Baaghi TV

Author: +9251

  • اردو کے ممتاز ادیب، صحافی، مترجم، نثر نگار اور بہترین شاعر تاج سعیدؔ صاحب

    اردو کے ممتاز ادیب، صحافی، مترجم، نثر نگار اور بہترین شاعر تاج سعیدؔ صاحب

    * ستمبر ١٩٣٣ ؁*

    *اردو کے ممتاز ادیب، صحافی، مترجم، نثر نگار اور بہترین شاعر” تاج سعیدؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…*

    *تاج سعیدؔ* کی تاریخ پیدائش * ستمبر ١٩٣٣ء* ہے۔ *تاج سعید* کا اصل نام *تاج مّحمد* تھا اور وہ *پشاور* میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے شعری مجموعوں میں *سوچ سمندر، رتوں کی صلیب، لیکھ اور شہر ہفت رنگ اور مرتبہ نثری* کتابوں میں *کرشن نگر، جہانِ فراقؔ ، پشتو ادب کی مختصر تاریخ، بنجارے کے خواب، احمد فرازؔ* : فن اور شخصیت، خوشحال شناسی، *شکیلؔ بدایونی* : فن و شخصیت اور پشتو کے اردو تراجم شامل ہیں۔
    *تاج سعیدؔ* اردو کے کئی اہم جریدوں کے مدیراعلیٰ رہے جن میں *’’قند‘‘ مردان، ’’ارژنگ‘‘ پشاور اور ’’جریدہ‘‘* پشاور کے نام شامل ہیں۔ تاج سعید کی اہلیہ *زیتون بانو* بھی اردو کے ممتاز افسانہ نگاروں میں شمار ہوتی ہیں۔ *تاج سعیدؔ ، ٢٣ اپریل ٢٠٠٢ء کو پشاور* میں وفات پاگئے اور وہ *پشاور* ہی میں قبرستان نزد *لوتھیہ* میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    🦋

    🌸 *معروف شاعر تاج سعیدؔ کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطورِ اظہارِ عقیدت…* 🌸

    کس نے آ کر ہم کو دی آواز پچھلی رات میں
    کون ہم کو چھیڑنے آیا ہے ان لمحات میں

    میں نے ظلمت کے فسوں سے بھاگنا چاہا مگر
    میرے پیچھے بھاگتی پھرتی مری رسوائی تھی

    *ایسی نگاہ پیار کی یوں تاجؔ کو ملی*
    *دل کے نگر میں ایک دیا سا جلا لیا*

    بے مروت ہے زمانہ اس کا شکوہ کیوں کریں
    اپنے اندر کے مکیں کا بن کے ہمسایہ رہیں

    اپنے دل میں یادوں نے زخموں کے پھول کھلائے ہیں
    جسم کی اس دیوار کے اندر کس نے نقب لگائی ہے

    الفاظ کے گہر تری خاطر پرو لیے
    یہ بھی تو تیرے حُسنِ طلب کا کمال ہے

    *بارشوں کی رت میں کوئی کیا لکھے آخر سعیدؔ*
    *لفظ کے چہروں کی رنگت بھی بہت دھندلائی تھی*

    ●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●

    💦 *تاج سعیدؔ* 💦

  • خورشید شاہ کی گرفتاری افسوسناک اور انتہائی قابل مذمت ہے، سید مراد علی شاہ

    خورشید شاہ کی گرفتاری افسوسناک اور انتہائی قابل مذمت ہے، سید مراد علی شاہ

    وزیر اعلیٰ‌ سندھ سید مراد علی شاہ نے خورشید شاہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مراد علی شاہ نے کہا کہ خورشید شاہ کہیں بھاگ نہیں‌ رہے تھے، انہیں گرفتار کرنا افسوسناک ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے پارلیمانی کشمیر کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا ہے، واضح‌ رہے کہ وزیر اعلیٰ‌ سندھ سید مراد علی شاہ بھی قومی پارلیمانی کشمیر کانفرنس سے چلے گئے ہیں، پیپلز پارٹی رہنما شیری رحمن نے کہا ہے کہ ایک طرف قومی یکجہتی کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری طرف گرفتاریاں کی جارہی ہیں، شیری رحمان اور احسن اقبال کانفرنس سے چلے گئے ہیں،

    خورشید شاہ کو کل احتساب عدالت پیش کیا جائے گا، واضح رہے کہ نیب راولپنڈی نے پیپلز پارٹی کےرہنما خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا ہے، خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، خورشید شاہ کی گرفتاری کا نیب سکھر کو بتا دیا جائے گا، آج نیب میں وہ پیش نہیں ہوئے تھے،

  • کلبھوشن یادیو پر بننے والی فلم میں صبا قمر ہیں یا نہیں؟

    کلبھوشن یادیو پر بننے والی فلم میں صبا قمر ہیں یا نہیں؟

    اداکارہ صبا قمر سے متعلق خبریں آرہی تھیں کہ وہ پاکستان میں قید بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی زندگی پر بننے والی فلم میں کام کر رہی ہیں ۔ صبا قمر نے ایسی خبروں کو مزاحیہ قرار دیتے ہوئے سچ واضح کر دیا.

    صبا قمر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ” یہ جاننا ہمیشہ مزاحیہ ہوتا ہے کہ میں نے کوئی ایسی فلم سائن کر لی ہے جس کا مجھے خود بھی نہیں علم نہیں ہوتا۔

    صبا قمر نے کہا کہ یہ ایمانداری کی بات ہے کہ اگر میں ایسی کوئی فلم کروں گی تو آپ سب کو خود ہی بتا دوں گی. اداکارہ نے واضح کیا کہ میں اس وقت صرف فلم “کملی” کر رہی ہوں اور اسی کی شوٹنگ میں مصروف ہوں۔ برائے مہربانی ریٹنگ کے لیے ایسی خبریں شائع کرنا بند کردیں۔

    واضح رہے صبا قمر کی نئی آنے والی فلم “کملی” کے ہدایت کار سرمد کھوسٹ ہیں جن کے ہمراہ وہ اس سے قبل 2015 میں فلم “منٹو” میں کام کرچکی ہیں۔ سرمد کھوسٹ اپنی ہدایت کاری میں 2 نئی فلموں “زندگی تماشا” اور “کملی” کو سال 2020 میں ریلیز کریں گے.

  • جنرل ضیاء الحق آج کے دن صدر پاکستان بنے

    جنرل ضیاء الحق آج کے دن صدر پاکستان بنے

    جنرل محمد ضیا الحق صدرِ پاکستان بنے
    جنرل محمد ضیا الحق پاکستان کی مسلح افواج کے آٹھویں سربراہ جنرل محمد ضیا الحق 12 اگست 1924 ء کو میں جالندھر میں ایک غریب کسان محمد اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔
    جالندھر اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔
    1945ء میں فوج میں کمیشن ملا۔
    دوسری جنگ عظیم کے دوران برما ، ملایا اور انڈونیشیا میں خدمات انجام دیں۔
    آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔
    1964ء میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی اور سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔
    1960ء تا 1968ء ایک کیولر رجمنٹ کی قیادت کی۔
    اُردن کی شاہی افواج میں خدمات انجام دیں۔
    مئی 1969ء میں آرمرڈ ڈویڑن کا کرنل سٹاف اور پھر بریگیڈیر بنا دیا گیا۔
    1973 میں میجر جنرل اور اپریل 1975ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کور کمانڈر بنا دیا گیا۔
    یکم مارچ 1976ء کو جنرل کے عہدے پر ترقی پا کر پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔ 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے عام انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
    یوں ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے اور 4 جولائی 1977 کی شام مذاکرات کامیاب ہوئے اور پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان 17 نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرانے کا معاہدہ ہوا۔
    تاہم ضیاالحق جوپس پردہ حکومت کو غیرمستحکم کرنے اور مارشل لاء لگانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے، کو یہ معاہدہ منظور نہیں تھا۔
    انہوں نے یہ خبر اخبارات کی زینت بننے سے پہلے 5 جولائی 1977 کوشب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ضیا الحق نے آئین معطل نہیں کیا اور اعلان کیا کہ آپریشن فیئر پلے کا مقصد صرف ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہے دوسرے فوجی حکمرانوں کی طرح یہ نوے دن گیارہ سال پر محیط ہو گئے۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے شدید مزاحمت کی جس کے نتیجہ میں ان کو گرفتار کر لیاگیا۔
    ان پر ایک قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔
    ہائیکورٹ نے ان کو سزا موت سنائی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی۔
    یوں 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ آج بھی ان کی پھانسی کو ایک عدالتی قتل قرار دیا جاتا ہے۔
    یوں ایک عوامی لیڈر کی موت کے بعد مارشل لاء کو دوام حاصل ہوا۔ اس کے بعد ضیاء الحق کی یہ کوشش رہی کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار سے دور رکھاجائے اس مقصد کے لیے انہوں نے منصفانہ عام انتخابات سے گریز کیا۔
    اور بار بار الیکشن کے وعدے ملتوی ہوتے رہے۔
    دسمبر 1984 میں اپنے حق میں ریفرنڈم بھی کروایا۔ فروری 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کااعلان کیا۔
    پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
    یوں محمد خان جونیجو کے وزیر اعظم بننے کی راہ نکل آئی۔
    باہمی اعتماد کی بنیاد پر 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لاء اٹھالیاگیا اور بے اعتمادی کی بنیاد پر آٹھویں ترمیم کے تحت جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988ء کو جونیجو صاحب کی حکومت برطرف کر دی۔
    ان پر نااہلی اور بدعنوانی کے علاوہ بڑا الزام یہ تھا کہ اسلام نظام نافذ کرنے کے کی ان کی تمام کوششوں پر پانی پھر گیا ہے۔
    17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاالحق بہاول پور کے قریب ایک فضائی حادثے کا شکار ہوگئے ۔
    وہ اسلام آباد میں فیصل مسجد کے نزدیک آسودئہ خاک ہیں ۔۔!!!

  • خورشید شاہ کی گرفتاری، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے قومی پارلیمانی کشمیر کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا

    خورشید شاہ کی گرفتاری، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے قومی پارلیمانی کشمیر کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے قومی پارلیمانی کشمیر کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق وزیر اعلیٰ‌ سندھ سید مراد علی شاہ بھی کانفرنس سے چلے گئے ہیں، پیپلز پارٹی رہنما شیری رحمن نے کہا ہے کہ ایک طرف قومی یکجہتی کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری طرف گرفتاریاں کی جارہی ہیں، شیری رحمان اور احسن اقبال کانفرنس سے چلے گئے ہیں،

    خورشید شاہ کو کل احتساب عدالت پیش کیا جائے گا، واضح رہے کہ نیب راولپنڈی نے پیپلز پارٹی کےرہنما خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا ہے، خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، خورشید شاہ کی گرفتاری کا نیب سکھر کو بتا دیا جائے گا، آج نیب میں وہ پیش نہیں ہوئے تھے،

  • ادبی رسالہ "سطور” کے مدیر اور معروف شاعر”  کمار پاشی

    ادبی رسالہ "سطور” کے مدیر اور معروف شاعر” کمار پاشی

    *آج – ١٧ ؍ ستمبر ١٩٩٢ ؁*

    *ممتاز جدید اردو شاعروں میں شامل، ادبی رسالہ "سطور” کے مدیر اور معروف شاعر” کمار پاشی ؔ “ کی برسی…*

    *شنکر دت کمار* جو عام طور پر اپنا قلمی نام *کمار پاشیؔ* سے مشہور تھے، *بہاولپور میں ٣ ؍جولائی ١٩٣٥ء* کو پیدا ہوئے. ان کے خاندان نے تقسیم کے دوران دہلی میں منتقل کر دیا گیا اور انہوں نے اپنی پوری زندگی دہلی میں خرچ کی. انہوں نے ڈرامہ اور مختصر کہانیاں لکھ لی ہیں، اداکار وغیرہ وغیرہ *”پہلے آسمان کا زوال”* ڈرامہ کا مجموعہ ہے، اور *” جملوں کی دنیا "* مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے. *کمار پاشیؔ* نے کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
    *ولاس یاترا ، روبرو ، خواب تماشا، زوال شبیہ منظر ، چان چراغ ، اردانگی (ہندی ورژن)* وغیرہ. انہوں نے ایک ادبی رسالہ *’ سطور ‘* بھی شائع کیا . وہ ١٧؍ستمبر ١٩٩٢ء کو ٥٧ سال کی عمر میں وفات پائی۔

    🦋

    💐 *ممتاز شاعر کمار پاشیؔ کی برسی پر منتخب اشعار بطورِ اظہار عقیدت…* 💐

    جو کچھ نظر پڑا مرا دیکھا ہوا لگا
    یہ جسم کا لباس بھی پہنا ہوا لگا

    *ہوئے ہیں بند دشاؤں کے سارے رستے آ*
    *اندھیرا چھانے لگا لوٹ کر پرندے آ*

    خوشبوئے درد کے بغیر رنگِ جمال کے بغیر
    کیسے گزر گئی حیات ہجر و وصال کے بغیر

    ہوا کے رنگ میں دنیا پہ آشکار ہوا
    میں قید جسم سے نکلا تو بے کنار ہوا

    *ہو رہی تھی گفتگو آج ممکنات پر*
    *لا کے پھول رکھ دیا اس نے میرے ہات پر*

    *خطا کہ تو نے کی یاروں کے قتل کی خواہش*
    *سزا کہ اپنے جنازے کو خود اٹھا کر چل*

    میں ڈھونڈھتا ہوں جسے آج بھی ہوا کی طرح
    وہ کھو گیا ہے خلا میں مری صدا کی طرح

    ابھی پرانی دیواریں مت ڈھانے دو
    پہلے مجھ کو دنیا نئی بسانے دو

    *ایک کہانی ختم ہوئی ہے ایک کہانی باقی ہے*
    *میں بے شک مسمار ہوں لیکن میرا ثانی باقی ہے*

    لوگ جب جشن بہاروں کا منانے نکلے
    ہم بیابانوں میں تب خاک اڑانے نکلے

    یہ کیسی آگ برستی ہے آسمانوں سے
    پرندے لوٹ کے آنے لگے اڑانوں سے

    ہیں سارے انکشاف اپنے ہیں سارے ممکنات اپنے
    ہم اس دنیا کا سارا علم لے جائیں گے سات اپنے

    چال اک ایسی چلی ہر شخص سیدھا ہو گیا
    بات بس اتنی کہ میں تھوڑا سا ترچھا ہو گیا

    تیری یاد کا ہر منظر پس منظر لکھتا رہتا ہوں
    دل کو ورق بناتا ہوں اور شب بھر لکھتا رہتا ہوں

    اپنے گرد و پیش کا بھی کچھ پتا رکھ
    دل کی دنیا تو مگر سب سے جدا رکھ

    خطا کہ تو نے کی یاروں کے قتل کی خواہش
    سزا کہ اپنے جنازے کو خود اٹھا کر چل

    *روایتوں کو کہاں تک اٹھائے گھومو گے*
    *یہ بوجھ اتار دو پاشیؔ تم اپنے شانوں سے*

    ●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●

    🌸 *کمار پاشیؔ* 🌸

  • سپریم کورٹ نے7 افراد کے قتل کے مجرم کی سزائے موت عمرقید میں تبدیل کردی

    سپریم کورٹ نے7 افراد کے قتل کے مجرم کی سزائے موت عمرقید میں تبدیل کردی

    سپریم کورٹ نے7 افراد کے قتل کے مجرم کی سزائے موت عمرقید میں تبدیل کردی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹرائل کورٹ اورہائیکورٹ نےملزم کوسزائےموت سنائی تھی، جڑانوالا فیصل آباد میں علی محمد اور ساتھیوں سے مل کر7 افراد کو قتل کردیا تھا، مقتولین کے وکیل نے کہاکہ کیس میں علی محمدکےعلاوہ 14افراداور بھی تھے، ملزم کے بھائی یعقوب کواس کیس میں پھانسی ہوچکی ، ملزم کےبھائی کو پھانسی ہوگئی اوراسے پتا تک نہیں چلا،

    سات افراد کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی ہے،

  • امام الحق نے سرفراز کو منا لیا

    امام الحق نے سرفراز کو منا لیا

    امام الحق نے سرفراز کو منا لیا

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے اوپنر بلے باز امام الحق میڈیا میں منفی خبروں کی زینت بنے رہتےہیں.، قائداعظم ٹرافی کے میچ کے دوران وہ ایک بار پھرایک نئے تنازع کی وجہ سے خبروں‌ میں‌ہیں.

    حالیہ تنازع میں ان کا نام کچھ اس طرح ہے مطابق قائداعظم ٹرافی کے میچ کے دوران انہوں نے سست روی سے سنچری بنانے کی وجہ حریف ٹیم سندھ کی منفی بولنگ اور فیلڈ سیٹنگ کو قراردے دیا۔ذرائع کے مطابق اوپنر بلے باز کا اشارہ واضح طورپرحریف کپتان سرفراز احمد کی جانب تھا۔

    لیکن اب اچھی خبر یہ ہے کہ دونوں‌ بلے باز میں صلح‌ ہے اور امام الحق نے اپنے کپتان کو منا لیا ہے.

  • پریانکا چوپڑا کی شوہر نک جونز کے ساتھ ڈانس کی ویڈیو وائرل

    پریانکا چوپڑا کی شوہر نک جونز کے ساتھ ڈانس کی ویڈیو وائرل

    نک جونز کی ایک نئی ویڈیو ’کبھی نہ ختم ہونے والی سالگرہ کی تقریبات میں انہیں اہلیہ پریانکا چوپڑا کے ساتھ بالی ووڈ کے کسی گانے پر رقص کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں گلوکار اور اداکار ڈی دی پیار دے سے ہولی ہولی اور جھولتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    پریانکا اپنے اسکرٹ کے نیچے پیلے رنگ کے لباس میں ایک لمبی بازو اور زیور زیب تن کرتی نظر آرہی ہے۔ نک ایک بڑی کالی اوور کوٹ اور بلیک پینٹ میں نظر آ رہے ہیں۔ جیسے ہی نک میوزک پر بھنگڑا کرتے ہیں، اسی طرح پریانکا بھی ان کے ساتھ رقص کرتی ہے پھر جلد ہی شرما جاتی ہے اور نک کے تاثرات پر ہنس پڑتی ہے.

    https://www.instagram.com/p/B2gGOJiANuc/?igshid=1av4jltfrhcj6

    پریانکا نے پیر کی رات سینٹ پال میں نک کے کنسرٹ میں بھی شرکت کی۔ کنسرٹ کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ وہ گڑھے سے نک کو گلاب کی پیش کش کررہی ہے اور ہجوم کے زور سے خوشی سے پھیلتے ہی اسے چومتی ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنے بھائیوں اور سامعین کے ساتھ سالگرہ کا گانا گانے کے لیے اسٹیج پر گامزن کیا۔

    پرینکا کو سیاہ رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے دیکھا گیا تھا جبکہ نک کو ٹکسال کے سبز رنگ کے لباس میں دیکھا گیا تھا۔ وہ موسیقی میں جھوم رہی تھیں اور کنسرٹ سے لطف اندوز ہوتی نظر آئیں۔

    دیوانیکل سالگرہ کی کیک کے ساتھ پوینج پوزیشن والی خواتین کے ساتھ مزید تصاویر بھی دکھاتی ہیں۔ کیک کی شکل وِلا ون شراب کی بوتل کی طرح جس کا وہ مالک ہے۔ پریانکا ایک سفید ٹی شرٹ اور سفید شارٹس کی جوڑی میں نظر آرہی ہیں۔