Baaghi TV

Author: +9251

  • تیرہ سالہ آٹھویں جماعت کا پاکستانی بچہ ورلڈکپ کھیلنے روس روانہ

    تیرہ سالہ آٹھویں جماعت کا پاکستانی بچہ ورلڈکپ کھیلنے روس روانہ

    تیرہ سالہ آٹھویں جماعت کا بچہ ورلڈکپ کھیلنے روس روانہ ہو گیا

    ٹفصیلات کے مطابق تیرہ سالہ آٹھویں جماعت کا پاکستانی بچہ ورلڈکپ کھیلنے روس روانہ ہو گیا.حمزہ الیاس انڈر سکسٹین اسنوکر ورلڈ چیمپئن شپ کھیلے گا .محمد عمر بھی روس میں ہونیوالے ورلڈکپ میں ایکشن میں ہونگے
    اس سلسلے میں ئی بی ایس ایف ورلڈ انڈر 16(بوائز اینڈ گرلز) اسنوکر چیمپئن شپ میں پاکستان کے حمزہ الیاس، محمد عمر خان او شبیر حسین شرکت کریں گے۔ چیمپئن شپ 19 سے 24 اگست تک ہوگی۔ پاکستانی ٹیم اتوار کو روس روانہ ہوگی۔

    واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحا ًمیں پاکستان سنوکر میں اہم کامیابی سمیٹ چکا ہے. پاکستان نے پہلے ایشیئن چیمپیئن اور پھر انٹرنیشنل بلیئرڈ اینڈ سنوکر فیڈریشن (آئی بی ایس ایف) ورلڈ ٹیم مقابلوں میں انڈیا سے دفاعی چیمپیئن کا اعزاز چھین لیا تھا۔

    ایشیئن چیمپیئن شپ میں پاکستانی سنوکر کھلاڑیوں بابر مسیح اور ذوالفقار قادر نے انڈین کھلاڑیوں پنکچ ایڈوانی اور لکشمن راوت سے جبکہ آئی ایف بی ایس ایف ورلڈ ٹیم مقابلوں میں محمد بلال اور اسجد اقبال نے انڈیا ہی کے انھی دونوں کھلاڑیوں کے خلاف فتح حاصل کی۔

    ایشیئن چمپئین شپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ ہوا جو پاکستان نے تین کے مقابلے میں دو سے جیتا۔ فائنل میچ میں پاکستان کے نمبر پانچ کھلاڑی بابر مسیح ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔

  • پنجاب کے کن اضلاع میں پولیو ویکسین کی بڑی مقدار ضائع ہوئی…….

    پنجاب کے کن اضلاع میں پولیو ویکسین کی بڑی مقدار ضائع ہوئی…….

    پنجاب کے 10اضلاع میں بڑی مقدار میں پولیو ویکسین کے ضائع ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
    خبردار ، ہوشیار ! پولیو وائرس لاہور میں گھس آیا
    محکمہ صحت پنجاب کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ 10اضلاع میں پولیو ویکسین ضائع ہوئی۔ ضلع چنیوٹ میں سب سے زیادہ 22فیصد پولیو ویکسین ضائع ہوئی جبکہ لاہور میں یہ شرح دوسرے نمبر پر رہی۔ لاہور میں 16فی صد پولیو ویکسین ضائع ہوئی۔

    جھنگ اور بہاولنگر میں یہ شرح 15 فیصد سے زائد رہی ۔ اسی طرح شیخوپورہ اور رحیم یار خان میں14 فیصد سے زائد، گوجرانوالہ میں 12فیصد جبکہ ڈی جی خان اور سرگودھا میں 10 فیصد سے زائد پولیو ویکسین ضائع ہوئی۔

  • فریضہ حج کی ادائیگی کے بعدحاجیوں کی واپسی شروع

    فریضہ حج کی ادائیگی کے بعدحاجیوں کی واپسی شروع

    فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد حاجیوں کے قافلے واپس آنا شروع ہو گئے ۔ نجی ائر لائن کی پہلی پرواز دو سو سات حجاج کرام کو سعودیہ سے لے کر لاہور علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچ گئی۔

    حج بیت اللہ کے سعادت مند حضرات حجاج کرام کی وطن واپسی سے متعلق پوسٹ حج آپریشن شروع کردیا گیاہے۔ نجی ائر لائن کی پرواز دو سو سات حاجیوں کو لے کر لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ پہنچی ۔

    حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر کے واپس آنے والے افراد کی ان کے عزیز و اقارب نے ائیر پورٹ پر پھولوں کے پار پہنا کر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وطن واپس پہنچنے والے حاجی خوشی سے نہال تھے، پہلی پرواز کے ذریعے پہنچنے والے حاجیوں نے دوران حج حکومت کی جانب سے کئے جانے والے انتظامات پراطمینان کا اظہار بھی کیا۔

    حج کی ادائیگی کے بعد آنے والے حاجیوں کی واپسی کا سلسلہ پندرہ ستمبر تک جاری رہے گا۔

  • بزرگ فلسطینی کی قید کے 17سال مکمل

    بزرگ فلسطینی کی قید کے 17سال مکمل

    اسرائیلی جیلوں میں بزرگ فلسطینی کی قید کے 17 سال مکمل ہوگئے۔

    مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق 60 سالہ صدقی الزور التمیمی کا تعلق غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل سے ہے۔
    صدقی کی ہمشیرہ اکرام کے مطابق اس کا بھائی اسرائیل کی کئی جیلوں میں قید رہ چکا ہے۔ اس وقت وہ صحرائی جیل نفحہ میں قید ہے۔ اسرائیلی جیل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث قیدی کی حالت تشویشناک ہے۔

    صدقی کے والدین اس کی گرفتاری کے دوران فوت ہوئے ۔

    یاد رہے کہ صدقی التمیمی کو 16 اگست 2002ء کوگرفتار کیا گیا تھا۔ صدقی کو کوفلسطینی مزاحمتی کارروائیوں میں حصہ لینے کے جرم میں 35 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

  • مکی آرتھر کو بنگلادیش نے بھی گھاس نہ ڈالی

    مکی آرتھر کو بنگلادیش نے بھی گھاس نہ ڈالی

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو بنگلادیش نے بھی گھاس نہ ڈالی جب کہ پی سی بی نے 2سال کیلیے رسل ڈومینگو کی خدمات حاصل کرلیں۔

    پی سی بی نے معاہدے کی توسیع نہ کر کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو فارغ کردیا تھا،وہ رسل ڈومینگو اور مائیک ہیسن کے ساتھ بنگلادیشی ہیڈ کوچ کے امیدواروں میں شامل تھے تاہم ان کو گھاس نہیں ڈالی گئی۔

    بی سی بی نے رسل ڈومینگو کے ساتھ 2 سال کا معاہدہ کرلیا

  • حکومت بلوچستان کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری

    حکومت بلوچستان کا ایک سال میں 15 کابینہ اجلاسوں میں 100 سے زاہد فیصلوں پر عمل در آمد، متعدد بل اسمبلی سے منظور، صوبے کے 450 سے زاہد ترقیاتی منصوبے مکمل، پی ایس ڈی پی میں تمام سیکٹرز کو یکساں اہمیت، ماہانہ محکمانہ رپورٹ طلب، وفاقی پی ایس ڈی پی میں 150 منصوبوں شامل۔ حکومت بلوچستان جلد اپنا جامع سالانہ کاکردگی رپورٹ شائع کرے گی۔

  • شمالی غزہ میں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کی متعدد اہداف پر بمباری

    شمالی غزہ میں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کی متعدد اہداف پر بمباری

    فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے شمال میں بیت لاھیا کے شمال مغربی مقامات پر اسرائیلی جنگی ہیلی کاپٹروں نے متعدد اہداف پر بمباری کی۔

    مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ہفتے کی شام اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں فلسطینی عسکری گروپوں کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ قبل ازیں غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل پرتین میزائل داغے جانے کی اطلاعات آئی تھیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ سے داغے گئے تین میزائلوں میں سے دو کو دفاعی نظام کے ذریعے ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی فضاء میں تباہ کردیا گیا تھا۔

    اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینیوں کا ایک راکٹ آئرن ڈوم کی مدد سے مار گرایا جب کہ ایک راکٹ ایک گھر کے صحت میں جا گرا تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے خطرے کے سائرن بجائے۔

    خیال رہے کہ غزہ میں بمباری اور راکٹ حملوں کا 24 گھنٹوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔ جمعہ کی شام اسرائیلی فوج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ غزہ سے داغا گیا ایک راکٹ تباہ کردیا گیا ہے۔ دوماہ کے وقفے کے بعد یہ پہلا راکٹ تھا جسے جنوبی فلسطین میں اسرائیلی کالونیوں کی طرف داغا گیا تھا۔

  • چوہدری شجاعت حسین تشویش ناک حالت میں آئی سی یو منتقل

    چوہدری شجاعت حسین تشویش ناک حالت میں آئی سی یو منتقل

    مسلم لیگ ق کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کی بیماری کی وجہ سے حالت تشویش ناک، آئی سی یو منتقل کر دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چوہدری شجاعت حسین علاج معالجہ کے لیے کچھ عرصہ سے جرمنی میں مقیم تھے ۔ ان کی طبیعت دس دن قبل کافی ناساز ہو گئی جس کے بعد انہیں آئی سی یو منتقل کیا گیا جہاں ابھی بھی ان کا علاج جاری ہے۔

    چوہدری شجاعت کے خاندانی ذرائع نے باغی کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب ان کی حالت میں بہتر ہو رہی ہے۔ لیکن مکمل صحت یابی کے لئے کافی وقت لگے گا۔ خاندان کے قریبی افراد نے ان کی صحت یابی کے لیے دعاو¿ں کی درخواست کی ہے۔
    دریں اثناءچودھری شجاعت کے خاندان کے زیادہ تر افراد جرمنی میں ان کے پاس موجود ہیں۔ چودھری شجاعت اپنی سیاسی ذہانت ، روادار رویہ اور کنبہ اور دوستوں کے ساتھ وفاداری کے لئے جانے جاتے ہیں اور ان کی بیماری کی خبروں نے ان کے چاہنے والوں کو غمگین کردیا ہے۔ ہم باغی کی ٹیم ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے دعا گو ہے ۔
    یاد رہے کہ چودھری شجاعت حسین 1946ءمیں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان کے والد چودھری ظہور الٰہی متوسط طبقہ سے تھا۔ وہ ایوب دور میں سرکاری جماعت کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے اور ایوب کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں پنجاب میں جاٹ برادری کے ایک نمایاں سیاست دان کے طور پر جانے لگے۔
    چوہدری ظہور الٰہی نے ذو الفقار علی بھٹو کی سخت مخالفت کی اور 1977کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا دور میں ظہور الٰہی وفاقی وزیر رہے ۔ ظہور الہی کو 25ستمبر1981کو لاہور میں قتل کر دیا گیا ۔
    شجاعت حسین نے اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور ضیاءالحق کی مجلس شورٰی کے رکن رہے۔ 1985 کے انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔چودھری شجاعت 1988، 1990 اور 1997 کے عام انتخابات میں بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
    1986 میں چودھری خاندان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کے خلاف بغاوت کی لیکن اسے ناکامی کا ہوا۔شجاعت حسین نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر داخلہ بھی رہے ۔
    چوہدری شجاعت حسین 2003ءمیں میاں اظہر کے مستعفی ہونے کے بعد مسلم لیگ ق کے صدر منتخب ہوئے۔ جب 2004ءمیں میر ظفراللہ جمالی نے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو ان کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ وہ دو ماہ تک ملک کے وزیراعظم رہے۔
    چوہدری شجاعت کے کزن چوہدری پرویز الہی ا س وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر ہیں۔

  • قومی خواتین کرکٹرز کے ہائی پرفارمنس کیمپ کا آغاز ہو چکا، بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف سیریزکی بھرپور تیاری جاری

    قومی خواتین کرکٹرز کے ہائی پرفارمنس کیمپ کا آغاز ہو چکا، بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف سیریزکی بھرپور تیاری جاری

    قومی خواتین کرکٹرز کے ہائی پرفارمنس کیمپ کا آغاز16 اگست سے ہوگیاجس میں 30 خواتین کھلاڑی ٹریننگ کر رہی ہیں. کیمپ 31 اگست تک جاری رہے گا.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کیمپ کے دوران قومی خواتین کرکٹرز 28 اگست کو کاکول ملٹری اکیڈمی میں ٹریننگ کریں گی.کھلاڑیوں میں عالیہ ریاض، عروب شاہ، عائشہ ناز، عائشہ ظفر، بسمعہ معروف، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء اور حرینہ سجاد شامل ہیں
    ارم جاوید ، جویریہ رؤف، جویریہ ودود، کائنات حفیظ، کائنات امتیاز، ماہم طارق، منیبہ علی، بی بی ناہیدہ اور نجیہہ علوی کو بھی کیمپ میں طلب کیا گیا ہے

    نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، نداراشد، رامین شمیم، صباء نذیر، سعدیہ اقبال، ثناء میر، سدرہ امین، سدرہ نواز، سوہا فاطمہ، طوبہٰ حسین، عمیمہ سہیل اور وحیدہ اختر بھی کھلاڑیوں میں شامل

    کیمپ کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی نے کیا ہے.عروج ممتاز کی سربراہی میں کام کرنے والی 3 رکنی کمیٹی میں اسماویہ اقبال اور مرینہ اقبال شامل ہیں

    عائشہ جلیل منیجر، ہیڈ کوچ مارک کولز، بیٹنگ کوچ اقبال امام، ٹرینر جمال حسین اور کوچ اے ٹیم شاہد انور بطور آفیشل کیمپ میں شرکت کریں گے.قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کھیلنا ہے

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو آئندہ سال آسٹریلیا میں شیڈول آئی سی سی ویمن ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ میں بھی شرکت کرنی ہے.اکتوبر میں قومی خواتین اے کرکٹ ٹیم کو سری لنکا کا دورہ کرنا ہےہائی پرفارمنس کیمپ کا مقصد تینوں شعبوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے، عروج ممتاز چیف سلیکٹر قومی ویمن کرکٹ ٹیم.قومی خواتین کرکٹرز کیڈٹس کی طرز پر ٹریننگ کرتے ہوئے ملٹری اکیڈمی کاکول میں ایک مکمل دن گزاریں گی،

  • آرٹیکل 370کا خاتمہ، جموں کشمیر کے پنڈت بھی پریشان

    آرٹیکل 370کا خاتمہ، جموں کشمیر کے پنڈت بھی پریشان

    ریاست جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370ہٹائے جانے اور خصوصی ریاست کا درجہ ختم ہونے کے بعد کشمیری پنڈتوںنے اپنے ردعمل کا اظہار شروع کر دیا ہے۔
    مقبوضہ کشمیر: کرفیو کو دو ہفتے بیت چکے، انسانیت دم توڑنے لگی، دنیا کے منصف تاحال خاموش تماشائی بنے بیٹھے
    انگریزی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق کشمیری پنڈتوں کے لیڈر سنجے ٹیکو نے کہا” اب کشمیر میں پنڈتوں کا رہنا مزید مشکل ہو جائے گا۔میں اس سے بھی بدتر حالات کی پیشین گوئی کرتا ہوں۔ ریاست کا خصوصی درجہ درجہ ختم ہونے کے بعد مجھے ڈر ہے کہ کہیں کشمیر سے واپس نہ جانا پڑ جائے“ ۔

    سنجے ٹیکو نے ٹیلی گراف کوبتایا کہ آرٹیکل 370کے ہٹائے فرقہ وارانہ کا عمل تیز ہو جائے گا اور لوگوں کے صبر کا پیمانہ بھی ختم ہو جائے گا۔

    کشمیری پنڈت نے آرٹیکل 370کے ہٹائے جانے کو کشمیر کی شناخت پر حملہ قرار دیا اور اس خوف کا اظہار کیا کہ کشمیر میں رہنے والے پنڈت سیاسی ہدف ہو سکتے ہیں۔ وہاں اس کا رد عمل ہو سکتا ہے۔

    ٹیکو نے انگریزی اخبار کو مزید بتایا ”یہ قدم بھارت سے آئے پنڈتوں کی واپسی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ کیونکہ جتنے مسلمانوں نے ان کا استقبال کیا ہوگا، وہ شاید اب ایسا نہ کریں۔“

    ٹیکو کے مطابق کشمیر میں تقریباً 4 ہزار سے 6 ہزار مہاجر کشمیری پنڈت رہتے تھے جن میں سے اکثریت وادی چھوڑ چکی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ”ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ اننت ناگ ضلع میں پنڈت خاندانوں نے اپنے گھر چھوڑ دیئے ہیں، جب کہ پانچ خاندانوں کو پولس نے 5 اگست کی رات گاندربل کے علاقہ سے باہر بھیج دیا تھا۔ ناکہ بندی کے باعث ہمیں دیگر خاندانوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔“