Baaghi TV

Author: +9251

  • آر ایس ایس ہی سب کچھ ہے

    آر ایس ایس ہی سب کچھ ہے

    ایک عجیب امر ہے, آج کل جس کو دیکھو وہی بی.جے.پی کی محبت میں سرشار ہے, کیا قائدین, کیا عوام, سب کو لگتا ہے کہ ابھی تک آر.ایس.ایس کی مخالفت بیکار میں کی گئی, اس سے اچھی, سلجھی, بہتر اور وطن پرست تنظیم بھلا اور کہاں, کل تو تک جو لوگ ببانگ دہل اسٹیجوں پر چیخ و پکار کیا کرتے تھے, وہ آج مخالفت کو ترک کرنے کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں, اچھا, اچھی بات ہے, مخالفت ترک کردینی چاہئے, مذاکرت کی راہ اپنانی چاہئے, لیکن مذاکرات کرنے سے پہلے کیا کوئی اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ آر.ایس.ایس گوالکر کو اپنا رہنما اب تسلیم نہیں کرے گی؟ گوڈسے کے افکار و نظریات سے پلڑا جھاڑ لے گی؟ جن اصولوں پر آر.ایس.ایس قائم ہے اس سے سمجھوتہ کرلے گی؟

    شاید شکست خوردہ قوم اسی طرح ہوتی ہے, جسمانی شکست خوردگی ہوتی تو سنبھال بھی لیتے, ہم سب تو ذہنی شکست خوردگی کے شکار ہیں, اور یہ ذہنی شکست خوردگی بھی کیوں؟ کچھ لوگوں کے مفاد جڑے ہوئے ہیں, اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں کھڑے ہوں گے تو ان کے مفادات کو نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہے, ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک مہینے سے ایک اسٹیٹ کو جیل خانہ میں تبدیل کیا گیا ہے, مگر کوئی آواز سنائی بھی نہیں دیتی؟ آخر یہ ڈر کیسا ہے؟ ہزیمت زدہ لوگوں کی نفسیات انہیں Resistance سے روکتی ہے, حق کی حمایت اور ظلم کی مخالفت سے ڈراتی ہے, ایران توران کا معاملہ ہو تو بڑی بڑی باتیں کی جائیں, اور گھر میں ظلم ہو تو چپی سادھ لی جائے؟

    یہ بات ذہن نشین کرلیجئے, کہ آر.ایس.ایس کو آپ سے نہیں پرابلم ہے, اسے کوئی تکلیف نہیں, کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ہندوستان میں جس طرح سے مسلمان بکھرے پڑے ہیں, انہیں ختم کیا جانا اس قدر آسان بھی نہیں, پھر وہ چاہتی کیا ہے؟؟ اقتدار نا؟ ہاں, اقتدار ہی, وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے, وہ آپ کی مشارکت نہیں چاہتی, وہ آپ کو برابر کا شئیر نہیں دے سکتی, ہاں بطور ملازم اور نوکر آپ کو ضرور ہائر کرسکتی ہے, آپ کو کیرلا کا گورنر ضرور بنا سکتی ہے, مگر آپ کی حیثیت چپراسی سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی, آپ اپنی قوم کی سوشل Upliftment کے لئے کچھ نہیں کرسکتے, اور اگر جمہوریت میں آپ کا شئیر ہی ختم ہوجائے تو پھر کیا پڑی ہے کہ آپ کو دشمن سمجھا جائے, یقین مانئے اگر آپ ہندو راشٹر کو تسلیم کرلیں یا پھر اس بات پر راضی ہوجائیں کہ حکومت ہمیشہ آر.ایس.ایس کی رہے گی تو آپ کو کبھی ستایا نہیں جائے گا, ساری لڑائی بس پاور کے لئے, جس دن آپ یہ تسلیم کرلیں گے, آپ کے اوپر سے ظلم و ستم بند کردیا جائے گا, مگر کیا پھر آپ اس وقت آزاد تصور کئے جاسکیں گے؟ کیا آپ کی حالت اس پنچھی کی طرح نہیں ہوگی جس کو دو وقت کا کھانا تو ضرور دیا جاتا ہے مگر وہ کھلی فضاؤں میں سانس نہیں لے سکتا, کیونکہ یا تو اس کے پر کتر دئیے گئے ہوتے ہیں, یا پھر وہ پنجرے میں بند ہوتا ہے.

    ہمیشہ تاریخ کے پنوں نے یہی دیکھا ہے کہ قوموں کی مغلوبیت کے ایام میں قوم فروشوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے, بکنے والے تھوک بھاؤ میں مارکیٹ میں نظر آنے لگتے ہیں, چند سکوں کے عوض قوم کے ان جانبازوں کو بھی گروی رکھ دیتے ہیں کہ جن سے قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے, ایسے ایسے لوگ میر و جعفر میں تبدیل ہوجاتے ہیں کہ جن کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ کم سے کم وہ تو سرفروشی کی راہ کو اختیار کریں گے, آج کل یہی ہورہا ہے, ہر کوئی بک رہا ہے, بی.جے.پی دام لگائے جارہی ہے, اور لوگ ردیوں کے بھاؤ بک رہے ہیں, اتنی تو کم اوقات نہیں تھی ان کی, مگر کیا ہی کرسکتے ہیں, جس طرح میڈیا کا کام ہوتا ہے اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھنا, اسی طرح اقلیتوں کا بھی کام ہوتا ہے کہ اپنے اندر Resistance کو بھاؤنا کو جگانے رکھنا, اکثریت کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دینا, اپنی شناخت کو بچائے رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنا, کیونکہ ادھر جھکے, ادھر انہیں خوش کرنے کے لئے مندروں تک میں جھکنا پڑے گا, کیونکہ اصل گلہ تو آپ کی توحید پرستی سے ہی ہے, آپ کے محض ایک ہی دین کو صحیح سمجھنے سے ہی ہے.

    نادانوں سے کیا گلہ کرنا, گلہ تو ان سے ہے کہ جن کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ یہی راہ دکھانے والے لوگ ہیں, یہی ظلمت و تاریکی میں روشنی کی طرف لے جانے والے ہیں, کہ جب سب ساتھ چھوڑ جائیں گے تو بھی یہ پامردی دکھلائیں گے, یہ جھکیں گے نہیں, یہ ٹوٹیں گے نہیں, مگر وہی لوگ پالا بدل رہے ہیں, وقت سے پہلے ہی ان پر خوف اس طرح طاری ہے کہ کبھی کسی دربار میں حاضری دے رہے ہیں, کبھی کسی دربار میں, اور ان کی تعداد ہے کہ دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے, میری مراد اکیڈمیشینز ہیں, پڑھے لکھے لوگ ہیں, کہ جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مدرسوں سے پڑھے ہیں اور عصری تعلیم یافتہ بھی ہیں, کہ جن کا فیلڈ اردو, عربی, اسلامیات یا دیگر سبجیکٹس ہیں, وہی لوگ بک رہے ہیں, اور شاید سب سے زیادہ بک رہے ہیں, باوجود یکے کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں, وہ آر.ایس.ایس کی تاریخ سے واقف ہیں, جو بی.جے.پی کی مسلم دشمنی سے آشنا ہیں, مگر وہ ہیں کہ چاٹوکارِتا کی انتہا کو پار کئے جارہے ہیں, محض اس لئے کہ کہیں ان کو لیکچرر بنا دیا جائے گا, آر.ایس.ایس کی چھتر چھایہ کی وجہ سے جلد از جلد ان کا مستقبل سنور جائے گا, بکنے کی ایک عجب ہوڑ لگی ہوئی ہے, سامنے ذاتی مفاد ہے, مگر دلائل حکمت کے دئیے جارہے ہیں, امت کے حق میں ایک بہتر فیصلہ بتایا جارہا ہے, امت کے حق میں بہتر ہو نہ ہو, شاید ان کے ان کے حق میں ضرور بہتر ہوگا, کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اکیڈمکس میں رومیلا تھاپر سے سی.وی طلب کیا جارہا ہے, اور للو پنجؤوں کو محض سیاسی چاٹوکارِتا کے بنا پر سیٹیں عنایت کی جارہی ہیں, سو صلاحیت تو اتنی بنائی نہیں, کہ اپنے راستے خود بنا سکیں, لے دے کے بس امت کی دہائی دے کر اپنے مفاد کے لئے راہیں ہموار کرنی ہیں.

    جے.این.یو میں اسٹوڈنٹس کا الیکشن قریب ہے, اب کی بار کا منظر تھوڑا سا بدلا ہوا ہے, بہت سارے سو کالڈ مسلمان طلباء اے.بی.وی.پی کا پرچار کررہے ہیں, اور پرچار بھی اس جوش و خروش کے ساتھ کہ شاید اے.بی.وی.پی بھی اتنی جوش نہ دکھا پائے, بھارت ماتا کے نعروں کے ساتھ ساتھ راج تلک کی کرو تیاری, اب کی بار بھگوا دھاری جیسے نعروں تک, افف غیرت کہاں ہے؟ وجہ صرف اتنی ہے کہ آقاؤں کی نظر میں ثابت کیا جاسکے کہ کس قدر وفادار ہیں ہم آپ کے, آپ جلد از جلد ہمیں کوئی عہدہ دیجئے, کسی حقدار کا حق مارئیے, ہمیں جگہ عنایت کیجئے, جیسے کہ اس سے پہلے آپ نے فلاں فلاں کو عطا کیا, ان کی بے لوث وفاداری کے سبب, ورنہ وہ اس قابل نہ تھے کہ ان کو پروفیسرشپ عطا کی جاتی, سو جیسے وہ تھے, ویسے بھی ہیں, نظر کرم ہم پر کیجئے, نظر کرم ہوجائے گی, لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے, تاریخ پھر دہرائے گی, جیسے انگریزوں کی حمایتیوں کو آج غدار لکھا جارہا ہے, ویسے کل آر.ایس.ایس کے چاٹوکاروں کو بھی غدار لکھا جائے گا, اس وقت آپ کے بارے میں لکھا جائے گا کہ جب ایک آئی.ایس آفیسر صرف اس وجہ سے استعفی دے رہا تھا تاکہ کل کو یہ نہ اس سے پوچھا جائے کہ جب اسی لاکھ لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی,تو آپ کیا کررہے تھے, اس وقت کچھ لوگ تھے جو تلوے چاٹ رہے تھے, نہایت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے, اپنے آقاؤں سے اتنی بھی گزارش نہیں کرپا رہے تھے کہ کم سے کم انسانیت کے ناطے ان لاکھوں لوگوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت دے دی جائے.

    کس خوش فہمی میں جی رہے ہیں لوگ, مذاکرات کرو, ضرور کرو, مگر ایک وقار کے ساتھ, اس میں عزت بھی ہو, اس میں اپنی شرطیں بھی ہوں, گر کر ذلالت کے ساتھ نہیں, دوسرے درجے کے شہری کے طور پر نہیں, آپ اس ملک کے اتنے ہی حقدار ہو جتنے وہ ہیں, کورس آف ایکشن بناؤ, ہر مسئلے کے لئے قانونی لڑائی لڑو, اگر آپ اس طرح مذاکرات پر راضی ہوجائیں گے کہ وہ جو چاہیں کریں, یا وہ جو کہیں آپ کریں, وہ کہیں تو آپ اپنے دین و ایمان کی فکر کئے بنا بھی غیر اسلامی نعرے لگائیں, وہ کہیں تو آپ مندروں میں بھی جھک جائیں, وہ کہیں تو آپ نہ کچھ دیکھیں, نہ کچھ سنیں, تو پھر آپ کس بنیاد پر ان لوگوں کو انگریزوں کا دلال یا غدار کہوگے جو ان کے ساتھ تھے, یا جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لینے کے بجائے صلح کے راستے کو اپنایا, آخر آج جو مصلحت آپ کے سامنے ہے, کل ان کے بھی سامنے رہی ہوگی, آج اگر آپ کو لگتا ہے کہ آر.ایس.ایس کے ساتھ مل جانے میں ہی لانگ ٹرم میں بھلائی ہے, تو پھر انہیں بھی لگتا رہا ہوگا کہ انگریزوں کے ساتھ مل جل کر رہنے میں ہی بھلائی ہے, تو پھر یہ پندرہ اگست کی ڈھکوسلے بازیاں کیونکر؟ یہ مجاہدین آزادی کے واقعات سنا سنا کر جوش و جذبات سے لوگوں کو بھر دینا چہ معنی دارد؟ جب کہ آپ کے اندر مزاحمت کی ذرہ برابر بھی رمق نہیں؟ "شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر” جیسے محاوروں سے تو اپنی حق وراثت کو ترک کردینی چاہئے کہ جب آپ ظلم پر زبان کھولنا تو دور کی بات, اپنی خاموشیوں سے ظلم کی حمایت بھی کرتے ہیں.

    تحریر:عزیر احمد ، نیو دہلی

  • میرے ابو ابھی زندہ ہیں‌،عابد علی کی بیٹی نے والد کی موت کی افواہوں کی تردید کردی

    میرے ابو ابھی زندہ ہیں‌،عابد علی کی بیٹی نے والد کی موت کی افواہوں کی تردید کردی

    کراچی:میرے ابو ابھی زندہ ہیں ، جھوٹی افواہیں پھیلانے والوں کواللہ سے ڈرنا چاہیے ، آخر سب نے مرنا ہے ، نامور پاکستانی اداکار عابد علی کی بیٹی راحمہ علی نے اپنے والد کی موت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے والد زندہ ہیں ان کی موت سے متعلق جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جب تک وہ زندہ ہیں انہیں زندہ رہنے دیاجائے۔

    ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پرعابد علی کی موت کی جھوٹی افواہیں گردش کرنے لگیں جس پر عابد علی کی چھوٹی بیٹی راحمہ نے والد کی موت کی جھوٹی افواہیں پھیلانے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میرے والد زندہ ہیں ان کی موت سے متعلق جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں،

    یاد رہے کہ پاکستان ٹی وی انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار عابد علی ان دنوں شدید علیل ہیں اور اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ ان کی بیٹیوں ایمان علی اورراحمہ علی نے سوشل میڈیا پر لوگوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے والد کی حالت تشویشناک ہے لہٰذا ان کی جلد صحت یابی کی دعا کریں۔

  • جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!! تحریر: میر محسن الدین

    جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!! تحریر: میر محسن الدین

    آپ تک میری کہانی پہنچ چکی ہوگی۔
    ہوا یہ کہ میں نے دکھوں کے مارے اس معاشرے کو کچھ تفریح دینے کا سوچا ۔
    میرا تو ذہن بھی ٹھیک سے کام نہیں کرتا مگر پھر بھی اتنا سوچ لیا۔

    میں نے کیمرے میں منہ چڑایا اور اے ٹی ایم کھول کر اپنا پھنسا ہوا کارڈ نکالا۔
    میری بھولی بھالی شکل اور معصوم شرارت نے بہت سوں کو محظوظ کیا۔
    وزیر اعظم صاحب میں چور نہیں تھا، اگر میں چور ہوتا تو پیسہ نکال کر پولیس کو اسکا حصہ تھما دیتا اور خود عیش کرتا لیکن بدقسمتی یہ کہ میں چور نہیں تھا۔
    مجھے بس مذاق سوجھی تھی لیکن اس کی سزا آپ ہی کی ماتحت پولیس نے مجھے یہ دی کہ میری کھال چھیر دی، ادھیڑ دی، مجھے چاقو گھونپ دئیے، مجھے جسم کے نازک حصوں پر سریوں سلاخوں سے مارا اور میرے ننگے بدن پر گرم استری لگا لگا کر جلا کر مار دیا…

    عمران خان صاحب!!
    ایک سوال کروں؟
    آپ نے مدینہ کی ریاست اور انصاف کی بات کرکے عملی کوئی ایکشن نہ کرنا کہاں سے سیکھا؟
    آپ نے ساہیوال واقعہ کے قاتلوں کو نشان عبرت بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں سب بھلا دیا اور سب وہی پرانا چلنے لگا۔
    اگر واقعی آپ ایسا کرتے تو شاید آج میں بچ جاتا۔
    آپ نے خالی خولی وعدوں پر آنکھوں میں دھول جھونکنا کہاں سے سیکھا؟

    جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب!!
    میں نے حوالات میں پولیس سے بس یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا جس پر وہ درندوں کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے۔
    کیا یہ میں نے کوئی جرم کیا؟
    میں نے تو اسی قانون کی بات کی جو آپ نے پڑھا کہ حوالات اور جسمانی ریمانڈ میں پولیس کو مارنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
    چیف جسٹس صاحب!! ایک سوال کرسکتا ہوں کہ آپ نے قانون کی اتنی سنگین پامالی پر خاموش رہنا کہاں سے سیکھا؟

    جناب آرمی چیف قمر باجوہ صاحب!!
    میرے متعلق آپ کو بھی علم ہوا ہوگا۔
    ایک سوال آپ سے بھی کرونگا۔
    آپ ملک میں جب باقی معاملوں تماشوں میں ان رہ سکتے ہیں۔
    جب آپ کرکٹ تک میں کردار رکھ سکتے ہیں، آپ کے ماتحت ادارے ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں تو پولیس میں میرے قاتلوں کو نظر انداز کرنا آپ نے کہاں سے سیکھا؟

    میرے عوام تو میرے لئے بول رہے ہیں، میرے سوال آپ ملک کے اختیار و اقتدار والوں سے ہیں.. میری جلی کٹی لاش آپ ریاست کے بڑوں کا منہ چڑا رہی ہے۔
    کیا آپ مجھے اور میرے ملک کے لوگوں کو جواب دے سکتے ہو؟؟

    فقط آپکا صلاح الدین

  • انگلش ٹی 20 لیگ: ناک آؤٹ مرحلے کے میچز کب کھیلے جائیں گے

    انگلش ٹی 20 لیگ: ناک آؤٹ مرحلے کے میچز کب کھیلے جائیں گے

    لندن (اے پی پی) انگلش ٹی 20 لیگ کے کوارٹر فائنل مرحلے کا آغاز بدھ سے ہوگا.

    تفصیلات کے مطابق انگلش ٹی 20 کرکٹ لیگ کے کوارٹر فائنل مرحلے کا آغاز بدھ سے ہوگا۔ ٹورنامنٹ کا پہلا کوارٹر فائنل بدھ کو کھیلا جائے گا۔ 5 ستمبر کو دوسرا کوارٹر فائنل، تیسرا کوارٹر فائنل 6 ستمبر کو جبکہ 7 ستمبر کو چوتھا اور آخری کوارٹر فائنل کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کے دونوں سیمی فائنلز اور فائنل 21 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 31 واں دن ، ظلم وتشدد جاری و ساری

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 31 واں دن ، ظلم وتشدد جاری و ساری

    سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جبر کا آج 31 واں روز ہے، مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہیں، کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئیں، ادویات کی قلت کا سامنا ہے، مسلسل ایک ماہ کے کرفیو سے زندگی عذاب بن گئی، سری نگر سمیت تمام بڑوں شہروں میں جگہ جگہ بھارتی فوج دندنا رہی ہیں۔کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث پوری وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سری نگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھی بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے، دلی سے سری نگر واپس جانے پر انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق سری نگر کے مئیر نے کہا بہت بڑی حقیت ہے کہ موبائل فون سروس کام نہیں کر رہی ہے، انٹرنیٹ بند ہے، ڈائلسز کے مریض ہیں، لوگوں کو کیموتھراپی کی ضرورت ہے، وہاں پر حاملہ خواتین مشکلات کا شکار ہیں، یہ بالکل غیر حقیقی ہے کہ کوئی بھی کہے کہ صورت حال معمول کے مطابق ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا وادی یہی کچھ جاری رہا تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

    بھارت کے ہر قسم کے جبر کے سامنے کشمیریوں‌ کا حوصلہ بلند ہے. نوجوان بھارتی فوج کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ مظاہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کر کے آزادی کے حق میں‌ نعرے بازی کی اور پتھراو کر کے بھارتی درندوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔کرفیو لاک ڈاؤن، مواصلاتی رابطے بند، خوارک اور ادویات کی کمی، بھارت کے ٖہر طرح کے غاصبانہ حربوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کےمطابق دس ہزار سے زیادہ گرفتار افراد میں سے چار ہزار پانچ سو کشمیریوں پر بدنامہ زمانہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
    انسانیت سے عاری قابض بھارتی فوج نے خواتین اور بچوں کو آنسو گیس اور پیلٹ گن سے نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کا رات گئے کشمیریوں کا کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اب تک دس ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کےمطابق قابض فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں بارہمولا میں ایک نوجوان کو شہید کر دیا۔ 5 اگست سے اب تک 500 چھوٹے بڑے مظاہرے ہوچکے ہیں۔ بھارتی فوج کی فائرنگ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شیلنگ سے سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، حکومتی اہلکار کے مطابق اب تک56 افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے ہیں

  • جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟ تحریر: ابوبکر قدوسی

    جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟ تحریر: ابوبکر قدوسی

    جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟
    ہاں اس کا سر کچھ کچھ غرور سے اور کچھ فخر سے اٹھ رہا ہو گا اور پھر میٹھی سی مسکان اس کے لبوں کے کونوں سے آزاد ہونے کو مچل مچل جاتی ہو گی ….. لیکن آج اس ماں نے جب اسی بیٹے کے جسم کو دیکھا ہو گا تو کس طرح ٹوٹ کا چاہا ہو گا کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہوتا ..
    ہاں وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کو آج یہ وحشت نہ دیکھنا پڑتی –
    وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کا یہ زخم زخم بدن ماں کو دیکھنا نہ پڑتا –
    کہتے ہیں کہ اس نے اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چوری کیا ، بھلے کیا ہو ، لیکن ہاتھ کاٹ دیتے یہ کیا کہ رگ جان ہی کاٹ دی – تھانے میں تشدد کر کے اس کو قتل کیا گیا – بعد میں کہا گیا کہ دل کا دورہ پڑ گیا – کیسی عجیب بات ہے کہ حرام کھا کھا کے لوگوں کی زندگیوں کو حرام کرنے والے ان حرام خوروں کو دل کے دورے نہیں پڑتے ، لیکن ان کے تھانوں میں جا کے سوکھے سڑے غریبوں کا کولسٹرول لیول راتوں رات ایسا ہو جاتا ہے کہ کہتے ہیں "دل کا دورہ پڑ گیا ” پھر ڈاکٹر روپورٹ بناتے ہیں کہ جی کوئی تشدد کا نشان نظر نہیں آیا –
    لیکن اس کے گھر والوں نے اس کی میت کی تصویر لے کے نشر کر دیں …
    تن ہمہ داغ داغ شد
    کی تصویر ، زخم زخم وجود بتا رہا تھا کہ انصاف بھی اندھا تھا اور مسیحا بھی –
    عمران خان صاحب کو کوئی جا کے صرف اتنا بتا دے کہ :
    خان صاحب ! آپ کی حکومت میں بھی ظلم کرنے والے آزاد ہیں ، بااختیار ہیں ، جسے چاہے قتل کر دیتے ہیں – اب آپ سیدنا عمر کی مثالیں اور مدینے کی ریاست کے بھاشن دینا چھوڑ دیں ….کیونکہ اب لوگ یقین نہیں کرتے –
    چھوڑیے خان صاحب اس کی لاش کی ، تشدد زدہ جسم کی تصویریں آپ کو کیا دکھائیں …لیجئے یہ تصویر دیکھئے ، مگر میری نظر سے –
    یہ صلاح الدین ہے ، اے ٹی ایم مشین میں کھڑا ہے اور اس کو معلوم ہو گیا ہے کہ آپ کیمرے کے پیچھے اسے دیکھ رہے ہیں ..ہاں یہ کہہ رہا ہے کہ خان صاحب ، آپ کی باتوں پر ، آپ کے نعروں پر ، آپ کے دعووں پر اور آپ کی مبینہ ریاست پر ………..ہوں ہوں ہوں …….

  • "بریگزٹ” میں توسیع کی درخواست نہیں کروں گا، بورس جانسن

    "بریگزٹ” میں توسیع کی درخواست نہیں کروں گا، بورس جانسن

    لندن :برطانیہ ایک بار پھر مشکل میں‌، برطانوی وزیر اعظم نے ایک بار پھر بریگزٹ منصوبے پر علمدرآمد کا عزم ظاہر کیا ہے۔بورس جونسن کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ آئندہ ہونے والے مذاکرات میں بریگزٹ کے بارے میں اتفاق رائے ہوجائےگا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں یورپی یونین سے بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع کی درخواست نہیں کریں گے۔

    قابل ذکر ہے کہ باون فی صد برطانوی شہریوں نے جون دوہزار سولہ میں ہونے والے ریفرنڈم میں اپنے ملک کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ میں دیے تھے۔
    بریگزٹ معاہدے کے بارے میں برطانیہ کی حزب اختلاف اور یورپی یونین کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وزرائے اعظم کو استعفی بھی دینا پڑا ہے۔

  • سری لنکا کا دورہ پاکستان مشکل میں پڑگیا

    سری لنکا کا دورہ پاکستان مشکل میں پڑگیا

    کولمبو: سری لنکا کے متعدد پلئیرز نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کردیا ہے.

    تفصیلات کے مطابق دورہ پاکستان کے حوالے سے سری لنکا کرکٹ بورڈ اور پلیئرز میں اختلاف پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، اگر یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل نہیں ہوا تو کچھ کھلاڑیوں کو مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سری لنکن میڈیا کے مطابق بورڈ نے پلیئرز سے مشاورت کیے بغیر ہی دورے پر حامی بھری، متعدد سینئر کھلاڑی پاکستان نہ جانے کے بارے میں اپنا پیغام حکام تک پہنچا چکے ہیں۔ ان میں ایک روزہ ٹیم کے کپتان ڈیموتھ کرونا رتنے بھی شامل ہیں، اسی طرح ٹوئنٹی 20 کپتان لسیتھ مالنگا کا بھی ٹورنگ پارٹی کا حصہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ سری لنکا کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں 3 ہفتوں پر محیط ٹور پر رضامندی ظاہر کی ہے، اس دوران سری لنکا کراچی اور لاہور میں 6 انٹرنیشنل میچز کھیلیں گے۔ سیریز کے 3 ون ڈے میچز کراچی جبکہ 3 ٹی 20 میچز لاہور میں کھیلے جائیں گے.