Baaghi TV

Author: +9251

  • سچ پوچھیں تو یہ حقیقت ہے کہ  عابد علی جیسا فنکار صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ مرحوم کے بارے میں کس نے بہت بڑی بات کہہ دی

    سچ پوچھیں تو یہ حقیقت ہے کہ عابد علی جیسا فنکار صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ مرحوم کے بارے میں کس نے بہت بڑی بات کہہ دی

    لاہور: ادکارعابد علی کےجانے کے بعد دوستوں کی طرف سے خراج عقیدت پیش کی جانے لگی ، اطلاعات کے مطابق بالی ووڈ کے معروف اداکار رضا مراد نے پاکستانی لیجنڈ اداکار عابد علی کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عابد علی جیسا فنکار صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رضامراد نے کہا عابد علی نے جس طرح پاکستانی ڈرامے میں حقیقت کے رنگ بھرے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بطور فنکار میں یہ بات بخوبی جانتا ہوں کہ کسی بھی کردار کو اپنا بنانا انتہائی مشکل کام ہے لیکن جس طرح سے انہوں نے ان گنت ڈراموں میں یادگار کردارنبھائے، ان کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔

    ذرائع کے مطابق رضامراد کامزید کہنا تھا کہ عابد علی کا فنی قد بڑا اور میرے الفاظ چھوٹے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج فن کا ایک روشن ستارہ ماند پڑ گیا۔ وہ آج ہم میں نہیں رہے لیکن ان کا کام ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عابد علی کو اپنے جواہر رحمت میں جگہ دیں۔ آمین

  • سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف  دفاع کا حق حاصل ہے ، امریکا

    سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے ، امریکا

    امریکی وزیر دفاع ماریک ایسپر کا کہنا ہے کہ حوثی یمن میں سفاکیت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ حوثیوں کو ایران حرکت میں لا رہا ہے۔

    جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سعودی عرب حوثی ملیشیا کے حملوں کے خلاف اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے جو تقریبا روزانہ کی بنیاد پر مملکت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں حالیہ ایام میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور یمنی بھائیوں میں پھوٹ گہرے افسوس کا باعث ہے۔ سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوئی بھی کوشش مملکت اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرہ ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘ایس پی اے’ کے مطابق مملکت جنوبی یمن میں رونما ہونے والے واقعات کا باریکی سے جائزہ لے رہی ہے۔ سعودی عرب نے جنوبی یمن میں آئینی حکومت اور عبوری انقلابی کونسل کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور ریاض ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب جنوبی یمن میں آئینی حکومت عبوری انقلابی کونسل کے درمیان بات چیت اور مصالحت کی کوششیں آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ جنوبی یمن اور عدن سمیت تمام علاقوں میں آئینی حکومت کی رِٹ بحال کرنے اور تمام سرکاری، عسکری اور نجی اداروں پر حکومتی کنٹرول بحال کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے فریقین میں جنگ بندی کو آگے بڑھانے اور امن کے لیے فوری اور غیر مشروط عزم کی ضرورت پرزور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ برادر یمنی عوام کی زندگیوں کو متاثر کرنے والی کسی بھی خلاف ورزی یا طرز عمل کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایسی کوئی بھی کوشش یا اقدام جس سے ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو فائدہ ہو قابل قبول نہیں ہوگا۔ مملکت نے زور دے کر کہا ہے کہ مملکت اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو درپیش کسی بھی خطرے سے پوری قوت سے نمٹنے میں دریغ نہیں کریں گے۔

  • شجاع آباد دو گروپوں میں جھگڑا 4 افراد شدید زخمی

    شجاع آباد(نمائندہ باغی ٹی وی ) افسوس ناک خبر شجاع آباد کے مشور و معروف عثمان پلازہ کے قریب دو گروپوں میں ذاتی وجوہات اور معمولی تنازع پر جھگڑا چھریوں اور خنجروں کے وارسے 4 افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا اس واقعہ کی اطلاح ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور متعدد افراد کو اپنی گرفت میں لے لیا جھگڑا کس بنا پر ہوا اور اس جھگڑے کے پس پردہ کون سی وجوہات تھیں ۔ اس پر مزید تحقیقات جاری ہیں پولیس ذرائع رانا اظہر منیر نمائندہ باغی ٹی وی ملتان شجاع آباد

  • کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!!                           بلال شوکت آزادکا بلاگ

    کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزادکا بلاگ

    کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزاد

    6 ستمبر 1994, یوم دفاع پاکستان وہ دن تھا جب میرے والد نے پہلی دفعہ مجھے جذبہ حب الوطنی, جہاد, شہادت, دفاع وطن, افواج پاکستان, کشمیر اور اس دن کی تاریخی حیثیت کے بارے میں تب بتایا تھا جب میری عمر صرف چھ سال تھی اور میں اپنے والد کے کام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔

    اس کے بعد ہر سال 2001 تک یوم دفاع پاکستان, یوم بحریہ اور یوم فضائیہ کے پروگرامز میں لیکر جانا اور آرمی, نیوی اور ایئر فورس کے میوزیمز کی سیر ہمارے لیئے بلکل ویسے ہی لازم بلکہ فرض ہوگئی جیسے ہر سال عیدین منانا ہم پر فرض ہے۔

    چھ سال کی عمر سے جو نظریاتی اور عسکری سبق رٹنا شروع کیا تو اگلے چھ سال یعنی بارہ سال کی عمر تک میں اپنے آپ میں ایک فوجی بن چکا تھا اور پاکستان و افواج پاکستان کی محبت ایسی کوٹ کوٹ کر جسم و جاں میں بھر چکی تھی کہ اپنی یہ دھمکی کھلے عام تھی کہ جس کو پاکستان اور افواج پاکستان سے ذرا سی بھی تکلیف ہے وہ چپ رہنے میں ہی سیف ہے۔

    چونکہ میرے والد کا تعلق پاک بحریہ سے تھا تو میرا فطری جھکاؤ, لگاؤ اور الفت پاک بحریہ سے زیادہ تھی بانسبت بری و فضائی افواج کے لیکن 6 ستمبر 1994 کی شام جب ہم باپ بیٹا کی یوم دفاع پاکستان پر بات چیت ہوئی تو اس کے بعد اگلے سال سے یہ روٹین بن گئی کہ میں 5 ستمبر کو رات جلدی سوجاتا اور 6 ستمبر کی صبح جلدی اٹھ کر ٹیلی ویژن پر گارڈز کی تبدیلی سے شروع ہونے والا پروگرامز دیکھ کر دن کا آغاز کرتا اور پھر اس دن اور اگلے دو دن کی مناسبت سے جو جو پروگرامز شیڈول ہوتے ان سے لطف اندوز ہوتا بشمول عسکری نمائشوں اور میوزیمز کی سیر وغیرہ۔

    خیر بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قوموں کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں, جہاں خیر ہے وہاں شر بھی ہے, جہاں عروج ہے وہاں زوال بھی ہے۔

    لیکن ترقی یافتہ اور مہذب قومیں کیا کرتی ہیں کہ ان کی اگلی نسل مکمل نظریاتی پروان چڑھے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں دقت نہ ہو؟

    قومیں اپنے ہیروز اور اہم قومی دنوں کو پوری شان و شوکت سے یاد رکھتی ہیں اور ان کی یادیں اپنی نئی نسلوں کو من وعن پہنچادیتی ہیں اور ایسے لمحات جب قوم واقعی قوم بن کر کسی مصیبت یا ناگہانی آفت و بلا سے نبرد آزما ہوئی ہو کو نئی نسل میں فخر سے بیان کرتی ہے تاکہ اگر مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں پھر کوئی انہونی ہو تو نئی نسل بھی اسی قومی جذبہ حب الوطنی سے آگے بڑھ کر مصائب کا مقابلہ کرے جیسے ان کے آباؤ اجداد نے کیا تھا۔

    6 ستبمر ہماری تاریخ کا وہ تابناک دن تھا جب دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر ہم پر وہ میدان چھوڑ کر چڑھ دوڑا تھا اچانک جہاں ہم نے اس کے دانت اصل میدان جنگ یعنی کشمیر سیکٹر میں اتنے کھٹے کردیے تھے کہ آزاد کشمیر جتنا اور علاقہ ہمارا مفتوحہ ہوچکا ہوتا پر کشمیر میں ہار دیکھ دشمن سیالکوٹ, لاہور, اوکاڑہ اور بالترتیب تمام مشرقی سرحد پر فوج لیکر چڑھ دوڑا پر وہ غلط فہمی یا خوش فہمی میں ایک ایسی موت کی وادی میں در آیا جہاں سروفروشان اسلام و پاکستان نے بدر و حنین کی یادیں تازہ کردیں۔

    دکھا دیا دنیا کو کہ 313 والے آج بھی کامیاب ہوسکتے ہیں گر توکل اللہ اور قوت ایمانی 313 والوں جیسی ہوجائے تو۔

    کتنے ہمارے نئی نسل کے نوجوان ہیں جنہیں یہ معلوم ہو کہ 6 ستبمر کی جنگ دراصل دفاعیہ کم جارحانہ زیادہ تھی؟

    ہمارا ایک ہی مسئلہ, ایک ہی دکھ ہے 1947 سے, کشمیر۔

    کشمیر کی خاطر ہماری افواج نے ایک گرینڈ فریڈم آپریشن, آپریشن جبرالٹر تشکیل دیا اور اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے بھارتی افواج کا مورال بری طرح ڈاؤن ہوا اور کشمیر بھارت کو ہاتھ سے جاتا نظر آیا لہذا بھارت نے بین الاقوامی سرحدی خلاف ورزی میں پہل (کشمیر کی سرحد تب نہ تو لائن آف کنٹرول تھی اور نہی بین الاقوامی سرحد لہذا پاکستان کی کشمیر پر چڑھائی بلکل بھی بین الاقوامی سرحدی اصول کے خلاف نہیں تھی پر کچھ دانشور آپ کو اس بابت بری طرح گمراہ کرسکتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ افواج پاکستان نے خود شروع کی اور الا بلا۔) کرکے پاکستان کے پرامن شہروں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی اور اسی جنگ کے خاتمے کا معاہدہ سائن کرکے لال بہادر شاستری کا دیہانت ہوگیا تھا شدید خفت اور شرمندگی سے۔

    بتانے کا مقصد بس یہی ہے کہ اپنی افواج کو ہلکا مت لیں اور یہ مت سمجھیں کہ کشمیر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں بلکہ یاد رکھیں کہ کشمیر افواج پاکستان کی اولین ترجیحات میں اول ہے اور اس کا ثبوت 1948, 1965, 1999 اور 2019 کی وسیع و محدود پاک بھارت جنگیں و جھڑپیں ہیں۔

    اگر تب نامساعد حالات اور عسکری لحاظ سے کمتر فوج نے آپریشن جبرالٹر جیسے آپریشن لانچ کرکے کشمیر کو آزاد کروانے کی خاطر اپنی جان, مال اور پاکستان تک کو داؤ پر لگا دیا تھا تو ٹھنڈ رکھیں وہ آج بھی کوئی کارگر موقع گنوائیں گے نہیں۔

    آج کا دن قوم کی نئی نسل کو یہ بتانے, دکھانے, سمجھانے اور سنانے میں گزاریں کہ ہم کیسی قوم ہیں اور ہمارا کردار کیا تھا اور اب ہم نے کس کردار کے ساتھ ملک کا دفاع مضبوط کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔

    یاد رکھیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان ہی وہ عنصر ہے جس نے ہمیں 6 ستمبر 1965, یوم دفاع پاکستان کا دن دیا۔

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • یوم دفاع اور کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے مظفرگڑھ میں ریلی نکالی گئی

    مظفرگڑھ میں پاک فوج اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر احتشام انور اور ڈی پی او صادق علی ڈوگر کی قیادت میں ریلی نکالی گئی.مظفرگڑھ میں جنگ ستمبر کے شہداء اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر احتشام انور اور ڈی پی او صادق علی ڈوگر کی قیادت میں ریلی نکالی گئی.ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہوکر کچہری چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں پولیس،ریسکیو اہلکار،سرکاری ملازمین،شہری اور سکولوں کے بچوں سمیت سینکڑوں افراد نےشرکت کی.ریلی کے شرکاء نے پاک فوج اور کشمیری شہداء کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی.

  • شوبز انڈسٹری کا درخشاں ستارہ عابد علی           محمد فہد شیروانی کا بلاگ

    شوبز انڈسٹری کا درخشاں ستارہ عابد علی محمد فہد شیروانی کا بلاگ

    شوبز انڈسٹری کا درخشاں ستارہ عابد علی
    تحریر: محمد فہد شیروانی

    29 مارچ 1952 کو کوئٹہ میں پیدا ہونے والے پاکستان کے نامور اداکار عابد علی 5 ستمبر 2019 کو 67 سال کی عمر میں اپنے پرستاروں کو روتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ عابد علی صاحب کی وفات سے پاکستان ایک با صلاحیت شخص، نرم خوانسان اور منجھے ہوئے اداکار سے محروم ہو گیا۔ عابد علی صاحب نے ٹی وی سکرین پر اپنی لازوال اداکاری سے ان گنت اچھوتے ڈرامائی کرداروں میں حقیقی زندگی کا رنگ سکرین بھرا۔ عابد علی صاحب نے بے شمار ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
    عابد علی صاحب کے شوبز کیرئیر کا پہلا مشہور ڈرامہ ” وارث” اور آخری ڈرامہ "اپنے ہوئے پرائے” تھا۔ اسی طرح ان کی پہلی فلم "خاک اور خون” جبکہ آخری فلم "ہیر مان جا” تھی۔
    بچپن سے ہی عابد علی صاحب کا رحجان فن اور آرٹ کی جانب تھا۔ جوانی میں عابد علی صاحب کہانیاں لکھتے اور پینٹنگ کیا کرتے تھے۔ ریڈیو پاکستان سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے عابد علی صاحب کچھ عرصہ بعد ہی لاہور شفٹ ہوگئے اور پاکستان ٹیلی ویژن اور ڈرامہ انڈسڑی سے وابستہ ہو گئے تھے۔ ابتداء میں ہی انہیں پی ٹی وی کے ڈرامہ "جھوک سیال” سے کامیابی مل گئی۔ عابد علی صاحب کو شہرت 1979 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے کلاسک ڈرامہ "وارث” کے کردار "دلاور خان” سے ملی۔
    1985 میں عابد علی صاحب کو ان کی خدمات کے عوض "پرائیڈ آف پرفارمنس” ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    1993 میں عابد علی صاحب نے بطور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر پاکستان کی تاریخ کا ہٹ ترین ڈرامہ "دشت” بنایا جو کہ پاکستانی ڈرامہ تاریخ کی پہلی پرائیویٹ پروڈکشن تھی۔ 1993 میں ہی انہوں نے پی ٹی وی کے لئے ڈرامہ سیریل "دوسرا آسمان” بنایا۔عابد علی صاحب کو بطور ڈائریکٹر اور ڈرامہ سیریل "دوسرا آسمان” کو بطور ڈرامہ یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ریکارڈنگ بیرون ملک کی گئی۔ اس کے بعد کامیابیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا اور ان گنت کامیابیوں نے عابد علی صاحب کے قدم چومے۔
    منفرد، خوبصورت اور گرجدار آواز کے مالک عابد علی صاحب کا شمار پاکستان کے ان گنے چنے اداکاروں میں ہوتا ہے جن کی آواز نے پس پردہ رہ کر بے شمار ٹی وی کمرشلز، ڈاکومینٹری اور فلموں میں اپنا جادو جگایا۔
    عابد علی صاحب کے قابل ذکر ڈراموں میں جھوک سیال، وارث، دشت، غلام گردش، مورت، مہندی، سمندر، دوسرا آسمان، بری عورت، ماسی اور ملکہ، آن، جہیز، کالا جادو، رخصتی اور دستار انا شامل ہیں۔ پروڈیوسر و ڈائریکٹر محسن طلعت کے پروڈکشن ہاؤس تلے مری میں بننے والے ڈرامہ سیریل "دستار انا” میں راقم کو بطور ایکٹر عابد علی صاحب کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ڈرامہ کی شوٹنگ کے دوران عابد علی صاحب کو جاننے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ لگ بھگ ایک ماہ ایک ہی ہوٹل میں عابد علی صاحب کے ساتھ یادگار وقت گزرا۔ شگفتہ انداز میں شائستہ گفتگو کرنے والے عابد علی صاحب ایک نہایت ہی شفیق اور نفیس انسان ثابت ہوئے۔ ان کی برجستگی کمال کی تھی۔ان کے ساتھ گزارے دنوں کی سنہری یادیں ہمیشہ دل میں زندہ رہیں گی۔ مری سے شروع ہونے والی محبت اور عقیدت کا تعلق عابد علی صاحب کے آخری وقت تک ان کے ساتھ استوار رہا اور ہمیشہ رہے گا۔
    عابد علی منجھے ہوئے ڈرامہ ڈائریکٹر اور ایک انتہائ شاندار ایکٹر تھے۔ شوبز انڈسٹری کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
    اللہ تعالی عابد علی صاحب کی مغفرت کریں اور ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین

  • اداکار عابد علی کی موت سے خاندان تقسیم ہوگیا ، ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع ہوگئی

    اداکار عابد علی کی موت سے خاندان تقسیم ہوگیا ، ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع ہوگئی

    کراچی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کسی کی وفات کے بعد یہ دعا فرما یا کرتے تھے کہہ اے اللہ مرنے والے کے بعد خاندان والوں کو آزمائش میں مبتلا نہ کرنا ان کو فتنوں سے محفوظ رکھا ،ایسے ہی پاکستان کے لیجنڈ اداکار عابد علی گزشتہ روز اپنے تمام چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کراس دنیا سے کوچ کرگئے تاہم ان کی بیٹی راحمہ علی نے اپنی سوتیلی والدہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے والد کی میت بغیر کسی کو بتائے اپنے ساتھ لے گئیں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان ڈراما انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار عابد علی گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تاہم جہاں عابد علی کی موت کی خبرسامنے آئی وہیں ان کے اہلخانہ کے درمیان گھریلو ناچاقیاں بھی منظر عام پر آنا شروع ہوگئیں۔

    https://www.facebook.com/watch/?ref=external&v=2547567708863216

    مرحوم ادکارعابد علی کی چھوٹی بیٹی راحمہ علی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں وہ روتے ہوئے بتارہی ہیں کہ وہ ان کی والدہ، ان کی بہنیں اور ان کے دیگر رشتے دار اسپتال میں موجود ہیں لیکن انہیں یہاں آکر پتہ چلا کہ ان کے والد کی دوسری بیوی اوران کی سوتیلی والدہ رابعہ نورین ان کے والد کی میت بغیر کسی کو بتائے لے گئیں۔

    یاد رہے کہ عابد علی نے دو شادیاں کی تھیں۔ ان کی پہلی بیوی کا نام حمیرا علی ہے جس سے ان کی تین بیٹیاں ایمان، راحمہ اورمریم علی ہیں۔ جب کہ عابد علی نے اداکارہ رابعہ نورین سے 2006 میں دوسری شادی کی تھی۔

  • اگر ذہین بننا چاہتے ہو توگوشت کھاو اور اگر !گوشت نہیں کھائیں گے تو… کند ذہن ہوجائیں گے!

    اگر ذہین بننا چاہتے ہو توگوشت کھاو اور اگر !گوشت نہیں کھائیں گے تو… کند ذہن ہوجائیں گے!

    لندن: ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف ’’سبزیجاتی غذا‘‘ (ویجی ٹیریئن) پر انحصار کرنے کا نتیجہ دماغی صحت کےلیے کچھ اچھا نہیں نکلتا، ماہرین طب نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ گوشت کا استعمال بہت ضروری ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گوشت نہیں‌کھائیں گے تو کند ذہن بن جائیں‌گے

    ذرائع کے مطابق یہ تحقیق برطانوی ادارے ’’نیوٹریشنل انسائیٹ‘‘ سینئر تحقیق کارہ ڈاکٹر ایما ڈربی شائر کی نگرانی میں کی گئی ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’بی ایم جے نیوٹریشن، پریوینشن اینڈ ہیلتھ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

    اس تحقیق میں برطانوی ماہرین طب نے بتایا ہے کہ سبزیجاتی غذا میں ایک اہم غذائی جزو ’’کولائن‘‘ کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ اگرچہ ہمارا جگر بھی کولائن بناتا ہے لیکن اس کی مقدار ہماری جسمانی ضروریات کے مقابلے میں نہایت کم ہوتی ہے۔ یہ کمی صرف اسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب غذا میں سبزیوں، دالوں اور پھلوں کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں گوشت بھی شامل رکھا جائے۔

    اس طبی تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی فرد کی خوراک میں‌ بڑے اور چھوٹے کے گوشت کے علاوہ مرغی، مچھلی، انڈے، دودھ اور دہی کی بھی مناسب مقدار ہماری غذا میں شامل ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہر روز گوشت کھایا جائے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سبزیجاتی غذا کے ساتھ ساتھ، ہفتے میں دو سے تین مرتبہ، گوشت پر مشتمل غذا کو بھی متوازن طور پر استعمال میں رکھنا چاہیے۔

    برطانوی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی نشوونما میں کولائن کی خصوصی اہمیت ہے، خصوصاً اُس وقت جب (دورانِ حمل) رحمِ مادر میں بچے کی نشوونما ہورہی ہوتی ہے۔ جگر کی کمزوری دور کرنے اور خون میں موجود چکنائی کو ختم کرنے کے علاوہ، کولائن ایسے آزاد اصلیوں (فری ریڈیکلز) کے خلاف بھی لڑتا ہے جو ہمارے جسمانی خلیوں کو تباہ کرتے ہیں اور متعدد بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

  • مظفرگڑھ میں فوجی کے شہید جوان عمران حیدر کے گھر شہریوں کا تانتا بندھ گیا

    مظفرگڑھ میں ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر احتشام انور نے دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئےجام شہادت نوش کرنے والے فوجی جوان عمران حیدر کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور انہیں پھول پیش کیے.مظفرگڑھ میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور شہید فوجی جوان عمران حیدر کے گھر گئے۔انھوں نے شہید فوجی جوان کے اہلخانہ سے ملاقات کی انھیں پھول پیش کیے اور شہید کے لیے مغفرت کی دعا بھی کی.آزاد کشمیر 17 رجمنٹ کے جوان عمران حیدر وانا میں دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے تھے.اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے شہید عمران حیدر نے ملک کی خاطر دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا.ان کا کہنا تھا کہ شہیدوں کی قربانی کی وجہ سے آج ملک محفوظ ہے.شہید فوجی کے گھر اہلیاں علاقہ کا تانتا بندھا رہا عمران حیدر شہید کے اہلخانہ سے ملکر مدروطن پر قربان ہونے والے اس جانباز کو خراج تحسین پیش کرتے رہے ۔شہریوں کا کہناتھا کہ عمران حیدر نے ہمارے کل کے لئے اپنے آج کی قربانی دی ۔

  • اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا ہے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہ ہو، شیخ رشید

    اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا ہے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہ ہو، شیخ رشید

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر پر اگر ہم نے کوتاہی برتی تو دنیا کبھی معاف نہیں کرے گی۔

    تفصیلات کے مطابق ملتان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اج کے دن کو پاک فوج کے شہدا اور کشمیریوں کی جدوجہد کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں اوروطن عزیز کے لیے جانیں دینے والے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔
    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہندوستان پاکستان کی سرحدوں کی طرف بڑھا تو اسے نیست و نابود کر دیں گے، ہم نے اسلحہ شب برات پر چلانے کے لئے نہیں رکھا، بھارت نے جنگ مسلط کی تو یہ آخری جنگ ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا آصف علی زرداری کے لئے کچھ لوگ پلی بارگین کر رہے ہیں، نواز شریف پلی بارگین کے لئے براہ راست بات کریں، عمران خان کو کہا ہے کہ یہ کنجوس لوگ ہیں ان سے جو ملتا ہے لے لیں۔

    وفاقی وزیر نے ریلوے کو اگلے 5 سالوں کے دوران خسارے سے نکالنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا 138 ٹرینوں کو 150 پر لے جائیں گے، بارشوں سے سگنل متاثر ہوتے ہیں اس لئے ٹرینیں تاخیر کا شکار ہیں، اگلے 15 روز میں ٹرینوں کا شیڈول ٹھیک ہو جائے گا۔