Baaghi TV

Author: +9251

  • لاہور :باری اسٹوڈیو اقبال ٹاؤن میں کشمیر کرکٹ کپ کا انعقاد کیا گیا۔

    لاہور :باری اسٹوڈیو اقبال ٹاؤن میں کشمیر کرکٹ کپ کا انعقاد کیا گیا۔

    لاہور : ایمرا صدر محمد آصف بٹ اور ایمراباڈی نے آئندہ کشمیر کپ کی سرپرستی کا اعلان کرکے صحافتی ، شوبر اور فنکار براردی کے دل جیت لئے۔ایمرا صدر محمد آصف بٹ نے کشمیر کرکٹ لیگ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پرایمرا صدر محمد آصف بٹ نے کشمیر کرکٹ کپ کی فاتح ٹیم کے لئے نقدی انعام منتظمین کشمیر کرکٹ کپ میں دے کر کھلاڑیوں حوصلہ افزائی کی۔

    کشمیر کرکٹ کپ میں الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا ، شوبز اور ماڈلز سمیت فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی چار ٹیموں نے حصہ لیا۔منتظمین کشمیرکرکٹ کپ نونی خان نے صدرایمرا محمد آصف بٹ کا شکریہ ادا کیا ۔

    ایمرا صدر محمد آصف بٹ کا آئندہ کشمیر کپ صحافتی، شوبز اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی برادری کے لئے الیکٹرونک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر انتظام کروانے کا اعلان ۔

    ایمراباڈی آئندہ کشمیر کپ میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں کو گراونڈ ، کرکٹ یونیفارم ، گیند بیٹ سمیت تمام سہولیات مہیاکرے گی ۔ایمرا صدر محمد آصف بٹ

    ایمرا صدر محمد آصف بٹ کاکہنا تھاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پاکستان صحافتی برادری، پی ایف یو جے ،کے صدر رانامحمد عظیم صاحب اور، پی یو جے ،کے صدر شہزاد حسین بٹ کی قیادت میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ہونے مظالم پر صحافیوں کثیر تعداد کے ساتھ آزاد کشمیر مظفرآباد سے چکوٹھی سیکٹر تک یکجہتی کشمیر مارچ کرچکے ہیں۔اس طرح کی سرگرمیوں سے معاشرے مثبت پہلوں اجاگر ہوتے ہیں

    ایمرا صدر محمد آصف بٹ کاکہنا تھاکہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو صحافتی برادری ہمیشہ اجاگر کرتی رہی ہے ۔ صحافیوں کے ساتھ شوبز اور فنکار برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب کشمیر کپ کا انعقاد کرواکے کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر پیش کرنا قابل تحسین ہے۔

    باری سٹوڈیو میں ہونے والے کشمیر کپ میں الیکٹرونک میڈیا ٹیم کی جانب سے فرحان علی خان ، احسن ابتک نیوز ، خواجہ قادر خواجہ، محمد بلال نیونیوز، یارمحمد، خواجہ رمضان ، اے آر وائے نیوز، خرم دنیا نیوز، فیصل بٹ چینل 5 ، عمر عظیم آپ نیوز، دیاخان اردو پوائنٹ سمیت میڈیا رپورٹرز نے حصہ لیا۔کشمیر کپ میں، الیکٹرانک میڈیا ایگل ، ہرن میڈیا پینتھرز ، سنگرز سٹار ، ماڈلز سلطان نے حصہ لیا۔

    سینئر صحافی راناعامر صاحب ، راناطاہر صاحب ، رانا شہروز صاحب اور ممبر گورننگ باڈی ایمرا محمد آصف خاورسمیت صحافتی برادری اور شوبز اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے افراد کے ساتھ ساتھ سینکڑوں شہریوں نے باری سٹوڈیو میں ہونے کرکٹ مچزمیں شرکت کرکے کشمیر کےساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

    سیمی فائنل میچ ماڈلز الیون اور الیکٹرانک میڈیا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔فائنل میچ میں الیکٹرانک میڈیا کی ٹیم نے سنسنی خیز مقابلے ماڈلز کی ٹیم کو شکست دیکر فائنل اپنے نام کی

  • مولوی اورشراب،واعظ اورمیخانہ،شیخ جی اورمئے نوشی   — از فردوس جمال

    مولوی اورشراب،واعظ اورمیخانہ،شیخ جی اورمئے نوشی — از فردوس جمال

    مولوی اور شراب،واعظ اور میخانہ،شیخ جی اور مئے نوشی
    اف توبہ یہ ملا بھی اندر سے گنڈا پوری ہیں.

    کل سے اس تصویر کو لیکر دیسی لبرلز اور لنڈے کے دانشور مولویت کو آڑے ہاتھوں لئے ہوئے ہیں،واعظ اور میخانے سے متعلق جتنی شاعری تھی اسے بھی جھاڑ کر زنبیلوں سے اچھالا گیا اور واہ واہ سمیٹی گئی.

    یہ قطعی لازم نہیں کہ ہر داڑھی اور ٹوپی والا شخص مولوی ہی ہو اسی تصویر میں ہی دیکھ لیجئے پیچھے کھڑا محافظ بھی تو داڑھی والا ہے،بقول کسے مولوی شراب فروش نہیں ہے بلکہ چور نے داڑھی رکھ لی ہے.

    اگر یہ مان بھی لیں کہ یہ بدبخت شخص مولوی تھا تو یہ کہاں کا انصاف ہوگا کہ فرد واحد کی غلطی ساری مولویت کے سر تھوب دی جائے.

    پاکستان میں ڈھائی کروڑ مرد و خواتین شراب نوشی کے عادی ہیں انہیں بھی شراب مولوی سپلائی کرتے ہیں؟

    پاکستان میں شراب کی فیکٹری صرف مری بروری راولپنڈی سالانہ 50 لاکھ لٹر بیئر اور 18 لاکھ لٹر لیکر تیار کرتی ہے،
    ان کے ہاں 600 ملازمین کام کرتے ہیں،کھلے عام شراب ساز
    اس فیکٹری کا مالک مولوی ہے؟ یہاں کام کرنے والے چھ سو
    ملازمین کسی مدرسے کے پڑھے ہوئے ہیں؟

    پاکستان کے تمام بڑے ہوٹلوں،نائٹ کلبوں،لیٹ نائٹ پارٹیوں
    اور امراء کی شادیوں میں ولایتی شراب کے جام چھلکتے ہیں،پیمانوں سے پیمانے ٹکراتے ہیں،ان کو بھی اعلی برانڈ کی ولایتی شراب مولوی سپلائی کرتے ہیں؟

    ملک کے سب سے مقدس ایوان پارلیمنٹ لاجز میں شراب کی بوتلیں مولوی سراج الحق لیکر گئے تھے؟

    ہاں میں شراب پیتا ہوں لوگوں کا لہو نہیں کا نعرہ سرعام کسی مولوی نے بلند کیا تھا ؟

    پاکستان کے بہت سارے ایسے علاقے جہاں کے لوگ شرفاء مشہور ہیں،زمانہ ان کی شرافت کے گن گاتا ہے وہاں گھروں میں دیسی شراب بنتی ہے اس کے ذمہ دار بھی مولوی؟

    ایک آدھ سال پہلے حافظ آباد کے قریب شراب سے بھرا ٹرک الٹ گیا،7000 بوتلیں شراب کی سڑک پر بکھر گئیں وہ کس کی تھیں پکڑ کر میڈیا پر پیش کیا ؟ نہیں نا ! اس لئے کہ وہ شراب سپلائی کرنے والا مولوی نہیں تھا.

    اگر اعداد و شمار نکالے جائیں تو پاکستان میں ہونے والے ہر جرم کے پیچھے مونچھ والے نکل آئیں گے بدنام مگر بچارہ
    مولوی ہے،مولوی سافٹ ٹارگٹ ہے اس لئے بھی کہ شاید وہ
    قانون اور میڈیا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے.

    تحریر : فردوس جمال

  • سندھ کارڈ کے زمینی حقائق  ——–                   از  انشال راؤ

    سندھ کارڈ کے زمینی حقائق ——– از انشال راؤ

    بعض واقعات بظاہر دیکھنے میں بالکل عام ہوتے ہیں مگر پس پردہ بہت بڑے طوفان چھپے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح پی پی پی چیف بلاول بھٹو صاحب نے پریس کانفرنس کرکے ملک کے حصے بکھرے کرنے کی دھمکی دے دی یا یوں کہیے کہ بغاوت کا اعلان کردیا اور ساتھ ساتھ پختونستان، سرائیکستان یا بلوچستان بطور علیحدہ ریاست بننے کا اظہار کرکے یہ اشارہ دے دیا کہ اندرون خانہ ان کی لڑی کہاں سے کہاں تک ہے، اس کے علاوہ اہم بات یہ کہ مسٹر فروغ نسیم صاحب کو کیا سوجھی جو ان صاحب نے پی پی پی کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لیے سندھ کارڈ کھیلنے کا موقع دے دیا،

    ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ جب بھی الیکشن یا کوئی ایسا خاص موقع آتا تو متحدہ اور پی پی پی آمنے سامنے آجاتے، ایک مہاجر بن کر کھڑے ہوجاتے تو دوسرے جِئے سندھ کے علمبردار بن جاتے جبکہ اب بات کھلی تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی تو کاروباری شراکت داریاں تک ہیں، یہاں بات وہیں آکر ٹھہرتی ہے کہ کسی بھی قسم کے حالات و واقعات کو سمجھنے کے لیے اوقات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے،

    عبداللہ بن اُبئی کی ہی مثال لے لیجئے وہ منافق روز اول سے ہی تھا سازشوں میں روز اول سے ہی پیش پیش رہا مگر امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا اس وقت گھونپا جب غزوہ احد کا میدان سجا، اس کے منافق ہونے کا حضور اقدسؐ کو بخوبی معلوم تھا اور جب وہظاہر ہوگیا تو اعلانیہ اسے نکالا، منافقوں کی آج بھی بہتات ہے پاکستان کو بیرونی دشمنوں کیساتھ کیساتھ اندرونی دشمنوں سے زیادہ خطرات ہیں جو ایک طرف تو بیرونی دشمن کے ایجنڈے کو تقویت بخشتے ہیں دوسری طرف ملکی استحکام کے لیے کوشاں افراد کی توجہ ہٹانے اور الجھانے کا کردار ادا کرتے ہیں اس گروہ کی جڑیں اب بہت مضبوط ہوگئی ہیں اور ہوتی جارہی ہیں اسکی وجہ یہ کہ حکومت یا اداروں کی طرف سے کوئی خاطرخواہ ایکشن دیکھنے میں نہیں آیا، جتنی مہلت و ڈھیل ملتی گئی تو انکی جڑیں بجائے سکڑنے کے اندر ہی اندر پھیلتی جارہی ہیں،

    یہ گروہ سیانا ہی نہیں بلکہ بہت سیانا ہے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، سمجھداری کا یہ عالم ہے کہ حکومتی لچک و کمزوری کو بہت دور سے بھانپ لیتا ہے اور پھر شیر بن جاتا ہے، جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے کچھ عرصہ پہلے تک انکی کمر واقعی ٹوٹ چکی تھی مگر موجودہ حکومت کی نااہلی و بیوقوفی کی بدولت ایک بار پھر اس گڑھے مردے میں جان آگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگی حالات کو بھانپ کر سندھ کی حکمران جماعت نے اپنے کالے کرتوت دبانے کے لیے یا پھر کسی بیرونی اشارے پر اعلان بغاوت کردیا ہے

    سندھ میں لسانی کارڈ وہ بھی وفاق کے خلاف کھیلا جارہا ہے، اب سے پہلے تک سندھ کارڈ ضرور کھیلا جاتا رہا جوکہ یا تو مہاجر کمیونٹی کو بنیاد بناکر کھیلا جاتا یا پھر الیکشن میں فائدے کے لیے یا پھر دبے چھپے انداز میں وفاق کو دھمکانے کے لیے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایک منظم انداز سے اور اعلانیہ وفاق و ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف نفرتیں و لسانیت ابھارنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے مگر سوال یہ بنتے ہیں کہ کیا سندھ کارڈ کامیاب ہوپائیگا؟ سندھ کارڈ کی جڑیں عوام میں کتنی سرایت کردہ ہیں؟ وفاق کو اس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ کھیل کس حد تک نقصاندہ اور توجہ طلب ہے؟ ان تمام سوالات کے جواب کے لیے ماضی کی تاریخ پہ نگاہ ڈالنی پڑیگی، آج کے زمینی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا،

    اگر سندھ کارڈ کی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات تو بذریعہ اتم موجود ہے کہ سندھ کے باسی قوم پرست تو شروع سے ہی ہیں اس کا اندازہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک میں ایک پیج پہ ہونے سے لگایا جاسکتا ہے اور 1937 کے انتخابات سے کہ مسلم لیگ تک یہاں سے ایک سیٹ بھی حاصل نہ کرپائی تھی لیکن سندھ کی تاریخ ہی بتاتی ہے کہ عوام کبھی بھی آزاد نہیں رہی، سندھو دیش کی تحریک چلانے والے جی ایم سید ہی اپنی کتاب "سندھ کی بمبئی سے علیحدگی” میں لکھتے ہیں کہ جاگیرداروں، وڈیروں، قومی سرداروں کو انگریز سرکار نے رعایتیں دیکر اپنا مطیع بناکر سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک کو ابھرنے نہ دیا اور عوام مجبور تھی جو ان سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں کی محتاج تھی،

    اسی طرح قیام پاکستان کے بعد کی تاریخ بالخصوص 2000 کے بعد کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کی عوام کا مزاج یہ ہے کہ جو پاور میں ہو اسی کو سلام کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ سندھی عوام میں کوئی نقص ہے بس اتنی سی بات ہے کہ قیام پاکستان سے قبل بالعموم اور قیام پاکستان کے بعد بالخصوص سندھ کے عام باسیوں کو کمزور سے کمزور تر کرکے رکھدیا گیا ہے، عوام تو بیچاری اپنی روزی روٹی تک ہی محدود ہے بس ہر علاقے میں ایک دو وڈیرے ہی طاقتور ہیں انکے ساتھ سو دو سو مفاد پرستوں کا جتھہ ہوتا ہے جو حالات کو دیکھتے ہوے پانسہ پلٹتے دیر نہیں لگاتے، عوام کس حد تک پی پی پی کے سندھ کارڈ کیساتھ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ مشرف دور میں پیپلزپارٹی رہنماوں کی اوطاقیں و ہاوسز ویران پڑے ہوتے تھے جبکہ حکمران جماعت کے رہنماوں کی اوطاقوں و آفسز پہ لوگوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا پھر وقت نے پلٹا کھایا تو آج وہی فنکشنل و ق لیگ کے رہنما ہیں جن کی طبیعت پوچھنے بھی کوئی نہیں جاتا،

    جب سے سوشل میڈیا و میڈیا مضبوط ہوا تو ایک حیران کن تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ لوگ اب سیاسی بتوں سے بیزاری کرتے نظر آتے ہیں بس وہی مخصوص مفاد پرست طبقہ ضرور چمٹا رہتا ہے جن کے مختلف مفادات حکمران جماعت سے وابستہ ہیں، رہی بات ووٹ کی تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ آزاد ہیں ہی نہیں، جہاں وڈیرے کا حکم ہوا لوگ وہیں ووٹ ڈال دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ کہ پولیس ہو یا محکمہ تعلیم، صحت ہو یا بلدیہ، ریونیو ہو یا محکمہ زراعت یا پھر آبپاشی الغرض تمام محکمے علاقائی وڈیروں کے ماتحت ہیں ان ہی کی مرضی و منشاء پہ کام ہوتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے عام آدمی ایسے جنگل زدہ ماحول میں طاقتور آدمی کی ناپسندیدگی کا شکار ہونا کبھی پسند نہیں کریگا، اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار اسی لیے دیا کہ انسان کو عقل سلیم عطا فرمائی،

    اب یہ اس انسان پر ہے کہ وہ کس حد تک عقل کا استعمال کرے اور ساتھ میں فیصلہ سازی کا مکمل اختیار دیا، ایک موجودہ حکومت ہے جس کا ہر اول دستہ سارا دن ڈھولکی بجاتا ہے جبکہ حاصل کچھ نہیں، ہر دوسرے دن جب تک یہ کوئی ڈگڈگی بجاکر نیا تماشہ نہ کھڑا کریں تب تک ان کو چین نہیں آتا اور اس سارے کھیل میں بندر کا کردار عوام کو دے رکھا ہے جو امیدیں تو بہت سی باندھے بیٹھے تھے مگر اب مایوس سے مایوس ترین ہوتے جارہے ہیں، اب وقت بہت محدود حد تک رہ گیا ہے مقتدر حلقے اگر واقعی ملک کیساتھ سنجیدہ ہیں عوام کو سانس لینے کے لیے بہتر ماحول مہیا کرنا چاہتے ہیں تو خدارا زمینی حقائق کو ضرور دیکھ لیا کریں، ایک کھوکھلے سندھ کارڈ کے نعرے سے یوں مرعوب ہوجانا سمجھ سے بالا تر ہے اور کرپشن، اندھیرنگری، خراب کارکردگی، اقربا پروری، جعلسازی،اداروں میں لاقانونیت، میرٹ کے قتل عام کے اصل جواز کی جگہ کراچی کے کچرے کو بنیاد بناکر پیش کرنا کہاں کی عقلمندی ہے یہ تو تحقیق طلب بات ہے۔

    آرزوئے سحر

    تحریر: انشال راؤ

  • شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کی ہوگی آج ملاقات، سیاسی امورر طے ہونے جارہے

    شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کی ہوگی آج ملاقات، سیاسی امورر طے ہونے جارہے

    قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اہم ملاقات

    لاہور: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اہم ملاقات آج ہوگی۔ترجمان مسلم لیگ نواز مریم اورنگزیب کے مطابق ‎ملاقات آج شام 7 بجے لاہور میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور اہم قومی امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‎اکتوبر میں مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ‎مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر بھی مشاورت ہوگی۔

  • ٹرمپ کو پریشانی لگ گئی، کہا اب ناجانے طالبان سے مذاکرات کیسے شروع ہوں گے.

    ٹرمپ کو پریشانی لگ گئی، کہا اب ناجانے طالبان سے مذاکرات کیسے شروع ہوں گے.

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے کیے پر پریشانی ہونے لگی ، کہا کہ پتا نہیں کہ اب طالبان سے کیسے مذاکرات ہوں گے.

    باغی ٹی وی رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے کیے پر پریشانی ہونے لگی ، کہا کہ پتا نہیں کہ اب طالبان سے کیسے مذاکرات ہوں گے.
    امریکی صدر نے ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امریکی فوجی سمیت 12 افراد کا قتل کوئی اچھا خیال نہیں تھا۔یم کواس پر بہت دکھ ہوا ہے

    امریکا افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ، وزیر اعظم

    مبصرین کے مطابق افغان طالبان چونکہ ان صدارتی انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اس لیے ان کی ان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جب کہ موجودہ افغان صدر اشرف غنی کی حتی الامکان کوشش ہوگی کہ وہ ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہوجائیں تاکہ آئندہ پانچ سال مزید ان کا اقتدار برقراررہے۔جب کہ طالبان کی ستر فیصد تک علاقے پر عمداری ہے.
    واضح رہے کہ طالبان نے اس اقدام کو امریکہ کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے. اور امریکا کے ساتھ سو سال تک لڑنے کا اعادہ کیاہے .

  • میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ شروع

    میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ شروع

    اسلام آباد : میڈیکل سٹوڈنٹس کے لیے خوشخبری، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ آج جاری ہیں، یہ دونوں انٹری ٹیسٹ آج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیراہتمام ہو رہے ہیں

    ذرائع کے مطابق بلوچستان میں میڈیکل انٹری ٹیسٹ BUITMS کوئٹہ میں ہو رہا ہے ، اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں کل 6001 امیدوار میڈیکل انٹری ٹیسٹ دے رہے ہیں،ان میں 3434 طلبہ اور 2567 طالبات شامل ہیں ،گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی نے امتحانی مراکز کا دورہ کیا، انتظامات کی تعریف کی

    بلوچستان کی طرح آزاد جموں و کشمیر میں آج میڈیکل انٹری ٹیسٹ شروع ہوچکے ہیں‌ جن میں‌ کل 4322 امیدوار میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں شرکت کررہے ہیں ، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق آزاد کشمیر میں 1264 طلبہ اور 3058 طالبات شامل ہیں

    ذرائع کےمطابق میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے مراکز مظفرآباد، راولاکوٹ، میرپور اور راولپنڈی میں قائم کیے گئے ہیں راولپنڈی کے امتحانی مراکز پر وی سی یو ایچ ایس پروفیسر جاوید اکرم نے انتظامات کا جائزہ لیا انٹری ٹیسٹ 10 بجے شروع ہوا، پہلے آنے والے بچوں اور والدین کو یو ایچ ایس کی جانب سے گل دستے پیش کیے گئے

  • امریکہ یاترا ، زردای سب پر بھاری ، 5 دن کے دورے پر 11 کروڑ اڑا دیئے ، نواز شریف بھی پیچھے نہیں رہے ، عمران خان کنجوس ثابت ہوئے

    امریکہ یاترا ، زردای سب پر بھاری ، 5 دن کے دورے پر 11 کروڑ اڑا دیئے ، نواز شریف بھی پیچھے نہیں رہے ، عمران خان کنجوس ثابت ہوئے

    لاہور : امریکہ یاترا ، ایک زرداری سب پر بھاری ، اور پھر زرداری نے یہ ثابت بھی کردیا ، امریکہ یاتری پر سابق آصف علی زرداری نے 5 دن میں قوم کے 11 کروڑ روپےسے زائد اڑا دیئے

    باغی ٹی وی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے 2009 میں 4 سے 8 مئی تک واشنگٹن میں قیام کے دوران پاکستانی قوم کے 11 کروڑ 74 لاکھ روپے عیش وعشرت میں اڑا دیئے ، ایسے ہی سابق صدر نے 2012 میں‌ اپنے دورہ امریکہ کے دوران نیویارک میں قیام کے دوران 20 کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ کردی

    باغی ٹی کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی زرداری کا شاہانہ انداز کو اختیار کرنے کی بھرپر کوشش کی اور 2013 میں 20 سے 23 اکتوبر کے دوران پاکستانی قوم کے 8 کروڑ سے زائد سیر سپٹے میں اڑا دیئے ، سابق صدر آصف علی زرداری کی طرح نواز شریف نے بھی 2016 میں‌ دورہ امریکہ کے دوران نیویارک میں قیام کے دوران غریب پاکستانی قوم کے ٹیکس سے جمع کی ہوئی جمع پونجی میں‌ سے 17 کروڑ سے زائد کی رقم عیش وعشرت میں‌گزار دی

    باغی ٹی کو حاصل ہونے والی معلوما ت کے مطابق ان دونوں‌ رہنماوں کے مقابلے میں پاکستا ن تحریک انصاف کے سربراہ وزیراعظم پاکستان عمران خا نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران جولائی 2019 کو واشنگٹن ڈی سی میں قیام کے دوران 1 کروڑ روپے خرچ کرکے کفایت شعاری کی بہترین مثال قائم کی ، ایسے ہی عمران خان نے ستمبر میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران اڑھائی کروڑ روپے خرچ کرکے یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستانی عوام کے ٹیکس کے محافظ ہیں

  • شیخوپورہ سرگودھا روڈ پر ماچھیکے کے نزدیک حادثہ، دو افراد جاں بحق

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) سرگودھا روڑ

    پر ماچھیکے کے نزدیک تیز رفتار موٹر سائیکل ٹرک کے ساتھ ٹکرا گئی-
    حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار بھائی، بہن شدید زخمی ہو گئے –
    ریسکیو 1122 شیخوپورہ کی امدادی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد دینے کے بعد فورا” ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ منتقل کر دیا جہاں پر دونوں بہن بھائی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوتے ہوئے دم توڑ گئے-
    موٹر سائیکل پر سوار حیدر علی ولد اصغر علی اور رابعہ دختر اصغر علی فاروق آباد کی طرف جا رہے تھے کہ اچانک موٹر سائیکل کا اگلا ویل اور ہینڈل کھلنے سے موٹر سائیکل ٹرک کے ساتھ ٹکرا گئی جس سے موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہو گئے- ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو فورا” ہسپتال منتقل کر دیا جہاں پر وہ دم توڑ گئے

  • شاہراہوں پر بے ہنگم ٹریفک اور قوانین کی پاسداری نہ ہونے سے حادثات کی شرح خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے..ایم پی اے ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ

    ڈیرہ غازیخان(تنویر احمد )رکن صوبائی اسمبلی ڈیرہ غازیخان ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ نے کہا ہے کہ شاہراہوں پر بے ہنگم ٹریفک اور قوانین کی پاسداری نہ ہونے سے حادثات کی شرح خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے جس کو روکنے کیلئے آگاہی مہم چلانے کی ضرور ت ہے. محکمے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نشان عبرت بنائیں. کم عمر ڈرائیور اور تیز رفتاری پر موثر کارروائی کی جائے. انہوں نے یہ بات ای لائبریری میں سڑک حادثات سے متعلق آگاہی سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی. انہوں نے کہاکہ ٹریفک پولیس فعال کردارادا کرے. ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں. تقریب سے ڈی ایس پی ٹریفک مہر اسحاق سیال، ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسر محمداختربھٹہ، انچارج لائبریری شفقت رفیق او ردیگر نے خطاب کرتے ہوئے حادثات کی شرح، وجوہات او راقداما ت کے بارے میں روشنی ڈالی. دریں اثنا ای لائبیریری کے لان میں پودے بھی لگائے گئے.

  • وزیر اعلی کے مشیر برائے صحت محمد حنیف پتافی کی ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال سے اہم میٹنگ..

    ڈیرہ غازیخان(تنویراحمد) وزیراعلی کے مشیر برائے صحت محمد حنیف خان پتافی کی ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر شاہد حسین مگسی اور پرنسپل میڈیکل کالج آصف قریشی کے ہمراہ سینئر ڈاکٹرز کے ساتھ میٹنگ.ایم ایس شاہد حسین مگسی اور پرنسپل آصف قریشی نے مشیر صحت کو ہسپتال میں دی جانے والی طبی سہولیات اور مسائل کے بارے میں بریفنگ دی اس موقع پر مشیر صحت نے ٹراما سینٹر، ایمرجنسی وارڈ میں مدد گار کاؤنٹر، اور مریضوں کو مہیا کی جانے والی سروسز کو بہتر کرنے کی کی ہدایت دی میٹنگ کے بعد مشیر صحت محمد حنیف خان پتافی طبی سہولیات کا جائزہ لینے آفیسران کے ہمراہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیاانہوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈزکادورہ کرکے صفائی چیک کی اور مریضوں کی عیادت کی انہوں نے نیو گائنی وارڈ، لیبررومز،بچوں کے وارڈ، اور ڈینٹل وارڈ کا بھی دورہ کیا اس موقع پر حنیف خان پتافی نے کہا کہ پنجاب بھرکے سرکاری ہسپتالوں کے گائنی وارڈزکواپ گریڈکیاجارہا ہے وزیراعظم عمران خان کے ویژن مطابق عوام کوصحت کے شعبہ میں معیاری سہولیات دینے کیلئے کوشاں ہیں غریب مریضوں کو مفت علاج کی سہولیات مہیا کرنے کے لیے انصاف ہیلتھ کارڈز بھی دئیے جا رہے ہیں۔