکٹ آفیسر فاریسٹ ، صدر پریس کلب ، ابرار رشید ڈھلوں ، ریاض کموکا ، مس شبانہ خرم ، حمزہ یاسین ، حبقوق گل اور ظفر ڈوگر شامل ہیں ۔ ٹی او آرز کے مطابق کمیٹی کی طرف سے کلین گرین پاکستان انڈکس پر عملدرآمد کے لئے مشاورت کے ساتھ ورک پلان ترتیب دیا جائے گا اور ورک پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے پندرہ روزہ اجلاس منعقد ہو گا جبکہ کمیٹی کے ارکان کی طرف سے دائرہ کار کے علاقہ میں مختلف بازاروں ، شاہراﺅں ، گلیوں ونالوں کا انفرادی طورپر معائنہ کیا جا سکے گا اور دئیے گئے ہر انڈیکیٹر کے مطابق جانچ کے طریقہ کار کی بنیاد پر پراگرس رپورٹ کو اجاگر کیا جائے گا ۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد کلین گرین پاکستان انڈیکس کے لئے شہری درجہ بندی کرنا اور باہمی اشتراک سے اس انڈیکس پر عملدرآمد پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرنا ہے

  • بحالی وتربیتی کمیٹی برائے معذوراں کا اجلاس

    فیصل آباد(محمد اویس کی رپورٹ

    )ضلعی بحالی وتربتی کمیٹی برائے معذوراں کا اجلاس ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں منعقدہوا جس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز عفیفہ شاجیہ نے کی۔اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر خالد بشیر،ڈسٹرکٹ زکوة آفیسر محمد خالد،ڈی او سپیشل ایجوکیشن چوہدری عبدالحمید،سوشل ویلفئیر آفیسر محمد طاہر،صدر تنظیم اللسان ڈاکٹرافتخار احمد،صنعتکار فرخ زمان کے علاوہ لیبر آفیسر،معذور افراد کے مقررکردہ فوکل پرسنز عاطف،قاسم علی،قمر الزمان اور دیگر بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر نے بتایاکہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر معذورافراد کی بحالی وتربیتی کے سلسلے میں اقدامات جاری ہیں اور گزشتہ ایک ماہ میں معذور افراد کی طرف سے مالی امداد،ڈےوائسز کی فراہمی کے لئے درخواستیں موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈس ایبل اسسمنٹ سر ٹیفکیٹ کے حامل معذورافراد جو کسی قسم کی حکومتی امداد نہ لے رہے ہوں درخواست دینے کے اہل ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سماجی بہبود کے اداروں میں معذورافراد کی تربیت بھی کرائی جارہی ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز نے معذورافراد کی بحالی وتربیت کے سلسلے میں محکمہ سماجی بہبود کے اقدامات کاجائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مستحق معذور افراد اس سہولت سے محروم نہیں رہنے چاہیں۔انہوں نے کہا کہ اسسمنٹ سر ٹیفکیٹ کے اجراءکے سلسلے میں تمام تر درکار تقاضے پورے ہونے چاہیں۔انہوں نے بعض کیسز کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کے دیگر ارکان سے آراءطلب کیں اور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سے کہا کہ سب کمیٹی کی میٹنگ منعقد کرکے موصولہ درخواستوں میں ضروری امور چیک کئے جائیں تاکہ معذورافراد کو مالی امداد یا ڈےوائسز کی فراہمی میں تاخےر نہ ہو۔

  • آزادی مارچ یا کچھ اور، عمران خان نے اہم اسلامی ملک کا دورہ کیوں منسوخ‌ کیا؟ بڑی خبر

    آزادی مارچ یا کچھ اور، عمران خان نے اہم اسلامی ملک کا دورہ کیوں منسوخ‌ کیا؟ بڑی خبر

    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اہم اسلامی ملک کا دورہ منسوخ‌ کر دیا ہے،

    کشمیر، یوم سیاہ، وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی 92 نیوز نے اپنی ایک رپورٹ‌ میں دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان برادر اسلامی ملک سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شریک نہیں‌ ہوں گے، مذکورہ ٹی وی چینل نے ذرائع کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنا دورہ سعودی عرب منسوخ‌ کیا ہے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دورہ منسوخ کئے جانے کی وجہ وطن عزیز پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ ہے، سعودی عرب میں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس 29 سے 31 اکتوبر تک منعقد ہونی ہے جس میں دنیا بھر کے لیڈرز شریک ہوں گے اور وزیراعظم عمران خان کو بھی سعودی عرب جانا تھا تاہم اب یہ دورہ ملتوی کئے جانے کی اطلاعات ہیں،

    بھٹو اب لاڑکانہ میں زندہ کیوں نہیں رہا؟ بلاول جواب دیں؟ ایسا کس نے کہہ دیا

    بلاول نے اگر یہ…. نہ کیا تو اسکا کیا حشر ہو گا؟ فواد چودھری نے یہ کیا کہہ دیا

    واضح‌ رہے کہ مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جے یو آئی کے آزادی مارچ کارواں کا آغاز کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے ہوا، آزادی مارچ کی سربراہی جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کررہے ہیں، آزادی مارچ میں جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، اے این پی اور دیگر جماعتوں کے کارکنان بھی کثیر تعداد میں شریک ہیں،

  • پاکستانی عوام کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، وزیراعظم کی حریت وفد سے گفتگو

    پاکستانی عوام کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، وزیراعظم کی حریت وفد سے گفتگو

    حریت رہنماؤں کے وفد نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے،

    کشمیر، یوم سیاہ، وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام

    اسلام آباد ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیری بھائیوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے، پاکستانی عوام کا دل کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے،پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اتوار کو وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حریت رہنمائوں کے وفد میں نثار مرزا، محمد حسین خطیب اور جاوید اقبال شامل تھے، معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی ملاقات میں موجود تھیں،

    حریت رہنمائوں نے عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اجاگر کرے گی۔ پاکستانی عوام کا دل کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے، پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، حکومت پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گی اور مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اجاگر کرے گی،

  • 27 اکتوبر یوم سیاہ اور اقوام متحدہ کا کردار—از–صالح عبداللہ جتوئی

    27 اکتوبر کو تمام کشمیری کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جس میں وہ شہداء اور آزادی کے متوالوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور بھارت کے سفاک چہرے کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

    گزشتہ سات دہائیوں سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہے اور نت نئے طریقوں سے اس جنت نظیر وادی پہ ظلم و بربریت کا طوفان برپا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں کشمیری جان کی بازی ہار چکے ہیں اور کئی اس سعادت کو حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں.

    27 اکتوبر وہ دن ہے جس دن بھارتی ناپاک بھارت نے رات کے اندھیرے میں کشمیر میں اپنی فوج اتار دی اور نہتے کشمیریوں پہ حملہ کر کے کشمیر پہ قبضہ جما لیا لیکن کشمیریوں کی جدوجہد اور مجاہدین کے حملوں نے کشمیر کا آدھا حصہ چھین لیا اور کامیابی کی راہ پہ گامزن ہی تھے کہ نہرو نے ان کے آگے گھٹنے ٹیک لئے اور اس مسئلہ کو 2 نومبر کو اقوام متحدہ لے گیا اور کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ وہ اس مسئلہ کو استصواب راۓ سے حل کرے گا اور جس طرح کشمیری چاہیں گے ویسا ہی ہو گا اور وہ جس کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں گے ان کو نہیں روکا جاۓ گا اس کی اقوام متحدہ میں کی گئی یہ تقریر آج بھی آن ریکارڈ موجود ہے لیکن بعد ازاں اس پہ عمل نہ کر کے اس کو ردی کی ٹوکری کی زینت بنا دیا گیا اور اس پہ بالکل بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا.

    72 سال گزر چکے ہیں اور کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے لیکن تمام عالمی تنظیمیں اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے ہوۓ ہیں کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی یہاں کتوں کے مرنے پہ ماتم ہوتا ہے لیکن کشمیریوں کے قتل عام ہونے کے باوجود سب نے آنکھیں پھیری ہوئی ہیں شاید ان کا یہ جرم ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمان پہ ہونے والے ظلم سے کافروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا.

    گذشتہ 3 ماہ سے سفاک مودی نے بھارت میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور معصوم کشمیریوں کی زندگی دوبھر کر دی ہے ان کا کھانا پینا انٹرنیٹ سروس سب کچھ معطل ہے اور کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کا اپنے رشتہ داروں سے رابطہ بھی نہیں ہو پایا اور حریت قیادت بھی مذموم سازشوں کا شکار ہے اور بلاوجہ پابند سلاسل ہے اور ان کو اپنے خاندان والوں تک سے بھی صحیح طرح بات نہیں کرنے دی جاتی اور انہیں ذہنی طور پر ٹارچر بھی کیا جاتا ہے جس کی واضح مثال آپا آسیہ اندرابی کے بیٹے ابن قاسم جنہوں نے حال ہی میں کشمیر ملین مارچ میں بتایا کہ 30 منٹ بات کرنے کا وقت دیا جاتا ہے لیکن ہر 5 منٹ بعد شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ بس کریں بہت وقت ہو گیا ہے اب فون بند کر دیں لیکن اقوام متحدہ نے حریت قیادت کی بلاوجہ کی گرفتاریوں پہ کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی بھارت کو تجارتی و معاشی لحاظ سے تنہا کرنے کی دھمکی دی ہے حالانکہ عمران خان صاحب نے 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں بڑے زبردست انداز میں پاکستان اور کشمیریوں کی نمائندگی کی ہے اور اپنی تقریر میں انہوں نے بھرپور طریقے سے مسئلہ کشمیر کا مقدمہ پیش کیا اور بھارتی مظالم سے پوری دنیا کو آگاہ کیا کہ بھارت کس طرح تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اور الٹا پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے.

    بھارت نے 27 فروری کو اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیر کر پاکستان پہ حملہ کیا اور بدلے میں منہ کی کھا کے ذلیل و رسوا ہوا لیکن اقوام متحدہ نے اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا نہ ہی اسے دہشتگرد ملک قرار دیا اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پہ ہزارہا دفعہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی شہری زخمی اور شہید ہو چکے ہیں اور دنیا کو بھارت کا گھناؤنا چہرہ دکھانے کے لیے پاکستان عالمی مبصرین اور سفیروں کو بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کروا چکا ہے لیکن ابھی تک اقوام متحدہ نے نظریں پھیر رکھی ہیں اور سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی بھارت کو تنہا کرنے کی دھمکی لگائی گئی۔

    کیا یہ قوانین اور چارٹر صرف پاکستان اور مسلمانوں پہ ہی لاگو ہوتے ہیں؟؟؟
    کیا مسلمان انسان نہیں ہیں؟؟؟
    کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں؟؟؟؟
    یا کفر ملت واحدہ کے ایجنڈے پہ کام کر رہا ہے اور ان کی سازشیں صرف پاکستان اور دوسرے مسلمانوں کے لیے ہی ہیں؟؟؟؟
    کیونکہ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے پاکستان سب کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے.

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب نے بھی برملا کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو اس کی ناکامی کا سہرا اقوام متحدہ کے سر پہ سجے گا اور یہ اس کی بہت بڑی ناکامی ہو گی اور اس کے بعد دنیا میں جو حالات کشیدہ ہوں گے اس کا ذمہ دار بھی اقوام متحدہ اور عالمی برادری ہو گی کیونکہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے اور سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود کوئی بھی اس پہ بولنے کو بھی تیار نہیں ہے

    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    پورے شہر نے پہن رکھے ہیں دستانے

    یہی وجہ ہے کہ کشمیری گن اٹھانے پہ مجبور ہو چکے ہیں اور قلم سے عاری ہو گئے ہیں ایسے کئی نوجوانوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم چھوڑ کے بندوق اٹھائی اور اس تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی.

    بھارت سن لے کشمیر پہ جتنا ظلم ڈھاؤ گے آزادی کی تحریک اتنی ہی تیز ہو گی اور ان شاء اللہ ایک دن ضرور آۓ گا جب کشمیری یوم سیاہ کی بجاۓ یوم نجات منائیں گے اور بھارت کے کئی ٹکڑے ہوں گے.
    اور بحیثیت مسلمان اور پاکستانی اب ہماری زمہ داری ہے کہ ہم کشمیر کے لیے کس حد تک آواز بلند کرتے ہیں اور اس ظلم و بربریت کے خاتمے کے لئے کس طرح کفر کے ایوانوں کو لرزا سکتے ہیں تاکہ دنیا میں اس دور کے فرعون سے مظلوم قوم کو چھٹکارہ مل جاۓ اور ہم بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائیں۔

    اللّہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • 27اکتوبر یوم سیاہ—از–ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر ایک ایسی خوبصورت وادی جس کو جنت نظیر وادی کہا جاتا ہے۔
    برف سے ڈھکے پہاڑوں
    اور حسین کہساروں کی ایسی سرزمین جس کی وادیاں، جھرنے اور آبشاروں کی خوبصورتی کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا دنیا میں ہی جنت کی سیر کرلی گئی ہو۔
    لیکن اس وادی کے لوگوں کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا تھا تو اسی کی وجہ سے ان کی جنت کو جہنم بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔
    پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے وقت یہ طے پایا گیا تھا کہ ریاستوں کو اختیار ہوگا اپنی مرضی سے دونوں ممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتی ہیں کشمیریوں نے ڈوگرہ مہاراجہ کے شخصی راج سے نجات پانے کے لئے اپنی مخصوص جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی جو کہ بھارتی شر پسندوں کو برداشت نہ ہوئی۔
    اسی دن سے بھارت نے کشمیر کے خلاف سازشوں کا تانا بانا بُننا شروع کردیا اور آخرکار اس کا عملی مظاہرہ 27اکتوبر 1947 کو رات کے اندھیرے میں بھارتی فوج کو کشمیر میں اتار کر کیا گیا اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا گیا۔

    کشمیریوں نے خوب مزاحمت کی اور آدھا حصہ چھڑوا لیا جو کہ آج آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
    اسی اثناء میں نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا اور وعدوں کے پل باندھ کر قراردادیں پیش کی کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق ہوگا اور وہ ریفرینڈم کے ذریعے جس ملک کے ساتھ چاہیں الحاق کرسکتے ہیں۔
    2نومبر کو اقوام متحدہ کے سامنے کی گئی نہرو کی تقریر آج بھی آن ریکارڈ موجود ہے لیکن کبھی بھی اس کے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیریں گئی اور کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے بہت سے مظالم کئے گئے۔
    کشمیر آج تک اپنی آزادی کی جنگ خود لڑ رہے ہیں اور ہندو بنیے کے مظالم کا شکار ہورہے ہیں لیکن پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
    غیر مسلم ممالک میں اگر کوئی جانور بھی ہلاک ہوجاۓ تو کئی کئی دن اس کے غم میں سوگ منایا جاتا ہے لیکن کشمیر شمشان گھاٹ کے مناظر پیش کرتا ہے جہاں ہر روز نوجوان،بچے ،بوڑھے اور عورتوں کا قتل عام ہورہا ہے اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کشمیریوں کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا ہے….!!!!
    اس لئے ان کی زندگیوں کا غم پوری دنیا میں کسی کو نہیں ہوتا۔
    دنیا میں یہ کہاں کا قانون ہے کہ کوئی بھی ملک طاقت کے بل بوتے پر معصوم جانوں کے خون کا پیاسا ہوجاۓ اور بنا کسی جرم کے ان پر ظلم و زیادتی کرے لیکن اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا خواب خرگوش میں ہے۔

    کشمیریوں پر کیے گئے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں انٹرنیشنل میڈیا ہزاروں دفعہ کوریج کرچکا ہے کہ بھارتی فوج کس طرح مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔
    کس طرح کشمیری خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے اور ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اپنی معصوم جانوں اور ماؤں بہنوں کی عزتیں بچانے کے لئے اگر کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔

    کیا بھارت اس قدر سفاکیت کے باوجود دہشت گرد نہیں ہے ؟؟؟؟؟

    گزشتہ کئی روز سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے کشمیریوں کے گھروں کو جیل بنا دیا گیا ہے جہاں کھانا پینا اور ادویات کی عدم دستیابی کی بدولت کئی کشمیری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    کیا یہ بھارتی دہشت گردی نہیں ہے؟؟؟؟

    بھارت نے خطے کا امن و امان تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اسکا ہاتھ روکنے کے لئے اقوام متحدہ نے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں۔

    بھارت نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ کا استعمال کرکے کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی اور ان کی آزادی کی آواز دبانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ہمیشہ سے منہ کی کھائی اور ناکام ہوا۔
    کشمیری سنگبازوں اور فریڈم فائٹرز کا مقابلہ کرنا بھارتی افواج کے بس کی بات نہیں رہی۔
    بھارت نے جس قدر مظالم کی انتہا کی اسی قدر کشمیری نوجوان قلم کتابیں چھوڑ کر مقابلے کے لئے نکل پڑے پی ایچ ڈی اسکالرز بھی بھارتی فوج کے مظالم کی روک تھام کے لیے عسکریت پسند تحریکوں کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوۓ۔
    کشمیریوں کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوں گے اور آزادی پانے کی خاطر وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنی مدد آپ کے تحت جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے لیکن ہم بطور مسلمان اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر بھارتی فوج کے خلاف ایکشن لے ورنہ ان کے اپنے ہی ممالک کے تمام لوگوں کا عدل و انصاف سے بھروسہ اٹھ جاۓ گا اور وہ دن دور نہیں جب دنیا کے منصفوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاۓ گا……!!!!!!

    27اکتوبر یوم سیاہ—از–ام ابیہا صالح جتوئی

  • نام نہاد بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ دنیا پر بے نقاب ہو گیا، عمران خان

    نام نہاد بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ دنیا پر بے نقاب ہو گیا، عمران خان

    وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقو ق کے احترام اور آزادی کو یقینی بنانے،

    اسلام آباد ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 5اگست 2019ء سے بھارتی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں کئی گنا اضافہ اور ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقو ق کے احترام اور آزادی کو یقینی بنانے، اور بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے امن و سلامتی کو لاحق شدید خطرات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ نام نہاد “بڑی جمہوریت” ہونے کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ مکمل طورپر بے نقاب ہوچکا ہے۔ہفتہ کو یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے ایک پیغام وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس سال یوم سیاہ کشمیر، جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے، ماضی کی نسبت مختلف اورنمایاں ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے بین الاقو امی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا اور 15 اگست 2019ء کو مزید یکطرفہ اقدامات کے ذریعے پہلے سے متنازعہ علاقے کی حیثیت میں ترامیم کرتے ہوئے آباد یاتی ڈھانچے اور شناخت کو تبدیل کردیا۔ پاکستان، کشمیریوں اور مسلم امہ نے واضح طور پر قانون اورا نصاف کے اس تمسخر کو مسترد کردیاہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019ء سے بھارتی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں کئی گنا اضافہ اور ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ غاصب فوج کی نفری میں اضافہ اور گذشتہ تین ماہ سے ذرائع ابلاغ کیمکمل بلیک آؤٹ کی وجہ سے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس وقت ادویات اور اشیائے خورد نوش کی شدید قلت ہے۔ ہزاروں افراد جابرانہ حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ ہزارو ں نوجوانوں کو اغوا ء کرکے نامعلوم مقام پر قید کردیا گیا ہے اور ان کے ساتھ غیر انسانی اور تضحیک آمیز سلوک کیا جارہا ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی آج پہلے سے کہیں زیادہ سفاکانہ رخ اختیار کر گئی ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقو ق کی تنظیمیں او ر عالمی ذرائع ابلاغ بھارت سے اس جبر کو ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ نام نہاد “بڑی جمہوریت” ہونے کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ مکمل طورپر بے نقاب ہوچکا ہے۔وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان فوری طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو اور ذرائع ابلاغ کے بلیک آؤٹ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی منسوخی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقو ق کے احترام اور آزادی کو یقینی بنانے، اور بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے امن و سلامتی کو لاحق شدید خطرات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے کشمیری بھائیوں و بہنوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے عین مطابق، حق خود ارایت کے حصول تک ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

  • کشمیریوں‌ کو حق خودارادیت ملنے تک بھرپورحمایت جاری رکھیں گے، ڈاکٹر عارف علوی

    کشمیریوں‌ کو حق خودارادیت ملنے تک بھرپورحمایت جاری رکھیں گے، ڈاکٹر عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ 27اکتوبر جموں و کشمیر کی تاریخ کاایک سیاہ ترین دن ہے۔72سال قبل اس روز ہندوستانی سکیورٹی فورسز نے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہتے اور بے گناہ کشمیریوںکی امنگوں کے بر عکس جبر،ظلم و تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے سری نگر پر قبضہ جما لیا،

    اسلام آباد ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی)پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اخلاقی و سیاسی اور سفارتی حمایت کا پختہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ 27اکتوبر2019ء کشمیر کے یوم سیاہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی متعدد قراردادوں میں ایک منصفانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو برقرار رکھا۔ اس پر عملدرآمدکے لئے عالمی برادری کی طرف سے ان قراردادوں اور وعدوں کی تجدید جاری ہے لیکن اس کے باوجود آج تک ہندوستان کشمیر میں وحشیانہ کارروائیوں اور دھونس ، دھاندلی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ5 اگست 2019 ء سے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں0 8 لاکھ سے زائد افراد کو غیر قانونی طور پر محصور کیا ہواہے ۔ ان میں کشمیری عوام، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن پر بھارتی سیکورٹی فو رسزناقابل بیان ظلم وتشدد کا ارتکاب کررہی ہیں ۔ ان جرائم میں ناقابل معافی کرفیو ، مواصلات کا بلیک آؤٹ بھی شامل ہیں، جوگزشتہ تین ماہ سے جاری ہیں اور یہ ریاستی دہشت گردی کی بد ترین مثال ہے جو بھارت کئی دہائیوں سے بے گناہ اور نہتے کشمیریوں پر برپا کئے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اس سے قطع نظر کہ بھارتی پالیسیوں اور تدابیرمیں کتنا ہی ظلم و بربریت کیوں نہ شامل ہو ،وہ کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو کچل نہیں سکتا،

    انہوں نے کہا کہ آج ہم کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے جدو جہد آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کیںاور بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے رہے۔ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اخلاقی و سیاسی اور سفارتی حمایت کا پختہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ کشمیریوںکے حق خودارادیت کے حصول تک اپنی حمایت جاری رکھے گا۔