باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے مختلف اضلاع کے لیے پولیس افسران کے انٹرویوز کیے، نئے ڈی پی اوز کی تعیناتی کے لیے 15 افسران کو بلایا گیا، 7 کے انٹرویوزہوئے، انٹرویو دینے والوں میں مفخرعدیل، حسن رضا، صاحبزادہ بلال عمر، حسن اقبال شامل ہیں، عطاالرحمان، سرفراز ورک اورندیم عباس نے بھی ڈی پی او کے لیےانٹرویو دیا، موجودہ ڈی پی اوزمیں زاہد مروت، ساجد کیانی اورفیصل شہزاد کوبھی بلایا گیا ہے، پنجاب میں 7 اضلاع کےڈی پی اوز کو تبدیل کرنے کے امکانات ہیں،
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیمول لٹل نے 35سالوں میں 93خواتین کو قتل کیا ہے اور قتل کے بعد ان خواتین کے خاکے بھی بنائے ہیں۔
ایف بی آئی تفتیشی اہلکاروں کے مطابق سیمول لٹل کے بنائے گئے خاکوں کی مدد سے مقتول خواتین کی شناخت کی جائے گی، تاہم ان میں سے کچھ کی شناخت ہوبھی گئی ہے۔ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ابھی تک 50 خواتین کے قتل کرنے کی تصدیق ہوئی ہے، لیکن تفتیش کاروں کے مطابق قاتل کے تمام اعترافات درست ہیں۔
قبل ازیں زیادہ تر ہلاکتوں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ حادثاتی طور پر ہوئیںیا ان کی وجہ معلوم نہ ہوسکی جبکہ کچھ لاشیں کبھی ملی ہی نہیں ہیں۔ 2014 میں سیمول لٹل کو تین خواتین کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا ہوگئی تھی۔
یاد رہے کہ سیمول لٹل ماضی میں باکسر تھے اور ’سیمول مکڈوول‘ کے نام سے بھی مشہور رہے ۔ سیمول کو پہلی بار 2012 میں گرفتار کیا گیا۔ قاتل کو پہلی مرتبہ منشیات کے الزام میں گرفتار ہوئے اور کیلیفورنیا بھیج دیئے گئے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان نے ایس ایچ او گرین ٹاؤن انسپکٹر محمد جاوید کو لائن حاضر کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز لاہورنے ایس پی صدرکو انسپکٹر محمد جاوید کے حوالے سے انکوائری کا حکم دیا تھا، ترجمان لاہور پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ناقص کارکردگی اور فرائض میں غفلت کی پاداش میں ٹرانسفر کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، ایس پی صدر ڈویژن کی خصوصی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی عمل میں لائی گئی ہے،
بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی طرف سے سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی اور بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی طرف سے نیو کلیئر حملے کی دھمکی کے بعد ایک اور بھارتی وزیر نے پاکستان کو گھر میں گھس کر مارنے کی گیڈر بھبھکی دی ہے۔
بھارت کے وزیراطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کرنے والوں کو ان کے گھر میں گھس کر مارا جائے گا۔
پرکاش نے بی جے پی کے نومنتخب ریاستی صدر ستیش پونیا کے عہدہ سنبھالنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بالاکوٹ میں سرجیکل اسٹرائک کرکے یہ ثابت کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے پاکستان کو ایک اور سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دی تھی۔ بھارتی آرمی چیف نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے بالاکوٹ میں ’دہشت گرد کیمپوں‘ کو پھر سے کھول دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کی ہدایت پر لاہور پولیس منشیات فروشوں کیخلاف سرگرم عمل ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان نے بتایا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن 16 ویں روز میں داخل ہو گیا ہے، تعلیمی اداروں کے گرد و نواح سے 394 منشیات فروش گرفتار کئے جا چکے ہیں، منشیات فروشوں کے قبضہ سے 113 کلو 782 گرام چرس اور2609 لیٹر شراب برآمد کی گئی، 62.5 گرام آئس اور 572 گرام ہیروئن سمیت بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی ہے، اسی طرح سٹی ڈویژن پولیس نے93، کینٹ ڈویژن 82 اورسول لائن ڈویژن نے 29 منشیات فروش گرفتار کئے ہیں،
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق صدر ڈویژن پولیس نے100، اقبال ٹاؤن42جبکہ ماڈل ٹاؤن ڈویژن نے48 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا ہے، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کے گرد منشیات کا دھندہ کرنے والوں کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہے ہیں، لاہور پولیس کی تعلیمی اداروں میں منشیات سے بچاو بارے آگاہی مہم بھی جاری ہے، واضح رہے کہ عوامی سطح پر اس امر کا بڑی دیر سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ تعلیمی اداروں کے باہر منشیات فروشی کرنے والوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور نوجوان نسل برباد کرنےو الوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے،
امریکا کے ڈپارٹمنٹ اف کامرس نے چین کے صوبے زن جیانگ سے تعلق رکھنے والی 28 کمپنیوں پر پابندی عائد کردی اور اس پابندی کی بنیادی وجہ امریکا و چین کے خراب معاشی تعلقات نہیں بلکہ چین کی طرف سے یوگوئر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو بتایا جا رہا ہے،
امریکا کے ڈپارٹمنٹ آف کامرس کے سیکرٹری ولبر راس نے کہا امریکا چینی مسلم اقلیت پر ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کسی صورت حمایت نہیں کرتا ، امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کی جانے والی چینی کمپنیوں میں ویڈیو کیمرے بنانے والی کمپنی ہک ویژن ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس پراڈکٹس بنانے والی کمپنی میگوی ٹیکنالوجی اور سینس ٹائم جیسی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں،
معیشیت کے اعتبار سے دنیا کے دو بڑے ممالک پچھلے کچھ عرصے تجارتی تعلقات کی خرابی کا سامنا کر رہے ہیں، اور اس کش مکش کے عالم میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی پراڈکٹس پر بھاری ٹیرف بھی لگا چکے ہیں، کچھ دن پہلے وائٹ ہاوس نے چین کیساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے اور مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے حامی بھری ہے،
امریکا کی طرف سے چینی مسلمانوں کے بارے بیانات پچھلے کافی عرصے سے مسلسل آ رہے ہیں ، جن میں امریکا چینی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھاتا رہا ہے، امریکا کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق چین نے صوبی زن جیانگ میں کئی قید خانے تعمیر کیے ہوئے ہیں ، جن میں کم و بیش ایک لاکھ مسلمانوں کو قید کیا ہوا ہے اور ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں، ان کو مساجد میں جانے اور قرآن پڑھنے سے روکا جا رہا ہے ، چینی حکام کیمطابق انہوں نے قید خانے نہیں بلکہ مسلمان بچوں کے سکول قائم کیے ہوئے ہیں ،
دوسری طرف چینی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈپارٹمنٹ آف کامرس کی طرف سے پاپبندیاں اور الزامات صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور چینی معیشیت کو ڈی ریل کرنے کیلئے کیے جا رہے ہیں، میگوی کمپنی کے ایک نمائندہ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی کمپنی کی بنائی ہوئی مصنوعات انسانی زندگیوں میں آسانی کا باعث بن رہی ہیں اور ایسے الزامات سراسر بے بنیاد ہیں ،
اور جہاں تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانا مقصود ہے تو کیا امریکہ کو کشمیر میں ہونے والے مظالم نظر نہیں آ رہے، اور اگر امریکہ کشمیر کی صورتحال سے باخبر ہے تو چین کی طرح بھارت پر پابندیاں کیوں نہیں لگاتا ، بہر حال امریکہ کے اس اقدام کے پیچھے بلاشبہ سیاسی مقصد پوشیدہ ہے
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے نوجوان صحافیوں کیلئے بڑا قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فواد چوہدری نے کہا ہے کہ صحافت ایک مشکل شعبہ ہے، میڈیا کے شعبے میں مقابلے کی فضا بہت سخت ہے، بدلتے دور کے ساتھ صحافت کے تقاضے بھی بدل رہے ہیں، اگلے چار پانچ سالوں میں روایتی صحافت نہ ہونے کے برابر ہوگی، ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے بے روز گار اور نوجوان صحافیوں کے لئے ‘‘ ڈیجیٹل کورسز’’ کا اعلان کیا اور کہا کہ یونیورسٹیاں دھڑا دھڑ ‘‘ماس کام ’’ گریجویٹس پیدا کر رہی ہیں، مارکیٹ میں ڈگری ہولڈرز کے حساب سے ملازمت کے مواقع کم ہیں، تعلیمی اداروں کو صحافت کے جدید تقاضوں کے مطابق سلیبس تیار کرنا چاہے، نوجوان صحافیوں کے جدید صحافت کے طور طریقے سیکھنے ہونگے،
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پارٹی کے وفد سے انکار کر دیا۔ انکار کرنے کی وجہ بھی مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے ٹوئٹر پر بیان کر دی ہے۔ مفتی اس وقت سرینگر میں ایک عمارت میں قید ہیں جسے سب جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ملاقات سے انکار کی وجہ بیان کرتے ہوئے التجامفتی نے اپنی والدہ کے فیصلہ کو درست قرار دیا اور اس کی وجہ بھارتی حکومت کو بتایا ہے ۔ التجا مفتی کے بقول بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کے حالات کے حوالے سے غلط بیانی کر رہی ہے۔
التجا مفتی نے اپنی والدہ کے ٹویٹر اکاﺅنٹ پر لکھا کہ ‘ملاقات کا پروگرام منسوخ کرنا صحیح فیصلہ ہے۔مرکزی قائدین کو دو ماہ سے نظر بند رکھا گیا ہے۔ مفتی نے سوال اٹھا یا کہ آخر کیوں محبوس رہنماوں اور انکے پارٹی رہنماوں کے درمیان ملاقاتوںکی ضرورت پیش آئی ہے؟
مفتی کے بقول ان ملاقاتوں کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پرآ رہے ہیں۔مفتی نے اس ٹویٹ کے ذریعے نیشنل کانفرنس کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
لاہور: مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کو لاک ڈاون کرنے کے لیے ملین مارچ کا اعلان کیا ہے اور اس بات کا عزم کا اظہار کیا ہےکہ اس مارچ میں لگ بھگ 15 لاکھ لوگ شرکت کریںگے ، مولانا فضل الرحمن ایک ملین یعنی 10 لاکھ لوگوں کو جمع کرتے ہیں تو پھر ان کے اخراجات کون برداشت کررہا ہے،
مولانا فضل الرحمن کے ملین مارچ کی اندر کی کہانی پاکستان کے معروف اینکر ، صحافی کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں افشاں کردی ہے، مبشر لقمان نے یوٹیوب پر سیر حاصل، حقائق پر مبنی اور مدلل گفتگو کرے مولانا کے لئے کئی سوالات چھوڑ دیئے ہیں جن کے جوابات شاید وہ زندگی بھر نہ دے سکیں
مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے ملین مارچ کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کھاناپینا، آمدورفت کے لیے ہزاروں گاڑیوں کا استعمال اورپھر دس لاکھ لوگوں کو قضائے حاجت کے لیے ٹائلٹس کی فراہمی بنیادی مسائل اور جزیات میں سے ہیں،
معروف اینکر مبشر لقمان نے بڑی ہی تفصیل سے اور دلیل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ایک ایک آدمی کے ایک وقت کے کھانے پر کم از کم 60 روپے خرچ آئیںتو ایک وقت کے کھانے پر 60 ملین یعنی پاکستانی 6 کروڑ روپے خرچ آئیںگے ، یہ ایک وقت کاکھانا ہے جب دن میںتین مرتبہ کھانا کھائیںگے تو پھر کم از کم اس کی لاگت 180 ملین روپے یعنی ایک دن 18 کروڑ روپے خرچ آئیںگے
مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے نام پر اسلام آباد کو لاک ڈاون کرنے کے لیے ایک مہینے کا پروگرام پہلے مرحلے میں تشکیل دیا ہے، اور ایک مہینے کے کھانے پر جو کم از کم خرچ ہوگا اس کی کل لاگت 5 ارب اور 40 کروڑ بنتی ہے ،
مبشر لقمان نے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ملین مارچ کے شرکاء کو یقینا پانی کی بھی ضرورت ہوگی ، اس کے علاوہ کھاناپکانے کےلیے ایندھن ، گیس، اور گیس سلینڈر ، چولہوںکی بھی ضرورت ہوتی ہے، پھر ان سارے معاملات کو انجام تک پہنچانے کے لیے مزدوروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے، چلو وہ سب فی الحال حساب میں نہیںلاتے مگر یہ تو حقیقت ہے کہ ایک گیس سلینڈر کی قیمت 6 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے اور پھر دس لاکھ لوگوں کے لیے کم از کم 50 ہزار سلینڈر کی ضرورت ہوگی جن کی کم از کم قیمت 30 کروڑ روپے کا خرچہ آئے گا
گیس چولہے کتنی تعداد میں منگوائے جائیں گے ان کی تعداد بھی ہزاروں میںہے ، یقینا ان کی تیاری کےلیے مولانا فضل الرحمن نے آرڈر دے رکھے ہوںگے اور اس کی صیح تعداد مولانا صاحب ہی بہتر جانتے ہیں
سنیئر اینکر مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی اندورنی کہانی بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ مولانا کا یہ دعویٰ ہےکہ وہ دس لاکھ سے زائد لوگوں کو اسلام آباد لے کر جائیں گے ، جس کے لیے ٹرانسپورٹرز سے بات چیت چل رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق 25 ہزار بسوںسے بات چیت چل رہی ہے کہ وہ اسلام آباد تک چھوڑنے اور پھر لینے کے لیے جائیں گے ، یہ تو وہ ٹرانسپورٹیشن ہے جو عام شرکاء کے لیے ہے مگر قائدین جمعیت کے لیے پرتعیش گاڑیاں بھی منگوائی جارہی ہیںجن کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ان کی قیمت کون اداکرے گا
مبشر لقمان نے بڑے ہی معاشی ماہر کی طرح ان گاڑیوںپرہونے والے اخرات کا تخمینہ لگایاہے جس کےمطابق اسلام آباد جانے کے لیے یک طرفہ ایک بس کم از کم 15 ہزارروپے کرایہ مانگ رہے ہیں اور اگر کم از کم کرائے اور گاڑیوں کی تعداد کے حساب سے تخمیہ لگایا جائے تو یہ کل قیمت 37کروڑ 50لاکھ بنتی ہے،اور جب یہی مظاہرین واپس اپنے گھروںکو لوٹیںگے تو یہ کل رقم 75کروڑ تک جا پہنچتی ہے،
بڑے ہی خوبصورت انداز سے نقشہ کھینچتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا کہ یہ طئے ہے کہ ایک ملین یعنی دس لوگوں کو اسلام آباد بلاتےہیںتو یقیقنا تین وقت کھانا کھانے کےبعد قضائے حاجت ، وضو اور طہارت کے لیے کم از کم 2 لاکھ طہارت خانوں کی ضرورت ہے اس کے بغیر گزارہ نہیںہوسکتا ، ایک طہارت خانے پر کم از کم خرچ 20 ہزارروپے آئے گا ، یو دولاکھ طہارت خانوں پر کل آنے والی لاگت کا تخمیینہ 4 ارب روپے بنتاہے ، مبشر لقمان یہ سارے اعدادوشمار بیان کرکے بڑی حیرانگی سے پوچھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے انتی خطیر رقم کہاں سے مل رہی ہے یہ ہے اصل سوال جو قوم ضرور پوچھے گی
مبشر لقمان نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ توقع یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میںشرکت کرنے والے شرکاء روزانہ کم از کم 2 لاکھ کلوگرام فضلہ پاخانے کی شکل میں اسلام آباد میں پیدا کریںگے یا اور عارضی طہارت خانوں میں بہائیں گے ، جبکہ جس جگہ یہ مارچ ہوگا وہاں تو کوئی سیوریج سسٹم نہیںہے،تو پھر یہ گندگی کے ڈھیر جب اسلام آباد کی مضافات میں لگیںگے تو پھر کیا بیتے گی راولپنڈی اور اسلام آباد کے باسیوں پر اور ماحول پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوں گے اس کے بارے میں تو اب کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے
سنیئر اینکر نے بڑے مناست انداز میں تصویر کھینچتے ہوئے منظر بیان کیا ہے اور اس مارچ کے دیگر لوازمات پر بھی روشنی ڈالی ہے، مبشر لقمان حقائق کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ اس مارچ کے شرکاء کے لیے روشنیوں کا بھی اہتمام کرنا ہے ، جس کے لیے بڑی بڑی لائٹیںاور جنریٹرز کی بھی ضرورت پڑے گی ،مولانا فضل الرحمن کے لیے تیار خصوصی کنٹینر کو تو خصوصی طور پر ان لوازمات کی ضرورت ہوگی ، اب اس کے بعد اس صورت حال یعنی بجلی ، لائیٹوں ، روشنیوں اور جنریٹرز پر کروڑوں روپے خرچ آئیںگے وہ کون ادا کرے گا
مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے محتاط تخمینے لگا کر جو حقائق قوم کے سامنے پیش کیئے وہ اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ، اپنی تحقیقاتی رپورٹ میںمبشر لقمان نے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق مولانا کے اس مارچ پر مجموعی طور پر 10 ارب روپے خرچ آئیںگے ، ان اعدادوشمار کے بعد اب ہر ذی شعور یہ تو ضرور سوچنے پر مجبور ہوگا کہ آخر اتنی خطیر رقم مولانا کو کون دے رہا ہے ، آخر کوئی تو ہےجو مولانافضل الرحمن کو سپورٹ کررہاہے ، قوم ضرور پوچھے گی کی اتنی خطیر رقم کی منی ٹریل دی جائے ، قوم حساب مانگے گی اور ادارے حساب کتاب لگا کر حقیقت قوم کے سامنے رکھیںگے پھر سب حقیقتیں کھل جائیںگی کہ پاکستان میں آزادی مارچ کے نام پر مذہبی انتہا پسندوں کو اربوں روپے جہاں جہاں سے آتی ہیں
بلوچستان کی تاجر برادری ،کسٹم کلیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن ،ٹرانسپورٹرز،امپورٹرز ایکسپورٹرز اور تفتان کلیرنگ ایجنٹس کی جانب سےآج سے ایف بی آر اور کسٹم حکام کے ناروا روئیے کے خلاف ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کو غیر معینہ مدت تک بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تمام تر کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں اس سلسلے میں گزشتہ دنوں صوبے کے امپورٹ ایکسپورٹ،ٹرانسپورٹرز اور کلیرنگ ایجنٹس کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس میں ایف بی آر اور حکومتی حکام کو 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی اور موقف اختیار کیا گیا تھا کہ
کہ ایف بی آر حکام ، چیف کلکٹر کسٹم اور اسلام آباد کا عملہ قانونی تجارت کو مختلف بہانوں سے بند کرنے اوردانستہ طور پر اسمگلنگ کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں ایک طرف فیڈرل گورنمنٹ اور وفاقی ادارے کہہ رہے ہیں کہ ٹیکس دو اور کاروبا کرو لیکن دوسری جانب ایف بی آر اور کسٹم حکام کا رویہ بالکل اس کے برعکس ہے ۔ تاجروں امپورٹرز ،ایکسپورٹرز اور کلیرنگ ایجنٹس کا کہنا ہیں کہ ایران سے درآمد ہونے والی تمام اشیاء پرباقاعدگی سے ڈیوٹی ٹیکس ادا کر کے انہیں کسٹم سے کلیئر کیا جاتا ہے لیکن اس کےباوجود بھی کلکٹر پرونٹو کا اسٹاف مختلف بہانوں سے گاڑیاں روک کر بھتہ لیتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے تاجر اپنے مسائل کے حل کے لئے چیف کلکٹر سے ملاقات کرنے کے لئے جاتے یا پھر رابطہ کرتے ہیں تو موصوف ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں بلکہ ان کے اقدامات سے قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی اور اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہیں ،چیف کلکٹر اور ایف بی آر اسلام آباد عملے کی اس رویہ کے باعث بلوچستان میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ماند پڑ چکی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں تجارت کرنا زیادہ مشکل ہے ،بلوچستان میں بارٹر کاروبار کیا جاتا ہے مگر ایک سازش کے تحت بلوچستان کے تاجروں پر قانونی تجارت کے دروازے بند کئے جارہے ہیں اور انہیں دیوار سے لگایا جارہا ہے حالانکہ کسٹم کا کام قانونی تجارت کو سہل کرنا اورتاجروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہے مگر یہاں معاملہ بالکل اس کے برعکس ہےبلوچستان میں چیک پوسٹوں پر بھتہ لئے جانے کا وزیراعظم پاکستان خود بھی اعتراف کر چکے ہیں بلکہ انہوں نے اس سلسلے میں احکامات بھی دئیے تھے لیکن وزیراعظم کے کہنے کے باوجود بھی حالات جوں کے توں ہیں اس لئے اب الٹی میٹم کی مدت پوری ہونے پر احتجاجا تمام تر کاروباری سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں بلکہ اس کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے جائز مطالبات حل کرنے کے لئے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔