Baaghi TV

Author: +9251

  • ریاستوں میں طوفان اور ٹرمپ کی عیاشیاں ، امریکی میڈیا ٹرمپ پر برسنے لگا

    ریاستوں میں طوفان اور ٹرمپ کی عیاشیاں ، امریکی میڈیا ٹرمپ پر برسنے لگا

    واشنگٹن : امریکی قوم اس وقت سخت آزمائش میں ، متعدد ریاستوں میں خوفناک طوفان ڈورین کے آنےکے موقع پر صدرٹرمپ کے گولف کورٹ میں جاکر تفریح کرنےکے اقدام پر شدید تنقید ہورہی ہے اور امریکی میڈیا میں اس خبرکوکافی کوریج دی جارہی ہے

    ایک ایسے وقت جب خوفناک طوفان ڈورین فلوریڈا، جنوبی کیلی فورنیا، شمالی کیلی فورنیا، جارجیار اور آلاباما کے ساحلوں سے ٹکرانے والا ہے ویرجینیا کے اسٹرلینگ گولف کورٹ میں صدر ٹرمپ کی تفریح کی خبروں پر رائے عامہ میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ٹرمپ کو بڑے پیمانے پر تنقیدوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ ان کے اس اقدام کو انتہائی نامناسب قرار دیا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا کے صارفین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب متعدد ریاستوں میں خوفناک طوفان ڈورین کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا گیا ہے تفریح و عیش و عشرت کے لئے ٹرمپ کا وقت گذارنا انتہائی نامناسب عمل ہے۔ اس درمیان ٹرمپ نے طوفان سے متاثر ہونے والے علاقوں سے لاعلمی کی بناپر یہ کہہ دیا کہ ریاست الاباما میں طوفان آسکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے فورا بعد امریکا کے محکمہ موسمیات نے اعلان کیا کہ الاباما ان ریاستوں میں شامل ہی نہیں ہے جہاں طوفان آنے والا ہے۔

    یہ خوفناک طوفان امریکا کے متعدد ساحلوں سے ٹکرا چکا ہے جس کے نتیجے میں اب تک تیرہ ہزار رہائشی مکانات تباہ ہوگئے ہیں اور ایک آٹھ سال کا بچہ بھی لقمہ اجل بن گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ فلوریڈا اور شمالی و جنوبی کیرولینا کے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔

  • گورنر سندھ امریکا روانہ، کرپشن کے الزام میں گرفتاربنے قائمقام گورنر

    گورنر سندھ امریکا روانہ، کرپشن کے الزام میں گرفتاربنے قائمقام گورنر

    گورنر سندھ عمران اسماعیل امریکا روانہ ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر سندھ چھ روزہ دورے پر امریکا روانہ ہو گئے، ان کی غیر موجودگی میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی قائمقام گورنر ہوں گے، قائمقام گورنر کا نوٹفکیشن جاری نہیں کیا گیا تا ہم وہ گورنر سندھ کی غیر موجودگی میں قائمقام گورنر ہوں گے،ذرائع کے مطابق آغا سراج درانی گورنرہاؤس منتقل نہیں ہوں گے،

    گورنر سندھ کی واپسی تک آغا سراج درانی قائمقام گورنر رہیں گے، آغا سراج درانی کو نیب نے گرفتار کر رکھا ہے.

    اس سے قبل بھی ایسا ہو چکا ہے،گورنر سندھ عمران اسمعیل حج پر گئے تو ان کی غیر موجودگی میں صدر پاکستان نے ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی کو گورنر بنایا تھا جسے سندھ حکومت نے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ سپیکر کو گورنر سندھ بننا چاہیے. پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ آئین کی رو سے سپیکر کی موجودگی ڈپٹی سپیکر گورنر نہیں بن سکتے ،

    واضح رہے کہ نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا، انہیں حراست میں لے کر کراچی منتقل کیا گیا تھا، سراج درانی کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات ہیں۔آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے گھر پر نیب نے چھاپے کے دوران نیب افسران نے ان کے گھر سے اہم فائلیں‌ قبضے میں‌ لی تھیں، ان کے سیکیورٹی اہلکاروں نے نیب حکام سے بدتمیزی بھی کی تھی ۔

  • امریکا کی ہم آہنگی سے عراق میں حملہ کیا گیا، اسرائیل کا اعتراف

    امریکا کی ہم آہنگی سے عراق میں حملہ کیا گیا، اسرائیل کا اعتراف

    تل ابیب : اسرائیلیوں کی سازشیں‌کھل کر سامنے آنے لگیں‌،صیہونی حکومت کے ایک فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ عراق کے اندر اسرائیلی فوج کا حملہ اسرائیل اور امریکا کے درمیان مکمل ہم آہنگی سے کیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایک صیہونی فوجی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ خبر صحیح ہے کہ عراق میں اسرائیلی فوج کا ڈرون حملہ تل ابیب اور واشنگٹن کی آپسی ہم آہنگی سے کیا گیا تھا اور اسرائیل عراق میں مداخلت کرنے کے لئے امریکیوں کے ساتھ ہر روز رابطے میں رہتا ہے۔

    دوسری طرف صیہونی فوج کے مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ پمپیئو کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر اور سیکورٹی سطح پر بھی رابطہ برقرار ہے اور اسرائیل سیاسی اور فوجی سطح پر امریکا کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ ایک مہینے کے دوران عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے اڈوں پر کئی بار حملے کئے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ عراق کی عوامی رضاکارفورس نے ان حملوں کا ذمہ دار اسرائیل اور امریکا کو قراردیا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں عراقی عوامی رضا کارفورس کی کامیابیوں کے بعد امریکا اور اسرائیل نے الحشدالشعبی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    جدہ : بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو اور کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق او آئی سی کے ہیومن رائٹس کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو کی سخت مذمت کی ہے اور بھارتی حکومت کو کہا ہے کہ جلد سے جلد کرفیو ختم کیا جائے۔

    او آئی سی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے، ان پابندیوں پر عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کیلئے سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو انسانی حقوق سے بری طرح محروم کررکھا جارہا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ ادویات ناپید ہیں، اسپتال سنسنان ہیں، تعلیمی ادارے ویران پڑے ہیں، سڑکوں پر ہو کا عالم ہے۔ بھارتی بربریت کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔انٹرنیٹ کی بندش کے باعث لوگوں کو اطلاعات تک رسائی نہیں اور اخبارات بھی بند ہیں۔ آئی پی ایچ آر سی کے مطابق بھارتی فورسزنے پانچ ہزار سے زائد کشمیریوں کو غیرقانونی طور پر ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔

    دوسری طرف صحافیوں ،انسانی حقوق تنظیموں کے کارکنوں کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کیا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیرکی سیاسی قیادت کو بھی بغیر کسی قانون کے قید کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں

  • ”نیا پاکستان منزلیں آسان“،وزیراعلیٰ نے 15ارب کے منصوبے کا آغاز کردیا

    ”نیا پاکستان منزلیں آسان“،وزیراعلیٰ نے 15ارب کے منصوبے کا آغاز کردیا

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے حافظ آباد میں نیا پاکستان منزلیں آسان پراجیکٹ کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے پہلے منصوبے کا آغاز کردیا۔

    ”نیا پاکستان منزلیں آسان“ پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں پنجاب کے دیہی علاقوں میں 15 ارب روپے کی لاگت سے 1236 کلومیٹر طویل کارپٹڈ سڑکیں بنائی جائیں گی۔افتتاحی منصوبے کے تحت سندھواں تارڑ تا بلونو براستہ موگی 8.3 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے حافظ آبادکے نواحی علاقے کولوتاڑر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان میں گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین شرقی سائیڈ حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں کیلئے ایمرجنسی سینٹر ریسکیو 1122 اور پولیس خدمت مرکز کاافتتاح کیاگیا۔

    وزیراعلیٰ نے واگزار کرائی گئی 58 کنال سرکاری اراضی پرشجرکاری کا افتتاح کر دیا۔ضلع حافظ آباد میں قبضہ مافیا سے 794 کنال اراضی واگزار کرائی گئی ہے، جس کی مالیت ایک ارب 64 کروڑ روپے ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کولو تارڑ میں شجرکاری مہم کے تحت پودا لگایا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے حافظ آباد کے نواح میں کولو تارڑ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ بنانے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔”نیا پاکستان منزلیں آسان“ پراجیکٹ کا آغاز حافظ آباد سے کر رہے ہیں۔”نیا پاکستان منزلیں آسان“ پراجیکٹ کے تحت حافظ آباد میں سڑکو ں کی تعمیر کے چار پراجیکٹ مکمل کئے جائینگے۔تقریباً 29 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر پر 32 کروڑ 37 لاکھ روپے لاگت آئے گی۔آج سندھواں تارڑ سے سڑک کی تعمیر و مرمت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔نیا پاکستان منزلیں آسان پروگرام 5 سال تک جاری رہے گا۔پنجاب کے دیہات میں کارپٹڈسڑکیں بنائیں گے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز جنوری 2020ء میں ہو گا اور 31 دسمبر تک مکمل ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں حافظ آباد کے 67 ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔حافظ آباد میں اے ڈی پی کے منصوبے 5 ارب 44 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کئے جائیں گے۔ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت حافظ آباد ضلع میں ترقیاتی سکیموں کیلئے 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ایس ڈی جی پروگرام کے تحت بھی دیہات کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مزید 15 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کو اپ گریڈ اور سڑکوں کی حالت کو بہتر بنائیں گے۔حافظ آباد اور ڈیرہ غازی خان میں مجھے کوئی فرق نہیں لگتا۔حافظ آباد والوں کا خلوص دیکھ کر لگتا ہے ڈیرہ غازی خان اپنے گھر آیا ہوں۔ میں دوبارہ بھی حافظ آباد آؤں گا اورعوام کے مسائل کو حل کروں گا اورنئے ترقیاتی منصوبے شروع کروں گا۔ بچیوں کیلئے 12 کروڑ 66 لاکھ روپے کی لاگت سے گرلز کالج بنادیاگیا اور پنڈی بھٹیاں میں ریسکیو 1122سینٹراورپولیس خدمت مرکز سروسز کا آغاز کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف حکومت پنجاب کی مہم کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔حافظ آباد ضلع میں 794 کنال اراضی قابضین سے واگزار کرائی گئی ہے۔ایک ارب 64 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کی واگزار کرائی گئی 58 کنال سرکاری اراضی پر شجرکاری کی جا رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے اشتراک سے پانچ سال کے دوران 50کروڑ پودے لگائے جائیں گے۔ رواں برس موسم برسات کے دوران 90لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ شہری اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اورملک کو سرسبزوشاداب بنانے میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں گے۔

    پارلیمانی سیکرٹری سیاحت مامون جعفر تارڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بونے چہ میگویاں کرتے تھے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو تبدیل کردیاجائے گا،ان کی کوئی بات سچ ثابت نہیں ہوئی۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار پانچ برس پورے کریں گے اورمیں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگلے پانچ برس کا بھی انتظار کروں۔اس دوران بھی وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی ہوں گے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے حافظ آباد کے شہریوں کیلئے پہلے بھی ترقیاتی منصوبے دیئے ہیں اورآئندہ بھی دیں گے۔مامون جعفر تارڑنے کہا کہ سابق نام نہاد خادم اعلی ٹوپی ڈرامہ کرتے تھے اورلانگ بوٹ پہن کرسیلاب متاثرین کی امداد کا جھوٹاڈرامہ رچاتے تھے۔اس طرح سیلاب متاثرین کی امداد نہیں ہوتی۔میں عثمان بزدار کو جانتا ہوں یہ اکثر رات کو بغیر پروٹوکول گاڑی میں نکلتے ہیں اورلوگوں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہیں اوراس کی تشہیر بھی نہیں کرتے۔

    رکن قومی اسمبلی شوکت علی بھٹی نے کہا کہ ہم حافظ آباد آمد پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔حافظ آباد کے عوام وزیراعظم عمران خان اوروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں اورکھڑے رہیں گے۔ہمیں امید ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار حافظ کے ہسپتال اورسڑکوں کوبہتر بنانے کے حوالے سے فوری اقدامات کریں گے۔صوبائی وزیر سیاحت رائے تیمور بھٹی، چیف ویب پنجاب اسمبلی سید عباس علی شاہ،رکن پنجاب اسمبلی میاں احسن جہانگیر بھٹی، نواب گزیں عباسی، سینئر سیاست دان مہدی حسن بھٹی، کمشنر گوجرانوالہ،آر پی او گوجرانوالہ، ڈی سی حافظ آباد اورڈی پی او حافظ آبادبھی موجود تھے

     

     

    تحریک انصاف نے پنجاب کی تنظیم کوتحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فیصلہ پنجاب کی تنظیم کی جانب سے وزیراعلیٰ عثمان بزدارکو پارٹی سیکریٹریٹ طلب کرنے پرکیا گیا، ہم نیوز کا کہنا ہے کہ مرکزی قیادت نے وزیراعلیٰ عثمان بزدارکو پی ٹی آئی سیکریٹریٹ بلوانے کا سخت نوٹس لے لیا ،وزیراعلیٰ پنجاب کو پی ٹی آئی سیکریٹریٹ بلانے پر کور کمیٹی کے اراکین برہم ہوئے اور کہا کہ ارکان اسمبلی کو بھی بار بار اسمبلی سیکریٹریٹ آنے کا کیوں کہا جاتا ہے؟

    اراکین اسمبلی نے کور کمیٹی میں صدر پی ٹی آئی پنجاب کے رویے کے خلاف شکایات کیں، اور کہا کہ پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت حلقوں میں مداخلت کر رہی ہے، پنجاب کی تنظیم کو ختم کرنے کا فیصلہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اراکین کی مشاورت سے کیا جارہا ہے،

    کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف پاکستانی قوم سڑکوں پر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    مودی نے آخری پتہ کھیل لیا، اب کشمیر آزاد ہو گا، پاک فوج تیار،وزیراعظم عمران خان

    کشمیریوں سے یکجہتی، ملک بھر میں کشمیر آور منایا گیا، پاکستانیوں نے تاریخ رقم کر دی

    تحریک انصاف پنجاب کی تنظیم ختم کیےجانے کا امکان ہے ،اعجاز احمد چودھری سمیت پارٹی عہدے ختم کردیئے جائیں گے،پنجاب کو چارریجنز میں تقسیم کرنے کی تجویززیرغورہے،پارٹی کے آئین میں ایک بارپھر ترمیم کیےجانے کا بھی امکان ہے

    پنجاب کی تنظیم کی تحلیل کا باقاعدہ اعلان ایک سے 2روز میں متوقع ہے

  • ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    برلن: کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم پر عالمی میڈیا بھی تشویش کا اظہار کرنے لگا ،جرمن میڈیا نے بھارت کے جھوٹ سے پردہ اٹھادیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں ہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج گھر میں گھس کر خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 31ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور خواتین برتن بجا کر مدد کو پکارتی ہیں۔

  • صحافی کارکنوں کی جبری برطرفیوں کے خلاف میڈیا ہاﺅسز کی تالہ بندی کا سلسلہ شروع

    صحافی کارکنوں کی جبری برطرفیوں کے خلاف میڈیا ہاﺅسز کی تالہ بندی کا سلسلہ شروع

    لاہور پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کے متفقہ فیصلے کے مطابق تین ستمبر کو دفاترکی تالہ بندی کا سلسلہ شروع کردیاگیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں دنیامیڈیاگروپ کے کارکنوں کی جبری برطرفیوںکے خلاف صحافیوں کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا۔ صحافیوں کی ریلی لاہور پریس کلب سے شروع ہوکر دنیامیڈیا گروپ تک پہنچی جہاں مرکزی گیٹ سمیت تمام داخلی دروازوں کے باہرچارگھنٹے دھرنادیاگیا اور کارکنوںکی جبری برطرفیوں پر احتجاج کیاگیا۔

    صحافی قائدین نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیاکہ صحافی کارکنوں کی جبری برطرفیاں ناقابل قبول ہیں،دنیا میڈیاگروپ سمیت جو ادارے بھی برطرفیاں کررہے ہیں وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریںاور چند ہزار روپے تنخواہیں لینے والے کارکنوں کوفارغ کرکے مبینہ مالی بحران ختم کرنے کی ناکام کوشش نہ کریں۔

    مقررین کا کہناتھاکہ میڈیاہاﺅسزکے مالی بحران کی سب سے بڑی وجہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے اورحقیقت میں لاکھوں روپے کی ماہانہ تنخواہیں اور مراعات لینے والے اداروں پر بوجھ ہیں اگر ادارے مالی بحران کا شکارہیں تو ان بڑے مگرمچھوں کودی جارہی غیرحقیقی تنخواہیں اور مراعات مناسب سطح پر لائی جائیں اور چند ہزارروپے لینے والے صحافی کارکنوں کو ان کی نوکریوں پر بحال کیاجائے۔

  • سرکاری میڈیکل ٹیچنگ اسپتالوں کی نجکاری کی اور نہ کریں گے ، یاسمین راشد

    سرکاری میڈیکل ٹیچنگ اسپتالوں کی نجکاری کی اور نہ کریں گے ، یاسمین راشد

    لاہور:پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے حوالے سے تازہ صورت حال سامنے آگئی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پنجاب کے سرکاری میڈیکل ٹیچنگ اسپتالوں کی نجکاری کی خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔اطلاعات کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت پنجاب کے کسی بھی میڈیکل ٹیچنگ اسپتال کی نجکاری کی گئی ہے اور نہ ہی کی جائے گی۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آئی ایکٹ سے اسپتالوں کو صرف با اختیار بنا کر مریضوں کیلئے مزید آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے نام پرعوام کو گمراہ کرنے کی سیاست سے گریز کرنا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی شرپسند عناصر کو ایم ٹی آئی کے نام پر سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کے علاج معالجہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینگے۔ان کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کی مدد سے سرکاری اسپتالوں میں انتظامیہ کو مزید مضبوط کر دیا گیا ہے۔

    ڈاکٹریاسمین راشد کا کہنا ہے کہ سابقہ بدعنوان حکومتوں نے سرکاری اسپتالوں کو اپنا سیاسی بھیٹک بنایا ہوا تھا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے،انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے سرکاری اسپتالوں کے بر باد شدہ ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ سے کسی بھی سرکاری ملازم یا افسر کی نوکری کو خطرہ لاحق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر حضرات کو ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت اسپتال کے اندر ہی پریکٹس جاری رکھنے کی سہولت دی گئی ہے۔

  • سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کرنے پر اپوزیشن میدان میں آ گئی

    سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کرنے پر اپوزیشن میدان میں آ گئی

    سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کرنے پر اپوزیشن جماعتیں میدان میں آ گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کو پرائیوٹ اداروں کے ذریعے چلانے کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے ،اگرطاقت کےزورپر کچھ کریں گےتوکل ڈاکٹرزبھی اس کےخلاف کھڑےہوں گے،آرڈیننس کوئی ریگولرقانون سازی نہیں،آرڈیننس کے ذریعے ڈھائی سوارب کا قرضہ معاف کیا جا رہا ہے،وزیراعظم کا اس معاملے سےلاعلمی کا اظہارکرنا حیران کن ہے.

    مسلم لیگ ن کی رہنما شائستہ پرویز ملک نے کہا ہے کہ آرڈیننس کولانے کے لیے اسمبلی کا اجلاس موَخرکیا گیا ، پہلے فری میڈیسن بند کی اس کےبعدپرچی کو50روپےتک بڑھایا،ہم سب صحت اورتعلیم کےشعبےمیں بہتری چاہتے ہیں،سرکاری اسپتالوں کو پرائیوٹائز کرنے سے غریبوں کومشکلات کا سامنا کرنا ہو گا ،سرکاری اسپتالوں کو پرائیوٹائزکرنے سےغریبوں کے مشکلات میں اضافہ ہوگا،

    پنجاب کے تمام سرکاری تدریسی ہسپتال خودمختار انتظامیہ کے سپردآرڈیننس جاری کردیا گیا ہے ، اس آرڈینینس کی مدد سے سرکاری ہسپتالوں کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے حکومت نے نیا سسٹم متعارف کروا دیا ہے، اس سسٹم کے تحت اب سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے لیے نجی شعبہ سے بورڈ آف گورنرز کی ایسی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو سارے معاملات کا بغور جائزہ لے کر ہیلتھ سسٹم کو بہتر کرنے کی کوشش کرے گا، دوسری دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں سے وابستہ افراد کو حکومت کا یہ رویہ اچھا نہیں‌لگا، جبکہ شہری بھی یہی کہتے ہیں‌کہ مہنگائی کے بعد اب عوام سے مفت علاج کی سہولت بھی چھین لی گئی، پنجاب کے ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کا آرڈیننس جاری، گورنر کی منظوری کے بعد نافذ کر دیا گیا۔

    پنجاب حکومت نے نیا پنڈورا بکس کھول دیا، ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کا آرڈیننس جاری کردیا گیا، ٹیچنگ ہسپتالوں کا نظام پرائیویٹ ہسپتالوں پر مشتمل بورڈ آف گورنر کے سپرد کردیا گیا، ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرا میڈیکس کا سرکاری ملازمت کا درجہ ختم کر دیا گیا، کوئی سرکاری ڈاکٹر بھرتی ہوگا نہ نرسز، پیرامیڈیکل سٹاف بھی پرائیوٹائزڈ ہوگا۔

    اس نے سسٹم کے تحت ٹیچنگ ہسپتالوں کا نظام چلانے کیلئے پرنسپل اور ایم ایس کاعہدہ ختم کردیا گیا، ڈین، ہسپتال ڈائریکٹرز، میڈیکل ڈائریکٹرز، نرسنگ ڈائریکٹرز کاعہدہ متعارف، ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے فنانس ڈائریکٹرز کا عہدہ بھی متعارف کرا دیا گیا، ٹیچنگ ہسپتالوں میں فری علاج معالجہ بورڈ آف گورنر کی صوابدید پر ہوگا۔بورڈ آف گورنر کے پاس ٹیچنگ ہسپتالوں میں تقرر و تبادلوں کا اختیار ہوگا، بورڈ آف گورنر ہی ٹیچنگ ہسپتالوں میں نظام چلانے کا مجاز ہوگا۔