Baaghi TV

Author: +9251

  • ‘شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن ابو جیل میں ہیں’ بلاول نے شادی کے لیے ہاں کردی

    ‘شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن ابو جیل میں ہیں’ بلاول نے شادی کے لیے ہاں کردی

    گلگت : بلاول بھٹو نے بالآخر شادی کے لیے ہاں کردی ، اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہ دیا ہے کہ وہ شادی کرنا چاہتے ہیں لیکن والد جیل میں ہیں، فی الحال توجہ ادھر ہے۔

    دیوسائی سے ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ فی الحال ساری توجہ والد پر ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کے عوام کا تین نسلوں کا ساتھ ہے۔بلاول نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو بھی اس خوبصورت علاقے کے ایک ایک کونے میں پہنچے تھے اور وہ بھی رابطہ مہم کے سلسلے میں ہرجگہ جائیں گے۔

    شادی سے متعلق اس سے قبل ایک انٹرویو میں بلاول نے شریک حیات کی خوبیوں سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھتے ہوں، ساتھ چل سکتے ہوں، شریک حیات کو ذہین اور تعلیم یافتہ ہونا چاہیے اور حسِ مزاح بھی ضروری ہے، اور سب سے اہم اس کی میری بہنوں سے بننی چاہیے۔ایک اور سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس میڈیا کو اپنی شادی کی کوریج کی اجازت دینے کے علاوہ کوئی دوسرا انتخاب نہیں ہو گا۔

  • ایک اور ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا

    ایک اور ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا

    یونان (اے پی پی) یونان میں ہیلی کاپٹر بجلی کی تاروں سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 3افراد ہلاک ہوگئے.

    تفصیلات کے مطابق یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے جنوب میں واقع جزیرہ میں پرائیویٹ ہیلی کاپٹر بجلی کی تاروں سے ٹکرانے کے بعد گر کر تباہ ہو گیا. جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار 3افراد ہلاک ہو گئے۔ جزیرہ کے میئر یانیس دیمیتریادیس نے بتایا ہے کہ نجی ہیلی کاپٹر کو پوروس سے ایتھنز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جانا تھا تاہم دوران پرواز ہیلی کاپٹر پوروس کے قریب ہی ہائی ٹنشن بجلی کی تاروں سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں آگ لگ گئی اور وہ سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

    کوسٹ گارڈ کے عملہ نے امدادی کارروائیوں سے ہیلی کاپٹر پر سوار 2 روسی شہریوں اور یونانی پائلٹ کی لاشیں سمندر سے برآمد کر لی ہیں۔ تاہم ابتدائی طور پر واضح نہیں کیا گیا کہ ہیلی کاپٹر میں کُل کتنے افراد سوار تھے۔

  • راجن پور کے ہسپتال میں‌ چوریاں ہونے لگیں

    راجن پور کے ہسپتال میں‌ چوریاں ہونے لگیں

    راجن پور: ضلعی انتظامیہ اور ہسپتال انتظامیہ کی نا اہلی سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راجن پور میں موٹرسائیکل چوری کی واردات بڑھ گئیں.

    تفصیلات کے مطابق موٹرسائیکل اسٹینڈ نہ ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے. ہسپتال میں چوریوں کی وارداتیں بڑھ گئیں ہسپتال انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے. ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اپنی بھانجی کے علاج کیلئے رفیق احمد آیا اور کچھ دیر بعد اس کا موٹر سائیکل چوری ہو گیا. متاثرہ شخص رفیق نے کہا کہ تھانہ سٹی کی حدود میں چوری کی واردات عید کے پہلے روز کی گئی پولیس نے کہا چھٹیوں کے بعد کارروائی کریں گے، .متاثرہ شخص رفیق نے دعویٰ کیا کہ موٹر سائیکل چور کو سی سی ٹی وی کیمرہ کے زریعے دیکھا جا سکتا ہے.

  • اسلام آباد میں‌ فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار جاں‌ بحق، آئی جی کا ملزمان گرفتار کرنے کا حکم

    اسلام آباد میں‌ فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار جاں‌ بحق، آئی جی کا ملزمان گرفتار کرنے کا حکم

    آئی جی عامرذوالفقار کی جانب سے تھانہ سبزی منڈی اسلام آباد کےعلاقے میں فائرنگ کا سخت نوٹس لیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے واقعے کی تحقیقات کے لیے 2 ٹیمیں تشکیل دے دیں، ایک ٹیم ایس ایس پی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے، دوسری ٹیم کی سربراہی ایس پی انویسٹی گیشن کریں گے،

    پولیس کے سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے اور تحقیقات جاری ہیں، آئی جی اسلام آباد کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام وسائل بروئےکارلاکرملزمان کوفوری گرفتارکیاجائے، تھانہ سبزی منڈی کی حدودمیں فائرنگ سے2پولیس اہلکارجاں بحق،ایک زخمی ہواتھا،

  • انٹرنیٹ چلے گا وائی فائی کے پاس ورڈ کے بغیر ، موجیں ہی موجیں ، کیسے ؟ حل سامنے آگیا

    انٹرنیٹ چلے گا وائی فائی کے پاس ورڈ کے بغیر ، موجیں ہی موجیں ، کیسے ؟ حل سامنے آگیا

    کراچی : اب انٹرنیٹ چلے گا بغیر وائی فائی کے پاس ورڈ کے ، جدید ٹیکنالوجی نے تہلکہ مچا دیا ، انٹر نیٹ کے استعمال کے حوالے سے پہلے ہی ماہرین اور طالبعلم ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں ماہرین لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے حیران کن چیزیں ایجاد کررہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حال میں ایک ایسا طر یقہ ایجاد کیا گیا ہے ،جس کے ذریعے آپ اپناپاس ورڈ بتائے بغیر اپنے وائی فائی کا کنکشن دوسروں سے شیئر کرسکتے ہیں۔ اب کیو آر کوڈ کے ذریعے وائی فائی تک رسائی دی جاسکتی ہے۔ وائی فائی پاس ورڈ کو کیو آر کوڈ میں تبدیل کرنے کے لیے ویب سائٹس موجود ہیں جو گوگل پر سرچ کی جاسکتی ہیں۔

    ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق اس کا طریقہ یہ کہ سب سے پہلے ’’qrstuff.com‘‘ ویب سائٹ پر جائیں اور وائی فائی نیٹ ورک یا وائی فائی لاگ ان کا انتخاب کریں، وائی نیٹ ورک کا نام لکھیں ،پاس ورڈ کا اندراج کریں ،پھر WPA کا انتخاب کریں، بعدازاں کیو آر کوڈ تشکیل دیا جا سکے گا جسے بآسانی ڈائون لوڈ کیا جاسکتا ہے ۔اس طرح آپ کا وائی فائی پاس ورڈ کا کیو آر کوڈ تیار ہے ۔

  • بھارت کو کشمیر کے معاملہ پر انصاف کرنا پڑے گا ، آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک پیغام

    بھارت کو کشمیر کے معاملہ پر انصاف کرنا پڑے گا ، آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک پیغام

    تہران : ایران نے ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے معاملہ پر بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے منصفانہ پالیسی اختیار کرے۔یہ پیغام ایران کے رہبر ابرصغیر کی تقسیم کے وقت برطانیہ جان بوجھ کر خطے میں ایک زخم چھوڑ گیا جس کی وجہ سے کشمیر میں تنازع جاری رہا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی اور کابینہ ارکان سے ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ایران کے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں لیکن ہم بھارت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کشمیر سے متعلق منصفانہ پالیسی اپنائے اور کشمیریوں کے استحصال کو روکے۔

    آیت اللہ خامنہ ای کا ایرانی کابینہ کے ممبران سے کہنا تھا کہ پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر برطانوی راج کے شیطانی اقدامات کا نتیجہ ہے، پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کو طول دینے کیلئے برطانیہ نے جان بوجھ کر اسے غیرحل شدہ چھوڑا۔

  • کشمیری گھروں میں قید اور حکومت صرف اچھل کود کر رہی ہے، سراج الحق

    کشمیری گھروں میں قید اور حکومت صرف اچھل کود کر رہی ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نےاپنےرویئےسےقومی یکجہتی کو سبوتاژ کیا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ خطےکی موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی ایٹم بم سے بھی زیادہ ضروری ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرکےبعد مظفرآباد پرحملےکی منصوبہ بندی کر رہا ہے، امریکی صدرکادونوں ممالک کومسئلےکاحل تلاش کرنےکامشورہ مضحکہ خیزہے،

    سراج الحق نے کہاکہ کشمیری اپنےگھروں میں قیدہیں اورحکومت صرف اچھل کودکررہی ہے،

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔