Baaghi TV

Author: +9251

  • ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ ہیک کر لیاگیا

    ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ ہیک کر لیاگیا

    ہیکروں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو جیک ڈورسی کا اکاونٹ ہیک کر لیا۔ اکاﺅنٹ ہیک ہونے کے بعد تقریباً 15 منٹ تک انتہائی اشتعال انگیز اور نسل پرستانہ پیغام ٹوئٹ ہوئے۔

    کچھ اشتعال انگیز پیغام جیک اکاونٹ کے ذریعے براہ راست پوسٹ کیے جبکہ دوسروں نے دوسرے اکاونٹس سے یہ پیغامات ری ٹویٹ کیے

    انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق خود کو چکلنگ سکواڈ سے منسوب کرتے ہوئے ایک گروپ نے جیک ڈورسی کے اکاﺅنٹ کی ہیکنگ کی ذمہ داری قبول کرلی۔

    اگر چہ ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو کا اکاﺅنٹ 30منٹ بعد ریکور ہو گیا تاہم یہ ٹوئٹر کے سیکورٹی سسٹم پر سوالیہ نشان ضرور لگا گیا ہے۔

    ٹوئٹر انتظامہ نے بعد ازیں ایک ٹویٹ میں کہا کہ اکاونٹ اب محفوظ ہے اور اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ ٹوئٹر کے سسٹمز سے سمجھوتہ کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس اکاونٹ کے 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیکروں نے کس طرح جیک ڈورسے کے اکاونٹ تک رسائی حاصل کی۔

  • ایلیٹ فورس کا ہتھیار لہرا کرمودی کو پیغام

    ایلیٹ فورس کا ہتھیار لہرا کرمودی کو پیغام

    کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی پروگرام میں ایلیٹ فورس نے ہتھیاروں سمیت شرکت کی اور مودی حکومت کو پیغام دیا کہ ہم کشمیر یوں کی مدد کے لیے ہر سطح پر جانے کے لیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اپیل پرملک کے طول و عرض میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔ ہرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان پروگرامز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دیگر سرکاری شعبوں کی طرح ایلیٹ فورس کا جوش و ولولہ بھی دیدنی تھا۔ پروگرام کے دوران ایلیٹ فورس کے اہلکار ہتھیار لہرا کرکشمیریوں کے حق میں نعروں کا جواب دیتے رہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اپیل پرمقبوضہ جموں کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستانی قوم نے کشمیر آورمنایا ۔کشمیر آور دن 12 سے ساڑھے 12 بجے تک منایا گیا ، اس دوران ملک بھر میں سائرن بجائے گئے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور آزاد کشمیر کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا، جس کے ساتھ ہی تمام افراد اپنے مقامات پر کھڑے ہوگئے۔

  • ہم ہیں سفیرِ کشمیر, ہاں ہم کھڑے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    ہم ہیں سفیرِ کشمیر, ہاں ہم کھڑے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    جنگ, جنگ آخر ہے کیا؟

    آزادی, آزادی آخر ہے کیا؟

    قومی غیرت و حمیت, قومی غیرت و حمیت آخر ہے کیا؟

    بیشک جنگ وہ کیفیت ہے جو کسی امت, کسی قوم کسی منظم اور متحد گروہ پر اپنی خودمختاری کی حفاظت اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور اعلائے کلمتہ اللہ کی سربلندی کی خاطر ظہور پذیر ہوتی ہے, پر جنگ کی نوعیت الگ ہوسکتی ہے یہ ذہن نشین رہے۔

    آزادی وہ اختیار اور ہتھیار ہے جس کی سج دھج اور چمک سے جنگی کیفیت دو چند ہی نہیں ہوتی بلکہ کسی بھی امت, قوم یا منظم اور متحد گروہ کی جنگی تقویت کا مضبوط ستون ثابت ہوتی ہے اور بیشک آزادی کا تسلسل ایک اہم وجہ ہے جنگ اور جنگی کیفیت کی لیکن پھر یاد رہے کہ جنگ کی نوعیت کچھ بھی ہوسکتی ہے۔

    اور قومی غیرت و حمیت وہ ریسپانس ٹائم اور سٹریٹیجی ہے جس پر ساری جنگوں اور آزادی کا دارومدار ہے کہ جو قوم غیرت و حمیت سے عاری ہوجائے پھر وہ آزاد بھی ہو اور جنگی سازوسامان سے لیس بھی ہو تو جنگ ان کے کرنے کی چیز نہیں کہ جنگ ایک کیفیت کا نام ہے جو میں پہلے واضح کرچکا اور جنگ صرف خون بہانے کا ہی نام نہیں اور دنیا تباہ کرنا قطعی جنگ نہیں بلکہ جنگ کی نوعیت ہمیشہ الگ ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے یہ ذہن نشین رہے۔

    اب سمجھیں کہ یہ گزشتہ 27 دن سے بھارت میں کیا ہوا, کشمیر میں کیا ہورہا, پاکستان کیا کررہا اور دنیا کا ماحول کیسا بننا تھا پر کیسا بن رہا ہے؟

    جلد بازی یا عجلت کے بارے مشہور ہے کہ یہ شیطانی فعل ہے اور یہ حقیقت بھی موجود اور مسلم ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور بلخصوص ایسے انسان شیطان کا پرائم ٹارگٹ ہیں جن میں انسانیت اور مسلمانیت کے جراثیم اتمام حجت سے لیکر پیک لیول پر موجود ہوں۔

    اور وجہ کوئی جذباتی اور شدید انسانی و مسلمانی ہو تو حساس اور فکر مند انسان کا عجلت میں کچھ کرنا اور کہہ جانا ایک فطری سی بات ہے کہ انسان کے کمزور لمحات وہ ہوتے ہیں جب انسان کے جذبات تتر بتر اور شدید ٹھیس کا شکار ہوں۔

    میں ڈھیٹ اور لکیر کا فقیر نہ شروع دن سے تھا اور نہ ہوں اور نہ ہی ان شاء ﷲ ہوں گا کہ میرا مسئلہ کشمیر کے حالیہ تغیر کے بعد اوائل دنوں میں موقف حکومت اور ریاست کی بابت بہت سخت بلکہ سخت ترین رہا ہے کہ جو کردار ادا کیا جارہا تھا تب وہ مجھے کچھ خاص مائل نا کرسکا تھا کہ کیفیت شدید جذباتی تھی اور اب بھی ہے لیکن چونکہ حکومت اور ریاست کی اپنی ذمہ داریاں اور مجبوریاں بہرحال تھیں اور ہیں جو میں پرانے دنوں کی طرح سمجھ رہا اور سمجھ چکا ہوں۔

    اب جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ عمران خان نے بطور سربراہ مملکت جس طرح سفارتی, سیاسی اور عسکری چینلز کی ترتیب لگائی ہے وہ اگر اسی سٹریٹیجی پر کاربند رہا تو بھارت یا مودی ایک وقت میں بند گلی میں پہنچنے والا ہے کہ اتمام حجت انجام دینا بھی کسی چڑیا کا نام ہے کسی دشمن کو اس کے منہ کے مطابق چپیڑ مارنے سے پہلے۔

    آج خان کی بدولت اس عوام نے وہ جذبہ اور جوش و خروش دکھایا ہے کہ اوپر موجود تمام سوالوں کے جوابات پر اس قوم کو پرکھ کر دیکھ لیں تو آپ کو قطعی مایوسی نہیں ہوگی کہ تمام سوالوں کے جوابات پر یہ قوم کھری پائی جاتی ہے۔

    مجھے معلوم ہے بلکہ اللہ کی ذات پر حد درجہ بھروسے کے بل پر یقین ہے کہ آج ایک آواز پر میرے ملک کے گلی گلی, محلے محلے اور شہر شہر میں جس طرح میرا ہر پاکستانی کشمیر کی خاطر آواز بلند کرنے نکلا بلکل اسی طرح حکومت و ریاست کی جانب سے حی اعلی الجہاد حی اعلی الجہاد کی اذان پر نکلیں گے۔

    آج "کشمیر آور” کی گونج دنیا کے ہر فورم, ہر میڈیا, ہر ادارے, ہر انسانی محفل میں سنائی دی اور دے رہی ہے کہ ابھی تک جو نعرہ تھا کہ "ہم کشمیریوں کے سنگ کھڑے ہیں” کا عملی نمونہ دیکھ لیا ہے دنیا نے کہ جی ہاں "ہم کھڑے ہیں” اور اگر دنیا نے اسی طرح ہمیں نظر انداز کیا اور ہماری بات نہ سنی جیسے ماضی میں سلوک روا تھا تو ہم آج کھڑے ہیں لیکن بہت جلد چل پڑیں گے اور ہماری منزل بیشک روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم پھر کشمیر کا چپہ چپہ بازیاب کروانے سے پہلے رکیں گے نہیں کہ ہمیں روکنا شروع کرنے سے زیادہ مشکل اور صبر آزما کام ہے اور اس کا محض دعوہ نہیں کہ روس اور امریکہ کی تاریخ میں جس ملک کا نام پچھلے 40 سال سے سب سے زیادہ درج ہورہا وہ ہم ہیں, وہ پاکستان ہے۔

    شکریہ پاکستانیوں شکریہ حکومت پاکستان اور شکریہ تمام اداروں کا کہ جو سب آج محض ایک کاز کی خاطر گھروں سے نکلے اور دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ ہمیں ہلکا مت لو, ہم تو زخمی بھی ہوں تو حوصلے پست نہیں ہوتے اور ہمارا قہر کم نہیں ہوتا لیکن ہماری خاموشی اور امن کو اولیت دینے کی عادت کو ہماری کمزوری نا سمجھا جائے۔

    عمران خان اور ریاست کو اب کشمیر کے حوالے سے باقاعدہ ایمرجنسی نافذ کردینی چاہیئے ہر جہت پر کہ قوم کا ہر فرد "سفیرِ کشمیر” بنے اور جہاں جائے وہاں کشمیر کو ساتھ لیتا جائے اور دنیا کو باور کراتا رہے کہ پاکستان ہی کشمیر ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔

    میں آج والی پاکستانی قوم کے دم پر پرعزم ہوں کہ جب بھی اعلان ہوا تو آج سے دوگنا عوام سرحد پار جاکر کشمیریوں کا بدلا چکانے میں بھی پیش پیش رہے گی کہ آخر کار ہم پر جنگی کیفیت مسلط کردی جائے گی اور تب ہمیں آزادی جیسے ہتھیار کے بل پر قومی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنا ہی پڑے گا۔

    یاد رہے کہ ہم ہیں سفیرِ کشمیر اور ہاں ہم کھڑے ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہماری کوششوں اور محنتوں کو خالص کردے اور ہماری دعاؤں کو کشمیریوں کے حق میں قبول کرلے اور اگر ہم پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو ہمیں اپنے سلف کی طرح ثابت قدم رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

  • ڈینگی ایک بار پھر سر اٹھانے لگا

    ڈینگی ایک بار پھر سر اٹھانے لگا

    لاہور : لاہور میں ایک بار پھر ڈینگی سر اٹھانے لگے ، ڈینگی میں متبلا مریضوں کے کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے، حمید لطیف کے بعد شالیمار ہسپتال میں بھی ڈینگی کی مریضہ کی تصدیق کردی گئی۔

    ماہرین طب کے مطابق موسم میں تبدیلی کیساتھ ہی شہرمیں ڈینگی سر اٹھانے لگا۔ ڈینگی میں متبلا مریضوں کے کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے۔ حمید لطیف کے بعد شالیمارہسپتال کی مریضہ حنا کنول کی ڈینگی بخار میں مبتلاہونے کی تصدیق کردی گئی۔

    واضح رہے گزشتہ روز حمید لطیف ہسپتال میں شاہین آفریدی کو ڈینگی بخار کی تصدیق کی گئی۔دوسری طرف حکومت نے حفاظتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں احکامات دے دئیے گئے ہیں

  • جنرل موٹرز  نے 350ملازمین فارغ کر دیے

    جنرل موٹرز نے 350ملازمین فارغ کر دیے

    جنرل موٹرز نے تھائی لینڈ میں350ملازمین کو فار غ کر دیا ہے جو کہ کل افرادی قوت کا 15فیصد سے زائد بنتے ہیں۔
    بھارت، ہیرے کا کاروبار بھی مندی کا شکار
    خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مشرقی تھائی لینڈ کے لئے لیبر ریلیشنز گروپ کے کوآرڈینیٹر ، بونیون سوکمائی نے بتایا کہ جنرل موٹرز (تھائی لینڈ) کے 350 سے زائد ملازمین اور ٹھیکیدار وں کو فارغ کیا گیا ہے۔

    بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ ، "ہم ان ملازمین کی مدد کے لئے ہر اقدام اٹھا رہے ہیں جن کے کردار پر اثر پڑتا ہے۔”

    بینکاک پوسٹ کے مطابق، اس کمپنی کے پاس تھائی لینڈ میں تقریبا 1900 ملازمین ہیں، تھائی لینڈ دنیا کے اعلی ترین مینوفیکچررز کے لئے علاقائی گاڑی بشمول ٹویوٹا ، ہونڈا اور ہارلی ڈیوڈسن کی تیاری اور برآمد کا اڈہ ہے۔

    آٹو انڈسٹری تھائی لینڈ کی معیشت کا تقریبا 10فیصد ہے۔ تھائی لینڈ میں جنرل موٹرز کے دو پلانٹس ہیں ایک گاڑیوں کی اسمبلنگ کیلئے جبکہ دوسرا پاور ٹرین اور انجنوں کے لئے ہے۔

  • پاکستانی ڈاکٹرز کا کشمیریوں کے علاج کے لیے ایل او سی عبور کرنے کا اعلان

    پاکستانی ڈاکٹرز کا کشمیریوں کے علاج کے لیے ایل او سی عبور کرنے کا اعلان

    لاہور: کشمیری مسلمانوں کو تکلیف میں نہیں‌دیکھ سکتے ، پاکستانی ڈاکٹرز نے کشمیریوں کے علاج کے لیے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق یو ایچ ایس اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیکل نے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ڈاکٹرز نے کشمیریوں کے علاج کے لیے ایل او سی عبور کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستانی ڈاکٹرز نے اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کو خط لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں صحت عامہ کی ابتر صورت حال ہے، تشویش ناک حالت میں مبتلا مریضوں کو بھی کشمیر سے باہر نیہں بھیجا جارہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس خط کے متن کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بچوں کی خوراک، ادویات کی سپلائی بھی نہیں دی جارہی ہے، مظلوم کشمیریوں کی مدد اور علاج کے لیے مقبوضہ کشمیر جانا چاہتے ہیں۔

    ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی مدد اور علاج کے لیے مقبوضہ کشمیر جانا چاہتے ہیں، پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ بھارت ڈاکٹرز کی ٹیم کو کشمیریوں کو علاج معالجہ کرنے دے۔

  • بس کھائی میں جا گری، 8 لاشیں نکال لی گئیں،باقی لاپتہ ، ہلاکتوں کے بڑھنے کا خدشہ

    بس کھائی میں جا گری، 8 لاشیں نکال لی گئیں،باقی لاپتہ ، ہلاکتوں کے بڑھنے کا خدشہ

    اپر کوہستان: ہزارہ ڈویژن کے ضلع اپر کوہستان میں ایک مسافر بس پل ٹوٹنے سے کھائی میں جا گری.خوف ناک حادثہ تحصیل کندیا کے مقام پر پیش آیا، گاڑی میں 31 افراد سوار تھے، 8 لاشیں نکال لی گئیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق یہ حادثہ پل ٹوٹنے سے پیش آیا، گاڑی کھائی میں جار گر گئی، اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، ڈی سی او نے حادثے میں 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، دیگر افراد لاپتا ہیں۔

    انتظامیہ کی جانب سے اس خوف ناک حادثے کے بعد ضلع بھر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔اپر کوہستان خیبر پختو نخوا کا ضلع ہے، حادثہ تحصیل کندیا کے علاقے بگڑو میں پیش آیا، مزید ریسکیو ٹیمیں ٹیمیں جائے حادثہ کی جانب روانہ کردی گئیں۔

  • کشمیر سے ٹیلی فون، انٹرنیٹ بندش فوری ختم کیا جائے ، ہیومن رائٹس واچ نے بڑا مطالبہ کردیا

    کشمیر سے ٹیلی فون، انٹرنیٹ بندش فوری ختم کیا جائے ، ہیومن رائٹس واچ نے بڑا مطالبہ کردیا

    نیویارک : بھارت کشمیریوں کے حقوق کا قاتل بن گیا ہے ، تمام تر انسانی بنیادی حقوق دبا لیے گئے ہیں، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی بندش فوری ختم کرے، پابندیوں سے کشمیری آبادی میں غصہ اور افواہیں جنم لے رہی ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق ہیومن رائٹس واچ ساؤتھ ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون پر طویل عرصے سے پابندی ہے جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ لہٰذا بھارت کشمیر سے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی بندش فوری طور پر ختم کرے، میناکشی گنگولی کا مزید کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کی بندش سے کشمیر میں آباد لوگوں کو غیرمتناسب نقصان پہنچ رہا ہے۔

  • ٹرمپ کی پرسنل اسسٹنٹ کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا ، خطر ناک وجہ سامنے آگئی

    ٹرمپ کی پرسنل اسسٹنٹ کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا ، خطر ناک وجہ سامنے آگئی

    واشنگٹن: صدر ٹرمپ کی فیملی میٹنگ کی تفصیلات لیک کرنے پر ان کی پرسنل اسسٹنٹ کو عہدے سے ہٹادیا گیا۔ امریکی صدر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میڈلین ان کے ساتھ کام کررہی تھیں تاہم امریکی صدر کی آف دی ریکارڈ فیملی میٹنگ کی تفصیلات میڈیا نمائندوں کو بتانے پر ان سے استعفیٰ طلب کرلیا گیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق میڈیا نمائندوں ںے وائٹ ہاؤس کے عملے سے ٹرمپ کے فیملی کے ساتھ عشائیے کی تفصیلات پر بات چیت کی جس کے بعد صدر کی پی اے کو عہدے سے ہٹایا گیا۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک سابق عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اپنی پرسنل اسٹنٹ کے کافی قریب سمجھے جاتے تھے جبکہ ان کا دفتر بھی اوول آفس کے بالکل سامنے تھا۔ٹرمپ انتظامیہ میں شامل ہونے سے قبل میڈلین نے چیف آف اسٹاف ری پبلکن نیشنل کمیٹی کے اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

  • بھارت، ہیرے کا کاروبار بھی مندی کا شکار

    بھارت، ہیرے کا کاروبار بھی مندی کا شکار

    بھارتی معاشی بحران کا اثر ہیرے کی منڈی تک پہنچ گیا ہے۔ پچھلے چند ماہ میں ہی گجرات کی ہیروں کی 40فیکٹریوں میں کام ٹھپ ہو گیا ہے۔ جبکہ 60ہزار ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔
    بھارتی معیشت کا برا حال، جی ڈی پی کی شرح 6 سالوں میں سب سے کم!
    بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے سورت کو ہیرا کاروبار کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔ کاروباری حضرات کے مطابق نومبر 2016 کے بعد سے ہی حالات کافی مشکل ہو گئے تھے۔

    ہیرا کاروبار میں اس بحران کی ایک بڑی وجہ پوری دنیا میں ہندوستانی ہیرے کی طلب میں کمی بھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانی ہیروں کی چین میں طلب 20 فیصد کم ہوئی ہے۔ جب کہ خلیج ممالک، یورپ اور امریکہ میں بھی طلب میں واضح کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ہیرا کاروبار میں 15.11 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ جولائی میں کَٹ پالش ہیرے کی برآمد 18.15 فیصد کم ہو گئی ہے۔

    رواں جولائی میں صرف 18633.10 کروڑ روپے کے ہیرا برآمد ہوا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے 11 فیصد کم ہے۔

    واضح رہے کہ ہیرے کے کاروبار سے صرف گجرات میں ہی 20 لاکھ لوگ منسلک ہیں، جس میں سے تقریباً 8 لاکھ لوگ ہیرے کی کٹنگ اور پالیشنگ کے کام میں لگے ہیں۔ معاشی بحران کے برے دور سے گزر رہی کئی کمپنیاں ا?ج کل صرف ایک شفٹ میں کام کرا رہی ہیں۔دریں اثناءہیرے کی قیمت میں بھی 6 سے 10 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔