Baaghi TV

Author: +9251

  • وزارت خارجہ میں قائم کشمیر سیل کا پہلا اجلاس، کشمیریوں کی ہر ممکن مدد کا عزم

    وزارت خارجہ میں قائم کشمیر سیل کا پہلا اجلاس، کشمیریوں کی ہر ممکن مدد کا عزم

    وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پروزارتِ خارجہ میں قائم "کشمیرسیل” کا پہلا اجلاس ہوا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں مقبوضہ کشمیرمیں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں وزیرقانون،سول اورعسکری حکام شریک ہوئے، سیکریٹری خارجہ سمیت وزارتِ خارجہ کے سینئرحکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی، سیل کےقیام کامقصدمقبوضہ کشمیرسےمتعلق تازہ ترین صورتحال پرغورکرناہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیرسےمتعلق بھارت کابیانیہ مسلسل تبدیل ہوتاآرہاہے، کشمیرسےمتعلق پاکستان کانقطہ نظریکساں،واضح اوردوٹوک ہے، پاکستان کشمیریوں کی سیاسی،سفارتی اوراخلاقی معاونت جاری رکھےگا،

  • شاہ محمود قریشی کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات، کن امور پر بات ہوئی؟ اہم خبر

    شاہ محمود قریشی کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات، کن امور پر بات ہوئی؟ اہم خبر

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات ہوئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ملاقات میں مقبوضہ کشمیر اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کواجاگر کرنےکی کاوشوں پر گفتگو کی گئی، اس دوران سعودی عرب، یواے ای وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان سے متعلق امور پربھی بات چیت کی گئی،

    چیئرمین سینیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی بربریت کودنیابھرمیں اجاگر کرنا کامیابی ہے، مسئلہ کشمیرپر50 سال بعد سیکیورٹی کونسل اجلاس بڑی سفارتی کامیابی ہے،

  • ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ: آئی سی سی نے شیڈول کا اعلان کردیا

    ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ: آئی سی سی نے شیڈول کا اعلان کردیا

    دبئی (اے پی پی) آئی سی سی نے ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ کے شیڈول کا اعلان کردیا، ایونٹ 18 اکتوبر سے 2 نومبر تک کھیلا جائے گا.

    تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ 2019ء کے شیڈول کا اعلان کردیا۔ ایونٹ 18 اکتوبر سے 2 نومبر تک متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔ 2 نومبر تک جاری رہنے والے ایونٹ میں 14 ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی جس میں میزبان یو اے ای، سکاٹ لینڈ، ہالینڈ، سنگاپور، کینیا، آئرلینڈ، ہانگ کانگ، اومان، برمودا، کینیڈا، جرسی، نمیبیا، نائیجیریا اور پاپوا نیوگنی شامل ہیں۔ سکاٹ لینڈ، ہالینڈ، پاپوا نیو گنی، نمیبیا، سنگاپور اور برمودا کو گروپ اے جبکہ یو اے ای، آئرلینڈ، اومان، ہانگ کانگ، کینیڈا، جرسی اور نائیجیریا کو گروپ بی میں رکھا گیا ہے۔ دونوں گروپس سے ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ براہ راست ورلڈ ٹی 20 کپ کیلئے بھی کوالیفائی کر لیں گی۔

    یاد رہے کہ 2015 میں ہونے والے کوالیفائر ٹورنامنٹ میں سکاٹ لینڈ اور ہالینڈ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر فاتح قرار پائی تھیں.

  • عمران خان نے عالمی سطح پر مودی کے موقف کو شکست دی ہے، فردوس عاشق اعوان

    عمران خان نے عالمی سطح پر مودی کے موقف کو شکست دی ہے، فردوس عاشق اعوان

    وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں مظلوم کشمیریوں کی ترجمانی کر رہے ہیں،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیراعظم کا کشمیریوں کی آوازدنیا تک پہنچانے میں کلیدی کردارہے، یورپی یونین، اوآئی سی کی جانب سے کشمیریوں کےحق میں موثرآوازاٹھی ہے، عمران خان نےعالمی سطح پرمودی کےموقف کوشکست دی ہے، کابینہ اجلاس میں 10نکاتی ایجنڈےپربات ہوئی،

    فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وفاقی کابینہ نے8نکات کی منظوری دی،2کوموخرکردیاگیا، کشمیرسے کرفیو ہٹانے کے لیے بین الاقوامی فورم پرجانےکافیصلہ کیاہے، جی آئی ڈی سی کااہم مسئلہ بھی کابینہ میں زیربحث آیا ہے،

  • دھونی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    دھونی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    جمیکا (اے پی پی) دھونی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، ویرات کوہلی بھارت کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بن گئے.

    تفصیلات کے مطابق بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا انٹرنیشنل کرکٹ میں ریکارڈز بنانے کا سلسلہ جاری ہے، اب وہ بھارت کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بن گئے ہیں، بھارتی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں شکست دے کر کوہلی کو یہ اعزاز دلوایا، یہ کوہلی کی زیر قیادت بھارتی ٹیم کی کل 48 ٹیسٹ میچز میں سے 28ویں کامیابی ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے بطور کپتان زیادہ ٹیسٹ فتوحات کا دھونی کا ریکارڈ توڑ دیا جن کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے 60 میچز میں سے 27 کامیابیاں حاصل کر رکھی تھیں۔

  • پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    کسی بھی ملک میں پولیس کا محکمہ صرف اور صرف اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کو تحفظ دیا جا سکے ۔ لوگوں کا جان و مال چوروں ، ڈاکوٶں اور لٹیروں سے محفوظ رکھا جا سکے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے پولیس کا محکمہ ایک ایسا محکمہ ہے جہاں انسان سب سے زیادہ بے تحفظ ہے ۔ خاص طور پر پنجاب پولیس کی صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے ۔ پنجاب پولیس نا صرف عوام میں اپنا اعتماد بری طرح کھو چکی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے بیشمار نفرت بھی ڈال چکی ہے ۔ پنجاب پولیس کی وجہ سے جہاں پنجاب کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں وہیں پنجاب پولیس کے جوان بھی انتہاٸی لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں جہاں نا تو پنجاب پولیس کے جوانوں کے پاس نوکری کا مکمل تحفظ موجود ہے اور نا ہی ان کے پاس کوٸی ذاتی طاقت ۔ پنجاب پولیس میں زیادہ تر سیاسی اثر ورسوخ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر کوٸی مجرم طاقت ور ہے تو وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس پر دباٶ ڈال کر لوگوں کا جینا حرام کیے رکھتا ہے ۔ اگر کوٸی شریف اور ایمان دار پولیس والا ایسے مجرم پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا پھر نوکری سے ۔ بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسے پولیس والے کا تبادلہ کہیں دور دراز ایسے علاقوں میں کر دیا جاتا ہے جہاں دوسرے پولیس والے اس سے سبق سیکھ سکیں کہ انہیں صرف اور صرف سیاسی نماٸندوں کی ہی خدمت کرنی ہے ۔ لیکن انہی پولیس والوں کے نزدیک ایک عام انسان جس کے پاس نا دولت ہے ، نا سیاسی اثر و رسوخ ، نا عدالتوں میں چکر کاٹنے کا وقت اور نا ہی مقدمہ لڑنے کے لیے مہنگا وکیل کرنے کے لیے پیسہ تو یہی پولیس والے عام عوام کا جینا حرام کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک عام شہری بغیر جرم کے شامل تفتیش کر دیا جاتا ہے اور وہ بیچارہ پھر دوران تفتیش ہی خالق حقیقی سے جا ملتا ہے ۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس مظلوم پر کسی سیاسی شخصیت نے مقدمہ کروایا ہوتا ہے یا پھر کسی نے اپنی خاندانی دشمنی نکالنے کے لیے پولیس کو بھاری رقم دی ہوتی ہے ۔ دوسری اہم وجہ یہ کہ جب یہی پولیس والے بھرتی ہوتے ہیں تو انہیں نوکری کے حصول کے لیے بھاری رشوت دینی پڑتی ہے

    اور جب انہیں نوکری مل جاتی ہے تو یہ پولیس والے اپنی رشوت کے پیسے لوگوں سے وصول کرنے کے چکروں میں عام پبلک کے خون پسینے کی کماٸی کا ایک ایک سو روپیہ تک اپنی جیبوں میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں آج تک مقدمہ سے لے کر تفتیش تک وہی سسٹم چلا آرہا ہے جو انگریزوں نے برصغیر میں راٸج کیا تھا ۔ انگیریزوں کا پولیس بنانے کا مقصد تو یہی تھا کہ وہ یہاں کے مظلوم اور غلام لوگوں پر اپنا اثر و رسوخ بٹھاٸے رکھیں ، لوگوں پر بلاوجہ ظلم و تشدد کرتے رہیں تا کہ کوٸی آزادی کا نام نا لے ۔ انگریزوں کو گے تقریبا ایک صدی ہونے کو ہے مگر ہمارا پولیس کا نظام آج بھی وہی کا وہی ہے جو آج سے ایک صدی پہلے تھا ۔ ہمارے ہاں پولیس کا آج بھی یہی مقصد ہے کہ عام عوام پر سیاسی لوگوں اور امیر کبیر چوروں ڈاکوٶں کا خوف جماٸے رکھا جاٸے تاکہ یہ لوگ کبھی بھی کسی سیاسی نماٸیندے کے سامنے حق بات نا کر سکیں ۔ بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ چور ، ڈاکو اور بھتہ لینے والے خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی لوٹ مار سے ملنے والی چیزوں میں سے پولیس والوں کو بھی حصہ دیتے ہیں ۔

    کوٸی بھی محکمہ مکمل طور پر برا نہیں ہوتا نا ہی اس محکمے کے سبھی لوگ برے ہوتے ہیں جہاں پولیس والوں میں بہت سے درندے نظر آتے ہیں وہیں چند ایک پولیس والے عوام کی خاطر جانیں بھی لٹا دیتے ہیں ۔ بہت سے پولیس والے اسی عوام کی خاطر اپنی بیوی کو بیوہ ، بچوں کو یتیم ، ماں باپ اور چھوٹے بہن بھاٸیوں کو بے سہارا چھوڑ کر شہادت پا لیتے ہیں ۔ لیکن ایسے اچھے پولیس والوں کو بھی ہمارے پاکستانی بھاٸی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ان کے جذبے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں جب تک نٸی اصلاحات نہیں آٸیں گی تب تک یہ محکمہ کبھی بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اس محکمے کو عوام دوست بنانے کے لیے حکومت کو اس محکمے میں نٸی اصلاحات کرنی چاہیے جو کہ امید تھی کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خاں اپنی حکومت بناتے ہی کر دیں گے مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوٸی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب پولیس سے سیاسی اثر و رسوخ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جاٸے ۔تا کہ پولیس کسی دباٶ میں آٸے بغیر عوام کی جان و مال کو تحفظ دے اور عوام کی زندگیاں آسان بناٸے ۔

    ۔ دوسری بات جو بہت ضروری ہے کہ ایک پولیس والے کو اس کی نوکری کا تحفظ دیا جاٸے ، جان کا تحفظ دیا جاٸے ۔ یہ نا ہو کہ اگر کوٸی پولیس والا کسی سیاسی شخصیت کے دباٶ میں آنے سے انکار کرے تو سیاسی شخصیت یا تو اسے نوکری سے فارغ کر دے یا پھر اس پولیس والے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ تیسری اور اہم بات یہ کہ پولیس کے محکمے سے رشوت کا خاتمہ کیا جاٸے تاکہ کوٸی بھی جوان رشوت دے کر نوکری حاصل نا کرے ۔ اس سے امید ہے کہ یہ پولیس والے عوام کو لوٹنا بند کر دیں گے ۔ پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے پولیس کی اعلی سطح پر اخلاقی تربیت کی جاٸے اور انصاف کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سیکھنا لازمی قرار دیا جاٸے ۔ اس کے علاوہ تفتیشی عمل میں جو غیر انسانی رویہ اپنایا جاتا ہے اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاٸے ۔ مقدمہ درج کرنے کے عمل میں آسانیاں فراہم کی جاٸیں تاکہ کوٸی بھی مظلوم بلاجھجک انصاف کے حصول کے لیے پولیس کے پاس آسکے ۔ روایتی تھانہ کلچر ختم کیا جاٸے اور پولیس کو عوام کے دروازے پر انصاف کے فراہمی کے لیے جانا چاہیے ۔ جو پولیس والے چوروں ، ڈاکوٶں اور بھتہ خوروں کے ساتھ مل کر عوام کا جینا حرام کیے ہوٸے ہیں انہیں سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تاکہ باقی پولیس والے ان لوگوں سے عبرت حاصل کر کے اپنا قبلہ درست کر لیں۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو امن کا گہوارا بناٸے اور ہماری پولیس کو انسانیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما  تحریر: سعدیہ بنت خورشید

    شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما تحریر: سعدیہ بنت خورشید

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:-
    "جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انکا نام حمزہ رکھا اور جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انکا نام چچا کے نام پر جعفر رکھا۔
    مجھے رسول اللہﷺ نے بلایا اور فرمایا: مجھے یہ دونوں نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس آپ علیہ السلام نے ان دونوں کا نام حسن و حسین رضی اللہ عنہما رکھا”

    یہ حدیث مبارکہ میری نظر سے گزری تو مجھے انتہائی تجسس ہوا کہ جن کے نام عرشِ بریں سے منتخب ہو کر آئے ہوں انکی شان کیا ہوگی۔ میں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں کی شان کے بارے مزید پڑھنے کے لیے کتب احادیث کھولتی ہوں۔ صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب الحسن و الحسین میرے سامنے آتا ہے۔
    سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    ” میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں، میرے ماں باپ ان پر فدا ہوں یہ نبی کریمﷺ کے مشابہ ہیں۔ حضرت علی سے انکی شباہت نہیں ملتی اور سیدنا علی زبان صدیق سے یہ کلمات سن کر ہنس رہے تھے۔”

    سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    "جو چاہے کہ گردن، چہرہ اور بالوں کے لحاظ سے رسول اللہﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ کسی کو دیکھے تو وہ حسن کو دیکھ لے اور جو چاہے کہ گردن سے ٹخنوں تک رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ کسی کو دیکھے تو وہ حسین کو دیکھ لے.”

    سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے دونوں بیٹے سرور کائناتﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔ اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود سے مشابہت رکھنے والے ان دو بچوں سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپکے کندھے پر سوار ہوتے ہیں تو سرور کونین فرماتے ہیں
    "یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت فرما”

    لپٹتا ، چمٹتا کبھی گود میں گرتا

    یہ تو پھول تھا جو آغوش رسالت میں نکھرتا

    حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی شان کے کیا کہنے:

    میرے آقا ﷺ اکثر انکو اپنے مبارک کندھوں پر بٹھاتے
    اور آپ ﷺ فرماتے "یہ سردار ہیں”
    ” حسن و حسین میرے پھول ہیں.”
    "حسن و حسین شہزادے ہیں۔”

    میں کتبِ احادیث کے سنہری اوراق کو پلٹتی جاتی ہوں، پڑھتی جاتی ہوں کہ صحیح سنن الترمذی کی ایک حدیث سامنے آتی یے:
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ دعوت پر جاتے ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گلی میں کھیل رہے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں کو فرط محبت سے اگے بڑھا کر پھیلا لیتے ہیں اور انکو صدرِ اطہر کے ساتھ لگا لیتے ہیں۔ علی کے لخت جگر کے چہرے پہ جناب رسالت مآب کے لب مبارک لگتے ہیں اور میرے آقا ﷺکی زبان سے پھول جھڑنے لگتے ہیں: حسین مجھ سے ہے، میں حسین سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔”

    "حسین منی و أنا من حسین”
    (حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں)

    حدیث مبارکہ کے اس جملہ کو میں بار بار دہراتی جاتی ہوں ” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں” کہ شاید مجھ پر رحمۃ للعالمین کے کہے ہوئے اس جملے کا مطلب واضح ہو جائے۔
    بار بار غور کرنے پر بات سمجھ میں آئی کہ جیسے عموماً جس سے محبت کی جاتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تم میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
    بالکل یہی مراد میرے حضور ﷺ کی ہے کہ ہے حسین مجھ سے ہے۔ یعنی کہ حسین میرا جزو ہے، حسین میرا حصہ ہے، بلاشبہ مجھ میں اور حسین میں کوئی فرق نہیں ہے۔
    اس حدیثِ مبارکہ کا معنیٰ و مطلب واضح ہوجانے پر فرط محبت سے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے کہ پوری کائنات کے سردار فرما رہے ہیں

    "احب اللہ من أحب حسینا”
    وہ کتنا عظیم شخص ہوگا جو فاطمہ کے بیٹے سے محبت کرکے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی دعا کا حقدار ٹھہرا ہوگا۔
    (اللھم اجعل منھم)

    حضرت محمد کریم ﷺ نے دس صحابہ کرام کو ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دے دی۔
    ابوبکر فی الجنہ
    عمر فی الجنہ
    عثمان فی الجنہ
    (الخ۔۔۔۔۔!!!)

    لیکن میں قربان جاؤں جب باری شہزادوں کی آئی تو مقام بڑھ گیا، زاویہ نگاہ بدل گیا
    صرف اسی پر بس نہیں کہ حسن و حسین جنتی ہیں
    بلکہ فرمایا:

    "حسن و حسین جنتیوں کے سردار ہیں.”
    ان شہزادوں کی عظمت و رفعت، شان و مقام، بلند مرتبے پر میرے باپ قربان ۔۔ !!

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    "اللہ کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لاتے ہیں
    حسن ابن علی، آپ ﷺ کے کندھے مبارک پر تشریف فرما ہیں اور ان کا لعاب آپ ﷺ کے کندھے پر بہہ رہا تھا۔”

    کیسا خوبصورت منظر ہے۔۔۔!!
    جس کو رب تعالیٰ نے دونوں جہانوں کا سردار قرار دیا اس کے کندھے پر جس کا لعاب گرتا رہا ہوگا وہ بھی کتنا عظیم ہوگا۔

    جناب حسن رضی اللہ عنہ سینہ مبارک پر پیشاب کردیتے ہیں۔
    صحابہ پکڑنے کے لئے دوڑتے چلے آتے ہیں
    فرمایا: رہنے دو، کوئی بات نہیں میرا بیٹا ہے۔۔۔ اس جگہ پر پانی بہا دیتے ہیں

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جناب حسنین کریمین کا کسی بھی وقت آنا ناگوار نہ گزرتا تھا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان شہزادوں کو دیکھ کر ہنستے، مسکراتے اور خوش ہوا کرتے تھے۔

    جن کی وجہ سے خوش ہوا کرتے تھے، ان کی وجہ سے ہی ایک دن کالی کملی والے میرے آقا رونے لگے۔
    زار و قطار روتے چلے جاتے ہیں
    دونوں جہانوں کے سردار کی آنکھیں آنسو بہاتی چلی جاتی ہیں۔

    سیدنا علی پوچھتے ہیں
    میرے ماں باپ آپ پر قربان…!!
    آقا کیا ہوا۔۔۔؟
    فرمایا: جبرئیل علیہ السلام مجھے خبر دے کے گئے ہیں کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل کردیا جائے گا۔ اور کہا: اپ چاہیں تو آپ کو وہاں کی مٹی سونگھا سکتا ہوں۔۔۔
    فرمایا؛ ہاں! جبرئیل ہاتھ بڑھاتے ہیں اور مٹھی بھر مٹی مجھے پکڑا دیتے ہیں۔
    اسی وجہ سے آنکھوں پر قابو نہ پاسکا اور آنسو بہہ نکلے۔

    اس ضمن میں کئی احادیث میری نظروں کے سامنے سے گزرتی چلی جاتی ہیں۔۔

    میرے آقا روتے چلے جاتے ہیں

    اپنے شہزادے کے قتل ہونے کی خبر سن کر کیوں نہ روتے… !!

    آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو جاتے ہیں کہ کالی کملی والے آقا کو ان بد بختوں کی وجہ سے تکلیف پہنچی۔۔۔

    منظر بدلتا ہے۔۔۔۔!!!

    حضرت حسن، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کر کے کوفہ چھوڑ دیتے ہیں۔۔
    اور بنی ہاشم سمیت مدینہ طیبہ میں قیام پذیر ہو جاتے ہیں

    زندگی کے 47 سال گزارنے کے بعد آپ کی موت کا وقت آ جاتا ہے ۔۔۔
    آپ رضی اللہ عنہ کو اہلِ غدر زہر دے دیتے ہیں۔۔
    نبی کے نواسے کی تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔۔۔
    شدید گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی یے
    کہنے والے نے کہا اے ابو محمد۔۔۔!!!
    یہ گھبراہٹ کیسی۔۔۔؟؟
    یہ تکلیف کیسی۔۔۔؟؟
    ابھی جسم سے روح جدا ہو جائے گی تو سامنے
    اپنے نانا جناب رسول اللہ ﷺ، اپنے والدین( علی و فاطمہ)، اپنی نانی خدیجہ، اپنے ماموں، اپنے چچا، اپنی خالائوں کو سامنے پائیں گے۔۔۔
    یہ سنتے ہی تکلیف دور ہو جاتی ہے، گھبراہٹ ختم ہو جاتی ہے۔

    جنازے کا وقت آتا ہے۔۔۔
    اہلِ علم اور نیک لوگوں کے جنازے میں ہزاروں، لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں۔
    لیکن!
    یہ جنازہ تو فاطمہ کے لخت جگر کا ہے
    یہ جنازہ تو آقائے کائنات کے شہزادے کا ہے
    جہاں تک نگاہ جاتی ہے لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں
    یوں محسوس ہوتا کہ لوگوں کا وسیع سمندر یہاں امڈ آیا ہے۔
    مدینہ اپنی بے انتہا وسعتوں کے باوجود تنگئ داماں کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔

    منظر ایک بار پھر بدلتا ہے۔۔۔۔!!!

    جناب رسالت مآب کی پیشینگوئی کا وقت ہوا چاہتا ہے
    کوفی آپکو خطوط بھیج کے بلاتے ہیں
    جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سمیت جاتے ہیں

    کوفہ پہنچتے ہیں کہ کوفی اپنی باتوں سے مکر جاتے ہیں
    اور آپ ابن زیاد کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوجاتے ہیں۔۔

    وہ وقت آگیا جس کی وجہ سے سید المرسلین کی عیون سے زاروقطار آنسو مبارک نکلے تھے

    وہ لمحہ آن پہنچا جس کی وجہ سے پھول سا چہرہ بھی مر جھا گیا تھا

    ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اس واقعہ کی خبر پہنچتی ہے تو فرماتی ہیں:

    "کیا انہوں نے ایسا کیا ہے۔۔۔؟
    اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے! یہ کہہ کر بیہوش ہو جاتی ہیں”

    فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جگر گوشے کی شہادت پر جِن بھی رونے لگتے ہیں۔۔
    ابن مرجانہ اس چہرے پر لاٹھی مارتا ہے جو نبی ﷺ کے مشابہ تھا
    جس چہرے پر سرور کونین کے لب مبارک لگتے رہے۔۔ !!

    ابن مرجانہ پر تا قیامت لعنت برستی رہے گی

    ڈنکے کی چوٹ پہ ظالم کو برا کہتی ہوں

    ہر اس شخص پر لعنت ہے جس کا سیدنا و محبوبنا و امامنا الحسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت میں کسی قسم کا حصہ تھا
    یا الٰہی۔۔۔۔!! ہمارے دلوں کو اہلِ بیت کی محبت سے منور فرما اور روز قیامت ہمیں ان کے ساتھ اٹھانا ۔۔۔ ( آمین)

  • پاکستان کرکٹ بورڈ کا کشمیر میں ٹی 20 میچ کروانے کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ کا کشمیر میں ٹی 20 میچ کروانے کا اعلان

    مظفر آباد (اے پی پی ) پاکستان کرکٹ بورڈ نے آزاد کشمیر کے شہر مظفر آباد میں ٹی 20 فیسٹیول میچ کروانے کا اعلان کردیا.

    تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن 20-2019 کا آغازفیسٹیول میچ سے کرنے کا اعلان کیا ہے، فیسٹیول میچ 6ستمبر کو دفاع پاکستان کے روز مظفرآباد میں کھیلا جائے گا،میچ کے انعقاد کا مقصد خطے میں کھیل کو فروغ دینا ہے،ٹی ٹوئنٹی میچ کےلئے پی سی بی نے مظفر آباد کرکٹ اسٹیڈیم کا انتخاب کیا ہے، یہاں آئندہ ڈومیسٹک سیزن میں قائداعظم ٹرافی کے سیکنڈ الیون ٹورنامنٹ کا ایک میچ بھی کھیلا جانا ہے،پی سی بی چیئرمین الیون اور آزاد جموں و کشمیرپرائم منسٹر الیون کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچ 6 ستمبر کی صبح 10 بجے شروع ہوگا، میچ میں قومی کرکٹرز مقامی کھلاڑیوں کے ہمراہ میدان میں اتریں گے،قومی کھلاڑیوں میں سرفراز احمد، اظہر علی، امام الحق، بابراعظم، عابد علی، شان مسعود، اسد شفیق، بلال آصف، محمد رضوان، راحت علی اور عثمان شنواری کے نام شامل ہیں، سابق کپتان مصباح الحق بھی میچ میں ان ایکشن ہوں گے.

    سرفراز احمد پی سی بی چیئرمین الیون کی قیادت کریں گے جبکہ ٹیم میں شامل مقامی کھلاڑیوں میں بابر خالق، فیضان سلیم، معین پرویز، ثقلین گیلانی، شاداب مجید اور عثمان معروف کے نام شامل ہیں، آزاد جموں و کشمیر پرائم منسٹر الیون کی قیادت اظہر علی کریں گے، ٹیم میں شامل مقامی کھلاڑیوں میں عاقب لیاقت، حسن رضا، نوید ملک اور راجہ فرحان شامل ہیں.

  • اشیز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ کیلئے آسٹریلوی ٹیم کا اعلان

    اشیز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ کیلئے آسٹریلوی ٹیم کا اعلان

    مانچسٹر (اے پی پی) اشیز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ کیلئے آسٹریلوی ٹیم نے سکواڈ کا اعلان کردیا، سٹیو سمتھ اور مچل سٹارک کی واپسی ہوئی ہے جبکہ عثمان خواجہ ٹیم سے آﺅٹ ہوگئے.

    تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا نے انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ کیلئے 12 رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، فٹنس مسائل سے نجات کے بعد سٹیو سمتھ کو دوبارہ سکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے، فاسٹ باﺅلر مچل سٹارک کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے، سٹیو سمتھ کی جگہ تیسرے ٹیسٹ میں شامل کئے گئے ٹاپ آرڈر بلے باز عثمان خواجہ کو ناقص کارکردگی پر ڈراپ کر دیا گیا ہے جبکہ فاسٹ باﺅلر جیمز پیٹنسن کو ریسٹ دی گئی ہے، اعلان کردہ حتمی سکواڈ میں ٹم پائن (کپتان)، ڈیوڈ وارنر، مارکوس ہیرس، مارنس، سٹیو سمتھ، تراوس ہیڈ، میٹ ویڈ، کمنز، پیٹر سڈل، مچل سٹارک، نیتھن لائن اور ہیزلووڈ شامل ہیں۔

    دوسری جانب انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین چوتھا ٹیسٹ میچ بدھ سے مانچسٹر میں شروع ہوگا، دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز 1-1 سے برابر ہے۔