Baaghi TV

Author: +9251

  • سلامتی کونسل کے مسئلے پر بھارتی پراپیگنڈہ ہوا ہو گیا،

    سلامتی کونسل کے مسئلے پر بھارتی پراپیگنڈہ ہوا ہو گیا،

    بھارتی میڈیا کا پراپیگنڈہ اور شور ہوا ہو کر رہ گیا جب یہ بات عیاں اور واضح ہو گئی کہ بھارت کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا پڑے گا. اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا پڑے گا. اقوام متحدہ نے اپنی ویب سائٹ پر بھارتی دعوں کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ سئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہو گا۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کے دعووں کی نفی کر دی۔ اقوام متحدہ کی آفیشل ویب سائٹ نے اجلاس کے متعلق بیان جاری کر دیا جس میں کہا ہے مسئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہو گا۔
    کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں زیر بحث آنے پر بھارت کو منہ کو کھانی پڑی۔ سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے بعد اقوام متحدہ نے پوزیشن واضح کر دی۔ اقوام متحدہ کی نیوز ویب سائٹ پر بیان جاری کر دیا گیا۔

    عالمی ادارے نے کہا ہے کشمیر بین الاقوامی امن اور سیکیورٹی کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے اندر 1965 کے بعد پہلی بار زیر بحث آیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہو گا۔

    رپورٹ میں سیکرٹری جنرل کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے 1972 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے شملہ معاہدے کا بھی حوالہ بھی دیا۔

  • بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنے خصوصی تحزیہ میں لکھا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کا وجود خطرے میں ہے۔ ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ریاست کی خودمختاری کو نہ صرف کالعدم قرار دے دیا گیا ہے بلکہ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہیں ۔ اسمبلی پر پابندی اور گلیوں محلوں میں کرفیو نافذ ہے۔ حتی کہ کچھ دیہاتوں میں تو ہر گھر کے باہر ایک پولیس اہلکار تعینات ہے۔کشمیر کے آٹھ ملین شہریوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہے۔ دوائیں ختم جبکہ گھروں میں خوراک کی قلت پیدا ہو گئی۔پھر بھی مودی کا اصرار ہے کہ یہ سب کچھ کشمیریوں کی بھلائی کے لیے ہے۔ کشمیر پر بھارت کی گرفت کبھی کبھار ہی مضبوط رہی ہے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مودی کا کشمیر پر اچانک قبضہ ایک طویل نظریاتی تڑپ کی تکمیل ہے جس میں بڑی حد تک مسلمان اکثریتی آبادی کوہندو قوم کے نظریہ کے آگے جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔۔ یہ (پیغام )باقی ماندہ ہندوستان کے لیے بھی ہے۔ کشمیر ایک وارننگ اور ٹیمپلیٹ دونوں ہی ہے: اس نظریہ سے انحراف ہونے والی کسی بھی ریاست کو "اتحاد” کے نام پر دہلی کے انگوٹھے کے نیچے لایا جاسکتا ہے۔

    اخبار نے لکھا ہے کہ وہ لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ ایسا دن کبھی نہیں آئے گا انہوں نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ مودی جیسا شخص ایک دن ملک کی قیادت کرے گا۔ مودی تاریخ میں جنونی کے طورپر مشہور ہیں۔ گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ، انہوں نے 2002 میں ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں بدترین فرقہ وارانہ خون خرابے کی سرپرستی کی، ایک اندازے کے مطابق ، کئی ہفتوں میں ہندوﺅں نے ایک ہزار مسلمانوں کو تلوار سے ذبح کیا۔ کچھ لوگوں نے مودی پر ہجوم کو شہ دینے کا الزام لگایا۔ دوسروں نے کہا کہ اس نے ان کی طرف آنکھیں بند کیں۔ اس قتل عام نے مودی کو اچھوت بنا دیا: لبرل ہندوستانیوں نے اسے ہٹلر سے تشبیہ دی ، امریکہ نے انہیں ویزا دینے سے انکار کردیا ، اور برطانیہ اور یوروپی یونین نے ان کا بائیکاٹ کیا۔

    لیکن مودی نے ہندوستان کے ہندووں سے اپیل کی جن پر مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔ اس نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے تین مضبوط ترین طریقے استعمال کیے پہلا رنج و غم تھا ،جس کے مطابق ، ہندو بنیاد پرست خون خرابے کا الزام لگاسکتے ہیں: پولیس کی تحویل میں ایک مسلمان شخص کی شہادت کے بعد مودی نے 2007 کے جلسے میں کہا ، "اگر اے کے 47 رائفلیں کسی شخص کی رہائش گاہ پر پائی جاتی ہیں… کیا میں انھیں قتل نہ کروں؟ "(ہجوم نے پیچھے ہٹ کر کہا:” ان کو مار ڈالو! انہیں مار ڈالو! ") دوسرے طریقے کے تحت ایک جلسے میں 2002 میں ، مودی نے گجرات کے فسادات سے بے گھر ہوئے مسلمانوں کی حالت زار پر یہ کہا تھا ”ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ان کے لئے امدادی کیمپ چلائیں؟ کیا ہم بچوں کو پیدا کرنے والے مراکز کھولنا چاہتے ہیں؟ “اس کے سامعین قہقہوں سے بھڑک اٹھے۔ انہوں نے کہا ، ”ہمیں ان لوگوں کو سبق سکھانا ہے جو خطرناک شرح سے آبادی بڑھا رہے ہیں۔“ مودی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ بھارت ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے ایک غلام قوم رہا ہے اور اس نے یہ دعوی کیا کہ کچھ فورسز اسے جان سے مارنا چاہتی ہیں۔

    2014 میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سے مشتعل ہندو ہجوم کے ذریعہ اور ہندو خواتین کی تبدیلی مذہب کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ پچھلے موسم گرما میں ، مودی کی کابینہ میں ایک وزیر نے آٹھ افراد کو ہار پہنائے جن پر ایک مسلمان آدمی کومارنے پیٹنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کائنات میں ، کشمیر کبھی بھی خود مختار نہیں رہ سکتا تھا ، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثریت کی خواہشات سے بے نیاز ہوتا ہے اور اسے تشدد کے ذریعہ اپنی مرضی سے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔

    اس سال مودی کے دوبارہ انتخاب نے ان حامیوں کی حوصلہ افزائی کی جن کے غصے کو بھڑکایا گیا تھا۔ وزیر اعظم اقلیتوں کے قتل کو شاید ہی تسلیم کرتے ہیں۔مذمت کی بھی شاذو ناذر مثالیں موجود ہیں۔ در حقیقت ، ایک باربھی ہندو بنیاد پرستوں کے ہاتھوں مارے جانے والے کسی مسلمان کو یاد نہیں کیا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔

    مودی کی سیاسی بیداری ایک دائیں بازو کی نیم فوجی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے تربیتی کیمپوں میں ہوئی جس نے ہندو قوم پرستی کی جدید سیاست کو جنم دیا۔

    کشمیر پر قبضہ کرکے ، مودی نے ہندو قوم پرستی کے حامیوں کو پیچھے کر کے خود کو باپ بنا لیا ہے جسے وہ فخر کے ساتھ "نیا ہندوستان” کہتے ہیں۔ کشمیر مودی کی خواہشات کی فہرست میں ہمیشہ سر فہرست رہا ،اس میں ایودھیا میں ایک مندر کی تعمیر بھی شامل ہے ،جہاں 500سال مسجد قائم رہی اور 1992 میں ہندو قوم پرستوں نے اسے مسمار کر دیا تھا۔ اقلیتوں کو دیئے گئے چھوٹے مراعات کا خاتمہ (جیسے کہ مکہ مکرمہ میں یاتریوں کے لئے سبسڈی)؛ ہندووں کی مذہبی تبدیلی کا قانونی خاتمہ۔ بین المذاہب پیار اور شادیوں پر ایک قانونی دباو، خاص طور پر جب دلہن ہندو اور دولہا مسلمان ہو۔ اور ، بالآخر ، ہندوستان کو باضابطہ طور پر ہندو ریاست قرار دینے کے لئے آئین کو ازسر نو لکھنا۔

    لیکن کیا ہندوستان ، جو زمین کا سب سے متصادم معاشرہ ہے ، اس طرح کی اکثریت کے ہوتے ہوئے بچ سکتا ہے؟ 1951 میں کشمیر کی پہلی آزادانہ طور پر منتخب ہونے والی اسمبلی کے لئے اپنے افتتاحی خطاب میں ، شیخ عبداللہ ، جو مقبول سوشلسٹ اورکشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے چیمپئن تھے ، نے کشمیریوں کے سامنے کچھ انتخاب کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا ، کشمیری کبھی بھی کسی ایسے اصول کو قبول نہیں کریں گے جو ایک مذہب یا دوسرے گروہ کے خلاف دوسرے گروہ کے مفادات کا حامی ہو۔ اس کا اطلاق اب ہندوستان پر ہوتا ہے۔

    ایک ایسا ہندوستان جو سیکولر نہیں ہے وہ ہمیشہ کشمیر کے لئے اپنی دلیل کھو بیٹھے گا۔ اس خطے پر اس وقت مسلط کردہ خاموشی ایک ایسی گہری رنجش کو چھپا رہی ہے جو پھٹنے کی منتظر ہے۔ مودی کے ذریعہ کشمیر کے ساتھ بدسلوکی کا جواز تو پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اگر اس کا مقابلہ نہ کیا گیا اور اسے منسوخ نہ کیا گیا تو بھارت کے اتحاد کے خاتمے کا آغاز ہوسکتا ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کل لاہور کا ایک روزہ دورہ کریں گے

    وزیراعظم عمران خان کل لاہور کا ایک روزہ دورہ کریں گے

    وزیراعظم عمران خان کل لاہور کا ایک روزہ دورہ کریں گے

    وزیراعظم عمران خان کل لاہور کا ایک روزہ دورہ کریں گے جہاں وہ گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کریں گے۔

    وزیر اعظم ملتان روڈ لاہور پر شجر کاری مہم کے سلسلے میں پودا بھی لگائیں گے۔اس کے علاوہ وزیراعظم کل ہونے والے کابینہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق لاہور ضلعی انتظامیہ نے وزیر اعظم کے دورے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

  • بی این پی رہنماء امان اللہ خان زہری مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق

    بی این پی رہنماء امان اللہ خان زہری مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق

    بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں بی این پی رہنماء امان اللہ خان زہری مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق بی این پی رہنماء کا قافلہ زہری کے علاقے بلبل سے نورگامہ کی طرف جا رہا تھا کہ اس دوران انہیں نشانہ بنایا گیا، حملے کے نتیجے میں ان کا 14 سالہ نواسا بھی جاں بحق ہو گیا۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہیں ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی و دیگر انتظامی افسران لیویز فورس کے ہمراہ تحصیل زہری پہنچ گئے-

    امان اللہ زہری بابو نوروز زہری کے بیٹے تھے اس سے قبل ان کے بیٹے ریاض زہری کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا گیا تھا۔

  • سمجھوتہ اور تھر ایکسپریس بند کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی بھارتی اپیل پھر سے مسترد

    سمجھوتہ اور تھر ایکسپریس بند کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی بھارتی اپیل پھر سے مسترد

    پاکستان نے سمجھوتہ اور تھر ایکسپریس بند کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی بھارتی اپیل پھر سے مسترد کر دی.

    تفصیلات کے مطابق وزارت ریلوے نے بھارتی ریلوے کی جانب سے سمجھوتہ اور تھر ایکسپریس ٹرین آپریشن بند کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے کی جانے والی اپیل مسترد کردی۔

    وزارت ریلوے نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ بھارت جانے والی سمجھوتہ اور تھر ایکسپریس کا آپریشن تاحکم ثانی معطل رہے گا۔وزارت ریلوے نے دفتر خارجہ کی منظوری کے بعد بھارت جانے والی دونوں ٹرینوں کو تاحال نہ چلانے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے سمجھوتہ ایکسپریس کی بندش کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے تھر ایکسپریس کو بند کرنے کا اعلان کیا جس پر بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان کی منتیں شروع کر دیں.وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ تھرایکسپریس بند کررہا ہوں،کسی میں ہمت ہے توچلا کر دکھائے،
    بھارت نے اب پھر اپیل کی ہے کہ ٹرین سروس بحال کی جائے جس کو پاکستان نے مسترد کر دیا ہے .

  • آج وزیر اعظم پاکستان  قوم سے خطاب کریں‌گے

    آج وزیر اعظم پاکستان قوم سے خطاب کریں‌گے

    آج وزیر اعظم پاکستان عمران خان قوم سے خطاب کریں‌گے.کشمیر پر بھارت کے معانداندانہ رویے ، خصوصی حیثیت کو ختم کرنے.کے بعد کشمید ہ حالات اور لائن آ ف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ جیسے اہم ایشو پر بات کریں گے.

    تفصیلات کے مطابق . آج وزیر اعظم پاکستان عمران خان قوم سے خطاب کریں‌گے.کشمیر پر بھارت کے معانداندانہ رویے ، خصوصی حیثیت کو ختم کرنے.کے بعد کشمید ہ حالات اور لائن آ ف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ جیسے اہم ایشو پر بات کریں گے.مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں پیش کیے جانے اور دنیا بھر میں کشمیر یوں کی آواز سنی جارہی ہے پاکستان کی یہ ایک سفارتی فتح تصور کی جارہی ہے.
    اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے۔

    ملیحہ لودھی نے کہا کہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا پُرامن حل چاہتے ہیں، نہتے کشمیریوں کی آواز آج اعلیٰ ترین فورم پر سنی گئی ہے، اجلاس پاکستانی وزیر خارجہ کے خط پر طلب کیا گیا۔
    انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں پر ظلم و جبر کیا جارہاہے، کشمیریوں کو قید کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی آواز نہیں دبائی جا سکتی۔

    ملیحہ لودھی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز سب سے بڑے بین الاقوامی فورم پر سنی گئی ہے، پاکستان نے یہ کوشش مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کیلئے کی ہے اور یہ مسئلے کے حل تک جاری رہے گی۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کے آج کے اجلاس بھارتی مؤقف کی نفی ہوئی ہے کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔

    خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت بھارت کی جانب سے یکطرفہ بدلنے کے معاملے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا۔

  • صابر ابو مریم کا بلاگ   "اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور”

    صابر ابو مریم کا بلاگ "اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور”

    اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور تحریر:صابر ابو مریم سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
    یہ سنہ2000ء کی بات ہے کہ جب اٹھارہ سال کی مسلسل جدوجہد اور مزاحمت کے نتیجہ میں اسرائیل لبنان کی سرزمین سے اپنا قبضہ ختم کر کے فرار اختیار کر رہا تھا۔یہ فرار کسی معاہدے یا عالمی طاقتوں کی ضمانت کے نتیجہ میں ہر گز نہیں تھا بلکہ یہ فلسطین ولبنان مشترکہ جد وجہد آزادی کی جنگ لڑنے والے گوریلا مجاہدین کی مزاحمت کا ثمر تھا جو نہ صرف لبنان میں اسرائیلی قابض افواج کے خلاف جدوجہد کرتے تھے بلکہ موقع ملتے ہی سرحد کے دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں جا کر بھی مزاحمت کے جوہر دکھاتے تھے۔اس مزاحمت کی بہترین بات یہ تھی کہ اس میں جہاں مسلمانوں کے شیعہ و سنہ فرقہ کے نوجوان موجود تھے وہاں لبنان و فلسطین کے عیسائی اور دروز سمیت دیگر مذاہب و مسالک بھی شریک تھے جن میں لیلیٰ خالد، جارج حبش،سمیر قنطار اور بہت سے دیگر افراد تھے جنہوں نے تحریک آزادی فلسطین او رلبنان پر صہیونی افواج کے تسلط کے خلاف جدوجہد میں قربانیاں دیں، اسیر ہوئے بعد ازاں رہا ہوئے او ر پھر شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔سنہ2000ء میں جب اسرائیل لبنان سے اپنا تسلط ختم کر کے اس حال میں فرار ہوا کہ اپنا سارا فوجی ساز و سامان تک جنوبی لبنان کے علاقوں میں چھوڑ گیا۔اس عظیم الشا ن فتح کا جشن مناتے ہوئے اس وقت لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا تھا کہ’’خدا کی قسم! اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے“۔یہ خود اسرائیل سمیت دنیا میں اسرائیل کی حامی حکومتوں کے لئے پہلا موقع تھاکہ جب دنیا کے سامنے غاصب اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم مٹھی بھر جوانوں کی مزاحمت نے خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا اور دنیا کو بتا رہے تھے کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے۔
    اسی طرح کا ایک موقع تاریخ میں سنہ2006ء میں دہرایا گیا جب اسرائیل نے اپنے دو قید کئے گئے فوجیوں کی بازیابی کے نام پر لبنان پر جنگ مسلط کر دی اور یہ جنگ امریکہ و اسرائیل کے اعلانات کے مطابق فقط ایک سے دو روز میں امریکہ اور اسرائیل کے طے کردہ مقاصد کے حصول پر ختم ہونا تھی، ان مقاصد میں سرفہرست حزب اللہ کی قید سے دو صہیونی فوجیوں کی بازیابی کے ساتھ ساتھ لبنان میں حزب اللہ کو مکمل طور پر نیست ونابود کرنا تھا تا کہ آئندہ حزب اللہ کا کوئی وجود باقی نہ رہے۔یہ جنگ امریکی واسرائیلی طے کردہ اہداف اور وقت سے کہیں آگے نکل گئی اور 33روز تک جاری رہنے کے بعد بالآخر اسرائیل خود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا اور پسپائی کا فیصلہ کیا گیا یقینا اس فیصلہ میں اسرائیل کی ہزیمت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ان تمامشیطانی مغربی قوتو ں کی شکست تھی جو اسرائیل کی پشت پناہی میں مصروف تھیں۔ یہ وہ دوسرا موقع تھا کہ جب سید حسن نصر اللہ کی اس بات کو کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے کو خود صہیونی غاصب ریاست کے ماہرین اور فوجی جرنیلوں نے ادراک کیا اور دنیا نے بھی اس صداقت کو جانچ لیا۔
    اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کی متعدد مثالیں ان واقعا ت کے بعد غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہیں کہ مختلف اوقات میں فلسطین پر مسلط کی جانے والی یک طرف صہیونی جنگوں میں حماس کے مجاہدین کی پائیدار استقامت و مزاحمت نے نہ صرف حسن نصر اللہ کے اس قول کو صادق کر دکھایابلکہ اسرائیل کابھرم خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
    گذشتہ دنوں جنوبی لبنان کے علاقوں میں اسرائیل کے خلاف حاصل ہونے والی حزب اللہ کی فتح کے عنوان سے سالانہ تقریب کا انعقاد ہوا اور یہ وہ علاقہ تھا کہ جہاں سنہ2006ء میں گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی اور یہاں پرمنعقدہ عالی شان تقریب سے اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب کیا اور آغاز میں ہی دنیا کو باور کروادیا کہ آج اس علاقہ میں کہ جہاں اسرائیل قابض ہوا کرتا تھا لوگوں کے جم غفیر کا ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ لبنان سمیت فلسطین کے لوگ اب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل سے ڈرتے نہیں ہیں اور اب اسرائیل کا ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم کبھی سر اٹھا نہیں پائے گا کیونکہ فلسطین ولبنان سے شام و عراق تک اسلامی مزاحمت اس قدر مضبوط اور مستحکم ہو چکی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کو اپنی مرضی کے نتائج پر موڑ سکتی ہے۔یہ ایک نعمت الہی ہے اور ا س میں نہ تو علاقے کے کسی عرب ممالک کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی سلامتی کونسل کی کسی قرار داد کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔یہ سب اسلامی مزاحمت کے فرزندوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اس پرہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے۔
    سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالی لیکن دو پہلو بہت اہم ہیں،پہلا یہ کہ سنہ2006ء میں ہونے والی جنگ میں اسرائیل فقط ایک دن کا حملہ کرنا چاہتا تھا اور اپنے طے کردہ اہداف کو حاصل کرنا چاہتا تھالیکن امریکہ نے اس کو اکسایا کہ جنگ کو جاری رکھا جائے۔اس کے بعد 33روز تک جنگ جاری رہنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو جب اپنی شکست کا مکمل یقین ہوگیا تو یہ بات جنگ بندی کا سبب بنی،اگر وہ مزید جنگ جاری رکھتے تو ان کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑتا اس لئے انہوں نے جنگ روک دی۔سید حسن نصر اللہ نے کسی عرب شخصیت کا نام لئے بغیر ایک واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ایک عرب معروف شخصیت جنگ کے زمانے میں امریکہ گئی او ر جان بولٹن سے ملاقات کی، بولٹن نے کہا کیا کرنے آئے ہو؟اس نے کہا جنگ کو روکنا ہے تو بولٹن نے جواب دیا کہ یہ جنگ جاری رہے گی حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔لیکن آخری دنوں میں ایک اسرائیلی نمائندے نے عرب شخصیت کو آدھی رات کو کہا کہ جنگ روکنا ہے او پھر جان بولٹن نے بھی یہی کہا۔اس عرب شخصیت نے بولٹن سے پوچھا کہ کیا حزب اللہ کوختم کر دیا گیا ہے؟جان بولٹن نے کہا نہیں! اسرائیل میں دم نہیں ہے۔
    حسن نصر اللہ نے ایک مرتبہ پھر اپنی اسی بات کی طرف اشارہ کیا اور کہا جیسا کہ میں نے ماضی میں کہا تھا کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے تو یہ عقیدہ مزید پختہ ہو گیا ہے۔آج تیرہ سال گزرنے کے بعدبھی اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے اور یہ بات اسرائیل کے دل ودماغ میں بیٹھ چکی ہے۔آج پھر اسرائیل سے کہتا ہوں اگر کسی بھی طرح کی جنگ کرنے کی کوشش کی تو دنیا کے ٹی وی چینلز پر تمھاری تباہی کا تماشہ دکھایا جائے گا۔سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ غزہ ہمیشہ عزیز رہے گا اور ہم فلسطین کی حمایت اور اس کی آزادی کی جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے انہوں نے حالیہ دنوں غزہ میں ایک صہیونی فوجی کو گرفتار کرنے کی کوشش کو سراہا۔
    خلاصہ یہ ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ نے سنہ2000ء میں اور پھر گذشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل کو دئیے گئے خصوصی انٹر ویو میں اور پھر اب فتح کے جشن کی تقریب میں مسلسل اسرائیل کے وجود کو مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کہاہے اور اس بات پر خود اسرائیلی فوج کے جرنل اور ماہرین اور محقق تحقیق میں ہیں اور پریشان کن حالت میں ہیں اور صہیونی فوجی جرنیلوں کا اعتراف جس میں وہ کہتے ہیں کہ حزب اللہ کی قوت اور گائیڈڈ میزائلوں کے سامنے اسرائیلی فوج انتہائی کمزور ہے۔اسی طرح ایک اور اسرائیلی جنرل نے کہا تھا کہ سارا اسرائیل حزب اللہ کے میزائلوں کے نشانے پر ہے۔پس خود صہیونی ذرائع اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے اور حقیقت یہی ہے کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے ضرور ت صرف اس امر کی ہے کہ عرب دنیا کے وہ مسلمان حکمران جو امریکی وصہیونی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں اپنی حمیت و عز ت کے دفاع او ر مظلو م ملت فلسطین کے دفاع و قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو جائیں اور دنیا کے نقشہ سے صہیونی جرثومہ کو اکھاڑ پھینکیں جو نہ صرف فلسطین و مغربی ایشیاء کے لئے مصیبت و خطرہ ہے بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

  • راولا کوٹ: لینڈسلائیڈنگ سے7افرادجاں بحق

    راولا کوٹ: لینڈسلائیڈنگ سے7افرادجاں بحق

    راولا کوٹ میں .لینڈسلائیڈنگ سے7افرادجاں بحق ہوئے گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر.راولاکوٹ کے مطابق راولا کوٹ کے علاقےپوٹھی چھپریاں میں لینڈسلائیڈنگ سے7افرادجاں بحق ہو گئے،4مکانات تباہ ہو گئے.
    مکانات کےملبےسے2افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، روالا کوٹ میں شدید بارش کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں.

    واضح رہے محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ جمعہ کی (رات) سے ہفتہ کے دوران ہزارہ، مالاکنڈ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ڈی جی خان ڈویژن اسلام آباد اور کشمیر میں موسلادھار بارش کے باعث دریاوٰں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    اس دوران پشاور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا بھی امکان ہے۔

    گزشتہ روز راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن اور اسلام آباد میں کہیں کہیں جبکہ پشاور، مالاکنڈ، مکران ڈویژن، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہوائوں/آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

  • جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے صدر شاہ فیصل کی وجہ گرفتاری سامنے آگئی

    جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے صدر شاہ فیصل کی وجہ گرفتاری سامنے آگئی

    جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے صدر شاہ فیصل کی گرفتاری کی وجہ سامنے آگئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ان کی پارٹی کے عہدیدار نے بتایا کہ شاہ فیصل عالمی عدالت انصاف میں آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے پر بھارت کے خلاف مقدمہ کرنا چاہتے تھے۔

    شاہ فیصل کودہلی ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا جہاں سے کشمیر واپس بھیج دیا گیا۔انہوں نے پہلے ترکی اور پھر ہالینڈ جانا تھا۔ شاہ فیصل اس وقت سری نگر کے شیری کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر (ایس کے آئی سی سی)میں ہیں جسے اب سب جیل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

    قبل ازیں مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا جاوید نے وزیرداخلہ امیت شاہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو جانوروں کی طرح پنجرے میں بند رکھا گیا ہے۔

  • ملک بھر مزید بارشوں کی پیش گوئی

    ملک بھر مزید بارشوں کی پیش گوئی

    لاہور میں بارش جب کہ دیگر علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کے روز ہزارہ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد،لاہور ڈویژن، اسلام آباد اور کشمیر میں کہیں کہیں بارش کا امکان ہے۔

    جبکہ مالا کنڈ، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان، ساہیوال، ملتان، ڈی جی خان، بہاولپور ڈیوژن اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیزہواوٗں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ جمعہ کی (رات) سے ہفتہ کے دوران ہزارہ، مالاکنڈ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ڈی جی خان ڈویژن اسلام آباد اور کشمیر میں موسلادھار بارش کے باعث دریاوٰں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    اس دوران پشاور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا بھی امکان ہے۔

    گزشتہ روز راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن اور اسلام آباد میں کہیں کہیں جبکہ پشاور، مالاکنڈ، مکران ڈویژن، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہوائوں/آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔