Baaghi TV

Author: +9251

  • نائب وزیرخارجہ کون ہوگا ؟ سراج الحق کے مطالبے نے کھلبلی مچادی

    نائب وزیرخارجہ کون ہوگا ؟ سراج الحق کے مطالبے نے کھلبلی مچادی

    لاہور:پاکستان میں‌پہلی مرتبہ کشمیر کے حوالے سے اہم فیصلے ہونے جارہے ہیں. اطلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مسئلہ کشمیر کیلئے مستقل نائب وزیر خارجہ تعینات کرنے کا مطالبہ کردیا، جماعت اسلامی کے امیرکا کہناہے کہ حالات کا تقاضہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی پانچ سو چالیس کلو میٹر لمبی باڑ کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ لانس نائیک تیمور اسلم کی شہادت نے کشمیریوں کو حوصلہ دیا

    ذرائع کے مطابق امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والے لانس نائیک تیمور اسلم کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی چال کو حکومتوں کی ناکامی قرار دے دیا۔ بولے کہ کشمیر کے بجائے سبزیوں کی تجارت پر توجہ دی گئی۔ بھارتی پائلٹ اڑتالیس گھنٹے بعد ہی واپس کرنے سے حوصلہ پا کر بھارت نے کشمیر کو اپنے اندر ضم کر لیا۔

    سراج الحق نے کہا کہ حکومت شملہ معاہدے کو اٹھا کر ان کے منہ پر مارے کیونکہ لڑائی سے بچنے کے لئے لڑائی کی تیاری کرنا ہوگی۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ بھارت میں تمام آزادی پسند تحریکیں بیدار ہو چکی ہیں۔ جو آگ مودی نے لگائی اس میں پہلے وہ خود جلیں گےکشمیر کی آزادی کے لئے حکومت کے ہر قدم سے قدم ملائیں گے۔

  • اقوام متحدہ میں کشمیر پر اجلاس، کانگریس کا تازہ ترین بیان سامنے آگیا

    اقوام متحدہ میں کشمیر پر اجلاس، کانگریس کا تازہ ترین بیان سامنے آگیا

    نئی دہلی (اے پی پی) کانگریس نے بیان دیا ہے کہ اقوام متحدہ میں کشمیر پر بحث مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے.

    تفصیلات کے مطابق بھارت کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس نے کشمیر کے حالات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والے بحث کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس اجلاس کو منسوخ کرانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پارٹی اس معاملے کو بہت سنگین مانتی ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے معاملے میں بحث ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم خاموش ہیں۔ شروع سے ہی خارجہ پالیسی ایک لازمی ستون رہاہے، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کے معاملے کو بین الاقوامی طور پر اٹھایا جارہا ہے جو مکمل طور پر خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔

    ابھیشیک منو سنگھوی نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ اسی موضوع پر چین جاتے ہیں اور ناکام لوٹتے ہیں جبکہ چین پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حمایت میں سکیورٹی کونسل کا اجلاس منعقد کرا لیتا ہے جو بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔

  • بھارت نے کلبھوشن کا بدلہ لے لیا ، پاکستانی ہوائی جاسوس پکڑنے کا دعویٰ‌

    بھارت نے کلبھوشن کا بدلہ لے لیا ، پاکستانی ہوائی جاسوس پکڑنے کا دعویٰ‌

    نئی دہلی:بھارت پر خوف کی فضا طاری ، بھارت نے پاکستان کا ہوائی جاسوس پکڑنے کا دعویٰ کرکے دنیا میں کھلبلی مچا دی . اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت کی طرح بوکھلاہٹ کے شکار ہونے والے انڈین میڈیا نے ایک بار پھر پاکستانی پرچم والے رنگ کے غبارے کو جاسوس قرار دے دیا۔ذرائع کے مطابق بھارتی پنجاب کے شہر فرید کوٹ میں واقع گاؤں شمرے والا میں کسان کو اپنے کھیتوں میں سبز اور سفید رنگ الے غبارہ نظر آئے جس کے بعد گاؤں میں سنسنی پھیل گئی۔

    ذرائع کے مطابق غبارہ ملنے کی خبر پورے بھارت میں جنگل میں آگ کی مترادف پھیلی اور میڈیا نے اس کو مزید طول دیا، مکینوں نے سوال اٹھایا کہ آخر بھارتی خفیہ اداروں کو فضا میں بلند غبارہ نظر کیوں نہیں آئے؟۔کسان کا کہنا تھا کہ جب وہ کھیتوں میں کام کے لیے گیا تو اُس نے فصل کے درمیان میں غبارہ پڑے دیکھے تو اُن کی تصاویر لے کر واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیں جس کے بعد وہاں رش لگ گیا۔
    https://twitter.com/BabarJalandhari/status/1162390045237698562?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1162390045237698562&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Fpakistani-balloon-found-in-india%2F
    یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے متعدد بار احمقانہ دعوے کیے جاچکے ہیں کہ پاکستان نے کبوتر ، غبارے کو جاسوسی کے لیے بھیجا، یہ دعوے وقت کے ساتھ ساتھ خود ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔دوسری طرف بھارتی افواج پر بھی خوف کی فضا قائم ہے کہ کہیں پاکستان ان غباروں کے ذریعے جاسوسی تو نہیں کرتا

  • کل ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کریں گے، فردوس عاشق اعوان

    وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ 18اگست2018سےشروع ہونےوالاسفراستحکام پاکستان کی منزل کی جانب گامزن ہے، نئے پاکستان کاایجنڈا’’احساس‘‘ہے،


    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ کل حکومت کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کرنےجارہےہیں، عوامی فلاح کےاقدامات وزیراعظم کی محروم طبقات سےمحبت کےآئینہ دارہیں، آج کاپُرامن پاکستان دنیابھرسےآنےوالےسیاحوں کےلیےپرکشش وحسین منزل ہے،


    فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ پہلی بار ٹیکس وصولی کےقومی فرض کوتحریک کی شکل دی گئی، ملکی ترقی وعوامی بہبود کے لیےاٹھائے گئےعملی اقدامات منہ بولتا ثبوت ہیں، پہلی بارقبائلی علاقوں کےسنگلاخ پہاڑوں پرجمہوری رنگ بکھرا،

  • کون سے آئی ایم ای آئی والے موبائل بند کر دیے جائیں گے؟ پی ٹی اے نے فیصلہ سنا دیا

    کون سے آئی ایم ای آئی والے موبائل بند کر دیے جائیں گے؟ پی ٹی اے نے فیصلہ سنا دیا

    موبائل رجسٹریشن کے لیے پی ٹی اے کی طرف سے اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فیصلہ 2 آئی ایم ای آئی نمبرز رکھنے والے موبائل فونز سے متعلق کیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دونوں آئی ایم ای آئی نمبرز رجسٹرڈ کروانال ازم قرار دیا گیا ہے، پی ٹی اے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دونوں آئی ایم ای آئی نمبر رجسٹرڈ نہ ہونے پر موبائل فون بند کر دیا جائے گا، ایسی موبائل ڈیوائسز کو 31 اگست سے پہلے رجسٹرڈ کیا جائے، 31 اگست کے بعد ایسی تمام ڈیوائسز کو بند کردیا جائے گا،

    پی ٹی اے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صارفین آئی ایم ای آئی نمبر چیک کر کے تصدیق کر لیں،

  • 17 اگست کی شام عوام ششدر رہ گئی کہ صدر مملکت جاں بحق ہو گئے ہیں

    17 اگست کی شام عوام ششدر رہ گئی کہ صدر مملکت جاں بحق ہو گئے ہیں

    صدرجنرل محمد ضیاء الحق کا حادثہ
    17 اگست 1988ء کی شام یہ خبر سن کر پوری قوم حیران، ششدر اور دم بخود رہ گئی کہ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق اپنے رفقاء کے ساتھ ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

    سابق صدر مملکت و سابق چیف آف آرمی سٹاف۔ 1924ء میں جالندھر میں ایک غریب کسان محمد اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ جالندھر اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ سن 1945ء میں فوج میں کمیشن ملا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما ، ملایا اور انڈونیشیا میں خدمات انجام دیں۔ پاکستان کی آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ 1964ء میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی اور سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ 1960ء تا 1968ء ایک کیولر رجمنٹ کی قیادت کی۔ اردن کی شاہی افواج میں خدمات انجام دیں ، مئی 1969ء میں آرمرڈ ڈویژن کا کرنل سٹاف اور پھر بریگیڈیر بنا دیا گیا۔ 1973ء میں میجر جنرل اور اپریل 1975ء میں لیفٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کور کمانڈر بنا دیا گیا۔ یکم مارچ 1976ء کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔
    مارشل لا

    1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے اور 4 جولائی 1977 کی شام مارشل لا کا نفاذ کردیا گیا۔

    انہوں نے آئین کو معطل نہیں کیا اور یہ اعلان کیا کہ آپریشن فیئر پلے کا مقصد صرف ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہے ۔مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پر ایک شہری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ ہائیکورٹ نے ان کو سزائے موت سنائی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
    درمنصب میں توثیق

    دسمبر 1984ء کو انہیں نے صدارتی ریفرنڈم کروایا جس میں کامیابی کے بعد انکے منصب صدارت میں توثیق ہوگئی۔
    انتخابات

    فروری 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کااعلان کیا ۔ پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے ۔ باہمی اعتماد کی بنیاد پر 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لا اٹھا لیا گیا اور بے اعتمادی کی بنیاد پر آٹھویں ترمیم کے تحت جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988ء کو محمدخان جونیجو کی حکومت برطرف کر دی۔
    اسلامی قوانین
    جنرل محمد ضیاء الحق نے سرقہ، ڈکیٹی ، زنا، ابتیاع شراب ، تہمت زنا، اور تازیانے کی سزاؤں سے متعلق حدود آرڈینس اور زکوۃ آرڈینس نافذ کیا۔ وفاقی شرعی عدالت قائم کی۔ اور قاضی عدالتیں قائم کیں۔
    حکمت عملی

    سوویت روس کی افغانستان پر جارحیت کا مقصد پاکستان فتح کرکے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے روس اور بھارت کی جانب سے ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کا احساس کرتے ہوئے اور افغانستان کی آزادی کے لیے کوشاں عوام کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔
    بعض حلقوں کی جانب سے جنرل موصوف کو بدنام کرنے کےلیے امریکا کو افغان جہاد کا روح رواں ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن امریکا صرف اپنی مطلب برآری کےلیے افغان جہاد میں شامل ہوا تھا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو ضیاء الحق صاحب نے دہشت گردی کی فصل بوئی کیونکہ انہوں نے جو مدرسے بنوائے ان میں سے نکلنے والے مجاہد ان کی موت کے 13 سال بعد دہشت گرد بن گئے۔ ۔ساتھ ہی جنرل نے کشمیر میں جدجہد شروع کروایا۔ بھارت سے بنگلہ دیش کا بدلہ لینے کے لیے انہوں نے انڈیا میں سکھوں کی تحریک خالصتان شروع کروائی جو ب پھارت کے پنجاب اور کئی دیگر علاقوں پر مشتمل سکھوں کا ایک الگ ملک بنانے کے لئے تھی ۔ اس کی قیادت اس سکھ جنرل کے ہاتھ میں دی گئی جو بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت بھارتی مسلح افواج کا کمانڈر تھا۔ اس دوران جنرل پر اسرار موت کا شکار ہو گئے۔بعض اطلاعات کے مطابق اس تحریک خالصتان کو ناکام بنانے میں بے نظیر بھٹو نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
    صدرجنرل محمدضیاء الحق ایک نئے امریکی ٹینک کا تجربہ اور آزمائش دیکھنے کے لئے اسی صبح بہاولپور پہنچے تھے۔
    پاکستان میں امریکا کے سفیر آرنلڈ رافیل اور ایک امریکی بریگیڈیئر جنرل واسم بھی ان کے ہمراہ تھے۔
    امریکی ٹینک کی مشقیں اور فوجی یونٹوں کا معائنہ کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق شام 3 بجکر 48 منٹ پر پاکستان ائیر فورس کے ایک C-130 طیارے میں جسے صدر مملکت کے سفر کی وجہ سے ’’پاک ون‘‘ کا نام دیا گیا تھا واپس اسلام آباد روانہ ہوئے۔
    اس طیارے میں جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل اختر عبدالرحمن، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد افضال اور متعدد دوسرے فوجی افسران بھی سفر کررہے تھے۔
    ابھی اس طیارے نے ٹیک آف کیا ہی تھا کہ پرواز کے فقط تین منٹ بعد 4 بجکر 51 منٹ پر طیارے کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا اور یہ طیارے ہوا میں قلابازیاں کھاتا ہوا زمین سے ٹکرا گیا۔
    زمین پر گرتے ہی طیارے کے ہزاروں ٹکڑے ہوگئے اور ان میں آگ لگ گئی۔
    اس کے ساتھ ہی 31 قیمتی جانیں بھی جل کر لقمۂ اجل بن گئیں۔
    صدر مملکت اور ان کے رفقا کے فضائی حادثے میں ہلاک ہونے کی خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
    اسی رات سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان ملک کے قائم مقام صدر بن گئے جنہوں نے جنرل اسلم بیگ کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔ تین دن بعد 20 اگست 1988ء کو جنرل محمد ضیاء الحق کو اسلام آباد میں فیصل مسجد کے سایہ تلے دفن کردیا گیا۔
    جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثہ کی تحقیقات کے لئے پاکستان فضائیہ نے ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دیا۔
    اس بورڈ آف انکوائری نے جس کے سربراہ ائیرکموڈور عباس حسین مرزا تھے چند ہفتوں میں اپنی رپورٹ مرتب کرلی۔
    رپورٹ کا واحد نتیجہ یہ تھا کہ ’’امکان یہ ہے کہ یہ تخریب کاری کا ایک گھنائونا واقعہ ہے جسے طیارے کے اندر سے روبکار لایا گیا اور جو آخر کار طیارے کے حادثے کا باعث بنا‘‘۔
    ان کی حادثاتی کے بعد غلام اسحاق خان نگران صدر منتخب ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کی موت کے حوالے سے تحقیقات کا آغا ز بھی ہوا لیکن آج تک ان کی موت کے متعلق کوئی حقیقت سامنے نہیں آ سکی۔ طیارے میں چیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن سمیت سینئر فوجی افسران سوار تھے۔ امریکی سفیر آنرڈ رافیل اور امریکی جنرل ہربرٹ ویسم بھی حادثہ کے وقت طیارے میں موجود تھے جو ضیاالحق کے ہمراہ پلک جھپکنے میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔
    تحقیقات

    واشنگٹن نے تحقیقات میں پاکستانیوں کی مدد کے لئے امریکی ایئر فورس کے افسران کی ایک ٹیم روانہ کی، لیکن دو اطراف نے مختلف نتائج اخذ کئے۔
    امریکی نتائج

    مسز ایلی رافیل اور بریگیڈیئر جنرل ویسم کی بیوہ دونوں کو امریکی تفتیش کاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ حادثے کی وجہ سی 130 کے ساتھ ایک عام میکانیکی مسئلہ تھا۔
    پاکستانی نتائج
    نظریات

    طیارے کے حادثے کے تناظر میں بہت سی کہانیاں گردش کرتی رہیں۔ “جنرل محمد ضیاء الحق“ کے بیٹے اعجاز الحق ان لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہے جنہیں وہ کھل کر سبوتاژ اورسیاسی قتل کا ذمہ دار سمجھتے رہے۔ جس میں پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ سویلین اور فوجی حکام بھی ہلاک ہوئے۔ طیارے کے حادثے کے چند ہفتوں بعد پاکستانی حکام نے 365 صفحات پرمشتمل خفیہ رپورٹ کی 27 صفحات پر مشتمل خلاصہ پیش کیا، جس میں تفتیش کاروں نے طیارے کے میکانیکی نظام میں ممکنہ خرابیوں کے شواہد کا اظہار کیا تھا لیکن ملکی اورغیر ملکی ذرائع ابلاغ میں اس کے سازش ہونے کی کہانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ کچھ ذرائع ابلاغ اس شک کا اظہار کرتے رہے کہ امریکی سی آئی اے نے جنرل محمد ضیاء الحق کو ختم کرنے کے لئے آموں کی پیٹیوں میں اعصاب شکن گیس چھوڑ دی تھی۔ جبکہ دیگر یہ سمجھتے تھے کہ سوویت کے جی بی نے افغان مجاہدین کی حمایت کا جنرل محمد ضیاء الحق سے بدلہ لیا اسی طرح امریکی ” ورلڈ پالیسی جرنل“ نے بھارت میں سابق امریکی سفیر گنتھر ڈین کے حوالے سے لکھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا جنرل محمد ضیاء الحق کے خاتمے میں ہاتھ تھا۔ بہرحال کبھی کوئی نتیجہ خیز اور حتمی بات سامنے نہیں آئی۔ آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل حمید گل، جنرل محمد ضیاء الحق کے قتل کو سی آئی اے کی سازش قرار دیتے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے بڑے بیٹے اعجاز الحق نے آن ریکارڈ ضیاء مخالف گروپ الذوالفقار پر قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ اس وقت اس گروپ کی قیادت بے نظیر بھٹو کے چھوٹے بھائی مرتضی بھٹو کے ہاتھوں میں تھی۔ جنہوں نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کا بدلہ لیا۔ وہ اپنے والد کی ہلاکت پر جنرل اسلم بیگ پر بھی انگلی اٹھاتے تھے۔۔!!!

  • کل ملک بھر میں کتنے پودے لگائے جائیں گے؟ نیا ریکارڈ قائم ہونے کا امکان

    کل ملک بھر میں کتنے پودے لگائے جائیں گے؟ نیا ریکارڈ قائم ہونے کا امکان

    اسلام آباد: 18 اگست کو پاکستان بھر میں 3 کروڑ سے زیادہ پودے لگائے جانے کا امکان ہے.

    تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 18 اگست بروز اتوار کو ملک بھر میں "پلانٹ فار پاکستان” کے نام سے دن منانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 3 کروڑ سے زیادہ پودے لگائے جانے کا امکان ہے. اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے بھی عوام کو ہدایت کی ہے وہ پاکستان کو سرسبز بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، عمران خان نے قوم سے اپیل کی ہے کہ 18 اگست کو 1 شخص کم سے کم 2 پودے لازمی لگائے، جبکہ 18 اگست کو عمران خان خود بھی پودا لگائیں گے. وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کافی کوششیں کر رہے ہیں کہ کل ملک بھر میں 3 کروڑ سے زائد پودے لگ جائیں، جس کیلئے شہر شہر میں مفت پودوں کی تقسیم بھی جاری ہے. پودا نہ ملنے کی صورت میں متعلقہ شہر کے جنگلات کے ضلعی افسر سے رابطہ کیا جاستا ہے.

    واضح رہے کہ عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد 5 سال میں 10 بلین درخت لگانے کا پلان عوام کے سامنے رکھا تھا، جس کے تحت 18 اگست بروز اتوار کو "پلانٹ فار پاکستان” ڈے منایا جائے گا. اس حوالے سے امید کی جارہی ہے کہ کل ملک بھر میں 3 کروڑ سے زیادہ پودے لگائے جائیں گے.

  • عامر خان کی بطورچیئرمین  ایس ای سی پی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری

    عامر خان کی بطورچیئرمین ایس ای سی پی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری

    اسلام آباد۔ 17 اگست (اے پی پی) وفاقی حکومت کی جانب سے سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے نئے چئیرمین‘ عامر خان کی بطور چئیرمین ایس ای سی پی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جمعہ (اگست 16) کے روز جاری کر دیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے گزشتہ اجلاس میں عامر خان کو ایس ای سی پی کا نیا چئیرمین مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔ موجودہ حکومت کی جانب سے عامر خان کو نومبر 2018 میں ایس ای سی پی میں کمشنر تعینات کیا گیا تھا۔ چئیرمین تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد عامر خان نے اپنے نئے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ چئیرمین تعیناتی سے پہلے عامر خان ایس ای سی پی میں کمپنی لاء ڈویژن (کارپوریٹ سپرویژن)، سپیشلائزڈ کمپنیز ڈویژن اور انفارمیشن سسٹم اینڈ ٹیکنالوجی کے امور کے نگران کمشنر کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ عامرخان کارپوریٹ بینکنگ، مالیاتی مصنوعات، کپیٹل مارکیٹ اور ریگولیٹری اصلاحات کے شعبے میں تیس سال سے زائد تجربہ رکھتے ہیں۔

    کمشنر بننے سے پہلے، عامر خان ایس ای سی پی میں ہی 2012 سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پرفرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ اس دوران وہ ایس ای سی پی کے اہم آپریشنل محکموں جیسے کہ سپیشلائزڈ کمپنیز ڈویڑن، سکیورٹیز مارکیٹ سرویلئنس ڈیپارٹمنٹ، کماڈٹیز مارکیٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ رہے۔ عامر خان ایس ای سی پی کے چیف ترجمان کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

    ایس ای سی پی میں اپنی ملازمت کے دوران عامر خان نے پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں مرابحہ کو متعارف کروانے، جدید وئیر ہاوسز کی الیکٹرانک رسیدوں کے ذریعے اجناس کی ٹریڈنگ کے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل، مائیکرو فنانس کمپنیوں کو ایس ای سی پی کے دائرہ کار میں شامل کرنے اور پاکستان میں کاروباری آسانیاں فراہم کرنے کے حوالے سے اصلاحات متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بطور کمشنر انہوں نے، ایس ای سی پی کے ریگولیٹری امور کو ڈیجیٹلائز کرنے، کارپوریٹ قوانین کو سہل و آسان بنانے اور ریگولیٹری فیسوں میں کمی کے ذریعے کاروبار ی اخراجات کو کم کرنے سے متعلق اصلاحات کے لئے بھی کام کیا۔

    عامر خان پاکستان میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لئے اصلاحات اور کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول کو فروغ دینے کا بھر پور عزم رکھتے ہیں۔ عامر خان سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، رائل بینک آف کینیڈا اور امریکن ایکسپریس بینک میں کام کر چکے ہیں۔ عامر خان ایک شیونگ سکالر ہیں اور پاکستان سے ماسٹرز آف بزنس ایڈمینسٹریشن اور برطانیہ سے انٹر نیشنل بینکنگ میں ایم ایس ای کی ڈگری رکھتے ہیں۔

  • تارکین وطن پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، سلیم مانڈوی والا

    تارکین وطن پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، سلیم مانڈوی والا

    اسلام آباد۔ 17 اگست (اے پی پی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے تارکین وطن پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، دنیا مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ میں اوورسیز پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، تمام بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسز میں کشمیریوں کی آواز کو اٹھایا جائے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں پہنچائیں اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کاز کو اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفد نے یورو ایشین کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے جو پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے مسئلہ کشمیر پر مشترکہ قرار داد منظور کی ہے اور کشمیریوں سے یکجہتی کی گئی ہے۔ماضی میں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورمز پر نہیں اٹھایا گیا۔