Baaghi TV

Author: +9251

  • فیروز پور روڈ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ ، میاں‌ بیوی شدید زخمی ، بیوی کی ٹانگ ہی کٹ گئی

    فیروز پور روڈ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ ، میاں‌ بیوی شدید زخمی ، بیوی کی ٹانگ ہی کٹ گئی

    لاہور : تیزرفتاری خطرہ جان ، پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، فیروز پور روڈ پر جنرل ہسپتال کے سامنے ٹرک کی ٹکر لگنے سے موٹر سائیکل سوار میاں بیوی شدید زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق فیروز پور روڈ پر جنرل ہسپتال کے سامنے ٹرک نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوارمیاں بیوی شدید زخمی ہوگئے، حادثے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو طبی امداد کیلئے جنرل ہسپتال منتقل کردیا، نشتر کالونی پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں شامل خاتون 30 سالہ کومل بی بی کی ٹانگ کٹ گئی، خاتون شوہر کے ہمراہ گھر جارہی تھی کہ ٹرک نے ٹکر مار دی، زخمیوں کا تعلق یوحنا آباد کے علاقے سے ہے۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں موٹرسائیکل سواروں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جن کی حالت ابھی بھی خطرے میں ہے

  • اساتذہ اور سکول سربراہان کیلئے خوشخبری ، اب ڈیوٹیاں نہیں لگیں گی

    اساتذہ اور سکول سربراہان کیلئے خوشخبری ، اب ڈیوٹیاں نہیں لگیں گی

    لاہور : اساتذہ کی خواہش پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے اساتذہ اور سکول سربراہان کی غیر تدریسی ڈیوٹیوں پر پابندی لگا دی۔اساتذہ اور سکول سربراہان کیلئے اچھی یہ ایک اچھی خبر ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے اساتذہ کی غیر تدریسی ڈیوٹیوں پر پابندی لگا دی ہے، اس حوالے سے تمام سکول سربراہان کو مراسلہ بھی جاری کردیا گیا،

    افغان طالبان باتوں باتوں میں‌ بہت مارتے ہیں‌، ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان ، باغی ٹی وی کا دعویٰ سچ نکلا

    ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہاگیاہے کہ ہیڈ ٹیچر ،آئی ٹی ٹیچر اور ٹیچنگ کیڈر سے کسی بھی سٹاف کی غیر تدریسی ڈیوٹی نہ لگائی جائے،اساتذہ کی جانب سے محکمہ سکولز ایجوکیشن کو شکایات کی گئی تھیں، جبکہ بعض اساتذہ کا ٰخیال ہے کہ ان ڈیوٹیوں سے کچھ معاوضہ تو ملتا ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے

  • حضرت غازی عباس علمدارؑ کی یاد میں علم برآمد کیے جانے کا سلسلہ جاری ، بڑی تعداد میں محبان کی شرکت

    حضرت غازی عباس علمدارؑ کی یاد میں علم برآمد کیے جانے کا سلسلہ جاری ، بڑی تعداد میں محبان کی شرکت

    لاہور : محرم الحرام میں مجلسوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ، واقعہ کربلا میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے تمام ہی ساتھی وفا اور صبر کی مثال ہیں لیکن جس وفا اور محبت کا اظہار غازی عباس علمبردار کی جانب سے کیا گیا اسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

    افغان طالبان باتوں باتوں میں‌ بہت مارتے ہیں‌، ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان ، باغی ٹی وی کا دعویٰ سچ نکلا

    لاہور سے ذرائع کے مطابق پیکر وفا شان اہل بیت اور قمر بنی ہاشم جناب حضرت غازی عباسؑ علمدار کے ساتھ اظہار محبت اور عقیدت کے طور پر آج 8ویں محرم کوعلم برآمد کیے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہے گا ، اس موقع پر عزادار وں کی وفا اور شجاعت کو سلام پیش کیا جائے گا، مجالس میں فضائل اور حضرت عباسؑ کی شہادت کا واقعہ بیان کیا جائے گا۔

  • بھارتی تسلط کے خلاف  آواز اٹھانے والوں پر مودی سرکار کا ایک اور وار

    بھارتی تسلط کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر مودی سرکار کا ایک اور وار

    بھارتی تسلط کے خلاف آواز اٹھانے والے میڈیا پرسن پر مودی حکومت نے نیا وار کرنا شروع کر دیا.

    باغی ٹی وی رپورٹ :مودی حکومت نے کشمیریوں کےساتھ ایک نیا وار چلنا شروع کردیا. آزادی اور بھارتی قبضے کے خلاف آواز اٹھانے والے سوشل ایکٹیوست کی شہریت منسوخ کرنا شروع کر دی..بھارت میں برسر اقتدار انتہا پسند جنونی ہندوؤں کی مودی حکومت نے تنقید کرنے والوں کے پاسپورٹ بھی منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں پانچ افراد کے پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں گے۔

    بھارتی پولیس کا دعویٰ ہے کہ پانچوں افراد کے پاسپورٹوں کی منسوخی کا عمل بہت جلد شروع ہو جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق کویت اور متحدہ عرب امارات میں رہنے والے دو کشمیریوں کی سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے
    مقبوضہ وادی کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے مدھیہ پردیش میں آرٹیکل 370 ہٹانے پر لکھی گئی کتاب کو فروخت کرنے کے گھناؤنے کے ’جرم‘ میں مبتلا سی پی آئی ایم کے سابق رہنما شیخ عبدالغنی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ان پر آئی پی سی کی غیر ضمانتی دفعہ 153 – اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

  • ویکسین سے انکار پر 2 مزید بچے پولیو وائرس کا شکار ، کہاں ہوئے رپورٹ نے کھلبلی مچادی

    ویکسین سے انکار پر 2 مزید بچے پولیو وائرس کا شکار ، کہاں ہوئے رپورٹ نے کھلبلی مچادی

    کراچی: پولیووائرس نے پھر سر اٹھا لیا ، ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی سے بھی پریشان کن خبریں آنے لگیں‌، اطلاعات کےمطابق شہر قائد میں 2 مزید بچے پولیو وائرس کا شکار ہو گئے ہیں، بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کا یہ نتیجہ نکلا کہ بچے پولیو کا شکار ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں 8 ماہ کی ایک بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے، 10 ماہ کے ایک بچے میں بھی پولیو کی تصدیق ہو گئی ہے جس کا تعلق جنوبی وزیرستان تحصیل لدھا سے ہے۔

    محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہےکہ دونوں بچوں کے والدین نے پولیو ویکسین سے متعلق منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے ویکسین پلوانے سے انکار کیا تھا۔خیال رہے کہ رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 62 ہو گئی ہے، خیبر پختون خوا سے 35، قبائلی اضلاع سے 11 پولیو کیس سامنے آ چکے ہیں۔

  • محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ!                                           فاطمہ قمر کا بلاگ

    محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ! فاطمہ قمر کا بلاگ

    محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ! فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    یہ ہیں پاکستان کی بد عنوان ترین عدلیہ میں شفاف ترین نفاذ اردو کا فیصلہ تاریخ ساز فیصلہ لکھ کر پاکستان کی تاریخ میں امرہونے والے محسن اردو – سابق منصف اعلی جناب جسٹس جواد ایس خواجہ!
    جو صرف 23 دن عدالت عظمیٰ کی کرسی پر بطور منصف اعلی بیٹھے اور اپنی ریٹائرمنٹ کے
    آخر ی لمحوں میں نفاذ اردو فیصلہ لکھ کر ریاست پاکستان ‘ آئین پاکستان اور فرامین قائد اعظم سے اپنی وفاداری کا حق نبھادیا۔ آپ کا ذریعہ تعلیم انگریزی میڈیم تھا’ آپ ایچی سن اور برکلے کے فارغ التحصیل ہیں۔۔لیکن فطری طور پر غلامی سے نفرت کا احساس لئے ہوئے ہیں۔
    آپ کا فرمانا ہے :
    ” پاکستان میں انگریزی کاسںب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ معاشرتی تفریق پیدا کرتی ہے’ کسی بھی ملک کے شہریوں کے لئے اس سے بڑا ظلم کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے ریاست کے قوانین غیر ملکی زبان میں ہوں ‘ اگر کوئئ شہری کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ عدالت سے یہ کہہ کر اپنا جرم معاف کروا سکتا ہے کہ مجھے اس قانون کی زبان کا علم نہیں ہے۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ "جب بھی کسی اشرافیہ نے بزور ڈنڈا حکومت قائم کرنی ہو تو اشرافیہ اپنی زبان الگ رکھے گی اور عوام کی الگ’”
    آپ نے انکشاف کیا اور چیلنج کیا ہے کہ اگر چہ میں نے ساری زندگی قانون کی تعلیم انگریزی میں حاصل کی۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کے قوانین کچھ ایسی انگریزی میں رقم ہیں جنہیں میں اپنی تمام تر انگریزی فہمی کے باوجود نہ سمجھ سکا تو اسے عام شہری کیا سمجھے گا؟ اگر کوئی قانون دان مجھے ان قوانین کا مطلب سمجھادے تو میں اس کا بے حد ممنون ہوگا”
    جن دنوں اپ عدالت عظمی میں نفاذِ اردو کے تاریخ ساز مقدمے کی سماعت کررہے تھےاور اپنے تمام فیصلے اردو میں رقم کر رہے تھے۔۔انہی دنوں میں چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب کو مظفر آباد کے ایک پرائمری پاس دہقان نے ان کو اردو میں فیصلہ لکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ہمیں اعزاز حاصل ہے کہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے وہ خط خاکسار کو بھی بھیجا۔ جس میں اس پرائمری پاس کسان نے لکھا ‘
    ” چیف جسٹس صاحب ! آپ نے میرے کیس کا فیصلہ اردو میں لکھا ہے ‘ میں اسے خودپڑھ سکتا ہوں ‘ اگر یہ فیصلہ انگریزی میں لکھا ہوتا تو پہلے تو مجھے دس ہزار کا ایک وکیل کرناپڑتا جو مجھے اس فیصلے کامطلب سمجھاتا’ دوسرا میرا دل بھی خوفزدہ رہتا کہ نجانے اس فیصلے میں کیا لکھا ہے؟”
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ فرماتے ہیں کہ یہ ہے وہ انقلاب جو پاکستان میں نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد سے رو نما ہوگا۔جس میں ایک پرائمری پاس بھی اپنے حقوق اورعدالت کی زبان سے واقف ہو سکے گا۔ اور ملک کے غلط قوانین کے خلاف سینہ سپر ہوگا۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے بتایا کہ اگرچہ کہ ” میں نے ساری زندگی فیصلے انگریزی میں رقم کئے ہیں’ لیکن جب میں نے اردو’ میں فیصلے لکھنے شروع کئے تو مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی”
    انہوں نے نفاذ اردو کی اہمیت سے متعلق سب سے پہلا نوٹ سینئر صحافی’ کالم نگار ‘ اینکر پرسن حامد میر کے کیس میں لکھا۔ اس لئے ہم حامد میر کو یا د دلاتے ہیں کہ ابھی اپ پر نفاذ اردو کے حوالے سے پروگرام کرنا قرض ہے۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صرف انہوں نے زبانی طور پر ہی یہ فیصلہ نہیں لکھا ‘ بلکہ وہ نفاذ اردو قافلے کے عملی سپاہی ںھی ہیں۔پاکستان کی عدلیہ کی غلام تاریخ میں وہ پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنے عہدےکا حلف اردو میں لیا۔
    ۔اپنے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد لاہور میں ایک سکول قائم کیا ہے جہاں پر امیر و غریب کے بچے سب ایک ہی عمارت میں اردو’ زریعہ تعلیم ‘ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آپ نے اس سکول میں سب سے پہلے اپنے نواسی ‘ نواسوں کو داخل کیا ہے۔۔یہ سکول پاکستان کی اشرافیہ کی جانب سے قائم کردہ پہلا تعلیمی ادارہ ہے جو تعلیمی مساوات کا عملی نمونہ ہے۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے بائیس دن کی قلیل ترین منصف اعلی کی نشست پر سیکورٹی کی خصوصی سہولت لینے سے انکار کردیا’ کسی بھی قسم کے پروٹوکول کے بغیر اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے۔۔ دوران ملازمت کسی بھی زرائع ابلاغ پر آنے سے گریز کیا۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جب ںفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ رقم کیا تو آپ نے فرمایا ‘
    ” ہم نے نفاذ اردو کا پودا لگا دیا ہے”
    ہم محسن اردو سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ” محسن اردو’ خواجہ صاحب ہم پاکستان قومی زبان تحریک کے پلیٹ فارم سے دن رات اپ لگائے گئے پودے کی آبیاری کررہے ہیں’ اس کو نہ صرف زرخیز ترین کھاد ڈال رہے ہیں’ بلکہ اس کو لاحق سونڈیوں ‘ کیڑے مکوڑوں فالتو جھاڑ جھنکار کا بھی مناسب سدباب کر رہے ہیں ان شاء اللہ ہم اس پودے کو ایک تنا ور’ سایہ دار درخت بنا کر ہی دم لیں گے ! ان شاءاللہ !
    بس اپ سے درخواست ہے کہ اب اپ اپنی خلوت نشینی ‘ اور درویشی کو خیر باد کہیں اور آکر تحریک کی قیادت سنبھالیں۔
    محسن اردو ‘ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نفاذ اردو فیصلہ رقم کرنے کے بارے میں ایک بات بہت عاجزی سے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہتے ہیں۔
    ” اے فیصلہ ‘ میں نئی کیتا’ اے اونے کرایا ہے”
    یقیناً پاکستان میں غلامانہ اشرافیہ میں اتنا تاریخ فیصلہ کوئی آزاد ‘ باحمیت ‘ قومی جذبے سے سرشار جج ہی اللہ کے خاص فضل سے دے سکتا تھا’ اور اللہ نے یہ فضل و رتبہ محسن اردو ” چیف جسٹس جواد ایس خواجہ ہی کو عطا کرنا تھا!
    یہ اس کی عطا ہے وہ جس کو چاہے اپنے کرم سے نواز دے!
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صرف بائس دن کی قلیل ترین منصف اعلی کی نشست پر فائز ہو کر نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ رقم کرگئے۔جسے انکے بعدمیں آنے والےچیف جسٹس ثاقب نثار المعروف بابا رحمتاں اور ڈیم سرکار تین سال کی طویل مدت میں بھی عملی جامہ نہ پہنا سکے’
    افسوس ‘ صد افسوس !
    یہ سب اپنی دلچسپی اور قومی امور سے اخلاص کی تر جیحات ہیں۔
    فآ طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • کشمیر پاکستان کی شہ رگ                                            عاصم مجیدکا بلاگ

    کشمیر پاکستان کی شہ رگ عاصم مجیدکا بلاگ

    کشمیر پاکستان کی شہ رگ عاصم مجید

    یہ جملہ میرا نہیں بلکہ ایسے دور اندیش شخص کا ہے جس کی بصیرت کی گواہی زمانہ دیتا ہے۔ جی ہاں ! بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا
    کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
    اس وقت ہر صاحب بصیرت کشمیر کی پاکستان کے لیے اہمیت کو جانتا ہے۔
    آزادی کشمیر ہی

    ہمارے آزاد پانیوں کی ضمانت
    سی پیک کی کامیابی کی ضمانت
    ڈیموں کی تعمیر کی ضمانت
    معدنیات کے حصول کی ضمانت
    سیاحتی کاروبار کی ضمانت
    پاکستانں معیشت کی کامیابی کی ضمانت

    اس میں کوئی شک نہیں آزادی کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔ کشمیری اپنے خون سے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
    میرے ہم وطنوں کشمیری خون بہا رہے ہیں وہ ہماری جنگ کے لیے شہادتیں پیش کر رہے ہیں ۔ شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں کوئی شہید نہ ہو۔ شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جس میں کسی ہماری ماں یا بہن کی عزتوں سے نہ کھیلا گیا ہو۔ کشمیر لفظ مظلومیت کا استعارہ بن چکا ہے۔
    کشمیری شہادتوں پر شہادتیں پیش کر رہے ہیں وہ اپنے لاشے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دنیا بھر کے انسانوں کو فیصلہ سنا رپے ہیں کہ کشمیریوں کا مستقبل پاکستان سے جڑا ہے۔ ان کے تین تین سال کے بچے پکار رہے ہیں
    ہم چھین کے لیں گے آزادی
    ہے حق ہمارا آزادی
    آئیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی آواز پر لبیک کہیں۔ مسلمان تو ویسے بھی جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں۔

    قرآن اس کے متعلق فرماتا ہے۔

    وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ

    "اگر وہ دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے” ( الانفال ، 72 )

    آو میرے پاکستانیو!
    کشمیریوں کی پکار کا جواب دیں
    اپنے مال سے
    اپنی دعاوں سے
    سوشل میڈیا کی آواز سے
    پر امن احتجاج سے
    آئیں دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑ ڈالیں۔ سوشل میڈیا ایک پانچویں نسل کی جنگ اس کو ہلکا نہ لیں اس محاز پر کشمیریوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلا دیں۔ فیس بک ، ٹویٹر انسٹا گرام ان کو تفریح کے لئے نہیں بلکہ آزادی کشمیر کی تحریک کے لیے استعمال کریں۔

    میرے ہم وطنوں کشمیری سات دہائیوں سے اپنا خون پیش کر رہے ہیں آئیں ہم ان کے لیے پسینے بہا لیں۔ وہ کسی محمد بن قاسم ، خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی کو پکار رہے ہیں۔ آئیں اپنے ذاتی، سیاسی اور معاشی اختلافات بھلا کر متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ کیونکہ جن کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہو وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتے۔
    میری ارباب اختیار سے گزارش ہے سفارتی زرائع کا بھر پور استعمال کریں۔ دنیا کے منصفوں کو بتا دیں کشمیری ہمارے بغیر نہیں رہ سکتے اور ہم کشمیریوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہم تب تک سکون سے نہیں بیٹھیں کے جب تک پاکستان مکمل نہیں ہو جاتا۔ کیونکہ

    ابھی تکمیل باقی ہے
    ابھی کشمیر باقی ہے

    اور اگر دنیا کے کان میں جوں نہیں رینگتی تو پھر
    جیسے میجر جنرل آصف غفور صاحب نے کہا:
    کہ ہم پاکستانی آخری گولی ، آخری سپاہی اور آخری سانس تک کشمیریوں کے لیے لڑیں گے۔
    مودی سن لے !!

    اِس پار ملی تھی آزادی
    اس پار بھی لیں گے آزادی
    ان شا اللہ

  • پنجاب پولیس زندہ باد  :     پولیس تشدد سے عامر مسیح کی موت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر

    پنجاب پولیس زندہ باد : پولیس تشدد سے عامر مسیح کی موت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر

    لاہور: وزیراعظم کے درویش وزیراعلیٰ کی درویش پولیس کے ہاتھوں انسانیت کا ایک اور قتل ،تھانہ شمالی چھاؤنی لاہور میں پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے عامر مسیح کی موت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آ گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کی تصدیق ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق پوسٹ رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ عامر مسیح کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔

    ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عامر مسیح کے دونوں ہاتھوں اور پاؤں پر تشدد کے نشان تھے، کمر اور بازو پر بھی تشدد کے نشانات تھے، پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عامر مسیح پر کسی کند آلے سے تشدد کیا گیا ہے۔

    https://www.youtube.com/watch?v=BRv4i9XnYtM

    یاد رہے کہ پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے 25 سالہ عامر مسیح کو 28 اگست کو چوری کے الزام میں تھانہ شمالی چھاؤنی بلایا گیا تھا جہاں 4 روز تشدد کرنے کے بعد 2 ستمبر کو نازک حالت میں صدر کینٹ کے اسپتال پہنچایا گیا۔عامر مسیح نے سروسز اسپتال میں دم توڑا، جس کے بعد ورثا نے جیل روڈ پر پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

    ذرائع کے مطابق میڈیا پر اس قتل کے حقائق منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی عارف نواز خان نے بھی نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کی، ایک پولیس افسر کو گرفتار کیا گیا جب کہ ایس پی کینٹ انویسٹی گیشن کو عہدے سے ہٹایا گیا۔عامر مسیح کے قتل کے الزام میں سب انسپکٹر ذیشان سمیت چھ پولیس افسران کو نامزد کیا گیا ہے، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے ان دنوں میں پنجاب پولیس کے ہاتھوں تشدد کے کیسز تواتر کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں جس پر عوامی سطح پر بھی سخت احتجاج کیا جا رہا ہے، گزشتہ دنوں پولیس حراست میں ایک ذہنی معذور اے ٹی ایم چور کو بھی بے دردی سے قتل کیا گیا

  • مقبوضہ کشمیر ؛ بھارتی افواج نے محرم الحرام  کی مجالس اور ماتمی جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر دی

    مقبوضہ کشمیر ؛ بھارتی افواج نے محرم الحرام کی مجالس اور ماتمی جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر دی

    محرم کی جالس اور متمی جلوسوں پر بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے پابندی

    بھارتی افواج کے مظالم اور پابندیاں مقبوضہ کشمیر میں جاری ہیں جس کی نئی نئی قسمیں سامنے آ رہی ہیں.جن میں وادی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عزاداران حسین کے جلوسوں کو روکنے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی جیل قائم کرنے والی مودی حکومت کی ایما پر قابض بھارتی افواج نے سڑکوں پہ لگائی گئیں رکاوٹوں میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔

    بھارت کی قابض افواج نے کشمیر پر اپنا جبری تسلط قائم رکھتے ہوئے ہر طرح کے معلامات میں کشمیریوں کو قید و بند میں رکھا ہوا ہو ہے
    کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث پوری وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سری نگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھی بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے، دلی سے سری نگر واپس جانے پر انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔

  • پاکستان پر تنقید درست ؟ مگر جب بھارت  کی بات ہو تو تکلیف !   دہرا معیار کیوں ؟                                                  از                ملک جہانگیر اقبال

    پاکستان پر تنقید درست ؟ مگر جب بھارت کی بات ہو تو تکلیف ! دہرا معیار کیوں ؟ از ملک جہانگیر اقبال

    گزشتہ روز ہمارے پڑوسی (بھارت) کا چاند پہ پہنچنے کا مشن (چندریان 2) ناکام ہوا جو یقیناً بھارت جیسے غریب ملک کے لیے دھچکا تھا ، کسی کی ناکامی پہ خوشی منانا مناسب عمل نہیں لہٰذا اس پہ خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا .

    بات یہیں تک محدود رہتی تو ٹھیک تھی پر کل میری گناہگار آنکھوں نے جب پاکستان کے ایک مخصوص طبقہ کو بھارتی ناکامی پر بین کرتے دیکھا تو شاید تعجب تو نہ ہوا پر اس طبقہ سے آنے والی کراہیت مزید بڑھ گئی ، یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان کیجانب سے تیل کھدائی مشن کی ناکامی پر خوشیوں کے شادیانے بجا رہے تھے ، تب اس طبقہ کی روح میں موجود بھانڈ میراثی فیکٹر 100 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے جگتیں خارج کر رہا تھا .
    پاکستان سے انکے ازلی بغض کو دیکھتے ہوئے یہ حرکت بھی واجب النظرانداز سمجھی پر ضبط کے بندھن تب ٹوٹے جب اس طبقہ کی جانب سے بھارتی خلائی مشن کی ناکامی کو "انسانیت کی شکست” کہا جانے لگا ۔

    بندہ پوچھے ، او ظالمو کیا تمہیں خبر ہے کہ کل کشمیر میں کرفیو لگے پورا ایک ماہ ہو چکا ہے ؟ محض گزشتہ ایک ہفتے میں پیلٹ گن کے شکار 60 افراد سرینگر لائے گئے ؟ محض گزشتہ پانچ سال میں سینکڑوں کشمیری شہید کئے گئے ، جبکہ سینکڑوں نابینا ہو چکے ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ریاستی سرپرستی میں بھارت میں مسلمانوں کو گائے رکھنے کے شبہ میں بھی بیچ چوک پہ مار دیا جاتا ہے ؟ کیا تم نے نہیں دیکھ رکھا کہ یہی بھارتی حکومتی اہلکار جلسوں میں ببانگ دہل مسلمانوں کی نسل کشی کی ترویج کرتے ہیں ؟ یہاں تک کہ "نیچ” ذات والے ہندو اور عیسائی بھی موجودہ حکومتی ہتھکنڈوں سے محفوظ نہیں ۔

    دیکھیں جناب دنیا میں اس وقت دو دھوکے بيچے جارہے ہیں اور بیوقوف و احساس کمتری کے شکار لوگ ان دونوں دھوکوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے جھولیاں بھر بھر کر خریدے جارہے ہیں

    1) انسانیت
    2) امن پسندی

    اب یہاں لوگ خلائی مشن کو "انسانیت” سے تعبیر کرتے ہیں پر یہ نہیں بتاتے کے جب امریکہ چاند کے پیچھے پوری قوم کو "ماموں” بنا رہا تھا تب دوسری جانب وہ ویتنام میں 30 لاکھ کے لگ بھگ انسانوں کو موت کی وادیوں میں پہنچا چکا تھا ، اوراسی دورانئے میں امریکہ میں نسل پرستی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی ، غریب سڑکوں پہ نکلے ہوئے تھے جبکہ مارٹن لوتھر کنگ کو نسل پرست قتل کر چکے تھے ۔

    یہاں لوگ پیرس میں چند شہریوں کے مرنے پر انسانیت کا منجن بیچتے ہوئے پاکستان میں تو ماتم برپا کردیتے ہیں پر یہ نہیں بتاتے کہ لیبیا پر حملہ کرنے میں فرانس کیوں پیش پیش تھا ؟ 2011 سے آج تک جو لیبیائی شہری اس جنگ کی بھینٹ چڑھے اس پہ عالمی ضمیر، اِنسانیت اور امن کہاں جا مرتا ہے ؟

    ٹھیک اسی طرح بھارت کا خلائی مشن دراصل کشمیر میں اپنے بھیانک چہرے اور تباہ ہوتی معیشت سے اپنی عوام اور دنیا کی توجہ ہٹانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے . وہ نادان دوست جو پاکستان کو محض مقابلہ بازی پر اکسا کر طعنے دے رہے ہیں ایسے نادان دوستوں سے گزارش ہے کہ سرد جنگ کے دوران خلائی دوڑ کا کردار پڑھ لیں کہ کس طرح امریکہ نے روس کو چندہ ماموں کے چکر میں ماموں بنائے رکھا اور اسکی معیشت کا بیڑا غرق کرواتا رہا اور جب تک سوویت یونین کو ہوش آیا تب تک اسکی معیشت کی کمر ٹوٹ چکی تھی جب کہ مشرقی یورپ ہاتھ سے نکل چکا تھا .

    لہٰذا پاکستانی حکمران اس مقابلہ بازی میں پڑنے کے بجائے عوام کی فلاح بہبود پر توجہ دیں ان کیلئے تعلیم و روزگار کے آسان مواقع پیدا کریں ، ان شاء اللہ چاند کیا ہم مریخ مشتری اور گر زیادہ فارغ وقت اور قوم کا پیٹ بھرا وا ہوا تو سورج پہ جانے کا بھی پلان بنا لیں گے ۔ آخر میں بھارتی ناکامی کے غم میں مبتلا دوستو سے یہی گزارش کروں گا کہ اب اگر آپ الفاظ کے گورکھ دھندوں سے یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے خلائی مشن کی اس لئے تعریف کیجائے کہ "دیکھیں اس مشن کا سربراہ غریب کتنا ہے ”

    تو بھائی میری طرف سے معذرت قبول کیجئے کہ ایسے منجن و چورن کم سے کم میں نہیں خرید سکتا ، اور ویسے بھی جتنا پیسے بھارت نے خلائی مشن میں خرچ کیا ہے اس سے باآسانی 1 کروڑ غریب لڑکیوں کی شادی ہوسکتی تھی ….
    ہوسکتی تھی نا ؟؟؟ !!

    ملک جہانگیر اقبال