Baaghi TV

Author: +9251

  • مودی حکومت کی طرف سے عدنان سمیع پر جرمانہ عائد ، مبشر لقمان کی دلچسپ ٹویٹ

    مودی حکومت کی طرف سے عدنان سمیع پر جرمانہ عائد ، مبشر لقمان کی دلچسپ ٹویٹ

    مودی حکومت کی طرف سے عدنان سمیع پر جرمانہ عائد ، مبشر لقمان کی دلچسپ ٹویٹ
    انڈین گورنمنٹ نے 8 فلیٹ بغیر مناسب قانونی کارروائی کے خریدنے پہ 50 لاکھ انڈین روپے جرمانہ کیا ھے اور سمیع نے 10 لاکھ جمع کروا دیا، اس خبر پر معروف اینکر اور سینئر صحافی مبشر لقمان نے دلچسپ ٹویٹ کرتےہوئے کہا ہے کہا کہ میجر عدنان سمیع کو اپنے ملک کے لیے خدمات انجام دینے پر سزاد دی جا رہی ہے ،امید کی جاتی ہے کہ یہ جرمانہ عدنان سمیع کو اپنی مادر وطن کے لیے خدمات انجام دینے کی راہ میں حائل نہیں ہوگا،
    واضح رہے کہ معروف سنگر عدنان سمیع پاکستانی نژاد ہے اور ایک طویل عرصے سے بھارت میں‌مقیم ہے، عدنان سمیع بھارت کی شہریت حاصل کرنے کے لیے بہت جتن کیے ہیں حتی کہ پاکستان اور ریاست پاکستان کے خلاف کئی بار منفی باتیں کی ہیں اور پاکستان کی کردار کشی کرنے میں‌کوئی کسر نہیں‌چھوڑی ، جس کا مقصد بھارت سرکار اور جنونی ہندوؤں کو خوش کرنا اور بھارتی شہریت حاصل کرنا تھا.بھارتی شہریت تو مل گئی ،لیکن اس کا مول بہت زیادہ ادا کرنا پڑ رہا ہے .
    پاکستان کے خلاف بولنے کے باوجود عدنان سمیع کو بھارت کے ہندو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں.

  • اجمل خٹک پاکستانی سیاست میں ایک اہم شخصیت

    اجمل خٹک پاکستانی سیاست میں ایک اہم شخصیت

    اجمل خٹک
    پاکستان کے نامور سیاستدان اور ممتاز شاعر اجمل خٹک ستمبر 1926ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔
    وہ باچاخان کے پیروکار اور نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔
    نیپ پر پابندی کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور اس کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔
    جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انہوں نے طویل عرصہ تک افغانستان میں جلاوطنی بھی کاٹی۔ 1990ء سے 1993ء کے دوران وہ قومی اسمبلی اور 1994ء سے 1999ء تک سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔
    اجمل خٹک پشتو اور اردو کے اہم اہل قلم میں بھی شمار ہوتے تھے۔
    ان کا مجموعہ کلام جلاوطن کی شاعری کے نام سے شائع ہوا تھا۔
    اکادمی ادبیات پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پرانہیں 2007ء کا کمال فن ایوارڈ بھی عطا کیا تھا۔
    7 فروری 2010ء کو اجمل خٹک نوشہرہ میں وفات پاگئے اور اکوڑہ خٹک میں آسودۂ خاک ہوئے۔۔!!

  • بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا معائنہ پھر ہوۓ جرمانے

    بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی آپریشن ٹیم کاطوغی روڈ اور علمدارروڈ میں مختلف ہوٹلز، بیکرز اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس کا معائنہ حفظان صحت کے اصولوں کے برخلاف اشیاءخوردونوش کی تیاری و فروخت پر معروف بیکری سیل، متعدد کو جرمانے اور وارننگ نوٹسز جاری.
    بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی معائنہ ٹیم نے پیر کے روز طوغی روڈ اور علمدارروڈ میں قائم مختلف ہوٹلز ، بیکرز اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس کا معائنہ کیا۔دوران معائنہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے مذکور کھانے پینے کے مراکز میں فروخت ہونے والی مختلف اشیاء کے معیار اور صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔فوڈ اتھارٹی حکام نے کاروائی کرتے ہوئے واؤ سویٹس اینڈ بیکرز کو انتباہ کے باوجود پروڈکشن ایریا میں گندگی، کھانے کی اشیاء ڈھکی ہوئی نہ ہونے اور ملازمین کی ذاتی صفائی نہ ہونے پر سیل کر دیا جبکہ کراچی بریانی اور سردار ہوٹل کو صفائی کے ناقص انتظامات اور غیر معیاری و مضر صحت اشیاء خوردونوش کی تیاری اور فروخت سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر 50،50 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ۔مزید برآں اتھارٹی حکام کی جانب سے متعدد کھانے پینے کے مراکز کو وارننگ نوٹسز بھی جاری کیے گئے جبکہ مذکورہ مراکز کے مالکان وعملے کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیاء خوردنوش کی تیاری یقینی بنانے اور صفائی کے انتظامات میں بہتری لانے کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی گئیں۔

  • ہاجرہ مسرور کی وفات

    ہاجرہ مسرور کی وفات

    ہاجرہ مسرور کی وفات
    اردو کی ممتاز افسانہ نگار ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق ہندوستان کے مرکزِ علم و ادب لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئی تھیں۔ان کے والد ڈاکٹر تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹرتھے۔ ہاجرہ مسرور کی پیدائش کے کچھ برس بعد دل کے دورے سے ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اْن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانا نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے اندازمیں کی۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اْردو کی معروف ادیب تھیں۔ ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جبکہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار اپنی نسل کے ممتاز شاعروں میں ہوتا تھا۔
    قیام پاکستان کے بعد ہاجرہ مسروراپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اورلاہورمیں سکونت اختیار کرلی۔ اْس زمانے میں لاہورپاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطورکہانی و افسانہ نگاراپنا عہد شروع کرچکی تھیں۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔ انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ’’نقوش‘‘ شائع کرنا شروع کیا۔ ہاجرہ مسرورکے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میںچاند کے دوسری طرف، تیسری منزل، اندھیرے اْجالے، چوری چھپے، ہائے اللہ، چرکے اوروہ لوگ شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1991ء میں لاہور کے ایک ناشر نے ’’میرے سب افسانے‘‘ کے عنوان سے شائع کیا تھا۔افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اْن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کی تھیں۔
    ہاجرہ مسرور کو اْن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 14 اگست 1995ء کو انھیں صدارتی تمغہ برائے حْسنِ کارکردگی عطا کیا تھا ۔ 2005ء میں انہیں عالمی فروغِ اْردو ادب ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔
    ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ’’نگار ایوارڈ‘‘ بھی دیا گیا۔انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ’’آخری اسٹیشن‘‘ کی کہانی بھی لکھی تھی۔ یہ فلم معروف شاعر سرور بارہ بنکوی نے بنائی تھی۔
    ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہوئی تھی۔ جو روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر رہے تھے۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا اور وہ ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔۔!!

  • مہاتیر محمد نے ذاکر نائیک کے حوالے سے ایک بڑی بات کہہ دی

    مہاتیر محمد نے ذاکر نائیک کے حوالے سے ایک بڑی بات کہہ دی

    ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے جن کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی نے ذاکر نائیک کی بھارت حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔مہاتیر محمد نے کہا کہ مودی نے ذاکر نائک کو ہندوستان بھیجنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔
    مہاتیر ، مودی ملاقات میں کن امور پر ہوئی بات….خبر آ گئی
    مہاتیر محمد نے ذاکر نائک کو بھارت حوالگی کے امکانات کو لے کر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ”بیشتر ممالک اسے اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے۔ میں وزیر اعظم مودی سے ملا ہوں، انھوں نے بھی اس کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ شخص ہندوستان کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔“

    مہاتیر محمد نے مزید کہا کہ ”ذاکر نائک اس ملک کا شہری نہیں ہے، اسے گزشتہ حکومت نے مستقل شہری کا درجہ دیا تھا۔ مستقل شہری کو ملک کے سسٹم اور سیاست کے بارے میں تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، اس نے اس کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے اب اسے بولنے کی اجازت نہیں ہے۔“

  • نیپالی کوہ پیما نے توڑا دنیا کی 14 لمبی چوٹیوں پر چڑھنے کا ریکارڈ

    نیپالی کوہ پیما نے توڑا دنیا کی 14 لمبی چوٹیوں پر چڑھنے کا ریکارڈ

    نیپالی کوہ پیما نے توڑا دنیا کی 14 لمبی چوٹیوں پر چڑھنے کا ریکارڈ ، 8سال میں سر کیے جانے والی چوٹیوں کو صرف سات ماہ میں سر کر کے ایک نیا ریکارڑ بنا دیا
    دنیا کی 14 لمبی چوٹیوں پر چڑھنے کا موجودہ ریکارڈ قریب آٹھ سال ہے۔ نیپالی کوہ پیما ، نرمل پرجا ، جس نے برطانوی خصوصی دستوں میں خدمات انجام دیں ، یہ ریکارڈ قائم کیا ہے

    پیر کو پرجا 8،201-میٹر (26،906 فٹ) چو اویو کے ایڈوانس بیس کیمپ پر پہنچا ، جو حیرت انگیز برداشت کے اپنے کارنامے میں آخری تین چوٹیوں کے آخری مرحلے کے لئے تیار ہے۔

    پورجا نے فون کے ذریعے اے ایف پی کو بتایا ، "کسی کو یقین نہیں تھا کہ میں یہ کرسکتا ہوں جب میں نے پہلی بار کہا تھا … مجھے اس کوشش کے ذریعے تمام عمر کی نسلوں کو متاثر کرنے میں بہت خوشی ہے۔ مجھے یہی جاری رکھتا ہے۔”
    صرف ایک نوعمر جب اس نے برطانوی گورکھس ، پورجا یا "نمس دائی” میں شمولیت اختیار کی تھی ، 2017 میں ریکارڈ 10 گھنٹے 15 منٹ میں 8،848 میٹر ایورسٹ اور لوٹسے دونوں نے 8،516 میٹر پر چڑھائی۔

    لیکن ایسا کرنا بنیادی طور پرخطر ناک ہے۔ 1980 کی دہائی میں ، اس نے پولینڈ کے کوہ پیما جیریجی کوکوزکا کو نے سات سال ، 11 ماہ 14 دن لگائے۔

  • بھارت، نیچ ذات کے بی جے پی رکن اسمبلی کو مندر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    بھارت، نیچ ذات کے بی جے پی رکن اسمبلی کو مندر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    کرناٹک کے چتردرگ سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اے نارائن سوامی کو ان کے ہی انتخابی حلقہ کے ایک گاوں کے مندر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ رکن پارلیمنٹ کو دلت ہونے کے سبب سے داخل ہونے سے روکا گیا

    بھارت، بی جے پی لیڈر کی بیٹی نے کی دلت نوجوان سے شادی

    نارائن سوامی ایک فارما کمپنی کے ڈاکٹروں اور افسروں کے ایک گروپ کے ساتھ علاقے کے وزٹ پرتھے۔

    دریں اثناء نارائن سوامی کو گولا طبقہ کے ذریعہ اس وقت ذلیل ورسوا کیا گیا تھا جب انھوں نے گروپ کےس اتھ گولرہٹی میں داخل کرنے کی کوشش کی۔ انھیں اچھوت کہا گیا۔واضح رہے کہ گولر ہٹی میں گولا طبقہ سے متعلق لوگ رہتے ہیں۔

    یاد رہے کہ بھارت میں نیچ ذات کے ہندوﺅں کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ان کے ساتھ امتیازی سلوک بھارت بھر میں عام ہے۔

  • انڈونیشیا، جنگلات میں آگ لگانے کے الزام میں 185 افراد گرفتار

    انڈونیشیا، جنگلات میں آگ لگانے کے الزام میں 185 افراد گرفتار

    انڈونیشیا کے مختلف صوبوں میں تقریباً دو ماہ سے جاری جنگلات میں آگ لگانے کے الزام 185 افراد حراست میں لے لیے گئے ہیں۔
    ایمزون جنگلات میں آگ، برازیل نے اہم اعلان کردیا
    نیشنل سیکورٹی دفتر کے ترجمان دیدی پراستیو کے مطابق 6 صوبوں میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
    اس سلسلے میں 185 افراد کو حراست میں لیتے ہوئے ان کے بیانات قلم بند کیے گئے ہیں اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ دس سال کی سزائے قید دی جا سکتی ہے۔

    ثماٹرہ اور بورنیو جزیرے میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے دھوئیں سے متاثرہ علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ بعض اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو روک دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ جنگلات کی آگ خصوصاً مئی تا ستمبر کے دوران خشک موسم کے باعث اور کسانوںکی طرف سے حکومت سے بغیر اجازت زمین پر کاشت کرنے کے لیے جان بوجھ کر لگائی جاتی ہے۔

  • ذاتی رنجش فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے

    ذاتی رنجش فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے

    سرگودھا (نمائندہ باغی ٹی وی )چک نمبر 121شمالی میں مخالفین کی فائرنگ سے تین افراد زخمی تفصیلات کے مطابق فائرنگ پرانی دشمنی اور زاتی رنجش کا نتیجہ ہےفائرنگ کے نتیجے میں 3افراد زخمی ہو گئے ملزمان نے دوکان پر بیٹھے افراد پر سیدھے فائر کئے جس سے دو افراد کو پیٹ میں گولی لگی اور ایک کے پاؤں میں فائر لگازخمیوں کو فوری DHQ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ملزمان بااثر ہیں دھند دھناتے پھر رہے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں متاثرین کی ڈی پی او سرگودہا سے نوٹس لینے کا مطالبہ پولیس ملزموں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت
    مقدمات درج کرے اور انہیں فوری گرفتار کرے

    سرگودھا آہی جی پنجاب واقعہ کا نوٹس اور ہمیں انصاف فراہم کریں

  • مشہور ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر کی پیدائش بھی ستمبر میں ہوئی

    مشہور ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر کی پیدائش بھی ستمبر میں ہوئی

    عبدالقادر کی پیدائش کب ہوئی
    ستمبر 1955ء مشہور رائٹ آرم، لیگ بریک اور گگلی بائولر عبدالقادر خان کی تاریخ پیدائش ہے۔ عبدالقادر کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 14تا 19 دسمبر 1977ء کے دوران لاہور میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ سے ہوا۔
    انہوں نے مجموعی طور پر 67 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 236 وکٹیں حاصل کیں۔
    انہوں نے ایک اننگز میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز 15مرتبہ اور ایک میچ میں 10 وکٹیں لینے کا اعزاز 10 مرتبہ حاصل کیا۔
    عبدالقادر نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 6 تا 11 دسمبر 1990ء کو لاہور میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔ عبدالقادر نے 104 بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 132 وکٹیں حاصل کیں۔
    ان کے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز 11 جون 1983ء کو برمنگھم میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوا۔
    انہوں نے ایک میچ میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز دو مرتبہ حاصل کیا۔
    انہوں نے اپنا آخری بین الاقوامی میچ 2 نومبر 1993ء کو شارجہ کے مقام پر سری لنکا کے خلاف کھیلا۔۔!!