Baaghi TV

Author: +9251

  • دورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی ون ڈے اور ٹی 20 ٹیموں‌ کا اعلان

    دورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی ون ڈے اور ٹی 20 ٹیموں‌ کا اعلان

    دورہ پاکستان کیلئےسری لنکن ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کا اعلان کر دیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن ٹیم کراچی میں 3ون ڈے اورلاہورمیں 3 ٹی 20 میچ کھیلے گی، کھلاڑیوں میں نوآن پرادیپ، ایسورواڈاناکاسن رجیتھااورلہیروکمارابھی شامل ہیں، دیگرکھلاڑیوں میں مینوڈبھنوکا،اینجیلوپریرا،ونیندوہسارنگا،لکشن سنداکان بھی شامل ہیں، سری لنکن اسکواڈمیں اویشکافرنینڈو،اوشاڈافرنینڈواورشیہان جےسوریا شامل ہیں،

    سری لنکن اسکواڈ میں لہیرو تھریمانے، دنوشکا گونا تھیلاکا اور سدیراسماراوکراما شامل ہیں،

  • آج کی سب سے بڑی اور بری خبران کے لیے جو شوقین ہیں ایک خاص چیز کے

    آج کی سب سے بڑی اور بری خبران کے لیے جو شوقین ہیں ایک خاص چیز کے

    لاہور : چائے پینے والے اب کدھر جائیں گے ، چائے کے دیوانوں کیلئے بُری خبر، شہر کی اوپن مارکیٹ اور اکبری منڈی میں برانڈڈ اور چائے کی کھلی پتی کی قیمتوں میں 100 سے 140 روپے فی کلو گرام تک کا اضافہ ہوگیا۔

    لاہور اکبری منڈی میں برانڈڈ چائے100 روپے اضافے کے بعد1200 روپے کی فی کلوگرام جبکہ کھلی پتی120 سے 140 روپے مہنگی ہونے کے بعد بالترتیب 880 اور 920 روپے فی کلوگرام میں دستیاب ہے،مہنگائی کے سونامی میں ڈوبتی عوام چائے کی قیمتوں میں اضافے پربلبلا اٹھی،پتی کے مہنگے ہونے پر چھوٹے تاجر بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں،

    دوسری طرف شہریوں کا کہنا ہے کہ درویش وزیراعلیٰ سے اگر پتی کا ریٹ کنٹرول نہیں ہوسکتا تو وہ باقی معاملات کیسے ڈیل کرتے ہوں گے ، شہریوں نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہےکہ موجودہ پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ چائے کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے،

  • بی جے پی لیڈر نے مستعفی ہونے والے بھارتی آفیسر سینتھل کو کس ملک میں جانے کا مشورہ دے دیا؟

    بی جے پی لیڈر نے مستعفی ہونے والے بھارتی آفیسر سینتھل کو کس ملک میں جانے کا مشورہ دے دیا؟

    بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اننت کمار ہیگڈے نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف استعفیٰ دینے والے بھارتی آفیسر (آئی اے ایس) سسی کانت سینتھل کو پاکستان جانے کا مشورہ دے دیا۔
    مودی حکومت سے اختلاف، ایک اور آئی اے ایس افسر مستعفی
    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو پیغام میں سابق بھارتی وزیر اننت کمار نے کہا کہ حکومت اور پارلیمنٹ کی اکثریت کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلے پر سوال اٹھانے والے آئی اے ایس افسر سے بڑا کوئی ” غدار ” نہیں ہوسکتا ۔

    اننت کمار نے کرناٹک کے آئی اے ایس افسر کے استعفی کو "تکبر کا فعل” قرار دیا۔

    یاد رہے کہ سینتھل نے 6 ستمبر کو ہندوستانی حکومت کو یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ بطور سول سرونٹ کام جاری رکھنا غیر اخلاقی ہے جبکہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے سمجھوتہ کیا جارہا ہے۔

    اس سے پہلے گذشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر میں عائد کرفیو کی وجہ سے ایک اور آئی اے ایس آفیسر کنن گوپناتھن نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔جبکہ جنوری میں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔

  • ایف اے ٹی ایف پاکستان سے متعلق رپورٹ‌ کا جائزہ کب لے گا؟ خبر آ گئی

    ایف اے ٹی ایف پاکستان سے متعلق رپورٹ‌ کا جائزہ کب لے گا؟ خبر آ گئی

    وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ کےخلاف عالمی دنیاسےتعاون جاری رکھےگا، ایف اےٹی ایف پاکستان سےمتعلق رپورٹ کااکتوبرمیں جائزہ لےگا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ ایف اےٹی ایف کااجلاس 13سے 18اکتوبرتک پیرس میں ہوگا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سےمذاکرات پروزارت خزانہ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اورایف اے ٹی ایف کے اے جی پی گروپ کےدرمیان ملاقات ہوئی ہے، حماداظہرنےمشترکہ گروپ سے 2روزمذاکرات کیے، پاکستان نےایف اےٹی ایف کواپناکیس بھرپوراندازمیں پیش کیا،

    حماد اظہر کا کہنا ہے کہ حکومت منی لانڈرنگ کےخلاف متحرک ہے،

  • پی سی بی کے سابق چیئرمین کیخلاف کرپشن تحقیقات کا آغاز

    پی سی بی کے سابق چیئرمین کیخلاف کرپشن تحقیقات کا آغاز

    ایف ائی اے نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیرمین نجم سیٹھی کے خلاف مبینہ کرپشن شکایات پر 8 ماہ بعد انکوائری کا۔اغاز کر دیا ۔ایف ائی اے نے مدعی جاوید بدر کو بیان کے لیے طلب کر لیا ۔مدعی جاوید بدر نے 8 ماہ قبل ایف ائی اے کو نجم سیٹھی کے خلاف درخواست دی تھی۔ جس پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے
    مدعی جاوید بدر نے نجم سیٹھی کے خلاف مبینہ کرپشن کی شکایات درج کروائیں تھیں۔ایف ائی اے نے 8 ماہ تک درخواست پر کارروائی نہیں کی تھی ۔

  • عالمی برادری کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے، او آئی سی

    اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرگہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسزکے مظالم سے ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے، اسلامی تعاون تنظیم نے مقبوضہ کشمیرکے لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، مقبوضہ کشمیرسےکرفیوفوری ہٹاکرمواصلاتی رابطےبحال کیےجائیں، مقبوضہ کشمیرکےبنیادی حقوق کااحترام کیاجائے، عالمی برادری مسئلہ کشمیرپر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعملدرآمدیقینی بنوائے،

    او آئی سی کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کشمیریوں سےکیےگئےاپنےوعدے پورےکرے، اوآئی سی کےہیومن رائٹس کمیشن نے بھی مقبوضہ کشمیرمیں شہری حقوق بحال کرانےکا مطالبہ کیا ہے، مقبوضہ وادی دنیاکی سب سےبڑی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں،

  • عوام کی حکمرانی کیلئے ملک کو آگے لے کرجانا ہے، احسن اقبال

    عوام کی حکمرانی کیلئے ملک کو آگے لے کرجانا ہے، احسن اقبال

    مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت اوربنگلہ دیش ہم سے پیچھے تھے آج آگے نکل گئے ہیں،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق انہوں نے کہاکہ پاکستان میں آج ہم سیاسی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، عوام کے ووٹ کی بات کرنے والا لیڈر آج جیل میں ہے، عوام کی حکمرانی کیلئے ملک کو آگے لے کرجانا ہے، ہمارے دور میں دنیا کےادارے پاکستان کی ترقی کی گواہی دے رہے تھے،

    ن لیگی رہنما نے کہا کہ حکومت نے ملک کو بند گلی میں پہنچا دیا ہے، واحد راستہ انتخابات ہیں،

  • سانحہ نائن الیون کو 18 سال بیت چکے،  امریکا اب بھی حصول مقاصد میں ناکام

    سانحہ نائن الیون کو 18 سال بیت چکے، امریکا اب بھی حصول مقاصد میں ناکام

    سانحہ نائن الیون کو 18 سال بیت چکے ہیں، یہ وہ دن تھا جب امریکا سے چار مسافر طیارے ہائی جیک کیے گئے ، ان میں سے دو طیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیے گئے ایک طیارہ امریکہ کے فوجی ہیڈ کواٹر پینٹاگون پر جا گرا اور ایک طیارہ کسی عمارت کے ساتھ ٹکرانے میں ناکام رہا.ان طیاروں کے حملہ آوروں کی تعداد 19 تھی جن کا تعلق القاعدہ سے تھا ، القاعدہ کی قیادت اس وقت افغانستان میں بیٹھی تھی .جہاں طالبان کی حکومت تھی امریکا نے طالبان سے القاعدہ کے ذمہ داران کی حوالگی کا تقاضا کیا جسے طالبان نےیہ کہ کر ٹھکرا دیا کہ پہلے ٹھوس ثبوت لاؤ ہم خود ان پر مقدمہ چلائیں گے، ان حملوں کے نتیجے میں تین ہزار کےقریب امریکی موت کی وادی میں چلے گئے، اس سانحے کے بعد دنیا بھر کا سیاسی نقشہ بدل گیا. امریکا نے پورپ سےمل کر اتحاد بنایا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کر کے ایک دنیا میں‌ لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جس میں اکثیریت مسلمانوں کی تھی.
    حملوں کے جواب میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کا جواز بنا کر افغانستان اور عراق پر حملہ کر دیا
    اس جنگ کو آج 18 سال بیت چکے ہیں القاعدہ اور اسامہ بن لادن امریکا کے بقول ختم کر دیے گئے ہیں لیکن خطے میں امن اب بھی نہیں‌آیا، افغانستان اب بھی جنگ کی بھٹی میں جل رہا ہے.اور امریکا اس کمبل سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہے.

  • چمکا جو اک ستارہ تو راہ دکھا گیا،                                 عشاء نعیم کا بلاگ

    چمکا جو اک ستارہ تو راہ دکھا گیا، عشاء نعیم کا بلاگ

    چمکا جو اک ستارہ تو راہ دکھا گیا تحریر عشاء نعیم

    وہ اک ستارہ تھا
    جی ہاں ستارہ جسے رات کو بھی لوگ دیکھتے ہیں تو راہ کو سمجھتے ہیں ۔
    25 دسمبر۔ 1876کو چمکنے والا
    وہ بھی اک ایسا ستارہ تھا جس نے تاریکیوں میں راہ دکھائی تھی ۔جس نے مایوسیوں میں امید دلائی تھی جس نے ہمت دلائی تھی اور اک ایسا جذبہ پیدا کر دیا جو دبی چنگاری سے شعلہ جوالہ بن گیا۔
    جی ہاں قیام پاکستان سے پہلےہندوستان مسلمانوں کی اکثریت کہ حیثیت کمی کمینوں والی ہوگئی تھی ۔انگریز تھے یا پھر ہندو دندباتے پھرتے تھے ۔مسلمانوں کی کہیں کوئی نمائندگی تھی نہ ہی آواز ۔
    سرکاری نوکریاں تھیں نہ حکومت میں کوئی عہدہ ۔نہ ہی مسلمانوں کے لئے کوئی مذہبی آزادی تھی ۔
    بلکہ ہندو جہاں چاہتے منہ اٹھا کر چلے جاتے اور مسلمانوں پہ ظلم و ستم ڈھاتے ۔
    مسلمانوں سے گھٹیا کام لئے جاتے ۔جھاڑو پونچھا ‘جیسے غلیظ کام لینے کے ساتھ مسلمانوں کو ناپاک بھی سمجھا جاتا ۔بنیئے جیسا چوہا خور مسلمانوں کے ہاتھ لگی چیز کو ناپاک سمجھتا تھا ۔
    مسلمانوں کی مذہبی شخصیات کی گستاخی بھی معمول بنتی جارہی تھی ۔اور انگریز بھی خاموشی اختیار کرتا۔
    مسلمان مسجدوں میں نماز پڑھتے تو بنیا وہاں بھی تنگ کرتا ۔ مسلمانوں کو کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی .
    پھر جو چمکا وہ چاند بن کر تو رستے صاف نظر آنے لگے منزل پتہ چل گئی راہیں کھلتی چلی گئیں اور مایوسی امید میں بدل گئی ٹوٹے حوصلے دوبارہ سے بندھنے لگے کامیابیاں قدموں کو چومنے لگیں ۔
    بھٹکے مسافر اک راہ پہ آ گئے ۔پھر صعوبتیں بھی لذت دینے لگیں کیونکہ صلہ نظر آنے لگا بے مقصد زندگیاں بامقصد لگنے لگی
    جینے کی راہ ملی تو مشکل بھی آسانی لگنے لگی ۔
    اک ایسا راہبر ملا رہنما ملا سفر بھی حضر کی طرح لگنے لگا ۔
    پھر خون بھی بہا ‘گھر بار بھی لٹا ‘بہن بھائی ‘ماں باپ ‘اولاد مال سب لٹا لیکن دل کی بس ایک پکار تھی "پاکستان ” اور جب پاکستان ملا تو سب بھلا کر اک ہی نعرہ تھا پاکستان زندہ باد قائد اعظم زندہ باد ۔
    جی ہاں ایسا رہنما ‘ایسی راہ دکھا کر منزل پہ لے گیا کہ قوم نے اسے سب سے بڑا لیڈر قرار دے دیا ۔اور قائد اعظم پکارنے لگے ۔
    یہ محمد علی جناح کی عظیم قیادت اور سیاسی بصیرت ہی تھی جس نے اتنی مشکلات میں بھی اپنی بات منوائی اور دنیا کے نقشے پہ اب سے بڑی ریاست آزاد کروا لی ۔
    آج ہم اسی بطل عظیم کی رات دن انتھک کوششوں کی وجہ سے ہی آزاد ریاست میں آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں ۔اس آزادی کی قدر پوچھئے کشمیر یوں سے جنھیں مہینہ ہونے والا ہے نہ دوائی ملتی ہے نہ کھانے کو کچھ ہے نہ پینے کو ۔جو مسجد میں نماز پڑھنے جاسکتے ہیں نہ اذان دینے ۔جن کی عزت محفوظ ہے نہ جان ۔
    جو جگہ جگہ کٹ رہے ہیں ۔
    جو اک محمد علی جناح کی راہیں دیکھ رہے ہیں ۔
    اس آزادی کی قدر پوچھئے ہندوستان کے ہندو اکثریت میں رہ جانے والے اور دھوکے سے ہندوستان میں پا کستان کے شامل کئے جانے والے علاقوں کے مسلمانوں سے جنھیں جب چاہے آر ایس ایس کے غنڈے آ کر قتل و غارت شروع کردیتے ہیں ‘جب چاہے گائے کے گوشت کا بہانہ بنا کر رسیوں سے باندھ کر تڑپا تڑپا کر مارنے لگتے ہیں ۔کبھی گائے کا پیشاب پینے پہ مجبور کرتے ہیں کبھی جے شری رام کا نعرہ لگانے پہ مجبور کرتے ہیں ۔وہ بھی اک محمد علی جناح کی راہیں دیکھ رہے ہیں ۔

    ہمیں ان میں سے کسی مشکل کا سامنا نہیں تو یہ اس عظیم ترین انسان کی بدولت ہے جس کا نام ہے محمد علی جناح ۔جو گیارہ ستمبر 1948 کو ہمیں اک آزاد وطن دے اپنا مقصد حیات پورا کر کے چلا گیا ۔

    اللہ رب العزت انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔آمین

  • قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔ ایک شخصیت،ایک عہد ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

    قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔ ایک شخصیت،ایک عہد ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

    قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔
    ایک شخصیت،ایک عہد۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

    کراچی میں 25دسمبر 1876ء
    میں پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر عالمِ اسلام کا عظیم لیڈر اور عہد ساز شخصیت بنے گا۔۔۔؟؟؟

    تاریخ پاکستان کا چمکتا ستارہ عالمی سیاسی منظر نامے پر بھی ایک عظیم لیڈر کے طور پر نظر آتا ہے۔۔۔ !!!!
    آپ عہد آفریں شخصیت۔۔۔
    با اصول سیاستدان۔۔۔۔
    کامیاب قانون دان۔۔۔
    اور بلند مرتبہ مدبر بھی تھے۔۔۔
    یہ آپ کی مضبوط قوتِ ارادی۔۔۔اور دانشورانہ صلاحیتوں کا صلہ تھا کہ۔۔۔ہندو کی تنگ نظری (Narrow vision) آپ پر جب واضح ہو گئی تو آپ کے لیئے یہ بات سمجھنا مشکل نہ رہی کہ مسلمانانِ ہند کو اس غلامی کا طوق اتار پھینکنا چاہیئے۔۔۔
    اور ایک الگ پہچان۔۔۔۔اور مملکت ناگزیر ہو چکی ہے۔۔۔
    یہی وجہ تھی کہ مسلمانانِ برصغیر نے عظیم لیڈر کی قیادت میں متحد ہو کر اپنا بھر پور کردار ادا کیا جو بالآخر دنیا کے نقشے م پر پاکستان جیسی عظیم ریاست کے قیام کی وجہ بن گیا۔۔۔
    تاریخ اس تحریک پر حیران نظر آتی ہے کہ مدبرانہ اور ولولہ انگیز مخلص قیادت قوموں کی کامیاب و بامراد سمت کا تعین کر دیتی ہے۔۔۔۔
    یہی کردار ہمیں محمد علی جناح کا نظر آتا ہے۔۔۔
    قوم کے لیئے ان کے دل میں محبت اور خدمت کا جو جزبہ موجزن تھا وہ آج بھی ہم جیسوں کے لیئے مشعل راہ ہے۔۔۔ !!!
    آپ کی غیر معمولی شخصیت کی بنیاد ابتداء سے ہی پڑ گئی تھی اور شروع سے ہی آپ کے کردار میں ایک دیانتدار اور محنتی انسان کی جھلک نظر آتی تھی۔۔۔۔
    اور یہی کردار آگے بڑھ کر قابلِ تقلید مثال بن گیا۔۔۔۔
    دیانتداری۔۔۔۔
    اصولوں کی پاسداری۔۔۔۔
    اور کردار سے ثابت کر کے دکھانا آپ کی پہچان بن گئی۔۔۔۔
    قومی وسائل کے بے دریغ استعمال۔۔۔اقرباء پروری۔۔۔۔رشوت۔۔۔۔بڑائی۔۔۔خیانت ان کے نزدیک سنگین جرائم تھے۔۔۔
    تاریخ کے صفحات میں ان کے بے مثال و قائدانہ کردار کی ایک جھلک دیکھیئے کہ
    1943ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں کانگریس اور مسلم لیگ کے طلباء کے درمیان پرچم لہرانے کا تنازعہ اٹھا۔۔۔
    ہندو طلباء ملکی اکثریت کی بناء پر اپنا پرچم لہرانا چاہتے تھے۔۔۔۔
    جبکہ یونیورسٹی میں مسلمان طالبعلموں کی اکثریت کی وجہ سے مسلم لیگی اپنا پرچم لہرانا چاہتے تھے۔۔۔
    یونین کے الیکشن میں مسلم لیگ کی کامیابی کے بعد طلباء نے جب ان سے پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کا کہا تو آپ نے فرمایا:
    "تمہاری اکثریت خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش اچھی حرکت نہیں ہے۔۔۔کوئی ایسی بات نہ کرو جو کسی کی دل آزاری کا باعث بنے۔۔۔یہ مناسب نہیں کہ ہم جس کام پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں،وہی کام خود کرنے لگ جائیں۔۔۔۔ ”

    یہ تھا آپ کا نوجوانوں کو ٹھنڈے دل و دماغ، تحمل اوربردباری سے آگے بڑھنے کا مدبرانہ مشورہ۔۔۔۔۔

    دو قومی نظریہ کی وضاحت جس خوبصورتی کے ساتھ آپ نے دنیا کے سامنے رکھی تھی۔۔۔۔
    قیامِ پاکستان کی وجوہات کا وہ بہترین سرمایہ تھی۔۔۔۔
    عدل و انصاف پر مشتمل پر امن معاشرے کا قیام ان کا خواب تھا۔۔۔۔
    کسی بھی طبقے کے حقوق کا استحصال اور لوٹ مار سے قوم کو خبردار کیا۔۔۔۔
    اسلام کا نظام مساوات،عدل،رواداری،اتحاد ان کا دو ٹوک پیغام تھا۔۔۔۔
    قائد کی شخصیت۔۔۔حوصلہ،تدبر،احساسِ ذمہ داری۔۔۔اور بے بے باکی کی آئینہ دار تھی۔۔۔
    آپ نے مسلمانوں کا مؤقف واضح الفاظ میں دنیا کے سامنے اخلاقی جرأت کے ساتھ پیش کیا۔۔۔۔ !!!!
    مگر افسوس!
    ہم رفتہ رفتہ ان اصولوں سے دور ہوتے گئے۔۔۔جن کا خواب قائد کی دور اندیشی سے لبریز آنکھوں میں چمکتا تھا۔۔۔۔
    آپ مخالفین کے سامنے آہنی دیوار تھے۔۔۔
    وہ آپ کو جھکا نہ سکتے تھے۔۔۔۔
    آپ کے اٹل ارادوں کے آگے بند نہ باندھ سکتے تھے۔۔۔۔
    یہی وجہ تھی کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا تھا کہ میں ہندوستان کو متحد رکھنے کی غرض سے ہی گیا تھا۔۔۔مگر اس راہ میں ایک شخص پہاڑ کی طرح ڈٹا ہوا تھا اور وہ محمد علی جناح تھا۔۔۔ !!!

    بلاشبہ ایسی عظیم شخصیات صدیوں بعد جنم لیتی ہیں۔۔۔۔
    جو قوموں کی تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں۔۔۔۔
    جو دنیا کے نقشے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔۔۔۔
    جو نوزائیدہ مملکت کو مدبرانہ انداز و سوچ سے اپنے پاؤں پر۔۔۔کفایت شعاری سے کھڑا کر دیتی ہیں۔۔۔۔ نوجوانوں کو تعلیم و محنت اپنی ترجیح بنانے کا درس دیتی ہیں۔۔۔۔اسی صورت میں وہ اپنی دنیا آپ پیدا کر سکتے ہیں۔۔۔ !!!
    بقول اقبال
    >ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔۔۔۔ !!!
    بانئ پاکستان 11ستمبر 1948 کو وفات پا گئے اور قوم عظیم لیڈر اور ہیرو سے محروم ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
    But heroes like him never die…..
    Do they die????
    He lives in our hearts…. !!!!!
    آپ کے فرمودات آج بھی قومی استحکام اور ترقی کے لیئے ہمارے لیئے راہنما اصول ہیں۔۔۔۔ !!!!
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤