Baaghi TV

Author: +9251

  • فلسطینی مجاہدین کے میزائل حملے، اسرائیلی وزیراعظم بنکروں میں چھپ گئے

    فلسطینی مجاہدین کے میزائل حملے، اسرائیلی وزیراعظم بنکروں میں چھپ گئے

    فلسطینی مجاہدین کی جانب سے عسقلان اور اسدود پر میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو بھی بنکروں میں چھپنا پڑا۔

    مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ سے فائر کیے گئے فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کی وجہ سے عسقلان اور اسدود میں اسرائیلی بھاگنے اور زمین دوز بنکروں میں چھپنے پر مجبور ہو گئے۔

    اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی طرف سے ایک فوٹیج نشر کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ غزہ سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر فلسطینیوں کے متعدد میزائل گرے۔ اس وقت اسرائیلی وزیراعظم بھی اس علاقے میںایک تقریب میں شریک تھے۔ میزائل حملوں کے بعد خطرے کے سائرن بجے اوراسرائیلی وزیراعظم کے سیکیورٹی عملے نے انہیں اپنے حصار میں لے کر ایک زمین دوز بنکر میں منتقل کردیا۔

    مقامی وقت کے مطابق شام کے 9 بجے غزہ کے بالمقابل اسدود اور عسقلان میں متعدد میزائل گرے۔

    یاد رہے کہ میزائل حملہ نیتن یاھو کی پریس کانفرنس کے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیراعظم نے وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • سری لنکاکرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ، سری لنکن بورڈ نے حکومت سے سیکورٹی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کردی

    سری لنکاکرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ، سری لنکن بورڈ نے حکومت سے سیکورٹی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کردی

    کولمبو: سری لنکن کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان کے حوالے سے سیکورٹی کا از سر نو جائزہ لینے کی درخواست کردی ، اطلاعات ہیں کہ کرکٹ بورڈ نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ حتمی فیصلہ کرے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ کرکٹ بورڈ نے یہ حکومت کو از سر نو جائزہ لینے کی درخواست اس لیے کی کہ وزیراعظم ہاوس کو سیکورٹی الرٹ موصول ہوئے تھے ، جس کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ کا دورہ پاکستان معطل یا موخر ہونے کا امکان پیدا ہوگیا تھا

    ذرائع کے مطابق یہ بھی خبر موصول ہوئی ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کی طرف سے یہ بھی وضاحت پیش کی گئی ہے کہ چونکہ وزیراعظم ہاوس کو سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دورہ پاکستان کے دوران دھشت گردانہ حملے کا خدشہ تھا اس لیے حکومت کو حتمی فیصلے کے لیے آگاہ کیا ہے،

  • قائداعظم اک عظیم اور دوراندیش رہنماتھے ، قوم قیامت تک ان کی احسان مند رہے گی ، مصطفی کمال

    قائداعظم اک عظیم اور دوراندیش رہنماتھے ، قوم قیامت تک ان کی احسان مند رہے گی ، مصطفی کمال

    کراچی : پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے بانی پاکستان و قائد اعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر پاکستان ہاؤس سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ قائد اعظم ایک عظیم دوراندیش لیڈر تھے۔

    سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ قائداعظم کے بعد پاکستان کو بد قسمتی سے ان کے معیار کی قیادت نصیب نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپنی بیماری کو نظر انداز کر کے دن رات پاکستان کی تعمیر کے لیے محنت کی۔ ان کی جدوجہد کے بدولت ہم آج ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں۔ پاکستانی قوم تا قیامت قائداعظم کی احسان مند رہے گی۔

    سید مصطفیٰ کمال نےنے کہا کہ لسانیت، فرقہ پرستی اور بددیانتی کے خاتمے کے بغیر پاکستان حقیقی معنوں میں قائد اعظم کا پاکستان نہیں بن سکتا۔ بانی پاکستان کو انکی بے تحاشہ خدمات پر جتنی بھی خراجِ تحسین پیش کی جائے وہ کم ہے۔ آج پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے۔

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، لیگی رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر سے متعلق کیا فیصلہ ہوا؟ اہم خبر

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، لیگی رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر سے متعلق کیا فیصلہ ہوا؟ اہم خبر

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل ہو رہا ہے اور اس دوران زیرحراست ارکان کے پروڈکشن آرڈرکا معاملہ بھی زیر بحث ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی، راناثناءاللہ اور خواجہ سعد رفیق سمیت 6 ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست دی گئی تھی مگر اسپیکرقومی اسمبلی نے گرفتارارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں کئے،

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسپیکرقومی اسمبلی نےاپوزیشن کی درخواست پرکوئی اقدام نہیں اُٹھایا، پروڈکشن آرڈرارکان کاآئینی وقانونی حق ہےجوحکومت دینانہیں چاہتی،

  • عبدالقادر عظیم کھلاڑی اور محب وطن پاکستانی تھے ، چوہدری سرور

    عبدالقادر عظیم کھلاڑی اور محب وطن پاکستانی تھے ، چوہدری سرور

    لاہور : عبدالقادر عظیم کھلاڑی اور محبت وطن پاکستانی تھے ، قوم ان کو ہمیشہ یاد رکھے گی ، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر کی وفات پر گھروالوں سے تعزیت کرنے ان کے گھر پہنچ گئے ،

    ذرائع کے مطابق سابق کرکٹر عبدالقادر کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا کہ عبدالقادر نے عمران خان کی تصاویر اور ان کے بارے میں نظم لکھ رکھی ہے

    چوہدری محمد سرور نے میڈیا والوں کو بتایا کہ عبدالقادر کا کمرہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے پکے پاکستانی تھے مجھے بتایا گیا ہے کہ عبدالقادر نے آخری خط عمران خان کو لکھا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق چوہدری سرور نے اس موقع پر کہا کہ وہ عظیم کرکٹر کی وفات پر ان کے گھروالوں سے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھی تعزیت کا اظہار کرنے آیا ہوں

    چوہدری محمد سرور نے کہا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں عبدالقادر کی فیملی کے ساتھ ہیں چوہدری محمد سرور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انفنٹری روڈ اور جہاں عبدالقادر کھیلتے تھے اس سٹیڈیم کا نام عبدالقادر کے نام منسوب کرنے کے حوالےسے سوچ رہے ہیں

  • آج ان کیلئے یوم شرمندگی ہے جو کلثوم نواز پر نفرتوں‌ کے تیر چلاتے رہے، مریم اورنگزیب کا تعزیتی تقریب سے خطاب

    آج ان کیلئے یوم شرمندگی ہے جو کلثوم نواز پر نفرتوں‌ کے تیر چلاتے رہے، مریم اورنگزیب کا تعزیتی تقریب سے خطاب

    پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آج کی تقریرمشکل ترین تقریرہے کیونکہ کلثوم نواز کو بچھڑے ایک سال ہوگیا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج جھوٹ کےسوداگروں کےلیےیوم شرمندگی ہے، آج منفی سوچوں، جھوٹے تبصروں اورمتعصبانہ بیانات کی برسی ہے، اُن عناصرکےلیےشرمندگی کادن ہےجوکلثوم نوازپرنفرتوں کےتیرچلارہےتھے، جمہوریت کےلیےقربانیاں دینےوالی عزت دارخاتون کی بیماری کامذاق اڑایاگیا، وہ سیاست میں جدوجہدکرنےوالی خواتین کےلیےمثال بن کرابھریں،

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عاجزی،انکساری،خداترسی اوردوسروں کی بےپناہ عزت ان کاشعاررہا، کلثوم نوازمشکل حالات میں بھی اللہ کی مددسےصبرواستقامت کاپیکرثابت ہوئیں، کلثوم نوازجمہوری اصولوں کےلیےآمرکےسامنےڈٹ گئیں،

  • صلاح الدین کے والد کی طرف سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست

    صلاح الدین کے والد کی طرف سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست

    رحیم یار خان ( )اے ٹی ایم کارڈ چوری کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے والد کی جانب سے آج ڈیوٹی جج راشد افضل صاحب کی عدالت میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کیلئے صوبائی میڈیکل بورڈ بنانے کیلئے درخواست دائر کر دی عدالت نے بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا

  • قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر، 47 سالہ سفر کی کہانی باغی  کی زبانی

    قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر، 47 سالہ سفر کی کہانی باغی کی زبانی

                    قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر

    فرسٹ کلاس کرکٹ کسی بھی کرکٹ کھیلنے والے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ٹیسٹ کھیلنے والے تمام بڑے ممالک میں ایک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ ایسا ضرور ہوتا ہے جس کے گرد اس ملک کی ڈومیسٹک کرکٹ گردش کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ مقام قائداعظم ٹرافی کو حاصل ہے جو بانیِ پاکستان کے نام سے منسوب ہے۔

    قومی کرکٹ کی تاریخ میں پہلا فرسٹ کلاس کرکٹ میچ آزادیِ پاکستان کے چند ماہ بعد 2 صوبائی ٹیموں پنجاب اور سندھ کے درمیان کھیلا گیا۔ باغِ جناح لاہور میں کھیلا گیا میچ 27تا 29 دسمبر 1947 تک جاری رہا تاہم پاکستانی تاریخ کے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز 6 سال بعد ہوا۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب قائداعظم ٹرافی کے پہلا ایڈیشن کا انعقاد 1953-54 میں کیا گیا۔

    ابتدائی ایڈیشن:

    قائد اعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن میں 3 صوبائی اور 2 ڈیپارٹمنٹل سمیت کل 7 ٹیموں نے شرکت کی۔ ایونٹ میں پنجاب، سندھ، سرحد، بہاولپور، کراچی، کمبائنڈ سروسز اور پاکستان ریلویز نے شرکت کی۔ ٹورنامنٹ کے میچز کے جی اے گراؤنڈ کراچی میں کھیلے گئے۔ قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن کی فاتح ٹیم بہالپور ٹھہری۔ فائنل میچ میں بہاولپور نے پنجاب کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔7 ٹیموں سے شروع ہونے والے اس ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد آنے والے برسوں میں 26 تک پہنچ چکی تھی تاہم آئندہ سیزن میں قائداعظم ٹرافی میں 6 ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل آئیں گی۔ ٹیموں کی محدود تعداد میں شرکت سے ایونٹ میں معیاری کرکٹ کو فروغ ملے گا۔

    ڈومیسٹک سیزن 1967-68 تک مختلف وجوہات کی بناء پر قائداعظم ٹرافی کے 4 ایڈیشنز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ 1960-61 میں قائداعظم ٹرافی کی بجائے ایوب ٹرافی کا انعقاد کیا گیا۔ 1965 میں جنگ کے باعث قائداعظم ٹرافی 1965-66 کے ایڈیشن کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ 1967-68 اور 1971-72 ڈومیسٹک سیزن میں بھی قائداعظم ٹرافی کے میچز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا تھا تاہم گذشتہ 47 سالوں سے قائداعظم ٹرافی کے میچز بلا تعطل جاری ہیں۔

    کراچی کی حکمرانی:

    ڈومیسٹک سیزن 1954-55 میں کراچی کرکٹ ٹیم نے پہلی مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نا م کیا۔ ڈومیسٹک سیزن 1971-72 تک کراچی سے تعلق رکھنے والی ٹیموں نے قائداعظم ٹرافی کے 14 میں سے 9 ٹائٹل اپنے نام کیے جبکہ قائداعظم ٹرافی کے 1958-59 سے 1966-67 تک مسلسل 7 ایڈیشنز شہرِ قائد کے نام رہے۔ مجموعی طور پر کراچی کی نمائندگی کرنے والی مختلف ٹیموں نے 20 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل جیتا۔ یہ قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں کسی بھی علاقائی ٹیم کی ریکارڈ تعداد میں جیت ہے۔

    کراچی بلیوز سب سے زیادہ 9 مرتبہ ایونٹ اپنے نام کرچکی ہےتاہم مسلسل 3 مرتبہ قائداعظم ٹرافی جیتنے کا ریکارڈ کراچی وائٹس کی ٹیم کے پاس ہے۔ کراچی وائٹس کی ٹیم سیزن 1990-91 سے 1992-93 تک مسلسل 3 مرتبہ ٹائٹل جیت کر فتوحات کی ہیٹ ٹرک کرنے والی واحد ٹیم ہے۔

    ڈیپارٹمنل ٹیموں کا عروج:

    قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن میں 2 ڈیپارٹمنٹل ٹیموں پاکستان ریلویز اور کمبائنڈ سروسز نے شرکت کی تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز قائداعظم ٹرافی جیتنے والی پہلی ڈیپارٹمنٹل ٹیم تھی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز قائداعظم ٹرافی 1969-70 کی فاتح ٹیم تھی تاہم قومی ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں 70 اور 80 کی دہائیوں کو ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے عروج کا دور کہا جاتا ہے۔ان 20 سالوں میں 15مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل کسی نہ کسی ڈیپارٹمنٹل ٹیم نے جیتا۔ اس دوران 4 مرتبہ ایونٹ کی فاتح پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ٹیم نے مجموعی طور پر 7 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

    70 اور 80 کی دہائیوں میں قائداعظم ٹرافی میں میچز راؤنڈ رابن یا گروپ مرحلے پر مشتمل فارمیٹ میں کھیلے جاتے تھے۔ ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد بھی 10 سے 12 ہوتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب قائداعظم ٹرافی کو صرف ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے لیے مختص کردیا گیاتھا جبکہ علاقائی ٹیمیں پیٹرنز ٹرافی میں نبرد آزما ہوتی تھیں۔

    اس کے بعد 9 سیزنز میں قائداعظم ٹرافی میں شہروں کی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو ایک بار پھرشامل کرلیا گیا۔ اب ٹیموں کی تعداد کم سے کم 8 اور زیادہ سے زیادہ 11 رکھی گئی تھی۔

    دیگر شہروں کی کامیابیاں:

    قومی ڈومیسٹک کرکٹ کے پریمیئر ٹورنامنٹ، قائداعظم ٹرافی سےجہاں معیاری کرکٹ کوفروغ ملا تو وہیں اس ٹورنامنٹ کے انعقاد سے کرکٹ کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں بھی مدد ملی۔ یہ قائداعظم ٹرافی کاہی ثمر تھا کہ 90 کی دہائی میں قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کئی ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا جو لاہور یا کراچی سے نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں رہائش پذیر تھے۔ محدود سہولیات کے حامل ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے قائداعظم ٹرافی میں بھی اپنی قابلیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    2000-01 سے 2013-14 تک سیالکوٹ نے 2 جبکہ پشاور، فیصل آباد اور راولپنڈی نے ایک ایک مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ 1986-87 میں راولپنڈی نے حبیب بنک لمیٹیڈ کی مضبوط ٹیم کو زیر کرکے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جبکہ 1998-99 میں پشاور کی ٹیم نے کراچی وائٹس کو ایک اننگ کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی۔

    قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں 6 ایڈیشنز ایسے بھی رہے جب یہ ٹورنامنٹ 2 ڈویژنزمیں کھیلا گیا۔ 2005-06 اور 2006-07 میں یہ ٹورنامنٹ گولڈ اور سلور ڈویژنز کی طرز پر کھیلا گیا۔ قائداعظم ٹرافی میں 14 ریجنز کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں دونوں گروپس کی 4 بہترین ٹیموں نے "سپر ایٹ” جبکہ آخری 6 ٹیموں نے "باٹم سکس” کی بنیاد پر میچز کھیلے۔

    قائداعظم ٹرافی کے آئندہ ایڈیشن کا آغاز 14 ستمبر سے ہورہا ہے۔ ایونٹ میں 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کی فرسٹ اور سیکنڈ الیون ٹیمیں 2 مختلف ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔

    نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر سے معیاری کرکٹ کو فروغ دیا جائے گا جس سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

  • سکندر اعظم کا تعمیر کردہ پٹن مینارہ تاریخی  مینار تاریخی بے حسی کا شکار

    سکندر اعظم کا تعمیر کردہ پٹن مینارہ تاریخی مینار تاریخی بے حسی کا شکار

    پٹن مینارہ۔رحیم یار خان
    رحیم یار خان سے جانب جنوب 8 کلومیٹر کے فاصلے پر پتن منارہ واقع ہے۔ پتن منارہ تاریخ میں پتن پور کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعض محققین کے مطابق پتن پور سکندراعظم نے تعمیر کروایا تھا۔ اور یہاں اک بہت بڑی درسگاہ تعمیر کی تھی۔ جبکہ کچھ کے نزدیک یہ شہر سکندراعظم کے زمانے سے بھی پہلے کا آباد تھا۔ اور صحرائے چولستان میں سے گزرنے والا ایک قدیم دریا ہاکڑا یا گھاگھرا پتن پور کے قریب سے بہتا تھا۔ سکندراعظم نے اس شہر کو فتح کرنے کے بعد کچھ عرصہ اپنی فوج کے ساتھ یہاں قیام کیا تھا۔ اسی قیام کے دوران سکندراعظم نے یہاں ایک مینار تعمیر کروایا۔ جس کا نام پتن منارہ تھا۔

    جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ مینار شائد سکندراعظم نے تعمیر کروایا یا اس سے پہلے ہی موجود تھا۔ اس لیے اوپر عنوان کے ساتھ جو 326 قبل مسیح کا سال لکھا گیا ہے۔ وہ پتن منارہ کی تاریخ تعمیر ہے اور یہ ایک محتاط اندازے سے ہے۔ اس سال سکندر اعظم نے اس علاقے میں پڑاؤ ڈالا تھا اور یہ مینار تعمیر کروایا تھا۔

    پتن پور موہن جوڈارو اور ٹیکسلا کی تہزیبوں کا امین رہا ہے۔ اور تاریخ میں ہندومت، بدھ مت کا خاص مرکز رہا ہے۔ اس کے کنارے بہنے والا دریا ہاکڑا موسمی تبدیلیوں کے باعث خشک ہو گیا۔ دریا خشک ہونے پتن پور کی عظمت رفتہ رفتہ ختم ہونے لگی۔ اور ایک وقت آیا کہ پورا علاقہ ویران ہو گیا۔ بعض روایات کے مطابق پتن منارہ خزانہ دفن ہے۔ انگریزوں کے دور حکومت میں 1849 میں کرنل منچن نے اس خزانے کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔

    رحیم یار خان میں دریائے ہاکڑہ کے کنارے پر آباد پتن پور جو کبھی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار تھا، آج یہ کھنڈر اس کی داستان بتانے سے بھی قاصر ہیں۔ دریائے ہاکڑہ نے اپنا رستہ بدلا تو لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے۔ آج یہ صرف اینٹوں کا مینار باقی رہ گیا ہے۔ جو کسی وقت بھی زمین بوس ہونے والا ہے۔ قریبی گاؤں کے پچھلی طرف سے اس مینار کا راستہ ہے۔ احاطے میں داخل ہوکر سامنے پرانی سیڑھیاں ہیں۔ جو مینار کے اوپر تک جاتی ہیں۔ مینار کا کافی حصہ زمین میں دھنس چکا ہے۔ پتن پور تہذیب کی آخری نشانی پتن منارہ کی بحالی کے لیے محکمہ آرکیالوجی کی طرف سے لاکھوں کے فنڈز بھی جاری ہوئے مگر بات کاغذی کاروائیوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اگر پتن منارہ کی حفاظت پر فوری توجہ نا دی گئی تو آنے والے چند سالوں میں اس کا شائد نشان ہی باقی رہ پائے۔

    پتن منارہ کے قریبی گاؤں میں ایک 1840 کی دہائی کی قدیم مسجد بھی ہے۔ جسے وہاں کے مقامی راہنما ابوبکر سانول نے تعمیر کروایا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسجد بھی محکمہ اوقاف اور آثارقدیمہ کی نااہلی پر نوحہ کناں ہے۔ محمکہ آثار قدیمہ اور محمکہ سیاحت پنجاب سے گزارش ہے کہ پتن منارہ کی حفاظت اور بحالی کا کام شروع کیا جائے۔ تاکہ یہ تاریخی ورثہ آنے والی نسلیں کیلے محفوظ ہو سکے۔

  • حمزہ شہباز کیلئے گھر کا کھانا بند، ثابت ہو گیا چھوٹے آدمی کو بڑی کرسی پر مسلط کیا گیا ہے، مریم اورنگزیب

    حمزہ شہباز کیلئے گھر کا کھانا بند، ثابت ہو گیا چھوٹے آدمی کو بڑی کرسی پر مسلط کیا گیا ہے، مریم اورنگزیب

    ‎پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کا جیل میں کھانا بند کرنے کی مذمت کی گئی ہے، انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے پاس نوازشریف کی قیادت اورشہبازشریف کی رہنمائی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق مریم اورنگزیب نے کہاکہ عمران صاحب آپ نے ثابت کر دیا کہ چھوٹے آدمی کو بڑی کُرسی پہ مسلط کر دیا گیا ہے، عمران صاحب ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا مخالف بزدل اور کم ظرف انسان ہے، ‎عمران صاحب اوچھی اور کم ظرف حرکتوں سے ہم جھکنے والے نہیں، ہم منت کریں، یہ آپ کی حسرت ہی رہے گی، ‎انڈر ٹرائل ملزم کو جیل مینوئل حق دیتا ہے کہ اسے گھر کا کھانا فراہم کیاجاسکتا ہے،

    ‎مریم اورنگزیب نے کہاکہ حمزہ شہباز نے آمر کے دور کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، ‎عمران صاحب نوازشریف اور اس کے شیروں کو بھوکا، پیاسا رکھ کر ان کے حوصلے نہیں توڑے جاسکتے، ‎عمران صاحب آپ کی نالائقی، نااہلی اور جھوٹ کا پول ہر گلی ہر محلے میں کھُل چکا ہے، ‎بدترین سیاسی انتقام اور حکومتی قوت سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرکے تاریخ میں آپ کا نام سیاہ حروف میں لکھاجائے گا،