Baaghi TV

Author: +9251

  • منہاج یونیورسٹی لاہور میں  دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کل مورخہ 19ستمبر سے شروع ہو گی

    منہاج یونیورسٹی لاہور میں دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کل مورخہ 19ستمبر سے شروع ہو گی

    دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کل مورخہ 19ستمبر سے شروع ہو گی

    باغی ٹی وی :منہاج یونیورسٹی لاہور میں لائبریری سائنس پر دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کل مورخہ 19ستمبر سے شروع ہو گی ۔عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور ہوں گے جبکہ صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم پنجاب راجہ یاسر ہمایوں سرفراز اور چیئر مین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسرڈاکٹرفضل احمد خالد کانفرنس سے خطاب کریں گے ۔
    کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں قومی اور بین الاقوامی نامور ریسرچ سکالرز ،حکومتی اعلیٰ شخصیات ، اور انفارمیشن سائنس سے وابستہ افراد شرکت کریں گے۔ عالمی کانفرنس میںپاکستان سمیت کینیڈا،آسٹریلیا،افریقہ ،ترکی اورنائجیریا کے ریسرچ سکالرزاپنے مقالہ جات پیش کریں گے۔
    ۔

  • علم پڑھانے والے اور بانٹنے والے جلاد بن گئے

    علم پڑھانے والے اور بانٹنے والے جلاد بن گئے

    سرگودھا،بھاگٹانوالہ(نمائندہ باغی ٹی وی)سرگودھا کے نواحی علاقے 69 جنوبی میں القمر ماڈل مڈل سکول کے مسیحا کا معصوم بچے پر تشدد
    علم پڑھانے اور بانٹنے والے جلاد بن گئے،سکول گئے بچے پر میڈم کا تشدد کسی بچہ نے کہ دیا کہ میڈم کے ناک پر طوطا بیٹھا ھےطوطا کہنے پر میڈم زاہدہ طیش میں آگئی سرگودھا چک 69 جنوبی کے رہائشی محمد اکرم کے معصوم بیٹے پر سکول میڈم زاہدہ کا تشدد میڈم زاہدہ نے بچے کو ایک گھنٹہ مرغا بنا کر رکھنے کے بعد ڈنڈے کے ساتھ پٹائی کیطالب علم کے جسم پر جگہ جگہ مار تشدد کے نشانات ہیں
    طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سکول ہیڈ ماسٹر نے بچے کو دو گھنٹے یرغمال بنائے رکھا
    سکول ہیڈ ماسٹر کا طالب علم کے والدین کو گالم گلوج دھمکیاں ورثا انصاف کے حصول کے لیے تھانہ بھاگٹاوالہ پہنچ گی ظالم میڈم زاہدہ اور سکول ہیڈ ماسٹر کے خلاف انصاف کے لئے تھانہ بھاگٹاوالہ میں درخواست دے دی۔
    بچے کےوالدین اور اہل علاقہ کا وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ

  • کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد سابق بھارتی وزیر خزانہ پی چدمبرم سے ملنے تہاڑ جیل پہنچ گئے

    کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد سابق بھارتی وزیر خزانہ پی چدمبرم سے ملنے تہاڑ جیل پہنچ گئے

    بھارت میں سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم سے ملنے تہاڑ جیل پہنچ گئے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غلام نبی آزاد کے ہمراہ پارٹی کے ایک اور لیڈر احمد پٹیل بھی تھے، یہ ملاقات تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی، اس دوران بھارتی لوک سبھا کے ممبر اور مسٹر چد مبرم کے بیٹے کارتی چد مبرم بھی ان کے ساتھ تھے، میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ غلام نبی آزاد نے سابق وزیر خزانہ کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور ان سے موجودہ سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا،

    واضح‌ رہے کہ سابق ہندوستانی وزیر خزانہ پی چدمبرم میڈیا بدعنوانی معاملے میں 5 ستمبر سے تہاڑ جیل میں قید ہیں، سابق مرکزی وزیر پر متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کے دور میں اپنے منصب کا غلط استعمال کرنے اور آئی این ایکس میڈیا کو غیرضروری فوائد پہنچانے کا الزام ہے،

  • تعلیم وہ واحد ہتھیار ہے جس سے ہم دنیا پر غلبہ پا سکتے ہیں ،ایڈیشنل کمشنر سرگودہا

    تعلیم وہ واحد ہتھیار ہے جس سے ہم دنیا پر غلبہ پا سکتے ہیں ،ایڈیشنل کمشنر سرگودہا

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) تعلیم واحد ہتھیار ہے جس کو استعمال میں لا کر ہم دنیا پر غلبہ پاسکتے ہیں۔ایڈیشنل کمنشر شہباز حسین نقوی

    پنجاب کا لٹریسی ریٹ سب سے زیادہ 63 فیصد ہے

    صوبے بھر میں 13 ہزار غیر رسمی سکولوں میں ساڈھے چار لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    ضلع سرگودہا میں 385 نان فارمل سکولوں میں غریب خاندانوں ، خانہ بدوش، بھٹہ ورکز، خواجہ سرواں کو تعلیم فراہم کی جاری ہے۔

    پنجاب نان فارمل ایجوکیشن کے تحت صوبے بھر میں پانچ مختلف پروگرامز جاری ہیں۔

    ایڈیشنل کمنشر شہباز حسین نقوی و دیگر کا عالمی یوم خواندگی کے موقع پر منعقدہ سیمنار سے خطاب۔

    عوام الناس میں تعلیم کے حصول کے بارے آگاہی ریلی بھی نکالی گئی۔

  • افغان طالبان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اب بھی تیار

    افغان طالبان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اب بھی تیار

    افغان طالبان نے امریکہ کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔
    افغان طالبان معاہدے پر کس نے دستخظ کرنے سے انکار کر دیا …. خبر آ گئی
    افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا، ”’ہم امریکا کے ساتھ تیار کیے گئے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس دستاویز کو حتمی شکل دینے کے بعد ہی امریکا کے ساتھ فائر بندی پر عمل درآمد شروع ہو سکتا ہے۔“

    واضح رہے کہ ستمبر کے آغاز میں طالبان اور امریکا کے مابین امن معاہدہ ہونے کے قریب تھا ۔ کابل میں ایک حملہ میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات فوری طور پر روک دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

    یاد رہے کہ امریکا اور طالبان جولائی 2018ء سے اس اٹھارہ سالہ افغان تنازعے کا سیاسی حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ بات چیت ختم ہونے کے چند دن بعد ٹرمپ نے کہا،” مذاکراتی عمل دم توڑ چکا ہے۔“

  • وادی اردن میں یہودی بستیوں کا قیام ، یورپی یونین کا بھی ردعمل آ گیا

    وادی اردن میں یہودی بستیوں کا قیام ، یورپی یونین کا بھی ردعمل آ گیا

    یورپی یونین نے اسرائیل کی طرف سے وادی اردن میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر اور اس کے الحاق کے منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔
    نیتن یاھو فلسطینی اراضی کی قیمت پرانتخابات جیتنا چاہتے ہیں، ترکی
    یورپی خارجہ تعلقات کی ذمہ دار فیدیریکا موگیرینی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کا نئی یہودی بستیوں کے قیام کا منصوبہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اسے اس قسم کے منصوبوں سے رکنا جانا چاہیے۔

    موگیرینی نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ایسے اقدام بند نہ کیے تو یہ خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہونگے۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ 17 ستمبر کو ہونےوالے انتخابات کے بعد وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان کریں گے۔ نیتن یاھو کے اس بیان پرعرب ممالک ، عالم اسلام اور عالمی برادری کی طرف شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

  • امریکی تنظیم نے ڈاکٹر نمرتا قتل کیس کے حوالہ سے بڑا مطالبہ کر دیا

    امریکی تنظیم نے ڈاکٹر نمرتا قتل کیس کے حوالہ سے بڑا مطالبہ کر دیا

    سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا ڈاکٹر نمرتا کے قتل پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں مقیم سندھیوں کی نمائندہ تنظیم سانا نے مذکورہ قتل کیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کامطالبہ کیا ہے، کچھ عرصہ پہلےجامعہ سندھ سےطالبہ نائیلہ رند کی لاش برآمدہوئی تھی، سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا کے صدر نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نمرتا کی پراسرارموت پراعلیٰ سطح کی تحقیقات کامطالبہ کرتےہیں،

    صدر سانا نے کہاکہ نائیلہ رندکی طرح نمرتاکےقتل کوخودکشی قراردینےسےکئی سوالات نےجنم لیا ہے، حکومت سندھ واقعےکی شفاف عدالتی تحقیقات کراکےملزمان کےخلاف سخت کارروائی کرے،

  • مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے  ،  ثناء صدیق کا بلاگ

    مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے ، ثناء صدیق کا بلاگ

    مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے تحریر: ثناء صدیق

    مسلمانوں کی 711 میں سپین میں حکومت قائم ہوئی جب بنو امیہ کی حکومت ختم ہوئی تو ایک اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل فرار ہو کر سپین چلا گیا اور وہاں نئی اموی حکومت کی بنیاد رکھی یہاں مسلمانوں نے بڑے شاندار طریقے سے حکومت کی یہاں فن تعمیر فن مصوری میں کام کیا گیا وہاں تعلیم پر بھی بہت زیادہ کام کیا گیا کتابیں لکھی گیں تراجم کیے گے اور درس گاہیں تعمیر کی گیں

    عبدالرحمن سوم کے اقتدار میں حکومت قرطبہ میں 70 لائبریریاں اور کتابوں کی دوکانیں تھیں عبدالرحمن سوم کا جانشین الحکم تھا یہ ایک بہت بڑا عالم تھا اس نے قرطبہ میں 23 سکول قائم کیے قرطبہ کی یونیورسٹی اتنی مشہور تھی کہ دنیا بھر کے طالب علم اپنے علم کی پیاس بھجانے یہاں اتے تھے الحکم نے مشرقی ممالک سے پروفیسروں کو یہاں انے کی دعوت دی اور انہیں شاندار تنخواہوں کی پیش کش کی اس نے یہاں ایک بڑی لائبریری تعمیر کی جس میں 4 لاکھہ کتابیں تھیں یہ کتابیں اسکندریہ اور بغداد سے منگوائی گی تھیں اس سے سپین کے ثقافتی میدان میں اتنی ترقی ہوئی کہ ہر شخص پڑھنے لکھنے کے قابل ہو گیا اسپین میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح مساجد کے ساتھہ مدارس قائم کرنے کا رواج تھا لیکن بہت سے مدارس اور جامعات مسجد سے الگ بھی تھے ان مدارس کے اخراجات کے لیے حکومت نے بڑے بڑے اوقاف مقرر کیے تھے اور وقتا فوقتا خصوصی امداد بھی مقرر کی جاتی تھی تمام مدارس میں مفت تعلیم دی جاتی تھی ہر مسلمان کے لیے تعلیم حاصل کرنا ضروری تھا قرآن و حدیث ،فقہ ، شعروادب کی تعلیم عام طور پر مدارس میں ہوتی تھی لیکن جامعات میں تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ کی تعلیم دی جاتی تھی ان مدارس اور جامعات کے لیے اس دور کے جید علماء اور اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی تھی تمام ملک میں کوئی گاوں بھی ایسا نہ تھا یہاں مفلس اور گنوروں کے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم نہ ہوں بیرونی ممالک سے آنے والے طلباء کے ٹھہرنے کے لیے جامعات سے ملحقہ اقامت گاہیں بھی بنائی جاتی تھیں جن کے تمام اخراجات کی زمہ داری حکومت پر تھی حتی کہ متعلقہ مضامین کی کتابیں تک بھی طلباء کوحکومت کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی تھیں ابتدائی تعلیم حاصل کر کے جب طالب علم اعلی تعلیم کے لیے جاتا تو اس کا امتحان ضرور لیا جاتا تھا جو پاس ہو جاتا اسے داخلہ دیا جاتا ورنہ اگلے سال امتحان کے لیے تیاری کے لیے چھوڑ دیا جاتا اعلی تعلیم کے مضامین میں قرآن و حدیث اور فقہ کے علاوہ علوم قدیمہ ،ہندسیہ، ہیبت ، طب و جراحت ، موسیقی ، منطق ، فلسفہ ، شعروادب ، تاریخ ، جغرافیہ ہوتے تھے لیکن فنون میں بھی طلباء کو ماہر کیا تھا بہت سے فنون کے شعبے بھی موجود تھے جیسا کہ حیاتی خطاتی چمڑے کا کام فن تعمیر کوزی گری فلاحت و زراعت وغیرہ تھے ان جامعات اور مدارس میں اسناد کے لیے کسی شخص کا مسلمان ہونا لازمی نہ تھا بلکہ تمام دارومدار علمی انہماک اور قابلیت پر ہوتا تھا جس میں یہ صفات ہوتی تھی وہ بلاتامل ان عہدوں پر فائز کیا جاسکتا تھا
    چانچہ کچھہ یہودی اور عسائی بھی قرطبہ کی جامعات میں استاد مقرر تھے نویں اور دسویں عیسوی میں اسپین کی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گی تھی طالب علم کسی بھی قوم مذہب سے تعلق رکھتا ہو با آسانی ان جامعات میں تعلیم حاصل کر سکتا تھا جس کا نتجہ یہ نکلا یورپ اور جنوبی ایشیا سے آنے والے عسائی اور یہودی طلباء بکثرت ہوتے تھے یہ مسلمانوں کی بے تعصبی کا ہی نتجہ تھا مسلمانوں نے تقربیا 8 سو سال سپین پر حکومت کی یہ وہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا جب یورپ تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا اس دور میں مسلمانوں کی بے پناہ ترقی کے ساتھہ ساتھہ علمی میدان کی ترقی قابل فخر ہے ان میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے علماء اندلس نے قرآن پاک کی تفسیر اور علوم قرآنی کی تشریح و توضیح میں گراں قدر خدمات سر انجام دی یہاں صرف معروف کتب کے نام ذکر کیے جاتے ہیں (ابو عبداللہ احمد بن قرطبی کی تفسیر "الجامع الااحکام القرآن”) ابو بکر محمد بن عبداللہ کی تفسیر "احکام القرآن” ابو عبداللہ محمد بن یوسف حیان کی تفسیر "البحر المحیط” ابن العربی کی تفسیر "تفسیر القرآن الکریم” علماء اندلس نے حدیث میں بہت کام کیا چند معروف محدث قابل ذکر ہیں احمد بن خالد القرطبی نے علم حدیث پر "مسند امام مالک تحریر کی ابو محمد قاسم بن اصبح قرطبی نے سنن داود کے طریقے پر ایک سنن لکھی ابو عمر یوسف بن عبدالبر نے موطا امام مالک کی شرح تحریر کی اندلس میں امامالک کے ایک شاگرد یحیی بن یحیی مصمودی کے زریعے فقہ مالکی کو فروغ حاصل ہوا حکومتی حلقوں میں اس کا بڑا اثرو سوخ تھا جس کی وجہ سے اندلس میں فقہ مالکی کا دور دورہ رہا ابن خلدون لکھتے ہیں "امام مالک کا فقہی مسلک مغرب اور اندلس میں پھیلا اس کی وجہ یہ تھی کہ اندلس اور مغربی لوگ عام طور پر سیدھے حجاز جاتے اور بالخصوص مدینہ سے علم حاصل کرتے” اندلس کے فقہاوں میں زیاد بن عبدالرحمن ، عبدالمک بن حبیب ، قاضی ابوبکر بن عربی ، محمد بن احمد جو ابن رشد کے نام سے مشہور ہیں علماء اندلس نے علم سیرت پر بھی نہایت بلند پایہ کتب تحریر کی ابو عمر ابن عبدریہ نے ” الصقد القرید” تحریر کی ابو الفضل القاضی نے ” کتاب الشفاء” تحریر کی علماء اندلس تاریخ پر کام کرنے میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے ابو زید محمد بن خلدون نے العبر تحریر کی محمد بن موسی الرازی نے کتاب الرایات لکھی ابوبکر احمد بن راضی نے تاریخ اندلس لکھی ابن رشد نے اس موضوع پر دو اہم کتب تحریر کیں "مناہج الادلنہ فی عقائد الملتہ” اس کتاب میں آپ نے معتزلہ اشاعرہ ماتریدیہ صوفیا وغیرہ تمام مکاتب فکر کے دلائل کو بیان کیا ” فضل المقال” یہ کتاب مختصر مگر جامع کتاب ہے اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا گیا ہے اندلس کے شعراء میں ابوبکر محمد الزبیدی ، ابن حیان ، ابو القاام ابراہیم بن محمد نے مشہور عرب شاعر متنبی کے دیوان کی شرح تحریر کی طب کے میدان میں اندلس کے طبیبوں میں ابوالقاسم الزہراوی جو قرطبہ کے قریب مدینہ الزہرہ کا رہنے والا تھا اندلس کا ایک نامور طبیب تھا اس نے طب کے موضوع پر ایک کتاب "التصریف لمن عجزعن التالیف” تحریر کی ابوالقاسم زہراوی نے فن جراحت میں اقتصاص پیدا کیا اس نے اپنے اس نے اپنے جراحی کے الات خود ڈیزائن کیے انہیں اپنی ذاتی نگرانی میں تیار کروایا اور ان کے خاکے اپنی کتاب میں شامل کیے اور ہر آلہ کے استعمال کے بارے میں تفصیل تحریر کی عصر حاضر میں جراحی علاج کے ماہرین اسے بہت زیادہ اہمت دیتے ہیں یہ کتاب صدیوں تک یورپ کے بڑے جراحوں کے نزدیک ماخذ بنی رہی علم کیماء کے بارے میں اسکارٹ لکھتا ہے ” عملی طور پر زمانہ حال کے کیماء اور دوا سازی کے موجد عرب کیماء ساز تھے انہی کے طفیل تیزاب شورہ پوٹاس چاندی کا پانی فاسفورس اور اکسجن کے وجود سے اگاہ تھے” اندلس میں سرکاری کتب خانے کے ساتھہ ساتھہ ذاتی کتب خانے بڑی تعداد میں تھے عوام کو کتابیں کرنے کا بڑا جنون تھا اندلس کے اسلامی حکمران الحکم رعایا میں یہ بات مشہور تھی جس کو بادشاہ سے ملنا ہے وہ اس کے لیے ایک نادر کتاب لکھے الحکم کی لائبریری قرون وسطی کی سب سے بڑی لائبریری تھی اس میں 4 الاکھہ کتابیں جمع تھیں اس کتب خانے کے بارے میں کہا جاتا ہے ایسا نادر اور قیمتی کتب خانہ نہ کرہ ارض پر پہلے موجود تھا نہ اب ہے اندلس کا ایک اور اہم کتب خانہ ابن فطیس کا تھا یہ بہت امیر شخص تھا جس محلے میں رہتا تھا سب مکانات اس کی ملکیت میں تھے اور سب کابوں سے بھرے پڑے تھے اس کو معلوم ہوتا فلاں کے پاس نادر کتاب موجود ہے اس کتاب کو ھاصل کرنے کے لیے بے دریغ پیسہ خرچ کر دیتا ابن سعد کا کتب خانہ عوام کے استفادے کے لیے وقف تھا محمد بن حزم کے کتب خانے میں نادر کتابیں موجود تھیں کتب خانوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں بھی شریک تھی ایک مشہور کتب خانہ عائشہ بنت احمد کا تھا

  • ڈی ایچ کیو جوہر آباد میں ایڈز کا علاج گاہ مرکز قائم کر دیا گیا

    ڈی ایچ کیو جوہر آباد میں ایڈز کا علاج گاہ مرکز قائم کر دیا گیا

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )ڈپٹی کمشنر خوشاب محترمہ مسرت جبین صاحبہ نے ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہسپتال خوشاب بمقام جوہرآباد میں ایڈز علاج گاہ کا افتتاح کر دیا مزید انہوں نے ڈونر کی مدد سے نئےاو پی ڈی ہال کے تعمیراتی کام کا جائزہ بھی لیا۔ اس موقع پر سی ای او ہلیتھ ڈاکٹر امان اللہ قاضی صاحب و دیگر ڈاکٹرز صاحبان بھی موجود تھے۔
    ڈاکٹر آصف محمود آحمد قاضی ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال خوشاب جوہرآباد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایڈز جیسے موذی مرض کے علاج کیلیے علاج گاہ کا قائم ہونا خوش آئند حکومتی اقدام ہے اس سے اس مرض پر قابو پانے میں مدد ملے گی

  • تقویٰ کی راہیں۔۔۔ !!!                                 ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

    تقویٰ کی راہیں۔۔۔ !!! ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

    تقویٰ کی راہیں۔۔۔ !!! تحریر: جویریہ چوہدری

    تقویٰ کا وہ احساس ہے کہ جب دل میں آتا ہے تو اللّٰہ تعالی کی نافرمانی،ناراضگی اور اس کی ناپسندیدہ سب چیزیں دل سے نکل جاتی ہیں۔۔۔۔
    اس تقویٰ کا ساتھ زندگی میں اٹھتے ہر قدم پر ہونا ضروری ہے۔۔۔
    اگر ایک مسلمان کے ساتھ تقویٰ بطورِ زادِ سفر نہ ہو تو انسان جا بجا بہک سکتا ہے۔۔۔
    تقویٰ ہی ہمیں اپنے اک ایک عمل کی جوابدہی کے احساس سے مالا مال رکھتا ہے۔۔۔ !!!!
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "تم جہاں کہیں بھی ہو،اللّٰہ سے ڈرو،اور برائی کے پیچھے نیکی کرو،تو نیکی برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔۔۔”(رواہ الترمذی۔۔۔کتاب البر والصلۃ)۔
    یہ تقویٰ ہی ہمیں نیکی کی طرف لاتا اور گناہ چھڑواتا ہے۔۔۔
    یعنی تقویٰ کی دولت برائیوں اور گناہ کے کاموں سے ہمارا بچاؤ ہے۔۔۔۔
    قرآن کریم میں اللّٰہ تعالی نے ہمیں متعدد مقامات پر تقویٰ کی اہمیت اور متقین میں شمار ہونے کے راستے بتائے ہیں۔۔۔۔
    آیئے کچھ مقامات پر نظر ڈالتے ہیں۔۔۔۔:
    "اے لوگو !
    اپنے رب کی عبادت کرو،جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔۔۔تاکہ تم بچ جاؤ”
    (البقرۃ:21)۔
    یعنی اللّٰہ تعالی کی ناراضگی اور غصہ سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللّٰہ تعالی کی وحدانیت کو صحیح معنوں میں سمجھ جاؤ۔۔۔۔
    صرف اسی کی عبادت کرو اور جان بوجھ کر شرک کا ارتکاب نہ کرو۔۔۔
    اگر ایسا کرو گے تو یقیناً تمہارا انجام بچاؤ ہو گا۔۔۔

    "نیکی یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو۔۔۔۔بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ جو اللہ پر اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے۔۔۔اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں،
    اور یتیموں۔۔۔
    اور مسکینوں اور مسافر اور سوال کرنے والوں کو۔۔۔
    اور گردنیں چھڑانے میں۔۔۔۔اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے
    اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں اور خصوصاً تنگدستی اور تکلیف میں صبر کرنے والے ہیں۔۔۔۔یہی لوگ ہیں جنہوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔۔۔۔”
    (البقرۃ:177)۔
    یعنی مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لینا بذات خود نیکی نہیں بلکہ یہ تو مرکزیت اور اجتماعیت کے حصول کا ایک طریقہ ہے۔۔۔اصل نیکی ان عقائد پر ایمان رکھنا ہے جو اللہ تعالی نے بیان فرمائے ہیں اور ان اعمال و اخلاق کو اپنانا جن کی تاکید کی گئی ہے تو ان باتوں کا انجام حسن تقویٰ ہے۔۔۔۔
    بچاؤ ہے۔۔۔۔کامیابی ہے۔۔۔۔کیونکہ کامیابی کا دارو مدار تقویٰ کی کیفیت پر ہے۔۔۔۔اخلاص کی نوعیت پر ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اے ایمان والو!
    تم پرروزے رکھنے فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔۔۔۔تاکہ تم بچ جاؤ”۔
    (البقرۃ:183)
    یہ عبادت تقویٰ کے حصول کا بڑا مقصد ہے۔۔۔۔کیونکہ نفس کی طہارت کے لیئے بہت بہترین اور اہم ہے۔۔۔۔
    اخلاق اور کردار کو سنوارنے میں روزے کا بنیادی کردار ہے۔۔۔۔
    روحانی اور جسمانی بالیدگی کا باعث ہے۔۔۔۔
    اللّٰہ کی رضا کے لیئے حلائل سے بھی رکے رہنا۔۔۔۔نفسانی خواہشات پر قابو پانا۔۔۔۔۔
    تو یہ چیزیں تقویٰ کے حصول کا سبب بن جاتی ہیں۔۔۔۔ !!!!!!

    "تمہارے لیئے بدلہ لینے میں ایک طرح کی زندگی ہے۔۔۔اے عقلمندو !
    تاکہ تم بچ جاؤ۔”
    (البقرۃ:179)۔
    یعنی قصاص میں تمہاری زندگی کا راز ہے۔۔۔۔۔جرائم کی روک تھام کا ذریعہ ہے۔۔۔۔
    جب قاتل کو یہ خوف ہو گا کہ وہ بھی قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔تو معاشرہ خونریزی اور بد امنی سے بچ جائے گا۔۔۔۔
    کیونکہ قانون کا نفاذ ہی جرائم کی شرح کم اور امن و سکون کی وجہ ہوتا ہے۔۔۔۔ !!!

    "پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو۔۔۔۔جیسے اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے۔۔۔۔”
    (البقرۃ:194)۔
    یعنی کفار حرمتوں کو ملحوظ رکھیں تو تم بھی رکھو۔۔۔۔ورنہ انہیں حرمتوں کو پامال کرنے کی سزا بدلہ ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اور معاف کر دو تو تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو”۔۔۔۔
    (البقرۃ:237)۔
    اگرچہ یہاں حق مہر کے سلسلے میں فضل و احسان کی تاکید کی گئی ہے مگر ہر معاملے میں آپس میں فضل و احسان کو اختیار کرنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔تعلیم اسلام ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "کیوں نہیں!
    جو شخص اپنا عہد پورا کرے اور ڈرے تو یقیناً اللہ ڈرنے والوں سے محبت رکھتا ہے”۔
    (آل عمران:76)۔
    یہاں اقرار سے مراد وہ عہد ہے جو ہر نبی کی امتوں سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا اور ڈرنے سے مراد اللہ تعالی کے محارم سے بچنا اور ان باتوں پر عمل کرنا جو پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں۔۔۔
    تو ایسے لوگوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اور جو بھی نیکی کریں،تو ان کی بے قدری ہر گز نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے”
    (آل عمران:115)۔