Baaghi TV

Author: +9251

  • حمزہ علی عباسی نے نمل خان کو انسٹاگرام پر فالو کرلیا

    حمزہ علی عباسی نے نمل خان کو انسٹاگرام پر فالو کرلیا

    لاہور: اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی ہونے والی بیوی نمل خان کو انسٹاگرام پر فالو کرلیا.

    تفصیلات کے مطابق حمزہ علی عباسی نے نمل خان کو انسٹاگرام پر فالو کرلیا. حمزہ علی عباسی نے اپنے اکاؤنٹ پر صرف نمل خان کو ہی فالو کیا ہے، اس کے علاوہ ان کے 2 لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں. دوسری جانب حمزہ علی عباسی نے سوشل میڈیا پر شادی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ شادی اللہ کو خوش کرنے کیلئے کر رہے ہیں، کچھ لوگ شادی محبت ہوجانے کی وجہ سے کرتے ہیں لیکن وہ شادی اللہ کو خوش کرنے کیلئے کر رہے ہیں.

    واضح رہے کہ انہوں نے شادی کی تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "25 اگست کو نکاح کی تقریب سادگی سے کی جائے گی اور ولیمہ کی تقریب بھی انتہائی سادگی کے ساتھ 26 اگست کو کی جائے گی، اور پھر ہم دونوں باقی زندگی اللہ کو خوش رکھنے کی کوشش کریں گے”.

  • کشمیر میں مسلمان اور اسلام خطرے میں ہیں، علماء بتائیں ان حالات میں شریعت کا کیا حکم ہے ، عبداللہ گل

    کشمیر میں مسلمان اور اسلام خطرے میں ہیں، علماء بتائیں ان حالات میں شریعت کا کیا حکم ہے ، عبداللہ گل

    لاہور : مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر بھارتی مظالم کی انتہا ہوگئی ، مسلمان اور اسلام دونوں اس وقت خطرے میں ہیں، جب مسلمان اور اسلام دونوں پر مشکل وقت ہوتو ان حالات میں علمائے دین کی طرف رجوع کریں‌اور پوچھیں کہ شریعت کیا کہتی ہے ، ان خیالات کا اظہار عبداللہ گل نے ایک ٹی وی پروگرام میں کیا

    ذرائع کے مطابق ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل مرحوم کے صاحبزادے عبداللہ گل نے کہا کہ دنیا میں اس وقت نسل کشی ہورہی ہے ، برما ہو یا بوسنیا مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی ، دشمن نے مشرقی تیمور کو جد ا کرالیا ، سوڈان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا گیا ، دنیا معاشی جانور بن چکی ہے.

    عبداللہ گل نے کہا کہ دنیا کو بھارت میں اپنے معاشی فوائد نظر آتے ہیں، انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خوف کی پالیسی تباہ کردے گی ، عبداللہ گل نے کہا کہ کیا بھارت بلوچستان میں سازشوں سے باز آجائے گا، کیا بھارت اکھنڈ بھارت کے نعرے سے دستبردار ہوجائے گا،

    نجی ٹی وی میں بات کرتے ہوئے عبداللہ گل نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے پہلے ہی بھارت نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کردیا اب وہ کشمیر کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ رہا ہے ، عبداللہ گل نے کہا کشمیرکو ہتھیانے کا یہ واقعہ سقوط ڈھاکہ ہی ہے ، ہمیں ابھی کھل کر سامنے آنا چاہیے

  • سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں 3 سال اضافے پر غور، وزیراعظم نے کمیٹی بنا دی

    سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں 3 سال اضافے پر غور، وزیراعظم نے کمیٹی بنا دی

    وزیراعظم عمران خان نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں 3 سال اضافے پر غور کے لیے کمیٹی بنا دی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں‌ نے ڈاکٹرعشرت حسین کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے اور اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، نوٹیفکیشن میں‌ کہا گیا ہے کہ کمیٹی سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں 3 سال اضافے پرغور کرے گی،

    وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کےدیگرارکان میں دفاع،خزانہ اوراسٹیبلشمنٹ کے سیکریٹریز شامل ہیں

  • عمرہ کیلئے ای ویزہ کب سے ملے گا؟ خبر آگئی

    عمرہ کیلئے ای ویزہ کب سے ملے گا؟ خبر آگئی

    مکہ المکرمہ (اے پی پی) سعودی حکومت عمرہ کے لئے ای ویزہ کے باقاعدہ اجراء کا آغاز 24 اگست سے کرے گی.

    تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے عمرہ کے لئے ای ویزہ کا باقاعدہ اجراء 24 اگست سے شروع ہو گا۔ سعودی وزارت حج و عمرہ کے انڈر سیکرٹری عبدالعزیز وضان نے کہا ہے کہ اس مرتبہ نئے عمرہ سیزن کے لئے ایک کروڑ ویزے جاری کئے جائیں گے جبکہ عمرہ کے لئے ای-ویزوں کے اجراءکے لئے خصوصی طور پر تشکیل دیئے جانے والے پلیٹ فارم سے ای ویزوں کا اجراء 24 اگست سے شروع ہو ہورہا ہے جہاں پر عمرہ کا ویزہ 24 گھنٹوں سے کم وقت میں جاری ہو گا۔

    انہوں نے بتایا کہ عمرہ کے ویزہ کے حصول کے لئے نئے اور جدید ای ویزہ پلیٹ فارم کو ”دی سنٹرل پلیٹ فارم فار دی الیکٹرانک ایشواینس آف دی عمرہ ویزاز“ کا نام دیا گیا ہے۔

  • آخر پاکستان میں لوگ فوری جنگ کے کیوں خواہاں ہیں؟—— تحریر: حافظ احتشام الحق

    آخر پاکستان میں لوگ فوری جنگ کے کیوں خواہاں ہیں؟—— تحریر: حافظ احتشام الحق

    مودی سرکار نے کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے اپنے گلے میں جو گھنٹی باندھی ہے اس کا انجام اگر کسی کو بالخیر نظر آتا ہے تو اسکو تھوڑا سا انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان میں اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ پاکستان بھارت کو “فوری “ اور “منہ توڑ” جواب دے ۔

    حیرت انگیز طور پر اس مطالبے میں پیش پیش وہ لوگ ہیں جو امن کی بھاشا کا راگ الاپتے آئے ہیں اور پاکستانی فوج کا مذاق اڑانے اور پاکستانی پالیسیز کو غلط قرار دینے کے ساتھ ساتھ حکومت اور فوج کے خلاف کچھ نہ سننے والوں کو “مطالعۂ پاکستان” اور “بوٹ پالشیا” ہونے کا طعنہ دیتے آئے ہیں۔

    میرا ان سب سے ایک ہی سوال ہے۔ آخر آپ کو جنگ کی اتنی جلدی کیوں ہے؟

    مودی سرکار نے کشمیر پہ جو کٹا کھولا ہے وہ اگر ان کے لئے خود مسئلہ بننے والا ہے تو آخر ہم اس وقت کا انتظار کیوں نہیں کرسکتے جب تک کہ ایسا کرنا آخری اور کاری ضرب کے مترادف ہوگا؟

    مودی سرکار کے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر آج جس طرح عالمی میڈیا کا ردعمل آرہا ہے کم از کم میں نے پچھلے پچیس تیس سال میں ایسا نہیں دیکھا۔ جس طرح مغربی میڈیا ان مظالم کو پیش کر رہا ہے اس پر اگر کسی کو لگتا ہے کہ انڈین حکومت پر پریشر نہیں تو وہ غلطی پر ہے ۔

    انڈیا پہ عالمی دباؤ بتدریج بڑھ رہا ہے ۔ اور نہ صرف یہ بلکہ پوری دنیا میں موجود مسلمان، اور خصوصا پاکستانی اور کشمیری ملکر جس طرح سے سوشل میڈیا کے زریعے اس مسئلے کو ہائی لائیٹ کر رہے ہیں اس سے مودی سرکار کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹوئیٹر ہینڈلر سے سرکاری سطح پر انڈیا کے خلاف پروپیگنڈہ کے ٹوئیٹس کو ہینڈل کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا ہے۔

    یہ تو تھی بیرونی صورتحال اندرونی طور پر اپوزیشن بھی اس سلسلے میں اپنا پریشر مودی سرکار پر بتدریج بڑھا رہی ہے۔ کئی اسٹیٹ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے “constitutional coup “ اور آئین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔

    اندرونی طور پر دوسرا پریشر سپریم کورٹ کا بھی ہوگا ۔ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ کشمیر کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر سپریم کورٹ میں آج اس کیس کو سننے کا آغاز ہوا۔ انڈین سپریم کورٹ سے اس ضمن میں بہت امید ہے کیونکہ اس آرٹیکل کا خاتمہ اور (سو کالڈ) الیکٹڈ گورنمنٹ کو اریسٹ کرکے منسٹری کے کنٹرول میں دینا براہ راست انڈین آئین کی کچھ شقوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ صورتحال خطرناک ہے اور حکومت کو کچھ وقت دیا جائے ۔ اور جسطرح دو ہزار سولا میں برہان وانی کی شہادت کے وقت کے صورتحال تھی اس سے بچنے کے لئے کرفیو نافذ کیا گیا ۔ اور کیمیونیکیشن پر بین ہے ۔ لیکن جلد اسمیں بہتری آئے گی۔ حکومتی درخواست پر سماعت دو ہفتے تک ملتوی کی گئی ہے لیکن پٹیشنر اگر اگلے چند دن میں صورتحال سے مطمعین نہ ہو تو عدالت سے رابطہ کرسکتا ہے ۔ جو یقیناً ہونے والا ہے کہ کشمیر کی صورتحال خراب تو ہوسکتی ہے بہتر نہیں ۔

    اندرونی طور پر تیسرا پریشر خود کشمیریوں کا ہے ۔ جسطرح سخت کرفیو اور سخت اقدامات کے باوجود کشمیری باہر نکلے اور دس اگست کو احتجاج کیا وہ پوری دنیا نے براہ راست دیکھا ۔ کشمیر کی جنگ آزادی “ناؤ اور نیور “ تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا روز کرفیو اور بہت بڑی تعداد میں فوج کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں کو احتجاج کرتےہوئے دیکھ کر مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگا رہی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کشمیر ایشو کو ہر سطح پر ہائی لائیٹ کر رہا ہے ۔ چاہے وہ سیکیورٹی کونسل ہو او آئی سی یا دیگر دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کا معاملہ ۔ پاکستانی عوام مسلسل حالت احتجاج میں ہے چاہے سوشل میڈیا ہو، ریلیاں اور مکمل احتجاج کا معاملہ ہر شہر اور ہر سطح پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ انڈیا کے یوم آزادی پر سرکاری سطح پر یوم سیاہ منانا ایک بہت اہم قدم ہے۔

    چائنا کا اس مسئلے پر تشویش کا اظہار اور پاکستان کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل میں اٹھانے کا ارادہ ایک الگ اہمیت رکھتا ہے ۔ جو اس مسئلے کو دو ملکوں کے بجائے تین نیوکلئیر پاور ممالک کے درمیان ہونے والے عالمی ایشو بنا دے گا۔

    انڈین چینلز پر پاکستان کے ہر اقدام پر بڑھتا ہوا شور اس بات کا ثبوت ہے کہ انڈیا اس وقت مسئلہ کشمیر کو خود اس نہج پر لا چکا ہے کہ جلد اس کے ایک منطقی حل کے سوا بلاخر کوئی چارہ نہ رہے گا ۔

    اس قسم کی چومکھی مودی سرکار کتنا برداشت کرے گی اس کا اندازہ اگلے چند دنوں میں بخوبی ہونے والا ہے۔ مودی سرکار اس پریشر کو ریلیز کرنے کے لئے یقیناً پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور
    انتخابات سے پہلے کی طرح کی کوئی کاروائی کرے یہ بعید از قیاس نہیں ۔ اور پاکستان اپنا آخری پتے اس وقت ہی شو کرے گا۔

    پاکستان پہل کرکے اس پریشر کو انڈیا سے اپنی طرف منتقل کرنے کی غلطی کے بجائے اسٹرٹیجیک موو لے رہا ہے ۔ کیونکہ یہ تو طے شدہ امر ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ طاقت سے ہی حل ہونا ہے ۔ لیکن ایک اچھا کھلاڑی نہ وقت سے پہلے اپنے ارادے کا اظہار کرتا ہے نہ اپنے اگلے قدم کا۔ اسلئے زرا دھیرج رکھئیے ۔ اور صحیح وقت پر صحیح فیصلے کا انتظار کیجئے.

  • مریم نواز نے مسلم لیگ کو ہائی جیک کرلیا ہے ، ن لیگ کی 35 سالہ زندگی خطرے میں ہے. شہباز شریف نے بالآخر زبان کھول دی

    مریم نواز نے مسلم لیگ کو ہائی جیک کرلیا ہے ، ن لیگ کی 35 سالہ زندگی خطرے میں ہے. شہباز شریف نے بالآخر زبان کھول دی

    لاہور : مریم نواز نے پارٹی کو ہائی جیک کرلیا ہے اور مریم نواز کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی 35 سالہ زندگی خطرے میں ہے ، ان خیالات کے اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے بالآخر کردیا ہی دیا ہے .

    معتبر ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے اپنے متعمد دوست سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پارٹی اور خاندان کو پہنچے والے نقصانات سے متعلق انہوں نے نواز شریف کو آگاہ کردیا ہے. یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہاز شریف نے نواز شریف کو آنے والے متوقع نقصان کے بارے میں باخبر کردیا ہے .

    ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ مریم نواز اب حمزہ شہباز کو نیب کے خلاف اکسانے کی سازش رچا رہی ہیں جبکہ خاندان کے دیگر افراد مریم نواز کے اس انداز اور کردار کو پسند نہیں کرتے اور وہ مریم نواز کے رویے سے پہنچنے والے نقصان سے دور ہی رہنا چاہتے ہیں ،

    ذرائع نے باغی ٹی وی کو بتایا یا کہ شہباز شریف اپنی قمر درد کے باعث ان دنوں مکمل بیڈ ریسٹ پر ہیں اور جمعرات کو خاندان کے افراد کے ساتھ ہونے والی نوازشریف سے ہونے والی ملاقات میں نہیں جائیں گے۔ شہباز شریف شریف عید کے روز آخری مرتبہ نوازشریف ملاقات کرنے گئے تھے جبکہ عید کی چھٹیوں کے باعث خاندان کی کسی اوری شخص کو نواز شریف سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی تھی۔

  • کینیڈا کا کشمیریوں‌ پر مظالم میں ملوث 7 بھارتی فوجی افسروں‌ کو ویزے دینے سے انکار

    کینیڈا کا کشمیریوں‌ پر مظالم میں ملوث 7 بھارتی فوجی افسروں‌ کو ویزے دینے سے انکار

    کینیڈا نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وہاں جاری بھارتی فوج کی بدترین دہشت گردی پر انڈیا کے سابق بھارتی فوجی افسران کو ویزہ دینے سے انکار کردیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کینیڈین امیگریشن نے بھارت کے 2 سابق لیفٹیننٹ جنرل، 3 سابق بریگیڈئیرز اور انٹیلی جنس کے 2 افسران کو ویزہ دینے سے انکار کیا ہے، ہندوستانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل امریت سنگھ جو سابق ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن اور کواٹر ماسٹر جنرل کے طور پر کام کرچکے ہیں، نے کینیڈا کی جانب سے ویزا نہ دیئے جانے پر ہندوستانی وزارت دفاع کو خط لکھ کر اس پابندی سے آگاہ کیا ہے،

    کینیڈین امیگریشن آفس کا کہنا ہے کہ تمام افسران مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں ملوث رہے ہیں، اس لیے مذکورہ سابق بھارتی فوجیوں کو ویزے نہیں دیے جارہے، بھارتی میڈیا سمیت دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا گیا ہے،

  • سری لنکن ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی یا نہیں؟ تازہ ترین خبر آگئی

    سری لنکن ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی یا نہیں؟ تازہ ترین خبر آگئی

    لاہور: دورہ پاکستان کے حوالے سے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو حکومت کی کلیئرنس کا انتظار ہے.

    تفصیلات کے مطابق دورہ پاکستان کے حوالے سے سری لنکن کرکٹ بورڈ نے گیند حکومت کے کورٹ میں ڈال دی، حکام کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل کلیئرنس کے منتظر ہیں۔ گزشتہ دنوں سری لنکن کرکٹ بورڈ کا ایک سیکیورٹی وفد موہن ڈی سلوا کی سربراہی میں پاکستان آیا، کراچی کے بعد لاہور میں بھی مہمانوں کو حفاظتی انتظامات سے آگاہ کیا گیا، متعلقہ اداروں کے حکام نے بریفنگ بھی دی۔ یہ اطلاعات بھی آئیں کہ سیکیورٹی وفد کی رپورٹ مثبت ہے،اب سری لنکن میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ رپورٹ پر بات چیت ضرور ہوئی لیکن اسے منظوری کیلیے ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ اس کیلیے بھی تعطل کا شکار ہے کہ بورڈ پاکستان سے کسی بھی قسم کا وعدہ کرنے سے قبل اپنی حکومت کی جانب سے کلیئرنس حاصل کرنے کا منتظر ہے، دوسری جانب سری لنکن میڈیا ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی سی بی کی جانب سے ٹور کے 2 شیڈول سری لنکن کرکٹ بورڈ کو بھجوائے گئے ہیں، ایک شیڈول کے مطابق ٹیسٹ میچز یو اے ای اور دسمبر میں محدود اوورز کے میچز پاکستان میں رکھے گئے جبکہ دوسرے شیڈول میں دونوں ٹیسٹ کے کراچی اور لاہور میں انعقادکا درج ہے، ٹور کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیے جانے سے قبل چند معاملات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا، حکومتی منظوری اور دیگر تحفظات دور ہونے کے بعد بھی اگلا مرحلہ کرکٹرز کو پاکستان آنے پر آمادہ کرنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ 2009ء میں لاہور ٹیسٹ کے دوران سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا،اس کے بعد پاکستان میں کھیلوں کے میدان ویران ہوگئے تھے، جس کے بعد سے ہی پاکستان میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا.

  • کچھ ایسا حال کرتی ہے پاک فضائیہ؟ وینا ملک کی ٹویٹس پر بھارتیوں‌ کو آگ لگ گئی، اہم خبر

    کچھ ایسا حال کرتی ہے پاک فضائیہ؟ وینا ملک کی ٹویٹس پر بھارتیوں‌ کو آگ لگ گئی، اہم خبر

    پاکستانی اداکارہ وینا ملک نے ہندوستانی ونگ کمانڈر ابھی نندن سے متعلق ایسی ٹویٹ‌ کی ہے کہ بھارتی میڈیا اور انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین اس پر سخت پیچ و تاپ کھاتے دکھائی دے رہے ہیں،


    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وینا ملک جو بھارتی فلموں‌ میں بھی کام کر چکی ہیں‌ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر پاکستانی فضائیہ کی کاروائی میں طیارہ تباہ ہونے کے بعد قید ہونے والے ہندوستانی ونگ کمانڈر ابھی نندن کی دو تصاویر شیئر کی ہیں‌جن میں‌ ایک تصویر میں ونگ کمانڈر ابھی نندن اپنے طیارے کے ساتھ پوز دینے والے انداز میں کھڑے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں وہ پاکستانی فوج کے قبضے میں ہیں اور زخمی حالت میں‌ ہیں،

    پاکستانی اداکارہ وینا ملک نے ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” تصویر ساری کہانی بیان کردیتی ہے” پہلے اور بعد میں کچھ ایسا حال کرتی ہے پاکستانی ایئر فورس،

    وینا ملک کی اس ٹویٹ کے بعد بھارتیوں‌ کو آگ لگی ہوئی ہے اور انڈیا میڈیا اور بھارتی سوشل میڈیا صارفین اس پر ہرزہ سرائی کرتے اور پیچ و تاپ کھاتے دکھائی دیتے ہیں، واضح رہے کہ پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں‌ دو طیاروں کی تباہی اور ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری پر بھارتی حکومت، فوج اور ہندوستانی فضائیہ کو عالمی سطح‌ پر سخت ذلت اٹھانا پڑی تھی.

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!—— تحریر: بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!—— تحریر: بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔”