Baaghi TV

Author: +9251

  • صلاح الدین قتل کیس، سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا نوٹس، افسران طلب

    صلاح الدین قتل کیس، سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا نوٹس، افسران طلب

    پولیس تشدد سے جاں بحق صلاح الدین قتل کا سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے بھی نوٹس لے لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے صلاح الدین قتل کا نوٹس لے لیا، سینیٹر مصطفیٰ کوکھر کا کہنا ہے کہ 12ستمبر کو متعلقہ افسران کو طلب کررکھا ہے

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی تین دن بعد ہوش آ گیا، ڈی پی او کو معطل اور لاہور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے خط لکھ دیا ہے.

    صلاح الدین قتل کیس کے وکیل حسان نیازی کا کہنا ہے کہ صلاح الدین کے پورے جسم پر زخموں کے نشان تھے،وزیراعلیٰ پنجاب نے ابھی تک صلاح الدین کے خاندان سے تعزیت تک نہیں کی،تمام ویڈیوز میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ صلاح الدین پر تشدد کیا گیا ،

    وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے صلاح الدین کے قتل کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ مظلوم ، مقتول اور مقہور صلاح پر ہونے والے ظلم کا ضرور حساب لے گا ، اپنے ویڈیو پیغام میں حسان نیازی نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صلاح الدین کے قاتلوں کو انجام تک نہیں پہنچائیں گے تو پھر اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے.

  • صلاح الدین قتل،سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید، آر پی او بہاولپور کی ڈھٹائی کہا تشدد نہیں ہوا

    پولیس کی زیر حراست ملزم کی موت کیسے ہو گئی ؟سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے ، دوسری جانب آر پی او بہاولپور ڈھٹائی اختیار کیے ہوئے ہیں کہتے ہیں کوئی تشدد نہیں ہوا، سوشل میڈیا پر صلاح الدین پر تشدد کی تصاویر وائرل ہو چکی ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس تشدد سے صلاح الدین کے مارے جانے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے، پاکستانی قوم سوشل میڈیا پر صلاح الدین پر پولیس تشدد کی شدید مذمت کر رہی ہے اور پولیس میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے تو دوسری جانب آرپی او ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ صلاح الدین پر تشدد نہیں ہوا، حالانکہ تشدد کی ویڈیو اورتصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں.

    آرپی او بہاولپور کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ابھی تک حتمی رائے نہیں دی جا سکتی، صلاح الدین کی ہلاکت کی تحقیقات بورڈ کر رہا ہے،حتمی کچھ نہیں کہہ سکتے ، آر پی اور نے ڈھٹائی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اب تک تشدد کے شواہد نہیں ملے ،وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او رحیم یار خان کو عہدے سے ہٹا دیا ،صلاح الدین کی ہارٹ اٹیک سے ہلاکت ہونے سے متعلق بھی کہنا قبل از وقت ہے

    پولیس تشدد سے صلاح الدین قتل، وزیراعلیٰ کا جوڈیشل کمیشن کے لئے ہائیکوٹ کو خط

    وکیل حسان نیازی کا کہنا ہے کہ صلاح الدین کے پورے جسم پر زخموں کے نشان تھے،وزیراعلیٰ پنجاب نے ابھی تک صلاح الدین کے خاندان سے تعزیت تک نہیں کی،تمام ویڈیوز میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ صلاح الدین پر تشدد کیا گیا ،

    پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے صلاح الدین کیس کا نوٹس لیا ہے،12ستمبر کو متعلقہ افسران کو طلب کررکھا ہے

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او رحیم یار خان کو عہدے سے ہٹا دیا، ڈی پی او کوسنٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.

  • بڑی خبر آ گئی  ڈی پی او رحیم یار خان کوصلاح الدین کیس کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بڑی خبر آ گئی ڈی پی او رحیم یار خان کوصلاح الدین کیس کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا گیا

    حیم یار خان() تفصیلات کے مطابق صلاح الدین قتل کیس کی وجہ سے وزیر اعلی پنجاب نے ڈی پی او عمر فاروق سلامت کو ڈی پی او رحیم یار خان کے عہدے سے معطل کر کے او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے.ایڈیشنل ڈی پی او کا چارج ایس پی انویسٹی گیشن حبیب اللہ خان کو دے دیا گیا.

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

  • یورپ اپنے آپ کو پھانسی نہ چڑھائے ، جواد ظریف نے یورپ کو دھمکی دے دی

    یورپ اپنے آپ کو پھانسی نہ چڑھائے ، جواد ظریف نے یورپ کو دھمکی دے دی

    تہران : ہم نہیں چاہتے کہ یورپ پھانسی کے پھندے پر لٹکے ، اطلاعات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ علاقائی سلامتی کو باہر سے خریدا نہیں جاسکتا۔ دراین اثنا اپنے ایک ٹوئٹ میں وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے یورپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خود کو امریکہ پھانسی گھاٹ سے بچانے کی کوشش کرے۔

    ڈھاکے میں بحر ہند کے ساحلی ملکوں کی تنظیم آئی او آر اے کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ علاقائی سلامتی کو باہر سے درآمد کرنے کا خطے میں فوجی چھاؤنیوں میں اضافہ کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ایران کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ علاقائی سلامتی کو صرف علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے ہی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

    جواد ظریف نے مزید کہا کہ یورپ اپنا مستقبل امریکہ کے (فارن ایسٹس کنٹرول آفس) ہاتھوں گروی نہ رکھے۔ان کا کہنا تھا کہ فارن ایسٹس آفس ہی پورا امریکہ نہیں جبکہ یورپ ابھی تک امریکہ کی اسی دکان پر اجازت لینے کے لیے کھڑا ہے۔

  • پولیس تشدد سے صلاح الدین قتل، وزیراعلیٰ کا جوڈیشل کمیشن کے لئے ہائیکوٹ کو خط

    پولیس تشدد سے صلاح الدین قتل، وزیراعلیٰ کا جوڈیشل کمیشن کے لئے ہائیکوٹ کو خط

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے رحیم یار خان پولیس کے ہاتھوں بدترین تشدد سے ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ کو خط لکھا ہے جس میں صلاح الدین کے پولیس تشدد کے ہاتھوں مارے جانے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا کہا گیا ہے.

    پنجاب پولیس کا تشدد بننے والے مرحوم صلاح الدین کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کی کہ میں اس کیس کی تفتیش رحیم یار خان کی بجائے لاہور سے کروانا چاہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اس کیس کی تفتیش پولیس نہ کرے بلکہ عثمان بزدار خود کریں گے.

    تفصیلات کے مطابق انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مطمئن نہیں اور نہ ہی مجھے رپورٹ کی کاپی دی گئی ہے، اس رپورٹ کا مجھے میڈیا سے پتہ چلا اور میں اسے مسترد کرتا ہوں. ساتھ ہی انہوں نے صلاح الدین پر پولیس تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بہت بےدردی کے ساتھ میرے بیٹے پر ظلم کیا.

    وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے صلاح الدین کے قتل کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ مظلوم ، مقتول اور مقہور صلاح پر ہونے والے ظلم کا ضرور حساب لے گا ، اپنے ویڈیو پیغام میں حسان نیازی نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صلاح الدین کے قاتلوں کو انجام تک نہیں پہنچائیں گے تو پھر اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے.

    ترجمان شیخ زید میڈیکل کالج و ہسپتال نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر صلاح الدین ولد محمد افضال کے پوسٹ مارٹم کے حوالہ سے حقائق سے برعکس رپورٹس چلا کر شیخ زید ہسپتال کی انتظامیہ کی کردار کشی کی جا رہی ہے جبکہ شیخ زید ہسپتال انتظامیہ نے اس بابت کسی قسم کی کوئی رپورٹ جاری نہیں کی کہ صلاح الدین کی موت کس وجہ سے ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صلاح الدین کی موت پولیس تشدد یا کسی بھی وجہ سے قرار دینا قبل از وقت ہے صلاح الدین31اگست2019کو شب9:45پر شیخ زید ہسپتال ایمرجنسی لایا گیا جسے ڈیوٹی پر موجود خلیل اسرار نے ای سی جی کی تو معلوم ہوا کہ صلاح الدین ہسپتال لانے سے قبل ہی فوت ہو چکا تھا،ضابطے کی کارروائی ہونے کے بعد پولیس نے پوسٹ مارٹم کے لئے تحریری طور پر شیخ زید ہسپتال انتظامیہ کو ریکوسٹ کی جس پر صبح1ستمبرصبح6بجے پوسٹ مارٹم کیا گیا ۔میڈیکل بورڈ میں ایم ایس شیخ زید ہسپتال ڈاکٹر غلام ربانی،ڈی ایم ایل او ڈاکٹر مسعود جہانگیر،ڈاکٹر ہارون اور ڈی ایچ او ڈاکٹر حسن شامل تھے۔

    ڈیڈ باڈی سے مختلف اجزاءلیکر فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوا دیئے گئے ہیں جن میں کیمیکل ایگزامینر کو چار نمونے نمبر1معدہ، نمبر 2چھوٹی آنت ، بڑی آنت، نمبر 3تلی، گردہ،جگر،نمبر4سیچوریٹڈسلائنٹ شامل ہیں اسی طرح ہسٹوپیتھالوجسٹ کو بھی 8نمونے بھجوائے گئے ہیں جن میں مکمل دل،پھیپھڑے، دماغ، دائیں ، بائیں بازو سے جلد اور نیچے ٹشو، دائیں ، بائیں کہنی سے جلد اور نیچے ٹشو اور دس فیصد فارمالین وغیرہ شامل ہیںاس کے علاوہ میڈیکل بورڈ کو جسم کے کسی بھی حصے پر شک گزراکہ اس پر کوئی تشدد ہوا ہے تو اس کو سیمپل فرانزک لیبارٹری کو بھجوایا گیا ہے اس لئے میڈیکل بورڈ نے ابھی تک اپنی طرف سے کوئی رائے نہیں دی ہے کہ موت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔جب تک فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ نہیں آ جاتی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

    جبکہ کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا پر نشر کیا جا رہا ہے کہ شیخ زید میڈیکل بورڈ نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ صلاح الدین کی موت پولیس تشدد سے واقع نہیں ہوئی ۔اس پر شیخ زید ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا جاتا ہے کہ شیخ زید ہسپتال انتظامیہ نے ایسی کوئی رپورٹ جاری نہیںکی ۔ایک ماہ تک فرانزک رپورٹ آجائے گی جس سے واضح ہوجائے گا کہ صلاح الدین کی موت کی اصل وجہ کیا ہے لہذا اس طرح کسی کو مورد الزام ٹھرانا کسی صورت مناسب نہیں ہے جو ادارے اور انتظامیہ کی کردار کشی کا باعث بنے۔

  • خبردار : ڈرائیور غلطی نہ کریں ورنہ ڈرون پکڑلیں گے ، نئی ٹیکنالوجی نے تہلکہ مچادیا

    خبردار : ڈرائیور غلطی نہ کریں ورنہ ڈرون پکڑلیں گے ، نئی ٹیکنالوجی نے تہلکہ مچادیا

    سپین : خبردار غلطی نہ کرنا ورنہ ڈرائیورز کو ڈرون پکڑلیں گے اور پھر ہوا بھی ایسے ، اطلاعات کے مطابق یورپی ملک سپین میں دورانِ ڈرائیونگ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیورز کو پکڑنے کے لیے ڈرون میدان میں آ گئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی ملک سپین کے جزیرے کینری میں پولیس کی جانب سے ڈرون کا استعمال شرع کر دیا گیا ہے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پرنظر رکھیں گے اور ساتھ ساتھ اوور ٹیکنگ اور گاڑیوں کے درمیان کم فاصلہ رکھنے جیسی غلطیاں کرنے والے ڈرائیورز کو قانون کی پکڑ میں لائیں گے۔

    خبر رساں ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ٹریفک کنٹرول کے نئے طریقہ کار میں پولیس اہلکار کیساتھ ایک ساتھی ہوگا جو ڈرون کو چلانے کے اپنے فرائض انجام دیگا۔ ڈرون سے حاصل کی گئی تصاویر کو دیکھ کر تمام معلومات موٹر سائیکل ٹریفک پولیس کو دیگا جو خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیور کو روک سکے گا۔

    یاد رہے کہ اسپین میں شروع ہونے والے اس نئے طریقہ کار کے ذریعے اب تک کئی ڈرائیورز کو پکڑا گیا ہے جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے چالان بھی وصول کیا گیا ہے

  • جب مسلمانوں پر ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو کیا اقوام عالم کی انسانیت دم توڑ دیتی ہے؟ وزیراعظم

    جب مسلمانوں پر ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو کیا اقوام عالم کی انسانیت دم توڑ دیتی ہے؟ وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب مسلمان مارے جاتے ہیں تو کیا عالمی دنیا کی انسانیت مر جاتی ہے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے کرفیو کا آج بتیسواں واں دن ہے۔ بھارتی فوج محاصرے میں کشمیریوں کو شہید اور زخمی کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ادویات ناپید ہو چکی ہیں جبکہ مواصلاتی بلیک آؤٹ سے کشمیری اپنوں اور دنیا سے کٹ چکے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ آج مودی سرکار کی غاصب بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے محاصرے کا 32واں روز ہے۔اسکی آڑ میں بھارتی فوجی کشمیری مردوں/عورتوں/بچوں کو (چھروں والی بندوقوں سے) زخمی اور بے آبرو کرنے کیساتھ قتل کرچکے ہیں۔ کشمیری مردوں کو اٹھا کر ہندوستان بھر کی جیلوں میں پھینکا جاچکا ہے۔

    ایک اور ٹویٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں طبی سہولیات ختم، بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے مگر مواصلات پر تالہ بندی سے اہل کشمیر کی آواز بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روک کر انہیں اپنے خاندانوں سے کاٹا جا چکا ہے۔ اسکے باوجود خوفناک داستانوں کی بازگشت بین الاقوامی میڈیا میں سنائی دے رہی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کی بھارت کے ہاتھوں پامالی دنیا کے سامنے ہے۔ جب مسلمانوں پر ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو کیا اقوام عالم کی انسانیت دم توڑ دیتی ہے؟ دنیا بھر میں بسنے والے 1.3 ارب مسلمانوں کو کیا پیغام دیا جارہا ہے؟

    وزیراعظم عمران خان کا ایک اور ٹویٹ میں کہنا تھا کہ اقوام عالم 1938 میں میونخ کیطرح اب محض لاعلمی کا بہانہ نہیں تراش سکتیں۔ ہندوبالادستی کے نظریے میں گندھی فاشسٹ مودی سرکار کے مقبوضہ جموں و کشمیر، خود بھارت (آسام وغیرہ) اور آزاد جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کے مکروہ عزائم پوری دنیا پر آشکار ہو چکے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا ہے جس میں کل یوم دفاع کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں وہ کل مظفر آباد میں کشمیری شہداء کی یاد میں ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کل مظفر آباد جائیں گے، وزیراعظم کل مظفرآباد میں کشمیری شہداسے متعلق تقریب سے خطاب کریں گے، وزیراعظم نے 6 ستمبر کو یوم دفاع کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر منانےکافیصلہ کیاہے، اس حوالے سے وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ کل ملک بھر میں کشمیریوں سے بھرپور اظہاریکجہتی کیا جائے، انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومتوں میں خصوصی تقریبات منعقد کی جائیں جس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے جبکہ پاکستان بھر کے عوام یوم دفاع پر شہداء کے خاندانوں کے پاس پہنچیں،

    واضح رہے کہ امسال چھ ستمبر یوم دفاع کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق 6 ستمبر جمعہ کو یوم دفاع کے ساتھ کشمیریوں سے یکجہتی کا دن ہو گا، ملک بھر کے تمام دفاتر دن 3 بجے کے بعد بند رہیں گے، اس سلسلہ میں وزارت داخلہ نےنوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے،

  • سچ کہہ رہا ہوں کہ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے: سابق امریکی وزیر دفاع نے بڑا بیان دے دیا

    سچ کہہ رہا ہوں کہ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے: سابق امریکی وزیر دفاع نے بڑا بیان دے دیا

    واشنگٹن : ہم سے کوئی پوچھے کہ دنیا میں سب سے خطرناک ملک کون سا ہے تو ہم بتائیں گے کہ دنیا میں پاکستان سب سے خطر ناک ملک ہے ، اطلاعات کے مطابق امریکہ کے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستان کو “دنیا کا خطرناک ترین ملک” قرار دیا ہے۔

    امریکہ کے سابق وزیردفاع نے پاکستان کے حوالے سے ایک کتاب تحریر کی ہے ، جیمز میٹس کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب “کال سائن کیوس” میں انہوں نے پاکستان کے معاشرے میں بنیاد پرستی، جوہری ہتھیاروں میں اضافے سمیت مختلف امور کا ذکر کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق روس کے نشریاتی ادارے ‘آر ٹی’ کے مطابق ‘کال سائن کیوس’ میں جیمز میٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی حکومت خطے کی سیاست کو بھارت سے دشمنی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔افغانستان کا حوالہ دے کر انہوں لکھا کہ پاکستان کی حکومت سمجھتی ہے کہ کابل میں ہم خیال و دوستانہ حکومت کے قیام سے بھارت کا خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ روکا جا سکے گا۔

    جیمز میٹس کتاب “کال سائن کیوس” میں مزید لکھتے ہیں “میں نے جتنے بھی ممالک سے معاملات طے کیے اُن میں پاکستان کو سب سے خطرناک سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ اُس معاشرے میں بنیاد پرستی کے علاوہ ان کے پاس جوہری ہتھیار بھی موجود ہیں۔”انہوں نے لکھا کہ دنیا میں جوہری ہتھیار تیزی سے بڑھنے نہیں دیے جا سکتے، اگر وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں گئے تو اس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔

    جمیز میٹس نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر پاکستان اور امریکہ کی فوج کے تعلقات کا ذکر کیا ہے تاہم انہوں نے سیاست دانوں کے حوالے زیادہ مثبت رائے کا اظہار نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے سابق وزیر دفاع کی کتاب ایسے وقت شائع ہوئی ہے جب امریکی حکومت افغانستان میں امن عمل میں پاکستان پر سب سے زیادہ انحصار کر رہی ہے۔جیمز میٹس نے کتاب میں مزید لکھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے مسائل حل کر سکتے تھے مگر ان مسائل کے حل کے لیے ہمارے درمیان اختلافات بہت گہرے تھے اور اعتماد کی بھی شدید کمی ہے۔

    سابق امریکی وزیردفاع اپنی کتاب “کال سائن کیوس” میں پاکستان کی فوج کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے پاکستان کی فوج کا جانی نقصان سرحد پار افغانستان میں لڑنے والی نیٹو اور اتحادی فوج کے مقابلے میں زیادہ ہوا ہے

    یاد رہے کہ امریکی فوج میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد 66 سالہ جیمز میٹس جنوری 2017 سے جنوری 2019 تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں بطور وزیر دفاع بھی کام کرچکے ہیں۔افغانستان سمیت مختلف امور پر اختلافات کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ مبصرین کے مطابق فوج میں اُن کی طویل عرصے تک خدمات کے باعث اُن سے توقعات بھی بہت زیادہ تھیں۔

  • دفاع کے حوالہ سے فوج پر اعتماد البتہ یہ…..ان کا جاب نہیں.نون لیگ کا شکریہ، مولانا فضل الرحمان

    دفاع کے حوالہ سے فوج پر اعتماد البتہ یہ…..ان کا جاب نہیں.نون لیگ کا شکریہ، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 18 ستمبر کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کا اعلان کریں گے، امید ہے اپوزیشن ساتھ چلے گی، نواز شریف کی طرف سے پیغام ملا ہے کہ مسلم لیگ ن شریک ہو گی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں گرفتاریوں سے مت ڈرایا جائے، ہم نے فرسٹ، سیکنڈ اور تھرڈ پلان مرتب کر لیا ہے، 18 ستمبر کو اسلام آباد کے گھیراؤ کا اعلان کریں گے. امید کرتے ہیں پیپلز پارٹی بھی مارچ کا حصہ بنے گی، کیپٹن ر صفد نے نواز شریف سے ملاقات کے بعد فون کیا اور بتایا کہ نواز شریف نے پارٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ مارچ میں شریک ہوں ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے کشمیر اور اسرائیل کے حوالہ سے پالیسی بیان کو سراہتے ہیں، دفاع کے حوالہ سے ہم فوج پر اعتماد کرتے ہیں، البتہ معیشت ان کا جاب نہیں اسلئے اس میں دخل اندازی نہ کی جائے.

    ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ استعفوں سمیت دیگر آپشنز پر آزادی مارچ کے بعد غور کرینگے۔

    وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ فضل الرحمان نےاسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی تو لوگ انھیں خود روک لیں گے ، وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے ان کو سہولیات دی جائیں گے ، کیٹینر اور پانی بھی فراہم کریں گے لیکن اگر قانون ہاتھ میں لیا گیا تو روکیں گے

    مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ تاجر، وکلا، مزدور سمیت کوئی بھی شخص اس نا اہل حکومت سے خوش نہیں، موجودہ حکومت نے غریب عوام کا جینا محال کردیا ہے، اکتوبر میں کارکنان پرُ امن طور پر اسلام آباد کا رخ کریں ، اکتوبر میں حکومت مخالف دھرنے میں کارکنان کو تیاری سے آنے کی ہدایات کی گئی ہے،

    واضح‌ رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کشمیر کے حوالہ سے کوئی مضبوط کردار دیکھنے میں نہیں‌ آیا ہے حالانکہ وہ کشمیر کمیٹی کے متعدد مرتبہ چیئرمین رہ چکے ہیں اور ان کی وزارت پر کروڑوں‌ روپے کے اخراجات آتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے اس بات پر سخت تنقید کی جارہی ہے کہ وہ کشمیر کیلئے کو کچھ کر نہیں‌ رہے، جمعہ کے دن یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھی انہوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن حکومت کے خلاف وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور دھرنا دینے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں،

    اسلام آباد میں بلاول زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس اے پی سی کے بعد چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی جس میں اپوزیشن جماعتوں کو ناکامی ہوئی، بعد ازاں ایک اور اے پی سی ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد مارچ کریں گے،اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں.

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.