Baaghi TV

Author: +9251

  • صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے،  صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم

    صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے، صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم

    ؍ستمبر۱۹۱۴

    پاکستان کے معروف شاعر” رئیسؔ امروہی “ کا یومِ پیدائش…

    نام سیّد محمد مہدی، تخلص رئیسؔ اور عرفیت اچھن تھی۔ ۱۲؍ستمبر۱۹۱۴ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔۱۹۱۸ء میں مکتبی تعلیم شروع ہوئی۔ان کی تعلیمی عمر کا زیادہ حصہ مطالعہ میں گزرا۔ پہلا شعر ۱۹۲۴ء میں کہا۔ ادب وصحافت سے عملی تعلق کی ابتدا ۱۹۳۱ء میں ماہ نامہ ’’حیات‘‘ کی ادارت سے کی۔ متعدد اخبارات اور رسائل سے متعلق رہے۔ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں رئیس ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت پذیر ہوئے۔ تین سال تک وہ بہ حیثیت مدیر روزنامہ ’’جنگ ‘‘ کراچی سے وابستہ رہے۔ چالیس سال سے زیادہ روزنامہ ’’جنگ‘‘میں حالات حاضرہ پر روزانہ ایک قطعہ لکھتے رہے۔ ۲۲؍ ستمبر ۱۹۸۸ء کو کسی نامعلوم شخص کی گولی سے کراچی میں انتقال کرگئے۔ رئیس اکادمی کے زیر اہتمام ان کی تیس سے زیادہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں پانچ مجموعے نظم وغزل کے شامل ہیں۔ نثری کتب کے موضوعات نفسیات ، مابعد النفسیات، ہپناٹزم، جنات، عالم برزخ، حاضرات ارواح، عالم ارواح، روحانیت اور فلسفہ بشریات ہیں۔ ان کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
    ’’الف‘‘، ’’پسِ غبار‘‘، ’’حکایات نے‘‘، ’’ملبوس بہار‘‘، ’’قطعات‘‘(اول ودوم)، ’’بحضرتِ یزداں‘‘، ’’نجمُ السحر‘‘، ’’آثار‘‘، ’’انا من الحسین‘‘۔ ۱۹۸۴ء میں حکومت پاکستان نے ان کے ادبی خدمات کے صلے میں تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ وہ بیسویں صدی کے سب سے بڑے قطعہ نگار شاعر تھے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:64

    🍃 معروف شاعر رئیسؔ امروہی کے یوم پیدائش پر منتخب اشعار پیش خدمت… 🍃

    خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
    گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

    ابھی سے شکوۂ پست و بلند ہم سفرو
    ابھی تو راہ بہت صاف ہے ابھی کیا ہے

    اپنے کو تلاش کر رہا ہوں
    اپنی ہی طلب سے ڈر رہا ہوں

    صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے
    صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم

    پہلے یہ شکر کہ ہم حدِ ادب سے نہ بڑھے
    اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہیں کا نہ رکھا

    اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے
    جیسے کوئی چیز کھو گئی ہے

    ہم اپنے حال پریشاں پہ بارہا روئے
    اور اس کے بعد ہنسی ہم کو بارہا آئی

    کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم
    کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

    دل سے مت سرسری گزر کہ رئیسؔ
    یہ زمیں آسماں سے آتی ہے

    صرف تاریخ کی رفتار بدل جائے گی
    نئی تاریخ کے وارث یہی انساں ہوں گے

    ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ
    یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم

    چند بے نام و نشاں قبروں کا
    میں عزا دار ہوں یا ہے مرا دل

    کل فقط گیسوئے برہم تھے نشان تشویش
    آج دیکھا تو انہیں اور پریشاں پایا

    کتنی مغرور ہے نسیمِ سحر
    شاید اس آستاں سے آتی ہے

    کہیں سے سازِ شکستہ کی پھر صدا آئی
    بہت دنوں میں اک آواز آشنا آئی

    رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا
    حضورِ دوست کچھ گستاخ ہو لیتے تو اچھا تھا

    بتا کیا کیا تجھے اے شوق حیراں یاد آتا ہے
    وہ جان آرزو وہ راحت جاں یاد آتا ہے

    قلب پاکیزہ نہاد و دل صافی دے کر
    آئینہ ہم کو بنایا ہے تو حیراں ہوں گے

    دیارِ شاہد بلقیس ادا سے آیا ہوں
    میں اک فقیر ہوں شہرِ سبا سے آیا ہوں

    مقربین میں رمزِ آشنا کہاں نکلے
    جو اجنبی تھے وہی اپنے رازداں نکلے

    اے دل شریکِ طائفۂ وجد و حال ہو
    پیارے یہ عیب ہے تو بہ حدِ کمال ہو

    جو زائرین حریم وفا ہیں ان کے لئے
    نوید رحمت پروردگار لائی ہے

    رئیسؔ ہم جو سوئے کوچۂ حبیب چلے
    ہمارے ساتھ ہزاروں بلا نصیب چلے

    ✦•───┈┈┈┄┄╌╌╌┄┄┈┈┈───•✦

    🔰 رئیسؔ امروہی 🔰

  • ڈینگی کے خلاف حکومت ناکام ، اب منبرومحراب سے یہ کام لیا جائے گا

    ڈینگی کے خلاف حکومت ناکام ، اب منبرومحراب سے یہ کام لیا جائے گا

    لاہور:شہر میں ڈینگی و پولیو کے وائرس کے حوالے سے آگاہی مہم بھرپور انداز میں چلانے کے لیے علمائے اکرام کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ یہ فیصلہ حکومت کی طرف سے ناکامی کے بعد کیا گیا ہے،

    ذرائع کے مطابق بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے مولانا عزیز الرحمن ثانی،مولاناجمیل الرحمن اختر،مولانا عباس غازی اور قاری علم الدین شاکر نے ڈی سی لاہور صالحہ سعید سے ملاقا ت کی جس کے بعد مولانا عبدالخبیرآزاد نے اس امر کا اعادہ کیا کہ تما م علمائے اکرام دوران خطبہ ڈینگی و پولیو سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر عوام الناس میں آگاہی پیدا کریں گے ۔

    ڈی سی او لاہور نے کہا کہ عوامی تعاون کیے بغیر ڈینگی و پولیو مہم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی لہذا علمائے کرام محراب و منبر کی بدولت عوام الناس کو ڈینگی و پولیو مہم کا حصہ بنائیں گے ۔ ڈی سی لاہور صالحہ سعید نے تمام علمائے اکرام کا شکریہ ادا کیا ۔ علاوہ ازیں انہوں نے ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن کو لاہور شہر کے تمام کا لجوں میں زیرو پریڈ اور آگاہی مہم کالجوں میں چلانے کی ہدایت کی ہے ۔

    ڈی سی اولاہور صالحہ سعید نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسطرح تمام سکولوں میں بھی مناسب آگاہی مہم کے لیے سی ای او ایجوکیشن کو ہدایات جاری کی گئیں ہیں ۔ ڈی سی لاہور نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ رواں ہفتہ انسدادڈینگی کو بھرپور انداز میں چلائے گی اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز اپنی تحصلیوں میں آگاہی واکس و سیمینار کا آغاز کریں

  • مقبوضہ کشمیر، پی ڈی پی رہنما کے پرسنل سیکورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی گی

    مقبوضہ کشمیر، پی ڈی پی رہنما کے پرسنل سیکورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی گی

    مقبوضہ کشمیر میں کشتواڑ قصبے میں کچھ نامعلوم افراد نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) رہنما کے ذاتی سیکیورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
    مقبوضہ کشمیر میں زوردار جھڑپیں، بھارتی فوج 39 دن بعد بھی صورہ علاقہ میں داخل نہیں ہو سکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم افراد نے پی ڈی پی رہنما شیخ ناصر کی پی ایس او کی رائفل چھین لی۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔

    دریں اثنا ، بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو ، پابندیوں اور انٹرنیٹ، موبائل سروس کی بندش کی وجہ سے ، آج مسلسل 40 ویں دن معمولات زندگی متاثر رہے۔

  • بورے والا : بھانوں کے خلاف شہری سراپا احتجاج

    بورےوالا شہری علاقوں میں قائم بھانوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق شہر کے گنجان آباد علاقوں بسم اللہ ٹاون ، شاہ فیصل کالونی ، مجاہد گالونی ، حبیب کالونی ، مرضی پورہ سمیت دیگر علاقوں میں بھانوں پر پابندی کے باوجود شہری آبادی میں کھلے عام قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں

    شہریوں نے دپٹی کمشنر وہاڑی ، اسسٹنٹ کمشنر بورےوالا ، چیف افیسر بلدیہ و دیگر حکام سے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا

  • اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف شاعر” فانیؔ بدایونی صاحب “ کا یومِ ولادت…

    اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف شاعر” فانیؔ بدایونی صاحب “ کا یومِ ولادت…

    آج – ١٣ ستمبر ١٨٧٩

    ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف شاعر” فانیؔ بدایونی صاحب “ کا یومِ ولادت…

    فانی کا اصل نام شوکت علی خان تھا۔ شوکت تخلص ہو سکتا تھا۔ لیکن انہوں نے فانی تخلص رکھ کر اس خواہش کی تسکین کا سامان کیا۔
    وہ ١٣ ستمبر ١٨٧٩ء کو پیدا ہوئے ۔
    جب کبھی ہم کو دامن بہار سے عالم ِیاس میں بوئے کفن آتی ہے تو فانی کی یاد آتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے موت ہی کو ”زندگی جانا تھا اور غم کو موضوع بنایا۔
    جوش ملیح آبادی کا کہنا ہے ’’ان کی وکالت کبھی نہ چلی۔اس لئے کہ وہ شعر خوانی اور دل کی رام کہانی کا سلسلہ وہ توڑ نہیں سکتے تھے اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلا کہ غم دوراں کے ساتھ غم جاناں نے بھی رہی سہی کسر پوری کر دی ،ان کا ذوق سخن ابھرتا اور شیرازۂ وکالت بکھرتا گیا۔اور غریب کو پتہ بھی نہ چلا کہ میری معیشت کا دھارا ایک بڑے ریگستان کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔وہ پریکٹس کی جگہیں بدلتے رہے لیکن نتیجہ ہر جگہ وہی تھا گھوم پھر کر وہ ایک بار پھر لکھنو پہنچے اور اس بارغم دوراں کے ساتھ وہاں غم جاناں بھی ان کا منتظر تھا۔یہ تقّن نام کی اک طوائف تھی جو ایک رئیس کے لئے وقف تھی جوش کے الفاظ میں معاشی ابتری کے ساتھ ساتھ بیچارے کے معاشقہ میں بھی فساد رونما ہونے لگا چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا ایک طرف تو معاشی زندگی کی نبضیں چھوٹیں اور دوسری طرف عاشقانہ زندگی میں ایک رقیب روسیاہ کے ہاتھوں ایسا زلزلہ آیا کہ ان کی پوری زندگی کا تختہ ہی الٹ کر رہ گیا۔کانپتے ہاتھوں سے بوریا بستر باندھ کر لکھنو سے آگرہ چلے گئے۔” فانی جگہ جگہ قسمت آزماتے رہےاور ہر جگہ فلاکت اور عشق ان کے ساتھ لگے رہے اٹاوہ میں وہ نور جہاں کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے لیکن کچھ دن بعد اس نے آنکھیں پھیر لیں آخر میں فانی حیدر آباد چلے گئے جہاں مارراجہ کشن پرشاد شاد ان کے مدّاح تھے ۔فانی نے اپنی زندگے کے کچھ بہترین اور با لآخر بدترین دن حیدرآباد میں گزارے۔جوان بیٹی اور پھر بیوی کا داغ دیکھا اور نہایت بیکسی اور کسمپرسی میں ١٢ اگست ١٩٤١ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔

    🌹 ممتاز شاعر فانی بدایونی کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطور خراجِ تحسین… 🌹

    اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
    زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

    ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ
    زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

    ہرمصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب
    اس طرح گردشِ دوراں کو رلایا میں نے

    موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ
    گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے

    ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر
    آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے

    جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ
    مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

    نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
    رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم

    میرے جنوں کو زلف کے سائے سے دور رکھ
    رستے میں چھاؤں پا کے مسافر ٹھہر نہ جائے

    آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت
    احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا

    زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
    ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

    رونے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں فانیؔ
    یہ اس کی گلی ہے تیرا غم خانہ نہیں ہے

    کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا
    بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا

    اے بے خودی ٹھہر کہ بہت دن گزر گئے
    مجھ کو خیال یار کہیں ڈھونڈتا نہ ہو

    اس درد کا علاج اجل کے سوا بھی ہے
    کیوں چارہ ساز تجھ کو امیدِ شفا بھی ہے

    یارب تری رحمت سے مایوس نہیں فانیؔ
    لیکن تری رحمت کی تاخیر کو کیا کہیے

    دیر میں یا حرم میں گزرے گی
    عمر تیرے ہی غم میں گزرے گی

    مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے
    عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے

    ہجر میں مسکرائے جا دل میں اسے تلاش کر
    نازِ ستم اٹھائے جا رازِ ستم نہ فاش کر

    بیمار ترے جی سے گزر جائیں تو اچھا
    جیتے ہیں نہ مرتے ہیں یہ مر جائیں تو اچھا

    کفن اے گردِ لحد دیکھ نہ میلا ہو جائے
    آج ہی ہم نے یہ کپڑے ہیں نہا کے بدلے

    دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھا
    ہر آنکھ برق پاش تھی ہر ذرہ طور تھا

    میری ہوس کو عیشِ دو عالم بھی تھا قبول
    تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا

    جس دل ربا سے ہم نے آنکھیں لڑائیاں ہیں
    آخر اسی نے ہم کو آنکھیں دکھائیاں ہیں

    دل آباد کا فانیؔ کوئی مفہوم نہیں
    ہاں مگر جس میں کوئی حسرت برباد رہے

    🍁 فانی بدایونی

  • وہاڑی : موٹرسائیکل سوار جاں بحق

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) تیز رفتار بس نے موٹرسائیکل سوار کو کچل دیا
    تفصیلات کے مطابق وہاڑی بورے والا روڈ فیصل آباد پٹرول پمپ کے قریب موٹرسایکل سوار بس کے نیچے آ گیا موٹرسائیکل سوار غلط اوور ٹیک کرتے ہوئے بس کے نیچے آیا

    موٹر سائیکل سوار موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا.جاں بحق ہونے والا 40 سالہ محمد زبیر ولد شوکت علی گگو منڈی کا رہائشی ہے.
    #کھوجی

  • لودہراں : یکجہتی کشمیر کے لئے ریلی

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) بھارتی مظلوم کشمیریوں کے حق میں اظہار یکجیتی کے لیے ڈپٹی کمشنر لودھراں آفیس سے احتجاجی ریلی نکالی گئی

    ریلی میں ڈپٹی کمشنر راؤ امتیازاحمد، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ملک جمیل ظفر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل عبدالطیف خاں، اسسٹنٹ کمشنر لودھراں کلیم یوسف، پی ٹی آئی رہنما طاہر امیر غوری و پارٹی ورکر، صوبائی و وفاقی محکموں کے سربراہوں، طلبا ء و طالبات، تاجر تنظیموں کے نمائندوں، وکلاء، ڈاکٹرز، اقلیتی برادری اور دیگر لوگوں نے شرکت کی۔

  • لودہراں : ٹرالے کے نیچے آ کر ایک شخص جاں بحق

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) ٹرالے نے سائیکل سوار بزرگ کو کچل دیا لاش کی شناخت نہ ہو سکی

    تفصیلات کے مطابق مشترکہ ہوٹل بہاولپور روڈ لودھراں کے قریب ٹرالر کی زد میں آ کر نامعلوم بزرگ سائیکل سوار عمر تقریباً 50 سال موقع پر جان بحق ہوگیا ، جان بحق ہونے والے بزرگ کی لاش کی شناخت نہیں ہوسکی – ریسکیو ذرائع

  • سندھ امتحان بھی مرضی کے پھر بھی پانچویں اور آٹھویں کے 63 ہزار بچے فیل ہوگئے ، ذمہ دار کون ؟

    سندھ امتحان بھی مرضی کے پھر بھی پانچویں اور آٹھویں کے 63 ہزار بچے فیل ہوگئے ، ذمہ دار کون ؟

    کراچی:سندھ میں نظام تعلیم جس طرح مذاق بنا ہوا ہے اس کی تازہ مثال پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات میں فیل ہونے والے طالب علموں کی بڑی تعداد ہے ، حقائق اور تفصیلات کےمطابق سندھ میں مرضی کے امحتانی نظام اور مرضی کے امتحانی سینٹرز کے باوجود پھر بھی اگر 63 ہزار سے زائد طالب علم فیل ہوجاتے ہیں ہیں تو یہ بدقسمتی سے کم نہیں‌،

    محکمہ تعلیم سندھ کے امتحانات کے مرکزی نظام نے صوبے میں آٹھویں (مڈل کلاس )تک تعلیم کا پول کھول دیاہے۔ مرکزی امتحانی نظام کے تحت پانچویں سے آٹھویں جماعت تک کے تریسٹھ ہزارطلبہ فیل ہوگئے ۔

    صوبہ سندھ کے محکمہ تعلیم کی طرف سے قائم کئے گئے نئے مرکزی امتحانی نظام کی وجہ سے صوبے کے تعلیمی نظام کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

    صوبہ سندھ کی تاریخ میں پہلی بارمڈل امتحانات میں پانچویں سےآٹھویں جماعت تک 63 ہزاربچے فیل ہوگئے ہیں۔

    صوبہ بھرمیں چھ لاکھ بچوں نے امتحانات کےلئے رجسٹریشن کرائی ، پانچ لاکھ بچوں نے امتحانات میں شرکت کی جن میں سے 63 ہزار بچے کامیابی حاصل نہ کرسکے۔

    سندھ کے محکم تعلیم کے مطابق چار پرچوں کا صوبے بھر میں بیک وقت امتحان لیا گیا۔ سب سے زیادہ بچے حساب کے پرچوں میں فیل ہوئے۔

    واضح رہے کہ فیل ہونے والے تریسٹھ ہزاربچوں کا3اور4اگست کو دوبارہ امتحان لیاگیا۔ لیکن بارہ اضلاع نے دوبارہ لئے گئے امتحان کے نتائج ابھی تک محکمہ تعلیم کو نہیں بھیجے ہیں ۔

  • آرمی چیف کا ہیڈ کوارٹرز سدرن کمانڈ کوئٹہ کا دورہ ، خوشحال بلوچستان پر بریفنگ ، طلباء سے خطاب

    آرمی چیف کا ہیڈ کوارٹرز سدرن کمانڈ کوئٹہ کا دورہ ، خوشحال بلوچستان پر بریفنگ ، طلباء سے خطاب

    راولپنڈی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ پہنچ گئے ، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے سدرن کمانڈ ہیڈ کوارٹر ز کوئٹہ کا دورہ کیا، آرمی چیف کوخوشحال بلوچستان پروگرام کے تحت شروع کئے گئے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے امن وامان برقرار رکھنے کےلیے پاک فوج کے اقدامات کو سراہا اور دیگرقانون نافذ کرنے والےاداروں کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ آرمی چیف نے وزیراعلی بلوچستان کے ہمراہ نسٹ کوئٹہ کیمپس کا افتتاح بھی کیا۔

    آرمی چیف نے جنوری 2017ء میں اس کیمپس کی تعمیر کا اعلان کیا تھا، نسٹ کا نو تعمیر شدہ کیمپس 2 سال 8 ماہ میں مکمل ہوا ہے۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء سے خطاب بھی کیا۔

    آرمی چیف نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے ہونہار نوجوانوں کو سراہتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ مختلف شعبوں میں مواقع کے لیے خود کو تیار کریں۔