Baaghi TV

Author: +9251

  • شہباز شریف کی جیل میں نواز شریف سے ملاقات، مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے متعلق کیا بات ہوئی؟ اہم خبر

    شہباز شریف کی جیل میں نواز شریف سے ملاقات، مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے متعلق کیا بات ہوئی؟ اہم خبر

    مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے خصوصی ملاقات ہوئی ہے جس میں‌ سياسي حکمت عملی طے کر لی گئی ہے، جیل مینویل میں‌ ملاقات کا دن جمعرات کا ہے تاہم آج خصوصی طور پر نواز شریف سے ملاقات کی گئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومي اسمبلي ميں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شريف سے جيل ميں خصوصي ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے سياسی سرگرميوں اور اس حوالے سے ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کيا، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات اور آئندہ ماہ جمعيت علمائے اسلام کے آزادی مارچ سے متعلق لاک ڈاون سے بھي آگاہ کيا،

    شہباز شريف نے مسلم ليگ ن کی سينٹرل ايگزيکٹو کميٹي کے تيس ستمبر کو اسلام آباد ميں ہونے والے اجلاس کے بارے ميں تبادلہ خيال کيا اور حکومتي رويہ اور اس کے خلاف نئي حکمت عملي بھي طے کي گئي ۔ نواز شريف نے اس حوالے سے شہباز شريف کو خصوصي ہدايت دی ہیں،

  • وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد

    وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد

    جب سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے بعد سیدنا عمرؓ کو خلیفہ بنانے کیلئے لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ عمرؓ ویسے تو بہت اچھے ہیں مگر طبیعت کے بہت سخت ہیں۔ اس بات کو سن کر سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا، ”عمرؓ اس لیے سخت ہیں کہ میں نرمی کرتا ہوں۔۔۔“
    اکثر جب کچھ لوگ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ طبیعت کے بہت سخت ہیں تو میں ان کو یہی واقعہ سناتا ہوں۔میں منافقوں اور پاکستان کے دشمنوں پر اس لیے سخت ہوں کہ ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان ان دشمنوں کے معاملے میں خطرناک حد تک نرمی کا معاملہ رکھتے ہیں۔اگر ریاست پاکستان، حکومت، عدلیہ اور فوج پاکستان کے دشمنوں پر سختی کریں، غداروں اور منافقوں کو سولی چڑھائیں، سازشیوں کے سر وقت پر کچلے جائیں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اتنی بے چینی اور جلال کے ساتھ دشمنوں کے خلاف اذان دوں۔۔۔؟
    میں کفار و منافقین و دشمنوں کے خلاف اس لیے جلال دکھاتا ہوں کہ ریاست کا بوسیدہ نظام ان سانپوں کو پالتا ہے۔کیا ریاست پاکستان اجتماعی طور پر ہر فیصلہ درست کررہی ہے؟کیا پاکستان میں عدل و انصاف ہے؟کیا منافقین اور دشمن سزا پا چکے ہیں؟ظاہر ہے کہ نہیں۔۔۔ تو پھر اجتماعی فیصلے بھی تو غلط ہی ہورہے ہیں ناں۔۔۔!

    معاملہ پاکستان اور امت رسولﷺ کا ہے۔ اگر کہیں پاکستان اورامت کو حکومتی فیصلوں سے تکلیف پہنچے گی تو پہلے میں نصیحت کروں گا، پھر تنبیہ کروں گا اور پھر بھی اگر وہ ظلم پر اسرار کرتے رہے تو پھر اعلان جنگ ہوگا۔یہ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں ہے، سیدی رسول اللہﷺ کی امانت ہے۔ اس کے معاملے میں یہ فقیر کسی کا لحاظ نہیں کرے گا۔

    میرے بہت سے دوست سرکاری افسران ہیں۔ میں اکثر ان سے پوچھتا ہوں کہ تم اپنے آس پاس خیانت و ظلم ہوتے دیکھتے ہو تو آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ان کا ہر دفعہ ایک ہی جواب ہوتا ہے: ”یار سرکاری نوکری کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔“

    یاد رکھیں، ہم بھی سرکاری نوکری کررہے ہیں۔۔۔ ”سرکارﷺ “ کی نوکری، ہماری بھی مجبوریاں ہیں۔
    آج اس پاک سرزمین کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں اور امت رسولﷺ کے دفاع اور آبرو کی حفاظت کیلئے ہمیں اذان دیتے بیس برس ہوچکے ہیں۔ ہماری”سرکاری نوکری“ کی صرف ایک مجبوری ہے: اور وہ یہ کہ سیدی رسول اللہﷺ سے ہم خیانت نہیں کرسکتے!باقی ہمیں کسی چیز کا لحاظ نہیں کریں گے۔جب معاملہ پاکستان کا ہو، امت رسولﷺ کا ہو، تو ہم کبھی بھی کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، چاہے حکومت ہو، عدلیہ ہو، فوج ہو یا میڈیا۔اللہ نے جو فراست اور تجربہ ہمیں عطا فرمایا ہے اور جو ڈیوٹی ہم سے لے چکا ہے اور لے رہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم ریاست کا نظام چلانے والوں پر گہری نگاہ رکھیں۔

    جاہل ہم سے کہتے ہیں کہ حکومت کو آپ سے زیادہ پتہ ہے، وہاں زیادہ بہتر دماغ نظام چلانے کیلئے بیٹھے ہیں۔تو پھر ہمارا سوال ان سے یہ ہے کہ پھر ملک میں اتنا فساد کیوں ہے، ملک میں اتنا ظلم کیوں ہے، ملک میں اتنی جہالت کیوں ہے، ملک میں کفر کا نظام کیوں ہے، مسلمان کی آبرو اور خون اتنا سستا کیوں ہے۔۔۔؟؟؟

    یہ ہمارے ریاستی اداروں کے اجتماعی گناہ ہی تھے کہ جن کی وجہ سے 1971 ءمیں ہمارا ملک ہی ٹوٹ گیا۔سقوط ڈھاکہ کسی ایک فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ ریاست کے ہر ادارے کی جہالت و حماقت کی وجہ سے ہم پر عذاب بن کر مسلط ہوا۔ اب ہم کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، بلکہ عمل کی گواہی مانگیں گے۔

    براس ٹیکس ایک فرد کا نام نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ فقیر اس ادارے کا سربراہ ہے، مگر ہماری ٹیم میں اس ملک کے اعلیٰ ترین محب وطن اور صاحب فراست لوگ شامل ہیں۔ ہم انہیں دشمنوں کے شر اور حاسدوں کے حسد سے بچانے کیلئے پس پردہ رکھتے ہیں، مگر جو بات ہم کرتے ہیں اس میں گہری فراست اور تحقیق شامل ہوتی ہے۔

    حکومت، میڈیا، عدلیہ اورافواج کی ہمیشہ کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔الحمدللہ، ہماری کوئی مجبوریاں نہیں ہیں، ہم نے کسی سے تمغے نہیں لینے، تنخواہ، پنشن اور مراعات طلب نہیں کرنی، کوئی عہدہ نہیں چاہتے۔جب یہ زنجیریں پیروں میں نہ ڈلی ہوں تو ظالم کے سامنے حق بات کہنا قدر آسان ہوجاتا ہے۔

    اللہ کے فضل سے ہمیں اب اپنے آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ماننے والے تو اللہ اوراسکے رسولﷺ کو نہیں مانتے، اور جن کو اللہ نے زندہ دل عطا کیے ہیں وہ ہمارے مشن کی اہمیت اورقوت کو پہچانتے ہیں۔ہم صرف دربار نبویﷺ سے احکامات لیتے ہیں، اور پاکستان کے معاملے میں دنیا کی اور کوئی طاقت ہمیں مجبور نہیں کرسکتی۔ ان شاءاللہ۔یہ بات ہم کوا یک بار پھر واضح کردیں کہ پاکستان کے دفاع اور غزوہ ہند میں ہمارا یہ مشن ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے بدترین دشمن مشرک اور منافق اس کو روکنے اور ختم کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔ ہمارے خلاف صرف وہی بات کرے گا جو ازلی بدنصیب ہے، متکبر ہے یا منافق ہے!
    استغفر اللہ، میں تکبر نہیں کررہا، صرف اللہ کا فضل بیان کررہا ہوں۔پچھلے 12 سال سے پاکستان کے میڈیا میں ہوں، ہزاروں اذانیں دی ہیں، کوئی ایک ”یوٹرن“ دکھا دیں، کوئی ایک بات دکھا دیں کہ جو کہی ہو اورغلط ثابت ہوئی ہو؟ کیا پھر بھی آپ کو اللہ کا فضل اور کرم نظر نہیں آتا۔۔۔؟

    ہر معاملے میں یہ فقیر اس قوم پر حجت تمام کرچکا ہے۔ کوئی ایسا مسئلہ اب باقی نہیں ہے کہ جس پر تفصیلی تجزیہ کرکے فیصلہ کن حل نہ بتا دیا گیا ہو۔ حکومتی نظام کی درستگی ہو، معیشت کی اصلاح ہو، نظام کی تبدیلی ہو، اخلاقی و روحانی تربیت ہو، ملکی دفاع و غزوہ ہند کے معرکے ہوں۔ تمام حجتیں تمام کی جاچکی ہیں۔آج بھی اس ملک میں ہزاروں بے شرم اور بے غیرت ایسے ہیں کہ جن کا کام صرف ہماری اذان کا تمسخر اڑانا ہے، طنز کرنا ہے، حملے کرنا ہے اور اس مشن کوروکنا ہے۔
    آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
    کتوں کے بھونکنے سے فقیرکا رزق کم نہیں ہوجاتا۔۔۔!

    آج پاکستان کی حکو مت، میڈیا اور نظام میں اس فقیر کو ایک دشمن کی طرح دور رکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ خود ملک و قوم و ملت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کفر اور ظلم کے نظام میں کلمہءحق بلند کرنے کی یہ ادنیٰ سی قیمت ہے کہ جو ہم بہت شوق سے دے رہے ہیں۔
    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ۔۔۔!

    مشرکوں سے جنگ اب بہت نزدیک ہے۔ جوہمارا مذاق اڑاتے ہیں اور طنز کرتے ہیں کہ یہ بھارت سے جنگ کروانا چاہتے ہیں، جلد ہی وہ ہنسیں گے کم اورروئیں گے زیادہ۔حجت اس حکومت اور نظام پرپوری ہوچکی ہے، ہمیں ان کے طنز اور مذاق سے دھیلا فرق نہیں پڑتا۔ہم جس مالک کی ڈیوٹی کررہے ہیں، الحمدللہ، وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ہیں!
    تحریر سید زید زمان حامد

  • سوڈان اور اریٹیریا فوجی ، سیکورٹی شعبوں میں تعاون پر متفق

    سوڈان اور اریٹیریا فوجی ، سیکورٹی شعبوں میں تعاون پر متفق

    سوڈان اور اریٹیریا نے پیر کو فوجی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

    سوڈان پر عاید پابندیاں اٹھانے کے لیے امریکا سے مذاکرات کررہے ہیں: سوڈانی وزیر اعظم

    اریٹرین کے صدر عیسیاس افورکی کاسوڈان کا تین روزہ سرکاری دورہ پیر کے روز اختتام پذیر ہو گیا۔

    سوڈان کی وزیر خارجہ عاصمہ محمد عبد اللہ نے دونوں ممالک کے مابین متعدد شعبوں میں تعاون سے متعلق معاہدے کے بارے میں بتایا۔
    وزیرخارجہ نے کہا کہ” سوڈان اور اریٹیریا نے مندرجہ ذیل شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ دفاعی اور فوجی شعبوں میں تعاون ، جن میں زمینی افواج ، فضائیہ ، سمندری افواج ، دفاعی صنعتیں ، تربیت اور طبی خدمات شامل ہیں ۔“

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے سلامتی کے شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے ، بشمول معلومات کا تبادلہ ، صلاحیت پیدا کرنا اور سرحد پار سے منظم جرائم کا مقابلہ کرنا۔

  • چینی وزیراعظم لی کی چیانگ روس پہنچ گئے

    چینی وزیراعظم لی کی چیانگ روس پہنچ گئے

    چینی وزیراعظم لی کی چیانگ تین روزہ سرکاری دورہ پر روس پہنچ گئے۔

    چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کا دورہ روس، تفصیلات سامنے آ گئی

    چینی وزیراعظم، روسی وزیراعظم دمتری میدویدیف کی دعوت پر روس کے دورے پر ہیں۔ چینی وزیر اعظم لی کا روس کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کے لئے وسیع تر جگہ کھولے گا۔

    چینی نائب وزیر خارجہ لی یوچینگ کے مطابق دورہ کے دوران چینی وزیراعظم لی ،میدویدیف کے ساتھ 24 ویں باقاعدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ یہ دورہ اس وقت ہورہا ہے جب دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ منارہے ہیں اور اپنے تعلقات میں ایک نئے دور کی شروعات کررہے ہیں۔

    چینی وزیراعظم ماسکو میں روسی صدر پیوٹن سے بھی ملاقات کر یں گے۔

  • نیب نے کل وزیراعلیٰ سندھ کو طلب کر لیا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پوچھ گچھ کرے گی

    نیب نے کل وزیراعلیٰ سندھ کو طلب کر لیا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پوچھ گچھ کرے گی

    نیب راولپنڈی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کراچی پہنچ گئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ‌ سندھ مرادعلی شاہ کوکل صبح 11 بجے نیب کراچی کے دفترمیں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ کونیب راولپنڈی کی ٹیم نےٹھٹھہ اوردادوشوگرملزکیس میں طلب کررکھاہے، جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم وزیراعلیٰ سندھ سے کینٹ ہیڈکوارٹر میں‌ پوچھ گچھ کرےگی،

    میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعلی سندھ کے شیڈول میں 11 بجے کا نیب جانے کا ریمائنڈر لگا دیا گیا ہے جب کہ نیب کی 15 رکنی ٹیم بھی کراچی پہنچ گئی ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں 11 تحقیقاتی افسر اور 4 اسسٹنٹ شامل ہیں،

  • لیبیا میں فضائی حملہ، درجنوں جاں بحق

    لیبیا میں فضائی حملہ، درجنوں جاں بحق

    لیبیا کے شہرسیرت میں ہوائی حملے میں کم سے کم 32 لوگ جاں بحق ہو گئے جبکہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جن میں سے اکثر کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔

    لیبیا: وفاقی حکومت کی ترہونہ شہر پر ڈرون طیاروں سے بمباری
    خلیفہ حفتر کی قیادت والی لبین نیشنل آرمی (ایل این اے) اپریل سے طرابلس کو حاصل کرنے کے لیے فضائی حملے کر رہی ہے ۔ طرابلس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے زیر انتظام علاقہ ہے۔

    اس سے پہلے گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ کی زیر کنٹرول سیرت پروٹیکشن فورس (ایس پی ایف) نے کہا ہے کہ اس ہوائی حملے میں کم سے کم دو لوگوں کی موت ہوگئی اور 18 دیگر زخمی ہوگئے

    واضح رہے کہ 2011 میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے طرابلس میں سوا لاکھ سے زیادہ افراد بے گھرجبکہ سیکڑوں شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

  • پی سی بی نے سری لنکا سیریز اور دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم منیجمنٹ کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے سری لنکا سیریز اور دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم منیجمنٹ کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے سری لنکا سیریز اور دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم منیجمنٹ کا اعلان بھی کردیا ہے، مصباح الحق ہیڈ کوچ اینڈ چیف سلیکٹر، منصور رانا ٹیم آپریشنز، لاجسٹک اینڈ ایڈمنسٹریٹو منیجر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں گے
    وقار یونس باؤلنگ کوچ، بریڈ برن فیلڈنگ کوچ اور شاہد اسلم اسسٹنٹ ٹو ہیڈ کوچ آن کرکٹ مقرر کردئیے گئے، کلف ڈیکن فزیو تھراپسٹ، یاسر ملک ٹرینر، رضا راشد میڈیا منیجر، طلحہ بٹ اینالسٹ اور ملنگ علی مساجر بھی ٹیم منیجمنٹ کا حصہ
    میجر ریٹائرڈ اظہر عارف کو سری لنکا سیریز کے لیے سیکورٹی منیجر مقرر کردیا گیا، کرنل ریٹائرڈ عثمان انوری دورہ آسٹریلیا پر سیکورٹی منیجر کی ذمہ داریاں نبھائیں گے

  • اسرائیلی وزیراعظم انتہاپسندی کی راہ پر، فلسطینی علاقے میں یہودی کالونی کی منظوری

    اسرائیلی وزیراعظم انتہاپسندی کی راہ پر، فلسطینی علاقے میں یہودی کالونی کی منظوری

    عالمی برادری کی طرف سے شدید تنقید کے باوجود اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم نیتن یاہو نے پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے صرف دو روز قبل مقبوضہ فلسطین کے علاقے غرب اردن میں یہودیوں کی بستی کی منظوری دے دی ۔

    وزیراعظم نیتن یاہو کا بیان نسل پرستانہ ہے، مذمت کرتے ہیں :ترکی اور عرب لیگ

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے وادی اردن میں واقع میفوت یریکو کے نام سے بستی کو سرکاری اور قانونی بستی قرار دینے سے اتفاق کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم تمام یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں۔ اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی سے ان کو قانونی قراردیتا ہے جن کی اس نے منظوری دی تھی۔

    دریں اثنا ء سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں غرب اردن میں یہودی کالونی کے قیام کے اسرائیلی اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

  • سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    ہمارے وزراء دس دس لینڈ کروز لے کر اور چار چار گاڑیاں سیکورٹی کی لے کر روڈ پر چلتے ہیں ، ایم این اے ، ایم پی اے ان کا بھی یہی حال ہے ، وفاقی کابینہ کے ارکان ان سے کم نہیں ہیں اور چاروں وزرائے اعلیٰ جو خود کو خادم اعلیٰ کہلانے سے شرماتے نہیں ان کے پروٹوکول کو بھی عوام دیکھتی ہے سب لگژری گاڑیوں میں عیش و عشرت کے ساتھ سفر کرتے ہیں اگر روڈ پہ ذلیل و خوار ہوتی ہے تو ان حکمرانوں کو ووٹ دے کر اپنا حکمران بنانے والی عوام ذلیل ہوتی ہے کوئی بسوں میں دھکے کھا رہا ہے تو کوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار گلیوں بازاروں سے تکلیف سہہ کر گزر رہا ہے۔ کسی کے پاس آرام دہ سفر کا کرایہ نہیں ہے تو کوئی صحت کے ہاتھوں مجبور کہیں سفر نہیں کر سکتا ۔

    اس مجبور عوام کے لیے عوام کے ووٹوں سے بنے وزیروں مشیروں کے پاس کوئی وقت نہیں ہے کہ اس عوام کے لیے بھی کبھی سوچ لیں جس کے ووٹ سے ہم ایوان اقتدار تک پہنچ پائے ہیں ۔ عوام کی بے بسی دیکھنی ہو تو کسی بھی تھانے میں چلے جائیں وہاں کوئی نہ کوئی صلاح الدین ظلم و ستم سہہ رہا ہوگا ۔ عدالتوں میں چلے جائیں وہاں بھي وکیلوں کے ہاتھوں عوام ہی لٹ رہی ہو گی ۔ سرکاری دفتروں میں دیکھ لیں رشوت کے بغیر وہاں عوام کی کوئی سنتا نہیں ۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں داخل ہو جائیں جب تک آپ کا مریض آخری سانسوں میں تڑپنے کی ایکٹنگ نہیں کریے گا آپ کو سیریس نہیں لیا جائے ۔ خود ان وڈیروں ، وزیروں مشیروں کے بیڈ روم اتنے بڑے ہیں کہ وہاں وسیع و عریض ایمرجنسی وارڈ بن سکتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹے اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر رہے ہیں ۔
    پانچ پانچ بار جا کر ڈاکٹر کو بلائیں گے تو چھٹی دفعہ ماتھے پہ شکنیں سجائے وہ آئے گا دو تین سنا کر چلا جائے گا۔ یہ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ سندھ کے علاقے میر پور کے سرکاری ہسپتال میں بچے کی لاش لے کر جانے کے لیے سرکاری ایمبولینس نے دو ہزار روپے مانگ لیے کیوں کہ ایمبولینس میں پٹرول نہیں ہے اور جس ایمبولینس میں پٹرول ہے اس کو ہسپتال کا ایم ایس ذاتی استعمال کے لیے کہیں لے کر گیا ہوا ہے ۔ادھر بچے کے والد کے پاس یہ دو ہزار نہیں تھے تو وہ ایمبولینس نہیں لے جا سکا اور پھر ہسپتال انتظامیہ ایمبولینس کی انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے والد اور چچا بچے کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں حادثہ کا شکار ہو کر والد اور چچا بھی فوت ہو گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

    یہ سندھ کا میر پور ہے جہاں کا بھٹو ابھی تک نہیں مرا لیکن عوام روز مرتی ہے کبھی ہسپتالوں میں کبھی تھانوں میں کبھی کچہریوں میں کبھی سڑکوں پر کبھی چوراہوں پر غریب عوام روز مرتی ہے عوام کے اس خون کی وجہ سے ہی سندھ میں ابھی تک بھٹو نہیں مرتا شاید کبھی مر بھی نہ سکے ۔ ہمارا قانون اتنا بوسیدہ اور بے بس ہے کہ کبھی امیر زادے کو وزیر زادے کو وڈیرے کو نہیں پکڑ سکتا ہاں !!!! صلاح الدین کو پکڑ کر چوبیس گھنٹوں میں انصاف کا ترازو قائم کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ لیکن کسی کروڑ پتی کے لیے جس نے ملک پاکستان میں عوام کے اربوں لوٹے ہوں گے اس کے ہاتھوں چھڑیاں بھی کھاتا ہے ہمارا قانون ان اربوں کے ڈاکوؤں کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ جیل میں رکھتا ہے کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے ۔

    یہاں عوام کے لیے ایک ایمبولینس کی سہولت نہیں میسر مگر ان اقتدار کے مگرمچھوں کا علاج لندن کے ہسپتالوں میں ہی ہونا ہے ۔ پاکستان کے ہسپتالوں کی حالت انہوں نے کبھی ٹھیک کی ہی نہیں تو خود یہ کیوں ان ہسپتالوں میں جائیں گے ان کے پاس تو عوام کا لوٹا وافر مال ہے اس سے یہ لندن امریکہ برطانیہ جاتے ہیں وہاں کے ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں اور اپنی عوام کو یہ موٹر سائیکل پہ لاشیں لے کر جانے پہ مجبور کرتے ہیں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی سیاست چلنی چاہیے ، ان کی سیٹ پکی رہنی چاہیے ، ان کے کمیشن جاری رہنے چاہئیں ، ان کی پارٹی حکومت میں رہنی چاہیے بس ان کی سب ترجیحات روز اول سے یہی ہیں اور عوام بس ان کو الیکشن کے دنوں میں بھلی لگتی ہے الیکشن کے بعد یہ عوام کو جانتے ہی نہیں ہوتے ۔ لیکن آخر یہ کب تک چلے گا ؟؟؟ کب تک یہ عوام سسکتی رہے گی اپنے ہی خادموں کے ہاتھوں …. کب تک ننھے پھول مسلے جاتے رہیں گے اپنے ہی مسیحاؤں کے ہاتھوں آخر کب قانون عوام کی بھی رکھوالی کرے گا ؟؟؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور عوام میں شعور آ جائے ۔
    تحریر از عبدالواسع برکات

  • پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فاسٹ باؤلر کو میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد

    پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فاسٹ باؤلر کو میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد

    خیبرپختوانخوا کے فاسٹ باؤلر عزیز اللہ پر پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کي خلاف وردزي پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے آر ایل اسٹیڈیم راولپنڈی میں سیکنڈ الیون کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران خیبر پختوانخواہ اور ناردرن کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ جاری تھا کہ فاسٹ باولر عزيز اللہ دانستہ طور پر ناردن کرکٹ ٹيم کے کھلاڑي سے ٹکرائے جس پر فیلڈ امپائرز فیصل آفریدی اور احسن رضا نے فاسٹ باؤلر کو چارج کیا، فاسٹ باولر عزیز اللہ نے خود پر لگے چارج کو قبول کیا،

    بعدازں ميچ ريفری کامران چودھری نے فاسٹ باؤلر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.12 کے لیول ون کی خلاف ورزی پر ميچ فيس کا پچيس فيصد جرمانہ عائد کيا ہے، واضح‌ رہے کہ اس سے قبل بھی مختلف واقعات میں کئی کھلاڑیوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جاتا رہا ہے،