Baaghi TV

Author: +9251

  • سعودی عرب ایران کے متعلق بڑا قدم اٹھانے جا رہا

    سعودی عرب ایران کے متعلق بڑا قدم اٹھانے جا رہا

    سعودی عرب نے بڑا اعلان کر دیا ، سعودی عرب جار رہا ہے . آرامکو حملوں‌ میں‌ موث ملک کے خلاف ثبوت دکھانے اور وہ ملک ہے ایران کہ جس کا امریکا ، اسرائیل پہلے ہی نام لے چکے ہیں .سعودی وزارت دفاع ارامکو کمپنی کی تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کےناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ وزارت دفاع آج بدھ کی شام کو ایک پریس کانفرنس میں وہ ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرے گی۔ حملوں‌میں‌استعمال ہونے ولے اس موقع پر اس حملے میں استعمال ہونے والے ایرانی اسلحہ اور ہتھیاروں کے ٹھوس ثبوت بھی دکھائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ ہفتے کو صبح کے وقت دو مقامات پر تیل کی تنصیبات پر دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں وہاں پر تیل کی پیداوار جزوی طورپر متاثر ہوئی تھی تاہم اسے بحال کردیا گیا ہے۔اسرائیلی اور امریکی میڈیا ان حملوں کی ذمہ داری ایران پر ڈال رہے ہیں.

  • وہاڑی : بچے کو تلاش کرنے کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) لاپتہ بچہ عرفان ولد محمد یار سکنہ چک نمبر 50 KB
    فتح شاہ کو دن رات کی محنت سے ایس ایچ او فتح شاہ چوہدری محمد صدیق نے ہمراہ اپنی ٹیم گمشدہ بچے محمد عرفان کو تلاش کرکے اس کے ورثہ کے حوالے کردیا۔۔بچے کے لواحقین نے جناب ڈی پی او صاحب وہاڑی اور اے ایس پی صاحب بوریوالہ اور ایس ایچ او تھانہ فتح شاہ کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔اور جناب ڈی پی او صاحب ثاقب سلطان المحمود اور اے ایس پی صاحب جناب آصف رضا صاحب کو دعائیں دی۔

  • بورے والا: ناک کاٹ دینے کی وجہ سامنے آ گئی

    بورےوالا ( نمائندہ باغی ٹی وی) زمین کے تنازعے پر ناک کاٹ دی گئی
    تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں 415/ ای بی میں زمین کے تنازعہ پر کزنوں نے ساتھی سےملکر کلہاڑی سےچچا زاد گل شیر ملکہ کی ناک کاٹ دی جبکہ جسم کے مختلف حصوں پر وار کر کے چھلنی کردیا، زخمی کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا. پولیس نے واقعہ کی رپورٹ درج کر لی ہے

  • بورے والا : دوران مزاحمت لڑکی زخمی ہو گئی

    بورےوالا (نمائندہ باغی ٹی وی) نواحی آبادی مجاہد کالونی میں 13 سالہ کمسن بچی سے زیادتی کی کوشش ۔پٹواری کا منشی جنسی ہوس پوری کرنے کے لئے ناخنوں سے جسم نوچتا رہا بچی نے نیم برہنہ حالت میں بھاگ کر جان بچائی

    بورے والا کی نواحی آبادی مجاہد کالونی کی رہائشی 13 سالہ بے سہارا بچی کو گزشتہ روز انکے ہمسائے میں رہائش پذیر پٹواری کے منشی نثار احمد نےکسی کام کے لئے گھر بلایا اسکی بیوی گھر میں نہ تھی نثار نے بچی کو زبردستی پکڑ کر اس سے زیادتی کرنے کی کوشش میں ناخنوں سے اسکے جسم کو نوچتا رہا اس دوران بچی کے کپڑے ہھٹ گئے اور اس نے چیخ و پکار کی اور مشکل سے جان چھڑا کر گھر آگئی

    جسکی درخواست تھانہ سٹی پولیس کو دی گئی میڈیکل رپورٹ میں ناخنوں کےنشانات بھی ثابت ہوگئے اور اہل محلہ کے مطابق بھی نثار اس سے قبل بھی کئی بچیوں کو بے آبرو کرچکا ہے لیکن عزت بچانےبکے لئے کسی نے منہ نہ کھولا تاہم تھانہ سٹی پولیس نے تاحال مقدمہ درج نہیں کیا نثار کا کہنا ہے کہ میں نے بچی سے پیسے لینے تھے واپسی کا تقاضا کیا تو اس نے الزام لگا دیا

  • بورے والا : نہر سے نا معلوم شخص کی نعش برآمد

    بورےوالا (نمائندہ باغی ٹی وی) نہر سے نامعلوم شخص کی سر کٹی نعش برآمد

    تفصیلات کے مطابق چکنمبر 110 ای بی کے قریب نہر سے ایک نامعلوم نوجوان کی نعش برامد ہوئی ہے ریسکیو 1122بورے والا نے بروقت رنسپانس کرتے ہوئے نعش کو نہر سے نکال کر پولیس تھانہ شیخ فاضل کے حوالے کر دیا
    ڈوبنے والے نوجوان کی عمر تقریباً 25 سال ہے اور شناخت نہیں ہو سکی ہے پولیس مصروف تفتیش ہے.

  • بورے والا : ڈکیتی کی وارداتیں عروج پر

    بورےوالا (نمائندہ باغی ٹی وی)
    معصوم شاہ روڈ پر 455/ ای بی کے قریب مسلح ڈکیتی کی واردات ہوئی جس میں نامعلوم ڈاکو دیہاتی سے موٹر سائیکل نقدی اور موبائل لوٹ کر فرار،مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے دیہاتی شدید زخمی،زخمی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔ریسکیو ذرائع

    جب مقامی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور واقعہ کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے

  • بھٹو کے شہر میں 10 سالہ بچہ کتے کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے پر ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر مرگیا

    بھٹو کے شہر میں 10 سالہ بچہ کتے کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے پر ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر مرگیا

    لاڑکانہ: ذوالفقارعلی بھٹو کے شہر لاڑکانہ کے کسی بھی ہسپتال میں ویکسین نہیں ہے. دس سالہ میر حسن کو کتے کاٹنے کی ویکسین نہیں ملی جس کی وجہ سے اس نے اپنی ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر جان دیدی.

    تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 50 سال کے لگ بھگ سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور آج بھی بھٹو زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگارہی ہے. عوام کی بنیادی ضروریات کی بات کرتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ صرف وہ ہی اس ملک کے اصل خیر خواہ ہیں، لیکن بھٹو کے نام پر سیاست کرنے والے 50 سال میں بھی بھٹو کے شہر کو ماڈل کے طور پر پیش نہیں کرسکے. لاڑکانہ کے اسپتال میں کتے کاٹنے کی ویکسین نہ ملی جس کی وجہ سے شکارپور کے دس سالہ میر حسن نے ماں کی گود میں کمشنر آفیس لاڑکانہ کے باہر تڑپ تڑپ کے جان دے دی. ماں صرف اپنے بچے کو مرتا ہوئے دیکھتی رہی اور روتی رہی.

    https://twitter.com/Xadeejournalist/status/1174015821988925440

    سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس بچے کی ہلاکت کا ذمہ کون لے گا؟ کیا بلاول بھٹو میں اتنی بھی اخلاقی جرات ہوگی کہ وہ اس پر اس ماں سے معافی مانگ سکیں جس نے اپنے بچے کو اپنی گود میں مرتے دیکھا.

  • آرٹیکل 149 کیا واقعی سندھ کی عوام کے لیے بہتر ہے : علی چاند

    آرٹیکل 149 کیا واقعی سندھ کی عوام کے لیے بہتر ہے : علی چاند

    کیا آرٹیکل 149 کی بحث کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ، سندھ حکومت سے اختیارات چھیننے کے لیے یا واقعی سندھ کی عوام سے خیر خواہی کے لیے ۔

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سندھ کے مساٸل کے حوالے سے ایک کمیٹی بناٸی تھی جس کا مقصد کراچی کے مساٸل کا حل نکالنا تھا ۔ اس حوالے سے میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا یہ بیان سامنے آیا کہ ” حکومت کراچی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے آٸین کی شق 149 کے نفاذ پر غور کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں کی مختلف راٸے نظر نظر آٸیں ہیں کچھ لوگوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت سے اس کے اختیارات چھیننا چاہتی ہے ۔ کچھ لوگوں نے اس بات کی کھل کر حمایت کی ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے مساٸل کا واحد حل اب آرٹیکل 149 کا استعمال ہی ہے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 149 کی بحث چھیڑنے کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کی توجہ کشمیر سے ہٹانا ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے دیکھا کہ سب لوگ حکومت کو کشمیر کے حوالے سے عملی طور پر کچھ نہ کرنے کی وجہ سے قصوروار ٹھہرا رہے ہیں تو حکومت نے آرٹیکل 149 کی بحث میں لوگوں کو الجھادیا ہے تاکہ کوٸی کشمیر کے حوالے سے حکومت پر تنقید نہ کرے ۔

    کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ۔ آج اس شہر کی پہچان اس کے مساٸل ہیں ۔ کراچی شہر میں سنگین مساٸل پیدا ہوچکے ہیں کہ شاید ہی انہیں کوٸی حل کر پاٸے ۔ دنیا میں کسی بھی ملک میں کوٸی بھی ایسا مسلہ نہیں ہے جسے حکومت حل کرنا چاہے اور وہ حل نہ کر پاٸے ۔ لیکن شاید یہ سندھ صوبے کی بد قسمتی ہے کہ اس پر ایک ہی پارٹی مسلسل حکومت کرنے کے بعد بھی اس کے مساٸل حل نہیں کر پاٸی ۔ گندگی کے ڈھیر ، مکھیاں ، مچھر ، بیماریاں پانی کے مساٸل یہ تو ہر جگہ نظر آتے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ سنھ حکومت نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی ۔

    وفاقی وزیر قانون کے مطابق اس کا حل آرٹیکل 149 کے استعمال سے ممکن ہے ۔ آٸیں جانتے ہیں کہ آرٹیکل 149 ہے کیا ؟ اس آرٹیکل میں صوبوں کو ہدایات کے حوالے سے درج ذیل شقیں ہیں ۔

    1) ہر صوبے کا عاملانہ اختیار اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ وہ وفاق کے عاملانہ اختیار میں حائل نہ ہو یا اسے نقصان نہ پہنچائے اور وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسی ہدایات دینے پر وسعت پذیر ہو گا جو اس مقصاد کے لیے وفاقی حکومت کو ضروری معلوم ہوں۔

    2) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو، اس صوبے میں کسی ایسے وفاقی قانون پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت دینے پر بھی وسعت پذیر ہوگا جس کا تعلق مشترکہ قانون سازی کی فہرست میں مصرحہ کسی معاملے سے ہو اور جس میں ایسی ہدایات دینے کا اختیار دیا گیا ہو۔

    3) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسے ذرائع مواصلات کی تعمیر اور نگہداشت کے لیے ہدایات دینے پر بھی وسعت پذیر ہوگا جنہیں ہدایت میں قومی یا فوجی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہو۔

    4) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسے طریقے کی بابت ہدایت دینے پر بھی وسعت پذیر ہو گا ، جس میں اس کے عاملانہ اختیار کو پاکستان یا اس کے کسی حصےکے امن یا سکون یا اقتصادی زندگی کے لیے کسی سنگین خطرے کے انسداد کی غرض سے استعمال کیا جانا ہو۔

    پاکستان لیگل ڈائجسٹ 1998 کے مطابق سپریم کورٹ کے کیس نمبر 388 میں جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں آرٹیکل 149 کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین کی یہ شق مخصوص حالات میں صوبے اور وفاق کے درمیان رشتے کا تعین کرتی ہے جب کسی معاملے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے وفاق صوبے کو ہدایات جاری کرے۔

    اس آرٹیکل کا مقصد کسی بھی صورتحال میں اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد یقینی بنانا ہے تاکہ اس صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے جس کے پیدا ہونے کے سبب وفاقی حکومت کو انتظامی اختیار استعمال کرنا پڑے اور وہ صوبہ جہاں وفاق کا قانون نافذ ہے وہاں اس نے خصوصی ہدایات جاری کی۔

    اس سلسلے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آرٹیکل کے تحت اگر وفاقی حکومت صرف ہدایات دینے تک محدود ہے تو پھر اس بات کا تاثر کیوں پیدا ہورہا ہے کہ وفاقی حکومت انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے ۔ سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے وفاقی وزیر قانون کی اس بات پر شدید تنقید کرتے ہوٸے کہا ہے کہ ایک دروازہ سندھ حکومت ہے ۔ اگر وفاقی حکومت کراچی کا کوٸی بھی مسٸلہ حل کرنا چاہتی ہے تو اسے اس دروازے سے گزر کر جانا ہوگا ۔

    کہا جارہا ہے کہ شاید وزیر اعظم عمران خان دورہ کراچی کے دوران اس آرٹیکل کے استعمال کا اعلان کریں ۔ اس اعلان کے بعد ہی اصل حقاٸق معلوم ہوسکیں گے کہ کیا وفاقی حکومت سندھ حکومت کو صرف ہدایات جاری کرتی ہے یا انتظامی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لیتی ہے ۔

    اللہ تعالی پاکستان کے لوگوں کو مزید تقسیم ہونے سے بچاٸے ۔ اور پاکستان کے اندرونی و بیرونی مساٸل حل فرماٸے ۔ آمین